زبانیں زبانیں
رہنمائی سے متعلق مواد
الدعاء ويليه العلاج بالرقى من الكتاب والسنة
كتاب "الدعاء ويليه العلاج بالرقى من الكتاب والسنة" هو مؤلف علمي للشيخ سعيد بن عل...
التحقيق والإيضاح لكثير من مسائل الحج والعمرة والزيارة...
كتاب مترجم إلى اللغة الأردية، يشتمل على إيضاح وتحقيق لكثيرٍ من مسائل الحج والعمر...
رسالتان موجزتان في الزكاة والصيام
رسالتان موجزتان في الزكاة والصيام : هذا الكتيب يحتوي على رسالتين وهما: الرسالة ا...
منتخب قرآنی آیات
"اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے"۔
"اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے"۔
"اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے"۔
"(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے"۔
"اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم وزیادتی سے روکتا ہے ، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو"۔
منتخب احادیث نبویہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے خو ب اچھی طرح وضو کیا اور پھر جمعہ پڑ ھنے آیا اور خاموش ہو کر خطبہ سنا تو اس کے جمعہ سے جمعہ تک کے اور تین دن زیادہ کے گناہ معا ف کر دیے جا تے ہیں اور جس نے (جمعہ کے دوران) کنکری کو چھوا اس نے لغو کام کیا ۔ [صحیح مسلم]
کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔
عثمان رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا ۔ [صحیح مسلم : 228]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایمان کی تہتّر سے زیادہ -یا ترسٹھ سے زیادہ- شاخیں ہیں، جن میں سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ والی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔ [صحيح مسلم – 35]
مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا ۔




