عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق (اردو)

کتاب ”عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق“ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کا ایک مختصر مگر نہایت نافع رسالہ ہے، جسے امام موصوف نے عام مسلمانوں کے لیے علمی زادِ راہ کے طور پر تصنیف فرمایا۔ اس میں دین کے اصول وارکان، یعنی توحید، ایمان اور اسلام سے لے کر طہارت ونماز کے احکام، آدابِ اسلام، اور شرک ومعاصی کے خطرات کو آسان وواضح اسلوب میں، کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر مسلمان کے لیے صحیح عقیدہ اور درست عبادت کو سمجھنا آسان ہو جائے۔

  • earth زبان
    (اردو)
  • earth تالیف:
    الشيخ عبد العزيز بن باز
PHPWord

 

 

 

الدُّرُوسُ الْمُهِمَّةُ لِعَامَّةِ الْأُمَّةِ

 

عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق

 

 

 

لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ

رَحِمَهُ اللهُ

 

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

مقدمۂ مؤلف

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے، اور پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمدہ انجام ہے، اور درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر جو اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور ان کی آل پر اور ان کے تمام صحابہ پر۔

اما بعد :

یہ ایسی مختصر باتیں ہیں جن کا تعلق دینِ اسلام سے ہے اور جن کا جاننا عام لوگوں پر بھی واجب ہے، اسی لیے میں نے اس کا نام ”عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق“ رکھا ہے۔

دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی اس کتاب کو مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے اور اس کو میری جانب سے قبول فرمائے، یقینا وہ نہایت سخی اور کرم کرنے والا ہے۔

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 


”عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق“(1)

پہلا سبق : سورۂ فاتحہ اور قصار سور

سورۂ فاتحہ اور قصار سور یعنی سورۂ زلزال تا سورۂ ناس میں سے جس قدر سورتیں ممکن ہوسکیں انہیں سمجھانا، پڑھانا اور تلاوت درست کرانا، حفظ کرانا نیز ان کى ان باتوں کی تشریح کرنا جن کا سمجھنا واجب ہو۔

دوسرا سبق : ارکانِ اسلام

اسلام کے پانچ ارکان ہیں، سب سے پہلا اور عظیم ترین رکن : لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهکی گواہی اس کے معانی اور شروط کے ساتھ دینا ہے۔ اس کلمہ کا معنی: ”لَا إِلٰهَ“ میں اللہ کے علاوہ تمام معبودانِ باطلہ کی نفی ہے اور ”إِلّا الله“ میں تمام عبادات کا اللہ کے لیے اثبات ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے شروط یہ ہیں :

1] ایسا علم جو جہل کے منافی ہو۔ 2] ایسا یقین جو شک کے منافی ہو۔ 3] ایسا اخلاص جو شرک کے منافی ہو۔ 4] ایسی سچائی جو جھوٹ کے منافی ہو۔ 5] ایسی محبت جو بغض کے منافی ہو۔ 6] ایسی اطاعت جو نافرمانی کے منافی ہو۔ 7] ایسا قبول جو انکار کے منافی ہو۔ 8] اللہ کے علاوہ ان تمام معبودانِ باطلہ کا انکار جن کی اللہ کو چھوڑ کر پرستش کی جاتی ہے۔ انھیں دو اشعار میں جمع کردیا گیا ہے (جن کا ترجمہ حسب ذیل ہے):

علم‘ یقین‘ اخلاص‘ صداقت‘ محبت‘ پیروی اور قبول اور آٹھویں شرط یہ کہ اللہ کے علاوہ جتنے معبودانِ باطلہ ہیں‘ ان کا انکار کیا جائے۔

اس کے ساتھ ہی ” مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ“ کی گواہی کا مطلب اور اس کے تقاضے بیان کیے جائیں جو حسب ذیل ہیں : 1] رسول اللہ ﷺ نے جن باتوں کی خبر دی ہے ان میں آپ کو سچا جاننا۔ 2] جن باتوں کا حکم دیا ہے ان میں آپ کی اطاعت کرنا۔ 3] جن کاموں سے روکا ہے ان سے باز رہنا۔ 4] اللہ کی عبادت اسی طریقہ پر کرنا جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز ومشروع قرار دیا ہے۔ اس کے بعد طالبِ علم کے لیے اسلام کے باقی ارکان کی وضاحت کی جائے جو حسب ذیل ہیں : 1] نماز ادا کرنا۔ 2] زکوٰۃ دینا۔ 3] رمضان کے روزے رکھنا۔ 4] استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرنا۔

تیسرا سبق : ارکانِ ایمان

ایمان کے چھ ارکان ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، روزِ آخرت پر ایمان لانا اور اس بات پر ایمان لانا کہ بھلی بُری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

چوتھا سبق : توحید اور شرک کے اقسام

توحید کی تین قسمیں ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں :

1] توحیدِ ربوبیت۔

2] توحیدِ الوہیت۔

3] توحیدِ اسماء وصفات۔

1- توحیدِ ربوبیت : اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالٰی ہی ہر چیز کا خالق اور ہر چیز میں تصرف کرنے والا ہے، اس میں کوئی اس کا شریک و ساجھی نہیں۔

2- توحیدِ الوھیت : اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالٰی ہی معبود برحق ہے، عبادت میں کوئی اس کا شریک نہیں اور یہی ”لا الہ الا اللہ“ کا معنی و مطلب ہے، کیوں کہ ’’لا الہ الا الله‘‘ کا معنی ہی ہے: اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں۔ لہٰذا تمام عبادتیں؛ نماز، روزہ وغیرہ صرف اللہ واحد کے لیے خالص کرنا واجب ہے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے عبادت کا ایک معمولی حصہ بھی صرف کرنا جائز نہیں۔

3- توحیدِ اسماء وصفات : یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں وارد اللہ کے اسماء وصفات پر ایمان لانا اور ان کو اللہ کے لیے بغیر کسی تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے اس طرح ثابت کرنا جو اللہ کے شایان شان ہو۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1 ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ2 لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ 3 وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ4﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا ۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے [سورۂ اخلاص : 1-4]

۔ اور دوسری جگہ فرمایا :

﴿...لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾

’’اُس جیسی کوئی چیز نہیں، وه خوب سننے والا اورخوب دیکھنے واﻻ ہے۔‘‘ [الشوریٰ : 11]

بعض اہل علم نے توحید کی صرف دو قسمیں بیان کی ہیں، اور توحید اسماء وصفات کو توحیدِ ربوبیت میں شامل کیا ہے، اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ دونوں تقسیم کی صورت میں مقصود واضح ہے۔

شرک کی تین قسمیں ہیں :

1] شرک اکبر

2] شرک اصغر

3] شرک خفی۔

شرک اکبر : حالتِ شرک میں فوت ہونے والے شخص کے عمل کو اکارت کردیتا ہے اور جہنم میں دائمی عذاب کا موجب ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا :

﴿...وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

”اور اگر (بالفرض) یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب اکارت ہو جاتے۔“ [الأنعام: 88]

نیز اللہ تعالٰی نے فرمایا :

﴿مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ17﴾

’’ئق نہیں کہ مشرک اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وه خود اپنے کفر کے آپ ہی گواه ہیں، ان کے اعمال غارت واکارت ہیں، اور وه دائمی طور پر جہنمی ہیں۔‘‘ [التوبۃ: 17]، جو اس حالت میں مرے گا اللہ اس کو ہرگز معاف نہیں کرے گا اور اس پر جنت حرام ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا :

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ...﴾

’’یقیناً اللہ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔‘‘ [النساء : 48]

اور اللہ تعالٰی نے فرمایا :

﴿...إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ﴾

’’...یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گناہ گاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ [المائدہ : 72]۔

مُردوں اور بتوں کو پکارنا، ان سے فریاد کرنا، ان کے لیے نذر ماننا اور ان کے لیے جانور ذبح کرنا بھی شرک اکبر کی قسموں میں سے ہے۔

شرکِ اصغر : وہ ہے جس کا شرک ہونا کتاب وسنت کے نصوص سے ثابت ہو، لیکن وہ شرک اکبر کی قسم سے نہ ہو، جیسے کسی عمل میں ’’ریا‘‘ کا پایا جانا، غیر اللہ کی قسم کھانا، یا یوں کہنا کہ : ”اللہ جو چاہے اور فلاں چاہے“ وغیرہ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : «أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُ»، فَسُئِلَ عَنْهُ، فَقَالَ: «الرِّيَاءُ». "مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے، وہ شرکِ اصغر ہے۔" آپ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا : "ریاکاری۔" (2) ا(س حدیث کو امام احمد، طبرانی اور بیہقی نے محمود بن لبید انصاری سے بہترین سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ نیز طبرانی نے اسے کئی بہترین سندوں سے محمود بن لبید سے روایت کیا ہے جنہوں نے اسے رافع بن خدیج سے روایت کیا ہے اور رافع بن خدیج نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے)۔

اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : «مَنْ حَلَفَ بِشَيْءٍ دُونَ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ». ”جس شخص نے اللہ کے سوا کسی اور چیز کی قسم کھائی، اس نے شرک کیا۔“ (3) اس حدیث کو امام احمد نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ابو داود و ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے نبی ﷺ سے اس روایت کو صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ». ”جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی تو یقینا اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔“ (4)اللہ کے رسول ﷺ کا مزید فرمان ہے : «لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ». ”تم مت کہو : جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ (یوں) کہو : جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔“ (5) (اسے ابو داود نے صحیح اسناد کے ساتھ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے)۔

شرک اصغر اگر چہ ارتداد اور جہنم میں ہمیشگی کا موجب نہیں ہوتا، لیکن واجب کمالِ توحید کے خلاف ہے۔

تیسری قسم : ”شرک خفی“ ہے، اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے : «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ؛ يَقُومُ الرَّجُلُ فَيُصَلِّي، فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ الرَّجُلِ إِلَيْهِ». ”کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتادوں جس کا تمہارے بارے میں مجھے مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف ہے؟ صحابہ نے کہا : کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ شرک خفی ہے، یعنی پوشیدہ شرک، آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور کسی کی نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ پاکر اپنی نمازکو خوبصورت بنانے لگے۔‘‘ (6) (اس حدیث کو امام احمد نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اپنی مسند میں بیان کیا ہے)۔

شرک کو صرف دو قسموں میں بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے :

1. شرک اکبر

2. شرک اصغر

جہاں تک شرکِ خفی کا تعلق ہے تو وہ دونوں قسموں کو شامل ہے۔ شرکِ اکبر میں شرکِ خفی کی مثال منافقین کا شرک ہے، کیونکہ وہ اپنے باطل عقائد کو چھپاتے ہیں اور محض ریاکاری و ڈر کی وجہ سے اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔

اسی طرح ”شرک خفی“ کا وقوع ”شرک اصغر“ میں بھی ہوتا ہے، مثال کے طور پر ریاکاری، جیسا کہ محمود بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث میں ہے۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔

پانچواں سبق : احسان

رکنِ احسان : احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی عبادت اس طرح کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اور اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں تو (کم از کم یہ تصور ہو کہ) بلاشبہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

چھٹا سبق : نماز کے شرائط

نماز کی شرائط نو ہیں :

1. اسلام

2. عقل

3. تمیز

4. حدیث کو زائل کرنا

5. نجاست دور کرنا

6. شرم گاہ کو چھپانا

7. وقت کا داخل ہونا

8. قبلہ رخ ہونا

9. نیت۔

ساتواں سبق : نماز کے ارکان

نماز کے ارکان چودہ ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں :

1. قدرت ہو تو کھڑے ہونا۔

2. تکبیرِ تحریمہ کہنا۔

3. سورۂ فاتحہ پڑھنا۔

4. رکوع کرنا۔

5. رکوع کے بعد (قومہ میں) سیدھا کھڑے ہونا۔

6. سات اعضاء پر سجدہ کرنا۔

7. سجدے سے سر اٹھانا۔

8. دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

9. نماز کے تمام افعال میں اطمینان کو ملحوظ رکھنا۔

10. سارے ارکان کو ترتیب سے انجام دینا۔

11. آخری تشہد کا پڑھنا۔

12. آخری تشہد کے لیے بیٹھنا۔

13. نبی ﷺ پر درود پڑھنا۔

14. دونوں جانب سلام پھیرنا۔

 


آٹھواں سبق : نماز کے واجبات

نماز کے واجبات آٹھ ہیں :

1. تکبیر تحریمہ کے علاوہ بقیہ ساری تکبیرات

2. امام اور منفرد کا ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہنا

3. سب کا ”ربنا ولک الحمد“ کہنا

4. رکوع میں ”سبحان ربی العظیم“ کہنا

5. سجدہ میں ”سبحان ربی الأعلی“ کہنا

6. دونوں سجدوں کے درمیان ”رب اغفر لی“ کہنا

7. تشہد اول پڑھنا

8. تشہد اول کے لیے بیٹھنا۔

نواں سبق : تشہد کا بیان

تشہد یہ ہے :

"التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".

’’(میری) تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے (دیگر) نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘

پھر نبی ﷺ پر درود پڑھے اور آپ کے لیے برکت کی دعا کرے، درود یہ ہے: "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"۔

”اے اللہ محمد پر اور آلِ محمد پر درود بھیج جیسے تو نے درود بھیجا ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر، بے شک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جیسے تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر، بے شک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔“

پھر آخری تشہد میں عذابِ جہنم اور عذابِ قبر اور زندگی اور موت کے فتنہ اور مسیحِ دجال کے فتنہ سے پناہ مانگے، جو اس طرح ہے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" ”اے اللہ! میں جہنم اور قبر کے عذاب اور زندگی وموت اور مسیح دجال کے فتنوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“

پھر جو دعا پسند ہو پڑھے اور بالخصوص ماثور دعائیں، انہی میں سے درج ذیل دعائیں ہیں :

"اللهم أَعِنِّي على ذِكْرِكَ وشُكْرِكَ وحُسْنِ عِبَادَتِكَ، اللهم إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِّنْ عِندِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" ”اے اللہ اپنے ذکر اور شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ اے اللہ میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا، لہذا اپنی مہربانی سے مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“

البتہ پہلے تشہد میں شہادتین کے بعد ظہر،عصر،مغرب اور عشا میں تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے گا، اور اگر نبی ﷺ پر درور بھی پڑھے تو افضل ہے؛ کیونکہ اس بارے میں وارد احادیث عام ہیں، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو۔

دسواں سبق : نماز کی سنتیں

نماز کی سنتوں میں سے چند درج ذیل ہیں :

1- دعائے استفتاح پڑھنا۔

2-حالتِ قیام میں، رکوع سے پہلے ہو یا رکوع کے بعد، سینہ کے اوپر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھنا۔

3-تکبیرِ تحریمہ، رکوع کے لیے جھکتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور تشہدِ اول سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت دونوں ہاتھوں کو انگلیاں ملائے ہوئے شانوں (مونڈھوں) یا کانوں کے برابر تک اٹھانا۔

4- رکوع اور سجدہ میں ایک سے زائد بار تسبیح پڑھنا۔

5- رکوع سے اٹھنے کے بعد ”ربنا ولک الحمد“ سے زائد دعا پڑھنا اوردونوں سجدوں کے درمیان ایک سے زائد بار دعائے مغفرت پڑھنا۔

6-رکوع میں سر کو پیٹھ کے برابر رکھنا۔

7- سجدہ میں بازؤوں کو پہلؤوں سے، پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے دور رکھنا۔

8- سجدے کی حالت میں دونوں بازؤوں کو زمین سے اٹھائے ہوئے رکھنا۔

9- تشہدِ اول میں اور دونوں سجدوں کے درمیان نمازی کا بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھنا اور دائیں پیر کو کھڑا کرنا۔

10- تین اور چار رکعت والی نماز ہو تو آخری تشہد میں تورک کرنا، یعنی دائیں پیر کو کھڑا کر کے اس کے نیچے سے بائیں پیر کو نکال کر کولھے کو زمین پر رکھ کر بیٹھنا۔

11- پہلے اور دوسرے تشہد میں بیٹھنے کے وقت سے لے کر تشہد کے اختتام تک شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا اور دعا کے وقت اسے حرکت دینا (ہلانا)۔

12- تشہدِ اول میں محمد اور آل محمد ﷺ پر، نیز ابراہیم اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر صلاۃ وتبریک (درود ابراہیم) پڑھنا۔

13- آخری تشہد میں دعا کرنا۔

14- نماز فجر، نماز جمعہ، نماز عیدین، نماز استسقا اور نماز مغرب ونماز عشا کی ابتدائی دو رکعتوں میں جہری قراءت کرنا۔

15- نماز ظہر ونماز عصر میں اور نماز مغرب کی تیسری رکعت اور نماز عشا کی آخری دو رکعتوں میں سِری قراءت کرنا۔

16- سورۂ فاتحہ کے علاوہ قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنا۔ مذکورہ بیان کردہ سنتوں کے علاوہ نماز کی بقیہ وارد شدہ سنتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، مثال کے طور پر: رکوع سے سر اٹھانے کے بعد امام، مقتدی اور منفرد کا ”ربنا ولک الحمد“ سے زائد دعا پڑھنا کیونکہ یہ سنت ہے، اسی طرح حالت رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھنا کہ ہاتھوں کی انگلیاں پھیلی ہوئی ہوں۔

گیارھواں سبق : مفسداتِ نماز

مفسداتِ نماز آٹھ ہیں :

1- نماز میں جان بوجھ کر اور علم رکھتے ہوئے بات کرنا، البتہ بھول کر یا ناواقفیت کی بنا پر بات کرنے والے کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔

2- ہنسنا۔

3- کھانا۔

4- پینا۔

5- شرمگاہ کا ظاہر ہونا۔

6- قبلہ رخ سے بہت زیادہ مڑ جانا۔

7- نماز میں لگاتار بہت زیادہ غیر متعلق افعال کرنا۔

8-وضو ٹوٹ جانا۔

بارھواں سبق : وضو کے شروط

وضو کے شروط دس ہیں :

1. اسلام

2. عقل

3. تمیز

4. نیت

5. وضو مکمل ہونے تک نیت باقی رکھنا۔

6. سببِ وضو ختم ہو جانا۔

7. وضو سے پہلے پانی ، پتھر يا ڈھیلے وغیرہ سے استنجا کرنا۔

8. پانی کا پاک اور مباح ہونا۔

9. جِلد تک پانی کے پہنچنے میں حائل ( رکاوٹ ) کو دور کرنا۔

10. ایسے شخص کے لیے نماز کا وقت داخل ہوجانا جس کی ناپاکی دائمی ہو۔

تیرھواں سبق : وضو کے فرائض

وضو کے فرائض چھ ہیں :

1. چہرہ دھونا، اور اس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا اور اس کو صاف کرنا بھی شامل ہے۔ 2. دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔ 3. پورے سر کا مسح کرنا، اور اس میں دونوں کان کا مسح کرنا بھی شامل ہے۔ 4. دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا۔ 5. فرائض وضو کو ترتیب سے ادا کرنا۔ 6. تسلسل یعنی پے درپے دھونا۔ چہرہ، دونوں ہاتھ اور دونوں پیروں کو تین تین بار دھونا مستحب ہے، اسی طرح تین بار کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی مستحب ہے۔ لیکن فرض صرف ایک بار کرنا ہے، البتہ سر کا مسح ایک سے زائد بار کرنا مستحب نہیں ہے، جیسا کہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔

چودھواں سبق : وضو کے نواقض

وضو کے نواقض چھ ہیں :

1. پیشاب وپاخانہ کے راستے سے کسی چیز کا نکلنا۔

2. جسم سے بالکل نجِس (ناپاک) چیز کا خارج ہونا۔

3. نیند یا کسی اور وجہ سے عقل کا زائل ہونا۔

4. اگلی پچھلی شرمگاہ کو بغیر کسی حائل کے ہاتھ سے چھونا۔

5. اونٹ کا گوشت کھانا۔

6. اسلام سے مرتد ہوجانا۔ اللہ تعالٰی ہمیں اور سارے مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔

ایک اہم تنبیہ : جہاں تک میت کو غسل دینے کا تعلق ہے، تو صحیح بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے غسل دینے والے کا وضو نہیں ٹوٹتا، اور یہی اکثر اہلِ علم کا قول ہے؛ کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، البتہ اگر غسل دینے والے کا ہاتھ میت کی شرمگاہ سے بغیر کسی حائل کے چھو جائے تو اس پر وضو کرنا واجب ہے۔

غسل دینے والے پر واجب ہے کہ وہ میت کی شرمگاہ کو بغیر کسی حائل کے ہاتھ نہ لگائے۔ اسی طرح عورت کو چھولینا بھی علماء کے صحیح تر قول کے مطابق مطلقاً ناقض وضو نہیں ہے، چاہے شہوت سے ہو یا بغیر شہوت کے، جب تک کہ اس سے کوئی چیز نہ نکلے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجۂ مطہرہ کا بوسہ لیا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

جہاں تک سورۂ نساء اور سورۂ مائدہ میں اللہ تعالٰی کے اس فرمان کى بات ہے کہ:

﴿...أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ...﴾

’’...یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو...‘‘ [النساء: 43] [المائدہ: 6]، تو علماء کے صحیح تر قول کے مطابق اس سے جماع مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سلف اورخلف کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ واللہ ولی التوفيق

 


پندرھواں سبق : ہر مسلمان کا شرعی اخلاق سے مزین ہونا

جن میں سے چند درج ذیل ہیں :

1. سچائی

2. امانت داری

3. پاکدامنی

4. شرم وحیا

5. شجاعت

6. سخاوت

7. وفاداری

8. اللہ تعالی کى تمام حرام کردہ چیزوں سے دور رہنا۔

9. بہتر ہمسائیگی

10. حسب استطاعت ضرورت مند کی مدد کرنا۔

ان کے علاوہ دیگر وہ اخلاق جن کی مشروعیت کتاب یا سنت سے ثابت ہے۔

 


سولھواں سبق : اسلامی آداب سے آراستہ وپیراستہ ہونا

جن میں سے چند درج ذیل ہیں :

1. سلام کرنا۔

2. خندہ پیشانی سے ملنا۔

3. دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔

4. کھانا شروع کرتے وقت ”بسم اللہ“ اور فارغ ہونے کے بعد ”الحمد للہ“ کہنا۔

5. چھینک آنے کے بعد ”الحمد للہ“ کہنا۔

6. چھینکنے والا ”الحمد للہ“ کہے تو اس کا جواب دینا۔

7. مریض کی عیادت کرنا۔

8. نماز پڑھنے اور دفن کے لیے جنازے کے پیچھے جانا۔

9. مسجد یا گھر میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت، سفر کے وقت، والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں، بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں، نو مولود کی تہنیت اور شادی کی مبارکبادی دینے میں، مصیبت زدہ شخص کی تعزیت کرنے میں اور ان کے علاوہ کپڑے پہننے اور اتارنے، جوتے پہننے اور نکالنے وغیرہ میں اسلامی آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔

سترھواں سبق : شرک اور دیگر گناہوں سے خبردار رہنا

شرک اور مختلف قسم کے گناہوں سے بچنا اور ان سے متنبہ و آگاہ رہنا، انہی میں سات ہلاک وبرباد کردینے والے گناہ بھی ہیں جو حسب ذیل ہیں :

1. اللہ کے ساتھ شرک۔

2. جادو۔

3. کسی ایسے آدمی کی ناحق جان لینا جس کو اللہ نے حرام کیا ہو۔

4. سود کھانا۔

5. یتیم کا مال کھانا۔

6. میدانِ جنگ سے فرار ہونا۔

7. بھولی بھالی پاکدامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔

انہی گناہوں میں سے چند درج ذیل ہیں :

1. والدین کی نافرمانی۔

2. رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کرنا۔

3. جھوٹی گواہی دینا۔

4. جھوٹی قسمیں کھانا۔

5. پڑوسی کو تکلیف دینا۔

6. لوگوں کی جان، مال اور عزت وآبرو پر زیادتی کرنا۔

7. نشہ آور چیزیں استعمال کرنا۔

8. جوا کھیلنا۔

9. غیبت کرنا۔

10. چغل خوری۔

اور ان کے علاوہ دیگر وہ چیزیں جن سے اللہ عز وجل، یا اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔

 


اٹھارھواں سبق : میت کی تجہیز وتکفین، نمازِ جنازہ اور تدفین

اس کی تفصیل حسب ذیل ہے :

پہلی بات : موت کے وقت ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی تلقین کرنا مشروع ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ: لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ». ’’تم اپنے مرنے والے کو ”لا الہ الا اللہ“ کی تلقین کرو۔‘‘ (7) (اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے)، اس حدیث میں مُردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حالت نزاع میں ہوں یعنی جن پر موت کے آثار ظاہر ہوگئے ہوں۔

دوسری بات : جب موت کا یقین ہو جائے تو میت کی دونوں آنکھیں بند کردی جائیں اور اس کے جبڑے بند کر دیے جائیں، جیسا کہ سنت سے ثابت ہے۔

تیسری بات : مسلمان میت کو غسل دینا واجب ہے، الا یہ کہ کسی نے معرکے میں شہادت پائی ہو، تو اسے نہ تو غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، بلکہ اسی شہادت والے کپڑے میں دفن کردیا جائے گا، اس لیے کہ نبی ﷺ نے جنگ احد کے مقتولین کو نہ تو غسل دیا اور نہ ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔

چوتھی بات : میت کو غسل دینے کا طریقہ

میت کو غسل دیتے وقت اس کی شرمگاہ کو چھپایا جائے اور اس کو کسی قدر اٹھایا جائے اور اس کے پیٹ کو نرمی سے دبایا جائے، پھر غسل دینے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا یا اس جیسی کوئی چیز لپیٹ لے اور اس کی نجاست دھو دے، پھر اس کو نماز کا وضو کرائے، اس کا سر اور اس کى داڑھی پانی اور بیری یا اسی جیسی کسی چیز سے دھوئے اور پھر اس کے دائیں اور بائیں پہلوؤں کو دھوئے اور اسی طرح دوسری اور تیسری دفعہ دھوئے اور ہر دفعہ اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرے اور اگر کوئی چیز نکلے تو اس کو دھو دے اور اس جگہ روئی وغیرہ رکھ دے، اور اگر نجاست کا نکلنا بند نہ ہو تو خالص نرم مٹی یا جدید طبی ذرائع مثلا پلاسٹر، ٹیپ وغیرہ سے اس کو بند کردے۔

پھر میت کو دوبارہ وضو کرائے، اگر تین مرتبہ کے عمل سے پاک نہ ہو تو پانچ یا سات دفعہ ایسا عمل کرے اور کپڑے سے تری کو خشک کرے اور سجدہ کی جگہوں اور جوڑوں پر خوشبو لگائے اور اگر سارے جسم کو خوشبو لگائی جائے تو بہتر ہے، کفن کو خوشبودار دھواں دیا جائے، اگر اس کے مونچھ یا ناخن لمبے ہوں تو ان کو کاٹ دیا جائے، اگر ویسے ہی چھوڑ دیے جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن بالوں میں کنگھی نہ کی جائے، زیر ناف کے بال نہ مونڈے جائیں اور ختنہ نہ کیا جائے، کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور عورت کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا کر اس کی پشت پر چھوڑ دی جائیں۔

پانچویں بات : میت کو کفن دینا

افضل یہ ہے کہ مرد کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا جائے، جس میں قمیص اور عمامہ نہ ہو جیساکہ نبی ﷺ کے ساتھ کیا گیا، میت کو ان کپڑوں میں اچھی طرح لپیٹ دیا جائے اور اگر قمیص، تہ بند اور چادر میں کفن دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے : قمیص، اوڑھنی، تہ بند اور دو چادریں۔ چھوٹے بچہ کو ایک تا تین کپڑوں میں کفن دیا جائے اور چھوٹی بچی کو ایک قمیص اور دو چادر میں کفن دیا جائے۔

ویسے سب کے لیے واجب صرف ایک کپڑا میں کفن دینا ہے جو پورے جسم کو ڈھانک لے، لیکن مرنے والا اگر حالاتِ احرام میں تھا تو اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے اور اسی چادر اور تہ بند میں یا ان کے علاوہ کپڑے میں کفن دیا جائے، البتہ اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانکا جائے اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے، کیونکہ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، قیامت کے دن وہ شخص تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا، اسی طرح اگر حالت احرام میں مرنے والی عورت ہے تو دیگر عورتوں کی طرح اسے بھی کفن دیا جائے لیکن اسے خوشبو نہ لگائی جائے، اور نہ ہی اس کے چہرہ کو نقاب سے اور ہاتھوں کو دستانے سے ڈھانکا جائے۔ بلکہ اس کے ہاتھوں اور چہرے کو اسی کپڑے سے ڈھانکا جائے جس میں اسے کفن دیا گیا ہے، جیسا کہ عورت کو کفن دینے کے طریقے میں گزرا۔

چھٹی بات : میت کو غسل دینے، اس کی نماز جنازہ پڑھانے اور اس کو دفن کرنے کا سب سے زیادہ حق وہ شخص رکھتا ہے جس کے بارے میں میت نے وصیت کی ہو، پھر اس کا باپ، پھر دادا، پھر مرد وارثین میں سے جو اس سے زیادہ قریب ہو۔ یہ حکم مرد کے حق میں ہے۔

اسی طرح عورت کو غسل دینے کی سب سے زیادہ حق وہ رکھتی ہے جس کے بارے میں اس نے وصیت کی ہو، پھر اس کی ماں، پھر دادی نانی، اور پھر عورتوں میں جو اس سے زیادہ قریب ہو۔ شوہر اور بیوی میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کو غسل دینے کا حق ہے، اس لیے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی نے غسل دیا تھا، اور اس لیے بھی کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا تھا۔

ساتویں بات : نماز جنازہ کا طریقہ :

نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی جائیں گی :

1. پہلی تکبیر کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھی جائے گی اور اگر اس کے بعد کوئی چھوٹی سورت یا ایک دو آیتیں پڑھ لیں تو بہتر ہے، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس سلسلہ میں ایک صحیح حدیث وارد ہے۔

2. دوسری تکبیر کہہ کر نبی ﷺ پر تشہد میں درود پڑھنے کی طرح درود پڑھے۔

3. تیسری تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَأَوْسِعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ،اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ"۔

”اے اللہ! ہمارے زندوں اور مُردوں اور ہمارے حاضر وغائب اور ہمارے چھوٹوں اور بڑوں اور ہمارے مَردوں اور عورتوں کو بخش دے، اے اللہ ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو تو وفات دے اس کو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! اس میت کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کو عافیت میں رکھ اور اس سے درگزر فرما اور اس کی باعزت مہمانی فرما اور اس کی قیام گاہ (قبر) کو کشادہ کراور اس کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اور اسے گناہوں اور غلطیوں سے اس طرح پاک کردے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے اور اس کو اس کے گھر کے بدلے اس سے بہتر گھر اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور اسے عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچالے اور اس کے لیے اس کی قبر کو کشادہ کر اور اس کے لیے اس میں روشنی کردے، اے اللہ ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔“

4. پھر چوتھی تکبیر کہہ کر اپنے دائیں جانب ایک سلام پھیرے۔

مستحب یہ ہے کہ ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے،اور اگر میت عورت ہو تو ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهَا...“ (آخر تک) کہے، اور اگر جنازے دو ہوں تو ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمَا...“ (آخر تک) کہے، اور اگر جنازے دو سے زیادہ ہوں تو ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُم...“ (آخر تک) کہے، اور اگر میت نابالغ ہو تو تیسری تکبیر میں دعائے مغفرت کے بجائے یہ دعا پڑھے : "اللهم اجْعَلْهُ فَرَطًا وَذُخْرًا لِوَالِدَيْهِ وَشَفِيعًا مُجَابًا، ثَقِّلْ بِهِ مَوَازِينَهِمَا وَعَظِّمْ بِهِ أَجُورَهُمَا وَالْحِقْهُ بِصَالِحِ سَلَفِ الْمُؤْمِنِينَ وَاجْعَلْهُ فِي كَفَالَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقِهِ بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ الْجَحِيمِ"”اے اللہ ! اس کو آگے جانے والا اور اپنے والدین کے لیے ذخیرہ اور ایسا سفارشی بنا جس کی سفارش قبول کى جائے، اے اللہ ! اس کی وجہ سے اس کے والدین کے اعمال کا پلہ وزنی کردے اور ان کا اجر بڑھا دے اور اس کو گذرے ہوئے نیک اہلِ ایمان سے ملا دے اور ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں دے دے اور اپنی مہربانی سے اس کو عذابِ دوزخ سے بچا لے۔“

سنت یہ ہے کہ امام ، مرد کے سر کے بالمقابل اور عورت کے جنازہ کے بیچ میں کھڑا ہو، اگر کئی جنازے جمع ہوں تو مرد کا جنازہ، امام کے نزدیک اور عورت کا جنازہ قبلہ کی جانب ہو، اگر ان کے ساتھ بچے کا بھی جنازہ ہو تو بچہ کا جنازہ عورت سے پہلے اور پھر عورت کا اور پھر بچی کا جنازہ رکھا جائے اور بچہ کا سر اور عورت کی کمر، مرد کے جنازہ کے سر کے برابر میں ہو، اسی طرح بچی کا سر عورت کے جنازہ کے سر کے برابر میں اور اس کی کمر مرد کے سر کے برابر میں ہو گی۔ تمام نمازی امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے سوائے اس کے جو امام کے پیچھے جگہ نہ پائے تو وہ امام کے دائیں طرف کھڑا ہوگا۔

آٹھویں بات : میت کو دفن کرنے کا طریقہ :

مشروع یہ ہے کہ آدمی کی کمر تک قبر گہری کی جائے اور اس میں قبلہ کی طرف لحد بنائی جائے، میت کو لحد میں داہنے پہلو پر لٹایا جائے اور اس کے کفن کی گرہیں کھول کر چھوڑ دی جائیں، انہیں نکالا نہ جائے، میت خواہ مرد ہو یا عورت اس کا چہرہ نہ کھولا جائے، پھر لحد کے اوپر سے کچی اینٹیں رکھ کر مٹی سے لیپ کردیا جائے تاکہ اینٹیں باہم پیوستہ ہوجائیں اور میت تک مٹی نہ جانے دیں، اگر اینٹیں نہ مل سکیں تو ان کی جگہ پر تختے یا پتھر یا لکڑی لگادی جائے جو لحد میں مٹی گرنے سے بچائے، پھر اس پر مٹی ڈالی جائے، مٹی ڈالتے وقت : ’’بِاسْمِ اللهِ، وعلى مِلِّةِ رَسولِ اللهِ‘‘ پڑھنا مستحب ہے۔ مٹی ڈالنے کے بعد قبر ایک بالشت اونچی کی جائے اور اگر میسر ہو تو قبر پر چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ دیے جائیں اور پانی کا چھڑکاؤ کردیا جائے۔

جنازہ کے ساتھ جانے والوں کو چاہیے کہ دفن کرنے کے بعد قبر کے پاس کھڑے ہوں اور میت کے لیے دعا کریں، کیونکہ نبی ﷺ جب میت کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو قبر کے پاس کھڑے ہوتے اور فرماتے : «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَاسْأَلُوا لَهُ التَّثْبِيتَ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ». ’’اپنے بھائی کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا۔‘‘ (8)

نویں بات : جس نے نمازِ جنازہ نہ پڑھی ہو اس کے حق میں مشروع یہ ہے کہ دفن کے بعد اس پر نماز پڑھے

کیونکہ نبی ﷺ نے ایسا کیا ہے، لیکن اگر میت کو دفن کئے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہو تو قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے کہ میت کودفن کردینے کے ایک مہینہ کے بعد آپ ﷺ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھی ہو۔

دسویں بات : میت کے اہلِ خانہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کے لیے کھانا بنائیں

کیونکہ صحابی جلیل جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : «كُنَّا نَعُدُّ الاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ، وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ بَعْدَ الدَّفْنِ، مِنَ النِّيَاحَةِ». ’’میت کو دفن کرنے کے بعد اہل میت کے گھر جمع ہونے اور (ان کا ہمارے لیے) کھانا تیار کرنے کو ہم لوگ نوحہ شمار کرتے تھے۔‘‘ (9) (اسے امام احمد نے بسند حسن روایت کیا ہے)۔

البتہ اہل میت کا اپنے مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میت کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے مشروع ہے کہ وہ اہل میت کے لیے کھانا تیار کریں؛ کیونکہ جب نبی ﷺ کو ملک شام میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر ملی تو آپ نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ وہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا بنائیں اور فرمایا : «إِنَّهُ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ». ’’ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے انہیں مشغول کردیا ہے۔‘‘(10)

البتہ میت کے گھر والوں کے یہاں ہدیہ کے طور پر جو کھانا آیا ہو، اس کھانے پر وہ اپنے پڑوسیوں وغیرہ کو بلالیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور ہمارے علم کے مطابق اس سلسلہ میں وقت کی شرعاً کوئی تحدید نہیں ہے۔

گیارھویں بات : عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے اس عورت کے جس کا شوہر وفات پاجائے

تو ایسی عورت پر واجب ہے کہ وہ چار مہینہ دس دن خود کو زیب و زینت سے دور رکھے، اور اگر کوئی حمل والی عورت ہو تو وہ بچہ کی ولادت تک زیب وزینت اختیار نہ کرے، اس لیے کہ نبی ﷺ کی صحیح حدیث سے اس بارے میں ایسا ہی ثابت ہے۔

البتہ مرد کے لیے اپنے کسی عزیز وغیرہ کے انتقال پر سوگ منانا جائز نہیں۔

بارہویں بات : مردوں کے لیے اہلِ قبور کے حق میں دعا کرنے، ان کے لیے رحمت طلب کرنے اور موت اور اس کے بعد آنے والی چیزوں کو یاد کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً قبروں کی زیارت کرنا مسنون ہے

کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: «زُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ». ’’قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمھیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘(11) (اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے)۔ نیز رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبروں کی زیارت کریں تو یہ دعا پڑھیں: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ،نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ، يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ». ’’اے اس دیار میں رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم بھی تمھارے پاس یقیناً پہنچنے والے ہیں، ہم اپنے لیے اور تمھارے لیے اللہ سے عافیت چاہتے ہیں، ہم میں سے جو پہلے جاچکے اور جو بعد میں آنے والے ہیں اللہ تعالی ان پر رحم فرمائے۔‘‘(12)

البتہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اس لیے بھی کہ عورتوں کے قبروں پر جانے میں فتنہ کا خطرہ ہے، اور ان سے بے صبری کے مظاہرہ کا اندیشہ ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے قبرستان تک جنازہ کے پیچھے جانا بھی جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں اس سے بھی منع فرمایا ہے۔ لیکن مسجد یا مصلی میں جنازہ کی نماز پڑھنا مرد اور عورت سب کے لیے مشروع ہے۔

اس کتاب میں اتنا ہی تحریر کرنا میسر ہوا۔ درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر

 

***

فہرست

 

پہلا سبق : سورۂ فاتحہ اور قصار سور 3

دوسرا سبق : ارکانِ اسلام 3

تیسرا سبق : ارکانِ ایمان 5

چوتھا سبق : توحید اور شرک کے اقسام 5

پانچواں سبق : احسان 13

چھٹا سبق : نماز کے شرائط 13

ساتواں سبق : نماز کے ارکان 14

آٹھواں سبق : نماز کے واجبات 15

نواں سبق : تشہد کا بیان 16

دسواں سبق : نماز کی سنتیں 18

گیارھواں سبق : مفسداتِ نماز 21

بارھواں سبق : وضو کے شروط 22

تیرھواں سبق : وضو کے فرائض 23

چودھواں سبق : وضو کے نواقض 23

پندرھواں سبق : ہر مسلمان کا شرعی اخلاق سے مزین ہونا 25

سولھواں سبق : اسلامی آداب سے آراستہ وپیراستہ ہونا 26

سترھواں سبق : شرک اور دیگر گناہوں سے خبردار رہنا 27

اٹھارھواں سبق : میت کی تجہیز وتکفین، نمازِ جنازہ اور تدفین 29

 

 

***

 


() مسند امام احمد (5/ 428)، المعجم الکبیر للطبرانی (4/ 338)، شعب الإيمان للبیہقی (14/ 355)، حافظ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (1/ 121) میں کہا کہ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

() مسند امام احمد (1/ 47)۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : (3251) اور سنن ترمذي، حدیث نمبر : (1535)۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : (4980)، اور مسند امام احمد : (5/ 384)۔

() سنن ابن ماجه، حدیث نمبر : (4204) اور مسند امام أحمد : (3/ 30)۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : (916-917)۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : (3221)، مستدرک حاكم : (3/ 399)۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : (1612)، مسند أحمد (2/ 204)۔

() صحیح مسلم، کتاب الجنائز، حدیث نمبر : (976)، سنن نسائي، کتاب الجنائز، حدیث نمبر : (2034)، سنن ابو داود کتاب الجنائز، حدیث نمبر : (3234)، سنن ابن ماجه، باب ما جاء في الجنائز، حدیث نمبر : (1569)، مسند امام أحمد (2/441)۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : (1569)، اور امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : (975)۔

() مجموع فتاوی و مقالات متنوعۃ (3/ 288- 298)۔