دعا اور رُقیہ کے ذریعہ علاج کتاب وسنت کی روشنی میں (اردو)

کتاب "الدعاء ویلیہ العلاج بالرقى من الكتاب والسنة" ایک علمی تصنیف ہے جو شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی کی لکھی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد دعا کی اہمیت اور اس کے آداب کو واضح کرنا ہے، نیز قرآن کریم اور سنت نبویہ سے ماخوذ شرعی رقیہ کے ذریعے علاج کے طریقے بیان کرنا ہے۔

  • earth زبان
    (اردو)
  • earth تالیف:
    الشيخ سعيد بن علي بن وهف القحطاني
PHPWord

 

 

 

 

الدُّعَاءُ

وَيَلِيهِ العِلَاجُ

بِالرُّقَى مِنَ الكِتَابِ وَالسُّنَّةِ

دعا اور رُقیہ کے ذریعہ علاج

کتاب وسنت کی روشنی میں

 

 

ڈاکٹر سعید بن علی بن وھف القحطانی

رحمہ اللہ

 


کتاب و سنت کی دعائیں

ﱩ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﱨ

"اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ کو پکارو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی" ۔[ الاعراف:180]

اللہ -الاول-الآخر-الظاهر-الباطن-العليّ- الأعلى

الله، اول،آخر،ظاہر،باطن، بلند ، بلند ترین

المتعال-العظيم-المجيد-الكبير-السميع- البصير-العليم

بلند مرتبہ والا، عظمت والا، بزرگی والا، بڑا، سننے والا، دیکھنے والا، جاننے والا

الخبير-الحميد-العزيز-القدير-القادر-المقتدر-القويُّ

خبر رکھنے والا، تعریف کا سزاوار، عزیز (غالب)، قدرت والا، القادر والقدير والمقتدر، طاقت ور

المتين-الغني-الحكيم-الحليم-العفوُّ-الغفور-الغفار

مضبوط، تونگر، حکمت والا، بردبار، معاف کرنے والا، درگزر کرنے والا، بہت زیادہ بخشنے والا

التوَّاب-الرقيب-الشهيد-الحفيظ-اللطيف-القريب-المجيب

بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نگہبان، تمام چیزوں پر مطلع، حفاظت کرنے والا، باریک بيں، قریب، دعا قبول کرنے والا

الودود-الشاكر-الشكور-السيد-الصمد-القاهر-القهار

محبت کرنے والا، قدردان، بڑا قدردان، سردار، بے نیاز، غالب، سب کو مغلوب کرنے والا

الجبار-الحسيب-الهادي-الحكم-القدوس-السلام -البَرُّ

الجبار، حساب لینے والا، ہدایت دینے والا، فیصلہ کرنے والا، (ہر نقص وعیب سے) پاک، سلامتی والا، بھلائی کرنے والا

الوهَّاب-الرحمن-الرحيم-الكريم-الأكرم-الرءوف-الفتّاح

بہت زیادہ عطا کرنے والا، بڑا مہربان، نہایت رحم والا، سخی، بڑا سخی، بہت ہی شفیق، رحمت کے دروازے کھولنے والا

الرَّازق-الرَّزَّاق-الحي-القَيُّوم -الربّ-الملك-المليك

روزی دینے والا، بہت زیادہ روزی دینے والا، زندہ، سب کو تھامنے والا، پالنے والا، بادشاہ، ملک کا مالک

الواحد-الأحد -المتكبِّر-الخالق-الخلاّق-البارئ -المصوِّر

ایک، اکیلا، بڑائی والا، پیدا کرنے والا، بہت زیادہ ایجاد کرنے والا، وجود میں لانے والا، تصویر بنانے والا

المؤمن- المهيمن- المحيط-المقيت-الوكيل-الكافي - الواسع

امن دینے والا، محافظ، احاطہ کرنے والا، طاقت و قدرت رکھنے والا، کارساز، کافی، وسعت والا

الحق-الجميل-الرفيق-الحيي-الستير-الإله - القابض

الحق، خوب صورت، نرمی سے کام لینے والا، حیا کرنے والا، پردہ ڈالنے والا، معبود، تنگی کرنے والا

الباسط-المعطي-المقدِّم-المؤخِّر-المبين-المنّان - الوليّ

کشادگی کرنے والا، دینے والا، آگے کرنے والا، پیچھے کرنے والا، واضح کرنے والا، بہت زیادہ احسان کرنے والا، ولی

الموْلى- النصير-الشافي - مالك الملك- جامع الناس

مولی، مددگار، شفا دینے والا، ملک کا مالک، لوگوں کو یکجا کرنے والا

نور السموات والأرض - ذو الجلال والإكرام - بديع السموات والأرض

آسمانوں اور زمین کا نور - عزت و جلال والا - آسمانوں اور زمین کو بنا کسی نمونے کے پیدا کرنے والا(1)

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

مقدمہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفوس اور برے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہيں۔ بکثرت درود وسلام نازل ہو آپ پر، آپ کی آل و اولاد پر، آپ کے ساتھیوں پر اور قیامت کے دن تک پوری ایمان داری کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔ اما بعد!

یہ میری کتاب "الذِّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالعِلاَجُ بِالرُّقَى مِنَ الكِتَابِ وَالسُّنَّةِ"(2) کا اختصار ہے۔ میں نے اس میں دعا والے حصے کا اختصار کیا ہے، تاکہ فائدہ اٹھانا آسان ہو جائے۔ اس میں کچھ دعاؤں اور نفع بخش فوائد کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے، ان شاء اللہ تعالی۔ اللہ سے، اس کے اسمائے حسنی اور بلند وبالا صفات کے واسطے سے دعا ہے کہ اس عمل کو اپنی رضا جوئی کا ذریعہ بنائے۔ وہی اس کا مالک ہے اور اسی کے پاس اس کی طاقت ہے۔

اللہ تعالی ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل و اصحاب پر اور قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود وسلام اور برکت نازل فرمائے۔

تحریر کردہ:

سعید بن علی بن وھَف القحطانی

 

 

دعا کی فضیلت

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ﱩ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﱨ

"اور تمہارے رب نے کہا کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ذلیل ہوکرجہنم میں داخل ہوں گے"[غافر:60]

اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

ﱩ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﱨ

"جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں (تو آپ کہہ دیں کہ) يقينا میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے"۔ [البقرۃ:۱۸۶]

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دعا ہی عبادت ہے۔ تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے): مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا"۔(3)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بے شک تمھارا رب با حیا اور سخی ہے۔ بندہ جب اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے"۔(4)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جو مسلمان کوئی دعا کرتا ہے، جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز عطا کرتا ہے: یا تو اس کی دعا کو اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع رکھ لیتا ہے یا پھر اس سے اسی کے مثل برائی دور کر دیتا ہے۔" صحابہ کرام نے کہا : تب تو ہم خوب دعائیں کیا کریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ تو کہیں زیادہ دینے والا ہے"۔ (5).

دعا کے آداب اور اس کی قبولیت کے اسباب(6):

1- اللہ کے لیے اخلاص

2۔ سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثنا کرنا اور اس کے بعد نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔ اختتام بھی اسی سے کرنا۔

3۔ پورے یقین سے دعا کرنا اور قبولیت کا يقين رکھنا۔

4۔ دعا کرتے وقت رونا، گِڑگِڑانا اور جلد بازی سے کام نہ لینا۔

5۔ دعا کرتے وقت دل کو حاضر رکھنا۔

6۔ خوش حالی اور تنگ حالی دونوں میں دعا کرنا۔

7۔ صرف اور صرف اللہ سے مانگنا۔

8۔ بیوی، مال ودولت اور اپنے بچوں اور خود اپنے لیے بد دعا نہ کرنا۔

9۔ ہلکی آواز میں دعا کرنا۔ نہ چلّا کر دعا کی جائے اور نہ من ہی من میں۔

10۔ اللہ کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کرنا اور بخشش طلب کرنا۔ اسی طرح اس کی دی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر بجا لانا۔

11۔ دعا میں بتکلف مسجع عبارت استعمال نہ کرنا۔

12۔ تضرع، خشوع، چاہت اور ڈر کے ساتھ دعا کرنا۔

13۔ توبہ کرنے کے ساتھ، اگر کسی بندے کا حق مار رکھا ہو تو اسے اس کا حق واپس کرنا۔

14- تین بار دعا کرنا۔

15۔ قبلہ کی جانب منہ کرنا۔

16۔ دعا کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا۔

17۔ ہو سکے تو دعا سے پہلے وضو کر لینا۔

18۔ دعا میں حد سے تجاوز نہ کرنا۔

19۔ دوسرے کے لیے دعا کرتے وقت پہلے اپنے لیے دعا کرنا۔(7)

20۔ اللہ کے اسمائے حسنی اور بلند صفات، یا اپنے کسی نیک عمل یا کسی زندہ اور موجود نیک انسان کی دعا کو وسیلہ بنانا۔

21۔ کھانا، پانی اور لباس کا حلال ہونا۔

22۔ کسی گناہ کی یا رشتے ناتے کو توڑنے کی دعا نہ کرنا۔

23۔ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

24۔ تمام گناہوں سے دور رہنا۔

وہ اوقات، حالات اور جگہیں ، جہاں دعا قبول ہوتی ہے(8):

1۔ شب قدر۔

2- رات کا آخری حصہ۔

3- فرض نمازوں کے بعد کا وقت۔

4- اذان اور اقامت کے درمیان۔

5- ہر رات کی ایک (خاص) گھڑی۔

6۔ فرض نمازوں کی اذان کا وقت۔

7۔ بارش ہوتے وقت۔

8۔ اللہ کے راستے میں صفوں کا جنگ کے لیے آگے بڑھتے وقت۔

9۔ جمعہ کے دن کی ایک(خاص) گھڑی۔

اس کے بارے میں راجح ترین قول یہ ہے کہ یہ جمعہ کے دن عصر کے بعد کی سب سے آخری گھڑی ہے۔ خطبہ اور نماز کی گھڑی بھی ہو سکتی ہے۔

10۔ سچی نیت سے زمزم کا پانی پیتے وقت۔

11۔ سجدے میں۔

12۔ رات میں نیند ٹوٹ جانے پر، اور اس وقت کے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت شدہ دعا پڑھتے وقت۔

13- طہارت کی حالت میں سونے کے بعد رات میں جاگنے پر دعا کرتے وقت۔

14۔ یہ آیت پڑھ کر دعا کرتے وقت : "لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"۔

15- میت کی وفات کے بعد لوگوں کا دعا کرنا۔

16۔ آخری تشہد میں اللہ کی تعریف اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے بعد دعا کرنا۔

17۔ اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعے دعا کرتے وقت کہ جس کے ذریعے دعا کرنے پر وہ قبول کرتا ہے اور مانگنے پر وہ دیتا ہے۔(9)

18۔ ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرنا۔

19۔ میدان عرفہ میں کی جانے والی دعا۔

20۔ ماہ رمضان میں دعا کرنا۔

21۔ مسلمانوں کے ذکر کی مجلسوں میں کی جانے والی دعا۔

22۔ مصیبت کے وقت کی جانے والی یہ دعا : "إِنَّاللهِ وَإِنَّاإِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا"۔

23۔ اس وقت کی جانے والی دعا جب دل کامل اخلاص کے ساتھ اللہ کی جانب متوجہ ہو۔

24۔ مظلوم کی ظالم کے حق میں کی گئی بد دعا۔

25۔ والد کا اپنے بچوں کے حق میں کی گئی دعا یا ان کے خلاف کی گئی دعا۔

26۔ مسافر کی دعا۔

27۔ روزے دار کی دعا، جب تک افطار نہ کر لے۔

28۔ روزے دار کی دعا جو افطار کے وقت کی جائے۔

29۔ پریشان حال کی دعا۔

30 انصاف پرور حاکم کی دعا۔

31۔ صالح اولاد کی دعا جو والدین کے حق میں کی گئی ہو۔

32۔ وضو کے بعد، جب نبی ﷺ سے منقول دعاؤں کے ذریعے مانگے۔

33۔ جمرہ صغری کو پتھر مارنے کے بعد کی جانے والی دعا۔

34۔ جمرہ وسطی کو پتھر مارنے کے بعد کی جانے والی دعا۔

35۔ کعبہ کے اندر کی گئی دعا۔اور جس نے حِجر(حطیم) کے اندر نماز پڑھی اس نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔

36۔ صفا پہاڑی پر کی گئی دعا۔

37۔ مروہ پہاڑی پر کی گئی دعا۔

38۔ مشعر حرام کے پاس کی گئی دعا۔

اور مسلمان جہاں بھی ہو ہمیشہ اپنے رب سے دعا کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

ﱩ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﱨ

"اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کو جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں، پس انہیں چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں" ۔[ البقرۃ:186]

لیکن ان اوقات، احوال اور اماکن کو زیادہ خصوصیت حاصل ہے۔

کتاب و سنت کی دعائیں

ساری تعریف صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور درود و سلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

ﱩ

 

ﭑ

 

ﭒ

 

ﭓ

 

ﭔ

 

ﭕ

 

ﭖ

 

ﭗ

 

ﭘ

 

ﭙ

 

ﭚ

 

ﭛ

 

ﭜ

 

ﭝ

 

ﭞ

 

ﭟ

 

ﭠ

 

ﭡ

 

ﭢ

 

ﭣ

 

ﭤ

 

ﭥ

 

ﭦ

 

ﭧ

 

ﭨ

 

ﭩ

 

ﭪ

 

ﭫ

 

ﭬ

 

ﭭ

 

ﭮ

 

ﭯ

 

ﭰ

 

ﭱ

 

ﭲ

 

ﭳ

 

ﭴ

 

ﱨ

"شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔ بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھا (اور سچا) راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو بھٹکے ہوئے ہیں"[ا لفاتحہ1-7]

ﱩ

 

...

ﭘ

 

ﭙ

 

ﭚﭛ

 

ﭜ

 

ﭝ

 

ﭞ

 

ﭟ

 

ﭠﱨ

"اے ہمارے رب، اسے ہم سے قبول فرما، بے شک تو خوب سننے والا، اورخوب جاننے والا ہے"[البقرہ-127]

3-ﱩ...ﭬ ﭭﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﱨ

"اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے"[البقرہ:128]۔

4-ﱩ...ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے"۔[البقرہ:201]

5-ﱩ...ﮮ ﮯﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖﱨ

"ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے"۔[ البقرہ: 285]

6-ﱩ ...ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍﰎ ﱨ

"اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما"۔[البقرہ: 286]

7-ﱩ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے واﻻ ہے"۔[ آل عمران: 16]

8-ﱩ...ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے اس لئے ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا"۔[ آل عمران: 16]

9-ﱩ ...ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﱨ

"اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزه اوﻻد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے واﻻ ہے"۔ [ آل عمران: 38]

10-ﱩ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚﱨ

"اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان ﻻئے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے"۔ [آل عمران: 53]

11- ﱩ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﱨ

"اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ﺛابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے"۔[ آل عمران: 147]

12- ﱩ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﱨ

"اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ "اے ہمارے پروردگار! بے شک جسے تو دوزخ میں ڈال دے، اسے یقیناً تو نے رسوا کر دیا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے واﻻ بآواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان ﻻئے۔ یا الٰہی اب تو ہمارے گناه معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وه دے جس کا وعده تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، یقیناً تو وعده خلافی نہیں کرتا"۔[ آل عمران: 191-194]

13-ﱩ ... ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔[ المائدۃ: 83]

14-ﱩ...ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﱨ

"دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے"[ الاعراف: 23]

15-ﱩ ...ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر"۔ [الاعراف:47]

16- ﱩ ... ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ... ﭳ ﱨ

"تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔ اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے"[الاعراف: 155-156]

17-ﱩ... ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤﯥ ﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﱨ

"میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے"[ التوبہ: 129]

18-ﱩ...ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے"۔[ یونس: 85-86]

19- ﱩ... ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﱨ

"میرے پالنہار میں تیری ہی پناه چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وه مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خساره پانے والوں میں ہو جاؤں گا"۔[ ھود: 47]

20-ﱩ ...ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﱨ

"اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے"۔[ یوسف : 101 ](10)

21-ﱩ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫﭬﭭﭮ ﭯ ﭰ ﱨ

"اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے ، اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے"۔ [ابْرَاهِيم: 35]

22-ﱩ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﱨ

"اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما"۔[ ابراہیم:40]

23-ﱩ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﱨ

"اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش اور دیگر مومنوں کو بھی بخش جس دن حساب ہونے لگے"۔[ ابراہیم: 41]

24-ﱩ ... ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﱨ

"اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے"۔[ الکھف: 10]

25-ﱩ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﱨ

"اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گره بھی کھول دے.تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔"[ طہ : 25-28۔]

26-ﱩ ...ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﱨ

"پروردگار! میرا علم بڑھا"۔[سورۃ طٰہٰ: 114]

27- ﱩ ...ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﱨ

"تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں ہو گیا"۔[الأنبياء: 87]

28-ﱩ ...ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﱨ

"اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے"۔[ الأنبياء: 89]

29-ﱩ... ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣﮤﮥﮦﮧﱨ

"اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں۔ اور میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں"۔ [ المؤمنون : 97-98]

30-ﱩ... ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﱨ

"اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان ﻻچکے ہیں تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے"۔[ المؤمنون: 109]

31-ﱩ... ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﱨ

"اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے"[ المؤمنون: 118]

32-ﱩ...ﯨ ﯩ ﯪ ﯫﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﱨ

"اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے۔ بے شک وه ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے"۔[ الفرقان : 65-66]

33-ﱩ...ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا"۔[الفرقان: 74]

34-ﱩ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﱨ

"اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ۔ اور مجھے نعمت کی جنت کے وارثوں میں سے بنا"۔[الشعراء: 83-85]

35-ﱩ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﱨ

"اور مجھے رسوا نہ کر، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی۔ مگر جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آیا"۔[ الشعراء : 87-89]

36-ﱩ...ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﱨ

"اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما"۔[ النمل: 19]

37-ﱩ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﱨ

"اے میرے رب! یقینا میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے"۔[القصص: 16]

38-ﱩ... ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﱨ

"اے میرے رب! مجھے ان ظالم لوگوں سے بچالے"۔[ القصص: 22]

39-ﱩ ... ﭖ ﭗ ﭘ ﭙﭚﭛﭜﱨ

"میرا رب قریب ہے کہ مجھے سیدھے راستے پر لے جائے"۔[ القصص: 22]

40-ﱩ... ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﱨ

"اے میرے رب! بے شک میں جو بھلائی بھی تو میری طرف نازل فرمائے، اس کا محتاج ہوں"۔[ القصص: 24]

41-ﱩ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﱨ

"اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما"۔[ العنکبوت: 30]

42-ﱩ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﱨ

"اے میرے رب! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو"۔[ الصافات: 100]

43-ﱩ ...ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﱨ

"اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے، بے شک میں نے تیری طرف توبہ کی اور بے شک میں حکم ماننے والوں سے ہوں"۔[ الاحقاف: 15]

44-ﱩ ...ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﱨ

"اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کوبھی جو ہم سے پہلے ایمان ﻻ چکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال، اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنےواﻻہے"۔[الحشر:10]

45-ﱩ ...ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے"۔[الممتحنہ: 4]

46-ﱩ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁﰂ ﰃ ﰄﰅﰆﰇﱨ

"اے ہمارے رب! ہمیں ان لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا جنھوں نے کفر کیا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے رب !یقینا تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے"۔[الممتحنہ: 5]

47- ﱩ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﱨ

"اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو"۔[ نوح: 28]

48-ﱩ... ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﱨ

"اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے، یقینا تو ہر چیز پر خوب قادر ہے"۔[التحريم: 8]

49- "اے اللہ! تو اس اختلاف میں ہماری حق کی طرف اپنے حکم سے رہبری کر اور تو جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے"۔(11)

50۔ "اے اللہ! مجھے حکمت عطا کر کہ جسے حکمت اور دانائی دی گئی اسے بہت ساری بھلائی دی گئی۔"(12)

51- "اے اللہ! مجھے پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھ۔ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔"(13)

52- "اے اللہ! ایمان کو ہمار لیے محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں زینت دے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو ہماری نگاہوں میں ناپسندیده بنا دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں سے بنا دے۔"(14)

53- "اے اللہ! مجھے اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھ اور کامیاب لوگوں میں سے بنا۔"(15)

45- "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔"(16)

55- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے، قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے، تونگری کے فتنے کی برائی اور مفلسی کے فتنے کی برائی سے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے کی برائی سے۔ اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور اسے گناہوں سے اسی طرح صاف ستھرا کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف ستھرا کیا ہے۔ اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے بیچ اتنی دوری بنا دے جتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان رکھی ہے۔ اے اللہ! میں سستی، گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"(17)

56- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْهَرَمِ، والْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ).

"اے اللہ! میں عاجزی، سستی، بزدلی، انتہائی بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں"۔(18)

57- (اللهمَّ إنِّي أعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آزمائش کی مشقت، بدبختی میں پڑنے، برے فیصلے اور دشمنوں کو ہنسنے کا موقع ملنے سے۔"(19)

58- (اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ).

"اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے اور میری دنیا کو درست کردے جس میں میری گزر بسر ہے اور میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے"۔(20)

59- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى).

"اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔"(21)

60-(اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا).

"اے الله! میں عاجزی، سستی، بزدلی، بخیلی، سخت بڑھاپے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما اور اسے پاکیزہ کر دے۔ تو ہی اسے بہتر پاکیزگی دینے والا ہے۔ تو ہی اس کا ولی و مالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جس میں تیرا خوف نہ ہو، ایسے نفس سے جو کبھی آسودہ نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔"(22)

61- (اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ).

"اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور راہ راست پر چلا۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راہ راست پر چلنے کی توفیق مانگتا ہوں"۔(23)

62- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ).

"اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں"۔(24)

63- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے جو میں نے کیا ہے اور اس کی برائی سے بھی جو میں نے نہیں کیا ہے"۔(25)

64- (اللَّهُمَّ أكْثِرْ مَالِي، وَوَلَدِي، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أعْطَيْتَنِي) ، ([وَأطِلْ حَيَاتِي عَلَى طَاعَتِكَ، وَأحْسِنْ عَمَلِي،] وَاغْفِرْ لِي).

"اے اللہ! میرے مال واولاد کو بڑھا دے، مجھے جو کچھ دیا ہے اس میں میرے لیے برکت دے"(26) [اپنی اطاعت کے ساتھ میری زندگی دراز فرما اور میرے عمل کو اچھا کردے] اور میرے گناہ معاف کر دے۔"(27)

65- (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ، وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ).

"اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو آسمانوں، زمین اور عرش کریم کا رب ہے۔"(28)

66- (اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ).

"اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، سو پلک جھپکنے بھر بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کو سدھار دے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔"(29)

67- (لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ).

"تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہو گیا۔(30)

68- (اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي).

"اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھ پر تیرا ہی حکم چلتا ہے۔ میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے مانگتا ہوں، جو تیرا ہے، جس سے تونے خود کو موسوم کیا ہے، یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں اتارا ہے یا اپنے لیے اسے علمِ غیب کے طور پر خاص کر رکھا ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور اور رنج و غم سے چھٹکارے کا ذریعہ بنا دے۔"(31)

69- (اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ القُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ).

"اے اللہ! دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی جانب پھیر دے۔"(32)

70- (يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ).

"اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔"(33)

71- (اللَّهُمَّ إنِّي أسْألُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ).

’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘(34)

72- (اللهمّ أحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، وَأجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ).

"اے اللہ! ہمارے تمام معاملوں کو حسن انجام عطا فرما اور ہمیں دنیا کی نامرادی اور آخرت کے عذاب سے بچا"۔(35)

73- (رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الهُدَى إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوَّاهاً مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي).

"اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے۔ اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا ذکر کرنے والا اور اپنی ذات سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار اور اپنے سامنے گِڑگڑانے والا بنا۔ اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے"۔(36)

74- (اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ -صلى الله عليه وسلم- ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ -صلى الله عليه وسلم- ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ).

"اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر سے جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے پناہ مانگی ہے۔ مدد تجھ سے ہی مانگی جا سکتی ہے اور تیرا ہی کام پہنچانا ہے۔ اللہ کی توفیق کے بنا نہ انسان ایک حالت سے دوسری حالت میں جا سکتا ہے اور نہ اس کے پاس کوئی طاقت ہی ہے۔"(37)

75- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے اور اپنی شرم گاہ کی برائی سے۔"(38)

76- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ).

76- "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفید داغ، جنون، کوڑھ اور بری بیماریوں سے۔"(39)

77- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَهْوَاءِ).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپسندیدہ اخلاق، اعمال اور خواہشات سے۔"(40)

78- (اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي).

"اے اللہ! تو سراپا عفو ودرگزر ہے، کرم کرنے والا ہے، عفو ودرگزر کو پسند کرتا ہے، اس لیے مجھے معاف کر دے۔"(41)

79-(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ).

"اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور (میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کیے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے۔"(42)

80- (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ: عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ [مَا اسْتَعَاذَ بِكَ] [مِنْهُ] عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا).

"اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طلب گار ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی ﷺ نے طلب کی ہے، اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، [جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی ﷺ نے پناہ مانگی ہے]۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طلب گار ہوں اور ہر اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور ہر اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے یہ بھی مانگتا ہوں کہ میرے حق میں لیے گئے اپنے ہر فیصلے کو بہتر کر دے"۔(43)

81- (اللَّهُمَّ احْفَظنِي بالإِسْلاَمِ قائِماً، واحْفَظْنِي بالإِسْلاَمِ قاعِداً، واحْفَظنِي بالإِسْلاَمِ راقِداً، ولا تُشْمِتْ بِي عَدُوّاً ولا حاسِداً. اللَّهُمَّ إِنِّي أسْألُكَ مِنْ كُلِّ خَيْر خزائِنُهُ بِيَدِكَ، وأعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ خَزَائِنُهُ بِيَدِكَ).

"اے اللہ! اسلام کے ساتھ کھڑے ہونے کی حالت میں میری حفاظت فرما، اسلام کے ساتھ بیٹھنے کی حالت میں میری حفاظت فرما، اسلام کے ساتھ سونے کی حالت میں میری حفاظت فرما اور کسی حسد کرنے والے دشمن کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں اور ہر اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں"۔(44)

82- (اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا، اللَّهُمَّ مَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُوَّاتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا) .

"اے اللہ! تو ہمیں اپنا ایسا ڈر عطا فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے بیچ آڑ بن جائے، ایسی فرماں برداری کا جذبہ عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمیں اپنی جنت تک پہنچا دے اور ایسا یقین عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمارے لیے دنیا کی مصیبتوں کو جھیلنا آسان کر دے۔ اے اللہ! جب تک تو ہمیں زندہ رکھ ہمیں ہمارے کانوں، آنکھوں اور قوتوں سے مستفید ہونے کا موقع عنایت کر اور انھیں ہمارا وارث بنا، ہمیں ظلم کرنے والوں سے بدلہ لینے کی طاقت عنایت کر، دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما، ہمارے دین کے معاملے میں ہمیں کسی مصیبت میں نہ ڈال، دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد اور علم کی انتہا نہ بننے دے اور ہمارے اوپر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے"۔ (45)

83-(اللَّهُمَّ إنِّي أَعوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأعُوذُ بِكَ مِنَ البُخْلِ، وَأعُوذُ بِكَ مِنْ أنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ القَبْرِ).

"اے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بے بسی کی عمر کی جانب لوٹائے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دنیا کے فتنے و قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔ (46)

84- (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي، وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي).

"اے اللہ! مجھے میرے گناہ، نادانی، حد سے تجاوز اور ان تمام باتوں کو جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ اے اللہ! مجھ سے مذاق مذاق میں ہونے والے گناہوں، سنجیدگی سے ہونے والے گناہوں، غلطی سے ہونے والے گناہوں اور جان بوجھ کر ہونے والے گناہوں کو معاف کردے۔ (مجھے اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ) ان میں سے ہر طرح کے گناہ مجھ سے ہوئے ہیں۔"(47)

85- ((اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)).

"اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ لہٰذا اپنی مہربانی سے مجھے معاف کردے اور مجھ پر رحم فرما۔ بے شک تو ہی معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے"۔ (48)

86- ((اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ)).

"اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار ہو گیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے (کفر کے ساتھ) مخاصمت کی۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں - تیرے سوا کوئی معبود نہیں- کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا (گمراہ کر) دے ۔تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔"(49)

87- ((اللَّهُمَّ إنَّا نَسْألُكَ مُوجِباتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِكَ، والسَّلامَةَ مِنْ كُلِّ إثمٍ، والغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، والفَوْزَ بالجَنَّةِ، والنَّجاةَ مِنَ النَّارِ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزوں کا اور ان اسباب کا جو تیری مغفرت کو (میرے لیے) لازمی بنا دیں اور ہر گناہ سے سلامتی کا اور ہر نیکی سے فائدہ اٹھانے کا اور جنت سے بہرہ ور ہونے کا نیز دوزخ سے نجات پانے کا"۔(50)

88- ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ)).

"اے اللہ! ایمان والے مردوں اور عورتوں کو معاف کر دے"۔(51)

89- ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي)).

"اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے لیے میرے گھر میں وسعت پیدا فرما اور مجھے جو چیزیں دی ہيں ان میں میرے لیے برکت دے۔"(52)

90- ((اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُك مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ؛ فَإِنَّهُ لاَ يَمْلِكُهَا إِلاَّ أَنْتَ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل اور رحمت مانگتا ہوں۔ کیوں کہ اس کا مالک صرف تو ہے۔"(53)

91- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَرَمِ، وَالتَّرَدِّي، وَالْهَدْمِ، وَالْغَمِّ، وَالْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا)) .

"اے اللہ! میں لاچاری والے بڑھاپے، لڑھک کر مرنے، مکان یا دیوار وغیرہ گرنے کی وجہ سے مرنے، غم، ڈوب کر مرنے اور جل کر مرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے پاگل بنا دے۔ اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جنگ کے میدان سے بھاگ کر مروں اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے کیڑے کے ڈسنے کی وجہ سے مروں۔"(54)

92- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ؛ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ؛ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ)).

"اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، یہ بہت بری ہم نشیں ہے اور میں خیانت سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، یہ بہت بری ہم راز ہے"۔(55)

93- ((اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ، والكَسَلِ، والجُبْنِ، والبُخْلِ، والهَرَمِ، والقَسْوَةِ، والغَفْلَةِ، والعَيْلَةِ، والذِّلَّةِ، والمَسْكَنَةِ، وأعُوذُ بِكَ مِنَ الفَقْرِ، والكُفْرِ، والفُسُوقِ، والشِّقاقِ، والنِّفاقِ، والسُّمْعَةِ، والرِّياءِ، وأعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ، والبَكَمِ، والجُنُونِ، والجُذامِ، والبَرَصِ، وَسَيِّىءِ الأَسْقامِ)).

"اے اللہ! میں بے بسی، سستی، بزدلی، بخل، لاچاری والے بڑھاپے، دل کی سختی، غفلت، محتاجی، ذلت اور بے چارگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں فقر، کفر، فسق، اختلاف، نفاق، شہرت اور ریا سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں بہرے پن، گونگے پن، جنون، کوڑھ، سفید داغ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔(56)

94- ((اللّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أو أُظْلَمَ)).

"اے اللہ! میں فقر، قلت اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے۔"(57)

95- ((اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ؛ فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ)).

"اے اللہ! میں مستقل قیام کی جگہ کے برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ سفر کا پڑوسی تو بدل جایا کرتا ہے۔"(58)

96- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ، ومِنْ َدُعَاءٍ لاَ يُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ هُؤُلاَءِ الأَرْبَعِ)).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو خوف نہ کھاتا ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جاتی ہو، ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہوتی ہو اور ایسے علم سے جو فائدہ نہ دیتا ہو۔ میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"(59)

97- ((اللَّهُمَّ إنّي أعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السُّوءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السُّوءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوءِ، وَمِنْ جَارِ السُّوءِ في دَارِ الْمُقامَةِ)).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، برے وقت سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام کی جگہ کے برے پڑوسی سے"۔ (60)

98- ((اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَسْتَجِيْرُ بِكَ مِنَ النَّارِ))

"اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" (تین مرتبہ)(61)

99- ((اللَّهُمَّ فَقِّهْنِي فِي الدِّينِ)).

"اے اللہ! مجھے دین کی سمجھ عطا فرما۔"(62)

100- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لاَ أَعْلَمُ)).

"اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جان بوجھ کر کسی کو تیرا شریک ٹھہراؤں اور جو کچھ ان جانے میں ہو جائے اس کے لیے تیری بخشش چاہتاہوں۔"(63)

101- ((اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا)).

"اے اللہ! تو نے مجھے جو علم عطا فرمايا ہے اس سے مجھے نفع پہنچا، اور مجھے وہ علم عطا فرما جو مجھے نفع دے اور میرے علم میں اضافہ عطا فرما۔"(64)

102- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا)).

"اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔"(65)

103- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! اس لیے کہ تو اکیلا ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے، اس بات کى کہ تو میرے لئے میرے گناہوں کوبخش دے، یقینًا تو بہت زیادہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔"(66)

104- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ [وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ] الْمَنَّانُ [يَا] بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ [الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ]))

"اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں کہ ساری تعریف تیرے لئے ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، [تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے] تو بن مانگے دینے والا ہے۔ [اے] آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! اے جاہ وجلال اور عزت والے! اے زندہ ذات اور ساری کائنات کو سنبھالنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں [جنت کا اور تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے]" ۔ (67)

105- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے اس بنا پر مانگتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، تو اکیلا ہے، ایسا بے نیاز ہے کہ نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی تیرا ہمسر ہے۔"(68)

106- ((رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ)).

"اے میرے رب ! میرى مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا انتہائی مغفرت فرمانے والا ہے۔"(69)

107- ((اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمَاً لاَ يَنْفَدُ، وأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعْ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعَدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأْلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلاَ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ)).

"اے اللہ! چوں کہ تو غیب کا علم رکھتا ہے اور مخلوق پر تجھے قدرت حاصل ہے، اس لیے میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرا زندہ رہنا تیرے علم کے مطابق میرے لیے اچھا ہو اور مجھے اس وقت وفات دے دے جب میرا وفات کر جانا تیرے علم کے مطابق میرے لیے اچھا ہو۔ میں تجھ سے رضامندی اور ناراضگی کی حالت میں حق بات کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، تونگری اور مفلسی کی حالت میں اعتدال پر قائم رہنے کی توفیق مانگتا ہوں، ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، آنکھ کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو منقطع نہ ہو، قضا کے بعد رضا چاہتا ہوں، موت کے بعد پرسکون زندگی چاہتا ہوں، تیرے چہرے کے دیدار کی لذت چاہتا ہوں، تجھ سے ملنے کا شوق چاہتا ہوں، کسی نقصان دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے میں پڑے بنا۔ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور راہ بتانے والوں اور اس پر چلنے والوں میں کردے"۔(70)

108- ((اللَّهُمَّ ارزُقني حُبَّكَ، وحُبَّ مَنْ يَنْفَعُني حُبُّهُ عندَك، اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَني مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ، اللَّهُمَ مَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغاً لِي فِيمَا تُحِبُّ)).

"اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور ایسے لوگوں کی محبت عطا کر جن کی محبت تیرے پاس مجھے فائدہ پہنچائے۔ اے اللہ! مجھے میرے پسند کی جو چیزیں تو نے دی ہیں انھیں میرے لیے تیرے پسند کی چیزوں کے حصول کا سبب بنا۔ اے اللہ! میرے پسند کی جو چیزیں تو نے مجھے نہيں دی ہيں انھیں میرے لیے تیرے پسند کی چیزوں میں مشغول ہونے کا سبب بنا دے۔"(71)

109- ((اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ)).

"اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کر دے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح صاف ستھرا کر دے، جس طرح سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعے پاک کر دے۔"(72)

110- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ)).

"اے اللہ! میں بخل، بزدلی، بری عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔(73)

111- ((اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ حَرِّ النَّارِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ)).

"اے اللہ! اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! میں جہنم کی تپش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"(74)

112- ((اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي)).

"اے اللہ! مجھے راہ ہدایت کی سمجھ عطا کر اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔"(75)

113- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم مانگتا ہوں اور غیر نفع بخش علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"(76)

114- ((اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ [السَّبْعِ] وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ)).

"اے اللہ! آسمانوں کے رب، زمین کے رب اور عظیم عرش کے رب! ہمارے رب اور ہر چیز کے رب! دانا اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! تورات، انجیل اور فرقان کو اتارنے والے! میں ہر اس چیز کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ اے اللہ! تو پہلا ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں۔ تو آخری ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں۔ تو اوپر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں۔ ہمارے قرض کو اتار دے اور ہمیں فقر سے بچا لے۔"(77)

115- ((اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ، وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا، وَأَبْصَارِنَا، وَقُلُوبِنَا، وَأَزْوَاجِنَا، وَذُرِّيَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعَمِكَ مُثْنِينَ بِهَا عَلَيْكَ، قَابِلِينَ لَهَا، وَأَتِمِمْهَا عَلَيْنَا))

"اے اللہ! ہمارے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دے، ہمارے اختلافات کو ختم کر دے، ہمیں سلامتی کے راستے دکھا، ہمیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آ، ہمیں ظاہری اور باطنی تمام بے حیائیوں سے بچا، ہمارے کانوں، آنکھوں، دلوں، بیویوں اور بچوں میں برکت دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحمت والا ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا، ان پر تیری تعریف کرنے والا اور انھیں قبول کرنے والا بنا اور انھیں ہم پر پوری فرما۔"(78)

116- ((اللهمّ إني أسألك خير المسألة، وخير الدعاء، وخير النجاح، وخير العمل،وخير الثواب،وخير الحياة، وخير الممات، وثبّتني، وثقّل موازيني، وحقّق إيماني، وارفع درجاتي"، وَتَقَبَّلْ صَلاَتِي، وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ العُلاَ مِنَ الْجَنَّةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ، وَخَوَاتِمَهُ، وَجَوَامِعَهُ، وَأَوَّلَهُ، وَظَاهِرَهُ، وَبَاطِنَهُ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ آمِينْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا آتِي، وَخَيْرَ مَا أَفْعَلُ، وَخَيْرَ مَا أَعْمَلُ، وَخَيْرَ مَا بَطَنَ، وَخَيْرَ مَا ظَهَرَ، وَالدَّرَجَاتِ العُلَا مِنَ الْجَنَّةِ آمِينْ، اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ أنْ تَرْفَعَ ذِكْرِي، وَتَضَعَ وِزْرِي، وَتُصْلِحَ أمْرِي، وَتُطَهِّرَ قَلْبِي، وَتُحَصِّنَ فَرْجِي، وَتُنَوِّرَ قَلْبِي، وَتَغْفِرَ لِي ذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا مِنَ الْجَنَّةِ آمِينْ، اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ أنْ تُبَارِكَ فِي نَفْسِي، وَفِي سَمْعِي، وَفِي بَصَرِي، وَفِي رُوحِي، وَفِي خَلْقِي، وَفِي خُلُقِي، وَفِي أَهْلِي، وَفِي مَحْيَايَ، وَفِي مَمَاتِي، وَفِي عَمَلِي، فَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ العُلَا مِنَ الْجَنَّةِ، آمِينْ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین کامیابی، بہترین عمل، بہترین ثواب، بہترین زندگی اور بہترین موت مانگتا ہوں۔ (میں اس بات کی توفیق مانگتا ہوں کہ) تو مجھے ثابت قدم رکھ، میری نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کر دے، میرے ایمان کو حقیقی روپ عطا کر، میرے درجات بلند فرما، میری نماز قبول کر اور میرے گناہ معاف کر دے۔ میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے خیر کی ابتدا، خیر کی انتہا، خیر کا کمال، خیر کا آغاز، خیر کا ظاہر، خیر کا باطن اور جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے ان تمام چیزوں اور کاموں کی بھلائی مانگتا ہوں جنھیں میں لاتا ہوں، جنھیں میں کرتا ہوں، جن کو میں عملی جامہ پہناتا ہوں، جو پوشیدہ ہیں اور جو ظاہر ہيں۔ اسی طرح میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ اے اللہ! تو قبول فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ تو میرے ذکر کو اونچا کر دے، میرے گناہ کو کالعدم کر دے، میرے حال کو درست کر دے، میرے دل کو پاک کر دے، میری شرم گاہ کی حفاظت فرما، میرے دل کو منور کر دے، میرے گناہ معاف کر دے اور میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ اے اللہ! قبول فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں کہ تو میرے نفس، میرے کان، میری آنکھ، میری روح، میری بناوٹ، میرے اخلاق، میرے اہل وعیال، میری زندگی، میری موت، میرے عمل میں برکت دے اور میری نیکیوں کو قبول فرما۔ میں تجھ سے جنت کے اونچے درجات مانگتا ہوں۔ اے اللہ! قبول فرما"۔(79)

117- ((اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ اَلْأَخْلَاقِ، وَالْأَهْوَاءِ، وَالْأَعْمَالِ، وَالْأَدْوَاءِ)).

"اے اللہ! مجھے ناپسندید اخلاق، خواہشات، اعمال اور بیماریوں سے محفوظ رکھ۔"(80)

118- ((اللَّهُمَ قَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي، وَبَارِكْ لي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ)).

"اے اللہ! تو نے مجھے جو کچھ دیا ہے اس پر مجھے قناعت کرنے والا بنا اور ہر غائب چیز کو میرے لیے بھلائی کے ساتھ لوٹا۔"(81)

119- ((اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابَاً يَسِيرَاً)).

"اے اللہ! میرے حساب کتاب کا مرحلہ آسان فرما۔"(82)

120- ((اللَّهُمَّ أعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ)).

"اے اللہ! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرا ذکر کر سکیں، تیرا شکر بجا لا سکیں اور تیری اچھی طرح عبادت کر سکیں۔"(83)

121- ((اللَّهُمّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لاَ يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لاَ يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو پیچھے نہ ہٹتا ہو، ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہوتی ہو اور ہمیشگی کی جنت کے اونچے مقام میں محمد صلى الله عليه وسلم کی صحبت ورفاقت مانگتا ہوں۔"(84)

122- ((اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي، وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ، وَمَا عَمَدْتُ، وَمَا عَلِمْتُ، وَمَا جَهِلْتُ)).

"اے اللہ! مجھے میرے نفس کی برائی سے بچا اور میرے لیے مناسب ہدایت کے پیمانے پر کھری اترنے والی حالت کا فیصلہ فرما۔ اے اللہ! میرے ان تمام گناہوں کو معاف کر دے جو میں نے چھپا کر کیے، جو میں نے دکھا کر کیے ہیں، جو میں نے غلطی سے کیے ہیں، جو میں نے جان بوجھ کر کیے ہیں، جنھیں میں جانتا ہوں اور جنھیں میں نہیں جانتا۔"(85)

123- ((اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الأعْدَاءِ)).

"اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور مصیبت میں دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"(86)

124- ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)).

"اے اللہ مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے اور مجھے صحت دے، میں قیامت کے دن اپنے مقام کی تنگی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں"(87)۔

125- ((اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي، وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ يَظْلِمُنِي، وَخُذْ مِنْهُ بِثَأْرِي)).

"اے اللہ! مجھے میرے کان اور آنکھ سے مستفید ہونے کا موقع عنایت کر، ان دونوں کو میرا وارث بنا، مجھ پر ظلم کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا بدلہ لے۔"(88)

126- ((اللَّهُمَّ إنِّي أسْألُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً، ومِيتَةً سَوِيَّةً، ومَرَدّاً غَيْرَ مَخْزٍ ولا فاضِحٍ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے صاف ستھری زندگی، معتدل موت اور غیر رسوا کن و غیر ذلت آمیز موت مانگتا ہوں۔"(89)

127- ((اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لاَ قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلاَ بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلاَ هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلاَ مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلاَ مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ، وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ، وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لاَ يَحُولُ وَلاَ يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ، وَالأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الإِيمَانَ وَزِيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلاَ مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ، إِلَهَ الْحَقِّ [آمِينْ])).

"اے اللہ! ساری تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ اے اللہ! جسے تو کشادہ کرے اسے کوئی تنگ کرنے والا نہیں اور جسے تو تنگ کرے اسے کوئی کشادہ کرنے والا نہیں، جسے تو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، جسے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، جسے تو دور کرے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں اور جسے تو قریب کرے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، رحمت، فضل اور روزی کشادگی کے ساتھ اتار۔ اے اللہ! میں تجھ سے ایسی دائمی نعمت کا طلب گار ہوں، جو نہ بدلے اور نہ زائل ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے محتاجی کے دن نعمت مانگتا ہوں اور خوف کے دن امن مانگتا ہوں۔ اے اللہ! میں تیری دی ہوئی اور نہ دی ہوئی چیزوں کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں سجا دے۔ اسی طرح ہمارے لیے کفر، فسق اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دے اور ہمیں ہدایت یاب لوگوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اسلام کے ساتھ وفات دے، اسلام کے ساتھ زندہ رکھ اور نیک لوگوں سے ملادے۔ کسی طرح کی رسوائی کا منہ نہ دکھا اور فتنے کا شکار نہ بنا۔ اے اللہ! ان کافروں کو ہلاک وبرباد کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے سے روکتے ہیں۔ انھیں اپنی سزا اور عذاب میں گرفتار کر۔ اے اللہ! ان کافروں کو ہلاک وبرباد کر، جنھیں کتاب دی گئی ہے۔ اے برحق معبود! [قبول فرما]"۔(90)

128- ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي)).

"اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔"(91)

((...وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي)). "...میری کمیوں کی بھرپائی کر اور مجھے اونچا مقام عطا کر۔"(92)

129- ((اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَأرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا)).

"اے اللہ! ہمیں زیادہ دے اور کمی نہ کر، ہمیں عزت دے اور ذلیل نہ کر، ہمیں عطا کر اور محروم نہ رکھ، ہمیں ترجیح دے اور ہمارے اوپر کسی کو ترجیح نہ دے، ہمیں راضی رکھ اور ہم سے راضی رہ۔"(93)

130- ((اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي)).

"اے اللہ! تونے مجھے اچھی ساخت عطا کی ہے، لہذا اچھے اخلاق عنایت کر۔"(94)

131- ((اللَّهُمَّ ثَبِّتْنِي وَاجْعَلْنِي هَادِياً مَهْدِيَّاً)).

"اے اللہ! مجھے ثابت قدم رکھ اور راہ راست بتانے والا اور راہ راست پر چلنے والا بنا۔"(95)

132- (( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبَاً سَلِيمَاً، وَلِسَانَاً صَادِقَاً، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ).

"اے اللہ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی اور راہ راست پر عزیمت مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزیں اور تیری مغفرت کے اسباب مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر اور تیری عبادت کا حسن مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے وہ بھلائیاں مانگتا ہوں جنھیں تو ہی جانتا ہے، میں ان برائیوں سےتیری پناہ مانگتا ہوں جنھیں تو ہی جانتا ہے اور تجھ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جنھیں تو ہی جانتا ہے۔ یقینا تو سب غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے۔"(96)

133-(( اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ الْفِرْدَوْسَ أَعْلَى الْجَنَّة)).

"اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اعلی ترین حصہ فردوس مانگتا ہوں۔"(97)

134- ((اللَّهُمَّ جَدِّدِ الإيْمَانَ فِي قَلْبِي)).

"اے اللہ! میرے دل میں ایمان کو نیا کر دے"۔(98)

135- (( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ صَلَاةٍ لَا تَنْفَعُ)).

"اے اللہ! میں ایسی نماز سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع بخش نہ ہو۔"(99)

136- ((اللَّهُمَّ إنِّي أّعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ المَشِيبِ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَليَّ رَبّاً، وَمِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ عَذَابَاً، وَمِنْ خَلِيْلٍ مَاكِرٍ عَيْنُهُ تَرَانِي، وَقَلْبُهُ يَرْعَانِي؛ إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَإِذَا رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا)).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے پڑوسی سے، ایسی بیوی سے جو مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا بنا دے، ایسی اولاد سے جو میرا مالک بن بیٹھے، ایسی دولت سے جو میرے لیے عذاب ثابت ہو، ایسے مکار دوست سے جس کی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہو اور جس کا دل میرے ٹوہ میں لگا ہوا ہو، اگر کوئی اچھی بات دیکھے تو اسے دفن کر دے اور اگر کوئی بری بات دیکھے تو اسے خوب پھیلائے۔"(100)

137-((اللَّهُمَّ لاَ تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ)).

"اے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا۔"(101)

138- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگتا ہوں"(102)

139- ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ، وَعَمَلٍ لاَ يُرْفَعُ، وَقَلَبٍ لاَ يَخْشَعُ، وَقَولٍ لاَ يُسْمَعُ)).

"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے عمل سے جو قبول نہ ہو، ایسے دل سے جو خوف نہ کھاتا ہو اور ایسے قول سے جو سنا نہ جائے۔"(103)

140-((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْـهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ،وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ)).

1"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں حزن و ملال سے، بے بسی و کاہلی سے، بخیلی اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے۔"(104)

141-((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجالِ)).

"اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تمام ظاہری و باطنی فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"(105)

142-(( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ)).

"اے اللہ! میں تجھ سے تیری راہ کی شہادت مانگتا ہوں۔"(106)

143- ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَدْخِلْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا)).

"اے اللہ! مجھے بخش دے، قیامت کے دن اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے لوگوں پر مجھے فوقیت عطا کر۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو معاف کر دے اور مجھے قیامت کے دن باعزت مقام میں داخلہ عنایت کر۔"(107)

144- ((اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّمَا قْضَيْتَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ)).

"اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل کرتے ہوئے ہدایت دے جنھیں تو نے ہدایت دی ہے، مجھے ان لوگوں میں شامل کرتے ہوئے عافیت عنایت کر جنھیں تو نے عافیت عنایت کی ہے، مجھے ان لوگوں میں شامل کرتے ہوئے میری ذمے داری لے لے جن کی ذمے داری تو نے لے رکھی ہے، مجھے جو کچھ دیا ہے اس میں برکت دے اور مجھے اپنے فیصلوں کی برائی سے بچا۔ یقینا وہ رسوا نہیں ہوگا جس سے تو دوستی رکھے۔ اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔"(108)

145-(( رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ)).

"اے میرے رب ! بدلے کے دن میرے گناہ بخش دینا۔"(109)

146-((أسْتَغْفِرُ اللهَ العَظِيمَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ)).

"میں عظمت والے اللہ سے معافی کا خواستگار ہوں، جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا سب کو تھامنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں۔"(110).

147- ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَعِذْنِـي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ)).

"اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غیظ و غضب دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا۔"(111)

148- (( اللَّهُمَّ أَحْيِـنـِــي عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّكَ صلى الله عليه وسلم وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِهِ، وأَعِذْنِــي مِنْ مُضِلاَّتِ الْفِتَنِ)).

"اے اللہ! مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر زندہ رکھ، ان کے مذہب پر ہی وفات دے اور گمراہ کن فتنوں سے بچا۔"(112)

149- ((اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، [فِي الْعَالَمِينَ] إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)).

"اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے رحمت نازل کی تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر، جیسے برکت نازل کی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔"(113)

ساری تعریف اللہ کے لئے ہے، اس کے جلال اور عظیم سلطنت کے شایان شان۔ اے اللہ! درود وسلام نازل کر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور قیامت کے دن تک پوری ایمان داری سے آپ کی اتباع کرنے والوں پر۔

 

 

 

 

 

علاج ومعالجہ بذریعہ جھاڑ پھونک

کتاب وسنت سے ماخوذ

 

 

 

 

اللہ کا محتاج بندہ:

ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی

رحمہ اللہ

 

 


 

 

بسم الله الرحمن الرحيم

مقدمہ:

قرآن وسنت کے ذریعے علاج کی اہمیت

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، ہم اپنے نفسوں اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور اصحاب پر، اور ان پر جو نیکی اور بھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرتے ہیں، قیامت کے دن تک ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے۔ امّا بعد:

بے شک، قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دم کے ذریعے علاج نفع بخش اور مکمل شفا ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا:

ﱩ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦﯧ ... ﯷ ﱨ

"آپ کہہ دیجیے کہ یہ تو ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے"۔ [الفصلت: ۴۴]

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

ﱩ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰﮱﱨ

"یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لیے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی"۔ [الاسراء: ۸۲]

اور "من" یہاں جنس کی وضاحت کے لئے ہے؛ کیونکہ قرآن مجید مکمل طور پر شفا ہے جیسا کہ پچھلی آیت میں ذکر ہوا(114)، اور اللہ عزوجل نے فرمایا:

ﱩ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﱨ

"اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے"۔[ یونس: 57]

چنانچہ قرآن تمام قلبی، جسمانی، دنیاوی اور اخروی بیماریوں کے لئے کامل شفا ہے، اور ہر شخص کو قرآن سے شفا حاصل کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور نہ ہر شخص اس کا اہل ہوتا ہے، اور جب بیمار شخص قرآن کے ذریعے اچھے طریقے سے اپنا علاج کرتا ہے، اپنے مرض کا علاج صدق وایمان، مکمل قبولیت اور پختہ اعتقاد کے ساتھ کرتا ہے، اور اس کے تمام شرائط کو پورا کرتا ہے، تو کوئی بیماری اس کے سامنے کبھی بھی ٹھہر نہیں سکتی۔ بیماریاں اللہ رب العالمین کے کلام کا مقابلہ بھلا کیسے کر سکتی ہیں، جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا تو انہیں ریزہ ریزہ کر دیتا، یا زمین پر نازل ہوتا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا، دلوں اور جسموں کی کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جس کا علاج، سبب اور اس سے حفاظت کا طریقہ قرآن میں موجود نہ ہو، ان لوگوں کے لئے جنہیں اللہ نے اپنی کتاب کا فہم عطا کیا ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآن میں دلوں اور جسموں کی بیماریوں کا ذکر کیا ہے، اور دلوں اور جسموں کی دوا کا بھی۔

دلوں کی بیماریاں دو قسم کی ہیں: شبہ اور شک کی بیماری، اور شہوت وگمراہی کی بیماری، اللہ سبحانہ وتعالیٰ دلوں کی بیماریوں کو تفصیل سے بیان فرماتا ہے، اور ان کی بیماریوں کے اسباب اور علاج کو ذکر کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:(115)

ﱩ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﱨ

"اور کیا انھیں یہ کافی نہیں ہوا کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے۔ بے شک اس میں یقینًا ان لوگوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں"۔[ العنکبوت : 51]

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جسے قرآن شفا نہ دے، اللہ اسے شفا نہ دے اور جسے قرآن کافی نہ ہو، اللہ اسے کافی نہ ہو‘‘۔(116)

رہی بات جسمانی امراض کی تو قرآن نے ان کے طبی اصولوں، ان کے مجموعات اور قواعد کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، اور یہ کہ جسمانی طب کے تمام اصول قرآن عظیم میں موجود ہیں اور وہ تین ہیں: صحت کی حفاظت، ضرر رساں چیزوں سے پرہیز، اور فاسد اور ضرر رساں مواد کا اخراج، اور ان اصولوں کی روشنی میں ان اقسام کے دیگر افراد پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔(117)

اگر بندہ قرآن کے ذریعے بہتر طریقے سے اپنا علاج کرے تو وہ فوری شفا کے حصول میں اس کے عجیب اثرات دیکھے گا۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مکہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ میں بیمار ہوگیا، اور نہ کوئی طبیب ملا اور نہ دوا، تو میں نے سورہ فاتحہ سے اپنا علاج کیا، اور اس کا عجیب اثر دیکھا: میں زمزم کا پانی لیتا اور اس پر بار بار سورہ فاتحہ پڑھتا، پھر اسے پیتا تو اس سے مکمل شفا پاتا۔ پھر میں نے بہت سی تکالیف میں اس پر اعتماد کیا، اور اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا۔ میں نے یہ طریقہ ان لوگوں کو بھی بتایا جو کسی درد کی شکایت کرتے تھے، تو ان میں سے بہت لوگ جلدی شفا پاتے تھے۔"(118)

اور اسی طرح ثابت شدہ نبوی رقیہ کے ذریعے علاج مفید ترین ادویات میں سے ہے، اور دعا جب موانع سے پاک ہو تو یہ دفعِ مکروہ اور حصولِ مطلوب کے لیے ایک مفید ترین سبب ہے، یہ خاص طور پر الحاح کے ساتھ بہت مؤثر ہے، یہ بلا کا دشمن ہے، اس کا مقابلہ کرتا اور اس کا علاج کرتا ہے، اور اسے لاحق نہیں ہونے دیتا، یا اگر لاحق ہو گئی ہو تو اسے کو ہلکا کر دیتا ہے(119)؛ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الدُّعاءُ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ،فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بالدُّعاء»؛ "دعا لاحق اور غیر لاحق دونوں بیماری میں نفع دیتی ہے، چنانچہ اے اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔"(120) اور اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: «لاَ يَرُدُّ القَضَاءَ إلاّ الدُّعاءُ، وَلاَ يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إلاَّ الْبِرُّ»، "قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز رد نہیں کرتی، اور نیکی کے علاوہ کوئی اور چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی"۔(121)، لیکن یہاں ایک بات ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے: اور وہ یہ کہ آیات، اذکار، دعائیں اور تعوذات جو شفا کے لیے پڑھی جاتی ہیں اور جن سے دم کیا جاتا ہے، وہ اپنی ذات میں نفع بخش اور شفا دینے والی ہیں، لیکن ان کے لیے فاعل کی قبولیت‘ قوت اور تاثیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شفا نہیں ہوتی تو یہ فاعل کی تاثیر کی کمزوری، یا منفعل کی عدم قبولیت، یا اس میں موجود کسی قوی مانع کی وجہ سے ہوتا ہے جو دوا کے اثر کو روک دیتا ہے؛ کیونکہ دم کے ذریعے علاج دو چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے:

پہلا امر: مریض کی جانب سے ہے، اور یہ اس کی قوت ارادی، اللہ تعالیٰ کی طرف خلوص کے ساتھ رجوع اور اس کے پختہ اعتقاد پر مبنی ہے کہ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور یہ کہ دل و زبان کی یک سوئی کے ساتھ درست انداز میں پناہ طلب کرے؛ کیونکہ یہ ایک قسم کی جنگ ہے، اور جنگجو کو اپنے دشمن پر فتح حاصل نہیں ہوتی مگر دو امور کے ذریعے:

یہ کہ اسلحہ فی نفسہ صحیح اور عمدہ ہو، اور یہ کہ ہتھیار اٹھانے والا ہاتھ بھی مضبوط ہو۔ جب کبھی ان دونوں میں سے ایک چیز مفقود ہوگی، تو ہتھیار زیادہ مفید نہ ہوگا۔ تو (آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ) اس وقت کیا حال ہوگا جب دونوں ہی باتیں مفقود ہوں: دل توحید، توکل، تقوی اور انابت سے ویران ہو، اور پاس میں ہتھیار بھی نہ ہو۔

دوسری بات: قرآن و سنت کے ذریعے علاج کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر بھی یہ دونوں چیزیں موجود ہوں؛ اسی لیے ابن التین رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا(122): " ’معوذات‘ اور اللہ کے دیگر اسماء کے ذریعہ رقیہ کرنا روحانی علاج ہے، جب یہ نیک لوگوں کی زبان سے ہو تو اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفا حاصل ہوتی ہے"۔(123)

علما کا اس پر اجماع ہے کہ جھاڑ پھونک جائز ہے، بشرطیکہ اس میں تین شرطیں پائی جائیں:

پہلی شرط: اللہ تعالیٰ کے کلام، یا اس کے اسما و صفات، یا رسول ﷺ کے کلام کے ذریعہ ہو۔

دوسری شرط: عربی زبان میں ہو، یا غیر عربی میں ہو تو اس کا معنی معلوم ہو۔

تیسری شرط: یہ اعتقاد ہو کہ رقیہ بذات خود اثر نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالی کی قدرت سے اثر ہوتا ہے(124)، اور رقیہ تو بس ایک سبب ہے۔

اسی اہمیت کے پیش نظر میں نے اپنی کتاب ’’الذِّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالْعِلاَجُ بِالرُّقَى مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ کے رقیہ والے حصے کا اختصار کیا ہے، اور اس میں کچھ مفید فوائد کا اضافہ بھی کر دیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ میں اللہ عزوجل کے اسماء حسنی اور صفات علیا کے واسطہ سے دعا گو ہوں کہ وہ اس عمل کو اپنے شرف وعزت والے چہرہ کے لیے خالص بنائے، اور اس سے مجھے اور ہر اس شخص کو فائدہ پہنچائے جو اس کتاب کو پڑھے یا شائع کرے یا اس کی اشاعت کا ذریعہ بنے اور تمام مسلمانوں کے لیے اسے فائدہ مند بنائے، بیشک اللہ سبحانہ ہی اس کا مالک اور اس پر قادر ہے۔ وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آلہ واصحابہ، ومن تبعهم باحسان الى يوم الدين۔

اللہ کا محتاج بندہ

ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی

18 / 6 / 1414 ھ

1- جادو کا علاج

جادو کا الٰہی علاج‘ اس کے دوحصے ہیں:

پہلا حصہ: وہ امور جن کے ذریعہ جادو واقع ہونے سے پہلے اس سے بچا جا سکتا ہے:

1- تمام واجبات کو ادا کرنا، تمام حرام چیزوں کو چھوڑ دینا، اور تمام گناہوں سے توبہ کرنا۔

2- قرآن کریم کی زیادہ سے زیادہ تلاوت، اس طرح کہ ہر روز اس کا ایک مقرر حصہ تلاوت کرے۔

3- دعاؤں، تعوذات اور مشروع اذکار کے ذریعہ پناہ طلب کرنا، اور یہ دعا: «بِسْمِ اللهِ الَّذِي لا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ في الأرْضِ وَلاَ في السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ» صبح وشام تین بار پڑھنا(125)، ہر نماز کے بعد اور سونے کے وقت اور صبح وشام آیت الکرسی کی تلاوت کرنا(126)،سورۃ اخلاص‘ سورۂ فلق اور سورۂ ناس صبح وشام اور سوتے وقت تین تین بار پڑھنا، اور "لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" ہر روز سو بار پڑھنا(127)، صبح وشام کے اذکار کی پابندی کرنا، فرض نمازوں کے بعد کے اذکار، سونے اور جاگنے کے اذکار، گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے اذکار، سواری پر چڑھنے کے اذکار، مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کے اذکار، بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا، اورمصیبت زدہ کو دیکھنے کی دعا وغیرہ۔ میں نے ان میں سے بہت سی باتوں کا ذکر ((حصن المسلم)) میں حالات، مواقع، مقامات اور اوقات کے مطابق کیا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونا ان اسباب میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے جادو، نظر بد اور جنات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اور یہ بھی ان آفات وغیرہ سے دوچار ہونے کے بعد ان کے علاج کے عظیم ترین ذرائع میں سے ہیں۔(128)

4۔ صبح خالی پیٹ سات عجوہ کھجوریں کھانا اگر ممکن ہو؛ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: «مَنْ اصْطَبَحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمِ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ»، ’’جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھائیں، اسے اس دن کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘(129) اور کامل ترین طریقہ یہ ہے کہ مدینہ کی کھجوروں میں سے ہو، جو مدینہ کے مشرق ومغرب کے درمیان پھلتی ہیں، جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔ اور ہمارے شیخ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ ابن باز رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ مدینہ کی تمام کھجوروں میں یہ صفت پائی جاتی ہے؛ نبی ﷺ کی اس حدیث کی وجہ سے: «مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِمَّا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا (130) حِينَ يُصْبِحُ... » ’’جس نے صبح کے وقت مدینہ کی سات کھجوریں کھائیں...‘‘ (131)

نیز شیخ رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ یہ امید اس شخص کے لیے بھی کی جا سکتی ہے جو مدینہ کی کھجوروں کے علاوہ کہیں اور کی سات کھجوریں کھائے گا۔

دوسرا حصہ: جادو ہوجانے کے بعد اس کا علاج اور اس کی کئی قسمیں ہیں:

پہلی قسم: جادو کو نکال کر اسے باطل کرنا جب اس کی جگہ معلوم ہو جائے، شرعی طور پر جائز طریقوں سے، یہ جادو زدہ کے علاج کے لیے نہایت مؤثر طریقہ ہے۔(132).

دوسری قسم: شرعی جھاڑ پھونک، اور اس کی کچھ مثالیں یہ ہیں(133):

سب سے پہلے: ((سبز بیری کے سات پتے دو پتھروں یا اسی قسم کی کسی اور چیز کے درمیان کوٹ لے، پھر ان پر اتنا پانی ڈالے جو غسل کے لیے کافی ہو، اور اس پر پڑھے:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

ﱩ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵﯶ ﯷ ﯸ ﯹﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﱨ

"اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے"۔[ البقرۃ: 255]

ﱩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﱨ

"اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک، تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔ پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگیا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔ تو اس موقع پر وہ مغلوب ہو گئے اور ذلیل ہو کر واپس ہوئے۔ اور جادو گر سجدے میں گرا دیے گئے۔ انھوں نے کہا ہم جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر"۔[ الأعراف : 117-122]

ﱩ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﱨ

"اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر ماہرِ فن جادوگر لے کر آؤ۔ تو جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔ تو جب انھوں نے پھینکا، موسیٰ نے کہا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقینا اللہ اسے جلدی باطل کر دے گا۔ بے شک اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں کرتا اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دیتا ہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں"۔[ یونس: 79-82]

ﱩ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒﮓ ﱨ

"انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو یہ کہ تو پھینکے اور یا یہ کہ ہم پہلے ہوں جو پھینکے۔ جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔ ہم نے کہا خوف نہ کر، یقینا تو ہی غالب ہے۔ اور پھینک جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، بے شک انھوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگر کی چال ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آئے۔ اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے"۔[ طہ : 65-70]

بسم الله الرحمن الرحيم

ﱩ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﱨ

"کہہ دے اے کافرو! نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے"۔[ الکافرون: ۱-۶]

بسم الله الرحمن الرحيم

ﱩ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﱨ

"آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے"۔ [ الاخلاص: ۱-۵]

بسم الله الرحمن الرحيم

ﱩ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﱨ

"تو کہہ میں مخلوق کے رب کی پناہ پکڑتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔

اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے"۔ [الفلق: ۱-۵]

بسم الله الرحمن الرحيم

ﱩ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﱨ

"آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی (پناه میں)۔ وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے"۔[ الناس: ۱-۶]

مذکورہ آیتوں کو پانی میں پڑھنے کے بعد تین چلو پانی پی لے اور باقی پانی سے غسل کر لے۔ اس طرح بیماری دور ہوجائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔ بیماری دور ہونے تک دو یا اس سے زائد مرتبہ بھی پانی استعمال کرنے کی ضرورت پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کا تجربہ بہت دفعہ کیا گیا اور اللہ نے اس کے ذریعہ فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے بھی مفید ہے جنہیں اپنی بیوی سے روک دیا گیا ہو۔(134)

ثانیاً: سورۃ الفاتحہ، آیت الکرسی، سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات، سورۃ الاخلاص، اور معوذتین کو تین یا زیادہ مرتبہ پڑھا جائے، ساتھ ہی پھونک مار کر دائیں ہاتھ سے تکلیف کی جگہ پر مسح کیا جائے۔(135)

ثالثاً: تعوذات، دم اور جامع دعائیں:

1- أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ (سات مرتبہ)(136).

(میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت اور بڑائی والا اور عرش عظیم کا رب ہے کہ تجھے شفاء عنایت فرمائے)۔

مریض اپنے جسم کے اس حصے پر ہاتھ رکھے جہاں درد ہو رہا ہو اور تین مرتبہ کہے: "بسم اللہ"۔ پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: "أَعُوذُ بِالله وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔(137) (میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں)۔

3- «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ،أَذْهِبِ الْبَأْسَ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا»(138).

"اے اللہ! اے لوگوں کے رب! پریشانی دور کردے اور شفا عطا فرما۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ ایسی شفا عطا کر، جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے"۔

4- «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ». (139).

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے۔‘‘

5- «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ».

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘(140)

6- «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ: مِنْ غَضَبِهِ، وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَنْ يَحْضُرُونِ».

’’میں اللہ کے مکمل کلمات کے توسل سے پناہ مانگتا ہوں اس کی ناراضی، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر‘ شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے اور اکسانے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں۔‘‘(141)

7- «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَبَرَأَ، وَذَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ».

"میں اللہ تعالی کے ان مکمل کلمات کے ساتھ (اللہ کى) پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک اور کوئی برا آگے نہیں گزرسکتا، اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا فرمایا اور پھیلایا اور وجود عطا کیا اور اس چیز کے شر سے جو آسمانوں سے اتری ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں پھیلایا اور اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت ہر آنے والے کے شر سے، سوائے ایسے رات کو آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے نہایت رحم کرنے والے!"۔(142)

8- «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الأَرْضِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْـحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ...».

"اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب، زمین کے رب اور عرشِ عظیم کے رب! ہمارے رب اور ہرچیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! تورات، انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے۔ تو ہی اول ہے، پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں۔ تو ہی آخر ہے، پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں۔ تو ہی ظاہر ہے، پس تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، پس تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں"۔(143).

9- « بِسْمِ اللَّهِ أرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللهُ يَشْفِيكَ، بِسمِ اللَّهِ أَرقِيكَ».

"اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جان دار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے۔ میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں"۔(144)

10- «بِسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ، وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ، وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ».

"اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر بیماری سے اللہ آپ کو شفا دے، حسد کرنے والے کے حسد کے شر سے اور ہر نظر بد کے شر سے حفاظت کے لئے"۔(145).

11- «بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ، وَمِنْ كُلِّ ذِي عَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ».

"اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، حسد کرنے والے کے حسد سے، اور ہر نظر والے کے شر سے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے"۔(146)

یہ تعوذات، دعائیں اور رقیہ جادو، نظر بد، جنات کے اثرات اور تمام بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں؛ کیونکہ یہ جامع اور نفع بخش رقیہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے اذن سے۔

تیسری قسم: اگر ممکن ہو تو پچھنا لگوا کر جسم کے اس حصے سے زہریلا مواد نکالنا جہاں جادو کا اثر ظاہر ہو، اور اگر ممکن نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ مذکورہ بالا علاج کافی ہے۔(147)

چوتھی قسم: قدرتی ادویات، کچھ قدرتی ادویات ایسی ہیں جو نفع بخش ہیں، جن کی طرف قرآن کریم اور سنت مطہرہ نے رہنمائی کی ہے، اگر انسان انہیں یقین، صدق اور توجہ کے ساتھ استعمال کرے، اور یہ اعتقاد رکھے کہ نفع اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے نفع پہنچائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اسی طرح کچھ ادویات جڑی بوٹیوں وغیرہ سے مرکب ہوتی ہیں، اور یہ تجربہ پر مبنی ہوتی ہیں، تو شرعاً ان سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ وہ حرام نہ ہوں۔(148)

اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے مفید قدرتی علاجوں میں شامل ہیں: شہد، کلونجی، زمزم کا پانی(149)، اور بارش کا پانی؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(150)

ﱩ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ...ﮩ ﱨ

"اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا"۔[ ق: ۹]

اور زیتون کا تیل؛ کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: «كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ»، "زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ یہ مبارک درخت کا تیل ہے۔"(151) تجربے، استعمال اور مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ سب سے بہترین تیل ہے(152)، اور قدرتی ادویات میں سے ہیں: غسل کرنا، صفائی کرنا، اور خوشبو لگانا(153)۔

2- نظر بد کا علاج۔

نظر بد کے علاج کی قسمیں:

پہلی قسم: نظر لگنے سے قبل، اور اس کی بھی چند ذیلی اقسام ہیں:

1- اذکار، دعاؤں اور مشروع تعوذات کے ذریعہ اپنی اور ان کی حفاظت کرنا جن کے بارے میں خوف ہو، جیسا کہ جادو کے علاج کے پہلے حصے میں ہے۔(154)

2- جب کوئی شخص اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ کرے - جب وہ اپنے نفس، مال، اولاد، بھائی یا کسی اور چیز میں کچھ ایسا دیکھے جو اسے پسند آئے - تو برکت کی دعا کرے، اور کہے: "مَا شَاءَ اللَّهُ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَيْهِ"؛ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ((إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ)). ’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی میں خوش کن چیز دیکھے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے۔‘‘(155)

3- جس پر نظر لگنے کا اندیشہ ہو، اس کی خوبیوں کو چھپانا۔(156)

دوسری قسم: نظر لگنے کے بعد اور اس کی چند قسمیں ہیں:

1- جب نظر لگانے والے کو پہچان لیا جائے تو اسے حکم دیا جائے کہ وہ وضو کرے، پھر جسے نظر لگی ہو وہ اس سے غسل کرے۔(157)

2- زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنا:

سورہ اخلاص‘ معوذتین، سورہ فاتحۃ، آیۃ الکرسی، سورۃ البقرہ کی آخری آیات، اور رقیہ کی مشروع دعائیں پڑھ کر دم کرنا اور دائیں ہاتھ سے درد کی جگہ پر مسح کرنا جیسا کہ جادو کے علاج کی دوسری قسم میں فقرة ((ج)) نمبر 1-11(158) میں مذکور ہے۔

3- "پانی میں پڑھ کر اس پر پھونک مارے، پھر مریض اس میں سے کچھ پی لے اور باقی پانی اپنے جسم پر ڈال لے(159)، یا تیل میں پڑھ کر اس سے مالش کرے"(160)۔ اگر زمزم کے پانی میں پڑھا جائے تو یہ زیادہ کامل ہوگا، اگر میسر ہو(161)، یا بارش کے پانی میں(162)۔

4- مریض کے لیے قرآن کی آیات لکھنے میں کوئی حرج نہیں، پھر انہیں دھو کر پی لیا جائے(163)، جیسے سورہ فاتحہ، آیت الکرسی، اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیات۔

سورہ اخلاص‘ معوذتین، اور دم (رقیہ) کی دعائیں جن کا ذکر جادو کے علاج کی دوسری قسم میں ہوا، فقرة ((ب))، اور ((ج))، نمبر 1- 11(164).

تیسرا حصہ: حاسد کی نظر بد کو دفع کرنے والے اسباب اختیار کرنا، جو کہ درج ذیل ہیں:

1- اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔

2- اللہ تعالی کا تقویٰ اور اس کے احکام کی پابندی اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنا۔ «احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ». "اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا"۔(165)

3- حاسد پر صبر کرنا، اسے معاف کرنا، نہ اس سے لڑائی کرنا، نہ اس کی شکایت کرنا، اور نہ ہی اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرنا۔

4- اللہ پر توکل، جو شخص اللہ پر توکل کرے گا، اللہ اسے کافی ہوگا۔

5- حسد کرنے والے سے نہ ڈرے، اور نہ ہی اپنے دل کو اس کے بارے میں فکر سے بھرے، اور یہ مفید ترین علاجوں میں سے ہے۔

6- اللہ کی جانب متوجہ ہونا، اس کے لیے اخلاص پیدا کرنا، اور اس کی رضا کا طلبگار ہونا۔

7- گناہوں سے توبہ کرنا؛ کیونکہ یہ انسان پر اس کے دشمنوں کو مسلط کر دیتے ہیں:

ﱩ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﱨ

"اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کر جاتا ہے"۔[الشورى: ۳۰]

8- صدقہ اور احسان جہاں تک ممکن ہو؛ کیونکہ آفت، نظر بد اور حاسد کے شر کو دور کرنے میں اس کا عجیب اثر ہوتا ہے۔

حسد کرنے والے، ظالم اور اذیت دینے والے کی آگ کو احسان کے ذریعہ بجھاؤ، چنانچہ وہ آپ کے ساتھ جتنا زیادہ اذیت، شر، ظلم اور حسد کرے، تم اس پر احسان، نصیحت اور شفقت میں اضافہ کرتے جاؤ، اور اس کی توفیق صرف اسے ملتی ہے جس کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہوتا ہے۔

10- توحید کو خالص کرنا اور اسے عزیز و حکیم کے لیے خاص کرنا، جس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتی، اور وہی ان سب کا جامع ہے، اور اسی پر ان اسباب کا مدار ہے، معلوم ہوا کہ توحید اللہ کا سب سے بڑا قلعہ ہے، جو اس میں داخل ہوا وہ مامون ہوگیا۔

یہ دس اسباب ہیں جن سے حاسد، نظر لگانے والے اور جادوگر کی برائی دور ہوتی ہے(166)-

3- انسانی ذہن پر جنات کے اثرات کا علاج

جن کے اثر سے متاثر شخص کا علاج دو قسم کا ہوتا ہے:

پہلی قسم : متاثر ہونے سے پہلے:

اس سے بچنے کے لیے تمام فرائض اور واجبات کی پابندی کرنا، تمام محرمات سے دور رہنا، تمام گناہوں سے توبہ کرنا، اذکار، دعاؤں اور مشروع تعوذات کے ذریعے تحفظ حاصل کرنا شامل ہے۔

دوسری قسم: جن کے داخل ہونے کے بعد علاج

یہ اس مسلمان کے (قرآن) پڑھنے سے ہوتا ہے جس کا دل اس کی زبان اور اس کے رقیہ کے موافق ہو، اور سب سے بڑا علاج سورۃ فاتحہ(167)، آیۃ الکرسی، اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کا رقیہ ہے، نیز سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ ناس ساتھ ہی مصیبت زدہ پر پھونک مارنا، اس عمل کو تین یا اس سے زیادہ بار دہرانا، اور دیگر قرآنی آیات کا استعمال؛ کیونکہ پورا قرآن دل کی بیماریوں کے لیے علاج اور مومنوں کے لیے شفا، ہدایت، اور رحمت ہے، رقیہ کی دعائیں وہی ہیں جو جادو کے علاج کی دوسری قسم کے فقرہ ((ب)) اور ((ج)) میں گزر چکی ہیں، اور اس علاج میں دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے:(168)(169)

پہلا تعلق متاثر شخص سے ہے کہ وہ اپنی قوت ارادی سے کام لے، خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے اور دل و زبان کی یکسوئی کے ساتھ درست انداز میں رب کی پناہ طلب کرے۔

اور دوسرا امر یہ کہ معالج کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ اسلحہ اپنے استعمال کرنے والے کی وجہ سے موثر ہوتا ہے(170)۔

اور اگر کسی مرگی زدہ کے کان میں اذان دی جائے تو یہ اچھا ہے؛ کیونکہ شیطان اس سے بھاگ جاتا ہے۔(171)

4- نفسیاتی بیماریوں کا علاج :

نفسیاتی امراض(172) اور دل کی تنگی کا سب سے بڑا علاج مختصراً یہ ہے:

1- ہدایت اور توحید، جیسا کہ گمراہی اور شرک دل کی تنگی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہیں۔

2- سچے ایمان کا نور جو اللہ بندے کے دل میں ڈالتا ہے، عمل صالح کے ساتھ۔

3- علم نافع، جتنا زیادہ علم بندے کو حاصل ہوتا ہے، اس کا سینہ اتنا ہی کشادہ ہوتا ہے۔

4- اِنابت، اللہ سبحانہ کی طرف رجوع کرنا، پورے دل سے اس سے محبت کرنا، اس کی طرف متوجہ ہونا، اور اس کی عبادت سے لطف اندوز ہونا۔

۵- ہر حال میں اور ہر مقام پر اللہ کے ذکر کی مداومت: ذکر کا شرح صدر، قلب کی نعمت، اورپریشانی و غم کے ختم ہونے میں عجیب وغریب اثر ہوتا ہے۔

۶- مخلوق کے ساتھ احسان کرنا اور ان کو ہر ممکن طریقے سے نفع پہنچانا، کیونکہ احسان کرنے والا سخی انسان لوگوں میں سب سے زیادہ کشادہ دل، سب سے زیادہ خوش نفس اور سب سے زیادہ نرم دل ہوتا ہے۔

7- شجاعت، کیونکہ بہادر کا سینہ کھلا اور دل وسیع ہوتا ہے۔

8- دل کو دغَل (یعنی) ان تمام مذموم صفات سے پاک کرنا جو اس کی تنگی اور عذاب کا باعث بنتی ہیں: جیسے حسد، بغض، کینہ، عداوت، نفرت، اور ظلم۔ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: بہترین لوگ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:(173) ((كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ، صَدُوقِ اللِّسَانِ)) فَقَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ، فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ؟ قَالَ: ((هُوَ التَّقِيُّ، النَّقِيُّ، لَا إِثْمَ فِيهِ، وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ، وَلَا حَسَدَ)). "ہر مخموم القلب اور ہر صدوق اللسان (سچ بولنے والا انسان)" صحابہ نے عرض کیا: ہم صدوق اللسان (سچ بولنے والے) کو تو جانتے ہیں، لیکن مخموم القلب کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ متقی اور پرہیز گار ہے، جس میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ، اور نہ حسد"۔(174)

9- زیادہ تاک جھانک کرنے‘ زیادہ بولنے‘ زیادہ سننے‘ زیادہ میل جول رکھنے اور زیادہ کھانے پینے سے گریز کرنا؛ کیونکہ ان چیزوں سے گریز دل کی وسعت، قلبی سکون اور حزن وملال کو دور کرنے کا سبب ہے۔

۱۰- عمل صالح کی انجام دہی یا علم نافع کے حصول میں لگے رہنا؛ کیونکہ یہ دل کو بے چینی پیدا کرنے والے امور سے دور رکھتا ہے۔

۱۱- آج کے عمل پر توجہ مرکوز کرنا، اور مستقبل کی فکر سے خود کو آزاد کرنا، اور گزرے ہوئے وقت پر افسوس نہ کرنا، بندہ دین و دنیا میں جو اس کے لئے مفید ہو اس کی کوشش کرتا ہے، اور اپنے رب سے اپنے مقصد کی کامیابی کی دعا کرتا ہے، اور اس میں اس کی مدد طلب کرتا ہے؛ کیونکہ یہ چیز رنج و غم سے نجات دلاتی ہے۔

۱۲- اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہے، اور اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہے: صحت و عافیت اور اس کے متعلقات میں، اور رزق اور اس کے متعلقات میں۔

۱۳۔ ماضی میں جو نا پسندیدہ حالات قدرتی طور پر پیش آئے جنہیں دور کرنا ممکن نہ ہو، ان کے بارے میں بالکل بھی نہ سوچنا۔

۱۴- جب بندہ کو کسی مصیبت کا سامنا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس مصیبت کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کرے، اس طرح کہ وہ اس بدترین امکانی صورت حال کا اندازہ لگائے جہاں تک یہ معاملہ پہنچ سکتا ہے اور اپنی قدرت و صلاحیت کے بقدر اس کا مقابلہ کرے۔

۱۵- دل کی قوت، اوہام اور خیالات کی وجہ سے جو برے افکار پیدا ہوتے ہیں ان سے متاثر نہ ہونا، غصہ نہ کرنا، محبوب چیزوں کے زوال اور ناپسندیدہ حالات کے وقوع پذیر ہونے کی توقع نہ رکھنا؛ بلکہ اللہ عزوجل کے سپرد کرنا اور مفید اسباب کے ساتھ ساتھ اللہ سے عفو و عافیت کی دعا کرنا۔

۱۶- دل سے اللہ پر اعتماد کرنا، اس پر توکل کرنا، اور اس سے حُسنِ ظن رکھنا؛ کیونکہ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اس پر اوہام اثر نہیں کرتے۔

17- عقلمند انسان یہ جانتا ہے کہ اس کی اصل زندگی اطمینان اور بے فکری کی زندگی ہے اور یہ زندگی بہت مختصر ہے، لہذا بلا وجہ کے تفکرات اور زندگی کے چین و سکون کو غارت کرنے والے عوامل کو ڈھیل دے کر زندگی کے خوشگوار لمحات کو مزید مختصر کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ صحت مند زندگی کے برخلاف ہے۔

۱۸- جب کسی کو کوئی مصیبت یا ناپسندیدہ صورت حال کا سامنا ہو تو اسے حاصل شدہ دینی و دنیاوی نعمتوں اور درپیش ناموافق صورت حال کے درمیان موازنہ کرنا چاہئے، اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اسے جو نعمتیں حاصل ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ اسی طرح وہ ان نقصانات کے خدشات کا موازنہ کرے جو اسے لاحق ہو سکتے ہیں اور ایسے بہت سے امکانات کا جو سلامتی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، چنانچہ وہ کمزور امکان کو قوی اور کثیر امکانات پر غالب نہ آنے دے، اس طرح اس کے غم و خوف دور ہو جائیں گے۔

۱۹- وہ یہ جانتا ہے کہ لوگوں کی اذیت، خاص طور پر بری باتوں کے ذریعہ، اسے نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ خود انہیں نقصان پہنچاتی ہے، لہذا وہ ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دے اور نہ ہی ان کے بارے میں سوچے تاکہ وہ اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔

20- اپنی فکر کو دینی و دنیاوی اعتبار سے مفید کاموں میں مشغول رکھے۔

۲۱- بندہ اپنی کی ہوئی نیکی اور احسان پر شکر کی طلب نہ کرے، سوائے اللہ تعالیٰ سے، اور یہ جان لے کہ یہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، لہذا جس پر احسان کیا ہے اس کے شکرگزار ہونے کی پرواہ نہ کرے۔

ﱩ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﱨ

" ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری"۔[ الانسان: ۹]

۲۲- نفع بخش چیزوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں، نقصاندہ چیزوں کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھیں تاکہ آپ کا ذہن اور فکر ان میں مشغول نہ ہو۔

۲۳- کاموں کو وقت پر نمٹانا اور مستقبل کے لئے فارغ رہنا تاکہ آنے والے کاموں کو انجام دینے کے لئے آپ کے پاس نئی قوت فکر اور کام کرنے کا نیا جوش و جذبہ موجود رہے۔

۲۴- انسان کو چاہیے کہ وہ مفید کاموں اور مفید علوم میں سب سے زیادہ اہم کو ترجیح دے، خاص طور پر ان کاموں کو جن کی طرف اس کی شدید رغبت ہو، اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر باہم مشورہ کرے، جب اس کی افادیت ثابت ہو جائے اور وہ عزم کر لے تو اللہ عزوجل پر بھروسہ کرے۔

25- اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری اور پوشیدہ نعمتوں کا استحضار اور زبان سے ان کا تذکرہ کرنے سے بھی بندہ کو روحانی خوشی اور دل کا اطمینان حاصل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے غموں اور تفکرات کو دور کر دیتا ہے، اس کی وجہ سے بندہ کے اندر رب تعالیٰ کے لئے شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

26- بیوی، رشتہ دار، ساتھی، اور ہر وہ شخص جس کا آپ سے کوئی رشتہ و تعلق ہے، ان کے ساتھ برتاؤ کرتے وقت اگر آپ کو ان میں کوئی عیب نظر آئے تو ان کی خوبیوں سے اس عیب کا موازنہ کریں، ان خوبیوں پر نظر رکھنے سے تعلق و صحبت کو دوام حاصل ہوتا ہے اور دل کو سکون ملتا ہے؛ اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا: ((لا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقَاً، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ)). ’’کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔(175)

۲۷- تمام امور کی اصلاح کے لئے دعا، اور اس میں سب سے عظیم یہ ہے: ((اَللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي اَلَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي, وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ اَلَّتِي فِيهَا مَعَاشِي, وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي اَلَّتِي إِلَيْهَا مَعَادِي, وَاجْعَلِ اَلْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ, وَاجْعَلِ اَلْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ))، "اے اللہ! میرے دین کو درست کردے جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے، میری دنیا کو درست کردے جس میں میری گزر بسر ہے، میری آخرت کو درست کردے جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے، میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے، اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔"(176) اسی طرح یہ دعا: ((اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، سو پلک جھپکنے بھر بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کو سدھار دے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔‘‘(177)

28- اللہ کی راہ میں جہاد؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق: ((جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ؛ فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُنَجِّي اللَّهُ بِهِ مِنْ الْـهـَمِّ وَالْغَمِّ». اللہ کی راہ میں جہاد کرو؛ بلاشبہ اللہ کی راہ میں جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، جس کے ذریعے اللہ رنج وغم سے نجات دیتا ہے۔(178)

یہ اسباب اور وسائل نفسیاتی امراض کے لئے مفید علاج ہیں، جو شخص ان پر غور و فکر کرے اور صدق و اخلاص کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو، اس کے لئے نفسیاتی اضطراب کا بہترین علاج ہیں۔ بعض علماء نے ان کے ذریعے بہت سی نفسیاتی احوال اور امراض کا علاج کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے بڑا فائدہ پہنچایا۔(179)

5- پھوڑا اور زخم کا علاج

جب کوئی شخص بیمار ہوتا، یا اس کے جسم پر کوئی پھوڑا یا زخم ہوتا، تو رسول اللہ ﷺ اپنی انگلی سے ایسے کرتے، اور سفیان نے اپنی انگشت شہادت زمین پر رکھی، پھر اسے اٹھایا اور کہا: ((بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا)). "اللہ کے نام سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔"(180)

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی پر اپنا کچھ لعاب مبارک لگاتے، پھر اسے مٹی پر رکھتے، یوں اس کے ساتھ کچھ مٹی لگ جاتی، پھر اسے اس جگہ پھیر دیتے جہاں زخم یا بیماری ہوتی اور مسح کے دوران یہ کلمات کہتے۔(181)

6- مصیبت کا علاج

۱- ﱩ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﱨ

"نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے۔ تاکہ تم اپنے سے فوت شده کسی چیز پر رنجیده نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کرده چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا"۔[ الحدید: ۲۲-۲۳]

2 - ﱩ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﱨ

" کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے"۔[ التغابن: ۱۱]

3- ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ: إنّا للهِ وَإنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي في مُصِيبَتي، وَأخْلِفْ لِي خَيراً مِنْهَا، إِلاَّ أَجَرَهُ اللهُ تَعَالَى في مُصِيبَتِهِ، وَأخْلَفَ لَهُ خَيْراً مِنْهَا)). ’’کوئی بندہ ایسا نہیں کہ اس کو مصیبت پہنچے اور وہ یہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» مگر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کے بدلہ میں اس سے بہتر عنایت فرماتا ہے۔‘‘(182)

4- (( إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلاَئِكَتِهِ: قَبَضْتُم وَلَدَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ، فَيَقُولُ: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتَاً فِي الْجَنَّةِ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ». ’’جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ اللہ تعالی پھر فرماتا ہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ وہ کہتے ہیں: ہاں۔ تو اللہ فرماتا ہے: تب میرے بندے نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے تیری حمد کی اور انا لله وانا الیہ راجعون(183) پڑھا۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔‘‘(184)

5- ((يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: مَا لعَبدِي المُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إلاَّ الجَنَّةَ». "اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے سے، اہل دنیا میں سے اس کا کوئی عزیز لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو اس کے لیے سوائے جنت کے میرے پاس کوئی اجر نہیں ہے"۔(185)

6- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا جس کا بیٹا فوت ہو گیا تھا: «أَلَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ». "کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ جب بھی جنت کے کسی دروازے پر آؤ تو وہ تمہارا منتظر ہو؟"۔(186)

7- ((يَقُولُ اللَّهُ عزوجل: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ [وَاحْتَسَبَ] عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ)) يُرِيدُ عَيْنَيْهِ». "اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں -یعنی آنکھوں- سے محروم کر کے آزماؤں، چنانچہ وہ صبر کرے [اور ثواب کی نیت سے صبر کرے] تو میں اس کے بدلے میں اسے جنت عطا کرتا ہوں"۔(187)

8- ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذىً: مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا». "کوئی ایسا مسلمان نہیں جس کو بیماری یا کسی اور چیز کی تکلیف پہنچی مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس کے گناہ گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے"۔(188).

9- «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ». "کسی مسلمان کو کوئی کانٹا یا اس سے اوپر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک درجہ لکھا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے"۔(189)

10- «مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ، وَلاَ نَصَبٍ، وَلاَ سَقَمٍ، وَلاَ حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ، إِلاَّ كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّـئَاتِهِ». "مومن کو جو بھی بیماری، تھکن، مرض یا رنج پہنچتا ہے، یہاں تک کہ فکر جو اسے لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالی اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کو دور کردیتا ہے"۔(190)(191)(192)(193)

11- «إنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ». "آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ چنانچہ جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے"۔(194)(195).

12- « ...فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ». "بندے پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اسے اس حال میں چھوڑتی ہیں کہ وہ زمین پر چلتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا"۔(196)(197)

۷- فکر مندی اور حزن وملال کا علاج

1- جب کسی بندے کو کوئی غم یا پریشانی لاحق ہو اور وہ کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ،سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ،أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلاَّ أَذْهَبَ اللَّهُ حُزْنَهُ وَهَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَحًا». "اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، مجھ پر تیرا ہی حکم چلتا ہے، میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے مانگتا ہوں جو تیرا ہے، جس سے تونے خود کو موسوم کیا ہے، یا جسے تو نے اپنی کتاب میں اتارا ہے، یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے، یا اپنے لیے اسے علمِ غیب کے طور پر خاص کر رکھا ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، اور رنج و غم سے چھٹکارے کا ذریعہ بنا دے، تو اللہ اس کے غم اور فکر کو دور کر دیتا ہے، اور اس کی جگہ خوشی عطا کرتا ہے۔"(198)

2- «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ». "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبہ سے۔"(199)

8- بے قراری وبے چینی کا علاج

1- «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ، وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ». "اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو آسمانوں، زمین اور عرش کریم کا رب ہے۔"(200)

2- «اللهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ! میں تیری ہی رحمت کی امید رکھتا ہوں، لہذا تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘(201)

3- «لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ». ’’تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں ہو گیا۔‘‘(202)

4- ((اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي، لاَ أُشْرِكُ بِهِ شَيْئَاً )). ’’اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘(203)

9- مریض کا اپنے لیے علاج

’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ کہو : ’’بسم اللہ (اللہ کے نام سے)‘‘۔ اور سات دفعہ کہو: ’’أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِـــــــدُ وَأُحَاذِرُ" "میں اللہ تعالی اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں اس چیز کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے"۔(204)

10 ـ بیمار پرسی کے وقت مریض کا علاج

«مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضاً لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ، إِلَّا عُوفِيَ». "کوئی مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: "أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ" (میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اسے عافیت مل جاتی ہے"۔(205)

۱۱- نیند میں گھبراہٹ اور ڈر کا علاج

«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ: مِنْ غَضَبِهِ، وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَنْ يَحْضُرُونِ». ’’میں اللہ کے مکمل کلمات کے توسل سے پناہ مانگتا ہوں: اس کی ناراضی، اس کی سزا، اس کے بندوں کے شر، شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے اور اکسانے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں۔‘‘(206)

۱۲- بخار کا علاج

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ». "بخار جہنم کی سخت گرمی سے ہوتا ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو"۔(207)

13- ڈسنے اور ڈنک کا علاج

1- تھوک جمع کرے اورسورۂ فاتحہ پڑھ کرڈسی ہوئی جگہ پرپھونک مارے(208)۔

2- اس پر پانی اور نمک سے مسح کیا جائے، اور یہ سورتیں پڑھی جائیں:سورۃ الکافرون‘ سورہ اخلاص اور معوذتین(209)

14- غصہ کا علاج

غصہ کا علاج دو طریقوں سے ہوتا ہے :

پہلا راستہ: پر ہیز

غصے کے اسباب سے اجتناب کرنے سے یہ حاصل ہوتا ہے، اور ان اسباب میں شامل ہیں: تکبر، خودپسندی، فخر، مذموم حرص، نا مناسب موقع پر مزاح ، مذاق، اور اس جیسی دیگر چیزیں۔

دوسرا طریقہ: جب غصہ آئے تو اس کا علاج

اس کی چار قسمیں ہیں:

شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) پڑھے۔وضو کرے۔

اس حالت کو تبدیل کرنا جس پر غصہ آیا ہو: بیٹھ جانا، لیٹ جانا، باہر نکل جانا، خاموشی اختیار کرنا یا اس کے علاوہ کچھ اور۔

غصے کو دبانے کے ثواب اور غصے کے انجام میں ہونے والی رسوائی کے سلسلے میں جو کچھ وارد ہوا ہے، اس کو ذہن میں رکھنا۔(210)

15- کلونجی سے علاج

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: «فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ)) ’’کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے، سوائے موت کے‘‘۔ ابن شہاب نے کہا: السَّامُ: موت ہے، اور حبہ السوداء: شونیز ہے۔(211) کلونجی کے بے شمار فوائد ہیں، اور اس کے بارے میں آپ کا فرمان: ((ہر بیماری سے شفا ہے)) اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے:

ﱩ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ... ﮫ ﱨ

"ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی"۔[ الاحقاف: ۲۵]

یعنی ہر وہ جو چیز تباہی کو قبول کرتی ہے اور اس کی نظیریں بھی(212)۔

16- شہد کے ذریعہ علاج

1- اللہ عزوجل نے سورۂ نحل میں فرمایا:

ﱩ ... ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﱨ

" ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں، اس میں لوگوں کے لیے ایک قسم کی شفا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو غور وفکر کرتے ہیں"۔[سورة النحل: 69]

2- اور اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ((الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنَا أَنْهَى أُمَّتِي عَنْ الْكَيِّ». "شفا تین چیزوں میں ہے: پچھنے لگوانے میں، یا شہد پینے میں، یا آگ سے داغنے میں، اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں"۔(213)

17- زمزم کے پانی سے علاج

1- نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آبِ زمزم کے بارے میں فرمایا: «إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ، إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ [وَشِفَاءُ سُقْمٍ]». ’’بے شک یہ با برکت ہے، بے شک یہ غذا کے قائم مقام ہے [اور بیماری کے لیے شفا ہے]‘‘(214)۔

2- اور جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت ہے: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ». "آب زمزم جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے"(215)۔

3- ثابت ہے کہ "نبی ﷺ زمزم کا پانی مشکیزوں اور گھڑوں میں لے جاتے تھے، اور اسے مریضوں پر ڈالتے اور انہیں پلاتے تھے"۔(216)(217) ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے اور دوسرے لوگوں نے آب زمزم سے شفا حاصل کرنے کے لیے کئی عجیب و غریب تجربات کیے ہیں، اور میں نے اس سے کئی بیماریوں کا علاج کیا، اور اللہ کی اجازت سے شفا پائی"۔(218)(219)

 


۱۸- دل کے امراض کا علاج

دل تین قسم کے ہیں:

1- بے عیب دل: اور وہی ہے جو قیامت کے دن نجات پائے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ﱩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﱨ

"جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔ مگر جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آیا"۔[الشعراء: ۸۸-۸۹]

اور بے عیب دل وہ ہے جو ہر ایسی خواہش سے پاک ہو جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی ممانعت کے خلاف ہو، اور ہر ایسے شبہ سے پاک ہو جو اس کی خبر کے مخالف ہو، چنانچہ وہ اللہ کے سوا ہرکسی کی بندگی سے محفوظ ہو، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو اپنا فیصل نہ مانتا ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ صحیح سالم دل وہ ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کسی بھی طرح کا شرک نہ رکھتا ہو؛ بلکہ اس کی عبادت اللہ کے لئے خالص ہو: ارادہ، محبت، توکل، انابت، خشوع، خشیت، اور امید میں۔ اور اس کا عمل اللہ کے لئے خالص ہو، چنانچہ اگر محبت کرے تو اللہ کے لئے محبت کرے، اور اگر نفرت کرے تو اللہ کے لئے نفرت کرے، اور اگر دے تو اللہ کے لئے دے، اور اگر روکے تو اللہ کے لئے روکے، اس کی تمام تر فکر اللہ کے لئے ہو، اس کی محبت اللہ کے لئے ہو، اس کا قصد اللہ کے لئے ہو، اس کا بدن اللہ کے لئے ہو، اس کے اعمال اللہ کے لئے ہوں، اس کی نیند اللہ کے لئے ہو، اس کی بیداری اللہ کے لئے ہو، اس کی گفتگو، اور اللہ کے بارے میں گفتگو اس کے لئے ہر گفتگو سے زیادہ محبوب ہو، اور اس کے خیالات اللہ کی رضا اور محبت کے گرد گھومتے ہوں۔(220) ہم اللہ تعالی سے ایسے دل کا سوال کرتے ہیں۔

2- مردہ دل: یہ پہلے دل کے بر عکس ہے، یہ وہ دل ہے جو اپنے رب کو نہیں پہچانتا، اور نہ ہی اس کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کرتا ہے، اور نہ ہی اس چیز کو پسند کرتا ہے جو اللہ کو پسند ہو اور جس سے وہ راضی ہو؛ بلکہ وہ اپنی خواہشات اور لذتوں کے ساتھ چلتا ہے، چاہے ان میں اس کے رب کی ناراضگی اور غضب ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے: محبت میں، خوف میں، امید میں، رضا میں، ناراضگی میں، تعظیم میں، اور ذلت میں، اگر وہ نفرت کرتا ہے تو اپنی خواہش کے لیے نفرت کرتا ہے، اگر محبت کرتا ہے تو اپنی خواہش کے لیے محبت کرتا ہے، اگر دیتا ہے تو اپنی خواہش کے لیے دیتا ہے، اگر روکتا ہے تو اپنی خواہش کے لیے روکتا ہے، چنانچہ خواہش اس کا امام ہے، شہوت اس کا قائد ہے، جہالت اس کا راہنما ہے، اور غفلت اس کی سواری ہے۔ ہم اللہ سے اس دل سے پناہ مانگتے ہیں۔(221)

3- بیمار دل: یہ وہ دل ہے جس میں زندگی بھی ہے اور بیماری بھی، اس کے پاس دو طرح کی قوتیں ہیں‘ کبھی ایک غالب آتی ہے اور کبھی دوسری، اور وہ ان میں سے جس پر غالب ہو، اسی کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت، ایمان، اخلاص اور اس پر توکل کی وہ قوت ہے جو اس کی زندگی کا ذریعہ ہے، اور اس میں شہوات کی محبت، ان کے حصول کی حرص، حسد، تکبر، خود پسندی، بلندی کی محبت، زمین میں فساد پھیلانے کی خواہش، ریاکاری، نفاق، بخل اور کنجوسی کی وہ قوت ہے جو اس کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بنتی ہے۔(222) ہم اللہ تعالیٰ سے اس قسم کے دل سے پناہ مانگتے ہیں۔

دل کی تمام بیماریوں کا علاج قرآن کریم میں موجود ہے۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

ﱩ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﱨ

" اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے"۔[سورۃ یونس: ۵۷]

نیز اللہ عزیز وبرتر نے فرمایا:

ﱩ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰﮱﱨ

" یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی"۔[سورۃ الاسراء: ۸۲]

دل کے امراض کی دو قسمیں ہیں:

ایک قسم ایسی ہے جس سے اس دل والے کو فوری طور پر تکلیف محسوس نہیں ہوتی، اور یہ جہالت، شبہات اور شکوک کا مرض ہے، اور یہ دونوں اقسام میں سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، لیکن دل کی خرابی کی وجہ سے اس کا احساس نہیں ہوتا۔

اور ایک قسم: فوری تکلیف دینے والا مرض: جیسے بے چینی، غم، حزن، اور غصہ، اور یہ مرض قدرتی ادویات کے ذریعے اس کے اسباب کو دور کرنے سے زائل ہو سکتا ہے۔(223)

دل کا علاج چار امور کے ذریعہ ہوتا ہے:

پہلا امر: قرآن کریم کے ذریعہ؛ کیونکہ یہ سینوں میں موجود شک کے لئے شفا ہے، اور اس میں موجود شرک، کفر کی گندگی، شبہات اور شہوات کی بیماریوں کو دور کرتا ہے، یہ ان لوگوں کے لئے ہدایت ہے جو حق کو جانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، اور یہ مومنوں کے لئے رحمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے انہیں فوری اور دیرپا ثواب حاصل ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:

ﱩ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﱨ

" اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنا دی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں ہے، ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح کافروں کے لیے وہ عمل خوشنما بنا دیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے"۔[سورۃ الانعام: ۱۲۲]

دوسرا امر: دل کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے:

۱- اس کی قوت کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ایمان، عمل صالح اور اطاعت کے اذکار ہیں۔

2- نقصان دہ چیزوں سے پرہیز، اور یہ تمام گناہوں اور مختلف خلاف ورزیوں سے اجتناب کے ذریعے ہوتا ہے۔

3- ہر نقصان دہ چیز سے خلاصی حاصل کرنا، اور یہ توبہ و استغفار کے ذریعہ ہوتا ہے۔

تیسری بات: دل کی ایسی بیماری کا علاج جو نفس کے غلبے سے پیدا ہوتی ہے:

اس کے دو علاج ہیں: محاسبہ اور مخالفت۔ محاسبہ کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: عمل سے پہلے، اس کے چار مقامات ہیں:

۱- کیا یہ عمل اس کے لیے ممکن ہے؟

2- کیا اس عمل کو انجام دینا اسے چھوڑنے سے بہتر ہے؟

3- کیا یہ عمل اللہ کی رضا کے لئے کیا جا رہا ہے؟

4- کیا یہ عمل کسی کی مدد سے انجام دیا جا رہا ہے، اور کیا اس کے لیے مددگار موجود ہیں جو اس کی مدد اور نصرت کریں اگر عمل میں مددگاروں کی ضرورت ہو؟ اگر جواب موجود ہو تو آگے بڑھیں ورنہ کبھی بھی اس کا اقدام نہ کریں۔

دوسری قسم : عمل کے بعد اور اس کی تین قسمیں ہیں:

1- اس نیکی پر اپنے نفس کا محاسبہ کرنا جس میں اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی ہوئی ہو، اور اسے مطلوبہ طریقے سے انجام نہ دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں شامل ہیں: اخلاص، نصیحت، پیروی، احسان کے مقام کا مشاہدہ، اپنی ذات پر للہ کی نعمت کا مشاہدہ، اور ان سب کے بعد کوتاہی کا اعتراف۔

2- ہر اس کام پر نفس کا محاسبہ جس کا چھوڑ دینا کرنے سے بہتر تھا۔

3- نفس کا محاسبہ کسی جائز یا معمول کے کام پر جو اس نے نہیں کیا، اور یہ کہ کیا اس نے اسے اللہ اور آخرت کی فلاح کے لئے چھوڑا؟ تو وہ کامیاب ہو گا، یا دنیا کی خاطر چھوڑا؟ تو وہ ناکام رہے گا۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ فرائض پر کرے، پھر اگر ان میں کوئی کمی ہو تو اسے پورا کرے، پھر اپنے نفس کا محاسبہ ممنوعات پر کرے، اگر معلوم ہو کہ اس نے ان میں سے کچھ کیا ہے تو توبہ و استغفار کے ذریعے اس کا تدارک کرے، پھر اپنے اعضاء کے اعمال پر محاسبہ کرے، پھر غفلت پر محاسبہ کرے۔(224)

چوتھا امر: دل کی بیماری کا علاج، شیطان کے تسلط سے نجات:

شیطان انسان کا دشمن ہے، اور اس سے نجات کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے استعاذہ کے ذریعے مقرر فرمایا ہے۔ نبی ﷺ نے نفس کی برائی اور شیطان کی برائی سے پناہ مانگنے کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے، آپ ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ((قُلْ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءَاً، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ، قُلهُ إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ)). ’’کہو: اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، اے غیب اور حاضر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے کہ اپنے ہی نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔ یہ دعا صبح کے وقت، شام کے وقت اور جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو پڑھو۔‘‘(225)

استعاذہ، توکل اور اخلاص شیطان کے تسلط کو روکنے کا ذریعہ ہیں۔(226)

اللہ تعالی درود وسلام نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، آپ کی آل واصحاب پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ آپ کے اصحاب کی پیروی کرنے والوں پر۔

فہرست

 

مقدِّمہ 5

دعا کی فضیلت 7

کتاب و سنت کی دعائیں 15

علاج ومعالجہ بذریعہ جھاڑ پھونک 78

مقدمہ: قرآن وسنت کے ذریعے علاج کی اہمیت 79

۱-جادو کا علاج ۸۷

۲- نظر بد کا علاج ۱۰۲

۳-انسانی ذہن پرجنات کے اثر ات کا علاج ۱۰۷

۴-نفسیاتی بیماریوں کا علاج ۱۰۹

۵-پھوڑا اور زخم کا علاج ۱۱۷

۶-مصیبت کا علاج ۱۱۸

۷-فکر مندی اور حزن وملال کا علاج ۱۲۳

۸-بے قراری وبے چینی کا علاج ۱۲۵

۹-مریض کا اپنے لیے علاج ۱۲۶

۱۰-بیمار پرسی کے وقت مریض کا علاج ۱۲۷

۱۱-نیند میں گھبراہٹ اور ڈر کا علاج ۱۲۷

۱۲-بخار کا علاج ۱۲۸

۱۳-ڈسنے اور ڈنک کا علاج ۱۲۸

۱۴-غصہ کا علاج ۱۲۸

۱۵-کلونجی سے علاج ۱۲۹

۱۶-شہد کے ذریعہ علاج ۱۳۰

۱۷-زمزم کے پانی سے علاج ۱۳۱

۱۸-دل کے امراض کا علاج ۱۳۳


() تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں، مذکورہ اصل کتاب، اس میں درج احادیث کی تفصیلی تخریج کے ساتھ چار جلدوں میں چھپ چکی ہے۔ پہلی اور دوسری جلد میں اذکار (حصن المسلم) ہیں، تیسری جلد میں دعائیں ہیں اور چوتھی جلد میں دعاؤں کے ذریعے علاج کا بیان ہے۔

() ابودا‏ود 2/78 حدیث نمبر 1481، ترمذی 5/211 حدیث نمبر 2959 اور ابن ماجہ 2/1258 حدیث نمبر 3828۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح الجامع الصغیر 3/150 اور صحیح ابن ماجہ 2/324 میں صحیح کہا ہے۔

() ابوداود 2/78 حدیث نمبر 1488، ترمذی 5/557 حدیث نمبر 3556 اور ابن ماجہ 2/1271 حدیث نمبر 3865۔ ابن حجر کہتے ہيں: "اس کی سند جید ہے۔" البانی نے بھی اسے صحیح الترمذی 3/179 میں صحیح کہا ہے۔

() ترمذی 5/566 اور 5/462 حدیث نمبر 3573 اور احمد 3/18 حدیث نمبر 11150۔ البانی نے اسے صحیح الجامع الصغیر 5/116 اور صحیح الترمذی 3/140 میں صحیح کہا ہے۔

() ان آداب اور قبولیت کے اسباب کو دلائل کے ساتھ دیکھیے اصل کتاب ۳/۹۲۷-۹۷۵ میں۔

() اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاں یہ ثابت ہے کہ آپ نے کسی اور کے لیے دعا کرتے وقت پہلے اپنے لیے دعا کی، وہیں یہ بھی ثابت ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا نہیں بھی کی۔ انس، عبداللہ بن عباس اور ام اسماعیل رضی اللہ عنہم کے لیے دعا کرتے وقت آپ نے پہلے اپنے لیے دعا نہیں کی۔ اس مسئلے میں تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح مسلم پر امام نووی کی شرح 15/144، ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی 9/328 اور صحیح بخاری کی شرح فتح الباری 1/281۔

() ان اوقات، احوال اور اماکن کو دلائل کے ساتھ دیکھنے کے لئے اصل کتاب 3/975-1117کا مراجعہ کریں۔

() اللہ کا اسم اعظم اس کتاب کی حدیث نمبر 203، 104 اور 105 میں دیکھیے۔

() مزید فائدے کے لیے دیکھیے ابن قیم کی کتاب الفوائد صفحہ 436، 437۔

() یہ دعا سورۃ البقرۃ کی آیت 213 سے مستفاد ہے۔

() یہ دعا سورۃ البقرۃ کی آیت 269 سے مستفاد ہے۔

() یہ دعا سورہ ابراہیم کی آیت 27 سے مستفاد ہے۔

() یہ دعا سورہ حجرات کی آیت 7 سے لی گئی ہے۔

() یہ دعا سورۃ التغابن کی آیت 16 سے مستفاد ہے۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 4522 اور 6389، صحیح مسلم حدیث نمبر 2690۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 832 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 589۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 2823 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2706۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 6347 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2707۔ صحیح مسلم کے الفاظ اس طرح ہیں : "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم آزمائش کی مشقت، بدبختی میں پڑنے، برے فیصلے اور دشمنوں کو ہنسنے کا موقع ملنے سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے"۔

() [صحیح مسلم حدیث نمبر 2720]

() [صحیح مسلم حدیث نمبر 2721]

() صحیح مسلم حدیث نمبر 2722

() صحیح مسلم حدیث نمبر 2725

() صحیح مسلم حدیث نمبر 2739۔

() صحیح مسلم: ۲۷۱۶

() اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ دعا دلالت کرتی ہے، جو آپ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے کی تھی۔ دعا اس طرح ہے : "اے اللہ! اس کے مال و اولاد کو بڑھا دے اور اسے جو کچھ دیا ہے اس میں اس کے لیے برکت دے۔" صحیح بخاری حدیث نمبر 1982اور صحیح مسلم حدیث نمبر 660۔

() امام بخاری کی الادب المفرد حدیث نمبر 653۔ البانی نے اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 2241 اور صحیح الادب المفرد ص 244 میں صحیح کہا ہے۔ دونوں بریکیٹ کے بیچ والے حصے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے، جس میں ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے اچھا آدمی کون ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "جسے لمبی عمر ملے اور اچھے عمل کی توفیق ملے۔" سنن ترمذی 2/271 حدیث نمبر 2329 اور مسند احمد حدیث نمبر 17716۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی 2/271 میں صحیح کہا ہے۔ جب کہ میں نے اپنے شیخ علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے اس دعا کے بارے میں پوچھا کہ کیا اسے کرنا سنت ہے؟ تو جواب ہاں میں دیا۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 6345 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2730۔

() سنن ابو داود حدیث نمبر 5090، احمد : 5/ 42، اور امام البانی نے صحيح ابی داود : 3/ 250 اور صحيح الادب المفرد : حدیث نمبر 260 میں اسے حسن کہا ہے۔ علامہ ابن باز نے بھی تحفۃ الاخیار ص 24 میں اس کی سند کو حسن کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3505 اور حاکم 1/505۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ البانی نے بھی صحیح سنن ترمذی 3/168 میں صحیح کہا ہے۔ اس کے الفاظ ہيں : "مچھلی والے نبی کی دعا، جب اس نے مچھلی کے پیٹ سے اپنے رب کو پکارا، یہ ہے : " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔" [الأنبياء: 87] جو بھی مسلمان کسی مصیبت کے وقت اس دعا کے ذریعے اپنے رب کو پکارے گا، اللہ اس کی پکار ضرور سنے گا"۔

() مسند احمد 1/391،452 اور مستدرک حاکم 1/509۔ حافظ ابن حجر نے اسے تخریج الاذکار میں حسن کہا ہے اور البانی نے الکلم الطیب کی تخریج ص 73 میں اسے صحیح کہا ہے۔

() صحیح مسلم حدیث نمبر 2654۔

() ترمذی حدیث نمبر 3522، احمد 4/182 اور حاکم 1/525،528۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح الجامع 6/309 اور صحیح ترمذی 3/171 میں صحیح کہا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سب سے زیادہ کی جانے والی دعا تھی۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3514 اور امام بخاری کی الادب المفرد حدیث نمبر 726۔ ترمذی کے الفاظ ہیں: "اللہ سے دنیا و آخرت کی عافیت مانگو۔" جب کہ ایک روایت کے الفاظ ہيں: "اللہ سے بخشش اور عافیت مانگو۔ کیوں کہ کسی انسان کو یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی اچھی چیز نہیں دی گئی۔" البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ 3/180 اور 3/185 اور 3/170 میں صحیح کہا ہے۔ اس کے کچھ شواہد بھی ہيں۔ دیکھیں: مسند امام احمد، احمد شاکر کی ترتیب کے ساتھ 1/156-157۔

() مسند احمد 4/181، طبرانی کی الکبیر 2/33/1169، اور الدعاء حدیث نمبر 1436 اور ابن حبان حدیث نمبر 2424 اور 2425 (موارد)۔ حافظ ہیثمی مجمع الزوائد 10/178 میں کہتے ہیں : "احمد اور طبرانی کی ایک سند کے رجال ثقہ ہیں"۔

() بخاری کی الادب المفرد حدیث نمبر 664 اور 665، ابوداود حدیث نمبر 1510 اور 1511، سنن ترمذی حدیث نمبر 3551، ابن ماجہ حدیث نمبر 3830، احمد 1/127 اور حاکم 1/127۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی 1/519 نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح ابوداود 1/414 اور صحیح ترمذی 3/178 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3521۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 3846 میں یہ روایت اسی معنی کے ساتھ موجود ہے۔ امام ترمذی کہتے ہيں: "یہ حدیث حسن غریب ہے۔" جب کہ البانی نے اسے ضعیف سنن ترمذی ص 387 میں ضعیف کہا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 1551، سنن ترمذی حدیث نمبر 3492 اور سنن نسائی حدیث نمبر 5470 وغیرہ۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/166 اور صحیح نسائی 3/1108 میں صحیح کہا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 1554، سنن نسائی حدیث نمبر 5493 اور مسند احمد 3/192۔ البانی نے اسے صحیح نسائی 3/1116 اور صحیح ترمذی 3/184 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3591، ابن حبان حدیث نمبر 2422 (موارد) اور حاکم 1/532 اور طبرانی کی الکبیر 19/19/36۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/184 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3513 اور نسائی کی الکبری حدیث نمبر 7712۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/170 میں صحیح کہا ہے۔

() احمد (5/243) نے اسے انہی الفاظ کے ساتھ اور ترمذی (حدیث نمبر 3235) نے ان سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہتے ہوئے آگے کہا ہے: "میں نے محمد بن اسماعیل -یعنی امام بخاری- سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے۔" اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ حق ہے۔ لہذا اسے پڑھ لو اور سیکھ لو۔" اسی طرح اس حدیث کو حاکم 1/521 نے بھی روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح سنن ترمذی 3/318 میں اسے صحیح کہا ہے۔

() ابن ماجہ حدیث نمبر 3846 نے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ مسند احمد 6/134۔ دوسرے اضافے کے الفاظ احمد کے ہیں۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے 1/521۔ پہلے اضافے کے الفاظ حاکم کے ہیں۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ 2/327 میں صحیح کہا ہے۔

() مستدرک حاکم 1/525۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان سے موافقت ظاہر کی ہے۔ جب کہ البانی نے اسے صحیح الجامع 2/398 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 4/54 حدیث نمبر 1540 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3502 اور مستدرک حاکم 1/528۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ ابن السنی حدیث نمبر 446۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/168 اور صحیح الجامع 1/400 میں حسن کہا ہے۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 2822۔

() متفق علیہ: صحیح بخاری حدیث نمبر 6398 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2719۔

() متفق علیہ: صحیح بخاری حدیث نمبر 834 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2705۔

() متفق علیہ: صحیح بخاری حدیث نمبر 6398 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2719۔

() حاکم 1/525 اور بیہقی نے الدعوات حدیث نمبر 206 میں اسے روایت کیا ہے۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ دیکھیے نووی کی الاذکار ص 340۔ اس کے محقق عبد القادر ارنؤوط نے اسے حسن کہا ہے۔

() اس کی دلیل عبادہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "جس نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے مغفرت طلب کی، اللہ اس کے لیے ہر مومن مرد اور مؤمن عورت کے مقابلے میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔" طبرانی کی الکبیر 5/202 حدیث نمبر 5092 اور 3/334 حدیث نمبر 2155۔ اس کی سند کو ہیثمی نے مجمع الزوائد 10/210 میں جید کہا ہے اور البانی نے اسے صحیح الجامع 5/242 حدیث نمبر 5902 میں حسن کہا ہے۔

() احمد حدیث نمبر 16599، 23114 اور 23188 اور سنن ترمذی حدیث نمبر 3500۔ مسند کے محققین (27/144، 38/197 اور 38/145) نے اسے حسن لغیرہ کہا ہے۔

() طبرانی۔ ہیثمی مجمع الزوائد 10/159 میں کہتے ہيں : "اس کے رجال صحیح کے رجال ہيں، سوائے محمد بن زیاد کے۔ لیکن وہ بھی ثقہ ہے۔" البانی نے بھی اسے صحیح الجامع 1/404 حدیث نمبر 1278 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ابو داود حدیث نمبر 1552 اور سنن نسائی حدیث نمبر 5531 اور 5532۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 3/1123 اور صحیح سنن ابوداود 1/425 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ابوداود حدیث نمبر 1547 اور سنن نسائی حدیث نمبر 5483۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 3/1112 میں حسن کہا ہے۔

() سنن نسائی حدیث نمبر 5493 اور حاکم 1/530۔ البانی نے اسے صحیح الجامع 1/406 اور ارواء الغلیل حدیث نمبر 852 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ابوداود حدیث نمبر 1544 اور سنن نسائی حدیث نمبر 5475۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 3/1111 اور صحیح الجامع 1/407 میں صحیح کہا ہے۔ دونوں بریکیٹ کے بیچ کا حصہ ابن حبان (موارد) میں ہے اور البانی نے اسے صحیح موارد الظمآن 2/455 میں صحیح کہا ہے۔

() امام بخاری کی الادب المفرد حدیث نمبر 117 اور مستدرک حاکم 1/532۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ نسائی نے بھی اسے حدیث نمبر 5517 کے تحت روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح الجامع 1/408 اور صحیح سنن نسائی 3/1118 میں صحیح کہا ہے۔

() ترمذی حدیث نمبر 3482 اور ابوداود حدیث نمبر 1549۔ علامہ البانی نے اسے صحیح الجامع حدیث نمبر 1295 اور صحیح سنن نسائی 3/1113 میں صحیح کہا ہے۔

() طبرانی۔ ہیثمی مجمع الزوائد 10/144 میں کہتے ہيں: "اس کے رجال صحیح کے رجال ہيں۔" جب کہ البانی نے اسے صحیح الجامع 1/411 حدیث نمبر 1290 میں حسن کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 2572، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 3340 اور سنن نسائی 5536۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی 2/319 اور صحیح سنن نسائی 3/1121 میں صحیح کہا ہے۔ نسائی کے الفاظ ہيں : "جس نے اللہ سے تین مرتبہ جنت مانگی، جنت کہتی ہے: "اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ مانگی، جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اسے جہنم سے پناہ دے دے"۔

() اس کی دلیل بخاری و مسلم کی وہ روایت ہے جس میں آپ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں دعا فرمائی۔ دیکھیے: صحیح بخاری حدیث نمبر 143 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2477۔

() احمد 4/403، ابن ابی شیبہ 10/337 اور طبرانی کی المعجم الاوسط 4/284۔ البانی نے اسے صحیح الترغیب و الترھیب 1/19 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3599 اور سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 259۔ البانی نے اسے صحیح سنن ابن ماجہ 1/47 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 925، نسائی کی عمل الیوم و اللیلۃ حدیث نمبر 102 اور احمد 6/294 اور 305۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ 1/152 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن نسائی حدیث نمبر 1300، نسائی کی الکبری حدیث نمبر 7665 اور ابوداود حدیث نمبر 985۔ الفاظ سنن نسائی کے ہيں۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 1/147 میں صحیح کہا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 1495، ابن ماجہ حدیث نمبر 3858، نسائی 1299 اور ترمذی حدیث نمبر 3544۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 1/279 اور صحیح ابن ماجہ 2/329 میں صحیح کہا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 985، ترمذی حدیث نمبر 3475، ابن ماجہ حدیث نمبر 3857 اور احمد حدیث نمبر 5/360۔ البانی نے اسے صحیح سنن ترمذی 3/163 میں صحیح کہا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 1518، ترمذی حدیث نمبر 3434، نسائی کی الکبری حدیث نمبر 10292 اور ابن ماجہ حدیث نمبر 3814۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ 2/321 اور صحیح ترمذی 3/153 میں صحیح کہا ہے۔

() نسائی حدیث نمبر 1305 اور مسند احمد 4/264۔ البانی نے اسے صحیح نسائی 1/280 اور 1/281 میں صحیح کہا ہے۔

() ترمذی حدیث نمبر 3491۔ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور شیخ عبدالقادر ارنؤوط نے ان کی تصدیق کی ہے۔ دیکھیے: جامع الاصول ان کی تحقیق کے ساتھ 4/341۔

() صحیح مسلم حدیث نمبر 476 اور سنن نسائی حدیث نمبر 400۔

() سنن نسائی حدیث نمبر 5469۔ اس کے الفاظ ہيں: "اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے: بخیلی، بزدلی، بری عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے۔" اسے ابوداود نے بھی حدیث نمبر 1539 کے تحت روایت کیا ہے اور ارنؤوط نے جامع الاصول کی تخریج 4/363 میں اسے حسن کہا ہے۔

() سنن نسائی حدیث نمبر 1344، احمد 6/61 اور بیہقی کی الدعوات حدیث نمبر 109۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 3/1121 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 1544 میں صحیح کہا ہے۔

() جامع الترمذی 5/519 حدیث نمبر 3483 اور مسند احمد 33/197 حدیث نمبر 19992۔ لفظ ترمذی کے ہیں۔ حاکم 1/510، اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ مسند احمد کے محققین 33/197 نے اس میں موجود حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ لیکن ترمذی کے الفاظ کو البانی نے ضعیف سنن ترمذی ص 397 میں ضعیف کہا ہے۔

() نسائی کی الکبری حدیث نمبر 7867 اور ابن ماجہ حدیث نمبر 3843۔ البانی نے اسے صحیح سنن ابن ماجہ 2/327 میں حسن کہا ہے۔ ابن ماجہ کے الفاظ ہیں: "اللہ سے نفع بخش علم طلب کرو اور غیر نفع بخش علم سے اس کی پناہ مانگو"۔

() اسے امام مسلم نے حدیث نمبر 2713 کے تحت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 969 اور حاکم 1/265۔ الفاظ حاکم کے ہیں۔ انھوں نے اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ البانی نے بھی اسے صحیح الادب المفرد حدیث نمبر 630 میں صحیح کہا ہے۔

() حاکم (1/520] نے اسے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کرتے ہوئے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ جب کہ بیہقی نے الدعوات حدیث نمبر 225 اور طبرانی نے الکبیر 23/326 میں حدیث نمبر 717 کے تحت روایت کیا ہے۔

() حاکم 1/523۔ حاکم نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی (1/532) نے ان کی موافقت کی ہے۔ طبرانی نے بھی اسے المعجم الکبیر 19/19 میں حدیث نمبر 36 کے تحت روایت کیا ہے اور البانی نے ظلال الجنۃ حدیث نمبر 13 میں صحیح کہا ہے۔

() حاکم 1/532 نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی (1/510) نے ان کی موافقت کی ہے۔ اسی طرح دیکھیں: بیہقی کی الآداب حدیث نمبر 1084 اور الدعوات حدیث نمبر 211۔ حافظ ابن حجر نے اسے الفتوحات الربانیۃ 4/383 میں حسن کہا ہے۔

() مسند احمد 6/48 اور مستدرک حاکم 1/255۔ حاکم نے اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی (1/255) نے ان کی موافقت کی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا : اے اللہ کے نبی! اس حساب کتاب کے مرحلے کے آسان کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : "اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھے اور اس سے گزر جائے۔ عائشہ تم یاد رکھو کہ اس دن جس سے سختی سے حساب لیا جائے گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ اسی طرح یہ بھی جان لو کہ ایک مومن کو پہنچنے والی ہر مصیبت سے اللہ مومن کے گناہ کو مٹاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے ایک کانٹا بھی چبھے۔" اس کے بارے میں علامہ البانی مشکاۃ المصابیح میں کہتے ہيں کہ اس کی سند جید ہے۔

() مسند احمد 2/299 اور حاکم 1/499۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ دونوں کی بات درست بھی ہے۔ یہ حدیث ابوداود حدیث نمبر 1524 اور نسائی کی الکبری 9973 میں بھی ہے۔ البانی نے اسے صحیح الادب المفرد حدیث نمبر 534 میں صحیح کہا ہے۔

() ابن حبان (موارد) ص 604، حدیث نمبر 2436، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفا۔ احمد 1/386، 400 نے بھی اسے ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح نسائی نے بھی عمل الیوم واللیلۃ حدیث نمبر 869 میں روایت کیا ہے اور البانی نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں اسے حسن قرار دیا ہے، دیکھیے حدیث نمبر 2301 ۔

() نسائی کی السنن الکبری 6/246 حدیث نمبر 10830 اور حاکم 1/510۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اسی طرح امام احمد نے بھی اسے مسند 4/444 میں روایت کیا ہے۔ دیکھیے تحقیق شدہ مسند 33/197 حدیث نمبر 19992۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے الاصابۃ میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور البانی نے بھی تخریج ریاض الصالحین میں حدیث نمبر 1495 کی تعلیق میں اسے صحیح کہا ہے۔

() سنن نسائی حدیث نمبر 5475 اور مسند احمد 2/173۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 3/1113 میں صحیح کہا ہے۔

() نسائی حدیث نمبر 1617 اور ابن ماجہ حدیث نمبر 1356۔ البانی نے اسے صحیح سنن نسائی 1/356 اور صحیح ابن ماجہ 1/226 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3681، بخاری کی الادب المفرد حدیث نمبر 650 اور مستدرک حاکم 1/523۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور البانی نے صحیح سنن ترمذی 3/188 میں اسے حسن کہا ہے۔

() حاکم 1/541، زوائد مسند بزار 2/442 حدیث نمبر 2177 اور طبرانی کی الدعاء حدیث نمبر 1435۔ ہیثمی مجمع الزوائد 10/179 میں کہتے ہیں: "طبرانی کی سند جید ہے۔"

() احمد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: 3/424 اور 24/246 حدیث نمبر 15492۔ دونون بریکیٹ کے اندر کا حصہ حاکم 1/507، 3/23-24 سے لیا گیا ہے۔ بخاری نے بھی اسے الادب المفرد حدیث نمبر 699 میں روایت کیا ہے۔ البانی نے اسے فقہ السیرۃ کی تخریج ص 284 اور صحیح الادب المفرد حدیث نمبر 538 ص 259 میں صحیح کہا ہے۔

() صحیح مسلم حدیث نمبر 2696 اور 2697۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے : "ان الفاظ کے اندر تیری دنیا اور آخرت دونوں آ گئی۔" جب کہ سنن ابوداود حدیث نمبر 850 میں ہے: "راوی کہتے ہیں کہ جب وہ دیہاتی جانے لگے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر سے بھر لیا"۔

() دیکھیے: سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 898، سنن ترمذی، حدیث نمبر 284، صحیح ابن ماجہ 1/148، اور صحیح ترمذی 1/90۔

() سنن ترمذی 5/326 حدیث نمبر 3173 اور مستدرک حاکم 2/98۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور شیخ عبد القادر ارنؤوط نے جامع الاصول کی تحقیق 11/282 حدیث نمبر 8847 میں اسے حسن کہا ہے۔

() مسند احمد 6/68 اور 155 اور 1/403۔ ابن حبان (2423-موارد)، طیالسی حدیث نمبر 374 اور مسند ابو یعلی حدیث نمبر 5075۔ البانی نے اسے ارواءالغلیل 1/115 حدیث نمبر 74 میں صحیح کہا ہے۔

() اس کی دلیل وہ دعا ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جریر رضی اللہ عنہ کے لیے کی تھی۔ دیکھیے: صحیح بخاری حدیث نمبر 6333، 3020 اور 3036 وغیرہ۔

() مسند احمد 28/338 حدیث نمبر 17114 اور 28/356 حدیث نمبر 17133، ترمذی حدیث نمبر 3407، طبرانی کی المعجم الکبیر حدیث نمبر 7135، 7157، 7175، 7176، 7177، 7178، 7179، 7180 اور صحیح ابن حبان 3/215 حدیث نمبر 935، 5/310 حدیث نمبر 1974۔ الفاظ طبرانی کے ہیں۔ اسے شعیب ارنؤوط نے صحیح ابن حبان 5/312 میں حسن کہا ہے اور مسند 28/338 کے محققین نے بھی اسے اس کے طرق کی بنیاد پر حسن کہا ہے۔ اسی طرح البانی نے بھی اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ جلد ہفتم حدیث نمبر 3228 اور صحیح موارد الظمآن حدیث نمبر 2416، 2418 میں ذکر کیا ہے اور صحیح لغیرہ کہا ہے۔

() یہ دعا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے لی گئی ہے: "۔۔۔جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو۔ کیوں کہ وہ جنت کے بیچوں بیچ میں ہے اور جنت کا اعلی ترین حصہ ہے۔ اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔" صحیح بخاری حدیث نمبر 2790 اور 7423۔

() یہ دعا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے ماخوذ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "تمھارے دل میں ایمان اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جس طرح کپڑا پرانا ہوتا ہے۔ لہذا اللہ سے دعا کرو کہ ایمان کو تمھارے دلوں میں نیا کر دے۔" مستدرک حاکم 1/4۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ جب کہ ہیثمی نے مجمع الزوائد 1/52 میں کہا ہے: "اسے طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔" البانی نے بھی اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 4/113 حدیث نمبر 1585 میں حسن کہا ہے۔

() ابوداود حدیث نمبر 1549۔ البانی نے اسے صحیح سنن ابوداود 1/424 میں صحیح کہا ہے۔

() طبرانی کی الدعاء 3/1425۔ البانی سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 7/377 حدیث نمبر 3137 میں کہتے ہيں: "میں کہتا ہوں: یہ ایک جید سند ہے۔ اس کے سارے رجال التھذیب کے رجال ہیں۔۔۔"۔

() مسند احمد 29/596 حدیث نمبر 18056۔ مسند کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ جب کہ طبرانی نے اسے المعجم الکبیر 3/20 حدیث نمبر 2524 میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے : "اے اللہ! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا اور مصیبت کے دن رسوا نہ کرنا"۔

() سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 3851۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ 3/259 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 1138 میں صحیح کہا ہے۔

() صحیح ابن حبان حدیث نمبر 2440 (موارد)۔ البانی نے اسے صحیح موارد الظمآن 2/454 حدیث نمبر 2066 میں صحیح کہا ہے۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 6363۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر پر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ آپ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔۔۔"۔

() صحیح مسلم حدیث نمبر 2867۔ اس میں ہے: "اللہ کی پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے.... [اللہ کی پناہ مانگو قبر کے عذاب سے۔۔۔۔] "۔ اخیر تک۔

() صحیح مسلم حدیث نمبر 1909۔ یہ دعا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان سے ماخوذ ہے: "جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اسے اللہ شہیدوں کے درجات عطا کرے گا، اگرچہ اس کی موت بستر پر ہی کیوں نہ ہوئی ہو"۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 4323 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 2498۔ یہ دعا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دعاؤں سے ماخوذ ہے، جو آپ نے عبید بن عامر اور ابو بردہ رضی اللہ عنہما کے حق میں کی تھی۔

() مسند احمد 3/249 حدیث نمبر 1723۔ مسند کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ یہ ایک مطلق روایت ہے اور اس میں ایک اور روایت کی طرح وتر کی قید نہیں ہے۔ کیوں کہ اس روایت میں انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : "آپ ہمیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے۔۔۔"۔

() صحیح مسلم حدیث نمبر 214۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول! ابن جدعان جاہلیت کے زمانے کا ایک شخص تھا، جو رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا اسے اس کا کچھ فائدہ ہوگا؟ آپ نے جواب دیا: اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اے میرے پروردگار! بدلے کے دن میرے گناہ بخش دینا۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3577۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/469 میں صحیح کہا ہے : "جس نے یہ دعا پڑھی اسے اللہ بخش دے گا، اگر چہ وہ میدان جنگ سے بھاگ کر آیا ہو"۔

() یہ دعا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس دعا سے ماخوذ ہے، جو آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں کی تھی: "اے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کا غیظ و غضب دور فرما اور اسے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا۔" اسے ابن عساکر نے اپنی کتاب "الأربعين في مناقب أمهات المؤمنين" کے صفحہ 85 میں اپنی سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور کہا ہے: "یہ حدیث بقیہ بن ولید کی روایت سے صحیح حسن ہے۔" ابن السنی نے بھی اسے عمل الیوم و اللیلۃ حدیث نمبر 457 میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جب کہ ابن السنی کے ایک نسخے میں "گمراہ کن فتنوں سے بچا" کی جگہ پر "شیطان سے بچا" موجود ہے۔ اس کی تخریج کے لیے دیکھیے الضعیفۃ حدیث نمبر 4207۔ اس کا ایک شاہد مسند احمد 2/44 حدیث نمبر 26576 میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ ہیں: "تم کہو: اے اللہِ، نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پروردگار! میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غیظ و غضب دور کر دے اور جب تک میں زندہ رہوں مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچائے رکھ۔" ہیثمی نے مجمع الزوائد 10/25 میں اسے حسن کہا ہے۔ یہ حدیث طبرانی کی المعجم الکبیر 23/338 حدیث نمبر 785 میں بھی ہے۔ لیکن اس میں "جب تک میں زندہ رہوں" کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس کا ایک شاہد ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ اس میں ہے کہ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جو میں کرتی رہا کروں، تو آپ نے کہا کہ تم کہو: اے اللہ! میرے گناہ بخش دے۔۔۔۔"۔ اسے خرائطی نے "اعتلال القلوب" حدیث نمبر 52 اور مساوئ الاخلاق حدیث نمبر 323 میں روایت کیا ہے۔

() اسے بیہقی نے السنن الکبری 5/95 میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دعا کے طور پر موقوفا نقل کیا ہے۔ ابن الملقن نے بھی اسے البدر المنیر 6/309 میں نقل کیا ہے اور ضیاء مقدسی سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سند جید ہے۔ جب کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: "تم میں سے کوئی نہ کہے کہ اے اللہ! میں فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ تو ہر آدمی کے اندر فتنہ پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے کہا ہے: "تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہے۔" [التغابن: 15] لہذا جسے اللہ کی پناہ مانگنی ہو وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگے۔" تفسیر ابن جریر 13/475، حدیث نمبر 15912۔ ابن بطال نے بھی اسے اپنی شرح صحیح بخاری 4/13 میں ذکر کیا ہے۔

() صحیح بخاری حدیث نمبر 3370۔ دونوں بریکیٹ کے بیچ کا حصہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے لیا گیا ہے، جو صحیح مسلم حدیث نمبر 405 میں ہے۔

() دیکھیں: الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي لابن القيم، ص 20۔

() زاد المعاد لابن القيم، 4 / 6، و4/ 352

() زاد المعاد : 4/352

() زاد المعاد : 4/352، و4/6

() دیکھیں: زاد المعاد، 4 / 178، والجواب الكافي، ص 21۔

() دیکھیں: الجواب الكافي، ص 22- 25۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3548، حاکم 1/670، اور احمد حدیث نمبر 22044۔ البانی نے اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے : صحيح الجامع : 3/151، حدیث : 3403۔

() الحاكم : 1/670، جامع ترمذی، حدیث : 2139، امام البانی نے سلسلۃ الأحاديث الصحیحۃ : 1/76، حدیث : 154 میں اسے حسن کہا ہے۔

() دیکھئے: زاد المعاد 4 / 68، والجواب الكافي ص21۔

() فتح الباری از ابن حجر: 10/196

() دیکھیں: فتح الباری، 10 / 195، فتاویٰ العلامہ ابن باز، 2 / 384۔

() ترمذی حدیث نمبر 3388، ابوداود حدیث نمبر 5088، ابن ماجہ حدیث نمبر 3869۔ البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ 2/332 میں صحیح کہا ہے۔

() حاکم نے روایت کر کے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے 1/562، اور البانی نے صحیح الترغيب والترهيب 1/273 حدیث نمبر 658 میں صحیح کہا ہے۔

() بخاری : 4/ 95، حدیث : 3293، مسلم : 4/ 2071، حدیث : 2691۔

() دیکھیے: زاد المعاد، 4 / 126، مجموع فتاوى علامہ ابن باز، 3 / 277، اور اس کتاب کے تیسرے حصے میں علاجِ نظر کے تحت حسد اور جادوگر کے شر کو دور کرنے کے دس اسباب۔

() [بخاری مع الفتح، 10 / 247، برقم 5445، ومسلم، 3 / 1618، برقم 2047۔]

() لابَتيها: تثنیہ ہے لابہ کی، اور یہ حرّہ ہے، یعنی ایسی زمین جو سیاہ اور بوسیدہ پتھروں پر مشتمل ہو جیسے کہ آگ سے جلی ہو، اور یہاں اس سے مراد دو حرّے ہیں جو مدینہ نبویہ کے اطراف میں ہیں، دیکھیں: فیض القدیر للمناوی، 2/ 514۔

() [صحیح مسلم : 3/ 1618، حدیث : 2047]

() دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 124، صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 132، حدیث : 5765، صحیح مسلم : 4/ 1917، حدیث : 2189، مجموع فتاوی ابن باز : 3/ 228۔

() دیکھیں: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص 138۔

() دیکھیں: فتاوی ابن باز، 3 / 279، فتح المجید، ص 346، اور الصارم البتار فی التصدی للسحرۃ والأشرار لوحید عبدالسلام، ص 109- 117، اس میں ایک مفید اور طویل رقیہ موجود ہے جو ان شاء اللہ تعالیٰ نفع بخش ہے، مصنف عبد الرزاق، 11 / 13، فتح الباری لابن حجر، 10 / 233۔

() دیکھیں: صحیح بخاری مع فتح الباری : 9/ 62، حدیث : 5016، صحیح مسلم : 4/ 1723، حدیث : 2192، صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 208۔

() [ابو داود : 3/ 187، حدیث : 3106، ترمذی : 2/ 410، حدیث : 2083، البانی نے اسے صحیح الجامع 5/ 180 اور 322 میں اور صحیح سنن ابی داود 2/ 276 میں صحیح کہا ہے۔

() صحیح مسلم، ۴/۱۷۲۸، حدیث نمبر: ۲۲۰۲

() [البخاري مع الفتح، 10/ 206، برقم 5750، ومسلم، 4/ 1721، برقم 2191۔]

() صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 408، حدیث : 3371۔

() صحیح مسلم : 4/ 1728، حدیث : 2709

() ابوداود حدیث نمبر 3893، جامع ترمذی حدیث نمبر 3528۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/171 میں حسن کہا ہے۔

() مسند احمد : 3/ 119، حدیث: 15461، اس کی سند صحیح ہے، ابن السنی، حدیث: 637، اور دیکھیے : مجمع الزوائد : 10/ 127، امام البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے: 7/ 196۔

() صحیح مسلم، ۴/۲۰۸۴، حدیث نمبر: ۲۷۱۳

() مسلم بروایت ابی سعيد رضی اللہ عنہ، 4 / 1718، حدیث : 2186۔

() مسلم عن عائشہ رضی اللہ عنہا، 4 / 1718، حدیث : 2185۔

() سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3527، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور اسے البانی نے صحیح ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے، 2 / 268۔

() دیکھیں: زاد المعاد، 4 / 125، اور جادو کے علاج کی کچھ اقسام ایسی ہیں جو جادو واقع ہونے کے بعد آزمائی گئی ہیں اور فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ دیکھیں: مصنف ابن ابي شیبۃ، 7 / 386- 387، فتح الباری، 10 / 233- 234، مصنف عبد الرزاق، 11 / 13، الصارم البتار، ص 194- 200، اور السحر حقيقته وحكمه للدكتور مسفر الدميني، ص 64- 66۔

() دیکھیں: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص 139۔

() دیکھیں: فتح الحق المبین، صفحہ 144، اور اس کتاب میں زمزم کے پانی سے علاج کا ذکر آیا ہے۔

() دیکھیے: فتح الحق المبین، ص141-142، اور اس کتاب میں کلونجی اور شہد سے علاج کا ذکر آیا ہے۔

() احمد في المسند : 3/ 497، حدیث : 16055، جامع ترمذی : حدیث : 1851، ابن ماجہ : حدیث : 3319۔ امام البانی نے صحيح الترمذي : 2/ 166 میں اسے صحیح کہا ہے۔

() دیکھیے: فتح الحق المبين في علاج الصرع والسحر والعين، ص 142۔

() دیکھیں: سابق مرجع، ص 145۔

() دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کے بارے میں جو پہلے بیان ہوا ہے۔

() موطا امام مالک : 2/938، ابن ماجہ : 2/1160، حدیث : 3509، احمد : 4/447، حدیث : 15700، اور البانی نے صحيح ابن ماجہ : 2/265 میں صحیح کہا ہے۔ زاد المعاد : 4/170، الصارم البتار في التصدي للسحرة والأشرار للشيخ وحید عبد السلام : ص 229-252۔

() دیکھیے: شرح السنة للبغوي : 13/ 116، زاد المعاد : 4/ 173۔

() دیکھیے: سنن ابو داود : 4/ 9، حدیث : 5056، امام البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة : 6/ 61 میں اسے صحیح کہا ہے، زاد المعاد : 4/ 163، اور دیکھیے: الوقاية والعلاج من الكتاب والسنة لمحمد بن شايع، ص 144-147۔

() دیکھیں: اس کتاب کی دوسری قسم میں جادو کے علاج کے بارے میں جو بیان ہوا ہے۔

() سنن ابو داود : 4/ 10، حدیث : 3885، یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کے لیے کیا۔ امام البانی نے ضعيف ابی داود میں اسے ضعیف کہا ہے : حدیث : 836۔

() مسند احمد : 3/ 497، حدیث : 16055، امام البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے : 1/ 108، حدیث نمبر 379۔

() دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کی چوتھی قسم میں جو بیان ہوا ہے۔

() دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کی چوتھی قسم میں جو بیان ہوا ہے۔

() دیکھیں: زاد المعاد لابن القيم، 4/170، اور فتاوى ابن تيمية، 19/64۔

() دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کی دوسری قسم۔

() سنن ترمذی، حدیث : 2516، امام البانی نے صحيح ترمذی : 2/ 309 میں اسے صحیح کہا ہے۔

() دیکھیں: بدائع الفوائد، از ابن القيم، 2/238-245۔

() دیکھیے: سنن ابی داود : 4/ 13-14، حدیث : 3896، مسند احمد : 5/ 210، حدیث : 21835، اور البانی نے اسے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے، حدیث نمبر 2028۔

() دیکھیں: اس کتاب میں جادو کے علاج کی دوسری قسم۔

() دیکھیے: الفتح الرباني ترتيب مسند الإمام احمد، 17/ 183۔

() دیکھیں: شیخ وحید عبد السلام کی الصارم البتار میں مفید طویل رقیہ، ص 109-117، اور دیکھیں: زاد المعاد، 4/ 66-69، علامہ عبد العزیز بن عبد اللہ ابن بازکی ایضاح الحق فی دخول الجنی بالانسی والرد علی من انکر ذلک ، ص 14، فتاوی ابن تیمیہ، 19/ 9- 65، اور 24/ 276، محمد بن شایع کی تالیف: الوقایۃ والعلاج من الکتاب والسنۃ ، ص 66-69، دیکھیں محمد بن شایع کی: کیفیۃ طرد الجن من البیت، الوقایۃ والعلاج ، ص59، اور اشقر کی عالم الجن والشیاطین ، ص130۔

() دیکھیے: فتح الحق المبین في علاج الصرع والسحر والعين، ص112، صحیح البخاری، برقم 574۔

() دیکھیے: اسباب شرح الصدر في زاد المعاد، 2/ 23-28، الوسائل المفيدة للحياة السعيدة للعلامة عبد الرحمن بن ناصر السعدي رحمه الله۔

() دَغَلُ الشَّيْءِ: ایسا عیب جو اس میں پیدا ہو کر اسے خراب کر دے۔

() ابن ماجہ، حدیث : 4216، اور علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/411۔

()صحیح مسلم : 2/ 1091، حدیث : 1469۔

() صحیح مسلم : 4/ 2087، حدیث : 2720۔

() سنن ابو داود : 4/ 324، حدیث : 5090، احمد : 5/ 42، حدیث : 0430، اور امام البانی نے صحيح الجامع میں اسے صحیح کہا ہے، حدیث: 3388، اور صحيح سنن ابو داود میں حسن کہا ہے : 3/ 251۔

() احمد : 5/ 314، 316، 319، 326، 330، حدیث: 21624، 22680، 22732، اور امام حاكم نے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے : 2/ 75، اور امام البانی نے سلسلة الاحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے: 2/ 274۔

() دیکھیں: مقدمۃ الوسائل المفيدة (طبعہ خامسہ)، ص 6۔

()صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 206، حدیث : 5745، صحیح مسلم : 4/ 1724، حدیث : 2194۔

() دیکھئے: صحیح مسلم مع شرح نووی 14/184، فتح الباری از ابن حجر 10/208، نیز دیکھیے: زاد المعاد میں حدیث کی مکمل شرح 4/186-187۔

() [ ] صحیح مسلم : 2/ 633، حدیث : 918۔

() یعنی اس نے کہا: الحمد للہ، انا لله وانا الیہ راجعون۔

() جامع ترمذی، حدیث: 1021، اور امام البانی نے صحيح ترمذی: 1/298 میں اسے حسن کہا ہے۔

() صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 242، حدیث : 6424۔

() احمد : حدیث نمبر 15595، نسائی: 4/23، کتاب الجنائز، باب : الأمر بالاحتساب والصبر عند نزول المصیبۃ، حدیث نمبر 1870۔ اس کی سند صحیح ہے اور صحیح بخاری کے معیار پر ہے۔ ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے: 8/209، اور البانی نے صحیح الترغيب والترهيب: حدیث نمبر 2007 میں اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: فتح الباری : 11/243۔

() صحیح بخاری مع الفتح : 10/ 116، حدیث : 5653، قوسین کے درمیان جو الفاظ ہیں وہ سنن ترمذی کے ہیں، حدیث : 2400، دیکھیے: صحیح ترمذی: 2/ 286۔

() صحیح بخاری مع الفتح : 10/ 120، حدیث : 5648، صحیح مسلم : 4/ 1991، حدیث: 2571۔

() صحیح مسلم : 4/ 1991، حدیث : 2572۔

()صحیح مسلم : 4/ 1993، حدیث : 2573۔

() کہا گیا ہے کہ "يَهُمُّه" میں یاء کو زبر اور ہاء کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے اور کہا گیا ہے کہ "يُهَمّه" میں یاء کو پیش اور ہاء کو زبر کے ساتھ پڑھا جائے، یعنی: یہ اسے غمگین کرتا ہے اور دونوں صحیح ہیں، دیکھیں شرح النووی علی صحیح مسلم، 16 / 130۔

() النصب : تھکن.

() حدیث میں وارد لفظ الوصب کا مطلب ہے: دائمی درد، اور اسی سے اللہ تعالی کا فرمان ہے: (وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ) یعنی لازم و ثابت۔ دیکھیں شرح النووی، 16 / 130۔

() ترمذی، حدیث : 2396، ابن ماجہ، حدیث : 4031، اور امام الباني نے صحيح ترمذی : 2/286 میں اسے حسن کہا ہے۔

() کہا جاتا ہے: السُّخْط اور السَّخَط: رضامندی کے خلاف ہیں۔ اور سَخِطَ یعنی غصہ ہوا، تو وہ ساخِطٌ ہے۔ اور أَسْخَطَهُ یعنی اسے غضبناک کیا۔ کہا جاتا ہے: تَسَخَّطَ عطاءه، یعنی اسے کم سمجھا اور اس سے مطمئن نہ ہوا۔ سَخِط سَخَطًا باب تِعب سے ہے اور (السُّخْطُ) بالضم اس کا اسم ہے، ...اور سَخِطْتُهُ اور سخطت عليه اور أَسْخَطْتُهُ فَسَخِطَ جیسے أغضبته فغضب وزن اور معنی میں۔ دیکھیں: الصحاح، مادہ سخط، اور المصباح المنير، مادہ سخط۔

() سنن ترمذی، حدیث : 2698، ابن ماجہ، حدیث : 4023، اور شیخ البانی نے صحيح ترمذی : 2/ 286 میں اسے حسن کہا ہے۔

() یعنی مسلمان شخص۔

() احمد : 1/ 391، حدیث : 3712، امام البانی نے صحيح الترغيب والترهيب میں اسے صحیح کہا ہے، حدیث : 182

() صحیح بخاری: 7/ 158، حدیث نمبر: 2893، رسول صلى الله عليه وسلم یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے۔ دیکھیے: صحیح بخاری مع الفتح: 11/173۔

() صحیح بخاری: 7/ 154، حدیث: 6346، صحیح مسلم: 4/ 2092، حدیث: 2730۔

() سنن ابو داود : 4/ 324، حدیث : 5092، مسند احمد: 5/ 42، حدیث : 20430، اور امام البانی نے ارواء الغليل 3/ 357 میں اور ارناؤوط نے تحقيق المسند 34/ 75 میں اسے حسن کہا ہے۔

() جامع ترمذی : 5/ 529، حدیث : 3505، حاكم : 1/505، امام حاکم نے صحیح کہا اور امام ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے، البانی نے صحيح ترمذی : 3/168 میں اسے صحیح کہا ہے۔

() سنن ابو داود : 2/ 87، حدیث : 1525، امام البانی نے صحيح ابن ماجہ : 2/ 335 اور صحيح ترمذی : 4/ 196 میں اسے صحیح کہا ہے۔

() صحیح مسلم، ۴/۱۷۲۸، حدیث نمبر: ۲۲۰۲

() جامع ترمذی حدیث نمبر 2083، سنن ابوداود حدیث نمبر 3893۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 2/210 اور صحیح الجامع 5/180 میں صحیح کہا ہے۔

() سنن ابو داود : 4/ 12، حدیث : 3893، البانی نے صحيح ترمذی : 3/ 171 میں اسے حسن کہا ہے۔

()صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 174، حدیث : 3264، صحیح مسلم: 4/ 1733، حدیث : 2210۔

() صحیح بخاری مع الفتح : 10/ 208، کتاب الطب، باب رقیة النبي صلى الله عليه وسلم۔

() طبرانی نے المعجم الصغیر 2/830 میں اور ہیثمی نے مجمع الزوائد 5/111 میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ امام البانی نے اس حدیث کو سلسلۃ الأحاديث الصحيحة حدیث نمبر 548 میں صحیح کہا ہے۔

() اس تفصیل کو اس کی صحیح دلیلوں کے ساتھ مؤلف کی کتاب میں دیکھیں: آفات اللسان، ص 110-112، اور دعوت الی اللہ میں حکمت، ص 64-66۔

() بخاری مع الفتح : 10/ 143، حدیث : 5688، صحیح مسلم : 1735، حدیث : 2215۔

() نیز دیکھیے : زاد المعاد : 4/ 297، الطب من الكتاب والسنة للعلامة موفق الدين عبد اللطيف البغدادي: ص 88۔

()صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 137، حدیث : 5681، اور شہد کے فوائد کے لئے دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 50-62، اور الطب من الكتاب والسنة للعلامة موفق الدين عبد اللطيف البغدادي، ص : 129-136۔

() مسلم : 4/ 1922، حدیث : 2473، قوسین والے الفاظ بزار : 2/ 86، السنن الكبرى للبيهقي : 5/ 147، اور المعجم الاوسط للطبراني : 3/ 247 میں ہیں، اور اس کی سند صحیح ہے، دیکھیے : مجمع الزوائد : 3/ 286۔

() ابن ماجہ، حدیث : 3062، وغيره، اور البانی نے صحيح ابن ماجہ 2/183 اور ارواء الغليل 4/320 میں صحیح قرار دیا ہے۔

() سنن ترمذی : 1/ 180، حدیث : 963، سنن بیہقی : 5/ 202، امام البانی نے صحيح ترمذی : 1/ 284، اور سلسلۃ الاحاديث الصحيحة : 2/ 572، حدیث : 883 میں اسے صحیح کہا ہے، اور دیکھیں: زاد المعاد : 4/ 392۔

() الإداوَةُ: مشکیزہ، جمع: الأدَاوَى۔ مختار الصحاح، 1/11۔

() [زاد المعاد : 4/393، و178]

()اہل حجاز کے علاوہ دیگر لوگ کہتے ہیں: «فَبَرِئْتُ». دیکھیں: النہایہ فی غریب الحدیث، 1/ 111.

() دیکھیں ابن قیم رحمه الله کی: اغاثۃ اللهفان من مصائد الشيطان 1/ 7، و73۔

() دیکھیں: اغاثة اللهفان من مصايد الشيطان، 1/ 9۔

() دیکھیے: اغاثۃ اللهفان، 1/ 9

() دیکھیے: اغاثۃ اللهفان، 1/ 44۔

() دیکھیے: اغاثۃ اللهفان : 1/ 136۔

() سنن ترمذی حدیث نمبر 3392 اور ابوداود حدیث نمبر 5058۔ البانی نے اسے صحیح ترمذی 3/142 میں صحیح کہا ہے۔

() دیکھیں: اغاثۃ اللهفان، 1/ 145- 162۔

() ان ناموں کو کتاب و سنت کے دلائل کے ساتھ دیکھنے کے لیے مؤلف ہی کی کتاب "شرح أسماء الله الحسنى في ضوء الكتاب والسنة" کی طرف رجوع کریں۔