رِسَالَةٌ
فِي الدِّمَاءِ الطَّبِيعِيَّةِ لِلنِّسَاءِ
عورتوں کے طبعی خون کے احکام
بِقَلَمِ فَضِيلَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ
مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ العُثَيْمِينِ
غَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَلِوَالِدَيْهِ وَلِلمُسْلِمِينَ
تالیف فضیلۃ الشیخ علّامہ
محمد بن صالح العثیمین
اللہ تعالیٰ ان کی، ان کے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے
بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد چاہتے ہیں، اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، اور اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت عطا کردے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔
امّا بعد: یقیناً حیض، استحاضہ اور نفاس کا خون جو عورت کو لاحق ہوتا ہے‘ ان اہم امور میں سے ہے کہ جن کو بیان کرنے‘ جن کے احکام جاننے اور ان سے متعلق اہل علم کے صحیح اقوال پیش کرنے کی ضرورت وحاجت برقرار ہے۔ اس بارے میں جس قول کو راجح یا کمزور قرار دیا جائے گا اس پر کتاب وسنت کی روشنی میں اعتماد کیا جائے گا۔
1- کیوں کہ یہ دونوں بنیادی مصادر ہیں جن پر ایسے احکامِ الہی کی بنیاد رکھی گئی ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عبادت کا فرمان جاری کیا اور جن کا انھیں مکلّف ٹھہرایا ہے۔
2- اسی طرح کتاب وسنت پر اعتماد کرنے سے دل کا اطمینان وسکون، انشراح صدر، نفس کی خوشی اور ذمہ داری سے سبکدوشی حاصل ہوتی ہے۔
3- اس لیے بھی کہ (کتاب وسنت کے علاوہ) جو دوسرے مصادر ہیں ان کے لیے حجت تلاش کی جاتی ہے نہ کہ خود ان کو حجت مانا جاتا ہے۔
کیوں کہ حجت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام میں اور اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فرامین میں ہے، بشرطیہ کہ وہ فرامین کتاب وسنت کے مخالف نہ ہوں اور دوسرے صحابی کا قول بھی اس کے خلاف نہ ہو‘ اگر وہ کتاب وسنت کے خلاف ہو تو پھر کتاب وسنت میں موجود حکم کو ماننا واجب ہوگا، اگر دوسرے صحابی کا قول اس کے خلاف ہو تو پھر ان دونوں اقوال کے درمیان ترجیح مطلوب ہوگی اور ان دونوں میں جو راجح قول ہوگا اس کو لے لیا جائے گا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿...فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا﴾
’’۔۔۔اگر تم کسی چیز میں جھگڑا کر بیٹھتے ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ انجام کے اعتبار سے بہتر اور اچھا ہے۔‘‘ [نساء : 59]۔
یہ مختصر سا رسالہ ہے جس میں ’’ عورتوں کے طبعی خون کے احکام ‘‘بیان کیے گیے ہیں ۔ یہ رسالہ مندرجہ ذیل فصول پر مشتمل ہے:
پہلی فصل: حیض کے معانی اور حکمت کے متعلق۔
دوسری فصل: حیض کے وقت اور مدت کے متعلق۔
تیسری فصل: حیض پر اچانک طاری ہونے والے امور کے متعلق۔
چوتھی فصل: حیض کے احکام کے متعلق۔
پانچویں فصل: استحاضہ اور اس کے احکام کے متعلق۔
چھٹی فصل: نفاس اور اس کے احکام کے متعلق۔
ساتویں فصل: دواؤں کے ذریعے حیض کو روکنے یا لانے اور دواؤں کے ذریعے حمل کو روکنے یا ساقط کرنے کے متعلق۔
پہلی فصل: حیض کا معنی اور اس کی حکمت
لغوی معنی: لغت میں ’’حیض‘‘ (Menses) کا معنی کسی چیز کا بہنا اور اس کا جاری ہونا ہے۔
شرعی معنی: ’’وہ خون جو عورت کو طبیعت کے تقاضے کے مطابق بغیر کسی سبب کے معلوم اوقات میں آتا ہے۔‘‘ اور یہ طبعی خون ہے، مرض، زخم، گرنا اور ولادت اس کے آنے کا سبب نہیں ہیں، چوں کہ یہ طبعی خون ہے تو یہ عورت کی حالت، ماحول اور فضا کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، اسی لیے خواتین اس سلسلے میں واضح طور پر مختلف ہوتی ہیں۔
حیض کی حکمت: بچہ جب اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اس کے لیے اس طرح غذا حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے جس طرح رحم مادر سے باہر آنے کے بعد انسان غذا حاصل کرتا ہے۔ مخلوق میں سب سے زیادہ بچہ پر رحم کرنے والی (ماں) کے لیے بھی ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچے کو کوئی خوراک پہنچا سکے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عورت کے اندر خون کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پیدا کردیتا ہے جس کے ذریعہ بچہ ماں کے پیٹ میں غذا حاصل کرتا ہے، اور اسے کھانے اور ہضم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی‘ یہ خون کے ذرات بچے کے جسم میں ناف کے ذریعہ پہنچتے ہیں جہاں سے خون بچہ کی رگوں میں سرایت کرتا ہے تو بچہ اس سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ (فتبارك الله أحسن الخالقين)۔
اس حیض میں یہی حکمت پنہاں ہے، اسی وجہ سے جب خاتون حاملہ (Pregnant) ہوتی ہے تو اسے حیض آنا بند ہوجاتا ہے، نادر صورتیں اس سے مستثنٰی ہیں، اسی طرح ایامِ رضاعت میں اکثر عورتوں کا حیض بند ہوجاتا ہے بطور خاص رضاعت کے ابتدائی ایام میں۔
دوسری فصل: حیض کے وقت اور مدت کے متعلق
اس فصل میں دو موضوع پر بات ہوگی:
پہلا موضوع: وہ عمر جس میں حیض آتا ہے۔
دوسرا موضوع: حیض کی مدت کے متعلق۔
پہلا موضوع: حیض کا وقت: عام طور پر جس عمر میں عورت کو حیض آتا ہے وہ بارہ (12) سے لیکر پچاس (50) سال کے درمیان ہے۔ کبھی کبھار عورت اپنی حالت، ماحول اور آب وہوا کے اعتبار سے مذکورہ مدت سے پہلے یا بعد میں بھی حائضہ ہوجاتی ہے۔
علماء کرام نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ کیا اس عمر کی کوئی حد متعین ہے جس میں خاتون کو حیض آتا ہے؟ تاکہ معلوم ہو سکے کہ عورت کو اس عمر سے پہلے یا بعد میں حیض نہیں آتا، اسی طرح جو خون حد مقررہ سے پہلے یا بعد میں آئے گا کیا اسے حیض کا خون نہیں بلکہ فاسد خون شمار کیا جائے گا؟
اس بارے میں علماء کرام نے اختلاف کیا ہے، اختلاف ذکر کرنے کے بعد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ سب میرے نزدیک غلط ہے کیوں کہ تمام مراحل میں معتمد بات حیض کا پایا جانا ہے، تو خون کى جو بھى مقدار جس کسی بھى حالت اور عمر میں پائى جائے گى اس کو حیض شمار کرنا واجب ہے۔‘‘ والله أعلم۔(1)
جو بات امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے وہی درست ہے اور اسی کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے،(2) چنانچہ جب بھی عورت حیض کا خون دیکھے گی تو وہ حائضہ ہوگی، اگرچہ اس کی عمر نو (9) سال سے کم یا پچاس (50) سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حیض کے احکام حیض آنے پر معلق کیے ہیں‘ اس کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں کی، اس لیے اس باب میں حیض آنے کو مرجع ماننا واجب ہے جس پر احکام معلق کیے گئے ہیں‘ نیز حیض کو متعین عمر کے ساتھ جوڑنے کرنے کے لیے کتاب وسنت کی دلیل ضروری ہے، جبکہ اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
دوسرا موضوع حیض کی مدت یعنی حیض کے وقت کی مقدار سے متعلق ہے۔
اس بارے میں علماء کرام کے تقریباً چھ یا سات اقوال ہیں۔ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ایک گروہ نے کہا کہ حیض کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت کی حد مقرر نہیں ہے۔‘‘(3)
میں کہتا ہوں: یہ قول امام دارمی کے گزشتہ قول کی طرح ہی ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسی کو اختیار کیا ہے کیوں کہ کتاب وسنت اور قیاسِ صحیح اسی پر دلالت کرتے ہیں۔
پہلی دلیل: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذٗى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ...﴾
’’وہ آپ (ﷺ) سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو وہ گندگی ہے، حیض کے ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ...‘‘ [سورۂ بقرہ: 222]۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ عز وجل نے رکنے کی انتہا ’’طہر‘‘ (پاکی) کو بنایا ہے اور ایک رات اور دن، یا تین دن یا پندرہ دن کو غایت نہیں بنایا‘ جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت حیض کا پایا جانا یا نہ پایا جانا ہی ہے۔ چنانچہ جب بھی حیض پایا جائے گا حکم ثابت ہوجائے گا اور جب خاتون حیض سے پاک ہوجائے گی تو حیض کے احکام بھی زائل ہوجائیں گے۔
دوسری دلیل: صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (جب وہ عمرہ کے احرام کی حالت میں حائضہ ہوگئی تھیں) فرمایا: «افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي». قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرَتْ، فَأَفَاضَتْ. ’’طواف کے علاوہ ہر وہ عمل کرو جو کہ ایک عام حاجی کرتا ہے یہاں تک کہ تم پاکی حاصل کر لو۔‘‘ فرماتی ہیں: قربانی کے دن پاک وہ پاک ہوگئی تھی، چنانچہ انہوں نے طوافِ افاضہ کیا۔ مکمل حدیث(4)۔
صحیحین میں ہے کہ آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «انتَظِرِي فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ»، ’’انتظار کرو، پھر جب حیض سے پاک ہو جاؤ تو مقامِ تنعیم کی طرف نکل جانا۔‘‘ (احرامِ عمرہ کے لیے)(5)۔ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے طواف نہ کرنے کی غایت ’’طہر‘‘ (پاکی) بنائی ہے، اور کسی متعین مدت کو غایت نہیں بنایا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ حیض کے ہونے یا نہ ہونے پر ہی حیض کا حکم مرتب ہوتا ہے۔
تیسری دلیل: یقیناً حیض کی مدت کے جو اندازے اور تفصیلات فقہاء کرام نے اس مسئلہ میں ذکر کیا ہے‘ وہ کتاب وسنت میں موجود نہیں ہیں‘ جب کہ حاجت بلکہ ضرورت انہیں بیان کرنے کی متقاضی تھی۔ اگر ان ’’اندازے اور تفصیلات‘‘ کا تعلق ایسے امور سے ہوتا جن کا سمجھنا اور ان کے ذریعہ اللہ کی بندگی کرنا بندوں پر واجب ہوتا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ ضرور ہر کسی کے لیے انہیں واضح کر دیتے، کیوں کہ اس پر بہت سے اہم احکام مرتب ہوتے ہیں جیسے نماز، روزہ، نکاح، طلاق اور وراثت وغیرہ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ نے نمازوں کی تعداد، اوقات، رکوع اور سجود، زکوٰۃ نیز جن مالوں میں زکاۃ واجب ہوتا ہے ان کو، اسى طرح زکاۃ کے نصاب، مقدار اور مصارف کو اور روزہ‘ اس کی مدت اور وقت کو، اور حج وغیرہ کے احکام کو بیان کیا ہے۔ حتی کہ کھانے پینے، سونے، جماع کرنے اور بیٹھنے، گھر میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کے آداب اور قضائے حاجت کے آداب بھی بیان کیے ہیں، یہاں تک کہ کتنی دفعہ استنجا کرنا ہے اس کی تعداد بھی بیان کر دی ہے، علاوہ ازیں ایسے تمام چھوٹے اور بڑے امور بیان کر دیے ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کیا اور اپنے مومن بندوں پر نعمت کو مکمل کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿...وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ...﴾
’’۔۔۔اور ہم نے آپ پر جو کتاب اتاری ہے وہ ہر چیز کو بیان کرنے والی ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ نحل: 89]۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿...مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلَّ شَيْءٍ...﴾
’’۔۔۔یہ قرآن کوئی من گھڑت بات نہیں ہے بلکہ یہ پہلی (کتب کی) تصدیق کرنے والا اور ہر چیز کی تفصیل بیان کرنے واﻻ ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ يوسف: 111]۔
جب حیض کی مدت کے یہ اندازے اور تفصیلات قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ میں نہیں پائے جاتے ہیں تو واضح ہوا کہ ان اندازوں اور تفاصیل پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ اعتماد صرف حیض کے نام پر کیا جائے گا جس کے وجود اور عدم وجود پر شرعی احکام معلق کیے گئے ہیں۔ یہ دلیل یعنی کتاب وسنت میں حکم کا نہ پایا جانا اس کے عدمِ اعتبار کی دلیل ہے، یہ دلیل آپ کو اس مسئلہ اور اس کے علاوہ دوسرے علمی مسائل میں بھی فائدہ دے گی کیوں کہ احکامِ شرعیہ صرف اور صرف دلیلِ شرعی یعنی کتاب اللہ، سنتِ رسول ﷺ، معروف اجماع اور قیاسِ صحیح سے ثابت ہوتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک’’قاعدہ‘‘ کے تحت فرمایا: ’’ان میں سے ایک حیض کا نام بھی ہے‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے کتاب وسنت میں متعدد احکام معلق کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے حیض کی اقل اور اکثر مدت کی اور دو حیضوں کے درمیان طہر کی تعیین نہیں کی ہے جب کہ پوری امت کو اس کی ضرورت تھی نیز لغت سے بھی اس کی تعیین نہیں ہوتی ہے‘ چنانچہ جس نے اس کی کوئی حد مقرر کی اس نے قرآن وسنت کی مخالفت کی۔‘‘ اھ۔(6)
چوتھی دلیل: اعتبار یعنی عمومی قیاسِ صحیح، اللہ تعالیٰ نے حیض کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ’’أذی‘‘ (گندگی) ہے جب بھی حیض پایا جائے گا تو ’’أذی‘‘ موجود ہوگی، دوسرے اور پہلے دن کے درمیان، تیسرے اور چوتھے دن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، اسى طرح سے سولہویں اور پندرہویں دن کے درمیان اور اٹھارہویں اور سترہویں دن کے درمیان بھى کوئی فرق نہیں ہے۔ ’’حیض‘‘ حیض ہے اور ’’أذی‘‘ أذی ہے، علت دونوں ایام میں بالکل یکساں ہے تو دو دنوں کے درمیان حکم میں فرق کرنا کیسے صحیح ہوگا باوجود اس کے کہ دونوں دن علت میں برابر ہیں؟ کیا یہ قیاسِ صحیح کے مخالف نہیں ہے؟ کیا دونوں ایام کے علت میں متساوی ہونے کی وجہ سے دونوں کے حکم میں برابری قیاسِ صحیح کا تقاضا نہیں ہے؟
پانچویں دلیل: حد مقرر کرنے والے حضرات کے اقوال میں اختلاف۔ حد مقرر کرنے والوں کے اقوال کا اختلاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس مسئلہ میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی طرف لوٹنا واجب ہو۔ بلکہ یہ محض اجتہادی احکام ہیں جو خطا وصواب کا احتمال رکھتے ہیں۔ ان احکام میں کوئی حکم ایسا نہیں جو دوسرے سے زیادہ قابلِ اتباع ہو، اور اختلاف کے وقت صرف کتاب وسنت ہی ہمارا مرجع ہیں۔
جب اس قول کی قوت واضح ہوچکی کہ حیض کی اقل یا اکثر مدت کی کوئی حد مقرر نہیں اور یہی قول راجح ہے تو جان لیں کہ ہر وہ طبعی خون جسے عورت بغیر کسی سبب مثلاً زخم وغیرہ کے دیکھے تو وہ زمانہ اور عمر کا اندازہ لگائے بغیر حیض کا خون ہوگا۔ ہاں اگر وہ خون عورت کو جاری رہے اور کبھی ختم نہ ہو یا مہینہ میں ایک دن یا دو دن تھوڑی مدت کے لیے رک جائے تو وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔ عنقریب استحاضہ اور اس کے احکام کا بیان آئے گا۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ)۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’رحم (بچہ دانی) سے جو خون بھی نکلتا ہے اصل میں وہ حیض ہی ہے الّا یہ کہ کوئی ایسی دلیل ہو جو واضح کردے کہ یہ استحاضہ کا خون ہے۔‘‘(7)
آپ نے مزید فرمایا: ’’جو بھی خون رحم سے خارج ہو وہ حیض ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ بیماری یا زخم کا خون ہے۔‘‘(8) اﻫ
یہ قول جس طرح دلیل کے اعتبار سے راجح ہے اسی طرح یہ فہم وادراک کے زیادہ قریب اور عمل وتطبیق کے اعتبار سے زیادہ آسان ہے‘ بنسبت ان تحدیدات کے جن کو حد مقرر کرنے والوں نے ذکر کیا ہے۔ جو قول ایسا ہو تو وہ قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے کیوں کہ وہ دینِ اسلام کی روح اور قاعدہ کے موافق ہے اور دینِ اسلام کا قاعدہ آسانی اور سہولت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿...وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلدِّينِ مِنۡ حَرَجٖ...﴾
’’۔۔۔اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے دین میں کوئی تنگی نہیں بنائی۔‘‘ [سورٔ حج: 78]۔
آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا». ’’بے شک دین آسان ہے جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔ چنانچہ اپنے عمل میں راستگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو، اور خوش ہو جاؤ۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)۔(9)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ میں یہ بات تھی:”جب آپ ﷺ کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا جاتا تو ان میں جو زیادہ آسان ہوتا اسے اختیار کرتے جب تک کہ اس میں گناہ نہ ہوتا۔“(10)
حاملہ کا حیض:
غالبا اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب خاتون کو حمل ٹھہرتا ہے تو اسے خون آنا بند ہوجاتا ہے، امام احمد بن محمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’خواتین حیض رکنے سے حمل کو جان لیتی ہیں۔‘‘(11)
معلوم ہوا کہ جب حاملہ خاتون خون دیکھے اور اگر وہ وضع حمل سے کچھ مدت پہلے ہو مثلاً دو دن یا تین دن اور اس خون کے ساتھ دردِ زہ بھی ہوتا ہو تو وہ نفاس کا خون ہوگا۔ اگر وہ خون وضع حمل سے کافی مدت پہلے ہو یا وضع حمل سے تھوڑی مدت پہلے ہو لیکن اس کے ساتھ دردِ زہ نہ ہو تو وہ نفاس کا خون نہیں ہوگا لیکن کیا وہ حیض کا خون ہوگا جس کے لیے حیض کے احکام ثابت ہوں گے؟ یا وہ فاسد خون ہوگا جس پر حیض کے احکام نہیں جاری کیے جائیں گے؟
اس مسئلہ میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے، درست بات یہ ہے کہ وہ حیض ہی کا خون ہے بشرطیکہ وہ عورت کو حیض آنے کے معروف طریقے کے مطابق آئے، کیوں کہ اصل میں جو بھی خون عورت کو لاحق ہوتا ہے وہ حیض کا ہی ہوتا ہے جب تک کہ اس کا کوئی ایسا سبب نہ ہو جو حیض ہونے سے مانع ہو اور کتاب وسنت میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو حاملہ کو حیض آنے کی نفی کرتی ہو۔
یہی امام مالک رحمہ اللہ(12) اور امام شافعی رحمہ اللہ(13) کا مذہب ہے اور اسی قول کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے، آپ نے ’’الاختیارات‘‘ (صفحہ: 30) میں فرمایا: ’’امام بیہقی رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے ایک روایت اس بارے میں نقل کی ہے بلکہ انھوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کی طرف رجوع کرلیا تھا۔‘‘
اسی بنا پر حاملہ کے حیض کے لیے وہی احکام ثابت ہوں گے جو غیر حاملہ کے حیض کے لیے ثابت ہوتے ہیں، البتہ دو مسائل میں حکم اس سے مستثنى ہو گا:
پہلا مسئلہ: طلاق، ایسی غیر حاملہ کو حالتِ حیض میں طلاق دینا حرام ہے جس پر عدت لازم ہو، جب کہ حاملہ کے لیے یہ حرام نہیں ہے۔ کیوں کہ غیر حاملہ کو حالتِ حیض میں طلاق دینا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے خلاف ہے:
﴿...فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾
’’۔۔۔۔انھیں ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں طلاق دو۔۔۔‘‘ [سورۂ طلاق: 1]، مگر حاملہ کو حیض میں طلاق دینا اس کے خلاف نہیں ہے، کیوں کہ جو حاملہ کو طلاق دیتا ہے وہ عدت کے مطابق طلاق دیتا ہے، چاہے وہ حیض سے ہو یا اس سے پاک ہو اس لیے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ حاملہ کو جماع کے بعد طلاق دینا جائز ہے جب کہ غیر حاملہ کا حکم اس کے بر خلاف ہے۔
دوسرا مسئلہ: حاملہ کے حیض سے عدت ختم نہیں ہوتی برخلاف غیر حاملہ کے حیض کے، کیوں کہ حاملہ کی عدت وضع حمل سے ہی ختم ہوتی ہے چاہے اسے حیض آئے یا نہ آئے، کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿...وَأُوْلاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ...﴾
’’۔۔۔اور حاملہ خواتین کی عدت وضعِ حمل ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ طلاق: 4]۔
تیسری فصل: حیض پر اچانک طاری ہونے والے امور کے متعلق
وہ امور جو حیض پر طاری ہوتے ہیں ان کی کئی قسمیں ہیں:
پہلی قسم: کمی یا زیادتی، مثلاً خاتون کی عادت (ماہواری میں) چھ دن ہو مگر اسے سات دن تک خون جاری رہے یا عادت سات دن ہو لیکن وہ چھٹے دن پاک ہوجائے۔
دوسری قسم: عادت سے پہلے آجائے یا بعد میں آئے، مثلاً : عورت کی ماہواری مہینہ کے آخر میں ہو لیکن وہ مہینہ کے شروع میں حیض دیکھے یا اس کی عادت شروع مہینہ میں ہو لیکن وہ مہینہ کے آخر میں حیض دیکھے۔
ان دونوں قسموں کے حکم کے بارے میں اہلِ علم نے اختلاف کیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب بھی خاتون خون دیکھے تو وہ حائضہ ہوگی اور جب بھی حیض سے پاک ہوجائے تو وہ پاک سمجھی جائے گی چاہے اسے اپنی عادت سے زیادہ حیض آئے یا کم آئے اور چاہے اسے اپنی عادت سے پہلے حیض آئے یا بعد میں آئے۔ اس کی دلیل کا ذکر گزشتہ فصل میں گزر چکا ہے جہاں شارع علیہ السلام نے حیض کے احکام کو حیض کے وجود پر معلق کیا ہے۔
یہی امام شافعی رحمہ اللہ(14) کا مذہب ہے‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ(15) نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی مذہب کو ’’صاحب المغنی‘‘ نے اپنی کتاب میں قوی قرار دیا ہے اور اس کی تائید کی ہے اور فرمایا: ’’اگر دین میں مذکورہ وجہ پر عادت کا اعتبار ہوتا تو اسے نبی کریم ﷺ ضرور اپنی امت کے لیے بیان کرتے اور اس کے بیان میں تاخیر نہ کرتے، کیوں کہ ضرورت کے وقت کسی چیز کو بیان نہ کرنا جائز نہیں ہے جب کہ آپﷺ کی ازواجِ مطہرات اور دوسری خواتین ہر وقت اس کے بیان کی محتاج تھیں اور آپ ﷺ اس کے بیان سے غافل نہ تھے۔ مستحاضہ کے علاوہ دوسری خواتین کے بارے میں آپ ﷺ سے عادت کا ذکر اور بیان ثابت نہیں ہے"۔(16)
تیسری قسم: پیلاپن یا مٹیالہ پن، خاتون زخم کے پانی کی مانند زرد رنگ کا مادہ یا مٹیالے رنگ کا مادہ دیکھے، اگر یہ حیض کے درمیان ہو یا اس کے ساتھ متصل ’’طہر‘‘ سے پہلے ہو تو وہ حیض ہوگا، اور اس کے لیے حیض کے احکام ثابت ہوں گے، لیکن اگر وہ ’’طہر‘‘ کے بعد ہو تو وہ حیض کا خون نہیں ہوگا، کیوں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے: ’’ہم طہارت کے بعد زرد اور مٹیالے رنگ کو کچھ نہیں شمار کرتی تھیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو داود نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے،(17) امام بخاری نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے مگر صحیح بخاری میں (بعد الطھر) یعنى ’’طہر کے بعد‘‘ کا لفظ نہیں ہے، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے یوں ’’ترجمۃ الباب‘‘ قائم کیا ہے: ’’ایامِ حیض کے علاوہ دوسرے دنوں میں زرد رنگ اور مٹیالے رنگ (کے خون) کا بیان۔‘‘(18)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بخارى کى شرح ’’فتح الباری‘‘ میں کہا: "امام بخاری اپنے اس باب کے ذریعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گزشتہ حدیث (جس میں انھوں نے فرمایا کہ خواتین سفید پانی دیکھ لیں) کے درمیان اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (جو اس باب میں مذکور ہے) کے درمیان تطبیق کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، وہ اس طرح کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ جب عورت زرد یا مٹیالے رنگ کا خون ایامِ حیض میں دیکھے گی اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو ایامِ حیض کے علاوہ دوسرے ایام پر محمول کیا جائے گا"۔(19) اﻫ
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث جس کی طرف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب (20) سے قبل صیغہ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے، خواتین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف (دِرَجَہ) يعنى "شرم گاہ میں رکھنے کى چیز جس سے پتہ چلتا کہ حیض کا اثر باقی ہے یا نہیں" روانہ کرتی تھیں، اس میں روئی ہوتی جس میں زرد رنگ کا خون لگا ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی: ’’جلدی مت کرو جب تک تم سفید پانی نہیں دیکھ لو۔‘‘(21)
’’سفید پانی‘‘ سے مراد وہ سفید پانی ہے جس کو عورت کا ’’رحم‘‘ حیض کے ختم ہونے کے بعد باہر نکالتا ہے۔
چوتھی قسم: حیض میں رکاوٹ، خاتون کو رک رک کر حیض آئے‘ وہ اس طرح کہ عورت ایک دن خون دیکھے اور ایک دن صفائی وپاکی دیکھے‘ اس کی دو حالتیں ہیں:
پہلی حالت: یہ ہے کہ صورتِ حال ہمیشہ ایسے ہی رہتی ہو تو یہ استحاضہ کا خون ہوگا۔ اگر عورت ایک دن خون اور ایک دن ’’طہر‘‘ دیکھے تو اس کے لیے استحاضہ کے احکام ثابت ہوں گے۔
دوسری حالت: یہ ہے کہ عورت کو برابر خون جاری نہ رہے بلکہ بعض اوقات خون آئے اور اس کے لیے ’’درست طہر‘‘ کا وقت معلوم ہو، تو اس ’’پاکی‘‘ کے بارے میں علماء کرام نے اختلاف کیا ہے کہ آیا یہ ’’طہارت‘‘ ہے یا اس پر حیض کے احکام جاری ہوں گے؟
امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ان کے دو اقوال میں سے صحیح قول کے مطابق یہ ہے کہ اس پر حیض کے احکام جاری ہوں گے اور یہ وقفہ حیض کا ہو گا(22)، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور صاحب الفائق نے اسی کو اختیار کیا ہے(23), اور یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے(24)، یہ اس طرح کہ ایک تو عورت نے خالص سفیدی نہیں دیکھی نیز اس لیے کہ اگر اس کو ’’طہر‘‘ بنالیا جائے تو اس سے پہلے کا جو خون ہوگا اسے بھی حیض کہنا ہوگا اور اس کے بعد آنے والے خون کو بھی‘ جب کہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، ورنہ پانچ دن میں حیض والی عدت ختم ہو جائے گی۔ اور اس لیے بھی کہ اگر اس کو ’’طہر‘‘ مان لیا جائے تو ہر دو دنوں میں غسل وغیرہ کرنے کی وجہ سے تنگی اور مشقت حاصل ہوگی‘ حالانکہ شریعتِ مطہرہ میں تنگی ومشقت کا تصور نہیں ہے۔ ولله الحمد۔
حنابلہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ خون حیض شمار ہوگا اور پاکی وصفائی ’’طہر‘‘ شمار ہوگی۔ ہاں اگر ان دونوں کا مجموعہ حیض کے اکثر ایام کو تجاوز کرجائے تو وہ خون جو حیض سے تجاوز کر جائے وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔(25)
علامہ ابن قدامہ نے ’’المغنی‘‘ میں فرمایا: ’’قابلِ توجہ ہے کہ خون کا انقطاع جب ایک دن سے کم ہو تو وہ ’’طہر‘‘ نہیں ہوگا اس روایت کی بنا پر جس کو ہم نے ’’نفاس‘‘ میں بیان کیا ہے کہ ایک دن سے کم کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا اور یہی قول صحیح ہے (ان شاء اللہ) کیوں کہ خون کبھی جاری رہتا ہے اور کبھی رک جاتا ہے، اور ایسی خاتون پر غسل واجب کرنا (جو وقفہ وقفہ سے پاک ہوتی ہو) حرج اور تنگی ہے جو اللہ کے اس فرمان کے مخالف ہے:
﴿...وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلدِّينِ مِنۡ حَرَجٖ...﴾
’’۔۔۔اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔۔۔‘‘ [سورۂ حج: 78]، علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مزید فرمایا: ’’اسی بنا پر اگر خون ایک دن سے کم پر ختم ہوجائے تو وہ ’’طہر‘‘ نہیں ہوگا الا یہ کہ خاتون ایسی چیز دیکھے جو انقطاع پر دلالت کرے، مثلاً عورت کی آخری عادت میں خون منقطع ہو یا پھر وہ سفید پانی دیکھ لے۔‘‘(26) اﻫ
صاحب المغنی کا یہ قول دو قولوں کے درمیان معتدل قول ہے، والله أعلم بالصواب۔
پانچویں قسم: خون میں سوکھا پن، وہ اس طرح کہ خاتون صرف رطوبت دیکھے۔ یہ رطوبت اگر ’’طہر‘‘ سے پہلے حیض کے دوران ہو یا حیض سے متصل ہو تو یہ حیض ہوگا اور اگر یہ رطوبت ’’طہر‘‘ کے بعد ہو تو یہ حیض نہیں ہوگا، کیوں کہ ’’طہر‘‘ کی غایت یہ ہے کہ وہ زردی یا مٹیالے رنگ سے لاحق ہو اور (زردی اور مٹیالے) کا یہی حکم ہے۔
چوتھی فصل: حیض کے احکام کے بیان میں
حیض کے احکام بہت زیادہ ہیں جو کہ بیس (20) سے زائد ہیں۔ ان احکام میں سے جو ہم ضروری اور اہم خیال کرتے ہیں وہ یہاں ذکر کر رہے ہیں:
پہلا حکم: نماز: حائضہ خاتون پر فرض اور نفل نماز حرام ہے‘ وہ نماز نہیں پڑھ سکتی اور نہ ہی اس پر نماز واجب ہے، الا یہ کہ وہ ایک رکعت کے بقدر نماز کا وقت طہر میں پالے‘ خواہ وہ اول وقت میں ہو یا آخر وقت میں۔
اولِ وقت کی مثال: ایک خاتون کو غروبِ شمس کے بعد ایک رکعت کی مقدار کے بعد حیض آیا تو جب حیض سے پاک ہوگی اس پر نمازِ مغرب کی قضا واجب ہے کیوں کہ حیض آنے سے پہلے اس نے نماز کے وقت میں ایک رکعت کی مقدار کو پالیا تھا۔
آخری وقت کی مثال: اگر کوئی خاتون طلوعِ شمس سے ایک رکعت کی مقدار پہلے حیض سے پاک ہو جائے تو جب وہ طہارت حاصل کر لے گی اس پر نمازِ فجر کی قضا واجب ہوگی کیوں کہ اس نے نماز کے وقت کا اتنا حصہ پا لیا جو ایک رکعت کے لیے کافی ہے۔
اگر حائضہ عورت نے وقت کا اتنا حصہ پایا کہ جس میں ایک رکعت مکمل پڑھنے کی گنجائش نہیں ہے مثال کے طور پر پہلی مثال میں غروبِ شمس کے ایک ہی لحظہ کے بعد عورت کو حیض آجائے یا دوسری مثال میں طلوعِ شمس سے ایک ہی لمحہ قبل عورت طہارت حاصل کر لے تو اس پر نماز واجب نہیں ہو گی کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ». ’’جس نے نماز کی ایک رکعت پالی یقیناً اس نے نماز پالی۔‘‘ (متفق علیہ)(27)، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ایک رکعت سے کم نماز پائی وہ نماز کو پانے والا نہیں ہے۔
جب کسی عورت نے نمازِ عصر کے وقت ایک رکعت کا وقت پایا تو کیا اس خاتون پر نمازِ عصر کے ساتھ ظہر کی نماز واجب ہوگی؟ یا نمازِ عشاء کے وقت ایک رکعت پالی تو کیا اس پر نمازِ عشاء کے ساتھ مغرب کی نماز واجب ہوگی؟
اس بارے میں علماء کرام کا اختلاف ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اس پر نماز واجب نہیں ہوگی سوائے اسی نماز کے جو اس نے پائی ہے اور وہ صرف عصر اور عشاء کی نماز ہے، نبی ﷺ کے اس فرمان کے مطابق: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ». ’’جس شخص نے غروبِ شمس سے پہلے عصر کی ایک رکعت پائی یقینا اس نے عصر کی نماز پائی۔‘‘ متفق علیہ(28)، تو اس حدیث میں آپ ﷺ نے ’’فقـد أدرك الظّهـر والعصر‘‘ (یقیناً اس نے ظہر اور عصر کی نماز پائی) کے الفاظ نہیں فرمائے۔
تو آپ ﷺ نے اس پر ظہر واجب ہونے کا ذکر نہیں کیا جب کہ اصل براءت ہے، یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے، علامہ نووی رحمہ اللہ نے ان دونوں سے یہی قول ’’شرح المهذّب‘‘ میں نقل کیا ہے۔(29)
رہی بات ذکر واذکار، الله أکبر، سبحان الله اور الحمد لله کہنے کی، کھانے وغیرہ پر بسم اللہ پڑھنے کى، نیز حدیث اور فقہ پڑھنے، دعا کرنے اور اس پر آمین کہنے اور قرآنِ کریم سننے کى، تو ان مذکورہ امور میں سے کوئی بھی چیز اس پر حرام نہیں ہے، بخاری و مسلم وغیرہ میں یہ ثابت ہے کہ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ». ’’نبی ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں ٹیک لگاتے تھے، جبکہ عائشہ رضی اللہ عنہا حالتِ حیض میں ہوتی تھیں اور آپ ﷺ قرآنِ کریم پڑھتے تھے۔‘‘(30)
اسی طرح بخاری ومسلم میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ کہتے ہوئے سنا: «يَخْرُجُ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ -يَعْنِي: إِلَى صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ- وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى». ’’نوجوان، پردہ نشیں اور حیض والی خواتین — یعنی: نمازِ عیدین کے لیے — جائیں اور مسلمانوں کی دعاؤں اور بھلائی میں حاضر ہوں اور حیض والی خواتین نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔‘‘(31)
رہی بات حائضہ خاتون کے خود قرآن پڑھنے کی تو اگر وہ خاتون دیکھ کر یا دل کے ساتھ غور وفکر کر کے بغیر زبان کی حرکت کے پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً: قرآن یا تختی آگے رکھ دی جائے تو حائضہ خاتون آیات کی طرف دیکھتی رہے اور دل میں پڑھتی رہے، امام نووی رحمہ اللہ نے ’’شرح المهذّب‘‘ میں فرمایا: ’’یہ بغیر کسی اختلاف کے جائز ہے۔‘‘(32)
اگر خاتون زبان کی حرکت کے ساتھ پڑھتی ہے تو جمہور علماء کے نزدیک یہ ممنوع اور ناجائز ہے۔ جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ(33)، امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ(34) اور امام ابن منذر رحمہ اللہ(35) نے فرمایا: ’’یہ جائز ہے۔‘‘
امام مالک رحمہ اللہ سے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے قدیم قول(36) میں یہی منقول ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس قول کو ان دونوں سے ’’فتح الباری‘‘ میں نقل کیا ہے(37)۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے امام ابراہیم نخعی سے تعلیقاً روایت ذکر کی ہے کہ ’’اگر وہ آیت پڑھتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘(38)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’فتاوى مجموعة ابن قاسم‘‘ میں فرمایا: ’’حائضہ کو قرآن کی تلاوت سے روکنے کے بارے میں بالکل کوئی حدیث نہیں آئی ہے۔‘‘ رہی بات آپ ﷺ کی اس حدیث کی: «لاَ تَقْرَأُ الحَاِئُض وَلَا الجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ» ’’حائضہ عورت اور جنبی قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔‘‘(39) تو یہ حدیث محدثین کے نزدیک بالاتفاق ضعیف ہے(40)۔
نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں خواتین کو حیض آتا تھا۔ اگر ان پر نماز کی طرح قرآن کی تلاوت حرام ہوتی تو اس کو نبی کریم ﷺ اپنی امت کے لیے ضرور بیان کرتے اور امہات المؤمنین اسے ضرور جان رہی ہوتیں، اور یہ ان مسائل میں سے ہوتا جنہیں صحابہ کرام لوگوں میں نقل کرتے، جب کسی ایک نے بھی آپ ﷺ سے اس بارے میں ممانعت نقل نہیں کی تو تلاوت کو حرام ٹھہرانا جائز نہیں ہے باوجود اس علم کے کہ آپ ﷺ نے اس سے روکا نہیں ہے، آپ ﷺ کے زمانہ میں حیض والى عورتوں کی کثرت ہونے کے باوجود جب آپ ﷺ نے حائضہ کو قرآن پڑھنے سے نہیں روکا تو معلوم ہوا کہ حائضہ کا قرآن پڑھنا حرام نہیں ہے۔(41)اھ
اہلِ علم کا اختلاف جاننے کے بعد یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ضرورت کے بغیر حائضہ عورت زبان سے قرآنِ پاک نہ پڑھے، مثال کے طور پر حائضہ خاتون معلّمہ ہو اور اسے اپنی طالبات کو تلقین کرنے کی ضرورت پڑتی ہو یا امتحان کے وقت معلّمہ طالبات کا امتحان پڑھ کر لیتی ہو یا اس جیسے دوسرے امور در پیش ہوں۔
دوسرا حکم: روزہ: حائضہ عورت پر فرض اور نفل روزے حرام ہیں اور اس کی طرف سے (روزے) صحیح نہیں ہوں گے لیکن فرض روزوں کی قضا اس پر واجب ہوگی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے: "كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ -تَعْنِي: الْحَيْضَ- فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ". ’’ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔‘‘ متفق علیہ(42)۔
جب عورت کو حالتِ صوم میں حیض آجائے تو اس کا روزہ باطل ہوجائے گا چاہے غروب سے کچھ پہلے ہی کیوں نہ حیض آئے، اگر روزہ فرض تھا تو اس دن کی قضا حائضہ پر واجب ہے۔ رہی بات یہ کہ عورت غروبِ شمس سے پہلے حیض کے منتقل ہونے کو محسوس کرے لیکن حیض غروبِ شمس کے بعد خارج ہو تو اس صورت میں اس کا روزہ مکمل ہوگا اور صحیح قول کے مطابق روزہ باطل نہیں ہوگا کیوں کہ خون پیٹ کے اندر ہے جس کا کوئی حکم نہیں ہے۔
یہ اس لیے بھی کہ جب آپ ﷺ سے ایسی عورت کے متعلق سوال کیا گیا جو خواب میں وہ چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا اس پر غسل ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں جب وہ پانی دیکھے۔‘‘(43) تو اس حدیث میں آپ ﷺ نے ’’منی‘‘ دیکھنے کے ساتھ حکم کو معلق کیا ہے نہ کہ ’’منی‘‘ کے منتقل ہونے کے ساتھ، اسی طرح حیض کے احکام بھی اس وقت ثابت ہوں گے جب یہ باہر خارج ہو اور دکھائی دے نہ کہ جب یہ منتقل ہو۔
اگر طلوعِ فجر کے وقت عورت حائضہ ہو تو اس دن کا روزہ درست نہیں ہوگا چاہے طلوعِ فجر کے تھوڑی ہی دیر بعد کیوں نہ پاک ہوجائے۔
اگر وہ فجر سے تھوڑی دیر پہلے حیض سے پاک ہو اور روزہ رکھ لے تو اس کا روزہ صحیح ہوگا چاہے وہ طلوعِ فجر کے بعد ہی کیوں نہ غسل کرے۔ اس کی مثال اس جنبی کی ہے جو حالتِ جنابت میں روزے کی نیت کرتا ہے اور طلوعِ فجر کے بعد غسل کرتا ہے‘ اس کا روزہ صحیح ہو گا۔ جیساکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، فرماتی ہیں: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ فِي رَمَضَانَ". ’’آپ ﷺ رمضان مین جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے، پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے تھے۔‘‘ متفق علیہ(44)۔
تیسرا حکم: بیت اللہ کا طواف: عورت پر بیت اللہ کا طواف، خواہ فرض طواف ہو یا نفل‘ حرام ہے اور یہ طواف اس کی طرف سے صحیح نہیں ہوگا، باقی رہے دوسرے افعال مثلاً صفا اور مروہ کی سعی کرنا، مزدلفہ اور منی میں ٹھہرنا اور رات گزارنا، جمرات کو کنکریاں مارنا اور اس کے علاوہ حج اور عمرہ کے دوسرے مناسک‘ تو یہ سارے اعمال حائضہ پر حرام نہیں ہیں، کیوں کہ نبی اکرم ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب ان کو حیض آگیا تھا‘ فرمایا: «افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَلَّا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي». ”حاجی جو کچھ کرتے ہیں تم بھی کرو، مگر پاک ہو جانے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“(45)
اسی بناپر اگر خاتون ’’حالتِ طہر‘‘ میں طواف کرتی ہے پھر اسے طواف کے فوراً بعد یا سعی کے دوران حیض آجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
چوتھا حکم: طوافِ وداع کا سقوط: جب خاتون حج اور عمرہ کے مناسک مکمل کرلے اور اپنے ملک کی طرف نکلنے سے پہلے اسے حیض آجائے اور حیض اس کے مکہ سے نکلنے تک جاری رہے تو وہ عورت طوافِ وداع کئے بغیر جائے گی، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے، وہ کہتے ہیں: "أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ". ’’لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کا آخری عہد بیت اللہ کے ساتھ ہو، مگر حائضہ کے لیے اس میں تخفیف ہے۔‘‘ متفق علیہ(46)۔
وداع کے وقت حائضہ خاتون کا مسجدِ حرام کے دروازے کے پاس آکر دعا کرنا مستحب نہیں ہے کیوں کہ یہ نبی کریم ﷺ سے وارد نہیں ہے جبکہ عبادات کی بنیاد ماثور (دلائل) پر رکھی گئی ہے، بلکہ جو آپ ﷺ سے وارد ہے وہ اس کے خلاف کا تقاضا کرتا ہے۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے قصہ میں ہے کہ جب وہ طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہوگئی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: «فَلْتَنْفِرْ إِذَنْ». ’’اب اسے کوچ کرنا چاہیے۔‘‘ متفق علیہ(47)۔
اگر آدمی نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو وہ گناہ گار ہوگا اور اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے اور عورت کو اپنی زوجيت کی طرف واپس لوٹائے، تاکہ وہ اس کو ایسی طلاق دے جو شرعی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے بھی موافق ہو، زوجيت ميں لوٹانے کے بعد اسے چھوڑدے یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہوجائے جس میں اس کو طلاق دی گئی تھی‘ پھر دوسری مرتبہ حائضہ ہو‘ پھر جب وہ پاک ہو جائے تو اگر خاوند اپنی زوجیت میں رکھنا چاہے تو رکھ لے اور اگر چاہے تو جماع سے پہلے طلاق دے دے۔
اس حدیث میں آپ ﷺ نے ان کو مسجدِ حرام کے دروازے پر حاضری کا حکم نہیں دیا اور اگر یہ مشروع ہوتا تو آپ ﷺ اس کو ضرور بیان کرتے۔ باقی رہا حج اور عمرہ کے طواف کا مسئلہ تو یہ حائضہ سے ساقط نہیں ہوتا بلکہ جب وہ حیض سے پاک ہوجائے گی تو طواف کرے گی۔
پانچواں حکم: مسجد میں ٹھہرنا: حائضہ کا مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے حتی کہ عید گاہ میں بھی ٹھہرنا حرام ہے، کیوں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے انھوں نے رسول ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا: «يَخْرُجُ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ». ’’دو شیزہ، پردہ نشیں اور حائضہ خواتین عید گاہ کی طرف نکلیں۔‘‘ اور اسی روایت میں ہے: «يَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى». ’’حائضہ خواتین عیدگاہ سے الگ تھلک رہیں۔‘‘ متفق علیہ(48)۔
چھٹا حکم: جماع: خاوند پر حرام ہے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع کرے اور عورت پر بھی حرام ہے کہ وہ اپنے خاوند کو اس کا موقع دے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡمَحِيضِۖ قُلۡ هُوَ أَذٗى فَٱعۡتَزِلُواْ ٱلنِّسَآءَ فِي ٱلۡمَحِيضِ وَلَا تَقۡرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطۡهُرۡنَۖ...﴾
’’وہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ وه گندگی ہے، حالتِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وه پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ...‘‘ [سورۂ بقرہ: 222]، آیت میں وارد لفظ ’’محیض‘‘ سے حیض کا زمانہ اور حیض کی جگہ (شرمگاہ) مراد ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے:’’نکاح کے علاوہ سب کچھ کرو۔‘‘ یعنی: جماع کے علاوہ۔ صحیح مسلم(49)۔ نیز مسلمانوں کا اجماع ہے کہ حائضہ کی شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے۔
جو آدمی اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اس منکر کام کی طرف پیش قدمی کرے جس کی ممانعت پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، رسول ﷺ کی سنت اور مسلمانوں کا اجماع دلالت کرتا ہے۔ اگر کوئی اس فعل کا مرتکب ہوگا وہ ایسے لوگوں میں شمار ہوگا جنھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور مومنوں کی مخالفت کی۔ امام نووی رحمہ اللہ نے ’’شرح المهذّب‘‘ (ج 2 ص : 374) میں لکھا ہے کہ ’’امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے حیض کی حالت میں بیوی سے جماع کیا وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا۔‘‘ ہمارے اصحاب وغیرہم نے کہا: ’’جس نے حائضہ سے وطی کرنا حلال قرار دیا اس کے کافر ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔‘‘ اﻫ
الحمد للہ جماع کے علاوہ مرد کے لیے ایسے تمام امور مباح کیے گئے ہیں جو اس کی شہوت کو پورا کر سکیں۔ مثال کے طور پر بوس وکنار کرنا، بغلگیر ہونا اور شرمگاہ کے علاوہ مباشرت کرنا وغیرہ۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ مباشرت کرتے وقت ناف سے لیکر گھٹنے تک کپڑا رکھ لے، کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے:’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ مباشرت کرتے اور میں حالتِ حیض میں ہوتی تھی۔‘‘ متفق علیہ(50)۔
ساتواں حکم: طلاق: حائضہ عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دینا خاوند پر حرام ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾
اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انھیں طلاق دو... [سورۂ طلاق: 1] یعنی ایسی حالت میں طلاق دو کہ وہ طلاق کے وقت معلوم عدت کا آغاز کر رہی ہو اور یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب خاوند اپنی بیوی کو حمل کی حالت میں طلاق دے یا بغیر جماع کیے ’’طہر‘‘ کی حالت میں طلاق دے۔
کیوں کہ جب اسے حالتِ حیض میں طلاق دی جائے گی تو وہ عدت کا آغاز نہیں کرے گی، بایں طور کہ وہ حیض جس میں اسے طلاق دی گئی وہ عدت شمار نہیں کی جائے گی، اور جب جماع کے بعد حالتِ طہر میں طلاق دی جائے گی تو اس وقت وہ عدت جس کا وہ آغاز کر رہی ہے معلوم نہیں ہوگی کیوں کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ اس جماع سے حاملہ ہوئی ہے تو وہ وضع حمل کی عدت گزارے، یا حاملہ نہیں ہوئی تو حیض کی عدت گزارے، جب عدت کی نوعیت کے بارے میں یقین حاصل نہیں ہو رہا ہو تو معاملہ واضح ہوجانے تک خاوند پر طلاق دینا حرام ہے۔
حائضہ عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دینا سابقہ آیت کی بنا پر حرام ہے؛ اور بخاری و مسلم وغیرہما میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو اس پر رسول اللہ ﷺ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ». ’’اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر اسے اپنے نکاح میں باقی رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے اور پھر وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو اسے اپنے نکاح میں رکھے اور اگر چاہے تو ہم بستری سے پہلے اسے طلاق دے دے۔ یہی وہ عدت ہے جس کو ملحوظ رکھ کر اللہ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔‘‘(51)
تین مسائل حالتِ حیض میں طلاق کی تحریم سے مستثنیٰ ہیں:
پہلا مسئلہ: خلوت نشینی یا جماع سے قبل طلاق: جب طلاق عورت سے خلوت نشینی اختیار کرنے یا جماع کرنے سے پہلے ہو تو اس وقت حالتِ حیض میں طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوں کہ اس وقت اس خاتون پر کوئی عدت نہیں ہے، ایسی حالت میں طلاق دینا مخالف نہ ہوگا؛ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے:
﴿...فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾
’’۔۔۔ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انھیں طلاق دو۔۔۔‘‘ [سورۂ طلاق: 1]۔
دوسرا مسئلہ: حالتِ حمل میں حیض: جب حالتِ حمل میں خاتون کو حیض آئے تو اس وقت بھی طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کا سبب پیچھے گزر چکا ہے (کہ عدت وضع حمل ہے)-
تیسرا مسئلہ: طلاق عوض کے بدلے ہو: جب طلاق کسی عوض کے بدلے ہو تو اس وقت بھی حالتِ حیض میں طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مثلاً میاں بیوی کے درمیان کوئی ناچاقی، چپقلش اور ان بن ہو تو اس وقت خاوند عوض لے کر اسے طلاق دے دے تو یہ بھی جائز ہے اگرچہ عورت حالتِ حیض میں ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے: ’’اے اللہ کے رسول ﷺ میں اس کے دین اور اخلاق میں کوئی عیب نہیں نکالتی مگر مجھے اسلام میں کفر کا خوف ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» ’’کیا تم اس کا باغ اسے واپس کروگی؟‘‘ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً» ’’باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔‘‘ [صحیح بخاری](52)۔
اس حدیث میں آپ ﷺ نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ حائضہ تھی یا پاک تھی؟ اور دوسرا اس لیے بھی کہ یہ طلاق عورت کی طرف سے فدیہ دینے کی وجہ سے ہے تو ضرورت کے وقت جس حالت میں بھی ہو یہ جائز ہے۔
ابن قدامہ نے ’’المغنی‘‘ (ص : 52 ج 7) میں حالتِ حیض میں خلع کے جواز کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "کیوں کہ حیض میں طلاق سے روکنا اس ’’ضرر‘‘ (تکلیف) کی بنا پر ہے جو خاتون کو لمبی عدت کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے اور ’’خلع‘‘ اس ’’ضرر‘‘ کو دور کرنے کے لیے ہے جو خاتون کو اس کے نزدیک ناپسندیدہ اور مبغوض شخص کے ساتھ بے سکون قیام ومعاشرت کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے، یہ لمبی عدت سے بھی زیادہ مضر ہے اس لیے ان میں سے جو اعلٰی ہے اس کو ادنی کے ساتھ دور کرنا جائز ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے ’’خلع‘‘ لینے والی سے اس کی حالت دریافت نہیں کی"۔ (ابن قدامہ کی بات ختم ہوئی)۔
رہی بات حالتِ حیض میں عورت کے ساتھ عقدِ نکاح کی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیوں کہ اصل حلت ہے، اور آپ ﷺ سے عقدِ نکاح کے منع کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے، لیکن حالتِ حیض میں خاوند کو عورت کے پاس داخل کرنے کے بارے میں دیکھا جائے گا۔ اگر اس سے وطی کرنے سے وہ بچ سکتا ہے تو کوئی حرج نہیں ورنہ وہ اس کے پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہ حیض سے پاک نہ ہوجائے کیوں کہ اس کے ناجائز کام میں واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔
آٹھواں حکم: طلاق کی عدت کا اعتبار: جب آدمی اپنی بیوی کو جماع اور خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق دیتا ہے تو اس خاتون پر واجب ہے کہ وہ تین حیض مکمل عدت گزارے اگر وہ خاتون حائضہ ہے اور حاملہ نہیں ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖ...﴾
’’اور طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں...‘‘ [سورۂ بقرۃ: 228]، آیتِ مبارکہ میں (ثَلاثَةَ قُرُوءٍ) سے مراد: ’’تین حیض‘‘ ہے۔ اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے چاہے عدت لمبی ہو یا کم ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿...وَأُوْلاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ...﴾
’’۔۔۔اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔۔۔‘‘ [سورۂ طلاق: 4]، اگر عورت حیض والی خواتین میں سے نہیں ہو جیسے چھوٹی بچی جسے ابھی تک حیض نہیں آیا اور وہ خاتون جسے بڑھاپے یا ایسے آپریشن کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو جس سے اس کی بچہ دانی ختم ہو چکی ہو یا اس کے علاوہ جسے حیض کے آنے کی امید ہی نہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ...﴾
’’تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہو گئی ہوں، اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو...‘‘ [سورۂ طلاق: 4]، اگر خاتون حیض والی خواتین میں سے ہو لیکن اس کا حیض کسی معلوم سبب کی وجہ سے ختم ہو گیا ہو جیسے ’’مرض‘‘ اور ’’رضاعت‘‘ کی وجہ سے‘ تو یہ عورت عدت میں باقی رہے گی اگرچہ مدت لمبی ہی کیوں نہ ہوجائے یہاں تک کہ جب حیض لوٹ آئے تو وہ حیض کی عدت گزارے گی، اگر سبب ختم ہوجائے اور حیض نہیں آئے، وہ اس طرح کہ خاتون بیماری سے تندرست ہوجائے یا رضاعت کی انتہا کو پہنچ جائے‘ پھر بھی حیض نہ آئے تو وہ خاتون سبب کے ختم ہوجانے کی وجہ سے ایک سال مکمل عدت گزارے گی، یہی صحیح قول ہے جو قواعدِ شرعیہ کے مطابق ہے۔ کیوں کہ جب سبب زائل ہوجائے اور حیض واپس نہ آئے تو وہ عورت ایسے ہوجائے گی کہ جس کا حیض بغیر کسی معلوم سبب کے رک جائے تو ایسی صورت میں وہ ایک سال مکمل عدت گزارے گی‘ نو ماہ احتیاطی طور پر حمل کے لیے کیوں کہ اکثر حمل نو ماہ ہوتا ہے اور تین ماہ عدت کے لیے۔
رہی بات یہ کہ جب طلاق عقدِ نکاح کے بعد اور خلوت ومباشرت سے پہلے ہو تو اس میں مطلق طور پر کوئی عدت نہیں ہے، نہ ایامِ حیض کی عدت اور نہ کوئی دوسری؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا...﴾
’’اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے (ہی) طلاق دے دو تو اُن پر تمھارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو...‘‘ [سورۂ احزاب: 49]۔
نواں حکم: استبراء رحم، یعنی رحم کو حمل سے خالی کرنا اور اس کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب کبھی ’’استبراء رحم‘‘ کے حکم کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے مختلف مسائل ہیں:
ان میں سے ایک یہ ہے: جب کوئی شخص اپنے پیچھے عورت چھوڑ کر مرے اور اس کا وارث عورت کا حمل ہو، اور عورت خاوند والی ہو تو اس کا خاوند اس وقت تک اس سے وطی نہیں کرے گا جب تک کہ اسے حیض نہیں آئے یا اس کا حمل ظاہر نہیں ہو جائے اور اگر حمل واضح ہوجا ئے تو ہم اس کے وارث ہونے کا فیصلہ کریں گے۔ ہم نے وارث کی موت کے وقت حمل کے پائے جانے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہے اور اگر وہ خاتون حائضہ ہوجائے تو ہم اس کے وارث نہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ ہم نے حیض آنے سے ’’رحم‘‘ کے خالی ہونے کی وجہ سے کیا۔
دسواں حکم: وجوبِ غسل: حائضہ عورت پر واجب ہے کہ جب وہ حیض سے پاک ہوجائے تو پورے جسم کی طہارت کے لیے غسل کرے، جس طرح آپ ﷺ نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا: «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي». ”جب حیض آجائے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہوجائے تو غسل کرو اور نماز ادا کرو۔“ [صحیح بخاری](53)۔
غسل میں کم از کم جو چیز واجب ہے وہ یہ ہے کہ عورت اپنے پورے جسم یہاں تک کہ بالوں کی جڑ بھی دھوئے اور غسل کی سب سے بہترین صورت وہ ہے جو آپ ﷺ سے حدیث میں ثابت ہے۔ جب آپ ﷺ سے اسماء بنت شکل رضی اللہ عنہا نے غسلِ حیض کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا، حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً -أَيْ: قِطْعَةَ قُمَاشٍ فِيهَا مِسْكٌ- فَتَطَهَّرُ بِهَا»، ’’تم میں سے کوئی ایک پانی اور بیری کی پتیاں لے اور اچھی طرح طہارت حاصل کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اچھی طرح سر ملے یہاں تک کہ اپنے سر کی جڑوں تک پانی پہنچائے، پھر سر پر پانی ڈالے، پھر کستوری کی خوشبو میں بھگوئی ہوئی روئی لے، اس سے طہارت حاصل کرے۔‘‘ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس روئی سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللَّهِ!»، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں کہا: خون کے اثرات (کی جگہ پر) اس روئی کا استعمال کر لو۔ [صحیح مسلم](54)۔
سر کے بال کھولنا واجب نہیں ہے اِلا یہ کہ جب بال مضبوطی سے باندھے ہوئے ہوں اور یہ خدشہ ہو کہ پانی بالوں کی جڑوں تک نہیں پہنچے گا۔ صحیح مسلم میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا: ”میں اپنے سر کے بال مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا میں غسلِ جنابت کی وجہ سے کھول دوں؟ اور ایک روایت میں ہے حیض اور جنابت کی وجہ سے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا، إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِيَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ». ”نہیں، تمھارے لیے بس اتنا کرنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو اور پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو۔ اس سے تم پاک ہو جاؤگی۔“(55).
اور جب حائضہ عورت نماز کے وقت کے دوران حیض سے پاک ہوجائے تو اس پر جلدی غسل کرنا واجب ہے تاکہ وہ بر وقت نماز ادا کر سکے، اگر وہ عورت سفر میں ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہے یا اس کے پاس پانی تو ہو لیکن پانی کے استعمال سے ڈرتی ہو یا وہ بیمار ہو اور پانی سے اسے نقصان پہنچتا ہو تو وہ غسل کے بدلے تیمّم کرے گی یہاں تک یہ علت ختم ہوجائے تو وہ غسل کرے گی۔
بعض خواتین نماز کے وقت کے دوران حیض سے پاک ہوجاتی ہیں اور وہ دوسرے وقت تک غسل مؤخر کردیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس وقت اس کے لیے مکمل طہارت کرنا ناممکن ہے ،لیکن یہ کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عذر ہے، کیوں کہ اس کے لیے ممکن ہے کہ غسل میں کم سے کم واجب پر اکتفا کرے اور بر وقت نماز ادا کرے اور جب اسے کافی وقت حاصل ہو تو کامل طہارت حاصل کرلے۔
پانچویں فصل: استحاضہ اور اس کے احکام
استحاضہ: اس خون کو کہتے ہیں جو عورت کو برابر جارى رہتا ہے اور ختم ہى نہیں ہوتا یا کبھی کبھی خون رک جاتا ہے‘ مہینے میں ایک یا دو دن۔
پہلی حالت کی دلیل (جس حالت میں عورت کو خون کبھی بھی بند نہیں ہوتا) وہ حدیث ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری میں ثاتب ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: "يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَطْهُرُ". ’’اے اللہ کے رسول ﷺ میں پاک نہیں ہوتی۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: "أَسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ". ’’مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، لہٰذا میں پاک نہیں ہوتی۔‘‘(56)
دوسری حالت کی دلیل (جس میں تھوڑی مدت کے لیے خون بند ہوجاتا ہے) حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں اور آکر عرض کیں: "يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً". ’’اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے۔‘‘ [مکمل حدیث ... اسے امام احمد بن حنبل، ابو داود اور ترمذی رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے(57)، اور امام ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے، نیز امام احمد سے اس کی تصحیح اور امام بخاری سے اس کی تحسین منقول ہے](58)۔
مستحاضہ کے احوال:
مستحاضہ (جس کو استحاضہ آتا ہے) کی تین حالتیں ہیں:
پہلی حالت: استحاضہ سے پہلے عورت کی ماہواری معلوم ہو، اس حالت میں عورت اپنے حیض کی گزشتہ معلوم مدت کی طرف لوٹے گی اور اس کے لیے حیض کے احکام ثابت ہوں گے اور باقی اس کے علاوہ استحاضہ کا خون ہوگا اور اس کے لیے استحاضہ کے احکام ثابت ہوں گے۔
مثال: ایک عورت جسے ہر مہینے کے شروع میں چھ دن حیض آتا تھا پھر اس پر استحاضہ کا خون طاری ہوا اور وہ خون اسے مسلسل آنے لگا تو ہر مہینہ کے شروع کے چھ دن اس کے حیض کے ہوں گے اور باقی (ایام) استحاضہ کے ہوں گے، جیساکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے میں پاک نہیں رہتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا، إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي». ’’نہیں، یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔‘‘ صحیح بخاری(59) ۔
صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي». ”اتنے دن تم ٹھہری رہو، جتنے دن تم کو تمھارا حیض روکے رکھتا تھا، پھر غسل کر کے نماز ادا کرو۔“(60)
اس حدیث کی بنا پر ایسی مستحاضہ عورت جس کا حیض معلوم ہو وہ اپنے حیض کے دنوں کے بقدر رکی رہے گی، پھر غسل کرے گی اور نماز ادا کرے گی اور اس وقت وہ (استحاضہ کے) خون کی پرواہ نہیں کرے گی۔
دوسری حالت: یہ ہے کہ استحاضہ سے پہلے عورت کا حیض معلوم نہ ہو، وہ اس طرح کہ عورت اپنے معاملہ کی ابتدا سے جب سے اس نے خون دیکھا ہے اسی وقت سے اسے خون جاری ہے تو ایسی خاتون تمییز کے ساتھ عمل کرے گی چنانچہ جو خون سیاہ رنگ کا یا گاڑھا یا بدبو دار جیسی امتیازی اوصاف کا حامل ہوگا وہ حیض کا ہوگا اور اس کے لیے حیض کے احکام ثابت ہوں گے اور جو خون اس کے علاوہ ہو گا وہ استحاضہ کا ہو گا اور اس کے لیے استحاضہ کے احکام ثابت ہوں گے۔
مثال: اس کی مثال اس طرح ہے کہ عورت نے پہلی مرتبہ جو خون دیکھا وہ اسے جاری رہتا ہے لیکن عورت دس دن سیاہ رنگ کا خون دیکھتی ہے اور باقی مہینہ سرخ رنگ کا خون دیکھتی ہے یا دس دن گاڑھا خون دیکھتی ہے اور باقی مہینہ پتلا خون دیکھتی ہے یا دس دن خون کے ساتھ حیض کی بدبو پاتی ہے اور باقی مہینہ بدبو نہیں پاتی تو پہلی مثال میں اس کا حیض سیاہ رنگ کا خون ہے اور دوسری مثال میں گاڑھا خون حیض کا ہے اور تیسری مثال میں بدبودار خون اس کا حیض ہے اور جو اس کے علاوہ ہے وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:”اگر حیض کا خون ہوگا تو وہ سیاہ رنگ کا معروف خون ہوگا، لہٰذا تم اس خون میں نماز سے رک جاؤ، اور اگر اس کے برعکس دوسری طرح کا (خون) ہو تو وضو کرکے نماز پڑھو، کیوں کہ وہ رگ (سے نکلنے والا خون) ہے۔“ (اسے حدیث کو امام ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے)۔(61)
اس حدیث کی سند اور متن اگرچہ محلِ نظر ہے لیکن اس پر اہلِ علم رحمہم اللہ نے عمل کیا ہے اور یہ حدیث اکثر عورتوں کی عادت کی طرف لوٹانے سے بہتر ہے۔
تیسری حالت: یہ ہے کہ عورت کا حیض معلوم نہ ہو اور نہ ہی صحیح تمییز ہو سکے وہ اس طرح کہ جب سے اس نے خون دیکھا تب سے استحاضہ کا خون جاری ہو اور خون ایک صفت یا مختلف صفات کا حامل ہو اور اس کا حیض ہونا ممکن نہ ہو‘ تو یہ خاتون اکثر عورتوں کی عادت کے مطابق عمل کرے گی۔ چنانچہ ہر مہینے کے چھ یا سات دن اس کا حیض ہوگا اور اس (حیض) کی ابتدا اس مدت کے شروع سے ہوگی جس مدت میں اس نے خون دیکھا، اس کے علاوہ (باقی ایام) استحاضہ کے ہوں گے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ عورت مہینہ کے پانچویں دن کے شروع میں خون دیکھتی ہے اور اسے خون جاری رہتا ہے بغیر کسی ایسی تمییز کے جو (تمییز) حیض کے لیے صحیح ہو، نہ ہی رنگ کے ساتھ اور نہ ہی رنگ کے علاوہ کسی دوسری چیز کے ساتھ (حیض کی تمییز ہو سکے) تو اس کا حیض ہر مہینے کے چھ یا سات دن تک ہوگا اور وہ ہر مہینے کے پانچویں دن سے شمار کرے گی، جیسے کہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، وہ فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے بہت شدت وکثرت سے استحاضہ کا خون آتا ہے، آپ ﷺ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ یقیناً اس نے مجھے نماز اور روزوں سے روک دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَنْعَتُ لَكِ (أَصِفُ لَكِ اسْتِعْـمَال) الْكُرْسُفَ (وهُـوَ القُطْنُ) تَضَعِينَهُ عَلَى الْفَرْجِ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ»، ’’میں تم کو ’’کرسف‘‘ (یعنی روئی) کے استعمال کا طریقہ بتاتا ہوں، تم اسے اپنی شرمگاہ پر رکھ لیا کرو، اس سے خون چلا جائے گا۔‘‘ تو انھوں نے کہا: یہ تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ اسی روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا هَذَا رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةً فِي عِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَيْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي». ’’یہ شیطان کے دھکوں میں سے ایک دھکا ہے، لہٰذا چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو (اللہ تعالیٰ کے علم میں)، پھر غسل کر لو، اور جب تم جان لو کہ تم پاک ہو گئی ہو اور اچھی طرح پاک صاف ہو گئی ہو تو (چوبیس) 24 یا (تییس) 23 دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو۔‘‘ مکمل حدیث۔ [اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے(62)، اور امام احمد سے بھی اس کی تصحیح منقول ہے، جبکہ امام بخاری کے نزدیک یہ حدیث حسن ہے](63)۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے: «ستّة أيّامٍ أو سبعةً» ’’چھ دن یا سات دن‘‘ یہ اختیار کے لیے نہیں بلکہ اجتہاد کے لیے ہے۔ لہٰذا وہ خاتون دیگر خواتین کو دیکھے گی جو اس کی حالت کے زیادہ قریب ہوں وہ اس طرح کہ جو اس کی خلقت کے مشابہ ہو اور عمر اور رشتہ کے اعتبار سے اس کے قریب ہو اور یہ بھی دیکھے گی کہ اس کا خون حیض کے زیادہ قریب ہے اور اسی طرح کے دوسرے ’’اعتبارات‘‘ کو بھی مد نظر رکھے گی۔ لہٰذا اگر چھ دن زیادہ مناسب ہوں تو وہ حیض کى مدت چھ دن اختیار کرے گی اور اگر سات دن زیادہ مناسب ہوں تو سات دن اختیار کرے گی۔
مستحاضہ کے مشابہ خاتون کی حالت:
کبھی کبھی عورت کو ایسا سبب لاحق ہوتا ہے جو اس کی شرمگاہ سے خون بہنے کا موجب بنتا ہے جیسے بچہ دانی یا کسى اور چیز کا آپریشن۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: یہ بات واضح ہو کہ آپریشن کے بعد عورت کو حیض آنا ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر آپریشن سے بچہ دانی بالکل جڑ سے کاٹ دی جائے یا اس طرح بند کردی جائے کہ اس سے خون نہ اتر سکے تو ایسی خاتون کے لیے استحاضہ کے احکام ثابت نہیں ہوں گے۔ اس کا حکم ایسی خاتون کا سا ہے جو ’’طہر‘‘ کے بعد زرد رنگ یا مٹیالہ رنگ یا رطوبت دیکھتی ہو تو ایسی خاتون نماز اور روزہ نہیں چھوڑے گی‘ اس سے جماع کرنا بھی ممنوع نہیں ہے اور اس خون کو دھونا واجب نہیں ہے لیکن نماز کے وقت عورت پر لازم ہے کہ وہ خون دھوئے اور شرمگاہ پر پٹی وغیرہ باندھے تاکہ پٹی خون روک دے پھر وہ نماز کے لیے وضو کرے گی اور نماز کا جب وقت ہوگا اسی وقت وہ وضو کرے گی جیسے پانچ فرض نمازیں ہیں۔ ورنہ جب بھی وہ نماز پڑھنے کا ارادہ کرے گی اسی وقت وضو کرے گی جیسے مطلق نوافل۔
دوسری قسم: یہ ہے کہ آپریشن کے بعد عورت کے حیض کا رکنا معلوم نہ ہو بلکہ ممکن ہو کہ اسے حیض آجائے تو اس خاتون کا حکم وہی ہوگا جو مستحاضہ کا حکم ہے اور آپ ﷺ کا مذکورہ قول (جو آپ ﷺ نے فاطمہ بنت أبی حبیش رضی اللہ عنہا سے کہا تھا) اس پر دلالت کرتا ہے، آپ ﷺ نے فاطمہ بنت أبی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ». ”یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے حیض نہیں ہے، جب تمھارا حیض آجائے تو نماز چھوڑ دو۔“(64)
چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان: «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ» ’’جب حیض آجائے‘‘ اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ مستحاضہ کا حکم اس عورت کے لیے ہے جس کے لیے حیض کا آنا اور جانا ممکن ہو اور جس عورت کے لیے حیض ممکن نہ ہو تو اس کا خون ہر حالت میں رگ کا خون ہوگا۔
استحاضہ کے احکام:
جو بحث پہلے گزر چکی ہے اس سے ہم نے جان لیا کہ کب خون حیض ہوتا ہے اور کب استحاضہ ہوتا ہے اور جب حیض کا خون ہوگا تو اس کے لیے حیض کے احکام ثابت ہوں گے اور جب استحاضہ کا خون ہوگا تو اس کے لیے استحاضہ کے احکام ثابت ہوں گے۔
حیض کے اہم احکام کا تذکرہ پیچھے ہو چکا ہے۔
باقی رہے استحاضہ کے احكام تو استحاضہ کے احكام ’’طہر‘‘ کے احكام کی مانند ہیں، مستحاضہ عورت اور طاہرہ عورت کے درمیان ماسوائے مندرجہ ذیل احكام کے کوئی فرق نہیں ہے:
پہلا حکم: مستحاضہ کے لیے ہر نماز کے وقت وضو کرنا واجب ہے، جیساکہ نبی کریم ﷺ نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ». ’’پھر ہر نماز کے لیے وضو کرو۔‘‘ اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’باب غسل الدم ‘‘ میں روایت کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت وقت کے ساتھ مقرر نمازوں کے لیے وقت داخل ہونے کے بعد ہی وضو کرے گی۔ البتہ جس نماز کا وقت مقرر نہیں ہے تو جب وہ نماز پڑھنے کا ارادہ کرے وضو کرلے۔
دوسرا حکم: عورت جب وضو کا ارادہ کرے گی تو وہ خون کے اثرات دھوئے گی اور شرمگاہ پر روئی کی پٹی باندھے گی تاکہ خون رک جائے، جیساکہ نبی کریم ﷺ نے حمنہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ». قَالَتْ: فَإِنَّهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «فَاتَّخِذِي ثَوْبًا». قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «فَتَلَجَّمِي». ’’میں تمھارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیوں کہ اس سے خون بند ہو جائے گا‘‘۔ انھوں نے کہا: وہ تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کپڑا رکھ لو‘‘۔ انھوں نے عرض کیا: وہ تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لنگوٹ کس لو‘‘۔ مکمل حدیث ۔۔ لنگوٹ باندھنے کے بعد اس کی شرمگاہ سے جو بھی خون جاری ہوگا وہ مضر نہیں ہوگا‘ جیسا کہ آپ ﷺ نے فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: «اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ صَلِّي، وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ». ’’اپنے حیض کے ایام میں نماز سے اجتناب کرو‘ پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو اور نماز پڑھو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر ہی کیوں نہ گریں۔‘‘ [اسے امام احمد اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے](65)۔
تیسرا حکم: جماع، جب آدمی کو ترکِ جماع سے زنا کا ڈر نہ ہو تو اس جماع کے جواز کے بارے میں علماء کرام نے اختلاف کیا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ جماع کرنا مطلق طور پر جائز ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں بہت ساری خواتین تقریباً دس یا اس سے زیادہ خواتین استحاضہ کے مرض میں مبتلا ہوئیں مگر اللہ اور ان کے رسول ﷺ نے ان کے ساتھ جماع کرنے سے منع نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿...فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ...﴾
’’...حالتِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو...‘‘ [سورۂ بقرۃ: 222]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایامِ حیض کے سوا خواتین سے الگ ہونا واجب نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب استحاضہ کی حالت میں نماز ادا کرنا جائز ہے تو جماع اس سے بھی زیادہ آسان ہے اور مستحاضہ کے جماع کا قیاس حائضہ کے جماع پر کرنا صحیح نہیں ہے کیوں کہ (مستحاضہ اور حائضہ) برابر نہیں ہیں حتٰی کہ جو حرمت کے قائل ہیں ان کے ہاں بھی یہ برابر نہیں ہیں اور یہ قیاس مع الفارق ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔
چھٹی فصل: نفاس اور اس کا حکم
نفاس: اس خون کو کہتے ہیں جو رحمِ مادر سے ولادت کے سبب یا تو ولادت کے وقت یا ولادت کے بعد دو دن یا تین دن پہلے دردِ زہ کے ساتھ خارج ہوتا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’عورت جب دردِ زہ میں مبتلا ہوکر خون دیکھتی ہے تو وہ نفاس ہے۔‘‘ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے دو دن یا تین دن کی قید نہیں لگائی اور ’’دردِ زہ‘‘ سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مراد ولادت سے پہلے والا درد ہے ورنہ وہ نفاس نہیں ہوگا۔ علماء کرام نے نفاس کے کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کی حد میں اختلاف کیا ہے۔ شیخ تقی الدین رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ’’الأسماء الّتي علّق الشارع الأحكام بها‘‘ (ص: 37) میں فرمایا: ’’نفاس کے اقل اور اکثر ایام کی حد مقرر نہیں ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ عورت نے چالیس یا ساٹھ یا ستر سے زائد دن خون دیکھا پھر وہ رک گیا تو وہ نفاس ہے لیکن اگر وہ خون جاری رہا تو وہ فاسد خون ہوگا۔ اس وقت نفاس کی حد چالیس دن ہے کیوں کہ چالیس غالب طور پر آخری حد ہے جس کے بارے میں آثار بھی وارد ہوئے ہیں۔‘‘ اﻫ
میں کہتا ہوں: اس بنا پر جب عورت کا خون چالیس دن سے زیادہ ہوجائے حالاں کہ چالیس دن کے بعد خون رک جانا اس عورت کی عادت ہو، یا اس خون میں رکنے کی نشانیاں ظاہر ہو جائیں تو وہ خون کے ختم ہونے کا انتظار کرے ورنہ چالیس دن مکمل ہونے پر غسل کرے‘ کیوں کہ اکثر یہی ہوتا ہے- ہاں اگر اس کے حیض کا زمانہ آجائے تو وہ خاتون حیض کا زمانہ ختم ہونے تک انتظار کرے گی۔ اس کے بعد اگر اس کا خون رک جائے تو یہی اس کی عادت مانی جائے گی اور وہ مستقبل میں اسی کے مطابق عمل کرے گی۔ اگر خون جاری رہے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہوگی اور استحاضہ کے سابقہ احکام اس پر نافذ ہوں گے۔ اگر چالیس دن سے پہلے خون ختم ہوگا تو وہ غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی، خاوند بھی اس سے جماع کرسکتا ہے الا یہ کہ انقطاع (خون) ایک دن سے کم ہو تو اس کا کوئی حکم نہیں ہے، ابن قدامہ نے اسے ’’المغنی‘‘ میں ذکر کیا ہے۔(66)
نفاس وضع حمل کے بعد ثابت ہوگا جس میں انسان کی تخلیق بھی واضح ہو۔ اگر عورت ناقص الخلقت بچہ وضع کرتی ہے جس میں انسان کی تخلیق واضح نہیں ہوتی تو اس کا خون نفاس کا خون نہیں ہوگا بلکہ وہ رگ کا خون ہوگا، اس خاتون کا حکم مستحاضہ کا حکم ہوگا، سب سے کم مدت جس میں انسان کی تخلیق نمایاں ہوتی ہے وہ ابتدائے حمل سے اسی (80) دن ہے اور غالبِ مدت نوے (90) دن ہے۔
مجد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اگر خاتون وضع حمل سے پہلے دردِ زہ کے ساتھ خون دیکھتی ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گی اور وضع حمل کے بعد نماز اور روزے سے رک جائے گی۔ پھر اگر وضع حمل کے بعد معاملہ ظاہری حالت کے خلاف نکلا تو وہ خاتون رجوع کرے گی اور تدارک کرے گی اور اگر معاملہ ظاہری حالت کے خلاف منکشف نہیں ہوا تو ظاہر کا حکم جاری رہے گا اور کوئی اعادہ نہیں ہوگا۔ یہ کلام مجد ابن تیمیہ سے ’’شرح الإقناع‘‘ میں منقول ہے۔(67)
نفاس کے احکام:
نفاس کے بھی وہی احکام ہیں جو حیض کے ہیں سوائے چند احکام کے جو کہ درجِ ذیل ہیں:
پہلا حکم: عدت: عدت کا اعتبار طلاق کے ساتھ کیا جائے گا نہ کہ نفاس کے ساتھ۔ کیوں کہ اگر طلاق وضع حمل سے پہلے ہو تو عدت وضع حمل کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی نہ کہ نفاس کے ساتھ۔ اگر طلاق وضع ِحمل کے بعد ہو تو وہ عورت حیض آنے کا انتظار کرے گی جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
دوسرا حکم: ایلاء کی مدت میں حیض کے ایام شمار ہوتے ہیں، نفاس کے ایام شمار نہیں ہوتے۔
ایلاء: یہ ہے کہ آدمی اپنی عورت سے ہمیشہ کے لیے ترکِ جماع کی قسم اٹھائے یا اتنی مدت کے لیے جو چار مہینوں سے زیادہ ہو، جب وہ اس بات کى قسم اٹھائے اور پھر عورت اس سے جماع کا مطالبہ کرے تو اس کے قسم کی مدت چار مہینے مقرر کى جائے گی اور جب چار ماہ مکمل ہوجائیں گے تو خاوند کو عورت کے مطالبہ پر جماع یا طلاق پر مجبور کیا جائے گا۔ اس مدت میں اگر عورت کو نفاس کا خون آجائے تو یہ مدت شمار نہیں کی جائے گی اور چار مہینوں پر نفاس کی مدت کے بقدر اضافہ کیا جائے گا، بر خلاف حیض کے کیوں کہ اس کی مدت شوہر پر شمار کی جائے گی۔
تیسرا حکم: بلوغت: بلوغت حیض آنے سے حاصل ہوتی ہے نفاس سے حاصل نہیں ہوتی کیوں کہ عورت کا بغیر انزال کے حاملہ ہونا ناممکن ہے، حمل کے لیے بلوغت کا حصول سابقہ انزال سے ہوتا ہے۔
چوتھا حکم: حیض اور نفاس میں فرق: جب حیض کا خون ختم ہوجائے پھر عادت کے ایام میں ہی دو بارہ آجائے تو وہ یقینی طور پر حیض ہے۔ مثال کے طور پر عورت کے حیض کی عادت آٹھ دن ہے، وہ چار دن حیض دیکھتی ہے پھر دو دن حیض بند ہوجاتا ہے پھر ساتویں اور آٹھویں دن دوبارہ حیض آجاتا ہے، تو یہ دوبارہ آنے والا خون یقینی طور پر حیض ہی ہوگا اور اس کے لیے حیض کے احکام ثابت ہوں گے۔ رہی بات نفاس کے خون کی تو جب نفاس کا خون چالیس دن سے پہلے بند ہو جائے پھر چالیس دن کے اندر ہی دوبارہ خون آ جائے تو وہ مشتبہ ہے، ایسی صورت میں عورت پر واجب ہے کہ وہ نماز پڑھے اور فرض روزے رکھے جس کا وقت مقرر ہے، فرائض کے علاوہ اس خاتون پر وہ سب کچھ حرام ہے جو حائضہ پر حرام ہے، اس خون کے ایام میں اس نے جو کچھ کیا ہے اس کی قضا وہ ’’طہر‘‘ کے بعد کرے گی جس طرح حائضہ پر قضا واجب ہوتی ہے۔ یہی قول فقہاءِ حنابلہ کے یہاں مشہور ہے(68)۔
صحیح بات یہ ہے کہ جب عورت کو خون ایسے زمانے میں دوبارہ واپس آجائے جس میں ممکن ہو کہ نفاس ہے تو وہ نفاس ہوگا ورنہ حیض ہوگا۔ الا یہ کہ وہ خون عورت کو جاری رہے تو وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔
یہ اس قول کے قریب ہے علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ’’المغنی‘‘(69) میں امام مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اگر عورت خون ختم ہونے کے دو دن یا تین دن بعد دوبارہ خون دیکھتی ہے تو وہ نفاس کا خون ہے ورنہ وہ حیض ہے۔‘‘ اﻫ یہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اختیار کا تقاضا ہے:
حسبِ واقع خون میں کوئی چیز مشکوک نہیں ہے لیکن شک امر نسبی ہے جس میں لوگ اپنے علم وفہم کے مطابق اختلاف کرتے ہیں۔ کتاب وسنت میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی ایک پر واجب نہیں کیا کہ وہ دو مرتبہ روزہ رکھے یا دو مرتبہ طواف کرے الا یہ کہ روزے میں ایسا نقص وخلل ہو جس کا تدارک قضا کے بغیر ناممکن ہو، رہی بات بندے کے فعل کی جس پر وہ اپنی حسبِ طاقت قدرت رکھتا ہے تو اس کا ذمہ پورا ہوجائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَا...﴾
’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا...‘‘ [سورۂ بقرۃ: 286]، اور فرمایا:
﴿فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ...﴾
’’پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو...‘‘ [سورۂ تغابن: 16]۔
حیض اور نفاس میں پانچواں فرق: حیض میں جب عورت عادت کے ایام سے پہلے پاک ہوجائے تو اس کے خاوند کے لیے بغیر کسی کراہت کے جماع کرنا جائز ہے۔ نفاس میں جب عورت چالیس دن سے پہلے پاک ہوگی تو مشہور مذہب کے مطابق اس کے خاوند کے لیے جماع کرنا مکروہ ہے، اور صحیح قول یہ ہے کہ اس خاتون سے جماع کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اور جمہور علماء کا یہی قول ہے کیوں کہ کراہت حکمِ شرعی ہے جو شرعی دلیل کی محتاج ہے۔ اس مسئلہ میں شرعی دلیل نہیں ہے سوائے اس قول کے جسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے عثمان بن ابی العاص کی بیوی کے بارے میں نقل کیا ہے کہ وہ چالیس دن سے پہلے عثمان کے پاس آئیں تو انھوں نے کہا: ’’میرے قریب مت آؤ۔‘‘(70)
یہ قول کراہت کو لازم نہیں کرتا کیوں کہ کبھی کبھی خاوند کی طرف سے یہ احتیاط اس ڈر سے ہوتا ہے کہ خاتون کو ابھی ’’طہر‘‘ (پاکی) کا یقین نہ ہو یا اس بنا پر کہ جماع کی وجہ سے خون حرکت میں آجائے یا اس کے علاوہ اور بھی دوسرے اسباب ہوسکتے ہیں۔ والله أعلم۔
ساتویں فصل: دواؤں کے ذریعے حیض کو روکنے یا لانے اور دواؤں کے ذریعے حمل روکنے یا ساقط کرنے کے بارے میں۔
عورت کا کوئی چیز استعمال کر کے اپنے حیض کو روکنا دو شرطوں سے جائز ہے:
پہلی شرط: عورت پر ضرر کا خدشہ نہ ہو، اگر اس کے استعمال سے عورت پر ضرر کا خدشہ ہو تو ناجائز ہے، کیوں کہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
﴿...وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَةِ...﴾
’’۔۔۔اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔۔‘‘ [سورۂ بقرۃ: 195]،
﴿...وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا﴾
’’۔۔۔اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔‘‘ [سورۂ نساء: 29]۔
دوسری شرط: خاوند کی اجازت سے حیض روکے، اگر اس کا خاوند سے کوئی تعلق ہو، مثال کے طور پر عورت خاوند کے پاس ایسی عدت میں ہو جس میں عورت کا نان ونفقہ خاوند کے ذمہ واجب ہو تو عورت ایسی دوائی استعمال کرے جس سے اس کی مدت بڑھ جائے اور خاوند پر عورت کا نان ونفقہ بڑھ جائے تو اس وقت عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر حیض کو روکنے والی دوائی استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر یہ ثابت ہوجائے کہ حیض روکنے سے حمل رکتا ہے تو اس وقت خاوند کی اجازت لازمی ہے، اگر جواز ثابت ہو بھی جائے پھر بھی بہتر یہ ہے کہ ضرورت کے بغیر دوائی استعمال نہ کی جائے کیوں کہ طبیعت کو اپنی اصلی حالت پر چھوڑنا صحت کو اعتدال اور سلامتی کی طرف لانے کے زیادہ قریب ہے۔
رہی بات ایسی چیز کا استعمال جو حیض کو لانے کا باعث بنے تو یہ بھی دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
پہلی شرط یہ ہے کہ عورت دوائی استعمال کر کے کسی واجب کے سقوط کا حیلہ نہ کرے۔ مثال کے طور پر عورت رمضان کے قریب اس وجہ سے دوائی استعمال کرے کہ وہ روزہ نہ رکھے یا دوائی کے استعمال سے نماز ساقط ہوجائے اور اسی طرح کے دوسرے امور۔
دوسری شرط: حیض کو لانا خاوند کی اجازت سے ہو کیوں کہ حیض کا حصول خاوند کو مکمل فائدہ اٹھانے سے روکتا ہے۔ اس لیے خاوند کی رضامندی کے بغیر ایسی چیز استعمال کرنا ناجائز ہے جو خاوند کے حق کو روکتی ہو، اگر وہ عورت مطلقہ ہو تو حیض کو لانے کا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ خاوند کے حقِ رجوع کو جلدی سے ختم کردیا جائے اگر خاوند حقِ رجوع کا حق دار ہو۔
رہی بات یہ کہ ایسی چیز کا استعمال کرنا جو حمل کو روکتی ہو تو اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: حمل کو مستقل طور پر روکنا نا جائز ہے کیوں کہ اس سے حمل بالکل ختم ہوجاتا ہے جو نسل کی کمی کا باعث ہے اور یہ امتِ اسلامیہ کی کثرت کے خلاف ہے جو شارع علیہ السلام کا مقصود ہے، دوسرا یہ بھی معلوم ومامون نہیں کہ جو اولاد موجود ہے وہ باقی رہے کیوں کہ اگر اس کی موجودہ اولاد فوت ہو جائے تو خاتون بیوہ ہوجائے گی اور اس کی کوئی اولاد نہیں رہے گی۔
دوسری قسم: حمل کو ایک وقتِ مقرر تک روکا جائے۔ مثال کے طور پر عورت کثرتِ حمل والی ہو اور حمل اس کے لیے باعث تکلیف ہو‘ تو خاتون یہ چاہتی ہو کہ اس کا حمل منظم ہو جائے بایں طور کہ وہ دو سال میں ایک مرتبہ حاملہ ہو‘ تو یہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ ایک تو اس کا خاوند اسے اجازت دے اور دوسرا اس سے عورت کو نقصان نہ ہو، اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے عہدِ مبارک میں اپنی عورتوں سے اس وجہ سے ’’عزل‘‘ کرتے تھے کہ ان کی عورتیں حاملہ نہ ہوں(71)، اس سے ان کو روکا نہیں گیا، ’’عزل‘‘ یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے جماع کرتے ہوئے اپنے عضو تناسل کو انزال کے وقت باہر نکال لے اور عورت کی شرمگاہ سے باہر انزال کرے۔
رہی بات ایسی چیز کے استعمال کی جس سے اسقاطِ حمل (ABORTION) ہوتا ہے تو اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: حمل ضائع کرنے کا مقصد بچہ ضائع کرنا ہو تو اگر یہ اس میں روح پھونکے جانے کے بعد ہو تو بلاشک وشبہ حرام ہے کیوں کہ یہ ایک نفس کا ناحق قتل کرنا ہے اور جان کا قتل کرنا کتاب وسنت اور مسلمانوں کے اجماع کے مطابق حرام ہے۔ اگر یہ عمل روح پھونکے جانے سے پہلے ہو تو اس کے جواز کے بارے میں علماء کرام نے اختلاف کیا ہے: بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے منع کیا ہے اور بعض نے فرمایا: ’’اگر علقہ‘‘ نہ ہو تو جائز ہے، اور بعض نے کہا: اگر اس میں انسان کی شکل وصورت نمایاں نہ ہوتو جائز ہے۔
احوط یہ ہے کہ بغیر ضرورت وحاجت کے اسقاطِ حمل ممنوع ہے مثلاً عورت ایسی مریضہ ہو کہ حمل برداشت نہیں کرسکتی ہو تو اس وقت اسقاطِ حمل جائز ہے۔ ہاں اگر اس حمل پر اتنی مدت گزر گئی ہو جس میں انسان کی شکل وصورت واضح ہونا ممکن ہو تو اس صورت میں اسقاطِ حمل ممنوع ہے۔ والله أعلم۔
دوسری قسم: اسقاطِ حمل سے حمل ضائع کرنا مقصود نہ ہو۔اس طرح کہ حمل کی مدت پوری ہونے اور وضع حمل کے قریب ہونے کے وقت اسقاطِ حمل کی کوشش کی جائے، یہ صورت جائز ہے بشرط یہ کہ اس صورت میں ماں اور بچے کا نقصان نہ ہو اور آپریشن کی بھی ضرورت نہ پڑے، اگر آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کی چار حالتیں ہیں:
پہلی حالت یہ ہے کہ ماں اور بچہ دونوں زندہ ہوں تو ضرورت کے بغیر آپریشن جائز نہیں ہے۔ وہ اس طرح کہ ڈلیوری مشکل ودشوار ہوجائے تو آپریشن کی ضرورت پڑجائے، کیوں کہ جسم بندے کے پاس ایک امانت ہے۔ بندہ کسی بڑی مصلحت کے بغیر اس میں خوفناک تصرف نہیں کرسکتا اور (آپریشن اس لیے بھی جائز نہیں) کہ کبھی بندہ گمان کرتا ہے کہ آپریشن میں نقصان نہیں لیکن نقصان ہوجاتا ہے۔
دوسری حالت یہ ہے کہ ماں اور بچہ دونوں مردہ ہوں تو اس وقت بچے کو نکالنے کے لیے آپریشن کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
تیسری حالت یہ ہے کہ ماں زندہ ہو اور حمل (بچہ) مردہ ہو تو اس وقت بچے کو نکالنے کے لیے آپریشن کرنا جائز ہے الا یہ کہ ماں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، کیوں کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے - واللہ اعلم- کہ جب بچہ مردہ ہوتا ہے تو بغیر آپریشن کے نہیں نکالا جاسکتا۔ اس حمل کا عورت کے پیٹ میں رہنا عورت کو مستقبل میں حاملہ ہونے سے روک دے گا اور اس سے عورت پر مشقت ہوگی۔ بسا اوقات وہ بغیر شوہر کے رہ جائے گی اگر وہ سابق خاوند کی طرف سے عدت میں ہو۔ واللہ اعلم-
چوتھی حالت یہ ہے کہ ماں مردہ ہو اور بچہ زندہ ہو۔ اگر بچے کی زندگی کی امید نہ ہو تو آپریشن کرنا جائز نہیں ہے۔
اگر بچے کے زندہ رہنے کی امید ہو اور بچے کا بعض حصہ نکل آیا ہو تو باقی حصہ کو نکالنے کے لیے ماں کا پیٹ چاک کیا جائے گا اور اگر بچہ کا کچھ حصہ بھی باہر نہ نکلا ہو تو ہمارے اصحاب رحمہم اللہ نے فرمایا: ’’حمل کو نکالنے کے لیے ماں کے پیٹ کا آپریشن نہیں کیا جائے گا کیوں کہ یہ ’’مثلہ‘‘ ہے۔‘‘ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ماں کے پیٹ کا آپریشن کیا جائے گا اگر بغیر آپریشن کے حمل نکالنا ناممکن ہو، ابن ہبیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے، مرداوی نے ’’الانصاف‘‘(72) میں فرمایا: ’’یہی بہتر ہے۔‘‘
میں کہتا ہوں کہ ہمارے اس دور میں خاص طور پر یہی بہتر ہے کیوں کہ آپریشن کرنا ’’مثلہ‘‘ نہیں ہے۔ اس لیے کہ پیٹ کا آپریشن ہوتا ہے پھر اسے سل دیا جاتا ہے۔ اس لیے بھی کہ زندہ انسان کی حرمت مردہ کی حرمت سے زیادہ ہے اور اس لیے بھی کہ معصوم کو ہلاکت سے بچانا واجب ہے اور حمل معصوم انسان ہے‘ اس لیے اس کو بچانا واجب ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
نوٹ: مذکورہ حالات جن میں اسقاطِ حمل جائز ہے ان میں خاوند کی اجازت لینا لازمی ہے۔
یہاں تک کلام ختم ہوا جس کا ہم نے اس اہم موضوع میں لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ ہم نے صرف مسائل کے اصول وضوابط پر اکتفا کیا ہے۔ ورنہ ان مسائل کے فروعات اور جزئیات اور جو مسائل اس بارے میں خواتین کو لاحق ہوتے ہیں‘ وہ بحر بیکراں کی طرح ہیں۔ لیکن دانا اور زیرک آدمی فروعات کو اصول کی طرف اور جزئیات کو کلیات وضوابط کی طرف لوٹانے کی طاقت رکھتا ہے اور چیزوں کو نظائر پر قیاس کرتا ہے۔
مفتی کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان رسولوں کی دعوتِ حقہ کو بیان کرنے اور پہنچانے کا ایک واسطہ ہے اور جو کچھ بھی کتاب وسنت میں موجود ہے اس بارے میں وہ مسؤول اور ذمہ دار ہے کیوں کہ کتاب وسنت ہی ایسے مصادرِ شریعت ہیں جن کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے بندہ کو مکلّف ٹھہرایا گیا ہے۔ ہر وہ چیز جو کتاب وسنت کے مخالف ہے وہ غلط ہے اسے اس کے قائل کی طرف رد کرنا واجب ہے اور اس پر عمل کرنا جائز نہیں اگرچہ اس کا قائل کبھی کبھی مجتہد ہونے کی وجہ سے معذور ہوتا ہے‘ اسے اپنے اجتہاد کا اجر ملے گا لیکن دوسرا آدمی جو اس کی غلطی سے واقف ہو‘ اس کے لیے اس کا فتویٰ قبول کرنا جائز نہیں ہے۔
مفتی پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی نیت خالص کرے اور ہر قسم کے درپیش حادثات وواقعات میں صرف اللہ سے مدد طلب کرے اور اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی اور اصابت رائے کی توفیق طلب کرے۔
مفتی پر واجب ہے کہ اس کا اعتماد کتاب وسنت میں وارد نصوص ودلائل پر ہو‘ وہ کتاب وسنت میں بحث وجستجو کرے یا اہل علم کے ان اقوال میں غور وفکر کرے جن کے ذریعہ کتاب وسنت کی فہم وبصیرت حاصل کرنے میں مدد لی جاتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ رونما ہوتا ہے تو انسان اہلِ علم کے کلام کی روشنی میں حسبِ طاقت مسائل تلاش کرتا ہے پھر اس مسئلہ کے حکم کے بارے میں ایسی کوئی دلیل نہیں پاتا جو اسے مطمئن کرسکے اور بسا اوقات ان مسائل کا بالکل ذکر ہی نہیں پاتا، پھر جب وہ کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کے لیے مسئلہ کا حکم قریب قریب ظاہری طور پر واضح ہوجاتا ہے اور ایسا اخلاص، علم اور فہم وفراست کے حساب سے ہوتا ہے۔
مفتی پر واجب ہے کہ وہ اشکال کے وقت حکم لگانے میں غور و فکر سے کام لے اور جلدی نہ کرے، کتنے ایسے احکام ہیں جن میں مفتی جلدی کرتا ہے پھر غور وفکر کے بعد اس کے لیے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس حکم میں غلطی پر ہے پھر وہ اس پر نادم وپشیمان ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو اس نے فتویٰ دیا ہوتا ہے اس میں غلطی کا تدارک ممکن نہیں ہوتا۔
لوگ جب مفتی کے اندر حقیقت کی جستجو، بردباری، نرمی اور سنجیدگی جیسی صفات جانتے ہیں تو پھر اس کے قول پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے قول کو معتبر سمجھتے ہیں، اور لوگ جب مفتی کو جلدی کرنے والا اور بہت زیادہ غلطی والا دیکھتے ہیں تو جس بارے میں وہ فتویٰ دیتا ہے اس پر اعتماد نہیں کرتے‘ اس طرح مفتی اپنی عجلت اور غلطی کی وجہ سے اپنے آپ کو اور لوگوں کو اپنے علم اور اصابتِ رائے سے محروم رکھتا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دے اور ہمیں اپنی خاص عنایت وحفاظت سے نوازے‘ ہمیں اپنی عنایت کے ذریعہ گناہ کے ارتکاب سے محفوظ رکھے، بے شک وہ جود وسخا اور عزت والا ہے، اور درود وسلام ہو ہمارے نبی ﷺ پر اور آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر۔ تمام تعریفات اس اللہ عز وجل کے لیے خاص ہیں جس کی نعمت سے نیک کام تکمیل کو پہنچتے ہیں۔
یہ رسالہ مکمل ہوا بقلم محتاج الہی
محمد بن صالح العثیمین
بوقت چاشت بروز جمعہ
14 شعبان 1392ھ
***
فہرست
دوسری فصل: حیض کے وقت اور مدت کے متعلق 6
تیسری فصل: حیض پر اچانک طاری ہونے والے امور کے متعلق 19
چوتھی فصل: حیض کے احکام کے بیان میں 26
پانچویں فصل: استحاضہ اور اس کے احکام 52
مستحاضہ کے احوال: 54
مستحاضہ کے مشابہ خاتون کی حالت: 60
استحاضہ کے احکام: ۶۱
چھٹی فصل: نفاس اور اس کا حکم 65
نفاس کے احکام: ۶۷
ساتویں فصل: دواؤں کے ذریعے حیض کو روکنے یا لانے اور دواؤں کے ذریعے حمل روکنے یا ساقط کرنے کے بارے میں۔ ۷۲
***
() صحیح بخاری: کتاب الحیض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت، حدیث نمبر: (305)، صحیح مسلم: کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام، حدیث نمبر: (1211)۔
() صحیح بخاری، کتاب العمرة، باب أجر العمرة على قدر النصب، حدیث نمبر: (1662)، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بيان وجوه الإحرام، حدیث نمبر: (1211)۔
() رسالة الأسماء التي علق الشارع الأحكام بها (ص : 35)۔
() سابق مرجع: 36۔
() سابق مرجع: 38۔
() اسے بخاری نے کتاب الإیمان، باب الدین یسر، حدیث نمبر: (39) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
() صحیح بخاری، كتاب المناقب، باب صفة النبي صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: (3560)، صحیح مسلم، كتاب الفضائل، باب مباعدته صلی اللہ علیہ وسلم للآثام، حدیث نمبر: (77/2327)۔
() مجموع الفتاوى (238/19-239).
() الأوسط (356/2)۔
() دیکھیے: المغنی (405/1)۔
() المدونة (1/ 155)، النوادر والزيادات (1/ 136)۔
() اختلاف الفقهاء للمروزي (ص: 193)، الأوسط (2/ 239)۔
() الأم (82/1)۔
() مجموع الفتاوى (19/ 238-239)۔
() المغنی (396/1)۔
() اسے ابو داود نے كتاب الطهارة، باب في المرأة ترى الكدرة والصفرة بعد الطهر، حدیث نمبر: (307) میں روایت کیا ہے۔
() اسے بخاری نے كتاب الحيض، باب الصفرة والكدرة في غير أيام الحيض، حدیث نمبر: (326) میں روایت کیا ہے۔
() فتح الباری (1/ 426)۔
() صحیح بخاری (1/ 71)۔
() بخاری نے کتاب الحيض، باب إقبال المحيض وإدباره، حدیث نمبر: (320) سے پہلے اسے تعلیقاً ذکر کیا ہے۔
() الأم (1/ 83-84)-
() اسی سے الإنصاف میں منقول ہے۔
() الأصل (19/2-20)۔
() المغنی (226/1)۔
() المغنی (257/1)۔
() اسے بخاری نے ’كتاب مواقيت الصلاة‘ باب من أدرك من الصلاة ركعة، حدیث نمبر: (580) میں، اور مسلم نے ’كتاب المساجد ومواضع الصلاة‘ باب من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك تلك الصلاة، حدیث نمبر: (607) میں ابو هريرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
() اسے بخاری نے ’كتاب مواقيت الصلاة‘ باب من أدرك من الفجر ركعة، حدیث نمبر: (579) میں، اور مسلم نے ’كتاب المساجد ومواضع الصلاة‘ باب من أدرك ركعة فقد أدرك تلك الصلاة، حدیث نمبر: (608) میں ابو هريرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
() المجموع شرح المهذب (3/ 70)۔
() اسے بخاری نے كتاب الحيض، باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض، حدیث نمبر: (297) میں اور مسلم نے كتاب الحيض، باب اتكاء الرجل في حجر زوجته وهي حائض وقراءة القرآن، حدیث نمبر: (301) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() صحیح بخاری: کتاب الحیض، باب شهود الحائض العیدین ودعوة المسلمين، ويعتزلن المصلى، حدیث نمبر: (324)، صحیح مسلم: کتاب صلاة العیدین، باب ذكر إباحة خروج النساء في العیدين إلى المصلى وشهود الخطبة، مفارقات للرجال، حدیث نمبر: (890)۔
() المجموع (2/ 357)۔
() دیکھیے: صحیح بخاری: كتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت، اور فتح الباري (1/ 407-408)۔
() فتح الباری (1/ 408)۔
() الأوسط (2/223)۔
() المجموع (2/ 356)۔
() فتح الباری (1 / 408)۔
() اسے بخاری نے كتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت، حدیث نمبر: (305) سے پہلے تعلیقاً ذکر کیا ہے۔
() سنن ترمذي، أبواب الطهارة، باب ما جاء في الجنب والحائض أنهما لا يقرآن القرآن، حدیث نمبر: (131)۔
() دیکھیے: العلل للترمذي (ص: 69/ ترتيبه)، السنن الكبرى للبيهقي (1/ 309)، الأحكام الشرعية لابن عبد الحق (1/ 504)، اور نصب الراية للزيلعي (1/ 195)۔
() مجموع الفتاوى (26/ 191)۔
() صحیح بخاری، كتاب الحيض، باب لا تقضي الحائض الصلاة، حدیث نمبر: (321)، صحیح مسلم، كتاب الحيض، باب وجوب قضاء الصوم على الحائض دون الصلاة، حدیث نمبر: (335)، مذکورہ الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔
() صحیح بخاری: كتاب العلم، باب الحياء في العلم، حدیث نمبر : (130)، صحیح مسلم : كتاب الحيض، باب وجوب الغسل على المرأة...، حدیث نمبر : (313)۔
() صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب اغتسال الصائم، حدیث نمبر: (1931)، صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب، حدیث نمبر: (1109)۔
() صحیح بخاری، كتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك كلها إلا الطواف بالبيت، حدیث نمبر: (305)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب بيان وجوه الإحرام، حدیث نمبر: (1211)۔
() صحیح بخاری، کتاب الحج، باب طواف الوداع، حدیث نمبر: (1755)، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع وسقوطه عن الحائض، حدیث نمبر: (1328)۔
() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب إذا حاضت المرأة بعد ما أفاضت، حدیث نمبر: (1757)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع، حدیث نمبر: (1211)۔
() صحیح بخاری: كتاب الحيض، باب شهود الحائض العيدين ودعوة المسلمين، ويعتزلن المصلى، حدیث نمبر: (324) ، صحیح مسلم: كتاب صلاة العيدين، باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة، مفارقات للرجال، حدیث نمبر: (890)۔
() صحیح مسلم: كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها، حدیث نمبر: (302)۔
() صحیح بخاری: کتاب الحيض، باب مباشرة الحائض، حدیث نمبر: (301)، صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب مباشرة الحائض فوق الإزار، حدیث نمبر: (293)۔
() صحیح بخاری: کتاب الطلاق، حدیث نمبر: (5251)، صحیح مسلم: کتاب الطلاق، باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها، حدیث نمبر: (1471)، یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
() صحیح بخاری: کتاب الطلاق، باب الخلع وكيف الطلاق فيه، حدیث نمبر: (5273)، حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
() اسے بخاری نے کتاب الحيض، باب إقبال المحيض وإدباره، حدیث نمبر : (320)، اور مسلم نے کتاب الحيض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، حدیث نمبر: (333) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() اسے بخاری نے کتاب الحیض، باب غسل المحیض، حدیث نمبر: (315)، اور مسلم نے کتاب الحیض، باب استحباب استعمال المغتسلة من الحیض فِرصة من مسك فی موضع الدم، حدیث نمبر: (332) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() اسے مسلم نے کتاب الحيض، باب حكم ضفائر المغتسلة، حدیث نمبر: (330) میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() اسے بخاری نے کتاب الوضوء، باب غسل الدم، حدیث نمبر: (228) میں اور مسلم نے کتاب الحیض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، حدیث نمبر: (333) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() مسند امام احمد (6/ 349)، سنن ابو داود: کتاب الطهارة، باب: من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، حدیث نمبر : (287)، سنن ترمذی: أبواب الطهارة، باب في المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد، حدیث نمبر: (128)، یہ حدیث حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
() سنن ترمذي: ابواب الطهارة، باب في المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد، حدیث نمبر: (128) کے بعد۔
() اسے بخاری نے کتاب الحیض، باب الحیض، وما يصدق النساء في الحيض والحمل، فيما يمكن من الحيض، حدیث نمبر: (325) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() اسے مسلم نے کتاب الحیض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، حدیث نمبر: (334) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
() اسے ابو داود نے کتاب الطہارة، باب: «من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة»، حدیث نمبر: (286)، نسائی نے کتاب الطہارة، باب: «ما جاء في المستحاضة التي قد علمت أيام أقرائها، قبل أن يستمر بها الدم»، حدیث نمبر: (211) میں، ابن ماجہ نے کتاب الطہارة وسننھا، باب: «ما جاء في المستحاضة التي قد علمت أيام أقرائها، قبل أن يستمر بها الدم»، حدیث نمبر: (620) میں‘ ابن حبان نے حدیث نمبر: (1348) میں ، اور حاکم نے حدیث نمبر: (618) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ر وایت کیا ہے۔
() مسند احمد (6/ 439)، سنن ابو داود : کتاب الطهارة، باب: من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، حدیث نمبر: (287)، جامع الترمذي: أبواب الطهارة، باب: في المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد، حدیث نمبر: (128)، حدیث حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
() سنن ترمذي: ابواب الطهارة، باب في المستحاضة أنها تجمع بين الصلاتين بغسل واحد، حدیث نمبر: (128) کے بعد۔
() صحیح بخاری: کتاب الوضوء، باب غسل الدم، حدیث نمبر : (228)، اور صحیح مسلم : کتاب الحیض، باب المستحاضة وغسلها وصلاتها، حدیث نمبر : (333)، حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
() مسند احمد 6/ 204، سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارة وسننها، باب ما جاء في المستحاضة التي قد عدت أيام أقرائها، قبل أن يستمر بها الدم، حدیث نمبر: (624)۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔
() المغنی (252/1-253)۔
() كشاف القناع (219/1)۔
() المغنی (253/1)۔
() المغنی (253/1)۔
() المغنی (2/ 252)، عثمان بن ابی العاص کا اثر مصنف عبد الرزاق (1202)، مصنف ابن ابی شیبہ (17450)، سنن دارمی (990)، اور المنتقی ابن الجارود (118) میں موجود ہے۔
() صحیح بخاری: کتاب النكاح، باب العزل، حدیث نمبر: (5209)، صحیح مسلم: کتاب النكاح، باب حكم العزل، حدیث نمبر: (1440)، حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
() الإنصاف (556/2)۔
() أحكام المتحيرة في الحيض، از امام دارمی (ص :17)۔