حج وعمرہ اور زیارت کے بہت سے مسائل کی تحقیق و وضاحت کتاب وسنت کی روشنی میں (اردو)

یہ کتاب، کتاب وسنت کی روشنی میں حج، عمرہ اور زیارت کے احکام کی شرح پیش کرتی ہے، واجباتِ حج و عمرہ، محظوراتِ احرام اور مسجدِ نبوی کی زیارت کے آداب کو بیان کرتی ہے، نیز ان عبادات میں پائی جانے والی بدعات سے خبردار کرتی ہے۔

  • earth زبان
    (اردو)
  • earth تالیف:
    الشيخ عبد العزيز بن باز
PHPWord

 

 

التَّحْقِيقُ وَالإِيضَاحُ لِكَثِيرٍ مِنْ مَسَائِلِ

الحَجِّ وَالعُمْرَةِ وَالزِّيَارَةِ

عَلَى ضَوءِ الكِتَابِ وَالسُّنَّة

 

حج و عمرہ اور زیارت کے بیشتر مسائل کی تحقیق و وضاحت کتاب وسنت کی روشنی میں

 

لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ

رَحِمَهُ اللهُ

 

سماحۃ الشیخ علامہ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

مقدمۂ مؤلف

سب تعریف اللہ کی ہے، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کى تمام آل اور تمام صحابہ پر۔

اما بعد :

یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں حج اور اس کے فضائل و آداب اور سفر حج کا ارادہ کرنے والوں کے لیے ضروری باتوں کا بیان اور اختصار و وضاحت کے ساتھ حج، عمرہ اور زیارت کے بہت سے اہم مسائل کا ذکر موجود ہے۔ میں نے اس رسالے میں صرف انہی امور کو بیان کرنے کى کوشش کى ہے جن پر کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ سے دلیل قائم ہے، جنھیں میں نے محض مسلمانوں کی خیر خیر خواہی کی نیت اور اللہ کے اس ارشاد کی تعمیل میں جمع کر دیا ہے :

﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ 55﴾

’’اور نصیحت کرتے رہیں، یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی۔‘‘ [سورہ ذاریات : 55] مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ...﴾

"اور جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں..." [سورہ آل عمران : 187]۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿...وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى...﴾

"...نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو..." [سورہ مائدہ : 2]۔

نیز نبی کریم ﷺ کی اس صحیح حدیث کے مصداق، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ، ثَلَاثًا، قِيلَ: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ المُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ». "دین خیر خواہی کا نام ہے۔ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلم حکام کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے"۔(1)

جب کہ طبرانی نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ لَمْ يَهْتَمَّ بِأَمْرِ المُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ، وَمَنْ لَمْ يُصْبِحْ وَيُمْسِ نَاصِحًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِإِمَامِهِ وَلِعَامَّةِ المُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ». "جو مسلمانوں کے معاملات پر توجہ نہ دے وہ ان میں سے نہیں ہے اور جس کی صبح و شام، اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول اور مسلم حکام اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں نہ گزریں، وہ ان میں سے نہيں ہے۔"(2)

اللہ سے میری دعا ہے کہ اس رسالہ کے ذریعہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے اور میری اس ادنی کوشش کو اپنی ذات کریم کے لیے خالص فرمائے اور اسے جنت النعیم میں داخلہ کا ذریعہ بنائے۔ یقینا اللہ تعالى سب کچھ سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ اللہ ہمارے لیے کافی اور بہترین کارساز ہے ۔

فصل

حج اور عمرہ کے وجوب کے دلائل اور انھیں جلد سے جلد ادا کرنے کا بیان

اس دعا کے ساتھ کہ اللہ ہم کو اور آپ کو حق کی معرفت اور اس کى اتباع کی توفیق عطا فرمائے، عرض یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر اپنے حرمت والے گھر کا حج فرض کیا ہے اور اسے اسلام کا ایک رکن قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿...وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾

"اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے"۔ [سورہ آل عمران : 97]۔

صحیحین میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ بَيْتِ اللَّهِ الحَرَامِ». "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ الحرام کا حج کرنا"۔(3)

سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کچھ لوگوں کو ان علاقوں کى طرف بھیجوں جو ہر ایسے شخص کا پتہ لگائيں، جس نے طاقت ہونے کے باوجود حج نہيں کیا ہے، تاکہ ان پر جزیہ مقرر کر دیں۔ ایسے لوگ مسلمان نہيں ہیں۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔"(4)(5)

اور علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ’’جو شخص حج کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے، اس کے لیے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔‘‘(6)

جس پر حج فرض ہوچکا ہو اور اس نے اب تک حج نہیں کیا ہو، اس کو جلدی کرنا چاہیے، کیوں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : «تَعَجَّلُوا إِلَى الحَجِّ - يَعْنِي الفَرِيضَةَ - فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ». "حج کو جلدی ادا کر لیا کرو۔ -یعنی فرض حج- کیوں کہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس کے سامنے کون سے مجبوری آ جائے۔"(7) 

اور اس لیے بھی کہ جس پر حج فرض ہو چکا ہے، اس کے لیے اللہ کے اس ارشاد کے مطابق فی الفور حج ادا کرنا واجب ہے:

﴿...وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾

"اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے۔" [سورہ آل عمران : 97]۔

اور نبی ﷺ کے خطبے کے دوران فرمائے گئے اس قول کے مطابق : «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الحَجَّ فَحُجُّوا». "لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، اس لیے تم حج کرو۔"(8)

عمرہ کے وجوب پر بہت سی حدیثیں دلالت کرتی ہيں، جن میں سے چند اس طرح ہیں :

ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے اسلام کی بابت پوچھا، تو آپ نے فرمایا : «الإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ البَيْتَ وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الجَنَابَةِ، وَتُتِمَّ الوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ» "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرو، جنابت کا غسل کرو، پورا وضو کرو اور رمضان کے روزے رکھو"۔(9) (اس حدیث کو ابن خزیمہ اور دارقطنی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور دار قطنی نے کہا ہے کہ اس کی سند ثابت اور صحیح ہے)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے کہ انہوں نے دریافت کیا : «يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ؟ قَالَ: عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الحَجُّ وَالعُمْرَةُ» "اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا : ان پر ایسا جہاد فرض ہے، جس میں لڑائی نہیں ہے : حج اور عمرہ"۔(10) اس حدیث کو احمد اور ابن ماجہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

حج اور عمرہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں رسول ﷺ کا ارشاد ہے : «الحَجُّ مَرَّةٌ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ». "حج ایک مرتبہ فرض ہے اور اس سے زیادہ کرے، تو نفل ہے"۔(11)

البتہ نفلی حج اور عمرہ کثرت سے کرنا مسنون ہے، کیوں کہ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : «العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الجَنَّةُ». "ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ، ان دونوں کے درمیان کی خطاؤں کے لیے کفارہ ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں ہے"۔(12)

 


فصل

گناہوں سے توبہ کرنے اور مظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت

جب مسلمان حج یا عمرہ کے سفر کا ارادہ کرے، تو اس کو چاہیے کہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرے۔ یعنی احکامات الہی پر عمل اور نواہی سے اجتناب کی تاکید کرے۔

اس کا یا اس کے ذمہ جتنا قرض ہو اس کو لکھ ڈالے اور اس پر گواہ بنادے۔ جلد سے جلد تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

"اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو، تاکہ تم نجات پاؤ۔" [سورہ نور : 31]۔

سچی توبہ کا مطلب ہے : گناہوں سے باز آنا، ان کو چھوڑ دینا، پچھلے گناہوں پر نادم ہونا اور آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم رکھنا۔ اگر اس کے پاس لوگوں کے مال، آبرو یا جان کا کوئی حق باقی ہو تو اپنے سفر سے پہلے اس کو ان کو واپس کردے یا ان سے معاف کرا لے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : «مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ مَالٍ أَوْ عِرْضٍ فَلْيَتَحَلَّلِ اليَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ». "جس کے پاس اس کے بھائی کے مال یا آبرو کا کوئی حق باقی ہو، اسے چاہیے کہ اس دن کے آنے سے پہلے اس سے پاک وصاف ہوجائے، جس دن نہ درہم کام آئے گا نہ دینار۔ اگر اس کے پاس نیکیاں ہوں گی، تو صاحب حق کو اس کے حق کے بہ قدر دے دی جائیں گی اور اگر نیکیاں نہیں ہوں گی، تو صاحب حق کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے"۔(13)

حج و عمرہ کے لیے پاکیزہ حلال کمائی سے خرچ کا انتظام کرنا چاہیے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا». "اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے"۔(14)

طبرانی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : «إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الغَرْزِ فَنَادَى: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، زَادُكَ حَلَالٌ، وَرَاحِلَتُكَ حَلَالٌ، وَحَجُّكَ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ، وَإِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ بِالنَّفَقَةِ الخَبِيثَةِ فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الغَرْزِ فَنَادَى: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: لَا لَبَّيْكَ وَلَا سَعْدَيْكَ، زَادُكَ حَرَامٌ، وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ». "جب آدمی پاکیزہ زاد سفر کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں سواری کے رکاب میں رکھ کر کہتا ہے : حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تو اس کو آسمان سے ایک پکارنے والا جواب دیتا ہے کہ تیری لبیک قبول ہو اور رحمت الہی تجھ پر نازل ہو۔ تیرا توشہ حلال، تیری سواری حلال اور تیرا حج مقبول ہے، (اور تیرے لیے) گناہوں سے پاکی ہے۔ جب آدمی حرام کمائی کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور سواری کے رکاب میں پاؤں رکھ کر پکارتا ہے : حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تو آسمان سے ایک پکارنے والا جواب دیتا ہے کہ تیری لبیک قبول نہیں، نہ تجھ پر اللہ کی رحمت ہو ۔ تیرا زاد سفر حرام، تیری کمائی حرام اور تیرا حج غیر مقبول ہے۔"(15)

حج کا ارادہ کرنے والے کو چاہیے کہ حرص و ہوس اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کرے۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے : «وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ». "جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے"۔(16)

رسول ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے : «لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ». "جب آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے، تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا بھی نہ ہوگا"۔(17)

حاجی کو چاہیے کہ اپنے حج اور عمرہ کے ذریعہ اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا طالب ہو اور ان مقدس مقامات میں ایسے اقوال و اعمال سے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرے، جو اللہ کو پسند ہوں۔ حج کے ذریعہ دنیا کمانے سے پوری طرح بچے۔ اسی طرح حج کا مقصد ریا، شہرت اور فخر ومباہات بھی نہ ہو، کیوں کہ یہ سب بدترین مقاصد ہیں، جو اعمال کی بربادی اور عدم قبولیت کا سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالی تعالی کا ارشاد ہے :

﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ 15 أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الاخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ 16﴾

"جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو، ہم ایسے لوگوں کو ان کے اعمال (کا بدلہ) یہیں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں! یہی وه لوگ ہیں، جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا، وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کے اعمال تھے، سب برباد ہونے والے ہیں۔" [سورہ ہود : 15، 16]۔

نیز فرمان باری تعالی ہے :

﴿مَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا 18 وَمَنْ أَرَادَ الْاخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا 19﴾

"جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو، اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لیے چاہیں سردست دیتے ہیں، بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں، جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا۔ اور جو آخرت کا اراده کرے اور اس کے لیے جیسی کوشش کرنی چاہیے، کرے اور وه مومن بھی ہو، تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں قدر کی جائے گی۔" [سورہ اسراء : 18- 19]۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی ایک صحیح حدیث میں ہے : «قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ مَعِي فِيهِ غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ». "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شرکا کی بہ نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ کوئی شخص جب كوئی عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کرتا ہے، تو میں اسے اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔"(18)

حاجی کو چاہیے کہ سفر میں تقوی شعار، دین دار اور اہل علم کے ساتھ نکلے۔ کم عقل اور اہل فسق و فجور کے ساتھ نکلنے سے بچے۔

اسی طرح حاجی کو چاہیے کہ حج و عمرہ کے احکام سیکھ اور سمجھ لے اور مشکل مسائل دریافت کرلے، تاکہ اسے پوری بصیرت حاصل ہوجائے۔ جب وہ اپنی سواری موٹر یا ہوائی جہاز یا کسی اور سواری پر سوار ہو تو بسم اللہ کہے اور اللہ کی حمد وثنا کرے اور تین بار اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھے :

﴿...سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14﴾

"پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا، حالانکہ ہمارے پاس اسے قابو کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔" [سورہ زخرف : 13- 14]۔

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ العَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ المَنْظَرِ، وَسُوءِ المُنْقَلَبِ فِي المَالِ وَالأَهْلِ»؛ "اے اللہ ! میں اس سفر میں نیکی اور تقوی کا سوال کرتا ہوں اور اس عمل کا جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ! ہم پر ہمارے اس سفر کو آسان کردے اور اس کى دورى کو ہمارے لیے لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو سفر میں ساتھی ہے اور اہل و عیال میں جانشین ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی تکلیفوں اور برے منظر اور اہل و عیال اور مال کو بری حالت میں دیکھنے سے پناہ مانگتا ہوں۔"(19)

کیوں کہ ایسا کرنا نبی کریم ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے، جسے مسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔

سفر کے دوران اذکار، استغفار، دعا، اللہ کے سامنے گریہ و زاری، تلاوت قرآن اور اس کے معانی پر غور و فکر کا اہتمام کثرت سے کرتے رہے۔ پابندی سے باجماعت نماز ادا کرے۔ اس کے ساتھ ہی بہت زیادہ گفتگو، غیر ضروری باتوں اور بہت زیادہ ہنسى مذاق کرنے سے اپنی زبان کو محفوظ رکھے۔ نیز جھوٹ، غیبت، چغل خورى اور اپنے دوستوں اور مسلمانوں کی ہنسی اڑانے سے اپنی زبان کو محفوظ رکھے۔

اس کے بدلے میں اسے چاہیے کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کرے، ان کی مصیبتیں دور کرے، انہیں جتنا ہو سکے حکمت و موعظت کے ساتھ بھلائی کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے۔

 


فصل

میقات پہنچ کر حاجی کے کرنے کے کچھ کام

حاجی جب میقات پر پہنچ جائے تو اس کو چاہیے کہ غسل کرے اور خوشبو لگائے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام کے وقت سلے ہوئے کپڑے اتار دیے تھے اور غسل فرمایا تھا۔ نیز صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ وہ کہتی ہیں : «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحَلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالبَيْتِ»، "میں رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھنے سے قبل اور حلال ہو جانے کے بعد کعبہ کے طواف سے پہلے ہی خوشبو لگایا کرتی تھی۔"(20) عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کے لیے احرام باندھ رکھا تھا، لیکن جب وہ حائضہ ہوگئیں، تو آپ ﷺ نے ان کو فرمایا کہ غسل کر لیں اور حج کے لیے احرام باندھ لیں۔ اسی طرح اسما بنت عمیس کو جب ذو الحلیفہ میں بچہ پیدا ہوا، تو آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ غسل کرلیں اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لیں، پھر احرام باندھ لیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حائضہ یا نفاس والی عورت جب میقات پر پہنچے، تو غسل کرکے لوگوں کے ساتھ احرام باندھ لے اور بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی حج کے تمام کام ویسے ہی کرے، جیسے دوسرے حاجی کرتے ہیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ اور اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہما کو اس کا حکم دیا تھا۔(21)

احرام باندھنے والے کے لیے مستحب ہے کہ اپنی مونچھ، ناخن اور زیر ناف و بغل کے بال پر دھیان دے اور ان کى حسب ضرورت کانٹ چھانٹ کر یا تراش کر اصلاح کرلے، تاکہ احرام باندھنے کے بعد حالت احرام میں اس کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ اس لیے بھی مناسب ہے کہ دوسرے اوقات میں بھی رسول اللہ ﷺ نے ان چیزوں کا خیال رکھنے کا حکم فرمایا ہے، جیسا کہ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : «الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَقَلْمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ». "پانچ چیزیں فطرت میں شامل ہیں: ختنہ کرانا، موئے زیر ناف صاف کرنا، مونچھ چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھاڑنا"(22)

اور صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہيں : «وَقَّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَقَلْمِ الأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الإِبْطِ، وَحَلْقِ العَانَةِ: أَنْ لَا نَتْرُكَ ذَلِكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً». "ہمارے لیے مونچھ تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھاڑنے اور موئے زیر ناف مونڈنے کا وقت مقرر کردیا گیا ہے کہ ہم انہیں چالیس دنوں سے زیادہ نہ چھوڑیں"۔(23)

امام نسائی نے اسے ان الفاظ میں روایت کیا ہے : «وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ»، "رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے وقت مقرر کیا"۔(24) (اسے احمد، ابوداود اور ترمذی نے نسائی کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے)۔ البتہ احرام کے وقت سر کے بالوں کا کچھ بھی حصہ کاٹنا نہ عورت کے لیے مشروع ہے، نہ مرد کے لیے۔

داڑھی مونڈنا یا کاٹنا تمام اوقات میں حرام ہے۔ داڑھی کو چھوڑ دینا اور اس کو بڑھانا واجب ہے، جیسا کہ صحیحین میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : «خَالِفُوا المُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ». "مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کرو"۔(25) اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : «جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى، خَالِفُوا المَجُوسَ». "مونچھوں کو کاٹو اور داڑھی کو چھوڑ دو اور مجوس کی مخالفت کرو"۔(26)

افسوس کہ اس زمانے میں یہ وبا عام ہوگئی ہے اور کثرت سے لوگ داڑھی کی اس سنت کی مخالفت کرتے ہیں اور کفار اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ خاص طور پر علم اور تعلیم سے جڑے ہوئے لوگ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالی ہم کو اور تمام مسلمانوں کو سنت کی موافقت کرنے ، سختی سے اس پر عمل کرنے ، ہدایت کی راہ پر چلنے اور اکثر لوگوں کے اعراض کے باوجود انہیں اس کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ وحسبنا الله ونعم الوكيل، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم۔

اس کے بعد حاجی ایک تہبند اور ایک چادر پہن لے۔ بہتر ہے کہ دونوں سفید اور صاف ہوں۔ مستحب یہ ہے کہ جوتے میں احرام باندھے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَلْيُحْرِمْ أَحَدُكُمْ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَنَعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الكَعْبَيْنِ» "ہر شخص کو ایک ازار اور ایک چادر اور دو جوتوں میں احرام باندھنا چاہیے۔ اگر جوتے نہ پائے، تو چمڑے کے موزے پہن لے اور ان کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے۔"(27) (اس حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے)۔

البتہ عورت کے لیے جائز ہے کہ کالا یا سبز یا کسی بھی رنگ کا کپڑا احرام میں استعمال کرے۔ صرف اس کا لحاظ رکھے کہ اس کا لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔ احرام کی حالت میں اس کے لیے نقاب اور دستانے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ نقاب اور دستانے کے علاوہ کسی اور چیز سے وہ اپنا چہرہ اور ہتھیلیاں ڈھک لے۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے محرم عورت کو نقاب اور دستانے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ جو لوگ عورت کے احرام کے لیے سبز یا کالے رنگ کو خاص کرتے ہیں، ان کا یہ عمل بے بنیاد ہے۔

غسل، صفائی اور احرام کے کپڑے پہننے کے بعد حج یا عمرہ، جس کا ارادہ رکھتا ہو، دل کے اندر اس میں داخل ہونے کی نیت کرے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى». "اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور آدمی جو نیت کرتا ہے، وہی پاتا ہے"۔(28)

حج وعمرہ کی نیت کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا مشروع ہے۔ اگر عمرہ کی نیت کرے تو کہے: "عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔" یا "اے اللہ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں"۔ اگر حج کی نیت کرے تو کہے: "میں حج کے لیے حاضر ہوں۔" یا "اے اللہ! میں حج کے لیے حاضر ہوں۔" اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔ اگر حج اور عمرہ دونوں کی نیت ایک ساتھ کرنی ہو، تو کہے: "اے اللہ! میں عمرہ اور حج دونوں کے لیے حاضر ہوں"۔ افضل یہ ہے کہ نیت کے یہ الفاظ سواری یا جانور یا موٹر وغیرہ پر سوار ہونے کے بعد ادا کیے جائیں، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت لبیک پکارا تھا، جب آپ ﷺ سواری پر بیٹھ گئے تھے اور سواری میقات سے چلنے کے لیے حرکت میں آچکی تھی۔ اہل علم کا سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے۔

نیت کے الفاظ کو زبان سے ادا کرنا احرام کے ساتھ خاص ہے، کیوں کہ ایسا کرنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔

لیکن نماز اور طواف وغیرہ کی نیت کو لفظوں سے نہیں ادا کرنا چاہیے۔ مثلا یوں نہیں کہنا چاہیے کہ میں نے اس نماز کی نیت کی، یا میں طواف کی نیت کرتا ہوں۔ اس طرح لفظوں میں نیت کرنا بدعت ہے اور بلند آواز سے کہنا اور بھی زیادہ قبیح اور گناہ کا کام ہے۔ اگر نیت کو لفظوں سے ادا کرنا مشروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اسے ضرور بیان کرتے، یا اپنے فعل یا قول سے امت کے لیے اس کی وضاحت فرما دیتے اور سلف صالحین بھی اس پر ہم سے پہلے عمل کیے ہوتے۔

لہذا جب یہ نہ تو نبی ﷺ سے منقول ہے اور نہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، تو معلوم ہوا کہ یہ بدعت ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : «وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» "سب سے بدتر کام وہ ہے جو (دین کے نام پر) نیا ایجاد کیا گیا ہو اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔(29) (صحیح مسلم) ۔ اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے : «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسا کام ایجاد کیا، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ کام مردود اور نا قابل قبول ہے"۔(30) (متفق علیہ)۔ جب کہ مسلم کی ایک روایت میں ہے : «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس کا ہم نے حکم نہیں دیا، تو وہ کام مردود اور ناقابل قبول ہے"۔(31)

فصل

مکانی میقات اور اس کی تحدید

مکانی میقات پانچ ہیں :

1- ذو الحلیفہ، جو مدینہ والوں کا میقات ہے اور جسے اب لوگ ابیار علی کہتے ہیں۔

2- جحفہ، جو اہل شام کا میقات ہے۔ یہ رابغ کے قریب ایک ویران بستی ہے، لیکن لوگ اب رابغ ہی سے احرام باندھتے ہیں۔ جو لوگ رابغ سے احرام باندھتے ہیں ان کا احرام میقات ہی سے شمار ہوتا ہے، کیوں کہ رابغ جحفہ سے تھوڑا پہلے ہی واقع ہے۔

3- قرن منازل، جو اہل نجد کا میقات ہے اور جس کو آج کل "سیل" کہا جاتا ہے۔

4- یلملم، جو اہل یمن کا میقات ہے۔

5- ذات عرق، جو اہل عراق کا میقات ہے۔

ان میقاتوں کو نبی کریم ﷺ نے مذکورہ بالا مقامات والوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ یہ ان سب لوگوں کے لیے بھی میقات ہیں، جو حج یا عمرہ کی نیت سے ان سے گزریں۔

ان میقاتوں سے گزرنے والوں پر یہاں سے احرام باندھنا واجب ہے۔ جو شخص مکہ جانے کے لیے حج یا عمرہ کی نیت سے ان میقاتوں سے گزرے، اس کے لئے بغیر احرام باندھے یہاں سے آگے بڑھنا حرام ہے۔ خواہ اس کا گزر خشکی کے راستہ سے ہو یا فضائی راستہ سے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان میقاتوں کو مقرر کرتے وقت یہ عام حکم فرمایا تھا : «هُنَّ لَهُنَّ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الحَجَّ وَالعُمْرَةَ». "یہ میقاتیں ان کے اہالیان کے لیے ہیں اور ان کے علاوہ ان دیگر لوگوں کے لیے بھی جو حج اور عمرہ کی نیت سے یہاں سے گزریں"۔(32)

جو شخص حج یا عمرہ کی نیت سے ہوائی جہاز سے مکہ کی طرف جا رہا ہو، اس کو چاہیے کہ جہاز میں بیٹھنے سے پہلے غسل وغیرہ کر لے۔ جب جہاز میقات کے قریب پہنچے تو تہبند اور چادر پہن کر، اگر وقت میں گنجائش ہو، تو عمرہ کے لیے لبیک پکارے اور اگر وقت تنگ ہو تو صرف حج کے لیے لبیک پکارے۔ اگر سوار ہونے سے پہلے ہی یا میقات کے قریب ہونے سے قبل کوئی شخص احرام کی چادریں اوڑھ لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جب تک میقات کے قریب یا بالمقابل نہ آجائے اس وقت تک لبیک نہ پکارے، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے میقات ہی سے احرام باندھا ہے اور امت کا فرض ہے کہ تمام دینی کاموں کی طرح اس میں بھی نبی ﷺ کی پیروی کرے، کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ...﴾

"یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے..." [سورہ احزاب : 21]۔ اور نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا : «خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ». "مجھ سے اپنے حج کے مسائل سیکھ لو۔"(33)

لیکن جو شخص حج اور عمرہ کی نیت نہیں رکھتا، مثلا تاجر، بڑھئی، ڈاکیہ وغیرہ، ایسا شخص مکہ جائے تو اس کے لیے احرام ضروری نہیں ہے، وہ خود چاہے تو اور بات ہے، کیوں کہ رسول ﷺ نے سابقہ حدیث میں مواقیت کے بیان میں یہ فرمایا ہے : «هُنَّ لَهُنَّ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الحَجَّ وَالعُمْرَةَ»، "یہ میقاتیں ان کے اہالیان کے لیے ہیں اور ان کے علاوہ ان دیگر لوگوں کے لیے بھی، جو حج اور عمرہ کی نیت سے یہاں گزریں"۔(34) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان میقاتوں سے گزرے، لیکن اس کا ارادہ حج وعمرہ کا نہ ہو، تو اس کے لیے احرام ضروری نہیں ہے۔

یہ دراصل بندوں پر اللہ تعالی کی بڑی رحمت اور سہولت ہے۔ فلہ الحمد والشکر۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تھے تو احرام کی حالت میں نہیں تھے، بلکہ آپ سر پر آہنی ٹوپی پہنے ہوئے تھے، کیوں کہ اس وقت حج اور عمرہ کی نیت نہیں تھی، بلکہ مکہ فتح کرنے اور اس میں موجود شرکیات کو ختم کرنے کی نیت سے آئے تھے۔

جن لوگوں کی رہائش گاہ میقات کے اندر ہو، جیسے جدہ، ام سلم، بحرہ، شرائع، بدر اور مستورہ وغیرہ کے باشندے تو ان پر ان مذکورہ بالا پانچوں میقاتوں میں سے کسی پر جاکر احرام باندھنا واجب نہيں ہے، بلکہ ان کا یہ مسکن ہی ان کا میقات ہے۔ وہ حج یا عمرہ جس کی بھی نیت رکھتے ہوں، یہیں سے اس کا احرام باندھیں۔ اگر کسی کا کوئی اور مسکن و رہائش گاہ ہو، جو میقات سے باہر ہو، تو اس کو اختیار ہے، اگر چاہے تو میقات سے احرام باندھے، ورنہ اپنے اس دوسرے گھر ہی سے احرام باندھ لے، جو میقات کی بہ نسبت مکہ سے زیادہ قریب ہے۔ کیوں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میقات کا ذکر کرتے ہوئے یہ عام بات فرمائی تھی : «فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ، فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْ مَكَّةَ» "جو لوگ میقات کے اندر ہوں، ان کے احرام کی جگہ(35) ان کا گھر ہے۔ یہاں تک کہ اہل مکہ بھی مکہ ہی سے احرام باندھیں گے"۔(36) (بخاری ومسلم)۔

لیکن جو لوگ حرم میں ہوں اور عمرہ کرنا چاہتے ہوں، ان پر واجب ہے کہ حل (حدود حرم کے باہر) جائیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئیں، اس لیے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، تو آپ ﷺ نے ان کے بھائی عبد الرحمن کو حکم فرمایا کہ وہ انھیں لے کر حل کی طرف جائیں اور وہاں سے احرام بندھوا کر لائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمرہ کرنے والا اپنا احرام حرم سے نہیں باندھ سکتا، بلکہ اس کو حِل میں جانا ہوگا۔

یہ حدیث عبد اللہ بن عباس کی پچھلی حدیث کی تخصیص اور وضاحت کر تی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث : «حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْ مَكَّةَ»، " مکہ والے مکہ سے ہی تلبیہ پکاریں گے۔"(37) عمرہ کے لیے نہیں، بلکہ حج کے لیے مخصوص تھا، کیوں کہ اگر عمرہ کا احرام حرم سے باندھنا جائز ہوتا، تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کی اجازت دے دی ہوتی اور انہیں حل کی طرف جانے کا حکم نہ فرماتے۔ یہ دراصل ایک کھلا ثبوت ہے، یہی جمہور علما کا قول بھی ہے اور مومن کے لیے سب سے زیادہ احتیاط کی بات بھی یہی ہے۔ کیوں کہ اس میں دونوں حدیثوں پر عمل ہوجاتا ہے۔ و باللہ التوفیق۔

جو لوگ حج کے بعد تنعیم یا جعرانہ وغیرہ سے بکثرت عمرہ کرتے ہیں، جب کہ حج سے پہلے عمرہ کر چکے ہوتے ہیں، تو اس کی مشروعیت کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ ایسا عمرہ نہ کرنا ہی افضل ہے، کیوں کہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب نے حج سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ نہیں کیا تھا۔ رہا تنعیم سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمرہ کرنا، تو وہ محض اس سبب سے تھا کہ جب وہ مکہ تشریف لائیں، تو اپنے ایام ماہواری کی بنا پر عمرہ نہیں کر سکی تھیں۔ اس لیے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی کہ انہیں اپنے اس عمرہ کے عوض، جس کے لیے میقات سے وہ احرام باندھ کر آئی تھیں، اب دوبارہ عمرہ کرنے کی اجازت دے دیں، تو نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ اس طرح ان کے دو عمرے ہو گئے۔ پہلا عمرہ تو ان کے حج کے ساتھ اور یہ ایک الگ عمرہ۔ لہذا جس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسا عذر درپیش ہو، اس کے لیے اجازت ہے کہ حج سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ کرے۔ اس طرح تمام دلائل پر عمل بھی ہوجائے گا اور مسلمانوں کے لیے وسعت اور آسانی بھی ہوگی۔

بلاشبہ حج سے فارغ ہونے کے بعد حجاج کا اس نئے عمرے میں مشغول ہونا سب کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس سے بھیڑ میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور حادثات بھی ہوتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کی مخالفت بھی ہوتی ہے۔ و باللہ التوفیق۔

فصل

موسم حج کے علاوہ دوسرے دنوں میں میقات پہنچنے والے کا حکم

معلوم ہونا چاہیے کہ میقات تک پہنچنے والوں کی دو حالت ہوتی ہے:

1- اگر حج کے مہینوں کے علاوہ مثلا رمضان یا شعبان میں پہنچے تو اسے چاہیے کہ عمرہ کی نیت سے احرام باندھے اور زبان سے اس طرح لبیک پکارے : "میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔" یا "اے اللہ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔" اس کے بعد نبی ﷺ کی طرح ان لفظوں میں لبیک پکارے : «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ». "میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک و ساجھی نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں، سبھی نعمتیں اور تمام بادشاہت تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک و ساجھی نہیں"۔(38) یہ تلبیہ اور ذکر الہی کثرت سے کرتے ہوئے بیت اللہ تک پہنچے، پھر بیت اللہ پہنچ کر تلبیہ بند کر دے اور بیت اللہ کا سات چکروں کے ساتھ طواف کرے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے، پھر صفا کی طرف جائے اور صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگائے، اس کے بعد اپنے سر کے بال منڈوائے یا چھوٹے کرائے۔ اس کے ساتھ ہی اس کا عمرہ پورا ہوگیا اور احرام کی وجہ سے جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں، حلال ہوگئیں۔

2- دوسری حالت یہ ہے کہ حاجی میقات پر حج کے مہینوں یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں پہنچے۔

ایسے شخص کو تین باتوں کا اختیار ہے : صرف حج، صرف عمرہ یا ایک ساتھ دونوں کی نیت کرے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر جب ذی قعدہ میں میقات پر پہنچے، تو اپنے اصحاب کو ان تینوں ہی طریقہ ہائے حج کا اختیار دیا تھا۔ لیکن جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو، اس کے لیے سنت یہ ہے کہ صرف عمرہ کا احرام باندھے اور سب ارکان ویسے ہی ادا کرے، جیسے غیر موسم حج میں عمرہ کرنے والا ادا کرتا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو، جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تھے، یہ حکم فرمایا تھا کہ اپنا احرام عمرہ کے لیے خاص کر لیں اور مکہ پہنچ کر انہیں مزید تاکید بھی فرمائی تھی۔ لہذا صحابۂ کرام نے طواف و سعی کی اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کی اتباع میں بال منڈوا کر حلال ہوگئے۔ رہے وہ لوگ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، تو آپ نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ یوم النحر تک اپنے احرام میں باقی رہیں۔ قربانی کا جانور ساتھ لانے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے، اس لیے کہ نبی ﷺ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لائے تھے، تو آپ نے ایسا ہی کیا تھا اور آپ کے اصحاب میں سے جو لوگ قربانی کا جانور لے آئے تھے اور عمرہ کا احرام باندھا تھا، ان کو حکم دیا تھا کہ عمرہ کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی شامل کر لیں اور دونوں سے قربانی کے دن ہی حلال ہوں۔ جو شخص قربانی کا جانور لایا ہو اور صرف حج کا احرام باندھا ہو، وہ بھی اپنے احرام میں باقی رہے اور قارن حاجی کی طرح یوم النحر ہی کو حلال ہو۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے صرف حج کا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا ہو اور اس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو، تو اس کے لیے اپنے احرام میں باقی رہنا مناسب نہیں ہے۔ اس کے حق میں سنت یہ ہے کہ اپنا احرام عمرہ کے لیے کر لے اور طواف وسعی اور بال کتروا کر حلال ہوجائے، جیسا کہ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو، جن کے پاس جانور نہیں تھے، ایسا ہی کرنے کا حکم دیا تھا۔ البتہ جو شخص بالکل آخر میں آیا ہو اور حج چھوٹ جانے کا خطرہ ہو، تو اس کے لیے اپنے سابقہ احرام میں باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے- واللہ اعلم

اگر محرم کو اپنی بیماری یا دشمن کے خوف کی وجہ سے حج ادا نہ کرپانے کا خوف ہو، تو اس کے لیے احرام باندھتے وقت ان الفاظ کو کہہ لینا مستحب ہے : "اگر کوئى روکنے والا مجھے روک دے، تو میرے حلال ہونے کى جگہ وہی ہے، جہاں مجھے روک دیا جائے"۔ کیوں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میں حج تو کرنا چاہتی ہوں، لیکن میں بیمار ہوں۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : «حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» "حج کرو اور یہ شرط لگا دو کہ میں وہیں حلال ہو جاؤں گی، جہاں کوئى روکنے والا مجھے روک دے گا"۔(39) متفق علیہ۔

اس شرط کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر محرم کو کسی بیماری یا دشمن کی رکاوٹ جیسا کوئی عارضہ پیش آجائے، جو اس کے لیے حج کی تکمیل سے مانع ہو، تو اس کے لیے حلال ہو جانا جائز ہے اور اس پر کوئی فدیہ نہیں ہوگا۔

فصل

کیا بچے کا حج اس کے واسطے فرض حج کی جگہ پر کافی ہوگا؟

چھوٹے بچے اور چھوٹی بچی کا حج صحیح ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ کی طرف ایک بچے کو پیش کرتے ہوئے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا : «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ». "ہاں! اور اجر تمھارے لیے ہے"۔(40)

جب کہ صحیح بخاری میں سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : "مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات برس کی عمر میں حج کرایا گیا"۔(41) لیکن یہ حج نفلی ہوگا اور فرض حج کے لیے کافی نہ ہوگا۔

یہی حال غلام اور لونڈی کا بھی ہے کہ ان کا حج تو صحیح ہوگا، لیکن فرض حج کے لیے کافی نہیں ہوگا، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : «أَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ، ثُمَّ بَلَغَ الحِنْثَ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ حَجَّةً أُخْرَى، وَأَيُّمَا عَبْدٍ حَجَّ، ثُمَّ أُعْتِقَ، فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى» "جو بچہ حج کرے پھر بالغ ہو تو اس پر واجب ہے کہ دوسرا حج کرے اور جو غلام حج کرے پھر آزاد کر دیا جائے تو اس پر واجب ہے کہ دوسرا حج کرے"۔(42) اسے ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اگر بچہ عقل وشعور نہیں رکھتا ہو، تو اس کا ولی اس کی طرف سے احرام کی نیت کرے گا اور اس کو احرام پہنا کر اس کی طرف سے لبیک کہے گا اور بچہ اس وقت محرم سمجھا جائے گا۔ جو چیزیں بڑے محرم کے لیے حرام ہیں، وہی اس کے لیے بھی حرام ہوں گی۔ اسی طرح وہ بچی جو عقل وشعور نہیں رکھتی، اس کا ولی اس کی طرف سے احرام کی نیت کرے گا، اس کی طرف سے لبیک پکارے گا اور وہ بچی محرم ہو جائے گی اور اس پر بھی وہ سب چیزیں حرام ہوں گی جو بڑی عورت پر حرام ہوتی ہیں۔ حالت طواف میں بدن اور کپڑے پاک وصاف ہونے چاہئیں، کیوں کہ طواف نماز ہی کی طرح ہے اور اس کى صحت کے لیے طہارت شرط ہے۔

اگر بچہ و بچی عقل وشعور والے ہوں تو اپنے ولی کی اجازت سے احرام باندھیں گے اور احرام کے وقت غسل وخوشبو وغیرہ سب کام ویسے ہی کریں گے جیسا بڑا محرم کرتا ہے۔ ان کا ولی ان کے کاموں کا نگراں اور ان کے مصالح کو پورا کرنے والا ہوگا۔ خواہ وہ ان کا باپ ہو یا ماں یا کوئی اور۔ جو کام کرنے سے یہ بچے عاجز رہیں، ان کو ان کا ولی کرے گا۔ مثلا کنکری مارنا وغیرہ۔ البتہ اس کے سوا سب کام ان کو خود کرنا ہوگا۔ جیسے عرفات کا وقوف، منی و مزدلفہ میں رات گزارنا اور طواف و سعی کرنا۔ لیکن اگر وہ طواف وسعی نہ کرسکتے ہوں تو انہیں اٹھا کر طواف و سعی کرایا جائے گا۔ اس صورت میں اٹھانے والے شخص کے لیے افضل یہ ہے کہ اپنا طواف و سعی اس کے ساتھ مل کر نہ کرے، بلکہ ان بچوں ہی کے لیے طواف و سعی کی نیت کرے اور اپنے لیے الگ دوبارہ طواف و سعی کرے۔ یہ محض اللہ کی عبادت وبندگی میں احتیاط اور رسول ﷺ کی اس حدیث پر عمل کی خاطر ہے : «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ». "جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو، جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"(43) لیکن اگر اٹھانے والا اپنے اور اٹھائے ہوئے بچے کے طواف و سعی کی بھی نیت کرلے، تو بھی اصح قول کے مطابق کافی ہوگا۔ اس لیے کہ نبی ﷺ نے اس عورت کو الگ سے طواف کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، جس نے اپنے بچے کے حج سے متعلق آپ سے پوچھا تھا۔ اگر یہ واجب ہوتا، تو نبی ﷺ ضرور بیان کر دیتے۔ و باللہ التوفیق۔

با شعور بچے اور بچی کو طواف شروع کرنے سے پہلے حدث و نجاست سے طہارت کی تاکید کی جائے گی، جیسا کہ بڑے محرم کے لیے ضروری ہے۔ چھوٹے بچے اور بچی کی طرف سے ان کے ولی پر احرام باندھنا ضروری نہیں، بلکہ صرف نفل ہے۔ اگر کرے تو باعث اجر وثواب ہے، ورنہ کوئی گناہ نہیں۔ واللہ اعلم۔

فصل

احرام کی ممنوع اور مباح چیزوں کا بیان

احرام کی نیت کے بعد محرم خواہ مرد ہو یا عورت، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے بال یا ناخن کاٹے یا خوشبو استعمال کرے۔

خاص طور پر مرد کے لیے ایسا کپڑا پہننا جائز نہيں ہے، جو اس کی پوری جسمانى ہیئت کے مطابق سلا گیا ہو جیسے قمیص، یا جو اس کے جسم کے بعض حصوں کے مطابق سلا گیا ہو جیسے بنیان ، پاجامہ، موزے اور جراب وغیرہ۔ ہاں! اگر تہبند نہ پائے تو پاجامہ پہن سکتا ہے۔ اسی طرح جس کو جوتے میسر نہ ہوں وہ چمڑے کے موزے پہن سکتا ہے اور انھیں کاٹنے کی ضرورت نہيں ہے، جیسا کہ صحیحین میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہےکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : «مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسِ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ». "جو شخص جوتے نہ پائے وہ چمڑے کے موزے پہن لے اور جو تہبند نہ پائے وہ پائجامہ پہن لے۔"(44)

رہی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث، جس میں بوقت حاجت چمڑے کے موزوں کو کاٹ کر پہننے کا حکم دیا گیا ہے، تو وہ منسوخ ہے۔ کیوں کہ نبی ﷺ سے جب مدینہ طیبہ میں پوچھا گیا کہ محرم کون سا کپڑا پہنے، تو اس وقت آپ ﷺ نے ایسا فرمایا تھا، لیکن جب عرفات میں آپ ﷺ نے خطبہ دیا تو جوتا نہ ہونے کے وقت چمڑے کے موزوں کو پہننے کى اجازت دی اور ان کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ اس خطبہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے، جنہوں نے آپ ﷺ کا مدینہ والا جواب نہیں سنا تھا اور بیان کو ضرورت کے وقت سے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ علم اصول حدیث اور اصول فقہ سے ثابت ہے۔ لہذا موزوں کے کاٹنے کا حکم منسوخ ہونا ثابت ہوا۔ اگر کاٹنا ضروری ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ضرور بیان فرما دیتے۔ واللہ اعلم۔

محرم کے لیے ایسے موزوں کا پہننا جائز ہے، جو ٹخنوں کے نیچے ہوں۔ اس لیے کہ وہ بھی جوتے ہی کی جنس سے ہیں۔

نیز محرم کے لیے ازار میں گرہ دینا اور اس کو دھاگے وغیرہ سے باندھنا بھی جائز ہے۔ کیوں کہ اس کے خلاف کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

اسی طرح محرم غسل کر سکتا ہے، اپنا سر دھو سکتا ہے اور آہستہ و نرمی سے سر بھی کھجلا سکتا ہے، اگر کھجلانے سے ایک آدھ بال گر جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

محرم عورت کے لیے چہرہ پر سلا ہوا کپڑا پہننا جیسے برقع ونقاب اور ہاتھوں پر دستانے وغیرہ کا استعمال حرام ہے، اس لیے کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے : «وَلَا تَنْتَقِبِ المَرْأَةُ المُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسِ القُفَّازَيْنِ» "عورت نہ نقاب لگائے، نہ دستانے پہنے"۔(45) (صحیح بخاری)۔ دستانہ اس کپڑے کو کہتے ہیں جو اون یا سوت وغیرہ سے ہاتھ کے برابر بُن کر یا سِل کر بنایا جاتا ہے۔

البتہ عورت کے لیے اس کے علاوہ دوسرے سلے ہوئے کپڑے جیسے قمیص، پاجامہ، موزہ اور جراب وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔

اسی طرح عورت کے لیے بوقت ضرورت چہرے پر بغیر پٹی کی اوڑھنی کا لٹکانا بھی جائز ہے۔ اگر اوڑھنی اس کے چہرے پر لگتی رہے، تو کوئی حرج نہيں ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے : "قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالت احرام میں ہی رہتی تھیں۔ جب لوگ ہمارے سامنے آتے تو عورتیں اپنے چہروں پر اوڑھنیاں لٹکا لیتیں اور جب وہ چلے جاتے تو ہٹا دیتیں"۔(46) اس حدیث کو ابوداود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اسى جیسی حدیث دارقطنی نے ام سلمہ سے روایت کیا ہے۔

اسی طرح عورت کے لیے کپڑے وغیرہ سے اپنے ہاتھوں کو ڈھانکنا بھی جائز ہے۔ جب اجنبی مرد موجود ہوں تو چہرے اور ہاتھوں کا ڈھانکنا واجب ہے، کیوں کہ اللہ کے اس ارشاد کے مطابق عورت کے پورے جسم کا پردہ ضروری ہے :

﴿...وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ...﴾

"اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے۔" [سورہ نور : 31]۔ بلا شبہ چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں زینت کے عظیم مقامات میں سے ہیں۔

چہرے کو ہتھیلی سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ...﴾

"جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے۔" [سورہ احزاب : 53]۔

اکثر عورتیں اوڑھنی کے نیچے جو پٹی لگاتی ہیں تاکہ اوڑھنی چہرے سے اٹھی رہے، تو ہمارے علم کی حد تک شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اگر یہ مشروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو ضرور بتا دیتے اور آپ کے لیے اس کے تعلق سے خاموشى اختیار کرنا جائز نہیں ہوتا۔

محرم عورتوں اور مردوں کے لیے گندہ ہو جانے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے احرام کے کپڑوں کو دھونا اور انھیں بدلنا بھی جائز ہے۔

محرم کے لیے کسی ایسے کپڑے کا پہننا جائز نہیں جس کو زعفران یا ورس (کمیلہ) لگا ہو، اس لیے کہ نبی ﷺ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس سے منع فرمایا ہے۔

محرم پر بیہودہ گوئی، فسق و فجور اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب واجب ہے، کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ...﴾

"حج کے مہینے مقرر ہیں، اس لیے جو شخص ان میں حج لازم کرلے، وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے..." [سورہ بقرہ : 197]۔

نبی ﷺ کی ایک صحیح حدیث میں ہے : «مَنْ حَجَّ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». "جو شخص حج کرے اور اس میں بے حیائی وفسق نہ کرے، تو اس دن کی طرح (پاک و صاف) ہوکر لوٹے گا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔"(47) یہاں کتاب وسنت میں وارد عربی لفظ "رفث" سے مراد جماع اور بیہودہ بات اور کام ہیں۔ "فسوق" عام گناہوں کو کہتے ہیں۔ "جدال" کا مطلب ہے: باطل یا بے فائدہ باتوں میں بحث ومباحثہ کرنا۔ لیکن وہ مباحثہ ونقاش جو حق کے اظہار اور باطل کے رد کے لیے اچھے طریقہ سے کیا جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ اس کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ...﴾

"اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجیے۔" [سورہ نحل : 125]۔

محرم مرد کے لیے سر سے سٹى ہوئى کسى چیز سے سر کا ڈھانکنا حرام ہے، جیسے ٹوپی، غترہ، یا عمامہ وغیرہ، اسی طرح چہرہ ڈھانکنا بھی حرام ہے، کیوں کہ عرفہ کے دن جب ایک صحابی اپنی سواری سے گر کر وفات پا گئے، تو ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ القِيَامَةِ مُلَبِّيًا» "اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور احرام والے دونوں کپڑوں میں اس کو کفنا دو اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانکو، کیوں کہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔"(48) متفق علیہ۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔

خیمہ یا درخت وغیرہ سے سایہ لینے کی طرح كار كی چھت یا چھتری وغیرہ سے سایہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جمرۃ العقبہ کی رمی کرتے وقت نبی کریم ﷺ پر کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا اور یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ مقام نمرہ میں آپ کے لیے ایک خیمہ نصب کیا گیا تھا، جس کے نیچے عرفہ کے دن آپ ﷺ آفتاب ڈھلنے تک قیام پذیر رہے۔

محرم مرد و عورت پر خشکی کے جانور کا شکار کرنا، اس میں مدد دینا، شکار کو اس کی جگہ سے بھگانا، نکاح کرنا، جماع کرنا، عورتوں کو شادی کا پیغام دینا اور شہوت کے ساتھ ان سے مباشرت کرنا سب حرام ہے، جیسا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : «لَا يَنْكِحُ المُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ» "محرم نہ نکاح کرے، نہ نکاح کرائے اور نہ شادی کا پیغام دے۔" اسے امام مسلم نے رویت کیا ہے۔(49) صحیح مسلم۔

اگر محرم غلطی یا جہالت کی وجہ سے سلے ہوئے کپڑے پہن لے یا سر ڈھانک لے، تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔ البتہ جیسے ہی یاد آجائے یا علم ہو جائے، تو اسے ہٹا دے۔ اسی طرح جو شخص بھول کر یا جہالت کی وجہ سے بال منڈوا لے، اپنے بال چھوٹے کروالے یا اپنے ناخن کاٹ لے، تو صحیح قول کے مطابق اس پر بھی کچھ نہیں ہے۔

مسلمان خواہ محرم ہو یا غیر محرم، مرد ہو یا عورت، اس کو حرم میں شکار کرنا اور اس کے قتل پر آلہ یا اشارہ وغیرہ سے مدد پہنچانا حرام ہے۔

اسی طرح شکار کو اس کی جگہ سے بھگانا حرام ہے۔ حرم کے درخت اور اس کے سبزہ زاروں کو کاٹنا حرام ہے۔ نیز اس کی پڑی ہوئی چیزوں کو اٹھانا حرام ہے۔ ہاں! اگر کوئی اس چیز کا اعلان کرنے کے لیے اٹھائے تو اجازت ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : «فَإِنَّ هَذَا البَلَدَ - يَعْنِي مَكَّةَ - حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا مَنْ عَرَفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» "یہ شہر یعنی مکہ اللہ کے حرام کرنے کى بنا پر قیامت تک حرام ہے۔ نہ اس کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا شکار بھڑکایا جائے، نہ اس کی گری پڑی چیز کو اعلان کرنے کا ارادہ رکھنے والے کے علاوہ کوئی اور اٹھائے اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے "۔(50) متفق علیہ۔

عربی میںُنشِد" کہتے ہیں : گم شدہ چیز کے اعلان کرنے والے کو، جب کہ "خلا" کہتے ہیں تازہ گھاس کو۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ منی اور مزدلفہ حرم میں داخل ہیں اور عرفہ حِل میں (حدود حرم سے باہر) واقع ہے۔

 


فصل

مکہ میں آنے کے بعد حاجی کیا کرے اور مسجد حرام میں داخل ہونے کے بعد طواف کیسے کرے؟

حاجی جب مکہ پہنچ جائے، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرلے۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔ جب مسجد حرام پہنچے تو مسنون ہے کہ اپنا داہنا پاؤں پہلے داخل کرے اور یہ دعا پڑھے : "بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، أَعُوذُ بِاللهِ العَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اللہ کے نام سے مسجد میں داخل ہوتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم قوت وشوکت کے ذریعہ شیطان مردود سے پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔ یہی دعا دیگر مسجدوں میں داخل ہونے کے وقت بھی پڑھے۔ مسجد حرام میں داخلہ کے لیے جہاں تک میں جانتا ہوں رسول اللہ ﷺ سے کوئی خاص دعا ثابت نہیں ہے۔

حاجی جب کعبہ کے پاس پہنچے، تو اگر تمتع یا عمرہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو طواف شروع کرنے سے پہلے لبیک کہنا بند کردے۔ پہلے حجر اسود کے سامنے آئے، اس کو داہنے ہاتھ سے چھوئے اور اگر ممکن ہو تو بوسہ دے۔ لیکن کسی کو دھکا دے کر تکلیف نہ پہنچائے۔ چھوتے وقت "بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ" "اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے" یا صرف "اللهُ أَكْبَرُ" "اللہ سب سے بڑا ہے" کہے۔ اگر بوسہ مشکل ہو تو ہاتھ یا چھڑی یا اسى طرح کى کسى اور چیز سے سے حجر اسود کو چھوئے، پھر جس سے چھوا ہے اسے بوسہ دے۔ اگر ایسا کرنا بھی مشکل ہو، تو "اللهُ أَكْبَرُ" کہہ کر حجر اسود کى طرف اشارہ ہی کر لے۔ لیکن جس چیز سے اشارہ کرے، اس کو بوسہ نہ دے۔ طواف صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ طواف کرنے والا چھوٹى ناپاکی اور بڑى ناپاکی سے پاک ہو، کیوں کہ طواف بھی نماز کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ طواف میں بات کرنے کی اجازت ہے۔ طواف کی حالت میں بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب کرے۔ اگر طواف کے شروع میں یہ دعا پڑھ لے تو بہتر ہے: "اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ، وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ، وَوَفَاءً بِعَهْدِكَ، وَاتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ" "اے اللہ! تجھ پر ایمان لاکر اور تیری کتاب کی تصدیق کرکے اور تیرے عہد کی وفا کرکے اور تیرے نبی محمد ﷺ کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے (طواف کرتا ہوں)"۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ سے ایسا کرنا ثابت ہے۔ طواف کے سات چکر لگائے۔ پہلے تین چکر میں رمل کرے۔ یہ اس طواف میں کرے، جو مکہ آتے ہی سب سے پہلے کرتا ہے۔ خواہ یہ طواف عمرہ کا ہو، حج تمتع کا ہو، حج قران کا یا حج افراد کا۔ بقیہ چار چکروں میں معمول کی رفتار سے چلے۔ ہر چکر حجر اسود سے شروع کر کے اسی پر ختم کرے۔

"رمل" کہتے ہیں چھوٹے چھوٹے قدم کے ساتھ تیز چلنے کو۔ اس پورے طواف میں اضطباع کرنا مستحب ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے طواف میں نہیں۔ اضطباع یہ ہے کہ اپنی چادر کے درمیانی حصے کو دائیں کندھے کے نیچے سے گزارے اور دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال دے۔

اگر طواف کے چکروں کی تعداد کے بارے میں شک ہو جائے، تو یقین پر یعنی کم تعداد پر بنیاد رکھے۔ یعنی اگر شک ہو جائے کہ تین چکر کیے ہیں یا چار، تو تین ہی سمجھے۔ اسی طرح سعی میں بھی کرے۔

جب طواف سے فارغ ہوجائے تو طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے سے پہلے اپنی چادر اوڑھ لے۔ چادر کو اپنے دونوں کندھوں پر رکھ لے اور چادر کے کناروں کو سینے پر لٹکالے۔

عورتوں کے لیے جس چیز سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنا ضروری ہے وہ ہے ان کا زینت اور مہکنے والی خوشبوؤں کو لگا کر بے پردگی کے ساتھ طواف کرنا۔ ان پر طواف کی حالت میں اور ديگر تمام حالات میں، جہاں مرد و زن کا اختلاط ہو، پردہ کرنا اور زینت سے پرہیز کرنا واجب ہے۔ اس لیے کہ عورتیں مکمل پردہ و فتنہ ہیں اور عورت کا چہرہ اس کی سب سے نمایاں زینت ہے۔ لہذا محرم کے سوا کسی کے سامنے اسے کھولنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ...﴾

"اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے"۔ [سورہ نور : 31]۔ لہذا حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت اگر ان کو مرد دیکھ رہے ہوں، تو ان کا چہرہ کھولنا جائز نہیں ہے۔ اگر حجر اسود کو چھونے اور بوسہ دینے کی گنجائش میسر نہ ہو، تو مردوں کے ساتھ مزاحمت و کشمکش کرنا بھی ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ اس وقت ان کو چاہیے کہ مردوں کے پیچھے ہو کر طواف کریں۔ یہ ان کے لیے مردوں سے مزاحمت کی صورت میں بیت اللہ کے قریب طواف کرنے سے زیادہ بہتر اور زیادہ ثواب کا کام ہے۔ طوافِ قدوم کے سوا کسی اور طواف میں رمل اور اضطباع مشروع نہیں ہیں۔ سعی میں بھی مشروع نہیں ہیں۔ عورتوں کے حق میں بھی رمل اور اضطباع مشروع نہيں ہیں۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے رمل و اضطباع صرف اپنے اس پہلے طواف میں کیا تھا، جو مکہ تشریف لانے کے بعد کیا تھا۔ محرم کو طواف کی حالت میں ہر طرح کی ناپاکیوں اور گندگیوں سے پاک رہنا چاہیے اور اپنے رب کے سامنے جھکا ہوا اور متواضع رہنا چاہیے۔

اس دوران کثرت سے اللہ کا ذکر اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔ اگر طواف میں قرآن بھی پڑھتا رہے تو اور بہتر ہے۔ اس طواف و سعی میں اور اس کے علاوہ کسی بھی طواف و سعی میں کسی مخصوص ذکر و دعا کا پڑھنا واجب نہیں۔

جن لوگوں نے طواف و سعی کے ہر چکر کے لیے ایک ایک مخصوص دعا ایجاد کر لی ہے، ان کے اس عمل کی کوئی اصل نہیں ہے۔ جو بھی ذکر و دعا میسر ہو اسے پڑھ لینا کافی ہے۔ جب رکن یمانی کے مقابل آئے، تو "بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ" کہہ کر اپنے داہنے ہاتھ سے اس کو چھولے، لیکن اس کو بوسہ نہ دے۔ اگر رکن یمانی کا چھونا مشکل ہو، تو اس کو چھوڑ کر طواف کرتا رہے۔ رکن یمانی کی طرف نہ اشارہ کرے اور نہ اس کے سامنے آکر تکبیر کہے۔ اس لیے کہ ہمارے علم کی حد تک یہ بھی نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مستحب ہے :

﴿...رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 201﴾

"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔" [سورہ بقرہ : 201]۔

جب جب حجر اسود کے سامنے آئے، تو اس کو چھوئے، بوسہ دے اور اللہ اکبر کہے۔ اگر چھونا اور بوسہ دینا آسان نہ ہو، تو جب بھی سامنے آئے، اس کی طرف اشارہ کرے اور اللہ اکبر کہے۔

زمزم اور مقام ابراہیم کے پیچھے سے طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بھیڑ کے وقت تو خاص طور پر پوری مسجد حرام طواف کی جگہ ہے۔ اگر مسجد کے صحنوں میں طواف کر لیا جائے تب بھی کافی ہے۔ لیکن کعبہ کے قریب طواف افضل ہے، بشرطیکہ آسان ہو۔

طواف سے فارغ ہوکر اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے۔ اگر بھیڑ وغیرہ کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو مسجد کے کسی بھی حصہ میں پڑھ لے۔ ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد :

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ1﴾

’’آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو!‘‘ [سورہ كافرون : 1]۔ پہلی رکعت میں، اور

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1﴾

"آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے۔" [سورہ اخلاص : 1]۔ دوسری رکعت میں پڑھے۔ افضل یہی ہے۔ لیکن اگر دوسری سورتیں پڑھ لے، تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ طواف کے بعد حجر اسود کا رخ کرے اور اگر ممکن ہو تو نبی کریم ﷺ کی اقتدا کرتے ہوئے اس کو داہنے ہاتھ سے چھوئے۔

پھر باب صفا سے نکل کر صفا پہاڑی کی طرف جائے اور اس پر چڑھ جائے یا اس کے پاس کھڑا ہو جائے۔ اگر میسر ہو تو صفا پر چڑھنا افضل ہے۔ پہلا چکر شروع کرتے وقت یہ آیت کریمہ پڑھے :

﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ...﴾

"صفا اور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں..." [سورہ بقرہ : 158]۔

صفا پر قبلہ رو ہوکر اللہ کی حمد و ثنا کرنا، بڑائی بیان کرنا اور یہ الفاظ کہنا مستحب ہے : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ"، "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا تمام جماعتوں کو شکست دی۔" اس کے بعد دونوں ہاتھ اٹھا کر جس قدر بھی دعا کر سکتا ہو کرے۔ یہ ذکر اور دعائیں تین تین مرتبہ پڑھے۔ پھر اتر کر مروہ کی طرف چلے۔ جب پہلے سبز نشان پر پہنچے، تو مرد حضرات دوسرے نشان تک تیز تیز چلیں۔ لیکن عورت ان دونوں نشانوں کے درمیان تیز نہ چلے۔ کیوں کہ اسے پورے جسم کا پردہ کرنا ہے۔ اس کے لیے پوری سعی میں صرف چلنا مشروع ہے۔ پھر چل کر مروہ پر چڑھے یا مروہ کے پاس کھڑا ہوجائے۔ اگر ممکن ہو تو چڑھنا افضل ہے۔ مروہ پر بھی وہی دعا کرے، جو صفا پر کی تھی۔ البتہ یہ آیت کریمہ نہ پڑھے :

﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ...﴾

"صفا اور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں..." [سورہ بقرہ : 158]۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں اسے صرف پہلے چکر میں صفا پر چڑھتے وقت پڑھنا مشروع ہے۔ پھر اتر کر چلنے کی جگہ چلے اور دوڑنے کی جگہ دوڑے، یہاں تک کہ صفا تک پہنچ جائے۔ ایسا سات مرتبہ کرے۔ جانا ایک بار ہے اور لوٹنا ایک بار ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے: «خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ». "مجھ سے اپنے حج کے مسائل سیکھ لو۔"(51) سعی میں جہاں تک ممکن ہو ذکر و دعا کثرت سے کرنا چاہیے اور حدث و نجاست سے پاک رہنا چاہیے۔ لیکن اگر بغیر وضو کے سعی کرلے، تو کافی ہے۔ اسی طرح اگر طواف کے بعد عورت کو حیض یا نفاس آ جائے اور وہ سعی کرے تو اس کی سعی ہوجائے گی۔ اس لیے کہ سعی میں طہارت شرط نہیں بلکہ مستحب ہے، جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔

جب سعی پوری کر لے، تو اپنے بال منڈوا لے یا چھوٹے کروا لے۔ مرد کے لیے بال منڈوانا افضل ہے۔ لیکن اگر عمرہ میں قصر کر لے اور حلق حج کے لیے چھوڑ دے، تو بہتر ہے۔ اگر کسی کا مکہ آنا حج کے وقت سے قریب ہو، تو اس کے حق میں بال چھوٹے کرانا افضل ہے، تاکہ حج میں بقیہ بال منڈ والے۔ اس لیے کہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب جب 4 ذی الحجہ کو مکہ آئے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو، جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے، حکم دیا کہ وہ حلال ہو جائیں اور بال چھوٹے کرا لیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بال منڈوانے کا حکم نہیں دیا تھا۔ بال چھوٹے کرانے کی صورت میں پورے سر کے بال چھوٹے کرانا ضروری ہے۔ سر کے بعض حصے کے بال چھوٹے کرانا کافی نہیں ہے۔ اسی طرح سر کے بعض حصے کا منڈوانا بھی کافی نہیں ہے۔ عورت کے لیے صرف بال چھوٹے کرانا ہی مشروع ہے۔ اس کو چاہیے کہ اپنی چوٹی سے انگلی کے پور کے برابر یا اس سے کم بال کاٹ لے۔ پور انگلی کے سرے کو کہتے ہیں۔ عورت اس سے زیادہ بال نہ کاٹے۔

جب محرم مذکورہ کام کر لے، تو الحمد للہ اس کا عمرہ پورا ہوگیا اور اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہوگئی، جو احرام کی وجہ سے حرام ہوئی تھی۔ البتہ جو شخص قربانی کا جانور اپنے ساتھ حدود حرم کے باہر سے لایا ہو، وہ اپنے احرام میں باقی رہے گا اور حج و عمرہ دونوں کرکے حلال ہوگا۔

جس شخص نے صرف حج یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا ہو، اس کے لیے مسنون یہ ہے کہ اپنا احرام عمرہ میں بدل لے اور وہی کچھ کرے جو حج تمتع کرنے والا کرتا ہے۔ ہاں! اگر جانور ساتھ لایا ہو، تب نہیں۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب کو یہی حکم دیا تھا اور فرمایا تھا : «لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ مَعَكُمْ». "اگر میں جانور نہ لایا ہوتا، تو تمہارے ساتھ حلال ہو جاتا۔"(52)

اگر عورت عمرہ کے احرام کے بعد حیض یا نفاس سے دوچار ہو جائے، تو پاک ہونے تک نہ بیت اللہ کا طواف کرے، نہ صفا ومروہ کی سعی کرے۔ جب پاک ہو جائے، تو طواف و سعی کرے اور بال بھی چھوٹے کروائے۔ اس سے اس کا عمرہ پورا ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ ترویہ کے دن (آٹھویں ذی الحجہ) سے پہلے پاک نہ ہو سکے، تو جہاں ٹھہری ہوئی ہے، وہیں سے حج کا احرام باندھ لے اور سب لوگوں کے ساتھ منی چلی جائے۔ اس طرح وہ قارنہ ہو جائے گی اور عرفات اور مشعر حرام کے وقوف، کنکری مارنے، مزدلفہ ومنی میں رات گزارنے، قربانی کا جانور ذبح کرنے اور بال چھوٹے کرنے میں ویسا ہی کرے گی، جیسا سب حاجی کرتے ہیں۔ جب پاک ہو جائے، تو بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا و مروہ کی ایک سعی کرلے۔ یہ اس کے حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے کافی ہوگا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مطابق کہ ان کو عمرہ کے احرام کے بعد حیض آیا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : «افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي» "حاجی جو کچھ کرتے ہیں تم بھی کرو۔ صرف اس بات کا دھیان رہے کہ پاک ہو جانے تک بیت اللہ کا طواف نہيں کرنا ۔"(53) متفق علیہ۔

جب حائضہ اور نفاس والی عورت قربانی کے دن کنکری مارلے اور اپنے بال چھوٹے کرالے، تو اس کے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی، جو احرام کی وجہ سے حرام تھیں۔ جیسے خوشبو لگانا وغیرہ۔ لیکن شوہر حلال نہیں ہوگا۔ جب دوسری پاک عورتوں کی طرح وہ بھی اپنا حج پورا کر لے اور پاک ہونے کے بعد طواف و سعی کرلے تو اس کے لیے اس کا شوہر بھی حلال ہوجائے گا۔

 


فصل

آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کر منى جانے کا بیان

جب ترویہ کا دین یعنی آٹھواں ذی الحجہ آئے، تو جو لوگ عمرہ سے حلال ہو کر مکہ میں مقیم ہوں اور اہل مکہ میں سے جو لوگ حج کا ارادہ رکھتے ہوں، وہ اپنے گھروں سے حج کا احرام باندھیں۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب مقام ابطح میں مقیم تھے اور آپ کے حکم سے انھوں نے ترویہ کے دن اپنی قیام گاہ ہی سے حج کا احرام باندھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ بیت اللہ جائیں اور اس کے پاس سے یا میزاب کے پاس سے احرام باندھیں۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان کو منی جانے کے وقت طواف وداع کا بھی حکم نہیں دیا تھا۔ اگر یہ مشروع ہوتا، تو آپ ﷺ صحابہ کو ضرور بتلاتے۔ یاد رکھیں کہ ساری بھلائی نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی اتباع میں ہے۔

حج کے احرام کے وقت غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا اور صاف وستھرا ہونا مستحب ہے، جیسے میقات کے پاس احرام باندھتے وقت کیا جاتا ہے۔ ترویہ کے دن حج کا احرام باندھنے کے بعد زوال سے پہلے یا زوال کے بعد منی جانا مسنون ہے۔ جمرۃ العقبہ کی رمی کرنے تک کثرت سے لبیک پکارنا چاہیے۔ حجاج ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر منی ہی میں پڑھیں گے۔ سنت یہ ہے کہ ہر نماز اپنے وقت پر بغیر جمع کیے ہوئے قصر پڑھی جائے۔ لیکن، مغرب اور فجر میں قصر نہیں کیا جائے گا۔

اس میں اہل مکہ اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ اور دوسروں کو منى، عرفہ اور مزدلفہ میں قصر ہی نماز پڑھائی تھی۔ مکہ والوں کو پوری نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اگر یہ واجب ہوتا، تو آپ ﷺ ان کو اس کا حکم ضرور دے دیتے۔

عرفہ کے دن آفتاب نکلنے کے بعد حاجی منی سے عرفہ کی طرف جائیں گے۔ مسنون یہ ہے کہ لوگ زوال تک مقام نمرہ میں ٹھہرے رہیں، بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہو، تاکہ رسول اللہ ﷺ کے عمل کی اقتدا ہو جائے۔

آفتاب ڈھلنے کے بعد امام یا اس کا نائب لوگوں کو ایسا مناسب حال خطبہ دے، جس میں اس دن اور اس کے بعد والے دن کے لیے ان باتوں کا ذکر ہو، جو حاجی کے لیے مشروع ہیں۔ خطیب لوگوں کو تقوی، توحید الہی اور اخلاص فی العمل کی تاکید کرے، انہیں حرام باتوں سے ڈرائے، کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کو مضبوط پکڑنے کی وصیت کرے اور قرآن وحدیث کو اپنے تمام کاموں میں فیصلہ کن بنانے کی ترغیب دے، تاکہ ان تمام باتوں میں رسول اللہ ﷺ کی اقتدا ہو۔ خطبہ کے بعد لوگ ظہر وعصر اول وقت میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے عمل کے مطابق قصر کے ساتھ اور جمع کرکے پڑھیں۔ اس عمل کو امام مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اس کے بعد لوگ مقام عرفہ میں وقوف کریں۔ وادى عرنہ کے نشيب کے علاوہ پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے۔ اگر میسر ہو تو قبلہ اور جبل رحمت کو سامنے رکھنا مستحب ہے۔ اگر دونوں کو سامنے رکھنا میسر نہ ہو، تو قبلہ کو سامنے رکھ لے، گرچہ جبل رحمت سامنے نہ ہو۔ یہاں وقوف کرتے ہوئے حاجی کے لیے مستحب ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرے، اس سے دعا کرے اور اس کے سامنے خوب گریہ و زاری کرے۔ دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھائے۔ اگر لبیک پکارتا رہے اور قرآن بھی پڑھتا رہے، تو اور بھی بہتر ہے۔ اس دوران بکثرت یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" "اللہ کے علاوہ کوئى معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئى شریک نہیں ہے، بادشاہت اسى کى ہے اور اسى کی تمام تعریف ہے، وہى زندگى اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»، "سب سے اچھی دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور سب سے اچھی دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیا نے کی ہے، یہ ہے : "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی حمد ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔(54) اور رسول اللہ ﷺ کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: «أَحَبُّ الكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ». "چار کلمے اللہ کو سب سے زیادہ پیارے ہیں: "میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، ساری تعریف اللہ کی ہے، اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔"(55)

اس دعا کو خشوع و خضوع اور حضور قلب کے ساتھ کثرت سے بار بار پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح شریعت میں وارد ہر وقت پڑھے جانے والے ديگر اذکار اور دعاؤں کو بھی کثرت سے پڑھے۔ خصوصیت سے اس جگہ اور اس عظیم دن میں۔ بطو رخاص جامع اذکار اور دعاؤں کو منتخب کرے۔ مثلا :

سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ، "میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی تعریف کے ساتھ۔ میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، جو بہت بڑا ہے۔"

﴿...لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ 87﴾

"الٰہی! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا تھا۔" [ سورہ انبياء : 87 ]۔

لَا إِلَـهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَـهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ.

"اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ ہم سب اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔ ساری نعمتیں اسی کی عطا کی ہوئی ہیں۔ اسی کا فضل و احسان ہے۔ اسی کی اچھی تعریف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ ہم اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں، خواہ کافروں کو پسند نہ ہو۔"

‎* لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔"(56)

* ﴿...رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 201﴾

* "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔"[سورہ بقرہ : 201]۔

* اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِيَ الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَالمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ. "اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو سدھار دے، جس کے ذریعہ میرے تمام معاملات درست رہتے ہیں، اور میرے لیے میری دنیا کو سدھار دے، جس میں میری روزی ہے، اور میرے لیے میری آخرت کو سدھار دے، جس میں مجھے لوٹ کر جانا ہے، اور میری زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا باعث بنادے، اور موت کو میرے لیے ہر برائی سے راحت کا سبب بنادے"۔(57)

* أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ البَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ القَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ.  "میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی، آزمائش کی سختی سے، نحوست کا سامنا ہونے سے، برے فیصلہ سے اور دشمنوں کے ہنسنے سے"۔(58)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ وَالكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ وَالبُخْلِ، وَمِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ.  "اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر وغم سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی وسستی سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی و بخل سے، گناہ و قرض سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبہ اور لوگوں کے دباؤ سے۔"(59)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ البَرَصِ وَالجُنُونِ وَالجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ.  "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفید داغ، جنون، کوڑھ اور بری بیماریوں سے۔"(60)

*"اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں درگزر کا اور دنیا و آخرت میں عافیت کا"۔

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَفْوَ وَالعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ.

"اے اللہ ! میں تجھ سے درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں اپنے دین ودنیا کے بارے میں"۔

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَفْوَ وَالعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي. "اے اللہ ! میں تجھ سے درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں اپنے دین و دنیا اور اہل و مال کے بارے میں"۔

* اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي. "اے اللہ! میرے عیوب کو چھپا دے، مجھے خوف سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت کر میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے اورمیرے اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں نیچے سے اچک لیا جاؤں"۔(61)

* اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلَّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ المُقَدِّمُ وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.  "اے اللہ! جو کام میں نے سنجیدگی سے کیا اور جو مذاق میں ہوگیا، جو بھول کر کر گزرا اور جو جان بوجھ کر کیا، اُن سب کو معاف فرما۔ دراصل يہ سب کچھ مجھ سے سرزد ہوا ہے۔ اے اللہ! معاف کردے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور بعد میں کیا اور جو کچھ خفیہ کیا اور جو کچھ اعلانیہ کیا اور جس کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔"(62)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ وَالعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ عَلَّامُ الغُيُوبِ.  "اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں معاملہ میں ثابت قدمی کا اور ہدایت پر عزیمت کا، تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری نعمت پر شکر کا اور تیری عبادت اچھی طرح کرنے کا، تجھ سے سوال کرتا ہوں قلب سلیم کا اور سچی زبان کا، تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بھلائی کا جس کو تو جانتا ہے اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس کو تو جانتا ہے۔ ساتھ ہی مغفرت چاہتا ہوں تجھ سے اس برائی کی جس کو تو جانتا ہے۔ بے شک تو ہی غیب جاننے والا ہے"۔(63)

* اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا.  "اے اللہ! نبی محمد علیہ الصلاۃ والسلام کے رب! میرے گناہ بخش دے اور میرے دل کے غصہ کو دور کردے اور گمراہ کن فتنوں سے مجھے بچا جب تک تو مجھ کو زندہ رکھے"۔(64)

* اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ البَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الفَقْرِ.  "اے اللہ! آسمانوں کے رب، زمین کے رب اور عظیم عرش کے رب! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! دانا اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! تورات، انجیل اور فرقان (قرآن) کو اتارنے والے! میں ہر اس چیز کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ! تو پہلا ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے۔ تو آخری ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے۔ تو اوپر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہمارے قرض کو اتار دے اور ہمیں فقر سے بچا لے۔"(65)

* اللَّهُمَّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ وَالكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ وَالهَرَمِ وَالبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ.  "اے اللہ! میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا کر اور اس کو پاک کردے۔ توہی سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی اور مولى ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزى اور سستی سے، تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی، انتہائى بڑھاپے اور بخیلی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے"۔(66)

* اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ أَنْ تُضِلَّنِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ.  "اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار ہوا، تیری ذات پر ایمان لایا، تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوا اور تیرے سہارے لڑا۔ میں پناہ چاہتا ہوں تیری عزت کی کہ تو مجھے گمراہ کرے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ تو ایسا زندہ ہے جس کو موت آنے والى نہیں ہے، جب کہ جن و انس مرجائیں گے"۔(67)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا.  "اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو تیرے لیے عاجزى وفروتنی اختیار نہ کرے، اس نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ کی جائے"۔(68)

* اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ وَالأَدْوَاءِ.  "اے اللہ! مجھ کو برے اخلاق، برے اعمال، بری خواہشات اور برى بیماریوں سے بچا"۔(69)

* اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي.  "اے اللہ! مجھے راہ ہدایت سجھا دے اور مجھے میرے نفس کے شر سے بچا"۔(70)

* اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

 ’’اے اللہ ! تو مجھے اپنے حلال کردہ چیزوں کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘(71)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الهُدَى وَالتُّقَى وَالعَفَافَ وَالغِنَى.  "اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔"(72)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الهُدَى وَالسَّدَادَ.  "اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ہدایت کا اور درستگى کا"۔(73)

* اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ ﷺ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا.  ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم اور دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طلب گار ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی محمد ﷺ نے طلب کی ہے اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طلب گار ہوں اور ہر اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور ہر اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے۔ میں تجھ سے یہ بھی مانگتا ہوں کہ میرے حق میں لیے گئے اپنے ہر فیصلے کو بہتر کر دے“۔(74)

* لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العَلِيِّ العَظِيمِ.  "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کى پاکى بیان کرتا ہوں۔ سب تعریف اللہ کی ہے۔ اللہ کے سوا کوئى معبود برحق نہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ برائى سے پھرنے اور نیکى کرنے کی طاقت اللہ بلند و برتر اور عظمت والے کى مدد کے بغیر نہیں ہے۔"۔(75)

* اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. "اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آل محمد پر، جس طرح تو نے برکت نازل کی ابراہیم اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے"۔(76)

* ﴿...رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْاخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 201﴾

"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔"[سورہ بقرہ : 201]۔

عرفات کے اس عظیم موقع پر حاجی کو چاہیے کہ مذکورہ بالا اذکار اور دعاؤں اور اس مفہوم کی دوسری دعاؤں اور اذکار کو بار بار پڑھے اور نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود بھیجے، دعا میں آہ وزاری کرے اور اللہ تعالی سے دنیا وآخرت کی بھلائیاں مانگے۔ نبی کریم ﷺ جب دعا مانگتے تو دعا کے الفاظ کو تین تین بار دہراتے تھے، لہذا رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کرتے ہوئے ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔

عرفات کے اس میدان میں مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اس کے سامنے عاجزی وگریہ زاری کریں، اس کی بارگاہ میں جھکیں، اس کے سامنے انکساری کریں، اس کی رحمت ومغفرت کی امید رکھیں، اس کے عذاب وناراضگی سے ڈریں، اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور خالص توبہ کرتے رہیں۔ اس لیے کہ یہ بڑی عظمت اور بڑے اجتماع کا دن ہے۔ اس دن اللہ تعالی اپنے بندوں پر سخاوت کرتا ہے اور ان پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے اور اس دن کثرت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔

صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ المَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟». "عرفہ سے زیادہ کسی اور دن اللہ تعالی اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا اور وہ اس دن بندوں سے قریب ہوتا ہے اور ان پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟"(77)

لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کو اپنی طرف سے بھلائی دکھائیں، اپنے دشمن شیطان کو ذلیل کریں اور کثرت سے ذکر ودعا اور تمام گناہوں سے استغفار و توبہ کر کے شیطان کو مغموم کریں۔ آفتاب غروب ہونے تک حجاج برابر ذکر و دعا اور آہ و زاری میں مشغول رہیں۔ جب آفتاب غروب ہوجائے تو سکون اور وقار کے ساتھ مزدلفہ کی طرف لوٹیں، کثرت سے لبیک پکاریں اور جہاں راستہ کھلا ملے نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں وہاں ذرا تیز چلیں۔ عرفات سے آفتاب غروب ہونے سے پہلے واپس آنا جائز نہیں۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ آفتاب غروب ہونے تک وہیں ٹھہرے رہے اور آپ ﷺ نے فرمایا: «خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ». ’’مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو۔‘‘(78)۔

جب مزدلفہ پہنچ جائیں تو فورا پہلے تین رکعات مغرب کی اور دو رکعات عشا کی ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرکے پڑھیں، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔ مزدلفہ میں مغرب کے وقت پہنچیں یا عشا کے وقت، نماز کی ترتیب یہی ہونی چاہیے۔

جو لوگ مزدلفہ پہنچتے ہی نماز سے پہلے کنکریاں چننے لگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی مشروع ہے تو ایسا کرنا بالکل غلط ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مشعر حرام سے منى واپسی پر کنکری چننے کا حکم دیا تھا۔ کنکریاں جس جگہ سے بھی چن لی جائیں کافی ہیں۔ مزدلفہ ہی سے چننے کو خاص نہ کیا جائے، بلکہ منى سے بھی چننا جائز ہے۔ آج کے دن نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں صرف جمرہ عقبہ کو رمی کرنے کے لیے سات کنکریاں چننا سنت ہے۔ بقیہ تین دن منی ہی سے ہر روز اکیس کنکریاں چنی جائیں اور تینوں جمرات کو ماری جائیں۔

کنکریوں کو دھونا مستحب نہیں ہے۔ بغیر دھوئے ہی مارنا چاہیے۔ کیوں کہ کنکریوں کو دھونا نہ تو نبی ﷺ سے ثابت ہے، نہ آپ کے اصحاب سے۔ البتہ ان کنکریوں سے رمى نہیں کرنا چاہیے، جن سے رمى کى جا چکى ہو۔

حاجی کو آج کی رات مزدلفہ ہی میں گزارنی ہوگی۔ البتہ کمزور لوگوں، جیسے عورتوں اور بچوں وغیرہ کو، اگر اخیر رات میں منى بھیج دیں، تو عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے۔ لیکن ان کے علاوہ دوسرے حجاج کے لیے ضروری ہے کہ نماز فجر پڑھنے تک مزدلفہ ہی میں مقیم رہیں۔ نماز فجر کے بعد قبلہ کو سامنے کر کے مشعر حرام کے سامنے کھڑے ہوں اور کثرت سے ذکر الہی اور تکبیر اور دعا کریں، یہاں تک کہ صبح خوب روشن ہو جائے۔ دعا کے دوران ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔ مشعر حرام کے قریب کھڑے ہونا یا اس پر چڑھنا کوئی ضروری نہیں ہے، بلکہ جہاں کہیں کھڑے ہو جائیں کافی ہے، اس لیے کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے : «وَقَفْتُ هَاهُنَا - يَعْنِي عَلَى المَشْعَرِ الحَرَامِ - وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ» "میں نے یہاں -یعنی مشعر حرام میں- وقوف کیا ہے اور پورا مزدلفہ وقوف کرنے کی جگہ ہے"۔(79) اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ اس حدیث میں وارد عربی لفظ ”جمع“ سے مراد مزدلفہ ہے۔

جب صبح خوب روشن ہوجائے تو آفتاب نکلنے سے پہلے منی کی طرف کوچ کر جائیں اور چلتے ہوئے کثرت سے لبیک پکاریں۔ جب وادی محسر آجائے تو ذرا تیز چلیں۔

منی پہنچ کر جمرہ عقبہ کے پاس لبیک کہنا بند کردیں۔ وہاں پہنچتے ہی اس جمرہ کو پے درپے سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے وقت ہاتھ اٹھائیں اور اللہ اکبر کہیں۔ مستحب یہ ہے کہ کنکری مارتے وقت کعبہ کو اپنی بائیں جانب اور منی کو دائیں جانب کر کے وادی کے اندر سے کنکری ماریں۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔ اگر دوسری جانب سے بھی مار دے اور کنکری رمی کی جگہ میں گر جائے، تو یہ بھی کافی ہے۔ کنکری کا اس جگہ پر باقی رہنا شرط نہیں ہے، بلکہ شرط یہ ہے کہ وہاں گر جائے۔ اگر لگ کر نکل جائے تو اہل علم کے مشہور قول کے مطابق کافی ہے۔ اس کی وضاحت نووی نے بھی شرح المہذب میں کی ہے۔ جمرات کے لیے کنکریاں، انگوٹھے اور انگشت شہادت کے بیچ رکھ کر پھینکى جانے والى ان کنکریوں کے برابر ہونی چاہئیں، جو چنے سے کچھ بڑی ہوتی ہیں۔

کنکری مارنے کے بعد قربانی کا جانور ذبح کرے۔ ذبح کرتے وقت "اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے۔" کہنا چاہیے اور جانور کو قبلہ رخ کرنا چاہیے۔ اونٹ ذبح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ کھڑا ہو اور اس کا اگلا بایاں پاؤں بندھا ہوا ہو۔ گائے اور بکری کو بائیں پہلو پر ذبح کرنا چاہیے۔ اگر قبلہ کے علاوہ دوسری طرف رخ کرکے ذبح کر دیا تو سنت چھوٹ جائے گی، لیکن ذبیحہ حلال ہوجائے گا، کیوں کہ ذبح کے وقت قبلہ رخ کرنا سنت ہے، واجب نہیں۔ اپنی قربانی کے جانور میں سے خود کھانا اور ہدیہ دینا اور صدقہ کرنا مستحب ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾

"پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔" [سورہ حج : 28]۔ اہل علم کے صحیح قول کے مطابق قربانی کا وقت ایام تشریق کے تیسرے دن آفتاب ڈوبنے تک ہے۔ لہذا قربانی کے کل چار دن ہوئے۔ دسویں ذی الحجہ اور تین دن اس کے بعد۔

جانور نحر یا ذبح کرنے کے بعد حاجی اپنا سر منڈا لے یا بال چھوٹے کرا لے۔ لیکن، حلق (سر منڈانا) افضل ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے حلق کرانے والوں کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا تین بار فرمائی اور قصر کرنے والوں کے لیے ایک مرتبہ۔ سر کے کچھ حصے کے بال کٹوانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ منڈانے کی طرح پورے سر کے بال چھوٹے کرانا بھی ضروری ہے۔ عورت اپنی چوٹی کے بال انگلی کے پور کے برابر یا اس سے کم کاٹ لے۔

کنکری مارنے اور بال منڈانے یا کٹوانے کے بعد محرم کے لیے عورت کے سوا وہ سب چیزیں حلال ہو جاتی ہیں، جو احرام کی وجہ سے اس پر حرام ہوئی تھیں۔ اس حلال ہونے کو تحلل اول کہا جاتا ہے۔ اس تحلل کے بعد حاجی کے لیے خوشبو لگانا اور مکہ جاکر طواف افاضہ کرنا مسنون ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحَلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالبَيْتِ» "میں رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے اور حلال ہونے کے بعد کعبہ کے طواف سے پہلے خوشبو لگایا کرتی تھی۔"(80) (بخاری و مسلم)۔

اس طواف کو 'طواف افاضہ' اور 'طواف زیارت' بھی کہا جاتا ہے، جو حج کا ایک رکن ہے۔ اس کے بغیر حج پورا نہیں ہوتا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالی کے اس ارشاد کا :

﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ29﴾

"پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں۔" [سورہ حج : 29]۔

طواف اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد اگر حاجی متمتع ہے تو صفا اور مروہ کی سعی کرے گا۔ یہ سعی اس کے حج کے لیے ہوگی، جب کہ پہلی سعی عمرہ کے لیے تھی۔

علما کے صحیح ترین قول کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کی روشنی میں متمتع کے لیے ایک سعی کافی نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے" اس حدیث میں آگے چل کر وہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : «وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالحَجِّ مَعَ العُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا»... "جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو، وہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھے اور عمرہ و حج دونوں سے فارغ ہوکر حلال ہو۔" وہ آگے فرماتی ہیں : «فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالعُمْرَةِ بِالبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ» "جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف وسعی کرکے حلال ہوگئے۔ پھر جب وہ منی سے واپس آئے، تو حج کے لیے دوسرا طواف کیا۔"(81) (بخاری و مسلم)

عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، حج کے بعد منى سے واپس آکر انہوں نے دوبارہ طواف کیا، تو اس طواف سے مراد صفا و مروہ کا طواف یعنی سعی ہے، جو اس حدیث کی تشریح میں سب سے صحیح قول ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد طواف افاضہ ہے، ان کی بات صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ طواف افاضہ تو سب کے لیے رکن ہے، جسے سبھی نے کیا تھا۔ اس طواف سے مراد وہ طواف ہے، جو متمتع حاجی کے ساتھ خاص ہے۔ یعنی صفا و مروہ کی دوبارہ سعی، جو حج کی تکمیل کے بعد منى سے واپسی ہونے کے بعد کی جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے یہ مسئلہ بالکل واضح ہے اور یہی اکثر اہل علم کا قول بھی ہے۔

اس کی صحت پر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے، جسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں صیغہ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے کہ ان سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے فرمایا : "مہاجرین وانصار اور نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات نے حجۃ الوداع میں احرام باندھا اور ہم نے بھی احرام باندھا۔ جب ہم مکہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اپنے حج کے احرام کو عمرہ بنا لو، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی یعنی قربانی کا جانور موجود ہو"۔ چنانچہ ہم نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اپنی عورتوں کے پاس بھی آئے اور کپڑے بھی پہن لیے۔ آپ نے مزید فرمایا : جو قربانی کا جانور ساتھ لائے ہيں، وہ اس وقت تک حلال نہ ہوں، جب تک قربانی کا جانور اپنی جگہ نہ پہنچ جائے (یعنی اس کو ذبح نہ کردیا جائے)۔ آٹھویں ذی الحجہ کی شام کو ہمیں آپ نے حکم فرمایا کہ ہم حج کا احرام باندھ لیں۔ جب ہم تمام مناسک حج سے فارغ ہوگئے تو مکہ آئے اور بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا۔"(82) اس میں متمتع حاجی کے لیے دو مرتبہ سعی کی صراحت موجود ہے۔ واللہ اعلم۔

رہی وہ حدیث، جسے مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور جس میں ہے : "رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب نے صفا و مروہ کا صرف ایک ہی طواف کیا تھا۔"(83) تو وہ ان صحابہ کرام کے بارے میں ہے، جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لائے تھے۔ کیوں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے احرام میں باقی رہ گئے، یہاں تک کہ حج و عمرہ دونوں سے فارغ ہوکر حلال ہوئے۔ خود نبی کریم ﷺ نے بھی حج و عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا اور قربانی کا جانور ساتھ لانے والوں کو حکم فرمایا تھا کہ عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھیں اور دونوں سے فارغ ہونے کے بعد ہی حلال ہوں۔ حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھنے والے کو ایک ہی سعی کرنی ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے اور دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔

اسی طرح جس نے صرف حج کا احرام باندھا اور قربانی کے دن تک اپنے احرام میں باقی رہا، اس پر بھی ایک ہی سعی ہے۔ لہذا جب قارن اور مفرد طواف قدوم کے بعد سعی کر لیں تو یہ طواف افاضہ کے بعد کی سعی کے لیے کافی ہوجائے گی۔ اس طرح عائشہ، عبد اللہ بن عباس اور جابر رضی اللہ عنہم کی حدیثوں کے درمیان تطبیق کی صورت نکل آتی ہے۔ اس سے تعارض بھی دور ہو جاتا ہے اور تمام احادیث پر عمل بھی ہو جاتا ہے۔

اس جمع و تطبیق کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ عائشہ اور ابن عباس سے مروی صحیح حدیثوں نے متمتع کے حق میں دوسری سعی کو ثابت کیا ہے اور جابر کی حدیث کا متن بظاہر اس کی نفی کرتا ہے، اور علم الاصول اور مصطلح حدیث کے مطابق مثبت، منفی پر مقدم ہوتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہی درست کی توفیق دینے والاہے اور اللہ کی مدد کے بنا نہ کوئی برائی سے دور ہو سکتا ہے اور نہ نیکی کا کام کر سکتا ہے۔

فصل

ان کاموں کا بیان جن کا کرنا

یوم النحر کے دن حاجیوں کے لیے افضل ہے

حاجی کے لیے افضل یہ ہے کہ یوم النحر کو یہ چاروں کام ترتیب کے ساتھ ادا کرے۔ یعنی پہلے جمرہ عقبہ کی رمی، پھر نحر، پھر حلق یا قصر، پھر بیت اللہ کا طواف۔ اس کے بعد متمتع کے لیے اور مفرد وقارن نے بھی اگر طواف قدوم کے ساتھ سعی نہ کی ہو، تو ان کے لیے بھی سعی ضروری ہے۔ اگر ان چاروں میں سے کسی کو کسی پر مقدم کردیا جائے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ سے اس کی رخصت کا ثبوت موجود ہے۔ سعی کو طواف سے پہلے کر لینا بھی اس میں شامل ہے۔ کیوں کہ یہ بھی یوم النحر کو کیے جانے والے کاموں میں سے ایک ہے اور صحابی کے اس قول میں داخل ہوگا کہ اس دن آپ سے جس چیز کے بھی آگے یا پیچھے کیے جانے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے بس ایک ہی جواب دیا : «افْعَلْ وَلَا حَرَجَ»، "کرلو، کوئی حرج نہیں ہے۔"(84) دوسری بات یہ ہے کہ ایسا نسیان اور لاعلمی کی بنا پر ہو جایا کرتا ہے، لہذا یہ بھی "کرلو، کوئی حرج نہیں" کے عموم میں داخل ہوگا، کیوں کہ اس میں حجاج کے لیے آسانی اور سہولت ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ سے طواف سے پہلے سعی کرنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا : «لَا حَرَجَ» "اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔"(85) اسے ابوداود نے اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہذا اس میں شبہ نہيں ہے کہ یہ عموم میں داخل ہے۔ واللہ الموفق۔

جن کاموں سے حاجی پورے طور پر حلال ہو جاتا ہے، وہ تین ہیں : جمرہ عقبہ کو کنکری مارنا، بال منڈوانا یا کتروانا اور سعی کے ساتھ ساتھ طواف افاضہ کرنا۔ جب یہ تینوں کام کرلے تو اس کے لیے عورت اور خوشبو وغیرہ وہ تمام چیزیں حلال ہو جاتی ہیں، جو احرام کی وجہ سے حرام ہوئی تھیں۔ جس نے اس میں سے دو کام کیے، اس کے لیے عورت کے سوا بقیہ چیزیں حلال ہو جائیں گی۔ اسے تحلل اول کہا جاتا ہے۔

حاجی کے لیے زمزم کا پانی پینا اور خوب سیراب ہونا مستحب ہے۔ زمزم کا پانی پیتے وقت جتنی بھی مفید دعائیں یاد ہوں کرنی چاہئیں۔ «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ». "زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جاتا ہے، وه پوری ہوتی ہے"۔(86) جیسا کہ نبی ﷺ سے صحیح مسلم میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے زمزم کے پانی کے بارے میں فرمایا ہے : «إِنَّهُ طَعَامُ طُعْمٍ». "وہ آسودہ کرنے والى غذا ہے۔"(87) ابو داود میں یہ اضافہ ہے : «وَشِفَاءُ سُقْمٍ». "اور بیماری کے لیے شفا ہے۔"(88)

حجاج، طواف افاضہ کے بعد اور ان میں سے جن پر سعی واجب ہے وہ طواف افاضہ کے ساتھ ساتھ سعی کرنے کے بعد، منی جائیں، وہاں تین دن اور تین رات قیام کریں، ہر دن آفتاب ڈھلنے کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں اور کنکری مارنے میں ترتیب کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔

جمرہ اولى سے رمی شروع کرنی چاہیے۔ یہ وہ جمرہ ہے، جو مسجد خیف کے قریب ہے۔ اس کو متواتر سات کنکریاں مارے اور ہر کنکری کے ساتھ ہاتھ اٹھائے۔ مسنون یہ ہے کہ جمرہ سے کچھ پیچھے ہٹ جائے، اس کو اپنی بائیں جانب کرلے، قبلہ رو ہو جائے، اپنے دونوں ہاتھ اٹھالے اور خوب دعا اور گریہ وزاری کرے۔

پھر پہلے کی طرح دوسرے جمرہ کو کنکری مارے۔ مسنون یہ ہے کہ رمی کے بعد تھوڑا آگے بڑھ جائے، جمرہ کو دائیں جانب اور قبلہ کو سامنے کر لے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر خوب دعا مانگے۔

پھر تیسرے جمرے کو کنکری مارے۔ لیکن وہاں نہ ٹھہرے۔

اسی طرح دوسرے دن زوال کے بعد ان تینوں جمرات کو کنکری مارے۔ جس طرح پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس پہلے دن کیا تھا، ویسے ہی دوسرے دن کرے، تاکہ نبی ﷺ کی اقتدا ہو جائے۔

ایام تشریق کے پہلے دو دنوں میں رمی کرنا حج کے واجبات میں سے ہے۔ اسی طرح پہلی اور دوسری رات منی میں گزارنا واجب ہے، سوائے پانی پلانے والوں، چرواہوں اور ایسے لوگوں کے، جو ان کے حکم میں ہوں۔ ان کے لیے منی میں رات گزارنا واجب نہیں ہے۔

پہلے دو دنوں کی رمی کے بعد جو منی سے جلد جانا چاہے اس کے لیے جانا جائز ہے۔ اس کو آفتاب ڈوبنے سے پہلے ہی نکل جانا چاہیے۔ لیکن جو تاخیر کرے اور تیسری رات بھی گزارے اور تیسرے دن بھی جمرات کو کنکری مارے، تو یہ افضل اور زیادہ ثواب کا حامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى...﴾

"ان چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔ جو شخص (منی میں) دو دن قیام کرکے واپسی کی جلدی کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ اس شخص پر کوئی گناہ ہے جو تاخیر کرکے جائے۔ یہ اللہ سے ڈرنے والے کے لیے ہے"۔ [سورہ بقرہ : 203]۔

تاخیر کرنا افضل اس لیے بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو جلدى کرنے کی رخصت دی، لیکن خود جلدى نہیں کی، بلکہ منی میں ٹھہر کر 13 تاریخ کو زوال کے بعد جمرات کو کنکری ماری، پھر ظہر پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ کیا۔

چھوٹے بچے جو کنکری نہیں مار سکتے، ان کے ولی کے لیے جائز ہے کہ اپنی طرف سے کنکری مارنے کے بعد ان کی طرف سے بھی کنکری مارے۔ اسی طرح چھوٹی بچی جو کنکری نہیں مارسکتی، اس کی طرف سے اس کا ولی کنکری مار سکتا ہے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : «حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَلَبَّيْنَا عَنِ الصِّبْيَانِ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ» "ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا۔ ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ ہم نے بچوں کی طرف سے لبیک بھی پکارا اور رمی بھی کی۔"(89) (سنن ابن ماجہ)

جو لوگ خود سے کنکرى نہ مار سکتے ہوں، خواہ بیماری کى وجہ سے ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے یا عورت کے حالت حمل میں ہونے کی وجہ سے، تو ایسے معذور لوگ اپنی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر سکتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ...﴾

"پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو..." [سورہ تغابن : 16]۔ چونکہ یہ لوگ جمرات کے پاس لوگوں سے مزاحمت نہیں کرسکتے اور رمی کا وقت فوت ہو سکتا ہے، جس کی قضا مشروع نہیں ہے، اس لیے ان کے لیے جائز ہے کہ کسی کو اپنا وکیل مقرر کر دیں۔ جب کہ دوسرے مناسک کی ادائیگی کے لیے نیابت جائز نہیں ہے، خواہ اس کا حج نفلی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ جس نے حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیا، خواہ وہ نفلی ہی کیوں نہ ہو، اس کے اوپر پورا کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ...﴾

"حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو..." [سورہ بقرہ : 196]۔ طواف و سعی کا زمانہ فوت نہیں ہوتا، لیکن رمی کا وقت، جو محدود ہوتا ہے، فوت ہو جاتا ہے۔

جہاں تک وقوف عرفہ و مزدلفہ اور منی میں رات گزارنے کی بات ہے، تو بلا شبہ اس کا وقت بھی فوت ہو جاتا ہے، لیکن کسی معذور کے لیے تکلیف اٹھا کر ان جگہوں میں پہنچ جانا ممکن ہے، جب کہ رمی کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ نیز معذور کے لیے رمی میں نائب بنانا سلف صالحین سے ثابت ہے، دوسرے مناسک میں نہیں۔

کیوں کہ عبادتیں توقیفی ہوا کرتی ہیں اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ دلیل کے بغیر کوئی عبادت ایجاد کر لے۔ نائب کے لیے جائز ہے کہ پہلے اپنی طرف سے اور پھر اپنے موکل کی طرف سے ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر تینوں جمروں کو کنکری مارے۔ علما کے صحیح ترین قول کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ پہلے تینوں جمرات کو اپنی طرف سے کنکر مارے اور پھر دوبارہ اپنے موکل کی طرف سے، کیوں کہ ایسا کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور الگ الگ کنکر مارنے میں تکلیف و مشقت بھی ہے، جب کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ...﴾

"اور اللہ تعالی نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہیں رکھی ہے۔" [سورہ حج : 78]۔ اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے : «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا». "آسانی کرو، سختی مت کرو۔"(90) نیز کسی صحابئ رسول سے ایسا مروی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں اور کمزوروں کی طرف سے دوبارہ لوٹ کر رمی کی ہو۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہوتا، تو ضرور منقول ہوتا، کیوں کہ اس طرح کی باتیں نقل ہو جایا کرتی تھیں۔

 


فصل

متمتع اور قارن پر دم کے وجوب کا بیان

حاجی جب متمتع یا قارن ہو اور مسجد حرام کا رہنے والا نہ ہو، تو اس پر ایک قربانی واجب ہے۔ قربانی خواہ ایک بکری ہو یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ قربانی کا جانور حلال مال اور پاکیزہ کمائی کا ہو۔ اس لیے کہ اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز ہی کو قبول کرتا ہے۔

جب اللہ نے قربانی کی وسعت دے رکھی ہو اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز کر رکھا ہو، تو قربانی کے لیے یا کسی اور کام کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا چاہیے، خواہ ہاتھ بادشاہ کے سامنے ہی کیوں نہ پھیلایا جائے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ اللہ علیہ و سلم کی بہت سی حدیثوں میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے بچنے والے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔

اگر متمتع اور قارن جانور ذبح کرنے سے عاجز ہوں تو ان پر واجب ہے کہ ایام حج میں تین دن روزہ رکھیں اور جب گھر لوٹ جائیں تو سات دن اور روزہ رکھیں۔ ان کو اختیار ہے کہ یہ تینوں روزے یوم النحر سے پہلے ہی رکھ لیں یا ایام تشریق کے تینوں دنوں میں رکھیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿...فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ...﴾

"جس نے حج کا زمانہ آنے تک عمرہ کا فائدہ اٹھایا، وہ حسب مقدور جانور ذبح کرے۔ اگر جانور میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں رکھے اور سات گھر پہنچ کر۔ اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت اس کے لیے ہے، جس کے گھر والے مکہ میں نہ ہوں۔"  [سورہ بقرہ : 196]۔ پوری آیت دیکھیں۔

صحیح بخاری میں عائشہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ایک حدیث میں ہے : «لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الهَدْيَ»، "ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی رخصت صرف اسی کو دی گئی ہے جو قربانی کا جانور نہ پاسکے۔"(91) یہ روایت نبی کریم ﷺ کی مرفوع حدیث کے حکم میں ہے۔ افضل یہ ہے کہ یہ تینوں روزے یوم عرفہ سے پہلے ہی رکھ لیے جائیں، تاکہ یوم عرفہ کو حاجی روزہ کى حالت میں نہ رہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ کا وقوف افطار کی حالت میں کیا تھا اور آپ نے عرفہ کے وقوف کی حالت میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع بھی فرمایا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ اس دن روزہ کى حالت میں نہ رہنے سے ذکر و دعا میں نشاط زیادہ حاصل ہوگا۔ ان تینوں دن کا روزہ ایک ساتھ اور الگ الگ دونوں طرح رکھنا جائز ہے۔ اسی طرح ساتوں دن کے روزے بھی مسلسل رکھنے واجب نہیں ہیں۔ اکٹھے اور متفرق دونوں طرح رکھے جا سکتے ہیں۔ کیوں کہ نہ تو اللہ تعالی نے تسلسل کی شرط رکھی ہے اور نہ اللہ کے رسول ﷺ نے۔ ان سات روزوں کو گھر جاکر رکھنا افضل ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ...﴾

"اور سات روزے اس وقت رکھو، جب تم واپس ہو جاؤ۔" [سورہ بقرہ : 196]۔

قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے کے لیے امیروں سے جانور مانگ کر ذبح کرنے کی بجائے روزہ رکھنا افضل ہے۔ البتہ بغیر مانگے اور نفس کے لالچ کے بغیر قربانی کا جانور یا کچھ اور دے دیا جائے، تو کوئی حرج نہیں ہے، خواہ وہ حج بدل ہی کے لیے کیوں نہ آیا ہو، بشرطیکہ نائب بنانے والے شخص نے اپنے دیے ہوئے مال سے جانور خریدنے کی شرط نہ رکھی ہو۔ جہاں تک بات ہے کذب و غلط بیانى کے ذریعہ حکومت یا کسی اور سے کسى کے نام پر ہدی کے جانور مانگنے کی، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حرام ہے، کیونکہ یہ باطل طریقہ سے مال کھانا ہے۔ اللہ ہم کو اور تمام مسلمانوں کو اس سے بچائے۔

 


فصل

حجاج وغیرہم پر امر بالمعروف واجب ہونے کا بیان

حجاج اور غیر حجاج پر جو سب سے بڑی چیزیں واجب ہیں، ان میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا اور پانچ وقت کی نمازیں پابندی سے جماعت کے ساتھ ادا کرنا شامل ہے، جن کا حکم اللہ تعالی نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کی زبان سے دیا ہے۔

مکہ کے بہت سے باشندگان، جو اپنے گھروں میں نمازیں پڑھتے ہیں اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہيں جاتے، ان کا یہ طرز عمل ایک بہت بڑی غلطی اور شریعت کی مخالفت ہے۔ ان کو اس سے منع کرنا اور مسجدوں میں نماز کی پابندی کرنے کا حکم دینا واجب ہے، کیوں کہ جب ابن ام مکتوم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اپنے نابینا ہونے اور گھر سے مسجد دور ہونے کا عذر لے کر آئے تھے اور عرض کیا تھا کہ آپ ان کو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، تو آپ نے ان سے فرمایا تھا : «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجِبْ»، "کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟'' انھوں نے  جب جواب دیا کہ جی سنتا ہوں، تو فرمایا تھا : "تو پھر اس پر لبیک کہو۔"(92) ایک دوسری روایت میں ہے : «لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً»، "میں تمہارے لیے رخصت کی کوئی گنجائش نہیں پاتا۔"(93) نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ إِلَى رِجَالٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ»، "میں نے ارادہ کیا ہے کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دے دوں۔ جب وہ کھڑی ہو جائے تو کسی کو امام بنا کر لوگوں کو نماز پڑھانے کو کہہ دوں اور پھر ان لوگوں کے یہاں جاؤں، جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا کر ان کو بھی گھر سمیت جلا دوں۔"(94) نیز عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنن ابن ماجہ میں حسن سند کے ساتھ مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»، "جس نے اذان سن لی، پھر بھی بلا عذر مسجد نہیں آیا، تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔"(95) اور صحیح مسلم میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : "جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ کل وہ اللہ سے مسلم ہو کر ملے، اس کو چاہیے کہ ان پانچوں نمازوں کی پوری حفاظت کرے جب بھی ان کے لیے اذان دی جائے، کیوں کہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مشروع فرمائے ہیں اور نمازیں انہی ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو، جس طرح یہ پیچھے رہنے والے اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں، تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دوگے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو گمراہ ہو جاؤگے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد میں جاتا ہے، اللہ تعالی اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ نماز سے پیچھے رہنے والے صرف کھلے منافقین ہی ہوا کرتے تھے، ورنہ آدمی اس حالت میں بھی لایا جاتا کہ اسے دو آدمیوں کے سہارے صف میں لا کھڑا کر دیا جاتا تھا۔"(96)

حجاج اور دوسرے تمام لوگوں پر اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا اور ان کے ارتکاب سے دور رہنا واجب ہے۔ جیسے زنا، لواطت، چوری، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، معاملات میں دھوکہ دینا، امانت میں خیانت کرنا، نشہ آور چیزیں اور سگریٹ پینا، کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکانا، تکبر، حسد، ریا کاری، غیبت، چغلی، مسلمانوں کا مذاق اڑانا، موسیقی کے آلات جیسے عود، بربط، بانسری وغیرہ استعمال کرنا اور ریڈیو جیسے آلاتِ طرب سے گانے سننا، چوسر، شطرنج، جوا اور لاٹری کھیلنا اور ذی روح جیسے انسانوں کی تصویریں کھینچنا اور اس کام کو پسند کرنا۔ یہ سب وہ بری باتیں ہیں، جن کو اللہ تعالی نے ہر زمانہ میں اور ہر جگہ اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے۔ لہذا ان سے حجاج اور باشندگانِ حرم کا بچنا دوسروں سے زیادہ ضروری ہے؛ اس لیے کہ اس بلدِ امین میں ان معاصی کا گناہ زیادہ سخت اور ان کی سزا زیادہ بڑی ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿...وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ 25﴾

"...اور جو شخص حرم میں ظلم کے ساتھ الحاد کا خواہاں ہوگا ہم اسے عذاب الیم کی سزا چکھائیں گے۔" [سورہ حج : 25]

جب اللہ تعالی نے حرم میں ظلم کے ذریعہ الحاد کا ارادہ کرنے والوں کو دھمکی دے دی ہے، تو ان لوگوں کا کیا انجام ہوگا جو الحاد کر گزریں؟! بلا شبہ یہ انتہائی عظیم اور شدید بات ہوگی۔ لہذا اس سے اور تمام معاصی سے بچنا ضروری ہے۔

حاجی کو حج کا ثواب اور گناہوں کی بخشش ان گناہوں اور دوسری حرام باتوں سے بچے بغیر نہیں مل سکتی، جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے : «مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». "جو شخص حج کرے اور اس میں بے حیائی وفسق نہ کرے، تو اس دن کی طرح (پاک وصاف) ہوکر لوٹے گا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔"(97)

ان تمام منکرات سے زیادہ سخت اور بڑی بات یہ ہے کہ آدمی مُردوں کو پکارے، ان سے فریاد کرے، ان کے لیے نذر مانے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے؛ اس امید پر کہ وہ اللہ کے یہاں اس کی سفارش کر دیں گے، اس کے بیمار کو اچھا کر دیں گے یا اس کے گم شدہ شخص کو واپس کرا دیں گے وغیرہ وغیرہ۔

یہ وہی شرک اکبر ہے جس کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے اور یہی دور جاہلیت کے مشرکین کا دین ہے اور اسی کے انکار اور اسی سے روکنے کے لیے اللہ تعالی نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔

لہذا ہر حاجی اور غیر حاجی کا فرض ہے کہ وہ اس سے بچے اور اگر پہلے شرک کر چکا ہے تو اس سے توبہ کر کے از سر نو حج کے لیے تیار ہو، کیوں کہ شرک اکبر تمام اعمال کو ضائع کر دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 88﴾

’’...اور اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے‘‘۔ [سورہ انعام : 88]۔

شرک اصغر کی ایک قسم غیر اللہ جیسے نبی، کعبہ اور امانت وغیرہ کی قسم کھانا بھی ہے۔

اسی طرح ریا کاری، شہرت طلبی اور "جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں"، "اگر اللہ اور آپ نہ ہوتے" یا "یہ اللہ اور آپ کی عنایت ہے" اور اس جیسے دیگر جملے بھی شرک اصغر میں سے ہیں۔

اس طرح کے تمام شرکیہ منکرات سے بچنا اور انھیں چھوڑنے کا حکم دینا بھی واجب ہے، جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے : «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ». "جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔"(98) اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : «مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللهِ أَوْ لِيَصْمُتْ». "جس کو قسم کھانی ہی ہو، وہ اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔"(99) نیز آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ حَلَفَ بِالأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا». "جس نے امانت کی قسم کھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"(100) اسے ابوداود نے روایت کیا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا: «أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكَ الأَصْغَرَ، فَسُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: الرِّيَاءُ». "مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے، وہ شرکِ اصغر ہے۔" آپ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا : "ریاکاری۔"(101) آپ ﷺ کا بھی ارشاد ہے : «لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ». ”تم مت کہو : جواللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ (یوں) کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔“(102) سنن نسائی ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : "اے اللہ کے رسول! جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا : «أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا، بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ». "کیا تم نے مجھے اللہ کا ہم سر بنا دیا؟! بلکہ اس کے بدلے میں یہ کہو کہ جو صرف اللہ چاہے"۔(103)

یہ تمام احادیث بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے توحید کی حفاظت فرمائی اور اپنی امت کو شرک اکبر اور شرک اصغر سے روکا۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم اللہ کے عذاب اور غضب الہی کے اسباب سے امت کى سلامتی نیز ان کے ایمان کے تحفظ کے بے حد حریص تھے۔ اللہ تعالی آپ ﷺ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے پیغام الہی پہنچایا، امت کو ڈرایا اور اللہ کی اور اس کے بندوں کی خیر خواہی کی۔ اللہ آپ ﷺ پر قیامت تک درود وسلام بھیجتا رہے۔

تمام اہل علم خواہ وہ حجاج ہوں یا اللہ کے پر امن شہر مکہ اور مدینۃ الرسول کے باشندگان، ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کی شریعت لوگوں کو سکھائیں، شرک و معاصی جیسی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے لوگوں کو روکیں اور ان باتوں کا دلائل سے پوری شرح و بسط کے ساتھ ذکر اور نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کریں، تاکہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لائیں اور اس طرح ان پر اللہ تعالی نے جو تبلیغ و بیان کا فریضہ عائد کیا ہے، اسے ادا کریں۔ اللہ سبحانہ وتعالى کا ارشاد ہے :

﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ...﴾

"اور جب اللہ نے ان سے عہد لیا جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کو لوگوں سے بیان کروگے اور تم اس کو لوگوں سے چھپاؤگے نہیں۔" [سورہ آل عمران : 187]۔

اس آیت کا مقصود اس امت کے علما کو ڈرانا ہے کہ وہ حق چھپانے کے سلسلہ میں ظالم اہل کتاب کے مسلک پر نہ چلیں، تاکہ اس کے ذریعہ آخرت کی بجائے دنیا کمائیں، جب کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ 159 إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ 160﴾

"جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، باوجودے کہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم و کرم کرنے واﻻ ہوں۔" [سورہ بقرہ : 159- 160]۔ بہت سی آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ کی طرف دعوت دینا اور بندوں کو اللہ کی راہ دکھانا بہترین نیکی اور اہم ترین فرائض میں سے ہے اور یہی قیامت تک انبیا اور ان کے متبعین کا راستہ بھی ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالى نے فرمایا:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ 33﴾

"اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔" [سورہ فصلت : 33]۔ اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے :

﴿قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ 108﴾

"آپ کہہ دیجیے کہ میری راه یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔" [سورہ يوسف : 108]۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ» "جو شخص خیر کی طرف رہنمائی کرے، اس کے لیے اس کے کرنے والے کے برابر اجر ہے۔"(104) «لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ» "اگر اللہ تمھارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے، تو یہ تمھارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔"(105) اس مضمون کی آیات اور احادیث بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

اہل علم و ایمان کو چاہیے کہ دعوت الی اللہ میں اپنی کوششوں کو اور بھی بڑھائیں اور اللہ کے بندوں کو نجات کی راہ دکھانے اور ہلاکت کے اسباب سے بچانے کے لیے پوری پوری جد وجہد کریں۔ خاص طور پر اس زمانے میں، جب کہ لوگوں کی خواہشات غالب آچکی ہیں، تباہ کن افکار ونظریات اور گمراہ کن نعرے پھیل چکے ہیں، داعیان حق کم سے کم تر ہوچکے ہیں اور الحاد و اباحیت کے داعیوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ ایسی صورت میں اللہ ہی مددگار ہے اور عظیم و بلند اللہ کی توفیق کے بنا نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی گناہوں سے بچنے کی قوت۔

 


فصل

زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنے کا استحباب

حجاج جب تک مکہ میں مقیم رہیں ان کو چاہیے کہ برابر اللہ کا ذکر، اس کی عبادت اور عمل صالح کرتے رہیں۔ نماز اور بیت اللہ کا طواف کثرت سے کریں، کیوں کہ حرم کی نیکی کا ثواب کئی گناہ زیادہ ہے۔ اسی طرح حرم کی برائیاں بھی بہت سخت ہوتی ہیں۔ اسی طرح حجاج کو چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجتے رہیں۔

جب حاجی مکہ سے نکلنا چاہیں تو ان پر بیت اللہ کا طوافِ وداع ضروری ہے، تاکہ ان کا آخری وقت بیت اللہ سے ہوکر گزرے۔ البتہ حائضہ اور نفاس والی عورت اس سے مستثنی ہیں کہ ان دونوں کے لیے طواف وداع ضروری نہیں ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے : «أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالبَيْتِ، إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ المَرْأَةِ الحَائِضِ» "آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ گزرے۔ لیکن آپ نے حائضہ عورت کے لیے اس کی تخفیف فرما دی۔"(106)

جب بیت اللہ کو وداع کرکے فارغ ہو اور مسجد حرام سے نکلنا چاہے تو سیدھے منہ نکل جائے۔ الٹے پاؤں ہر گز نہ چلے۔ کیوں کہ ایسا کرنا نہ تو نبی کریم ﷺ سے منقول ہے اور نہ آپ کے اصحاب سے، بلکہ یہ صریح بدعت ہے اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے : «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس کا ہم نے حکم نہیں دیا، تو وہ کام مردود اور ناقابل قبول ہے"۔(107) نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے : إِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». "بدعتوں سے بچو، اس لیے کہ ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"(108)

اللہ تعالى ہمیں اپنے دین پر قائم اور اپنی مخالفت سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ بڑا سخی اور نہایت کرم والا ہے۔

 


فصل

مسجد نبوی کی زیارت کے احکام و آداب کا بیان

حج سے پہلے یا اس کے بعد مسجد نبوی کی زیارت مسنون ہے، جیسا کہ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا : «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا المَسْجِدَ الحَرَامَ». "میری اس مسجد میں پڑھی گئی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مسجدوں میں پڑھی گئی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے"۔(109) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا المَسْجِدَ الحَرَامَ» "میری اس مسجد میں ایک وقت کی نماز دوسری مسجد کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے، مسجد حرام کے سوا۔"(110) (صحیح مسلم)، اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا المَسْجِدَ الحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي المَسْجِدِ الحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ فِي مَسْجِدِي هَذَا» "میری اس مسجد میں ایک وقت کی نماز دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نماز سے افضل ہے مسجد حرام کے علاوہ، اور مسجد حرام میں ایک وقت کی نماز میری مسجد کی ایک سو نماز سے بہتر ہے۔"(111) اسے احمد، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا المَسْجِدَ الحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي المَسْجِدِ الحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ» "میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے سوا دوسری مسجدوں كى ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ جب کہ مسجد حرام کی ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔"(112) مسند احمد اور سنن ابن ماجہ۔ اس معنى کی حديثيں کثرت سے موجود ہیں۔

جب زیارت کرنے والا مسجد پہنچے تو داخل ہوتے وقت پہلے اپنا دایاں قدم رکھنا اور یہ دعا پڑھنا مستحب ہے :

"بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، أَعُوذُ بِاللهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ القَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"

"اللہ کے نام سے مسجد میں داخل ہوتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ پر سلام بھیجتا ہوں، میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کى قدیم قوت و شوکت کے ذریعہ شیطان مردود سے پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے"۔

اسی طرح جس طرح دوسری مسجدوں میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے۔ مسجد نبوی میں داخل ہونے کی کوئی مخصوص دعا نہیں ہے۔ پھر مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھے، جس میں اللہ سے دنیا وآخرت کی محبوب چیزیں مانگے۔ اگر یہ دونوں رکعتیں ریاض الجنۃ میں پڑھے تو اور افضل ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ». "میرے گھر اور منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔"(113) نماز کے بعد نبی کریم ﷺ اور آپ کے صاحبین ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کرے۔ نبی کریم ﷺ کی قبر کے سامنے ادب کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور دبی آواز میں اس طرح سلام کرے: " آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول، اور آپ پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو۔" جیسا کہ سنن ابو داود میں حسن سند کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ». "جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں"۔(114) اگر زیارت کرنے والا اپنے سلام میں یوں کہے، تب بھی کوئی حرج نہیں: "سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے نبی! سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کى مخلوقات میں سب سے بہتر! سلامتی ہو آپ پر اے رسولوں کے سردار اور متقیوں کے امام! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا، امانت ادا کردی، امت کی خیر خواہی فرمادی اور اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کا فریضہ ادا کردیا"۔ کیوں کہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کے اوصاف ہیں۔ پھر آپ ﷺ پر درود بھیجے اور آپ کے لیے دعا کرے، جیسا کہ شریعت میں درود و سلام ایک ساتھ بھیجنے کی مشروعیت ثابت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا 56﴾

"اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔" [سورہ احزاب : 56]۔

پھر ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما پر سلام بھیجے، ان دونوں کے لیے دعا کرے اور ان دونوں کے لیے اللہ کی رضامندی طلب کرے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں پر سلام بھیجتے تھے تو عموماً بس اتنا کہا کرتے تھے : "آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو اے ابو بکر! اور اے میرے ابا! آپ پر سلامتی ہو۔" اور یہ کہہ کر لوٹ جاتے تھے۔

یہ زیارت صرف مردوں کے لیے مشروع ہے ۔ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت جائز نہیں ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث میں ہے : «لَعَنَ زُوَّارَاتِ القُبُورِ مِنَ النِّسَاءِ وَالمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا المَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ». "آپ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور ان پر مسجدیں بنانے والے اور چراغاں کرنے والے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے۔"(115)

مسجد نبوی میں نماز پڑھنے، اس میں دعا کرنے اور اس طرح کے دیگر کاموں، جو دوسری تمام مسجدوں میں مشروع ہیں، کی نیت سے مدینہ کا قصد کرنا سب کے لیے مشروع ہے، جیسا کہ اس سے پہلے اس مضمون کی حدیثیں گزر چکی ہیں۔

زائر کو چاہیے کہ پانچوں وقت کی نمازیں مسجد نبوی میں پڑھے، اس میں کثرت سے ذکر و دعا اور نفلی نمازوں کا اہتمام کرے اور زیادہ ثواب کمانے کی اس فرصت کو غنیمت سمجھے۔

اسی طرح ریاض الجنۃ میں کثرت سے نفلی نماز پڑھنا مستحب ہے، جیسا کہ اس کی فضیلت میں نبی ﷺ کا یہ قول گزر چکا ہے : «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الجَنَّةِ». "میرے گھر اور منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔"(116)

لیکن فرض نمازوں کے لیے زائر وغیر زائر کو آگے رہنا چاہیے اور جہاں تک ہو سکے پہلی صف کی پابندی کرنی چاہیے، اگرچہ اگلی صف قبلہ کی جانب توسیع شدہ حصے میں ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ احادیث صحیحہ میں پہلی صف کی ترغیب پائی جاتی ہے۔ مثلا آپ ﷺ کا یہ فرمان : «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا» "اگر لوگ جان جائیں کہ اذان اور پہلی صف میں کتنا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کیے بغیر جگہ نہ پا سکیں تو ضرور قرعہ اندازی کریں۔"(117) (متفق علیہ) اسی طرح آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا ہے : «تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُ اللهُ» "آگے بڑھو اور میری اقتدا کرو، تمہاری اقتدا تمہارے بعد والے کریں۔ آدمی جب نماز سے پیچھے ہوتا رہتا ہے، تو اللہ بھی اس کو پیچھے کر دیتا ہے۔"(118) (صحیح مسلم)

ابو داود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَتَأَخَّرُ عَنِ الصَّفِّ المُقَدَّمِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُ اللهُ فِي النَّارِ». "جب آدمی لگاتار پہلی صف سے پیچھے رہتا ہے، تو اللہ تعالی بھی اسے (عمل کے میدان میں) پیچھے کر کے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔"(119) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ المَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ المَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ» "تم ایسی صف کیوں نہیں بناتے جیسی فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ملائکہ اپنے رب کے پاس کیسے صف بناتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔"(120) (صحیح مسلم)۔

اس مضمون کی حدیثیں بڑی تعداد میں موجود ہیں، جو مسجد نبوی اور دوسری مسجدوں کے لیے عام ہیں۔ توسیع سے پہلے اور اس کے بعد بھی۔ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ اپنے صحابہ کو صف کے دائیں طرف کھڑے ہونے کی ترغیب دیتے تھے اور یہ معلوم ہے کہ صف کا دایاں حصہ پہلی مسجد نبوی میں ریاض الجنۃ کے باہر واقع تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی صف اور داہنی طرف کی صفوں میں نماز پڑھنا ریاض الجنۃ میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ جو شخص اس بارے میں وارد احادیث پر غور کرے گا اس کو یہ فرق واضح طور پر معلوم ہو جائے گا۔ واللہ الموفق۔

کسی کے لیے حجرۂ رسول ﷺ کو چھونے، اسے بوسہ دینے یا اس کا طواف کرنے کی اجازت نہيں ہے، کیوں کہ یہ سلف سے منقول نہیں، بلکہ ایک بدترین بدعت ہے۔

كسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی حاجت پوری کرنے، کوئی مصیبت کو دور کرنے یا مریض کو شفا دینے وغیرہ کا سوال کرے، کیوں کہ یہ سب چيزیں صرف اللہ تعالی سے مانگی جائيں گی۔ان میں سے کوئی چيز کسی مرے ہوئے شخص سے مانگنا اللہ کے ساتھ شرک اور غیراللہ کی عبادت کرنا ہے۔ در اصل مذہب اسلام دو بنیادوں پر قائم ہے :

ایک یہ کہ عبادت بس ایک اللہ کی کی جائے۔دوسرے یہ کہ اللہ کی عبادت اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کی جائے۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینے کا یہی مفہوم ہے ۔

اسی طرح کسی کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شفاعت مانگے، اس لیے کہ یہ اللہ تعالی کا حق ہے، لہذا مانگا اسی سے جائے گا، جیسا کہ اس نے فرمایا ہے :

﴿قُلْ لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا...﴾

"کہہ دیجیے کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے..." [سورہ زمر : 44]۔

البتہ تم کہہ سکتے ہو: اے اللہ! اپنے نبی کو میرا شفیع بنا، اے اللہ! اپنے فرشتوں اور مومن بندوں کو میرا سفارشی بنا، اے اللہ! میرے فوت شدہ بچوں کو میرا سفارشی بنا وغیرہ۔ لیکن مردوں سے کچھ نہیں مانگنا چاہیے، نہ شفاعت نہ دوسری چیز، خواہ وہ انبیا ہوں یا غیر انبیا، اس لیے کہ ایسا کرنا مشروع نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ میت کا عمل منقطع ہو چکا ہے، سوائے اس عمل کے جس کو شارع نے مستثنی کر رکھا ہے۔

صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ». "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین اعمال کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"(121)

البتہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ سے سفارش کا سوال کرنا جائز تھا اور قیامت کے دن بھی جائز ہوگا، کیوں کہ آپ کو اس پر قدرت حاصل ہوگی۔ آپ کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ آپ آگے بڑھ کر اللہ تعالی سے طالب سفارش کے لیے جو مانگنا ہو مانگیں۔ دنیا میں شفارش طلب کرنے کے جواز کی بات تو معلوم و معروف ہے۔ یہ صرف آپ ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ دوسرے لوگوں سے بھی سفارش کرنے کو کہا جا سکتا ہے۔ لہذا مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ اپنے بھائی سے کہے کہ میرے رب سے میرے بارے میں فلاں اور فلاں چیز کی سفارش کرو۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو میرے لیے دعا کرو۔ جس سے سفارش کرنے کو کہا جائے، اس کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرے اور اگر طلب کی گئی چیز مباح ہو تو اپنے بھائی کے لیے اس کی سفارش کرے۔

لیکن قیامت کے دن کوئی شخص کسی کے لیے اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکے گا، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

﴿...مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ...﴾

"کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟" [سورہ بقرہ : 255]۔

رہی بات موت کی حالت کی، تو وہ ایک مخصوص حالت ہے جسے نہ تو انسان کی موت سے قبل والی حالت سے ملایا جا سکتا ہے اور نہ قیامت کے بعد کی حالت سے، کیوں کہ میت کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے کیے ہوئے اعمال کا مرہون بن جاتا ہے۔ بس کچھ ہی اعمال کی نیکی موت کے بعد بھی ملتی رہتی ہے، جنھیں شریعت نے مستثنی کر رکھا ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان استثنائی اعمال کے زمرے میں شریعت نے مُردوں سے طلب شفاعت کو نہیں رکھا ہے۔ اس لیے اسے ان اعمال کے زمرے میں رکھنا جائز نہيں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی قبر میں برزخی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، جو شہدا کی زندگی سے زیادہ کامل ہے، لیکن وہ نہ تو موت سے قبل والی زندگی ہے اور نہ قیامت کے دن والی زندگی۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کی حقیقت و کیفیت اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ چنانچہ ایک حدیث میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد پہلے گزر چکا ہے : «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ» "جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے، تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے دوں"۔(122)

اس سے معلوم ہوا کہ آپ انتقال فرما چکے ہیں اور آپ کی روح آپ کے جسم سے جدا ہو چکی ہے، البتہ سلام کے وقت آپ کو لوٹا دی جاتی ہے۔ آپ ﷺ کی وفات ہو چکی ہے، اس کے دلائل قرآن و سنت میں معروف و مشہور ہیں اور اہل علم کے نزدیک یہ ایک متفق علیہ بات ہے، لیکن یہ موت آپ ﷺ کی حیات برزخی کے لیے مانع نہیں، جیسے شہدا کی موت ان کی حیات برزخی کے لیے مانع نہیں ہے، جس کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت میں فرمایا ہے :

﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ 169﴾

"جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کیے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں، اپنے رب کے پاس روزیاں دیے جاتے ہیں۔" [سورہ آل عمران : 169]۔

ہم نے اس مسئلے کو تفصیل سے اس لیے بیان کیا کہ اس کی بڑی ضرورت تھی، کیوں کہ لوگوں کى ایک بڑى تعداد اس معاملے میں شبہات میں ڈالنے کا کام کرتی اور شرک و غیراللہ کی عبادت کى دعوت دیتی ہے۔ اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو شریعت مخالف باتوں سے بچائے۔ واللہ اعلم۔

زیارت کرنے والے بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر کے پاس آواز بلند کر لیتے ہیں اور دیر تک کھڑے رہتے ہیں، تو ان کا یہ عمل بھی خلاف شرع ہے، اس لیے کہ اللہ تعالی نے امت کو اپنی آواز نبی کی آواز سے اونچی کرنے سے منع فرمایا ہے اور جس طرح لوگ آپس میں بلند آواز سے باتیں کرلیتے ہیں، اس طرح آپ کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ کے پاس آواز نیچی رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمان باری تعالی ہے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ 2 إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ 3﴾

"اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت چلے جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

بے شک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا ثواب ہے۔" [سورہ حجرات : 2-3]۔

اس لیے بھی کہ آپ کی قبر کے پاس دیر تک کھڑے رہنے اور بار بار آپ ﷺ پر سلام پڑھنے سے بھیڑ میں اضافہ ہوگا اور آپ کی قبر کے پاس شور وغل بڑھے گا، جو ان تعلیمات کے خلاف ہے، جو اللہ تعالی نے ان محكم آیتوں میں مسلمانوں کو دی ہیں۔ آپ ﷺ زندہ و مردہ دونوں حالتوں میں قابل احترام ہیں۔ لہذا کسی مومن کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ آپ کی قبر کے پاس ایسا عمل کرے، جو شرعی آداب کے خلاف ہو۔

اسی طرح جو زائر ین آپ ﷺ کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر اور قبر کو سامنے کرکے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں، ان کا یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے اصحاب اور ان کے متبعین اور سلف صالحین کے طریقہ کے خلاف ہے، بلکہ ایک نو ایجاد بدعت ہے، جب کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : «فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». "تم میری سنت کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، اسے نہایت مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور (دین کے نام پر سامنے آنے والی) نئی نئی چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا۔ بلاشبہ (دین کے نام پر ایجاد کی جانے والی) ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔(123)

نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے : «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسا کام ایجاد کیا جو اس دین کا حصہ نہيں ہے، تو وہ کام مردود اور نا قابل قبول ہے"۔(124) «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس کا ہم نے حکم نہیں دیا ہے، تو وہ کام مردود اور ناقابل قبول ہے"۔(125)

علی بن حسین زین العابدین رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کی قبر کے پاس دعا کر رہا تھا، تو آپ نے اسے منع کیا اور فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے اپنے والد سے سنا ہے اور انہوں نے اسے میرے دادا کے حوالے سے بیان کیا ہے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا: «لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ تَسْلِيمَكُمْ يَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ». "میری قبر کو عید ( میلے کی جگہ) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بنا لینا۔ مجھ پر درود بھیجا کرنا۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے، چاہے تم جہاں بھی رہو۔"(126)

اسی طرح جو زائر آپ ﷺ پر سلام بھیجتے وقت اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر یا سینے سے نیچے نمازی کی طرح ہیئت بناتے ہیں، تو یہ ہیئت نہ آپ پر سلام بھیجتے وقت اور نہ ہی کسی بادشاہ اور لیڈر وغیرہ کو سلام کرتے وقت بنانا جائز ہے، کیوں کہ یہ ذلت و خضوع اور عبادت کی ہیئت ہے، جو اللہ کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس بات کو اپنی کتاب فتح الباری میں علما سے نقل کیا ہے۔ اس بارے میں جو بھی غور کرے گا، اس کے سامنے یہ مسئلہ بالکل واضح اور عیاں ہوجائےگا، بشرطیکہ اس کا مقصد سلف صالحین کی اتباع ہو۔

لیکن جس پر تعصب، خواہش نفس، اندھی تقلید اور سلف صالحین کے طریقہ کی طرف دعوت دینے والوں کے بارے میں بد گمانی غالب ہو، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ ہم اللہ سے اپنے اور اس طرح کے لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کرتے اور حق کو تمام چیزوں پر ترجیح دینے کی توفیق مانگتے ہیں۔ بے شک وہی سوالوں کا بہتر جواب دینے والا ہے۔

اسی طرح جو لوگ دور سے قبر شریف کی جانب رخ کر لیتے ہیں اور اپنے ہونٹوں کو سلام یا دعا کے لیے ہلاتے رہتے ہیں، تو ان کا یہ عمل بھی بدعت ہے۔ کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ دین میں وہ باتیں ایجاد کرے، جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے، کیوں کہ وہ ان کاموں کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور دوستی کے بجائے ظلم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس جیسے عمل کو بہت ہی برا سمجھتے ہوئے فرمایا: "اس امت کے بعد کے لوگوں کی اصلاح بھی انہی چیزوں سے ہوگی، جن سے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی"۔(127)

سب کو معلوم ہے کہ اس امت کے پہلے لوگوں کی اصلاح جس چیز نے کی، وہ نبی کریم ﷺ، آپ کے خلفائے راشدین اور آپ کے صحابہ و تابعین کے طریقے کی پیروی تھی اور اس امت کے بعد کے لوگ بھی اسی کو مضبوط تھام کر اور اسی پر چل کر اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالی مسلمانوں کو اس بات کی توفیق دے جس میں ان کی نجات اور سعادت اور دنیا و آخرت میں عزت ہو۔ بے شک اللہ جود و سخا والا اور کرم ومہربانی والا ہے۔

تنبیہ

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت کا حکم

قبر نبوی کی زیارت عوم الناس کے خیال کے برخلاف نہ تو حج کے لیے واجب ہے اور نہ شرط۔ بلکہ جو لوگ مسجد نبوی کی زیارت کریں یا مسجد سے قریب ہوں، ان کے لیے مسجد کی زیارت کے ساتھ قبر کی زیارت بھی مستحب ہے۔

لیکن جو لوگ مدینہ منورہ سے دور ہوں ان کے لیے جائز نہیں کہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے سفر کر کے مدینہ منورہ آئیں۔ البتہ مسجد نبوی کے لیے سفر کر کے آنا سنت ہے۔ جب مدینہ آجائیں تو آپ ﷺ کی اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی بھی زیارت کر لیں۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کی قبر کی زیارت مسجد نبوی کی زیارت کے ضمن میں داخل ہے، جیسا کہ صحیحین کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالمَسْجِدِ الأَقْصَى». "سفر صرف تین مسجدوں کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے، مسجد حرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصی۔"(128)

اگر رسول اللہ ﷺ یا کسی اور شخص کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا مشروع ہوتا، تو آپ ﷺ امت کو ضرور بتا دیتے اور اس کی فضیلت کی طرف ان کی رہنمائی کر دیتے، اس لیے کہ آپ ﷺ لوگوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ، سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والے اور سب سے زیادہ اللہ سے خوف کھانے والے انسان تھے۔ آپ ﷺ نے احکام کی پوری تبلیغ فرمادی، امت کو ہر بھلائی بتادی اور ہر برائی سے ڈرا دیا۔ کسی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے، جب کہ آپ ﷺ نے ان تینوں مسجدوں کے سوا اور کہیں کے لیے سفر کرنے سے روکا ہے اور فرمایا: «لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا، وَلَا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنتُمْ» "میری قبر کو عید (میلہ گاہ) نہ بنانا اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بنانا۔ میرے اوپر درود بھیجتے رہنا۔ تمہارا درود تم جہاں کہیں بھی رہو، مجھ تک پہنچ جائے گا۔"(129)

قبر نبوی کی زیارت کے لیے سفر کرنے کو مشروع کہنا در اصل قبر کو میلہ گناہ بنانا اور غلو و مبالغہ آرائی کی جس شرعی مخالفت کا آپ ﷺ کو اندیشہ تھا، اس کو وقوع پذیر ہونے دینا ہے۔ ویسے ہم دیکھتے بھی ہیں کہ بہت سے لوگ اسی عقیدے کی وجہ سے کہ آپ ﷺ کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کو مشروع سمجھتے ہیں اور اس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

اس باب میں جو حدیثیں بیان کی جاتی ہیں اور جن کو قبر نبوی کی زیارت کے لیے سفر کو مشروع سمجھنے والے لوگ حجت بناتے ہیں، وہ ساری حدیثیں ضعیف الاسناد بلکہ موضوع ہیں اور ان کے ضعف کی محدثین کرام جیسے دار قطنی، بیہقی اور حافظ ابن حجر وغیرہم نے نشان دہی کی ہے۔ لہذا یہ کسی طرح جائز نہیں کہ ان ضعیف احادیث کو ان صحیح احادیث کے مقابلے میں پیش کیا جائے، جو (نیکی کی نیت سے) ان تینوں مساجد کے سوا کہیں اور کے سفر کی حرمت بیان کرتی ہیں۔

آپ حضرات کی معلومات کے لیے ان موضوع احادیث میں سے کچھ حدیثیں بیان کر دی جا رہی ہیں، تاکہ آپ ان کو پہچان جائیں اور ان سے دھوکہ کھانے سے بچ جائیں :

1- "جس نے حج کیا اور میری زیارت نہیں کی اس نے مجھ پر ظلم کیا"۔

2- "جس نے میری موت کے بعد میری زیارت کی، گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔"

3- "جس نے ایک ہی سال میں میری اور میرے والد ابراہیم علیہ السلام کی زیارت کی، میں اللہ کے پاس اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔"

4- "جس نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔"

یہ اور اس قسم کی دیگر حدیثیں نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہیں۔

حافظ ابن حجر  (تلخیص الحبیر میں) اکثر روایتوں کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہيں : اس حدیث کے سارے طرق ضعیف ہيں۔

حافظ عقیلی کہتے ہیں : اس باب میں کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہيں ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بصراحت فرمایا ہے کہ یہ ساری روایتیں موضوع ہیں۔  ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا علم و حفظ اور معرفت جگ ظاہر ہے۔

اگر ان میں کوئی حدیث ثابت ہوتی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہم سے پہلے اس پر عمل کرتے، امت کو بتاتے اور اس پر عمل کی دعوت دیتے، کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیا کے بعد سب سے بہتر لوگ ہیں اور حدود الہی کا سب سے زیادہ علم انہی کو تھا۔ اللہ نے اپنے بندوں کے لیے جو شریعت بنائی ہے اس کو صحابہ سب سے زیادہ جانتے تھے اور وہ اللہ اور اس کی مخلوق کے سب سے بڑے خیر خواہ تھے۔ جب اس کے متعلق ان کی طرف سے کوئی بات منقول نہیں، تو معلوم ہوا کہ یہ عمل غیر مشروع ہے۔

اگر کوئی حدیث ان میں سے صحیح ہو بھی جائے، تو اس کو شرعی زیارت پر محمول کیا جائے گا، جس سے قبر کی زیارت ہی کے لیے سفر کرنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس سے دونوں طرح کی احادیث کے درمیان تطبیق  ہوجاتی ہے۔ ویسے بہتر علم اللہ کے پاس ہے۔

 


فصل

مسجد قبا اور بقیع کی زیارت کے مستحب ہونے کا بیان

مدینہ کی زیارت کرنے والے کے لیے مسجد قبا کی زیارت کرنا اور اس میں نماز پڑھنا بھی مستحب ہے، کیوں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث صحیحین میں ہے: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَزُورُ مَسْجِدَ قُبَاءٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا وَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ». "نبی کریم ﷺ مسجد قبا کی زیارت سواری پر اور پیدل چل کر کرتے تھے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔"(130)

سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَصَلَّى فِيهِ صَلَاةً كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ». "جس نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر مسجد قبا آکر اس میں نماز پڑھی اس کے لیے ایک عمرہ کا اجر ہے۔"(131)

اسی طرح بقیع ، شہدائے احد کی قبروں اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت بھی مسنون ہے، کیوں کہ نبی کریم ﷺ ان کی زیارت کرتے اور ان کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے : «زُورُوا القُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ بِالآخِرَةِ». "قبروں کی زیارت کرو، کیوں کہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔"(132) (صحیح مسلم)

نبی کریم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبروں کی زیارت کریں تو یہ کلمات کہيں : «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ المُؤْمِنِينَ وَالمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ العَافِيَةَ». "اے اس دیار کے رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلام ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔ ہم اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالی سے عافیت طلب کرتے ہیں۔"(133) اسے امام مسلم نے سلمان بن بریدہ عن ابیہ کى حدیث سے روایت کیا ہے۔

ترمذی نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ مدینے کی قبروں کے پاس سے گزرے، تو قبروں میں دفن لوگوں کی جانب منہ کیا اور فرمایا : «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ القُبُورِ، يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالأَثَرِ». "اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو۔ اللہ ہم کو اور تم کو بخش دے۔ تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں"۔(134)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کی شرعی زیارت کا مقصد یہ ہے کہ وہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور اس سے مردوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان کے لیے دعا اور رحمت طلب کرنے کا موقع ملتا ہے۔

لیکن اگر قبروں کى زیارت کا مقصد، قبروں کے پاس دعا کرنا، وہاں اعتکاف کرنا، ان سے حاجت روائی یا بیماروں کی شفا کا سوال کرنا یا ان کی ذات یا ان کے مرتبے وغیرہ کے واسطے سے اللہ سے کچھ مانگنا ہو، تو ایسی زیارت بدعت منکرہ ہے۔ نہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے مشروع کیا ہے اور نہ سلف صالحین نے اس پر عمل کیا ہے، بلکہ یہ ان قبیح باتوں میں سے ہے، جن سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔  آپ ﷺ کا ارشاد ہے : «زُورُوا القُبُورَ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا». "قبروں کی زیارت کرو اور (وہاں) بے ہودہ بات مت کرو۔"(135)

یہ سارے امور بدعت ہونے میں تو ایک ہیں لیکن سب کے مراتب الگ ہیں۔ کچھ تو بدعت ہیں شرک نہیں ہیں، جیسے قبروں کے پاس اللہ سے دعا کرنا اور میت کے حق اور مرتبے کے واسطے سے دعا مانگنا، جب کہ بعض شرک اکبر ہیں، جیسے مردوں کو پکارنا اور ان سے مدد مانگنا وغیرہ۔

ان باتوں کا مفصل بیان اس سے پہلے ہو چکا ہے، لہذا ان سے متنبہ رہنا چاہیے اور اللہ سے حق کی توفیق اور ہدایت مانگنی چاہیے۔ اللہ ہی توفیق وہدایت دینے والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ رب۔

اس رسالہ کی بابت ہماری یہ آخری بات تھی جس کی ہم نے املا کرا دی۔ تمام تعريفيں، اولاً وآخرًا الله ہى کے لیے ہیں۔ اللہ درود وسلام نازل کرے اپنے بندے اور رسول اور اپنى مخلوقات میں سب سے بہتر شخصیت محمد پر، آپ کی آل، صحابہ اور تا قیامت نیکی کے کاموں میں ان کى پیروى کرنے والوں پر۔

فہرست

 

مقدمۂ مؤلف 2

فصل:حج اور عمرہ کے وجوب کے دلائل اور انھیں جلد سے جلد ادا کرنے کا بیان 5

فصل:گناہوں سے توبہ کرنے اور مظالم سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت 10

فصل: میقات پہنچ کر حاجی کے کرنے کے کچھ کام 18

فصل: مکانی میقات اور اس کی تحدید 25

فصل: موسم حج کے علاوہ دوسرے دنوں میں میقات پہنچنے والے کا حکم 32

فصل:کیا بچے کا حج اس کے واسطے فرض حج کی جگہ پر کافی ہوگا؟ 36

فصل: احرام کی ممنوع اور مباح چیزوں کا بیان 40

فصل: مکہ میں آنے کے بعد حاجی کیا کرے اور مسجد حرام میں داخل ہونے کے بعد طواف کیسے کرے؟ ۵۰

فصل: آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کر منى جانے کا بیان ۶۲

فصل: ان کاموں کا بیان جن کا کرنا یوم النحر کے دن حاجیوں کے لیے افضل ہے 89

فصل: متمتع اور قارن پر دم کے وجوب کا بیان 97

فصل: حجاج وغیرہم پر امر بالمعروف واجب ہونے کا بیان 101

فصل: زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کرنے کا استحباب 113

فصل: مسجد نبوی کی زیارت کے احکام وآداب کا بیان 115

تنبیہ: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت کا حکم 134

فصل: مسجد قبا اور بقیع کی زیارت کے مستحب ہونے کا بیان 139

***


()الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر : 7469۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 8 وصحیح مسلم، حدیث نمبر : 16۔

() اس روایت کو جامع الأحادیث میں (حدیث نمبر : 31221 کے تحت) سنن سعید بن منصور کی طرف منسوب کیا گیا ہے، لیکن مجھے یہ حدیث دستیاب نسخے میں نہیں ملی۔

() یعنی : مال کی کشادگی۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 812۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 1732۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1337۔

() صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر : 1۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1520۔

() سنن نسائی، حدیث نمبر : 2620۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1773 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1349۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2449۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1015۔

() المعجم الکبیر للطبراني، حدیث نمبر 2989۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1427 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1035۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1474، اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 4040۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2985۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1342۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1539 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1189۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1218۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5891 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 257۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 258۔

() سنن نسائی، حدیث نمبر : 14۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2892 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 259۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 260۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1177۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1907۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 867۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2697 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1718۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2550 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1718۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1524 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1181۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1297۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

()یعنی : ان کے تلبیہ پکارنے کی جگہ وہی ہے جہاں سے انھوں نے احرام باندھا ہے۔

() سابقہ حدیث کا ایک حصہ۔

() اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1549 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1184۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1336۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1858۔

() ابن ابى شیبہ، جلد نمبر : 4، حدیث نمبر :444۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2518۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1841 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1179۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1838۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 1833۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1521، راوی حدیث: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1350۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1521 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1350۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1409۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1834 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1353۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1568۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 305 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1211۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3585۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2137۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 594۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2720۔ ابو هريرہ رضي الله عنہ سے مروی۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6347۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() ان الفاظ کے ساتھ اسے ابو داود (حدیث نمبر : 1554) نے ابو امامہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ لیکن اس میں ’’ومن المأثم والمغرم‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 1554۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 5074۔ حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2719۔ حدیث ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ مروی ہے۔ یہ حدیث کا ایک حصہ ہے۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3407۔ حدیث شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() مسند احمد 6/301۔ حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2713۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2722۔ حدیث زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2717، حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

() یہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ایک حصہ ہے، جس کی تخریج پہلے حدیث نمبر : 2722 میں گزر چکی ہے۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3591۔ اس حدیث کو زیاد بن علاقہ نے اپنے چچا سے روایت کیا ہے۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3483۔ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3563۔ حدیث علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2721۔ حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2725۔ حدیث علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 3846۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1154۔ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 3370۔ حدیث کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1348۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1218۔ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1539 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1189۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1556 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1211۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1572۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1215۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 83 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1306۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 2015۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 3062۔ حدیث جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2473۔

() یعنی ابوداود طیالسی۔ انھوں نے اسے ابو ذر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے قصے والی حدیث میں بھی روایت کیا ہے۔ دیکھیں : مسند ابو داود طیالسی حدیث نمبر : 459۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 927۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 69۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1998۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2420 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 651۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 653۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 552۔ حدیث عبد اللہ بن ام مکتوم سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 654۔

() سنن ابوداود، حدیث نمبر : 551۔ حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1521۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1350۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 3251۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 3253۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2679 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1646۔

() مسند احمد، جلد : 5، حدیث نمبر : 428۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4980۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 2117۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1893۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 3009 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2406۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1755 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1328۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 867۔ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1190 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1394۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1395۔

() مسند احمد، حدیث نمبر : 5, جلد : 4۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 1406۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1195، اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1390۔ حدیث عبد اللہ بن زید مازنی سے مروی ہے۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر :2041۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 3236۔

() اس حدیث کی تخریج گزر چکی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 438، حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 615 اور صحیح مسلم : 437۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 430۔ حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ابوداود: 679۔ اس کے الفاظ ہیں : "جب لوگ لگاتار پہلی صف سے پیچھے رہتے ہيں، تو اللہ بھی انھیں (عمل کے میدان میں پیچھے کر کے) جہنم میں ڈال دیتا ہے"۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1631۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر :2041۔

() سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4607۔ حدیث عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() زین العابدین کی روایت کی نسبت شیخ نے حافظ مقدسی کی جانب کی ہے۔ لیکن انہوں نے حدیث کو بغیر واقعہ (قصہ) کے نقل کیا ہے۔ امام احمد نے بھی اسے اپنی مسند 2/367 میں روایت کیا ہے۔

() إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان، 1/ 363۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1189۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1397۔

() اس حدیث کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے۔

() صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1193 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1399۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 1412۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 976۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 975۔

() سنن ترمذی، حدیث نمبر : 1035۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 977۔ حدیث بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، حدیث نمبر : 55۔