زبانیں زبانیں
رہنمائی سے متعلق مواد
منتخب قرآنی آیات
"(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے"۔
"اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے"۔
"اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے"۔
"اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے"۔
"اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے ، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو"۔
منتخب احادیث نبویہ
کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔
جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے"۔ ایک اور روایت میں ہے: "جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہ ہے"۔
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ دن کا گنہ گار توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ رات کا گنہ گار توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے"۔ [صحيح مسلم – 2759]
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا"۔ [ متفق علیہ]
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے:اللهم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا)۔ [صحیح بخاری: 6389]




