مَا لَا يَسَعُ المُسْلِمَ جَهْلُهُ
وہ بنیادی باتیں جن سے لاعلم رہنا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں
اللَّجْنَةُ العِلْمِيَّةُ
بِرِئَاسَةِ الشُّؤُونِ الدِّينِيَّةِ بِالمَسْجِدِ الحَرَامِ وَالمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ
مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کے سربراہ ادارہ کے ماتحت علمی کمیٹی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وہ بنیادی باتیں جن سے لاعلم رہنا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں
مقدّمہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، وعلى آله وصحبه ومن استنَّ بسنته، واهتدى بهديه إلى يوم الدين، أما بعد:
یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں مسلمان کوعقیدہ، عبادات اور معاملات کے باب میں جن اہم امور کی ضرورت ہوتی ہے‘ انہیں شامل کیا گیا ہے، ہم نے اسے حرمین شریفین کی زیارت کرنے والے حضرات وخواتین کے لیے مرتب کیا ہے تاکہ وہ اپنے دینی امور سے آگاہی اور بصیرت حاصل کر سکیں۔ ہم کریم ومنان اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سے نفع پہنچائے، اسے کارگر اور اپنے چہرے کے لیے خالص بنائے، بے شک وہ بہترین سوال کیا جانے والا اور سب سے زیادہ کرم کرنے والا ہے۔
پہلی فصل:
عقیدے کا بیان
پہلا مبحث: اسلام کا معنی ومفہوم اور اس کے ارکان:
اسلام یعنی : توحید کے ذریعہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اطاعت کے ذریعہ اس کی پیروی کرنا اور شرک اور مشرکوں سے براءت کا اظہار کرنا۔
اسلام کے ارکان پانچ ہیں:
پہلا رکن: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہيں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہيں۔
دوسرا رکن: نماز قائم کرنا۔
تیسرا رکن: زکاۃ دینا۔
چوتھا رکن: رمضان کے روزے رکھنا۔
پانچواں رکن: استطاعت رکھنے والوں کے لئے بیت اللہ کا حج کرنا۔
توحید کی اہمیت:
معلوم رہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے مخلوقات کو محض اس لیے پیدا کیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ 56﴾
”اور میں نے جن وانس کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ [الذاریات : 56]، اس عبادت کی معرفت علم ہی کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ 19﴾
"تو آپ اس کا یقین رکھیے کہ بجز اللہ کے کوئی معبود برحق نہیں اور اپنی خطا کی معافی مانگتے رہیے اور سارے ایمان والوں اور ایمان والیوں کے لیے بھی۔ اور اللہ خوب خبر رکھتا ہے تم (سب) کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی"۔ [محمد : 19] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قول وعمل سے پہلے علم کا ذکر کیا ہے۔ اور سب سے اہم بات جس کا سیکھنا مسلمان پر واجب ہے وہ اللہ عز وجل کى توحید ہے؛ کیوں کہ دین کی بنیاد اسی پر قائم ہے، توحید کے بغیر دین کا قیام ہی نہیں ہو سکتا۔ یہی ایک مسلمان پر پہلا اور آخری واجب ہے، اسلام کے ارکان کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے، یہ پانچ ارکان ہیں جن میں توحید سب سے پہلا رکن ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «بُنِيَ الإسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وأنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإقَامِ الصَّلَاةِ، وَإيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ البَيْتِ، وصَوْمِ رَمَضَانَ». ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“1
چنانچہ ایک مسلمان پر توحید کا معنی ومفہوم سیکھنا واجب ہے؛ جو کہ صرف ایک اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے۔ نہ اس کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے، نہ کسی مقرب فرشتے کو اور نہ ہی کسی نبی مرسل کو۔
لا الہ الا اللہ کی گواہی کے معنی یہ ہیں:
بندہ پورے یقین کے ساتھ یہ اقرار کرے کہ اللہ عز وجل کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، چنانچہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے اور عبادت کی ساری قسموں کو اس کے لیے خاص کر دے جیسے دعا، خوف، امید اور توکل وغیرہ۔
یہ گواہی دو رکنوں کے بغیر نا مکمل ہے:
پہلا: اللہ تعالی کے سوا تمام معبودان باطلہ کی عبادت والوہیت کا انکار کرنا۔
دوسرا: صرف اللہ تعالی کے لیے ہر قسم کی عبادت والوہیت کو ثابت کرنا اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَۖ...﴾
"ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو..."۔ [النحل: 36]۔
”لا إِلٰهَ إِلا اللہ“ کے شروط یہ ہیں:
پہلی شرط: علم جو جہل کے منافی ہے۔
دوسری: یقین جو شک کے منافی ہے۔
تیسری: اخلاص جو شرک کے منافی ہے۔
چوتھی: سچائی جو جھوٹ کے منافی ہے۔
پاںچویں: محبت جو بغض کے منافی ہے۔
چھٹی: فرماںبرداری جو ترک کرنے کے منافی ہے۔
ساتویں: قبول جو رد کرنے کے منافی ہے۔
آٹھویں: معبودان باطلہ کا انکار۔
ان شروط پہ عمل کرنا واجب ہے، ان تمام شرطوں کو دو اشعار میں جمع کردیا گیا ہے جو اس طرح ہیں:
علم، یقین، اخلاص اور سچائی نیز محبت واطاعت اور قبولیت
اور آٹھویں بات کا اضافہ کیا گیا ہے: تیرا ان ساری چیزوں کا انکار کرنا جن کو اللہ کے سوا پوجا جاتا ہے۔
یہ گواہی اخلاص کے ساتھ صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے سے ثابت ہوگی جس کا کوئی شریک وساجھی نہیں ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارے، اللہ اتعالی ہی پر بھروسہ رکھے، اللہ کے سوا کسی سے امید نہ رکھے، اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نماز نہ پڑھے اور اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح نہ کرے۔
کچھ لوگ جو قبروں کے گرد طواف کرتے ہیں، قبر والوں سے فریاد کرتے ہیں اور اللہ تعالی کو چھوڑ کر انہیں پکارتے ہیں؛ یہ سب عبادت میں شرک ہے، لہذا ان باتوں سے بچنا اور خبردار کرنا ضروری ہے؛ کیوں کہ یہ مشرکوں کی ان عبادتوں کی طرح ہے جو وہ اللہ تعالی کو چھوڑ کر درختوں، پتھروں اور بتوں کے لیے کرتے ہیں، یہی وہ شرک ہے جس سے روکنے اور آگاہ کرنے کے لیے کتابیں نازل کی گئیں اور رسول بھیجے گئے۔
اللہ کے رسول محمد ﷺ کی گواہی دینے کا معنی:
آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنا، آپ کی منع کی ہوئی باتوں سے اجتناب کرنا اور صرف آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ کی عبادت کرنا۔ چنانچہ ایک مسلمان یہ اقرار کرتا ہے کہ محمد بن عبد اللہ قرشی ہاشمی تمام انس وجن کے لیے اللہ تعالی کے رسول ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا...﴾
”آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں“۔ [الأعراف: 158]
اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے دین کی تبلیغ اور لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ 28﴾
"ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے، مگر لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے"۔ [سبا: 28] نیز اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ 107﴾
"اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے"۔ [الانبياء: 107]۔
اس گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ آپ یہ باطل عقیدہ نہ رکھیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ربوبیت یا عبادت میں کوئی حق ہے یا اس کائنات کی تدبیر میں آپ کو کوئی اختیار ہے، بلکہ آپ ﷺ بندے ہیں جن کی عبادت نہیں کی جا سکتی اور رسول ہیں جن کی تکذیب نہیں کی جا سکتی، اور اللہ تعالی کے دائرۂ مشیئت کے باہر آپ نہ اپنے لیے نفع ونقصان کے مالک ہیں اور نہ ہی دوسروں کے لیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ...﴾
" آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کی اتباع کرتا ہوں..." [الأنعام: 50]
دوسرا مبحث: ایمان کا معنی ومفہوم اور اس کے ارکان:
ایمان: دل سے اقرار کرنے، زبان سے بولنے، دل اور اعضاء وجوارح سے عمل کرنے کا نام ہے، یہ اطاعت سے بڑھتا اور نافرمانی سے گھٹتا ہے۔
عبادات کی قبولیت وصحت کے لیے ایمان شرط ہے، جیسے شرک وکفر سے ساری نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں، اور جیسے بغیر وضو کے نماز قبول نہیں ہوتی ویسے ہی بغیر ایمان کے کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُونَ نَقِيرٗا 124﴾
”جو ایمان واﻻ ہو مرد ہو یا عورت اور وه نیک اعمال کرے، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا۔“ [النساء: 124]
اس میں یہ واضح کردیا کہ شرک عمل کو برباد کردیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَقَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ لَئِنۡ أَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ 65﴾
"یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا"۔ [الزمر: 65 ]۔
ایمان کے ارکان چھ ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان لانا۔
1) اللہ تعالیٰ پر ایمان تین امور کو شامل ہے:
1۔ اللہ کی ربوبیت پر ایمان لانا:
یعنی اللہ تعالی کو اس کے تمام کاموں میں اکیلا ماننا؛ جیسے پیدا کرنا، روزی دینا اور موت وحیات دینا، چنانچہ اللہ تعالی کے سوا نہ کوئی خالق ہے، نہ رازق ہے، نہ زندگی دینے والا ہے‘ نہ موت دینے والا ہے اور نہ اللہ سبحانہ وتعالى کے سوا کوئی اس کائنات میں تصرف کا اختیار رکھتا ہے۔
اس جہان میں جس نے بھی اللہ پاک کی ربوبیت کا انکار کیا اس نے محض کبر وغرور کی بنا پر انکار کیا‘ دل سے اس کا عقیدہ رکھے بغیر‘ جیسا کہ فرعون کا معاملہ ہے، جب اس نے اپنی قوم سے کہا:
﴿...أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى﴾
"... تم سب کا بڑا رب میں ہی ہوں"۔ [النازعات: 24]، جب کہ وہ اس کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَآ أَنزَلَ هَٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُورٗا 102﴾
"موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہوچکا ہے کہ آسمان وزمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً برباد وہلاک کیا گیا ہے"۔ [الإسراء: 102]، نیز ارشاد ربانی ہے:
﴿وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا... ﴾
" انہوں نے انکار کردیا حاﻻنکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ﻇلم اور تکبر کی بنا پر..." [النمل: 14]
کیوں کہ یہ ضروری ہے کہ ان مخلوقات کا کوئی خالق ہو، یہ نا ممکن ہے کہ انہوں نے خود ہی اپنی ذات کو وجود بخشا ہو‘ اس لیے کہ کوئی چیز خود کو نہیں پیدا کرتی اور یہ بھی ناممکن ہے کہ یہ اتفاقیہ طور پر وجود میں آجائے؛ کیوں کہ بغیر خالق کے کسی مخلوق کا کوئی تصور ہی نہیں، اور اس لیے بھی کہ ان مخلوقات کا اس بے مثال نظم ونسق کے ساتھ وجود میں آنا اس بات کے منافی ہے کہ یہ اچانک وجود میں آگئی ہوں، لہذا موجِد کا وجود حتمی ہوا۔ اور وہ اللہ رب العالمین ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿أَمۡ خُلِقُواْ مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ أَمۡ هُمُ ٱلۡخَٰلِقُونَ 35 أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ 36﴾
"کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟
کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین کرنے والے لوگ نہیں ہیں"۔ [الطور:35-36]۔
مشرکین اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شرک کرنے کے باوجود اس کی ”ربوبیت“ کا اقرار کرتے تھے، لیکن اس سے وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ نبی ﷺ نے ان سے جنگ کی اور ان کے خون اور مال کو حلال سمجھا؛ کیوں کہ انہوں نے عبادت میں شرک کیا، اللہ کے ساتھ بتوں، پتھروں اور فرشتوں وغیرہ کی عبادت کی۔
2 ۔ اللہ کی الوہیت پر ایمان:
اس سے مراد یہ ہے کہ صرف اللہ تعالی ہی سچا معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں، لفظ الہ کے معنی مألوہ کے ہیں، یعنی معبود؛ جس کی عبادت محبت، تعظیم اور انکساری کے ساتھ کی جائے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ 163﴾
”تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے۔“ [البقرة: 163]۔
اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کسی کو معبود بنا کر پوجا گیا اس کی الوہیت غلط اور باطل ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ 62﴾
"یہ اس لیے کہ بے شک الله ہی حق ہے اور اللہ تعالی کے سوا (کافر) جس کو پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اللہ ہی بلندی والا اور کبریائی والا ہے"۔ [الحج: 62]۔
یہی وجہ ہے کہ نوح علیہ السلام سے محمد ﷺ تک سارے رسول اپنی قوموں کو توحید اور صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، اور مشرکین جو اللہ تعالی کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت کرتے ہیں، ان سے فریاد کرتے اور مدد ماںگتے ہیں، اسے اللہ تعالی نے دو عقلی دلیلوں سے باطل ثابت کیا ہے:
پہلی دلیل: جن کو ان لوگوں نے الہ (معبود) بنا رکھا ہے ان میں ”الوہیت“ کی صفات نہیں پائی جاتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، کسی بھی چیز کو پیدا کرنا ان کے بس میں نہیں، وہ اپنی پرستش کرنے والوں کو نہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان کی کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں‘ نہ وہ زندگی کے مالک ہیں اور نہ موت کے اور نہ ہی دو بارہ زندہ کرنے کے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗ لَّا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ وَلَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا وَلَا يَمۡلِكُونَ مَوۡتٗا وَلَا حَيَوٰةٗ وَلَا نُشُورٗا 3﴾
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان نفع کا بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے وه مالک ہیں"۔ [الفرقان: 3]
دوسری دلیل: یہ مشرکین تسلیم کرتے تھے کہ اللہ تعالی ہی اکیلا خالق اور مدبر ہے اور اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کو جس طرح ربوبیت میں واحد مانتے ہیں اسی طرح الوہیت میں بھی اکیلا جانیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُل لِّمَنِ ٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ 84 سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ 85 قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبۡعِ وَرَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ 86 سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ 87 قُلْ مَنْ بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ 88 سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ 89﴾
"پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟
وہ فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔
دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت با عظمت عرش کا رب کون ہے؟
وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ۔ کہو پھر تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے۔
پوچھیے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟
وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ، کہو پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟"۔ [المؤمنون: 84- 89] جب انہوں نے توحید ربوبیت کا اقرار کیا تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
3 ۔ اسما وصفات پر ایمان:
یعنی اللہ کے لیے ان اسما وصفات کو ثابت کرنا جنھیں اللہ نے اپنے لیے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے یا رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے لیے اپنی احادیث میں ثابت کیا ہے؛ اسی طرح جس طرح اس کے شایانِ شان ہو، بغیر کسی تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ 180﴾
" اور اللہ کے اچھے نام ہیں، سو تم اللہ کو انھی ناموں کے ساتھ پکارو، اور ایسے لوگوں سے تعلق ہی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی"۔ [الأعراف: 180] ارشاد ربانی ہے:
﴿...لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾
" ...اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے"۔ [الشوریٰ: 11]
شرک کی تین قسمیں:
1۔ شرک اکبر۔
2۔ شرکِ اصغر۔
3۔ شرک خفی۔
1۔ شرک اکبر:
اس کا ضابطہ ہے: اللہ تعالی کی خصوصیات میں غیر اللہ کو اس کے مساوی قرار دینا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِذۡ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ 98﴾
"جب ہم تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے"۔ [الشعراء: 98]۔
اور اسى کے ضمن میں آتا ہے: غیر اللہ کے لیے عبادت کو انجام دینا، یا کسی عبادت کو اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے انجام دینا؛ جیسے دعا، فریاد، نذر اور ذبح وغیرہ جیسی عبادتیں۔
یا اللہ تعالی کی حرام کردہ چیز کو حلال سمجھنا، یا اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دینا، یا اللہ کے واجب کردہ امور کو ساقط کرنا، مثال کے طور پر جس چیز کی حرمت دین میں قطعی طور پر معلوم ہو، اُسے حلال سمجھنا؛ جیسے زنا، شراب، والدین کی نافرمانی، یا سود یا اس جیسے دیگر حرام امور کو حلال سمجھنا۔
یا اللہ تعالی کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینا، یا کسی واجب کو ساقط کر دینا، مثلا یہ عقیدہ رکھنا کہ نماز، روزہ یا زکوۃ واجب نہیں ہے۔
شرک اکبر کی حالت میں فوت ہونے والے شخص کے عمل کو یہ شرک غارت کردیتا ہے اور اس کے لیے جہنم کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿...وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾
"... اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے"۔ [الأنعام: 88]۔
جو شخص اس حالت میں مرے گا اللہ اس کو ہرگز معاف نہیں کرے گا اور اس پر جنت حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ...﴾
" یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے..." [النساء: 48]، نیز فرمان باری تعالی ہے:
﴿إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُ...﴾
"یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے..." [المائدۃ: 72]۔
2۔ شرکِ اصغر:
جسے نصوص میں شرک قرار دیا گیا ہو لیکن وہ شرک اکبر کے درجہ تک نہ پہنچتا ہو تو اسے شرک اصغر کہا جاتا ہے؛ جیسے غیر اللہ کی قسم کھانا؛ مثلا کعبہ، انبیا، امانت اور کسی کی زندگی وغیرہ کی قسم کھانا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ حَلَفَ بِغَيرِ اللهِ فَقَدْ كَفَرَ أَو أَشرَكَ». ”جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی تو اس نے کفر کیا یا شرک کیا“2۔
اور اعتقادِ قلب کے بموجب شرک اصغر بسا اوقات شرک اکبر ہو جاتا ہے، چنانچہ نبی یا کسی شیخ کی قسم کھانے والا اگر یہ عقیدہ رکھے کہ وہ اللہ کے مثل ہے، یا اسے اللہ کو چھوڑ کر پکارا جا سکتا ہے یا تدبیر کائنات میں اس کو اختیار ہے تو یہ شرک اکبر ہو جائے گا۔ لیکن اگر ایسا کوئی عقیدہ نہ ہو بلکہ محض عادت کے بموجب اس کی زبان سے ایسا نکل گیا ہو تو وہ شرک اصغر ہوگا۔ اور ایسا بہت ہوتا ہے اس لیے حفاظتِ توحید کی خاطر اس سے ہوشیار رہنا اور خبر دار کرنا ضروری ہے۔
3۔ شرک خفی:
اس سے مراد دلوں کی ریاکاری ہے؛ جیسے کوئی ریاکاری کے لیے نماز پڑھے، قرآن پڑھے، تسبیح کرے یا صدقہ دے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، اس سے وہ عمل اکارت ہو جاتا ہے جس میں اس نے ریاکاری کی، البتہ وہ اعمال جنہیں اللہ تعالی کے لئے خالص کیا ہو‘ وہ برباد نہیں ہوتے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: «الشِّرْكُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلَةِ السَّودَاءِ عَلَى الصَّفَاةِ السَّودَاءِ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ، وَكَفَّارَتُهُ أَنْ يَقُولَ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي لَا أَعْلَمُ». "اس امت میں شرک رات کی تاریکی میں سیاہ پتھر پر کالی چیونٹی کی سرسراہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے، اور اس کا کفارہ یہ کہنا ہے: اے اللہ میں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ دانستہ طور پر تیرے ساتھ شرک کروں اور تجھ سے اس گناہ کی معافی مانگتا ہوں جو نا دانستہ طور پر ہو۔"3
کفر کے اقسام:
پہلی قسم: کفر اکبر:
کفر اکبر‘ ہمیشہ کے لیے جہنم کی زندگی کو واجب کردیتا ہے اور اس کی پانچ قسمیں ہیں:
1۔ کفرِ تکذیب:
یہ ہے رسولوں کو جھوٹا ماننے کا عقیدہ رکھنا، کافروں میں یہ کفر بہت نادر ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلیں عطا کی تھیں، ان تکذیب کرنے والوں کا حال بالكل ويسا ہى تھا جیسا کہ اللہ تعالی نے بیان کیا ہے:
﴿وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا...﴾
"انہوں نے انکار کردیا حاﻻنکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے‘ صرف ﻇلم اور تکبر کی بنا پر..." [النحل: 14]
2 ۔ تکبر اور روگردانی کا کفر:
جیسے ابلیس کا کفر؛ اس نے اللہ کے حکم کا انکار تو نہیں کیا تھا لیکن اس کے سامنے تکبر اور روگردانی کا اظہار کیا تھا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ 34﴾
" اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وه کافروں میں ہوگیا"۔ [البقرۃ: 34]
3 ۔ کفر اعراض:
وہ یہ ہے کہ اپنے کان اور دل کو حق کی پیروی سے موڑ لے، نہ اس کی طرف توجہ دے اور نہ اسے کوئی اہمیت دے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعۡرَضَ عَنۡهَآۚ إِنَّا مِنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُنتَقِمُونَ 22﴾
"اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعظ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں"۔ [السجدة: 22]۔
لیکن اگر اعراض وبے توجہى صرف جزئى طور پر ہو تو صرف فسق ہوگا کفر کے درجہ کو نہیں پہنچے گا، جیسے اگر کوئی شخص دین کے بعض واجبات کو سیکھنے سے اعراض برتے جیسے روزے اور حج کے احکام وغیرہ۔
4 ۔ کفر شک:
وہ یہ ہے کہ بندہ حق کے سلسلہ میں تردد اور شک کا شکار ہو، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا35 وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا 36﴾
"اور وہ اپنے باغ میں گیا اور وہ تھا اپنی جان پر ظلم کرنے والا، کہنے لگا میں خیال نہیں کر سکتا کہ یہ کبھی برباد ہو جائے گا۔
اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ کو) اس سے بھی زیاده بہتر پاؤں گا"۔ [الكهف: 35 - 36 ]۔
5 ۔ کفر نفاق:
وہ یہ ہے کہ انسان زبان سے تو ایمان کا دعوا کرے مگر دل میں اس جھوٹ چھپا کر رکھے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَمَا هُم بِمُؤۡمِنِينَ 8﴾
"بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں"۔ [البقرۃ: 8]۔
یہ ہیں کفر اکبر کی قسمیں جو دین اسلام سے خارج کر دیتی ہیں۔
دوسری قسم: کفر اصغر:
اس کفر کی وجہ سے کوئی ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔ اس کفر کے ضمن میں وہ ساری چیزیں آتی ہیں جن کی بابت شریعت میں لفظ کفر کا استعمال بغیرالف لام کے حالت نکرہ میں ہوا ہو۔ اس کی متعدد مثالیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى المَيِّتِ». " لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا"۔4.
2) فرشتوں پر ایمان:
فرشتوں کا تعلق عالم غیب سے ہے، اللہ تعالی نے انہیں نور سے پیدا کیا ہے۔ وہ سب اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں، ان میں ربوبیت یا الوہیت کی کوئی خاصیت نہیں ہے، وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے، بلکہ اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں ہے۔
فرشتوں پر ایمان چار چیزوں کو شامل ہے:
(1) فرشتوں کے وجود پر ایمان۔
(2) ان فرشتوں پر ایمان لانا جن کے نام ہمیں معلوم ہیں، جیسے جبریل، میکائیل، اسرافیل وغیرہ۔ اور جن کے نام نہیں معلوم ہیں ان پر بھی اجمالی طور پر ایمان رکھنا۔
(3) ان کی ان صفات پر ایمان رکھنا جو کتاب وسنت میں وارد ہوئی ہیں؛ جیسے اللہ کے رسول ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے انہیں ان کی حقیقی خلقت میں دیکھا‘ ان کے چھ سو پر تھے جن سے افقِ آسمان ڈھک چکا تھا۔
(4) فرشتوں کے ان اعمال پر ایمان لانا جو ہمیں معلوم ہیں؛ جیسے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنا اور دن رات بلا کسی تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے اس کی عبادت میں مشغول رہنا،
مثلاً: جبریل: وحی کے امین ہیں،
اسرافیل علیہ السلام صور پھونکنے پر مقرر ہیں۔
ملک الموت‘ موت کے وقت روح قبض کرنے پر مامور ہیں۔
مالک‘ جہنم کا داروغہ اور رضوان‘ جنت کا رکھوالا ہے، اس طرح دیگر وہ تمام فرشتے جن کے کام معلوم ہیں‘ ان پر ایمان رکھنا۔
3) کتابوں پر ایمان:
کتابوں سے مراد وہ آسمانی کتابیں ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، انسانوں کی ہدایت اور ان پر رحم وکرم کا معاملہ کرتے ہوئے، تاکہ انہیں دونوں جہان کی سعادت نصیب ہو۔
کتابوں پر ایمان چار امور کو شامل ہے:
1- اس بات پر ایمان کہ ان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہونا حق ہے۔
2- جن کتابوں کے نام معلوم ہیں ان پر ایمان رکھنا؛ جیسے قرآن جو محمد ﷺ پر نازل ہوا، تورات جو موسی علیہ السلام پر نازل ہوئی، انجیل جو عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی، اور زبور جو داود علیہ السلام کو عطا کی گئی۔
اور جن کتابوں کے نام نہیں معلوم ہیں ان پر بھی اجمالی طور پے ایمان رکھنا۔
3- ان میں وارد خبروں کی تصدیق؛ جیسے قرآن اور غیر محرف سابقہ کتابوں کی خبریں۔
4- ان کتابوں کے ان جملہ احکام پر برضا ورغبت عمل کرنا جو منسوخ نہیں ہوئے، خواہ ہم ان احکام کی حکمت کا ادراک کر سکے ہوں، یا ہم اس سے قاصر رہے ہوں۔ یاد رہے کہ سابقہ تمام کتابیں قرآن کریم کے ذریعہ منسوخ ہو چکی ہیں۔ لہذا پہلی کتابوں کے کسی حکم پر عمل کرنا جائز نہیں ہے الا یہ کہ وہ صحت کے درجہ کو پہنچ جائے اور قرآن کریم یا سنت نبوی نے اسے برقرار رکھا ہو۔
4) رسولوں علیہم السلام پر ایمان لانا:
رُسُل: رسول کی جمع ہے؛ اور یہ وہ عظیم انسان ہیں جن کی طرف بذریعہ وحی شریعت نازل کی گئی اور انہیں اس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا۔ سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ ہیں۔ وہ بشر اور مخلوق ہیں، ان میں ربوبیت یا الوہیت کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔
رسولوں پر ایمان مندرجہ ذیل باتوں کو شامل ہے:
1- اس بات پر ایمان کہ ان کی رسالت اللہ کی جانب سے حق ہے، لہذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کی رسالت کا انکار کرے گا وہ تمام رسولوں کا منکر ہوگا۔
2- ان رسولوں پر ایمان لانا جن کے نام ہمیں معلوم ہیں، مثلا محمدﷺ، ابراہیم، موسی، عیسی اور نوح علیھم الصلاۃ والسلام ۔ ان پانچوں اولو العزم رسول ہیں۔
جن انبیاء کرام علیھم السلام کے اسمائے گرامی کا ہمیں علم نہیں ان پر بھی اجمالا ایمان لانا ہم پر لازم ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ مِنۡهُم مَّن قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّن لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَ...﴾
" یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے..." [سورۃ غافر: 78]۔
3- ان کی جو خبریں صحیح اور ثابت ہیں‘ ان کی تصدیق کرنا۔
4- خاتم النبیین محمد ﷺ کی شریعت پر عمل کرنا۔
5) یومِ آخرت پر ایمان:
”یوم آخرت“ سے مراد روز قیامت ہے، جب لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب اور جزا کے لیے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اس دن کا نام ”یوم آخرت“ اس لیے ہے کہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہیں ہوگا، کیوںکہ تمام اہل جنت اور اہل جہنم اپنے اپنے ٹھکانوں میں قرار پا جائیں گے۔
آخرت کے دن پر ایمان تین امور کو شامل ہے:
ا- بعث پر ایمان:
یعنی جب صور میں دوسری پھونک ماری جائے گی تو سارے مردے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، سارے لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے، نہ ان کے پیروں میں جوتے ہوں گے اور نہ بدن پہ کپڑے اور سب بغیر ختنہ کے ہوں گے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ 104﴾
"جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوباره کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعده ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے"۔ [الانبیاء: 104]
ب- حساب وجزا پر ایمان:
جب بندہ کے اعمال کا حساب ہوگا اور اسے ان کا بدلہ دیا جائے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ إِلَيۡنَآ إِيَابَهُمۡ 25 ثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُم 26﴾
" بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے۔
پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا". [الغاشیۃ: 25-26]
ج- جنت اور جہنم پہ ایمان:
اور اس بات پہ ایمان کہ یہ دونوں بندوں کے دائمی ٹھکانہ ہیں؛ جنت نعمتوں کا ٹھکانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پرہیزگار مومنوں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اس میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی کی آنکھ نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال ہی گزرا۔
اور جہنم؛ جائے سزا ہے، جسے اللہ تعالی نے کافروں اور نافرمانوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اس کی متنوع سزاؤں کا تصور بھی ممکن نہیں۔
6) اچھی اور بری تقدیر پر ایمان:
تقدیر سے مراد: اللہ تعالی کا اپنے سابق علم اور حکمت کے مطابق پیش آنے والے تمام امور کو مقدر کرنا۔
تقدیر پر ایمان چار امور کو شامل ہے:
1- علم: یعنی اس بات پر ایمان کہ جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اور کیسے ہوگا ان سب کا اللہ تعالیٰ کو اجمالی و تفصیلی اور ازلی وابدی علم ہے۔ اسی طرح جو نہیں ہوا اللہ تعالی کو معلوم ہے کہ اگر ہوتا تو کیسا ہوتا۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:
﴿وَلَوۡ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ ...﴾
" اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیج دیے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا..." [الانعام: 28]۔
2- کتابت: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قیامت تک رونما ہونے والی ہر چیز کی تقدیریں لکھ دی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ 70﴾
" کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے"۔ [الحج: 70]
3- مشیئت: اس کا مطلب ہے اس بات پر ایمان رکھنا کہ اس کائنات میں صرف وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالی چاہتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُ ...﴾
"اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے..." [القصص: 68] انسان کی مشیئت اللہ کی مشیئت کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ 29﴾
" اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے"۔ [التکویر: 29]
4- تخلیق: یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالی مخلوقات اور ان کے تمام اچھے برے اعمال کا خالق ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ 62﴾
”اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔“ [الزمر: 62]
ان تمام درجات کو اس شعر میں جمع کردیا گیا ہے:
ہمارے مولیٰ کا علم، اس کی مشیئت اور تخلیق، اور وہی وجود بخشنے والا اور تشکیل دینے والا ہے۔
تیسرا مبحث: احسان:
احسان: یہ ایک ہی رکن ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اللہ کی اس طرح عبادت کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ تصور نہیں کرسکتے تو اتنا خیال ضرور رکھیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔
یعنی انسان اللہ کی عبادت اس طرح انجام دے کہ جیسے وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہو۔ اور یہ مرتبہ اللہ تعالی کے لئے خشیت تامہ اور انابت کاملہ کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ عبادت سنت رسول ﷺ کے مطابق ہو۔
احسان کے دو درجات ہیں، اور احسان کرنے والے (محسنین) احسان کے دو مختلف مقامات پر ہوتے ہیں:
پہلا اور سب سے اعلی مقام مشاہدہ کا مقام ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ بندہ (اللہ کی عبادت و بندگی) اس طرح کرے گویا وہ اللہ عزوجل کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، چنانچہ دل ایمان سے اس قدر منور ہو جائے کہ غیب بھی مشاہدے کی طرح ہو جائے۔
دوسرا مقام: اخلاص اور مراقبہ کا مقام ہے۔ وہ یہ ہے کہ بندہ کوئی بھی عمل کرتے وقت ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے ہر عمل سے با خبر ہے، اگر بندہ کی حالت ایسی ہو تو وہ مخلص ہے۔
چوتھا مبحث: اہل سنت والجماعت کے عقائد کا مختصر خلاصہ:
1- اہل سنت والجماعت کتاب وسنت کی اتباع کرتے ہیں ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی۔ اور اللہ عز وجل اور اس کے رسول ﷺ کی بات پر کسی کی بات کو مقدم نہیں کرتے۔
2- صحابۂ رسول ﷺ کے تئیں اپنے دلوں کو صاف رکھتے ہیں اور ان کی شان میں زبان درازی نہیں کرتے۔ اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے خلیفہ ابو بکر پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ عنھم ہیں۔
3- رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت سے محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں، آپ ﷺ کے اہل بیت میں جو نیک ہیں وہی بالخصوص آپ کے اہل بیت ہیں۔
4- ائمہ اور حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہیں کرتے گرچہ وہ ظلم وزیادتی کریں۔ بلکہ ان کے لیے نیکی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں اور ان پر بد دعا نہیں کرتے اور جب تک وہ معصیت کا حکم نہ دیں ان کی اطاعت فرض ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت میں شامل ہے۔ لیکن اگر وہ کسى معصیت کا حکم دیں تو اس میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ لیکن اس کے باوجود دیگر چیزوں میں ان کی اطاعت باقی رہے گی۔
5- اولیا کی کرامتوں کی تصدیق؛ اولیا کی کرامتوں سے مراد وہ خارق عادات امور ہیں جو اللہ تعالی اپنے اولیا کے ہاتھوں ظاہر کرتا ہے۔
6- اہل قبلہ (مسلمانوں) کو مطلق معصیت اور کبائر کی بنا پر کافر قرار نہیں دیتے، جیسا کہ خوارج کا رویہ ہے، بلکہ ان کے نزدیک گناہوں کے باوجود ایمانی اخوت باقی رہتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ گناہ گار اپنے ایمان کی وجہ سے مومن اور کبیرہ کی وجہ سے فاسق ہوتا ہے۔
***
دوسری فصل: عبادات کا بیان
پہلا مبحث: طہارت
طہارت کے لغوی معنی: حسی اور معنوی گندگیوں سے پاک صاف ہونا۔
طہارت کی شرعی تعریف: حدَث کا ختم ہونا اور نجاست کا دور ہونا۔ طہارت نماز کی کلید ہے۔ لہذا طہارت کا علم حاصل کرنا دین کے عظیم ترین امور میں سے ہے، ہر مسلمان پر واجب ہے کہ انہیں پوری توجہ سے سیکھے-
پہلا مسئلہ: پانی کی قسمیں:
1- طھور؛ اس سے مراد وہ چیز ہے جس سے طہارت حاصل کرنا صحیح ہے، خواہ وہ اپنی خلقت پر باقی ہو؛ جیسے بارش، نہروں اور سمندروں کا پانی، یا اس میں کسی پاک چیز کی آمیزش ہوئی ہو لیکن وہ اس پر غالب نہ آئی ہو کہ اس سے پاک کرنے کی صفت زائل ہو جائے۔
2- نجس (ناپاک)؛ اس کا استعمال جائز نہیں۔ نہ اس سے حدث ختم ہوتا ہے، اور نہ ہی نجاست زائل ہوتی ہے، یہ وہ پانی ہے جس کا رنگ، بو یا ذائقہ کسی نجاست کی وجہ سے بدل گیا ہو۔
دوسرا مسئلہ: نجاست:
نجاست سے مراد ایک خاص گندگی ہے، جس کے ساتھ نماز نہیں ہوتی؛ جیسے پیشاب ، پاخانہ اور خون وغیرہ، یہ بدن، کپڑے اور جگہ تینوں میں ہو سکتی ہے۔
تمام اشیا میں اصل حکم اباحت اور طہارت ہے، اس لیے اگر کوئی کسی چیز کی نجاست کا دعوی کرے تو اسے دلیل پیش کرنی ہوگی۔ بلغم اور انسان یا گدھے کا پسینہ پاک ہیں گرچہ یہ گندگیاں ہیں۔ اس لیے ہر نجاست گندگی ہے لیکن ہر گندگی نجاست نہیں۔
نجاست کے تین درجے ہیں:
پہلا: نجاست مغلظہ؛
جیسے اس برتن کی نجاست جس میں کتے نے منہ ڈال دیا ہو۔ اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے اور پہلی بار مٹی سے دھویا جائے۔
دوسرا: نجاست مخففہ:
جیسے شیرخوار بچہ کا پیشاب جب کپڑے وغیرہ کو لگ جائے۔ اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر اچھی طرح پانی کے چھینٹے مارے جائیں، کھرچنے یا نچوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
تیسرا: نجاسہ متوسطہ:
جیسے انسان کے بول وبراز اور عام نجاستیں جب زمین یا کپڑے وغیرہ پر پڑ جائیں۔ ان سے پاکی حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پانی یا صفائی کے دیگر ذرائع سے نجاست کی جگہ کو صاف کیا جائے اور اگر نجاست جِرم (دکھنے) والی ہو تو اس کے جِرم (وجود) کو ختم کیا جائے۔
ذیل میں کچھ ایسی نجاستیں ذکر کی جارہی ہیں جو دلائل سے ثابت ہیں:
1- انسان کے بول وبراز۔
2- مذی اور ودی۔5
3- غیر ماکول اللحم جانور کا فضلہ۔
4- حیض ونفاس کے خون۔
5- کتے کا لعاب۔
6- مردہ۔ اس سے درج ذیل مردے مستثنی ہیں:
ا- مردہ انسان۔
ب- مردہ مچھلی اور ٹڈی۔
ج- ایسا مردار جس کے اندر بہنے والا خون نہ ہو؛ جیسے مکھی، چیونٹی اور شہد کی مکھی وغیرہ۔
د- مردہ کی ہڈی، سینگ، ناخون، بال اور پر۔
نجاست کو صاف کرنے کا طریقہ:
1- پانی کا استعمال، اور یہی نجاست سے پاکی حاصل کرنے کا بنیادی طریقہ ہے اس لیے پانی کو چھوڑ کر کوئی اور ذریعہ استعمال نہیں کیا جائے گا-
2- کچھ ناپاک یا نجاست آلود چیزوں کی پاکی اور صفائی کے تعلق سے شریعت میں کئی اور طریقے آئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
ا- مردار کے چمڑے کو دباغت سے پاک کیا جائے گا۔
ب- اگر کسی برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار مٹی کا استعمال کیا جائے۔
ج- جب کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو اسے کھرچ کر دھو دینا کافی ہے، اگر اس کے باوجود کچھ نشان باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
د- عورت کے کپڑے کے نچلے حصہ (کپڑے کا وہ حصہ جو زمین میں لگ جاتا ہو) میں اگر کوئی نجاست لگ جائے تو اس کے بعد کی پاک مٹی سے گھسٹ کر وہ صاف ہو جاتی ہے۔
ہ- اگر کپڑے میں شیرخوار بچہ کا پیشاب لگ جائے تو کپڑے پر پانی چھڑک کر اور اگر بچی کا پیشاب لگ جائے تو کپڑے کو دھو کر پاکی حاصل کی جائے۔
و- مذی سے کپڑے کو صاف کرنے کے لیے بھی اس جگہ پر پانی کے چھینٹے مارنا کافی ہے۔
ز- جوتے کا نچلا حصہ پاک زمین پر رگڑ کر صاف کیا جا سکتا ہے۔
ح- زمین پر نجاست ہو تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر پانی بہایا جائے یا دھوپ یا ہوا سے سوکھنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ جب نجاست کا اثر زائل ہو جائے تو زمین پاک ہو جاتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: وہ اعمال جو محدِث (حدث والے شخص) پر حرام ہیں:
حدث اصغر یا حدث اکبر والے شخص پر حرام کردہ چیزیں مندرجہ ذیل ہیں:
1- نماز خواہ فرض ہو یا نفل؛ اس کی دلیل ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُورٍ». "اللہ تعالی کوئی نماز بغیر طہارت کے قبول نہیں کرتا''6.
2- مصحف کو چھونا۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم کو جو خط لکھا تھا اس میں فرمایا تھا: «لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ». ”مصحف کو صرف پاک شخص ہی چھو سکتا ہے۔“7.
3- خانۂ کعبہ کا طواف؛ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلاةٌ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَبَاحَ فِيهِ الْكَلَامَ». ”خانۂ کعبہ کا طواف نماز ہی ہے۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالى نے اس میں بات کرنا مباح قرار دیا ہے“۔8 اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ نے طواف کے لیے وضو کیا، نیز آپ ﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے حائضہ کو طواف کرنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے۔
ذیل میں ان امور کا ذکر ہے جو صرف حدث اکبر کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں:
1- قرآن پڑھنا؛ علی رضی الله عنہ نے فرمایا: "سوائے جنابت کے کوئی چیز نبی ﷺ کو قرآن سے نہیں روکتی تھی"۔9.
2- بغیر وضو کے مسجد میں ٹھہرنا؛ کیونکہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغۡتَسِلُواْ...﴾
" اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راه چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے..."۔ [النساء: 43]۔
لیکن حدث اکبر والا اگر وضو کر لے تو مسجد میں ٹھہر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر صرف مسجد سے گزر جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔
چوتھا مسئلہ: قضائے حاجت کے آداب:
قضائے حاجت کے وقت درج ذیل امور مستحب ہیں:
1- لوگوں سے دور چھپ کے قضائے حاجت کرنا۔
2- بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ». " اے اللہ! میں ناپاک جنّوں اور جنّیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"10
قضائے حاجت کے وقت یہ امور واجب ہیں:
1- پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا۔
2- شرم گاہ کی ستر پوشی۔
اور قضائے حاجت کے وقت یہ باتیں حرام ہیں:
1- قبلہ کی طرف چہرہ یا پیٹھ کرنا۔
2- راستوں اور لوگوں کے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں میں قضائے حاجت کرنا۔
3- ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا۔
قضائے حاجت کے وقت یہ باتیں مکروہ ہیں:
1- قضائے حاجت کے وقت دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونا۔
2- دائیں ہاتھ سے استنجا یا پتھر وغیرہ کا استعمال کرنا۔
3- قضائے حاجت کے وقت بات کرنا اور بالخصوص اللہ کا ذکر کرنا۔
پانچواں مسئلہ: استنجا اور پتھر وغیرہ کے استعمال سے متعلق احکام:
استنجا سے مراد ہے بول وبراز کے راستہ سے نکلنے والی گندگی کو پانی سے صاف کرنا۔
اور استجمار کا مطلب ہے بول وبراز کے راستہ سے نکلنے والی گندگی کو پانی کے بغیر پتھر یا ٹشو وغیرہ سے صاف کرنا۔
جس چیز سے استجمار کرنا ہو اس سے متعلق چند شرائط:
1- وہ چیز مباح ہو۔
2- وہ چیز پاک ہو۔
3- اس سے صفائی حاصل کرنا ممکن ہو۔
4- ہڈی یا گوبر نہ ہو۔
5- کوئی قابل احترام شی نہ ہو؛ جیسے وہ اوراق جن میں اللہ تعالی کے نام ہوں۔
استجمار پر اکتفا کرنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے:
1- نکلنے والى گندگی معروف جگہ کے علاوہ کہیں اور نہ لگى ہو۔
2- پاک صاف کرنے والے تین یا تین سے زائد پتھروں سے استجمار کیا جائے۔
چھٹا مسئلہ: وضو کے احکام:
تین عبادتوں کے لیے وضو واجب ہے:
1- ہر طرح کی نماز کے لیے، فرض ہو یا نفل۔
2- مصحف کو چھونے کے لیے۔
3- طواف کے لیے۔
وضو کے شروط:
1- اسلام۔
2- عقل۔
3- تمییز۔
4- نیت: اس کی جگہ دل ہے، اور اسے الفاظ میں ادا کرنا بدعت ہے۔ اور جس نے وضو کا ارادہ کیا اس نے نیت کر لی۔ اگر صفائی یا ٹھنڈ حاصل کرنے کی نیت سے کوئی اعضائے وضو کو دھوئے تو یہ وضو نہیں شمار ہوگا۔
5- طہارت کے حکم کو برقرار رکھنا: یعنی (وضو یا غسل کے دوران) یہ نیت نہ کرے کہ اسے توڑے گا یہاں تک کہ اس کی طہارت مکمل ہو جائے۔
6- وضو توڑنے والی چیزوں کا انقطاع، اور اس شرط سے سلس البول کا مریض اور مستحاضہ مستثنی ہیں۔
7- بول یا براز کی صورت میں وضو سے پہلے استنجا یا استجمار کرنا۔
8- پانی کا طہور (پاک کرنے والا) اور مباح ہونا۔
9- جلد تک پانی کو پہنچنے سے روکنے والی چیز کا ازالہ۔
10- جس شخص کا وضو ہمیشہ ٹوٹ جاتا ہو اس کے لیے مزید ایک شرط یہ ہے کہ نماز کا وقت داخل ہو جائے۔
وضو کے فرائض:
1- چہرے کا دھونا، کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔
2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔
3- پورے سر کا مسح کرنا، دونوں کانوں کا مسح بھی اسی میں شامل ہے۔
4- ٹخنوں تک پاؤں دھونا۔
5- اعضائے وضو کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا۔
6- تسلسل: اعضا کو دھوتے وقت درمیان میں طویل فاصلہ نہ ہو۔
وضو کا طریقہ:
1- بسم اللہ کہنا۔
2- ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھونا۔
3- چہرہ کو تین بار دھونا، چہرہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک مین پانی ڈال کر اسے صاف کرنا بھی شامل ہے۔
4- کہنیوں کے ساتھ تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھونا اور پہلے دایاں ہاتھ دھونا پھر بایاں۔
5- کانوں کے ساتھ سر کا مسح کرنا۔
6- ٹخنوں کے ساتھ تین مرتبہ دونوں پیروں کو دھونا اور پہلے دایاں پیر دھونا پھر بایاں۔
وضو کے نواقض:
1- سبیلین سے نکلنے والی چیز، جیسے: بول، براز اور ہوا۔
2- جسم سے کثیر مقدار میں نکلنے والی کوئی نجس چیز۔
3- نیند یا کسی اور وجہ سے عقل کا زائل ہونا۔
4- آگے یا پیچھے کی شرم گاہ کو ہاتھ سے بغیر حائل کے چھونا۔
5- اونٹ کا گوشت کھانا۔
6- مرتد ہو جانا، اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔
ساتواں مسئلہ: مختلف فسم کے موزوں پر مسح کے احکام:
1- خف: چمڑے وغیرہ کے موزے۔
2- جورب: اون یا روئی وغیرہ کے موزے۔
موزوں پر مسح کرنے کے شرائط:
1- مکمل طہارت کے بعد موزے پہنا ہو۔
2- موزے سے قدم اور ٹخنے ڈھک جائیں۔
3- دونوں موزے پاک ہوں۔
4- مسح اس کے مقررہ وقت کے اندر کیا گیا ہو۔
5- مسح وضو میں کیا جائے غسل میں نہیں۔
6- موزہ حلال ہو، لہذا غصب کردہ یا مَردوں کے حق میں ریشم کے موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ حرام چیز سے رخصت نہیں حاصل کی جا سکتی۔
مسح کی مدت:
مقیم کے لیے: ایک دن اور ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔
مسح کا طریقہ:
ہاتھ کو پانى سے بھگو کر پیروں کی انگلیوں سے پنڈلیوں تک موزوں کے اوپری حصے پر ایک مرتبہ مسح کیا جائے۔
مسح کو باطل کرنے والی چیزیں:
1- مسح کی مدت کا ختم ہو جانا۔
2- دونوں موزوں کو یا کسی ایک موزے کو اتار دینا۔
3- حدث اکبر کا واقع ہونا۔
موزوں پر مسح کرنے کا حکم:
مسح کرنا پیر دھونے سے افضل ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے رخصت ہے؛ اور اس سے نبی ﷺ کی اتباع اور اہل بدعت کی مخالفت ہوتی ہے۔
3- بینڈج، پلاستر اور پٹیوں پر مسح کرنا:
عربی زبان میں ’جبائر‘ کہتے ہیں اس پلاستر یا بینڈنگ کو جو جسم کی ٹوٹی ہوئی جگہوں پر باندھی جاتی ہے۔
اور عربی زبان میں ’عصائب‘ سے مراد کپڑے وغیرہ ہیں جو زخم، جلے ہوئے یا کچلے ہوئے حصوں پر لپیٹے جاتے ہیں۔
اور عربی زبان کے لفظ ’لصوق‘ کا اطلاق ان چیزوں پر ہوتا ہے جو بغرض علاج زخموں یا پھوڑوں پر چسپاں کی جاتی ہیں۔
ان چیزوں پر مسح کرنے کا حکم:
ضرورت کے وقت جائز ہے بشرطیکہ ضرورت کی جگہ سے زیادہ کا مسح نہ کیا جائے۔
اور جب ضرورت ختم ہو جائے یا اتارنے پر کوئی مشقت یا ضرر لاحق نہ ہو تو جائز نہیں ہے۔
ان چیزوں پر مسح کرنے کا طریقہ:
ان کے ارد گرد کے حصہ کو دھویا جائے اور ان پر ہر طرف سے مسح کیا جائے۔ اور ان چیزوں کے اس حصہ کا مسح نہیں کیا جائے گا جو محل وضو کے علاوہ جسم کے بقیہ حصے پر ہو۔
آٹھواں مسئلہ: تیمم کے احکام:
تیمم کا مطلب ہے بغرض طہارت ایک خاص انداز میں مٹی سے چہرہ اور ہتھیلیوں کا مسح کرنا۔
تیمم کا حکم:
پانی نہ ہونے کی صورت میں یا پانی کا استعمال نہ کر پانے کی حالت میں وضو اور غسل کے بدلے تیمم کرنا واجب ہے۔
تیمم کی مشروعیت کی حکمت:
تیمم امت محمدیہ کے خصائص میں سے ہے، یہ اللہ کا احسان اور اس کی جانب سے کشادگی ہے۔ پچھلی امتوں میں یہ معروف نہیں تھا۔
وہ حالات جن میں تیمم مشروع ہیں:
1- سفر یا حضر میں جب پانی ڈھونڈ کر بھی نہ ملے۔
2- جب اس کے پاس پانی ہو لیکن پینے یا پکانے کے لیے اس کی ضرورت ہو، اگر اس سے وضوء کر لے تو وہ خود یا کوئی دوسرا محترم انسان یا محترم حیوان پیاسا رہ سکتا ہو۔
3- جب پانی کے استعمال سے مرض کے بڑھ جانے یا شفایابی میں تاخیر ہونے کا ڈر ہو۔
4- جب بوجہ مرض حرکت نہ کر پانے کے سبب پانی استعمال کرنے سے عاجز ہو، کوئی اسے وضو کرانے والا بھی نہ ہو اور وقت کے نکل جانے کا ڈر ہو۔
5- جب پانی کے استعمال سے سردی لگ جانے کا ڈر ہو اور گرمی حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ میسر نہ ہو تو تیمم کر کے نماز پڑھے گا۔
تیمم کا طریقہ:
کھلی انگلیوں کے ساتھ دونوں ہاتھ مٹی پر مارے پھر پورے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرے۔
تیمم کو باطل کرنے والی چیزیں:
1- پانی کا مل جانا اگر تیمم پانی کی عدم موجودگی کی وجہ سے کیا گیا ہو، یا پانی کے استعمال پر قادر ہونا اگر تیمم پانی استعمال نہ کر پانے کی وجہ سے کیا گیا ہو۔
2- وضو یا غسل کو باطل کرنے والی کسی بھی چیز سے تیمم باطل ہو جاتا ہے جیسے جنابت، حیض اور نفاس۔
جو پانی استعمال کرنے سے عاجز ہو اور تیمم بھی نہ کر سکے اس کا حکم:
جسے پانی یا مٹی نہ مل سکے یا اس کی حالت ایسی ہو کہ پانی یا مٹی کو چھو نہیں سکتا ہو تو وہ اسی حالت میں بغیر وضو اور تیمم کے نماز ادا کرے گا؛ کیونکہ اللہ تعالی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔ اور اگر بعد میں پانی اور مٹی مل جائیں، یا ان کے استعمال کی قدرت حاصل ہو جائے؛ تو وہ اپنی پڑھی ہوئی نماز کو نہیں دہرائے گا؛ کیوں کہ اس نے واجب ادا کر لیا۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
﴿...فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ...﴾
”...جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو...“ [التغابن: 16]۔ اور اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ». " جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو مقدور بھر اس کی بجا آوری کرو۔"11
فائدہ: اگر جنابت کی وجہ سے تیمم کیا ہو، پھر پانی مل جائے؛ تو غسل کرے۔
نواں مسئلہ : حیض ونفاس کے احکام:
۱- حیض:
یہ ایک طبعی اور فطری خون ہے جو مخصوص اوقات میں اندرون رحم سے نکلتا ہے۔ اکثر ہر مہینے چھ یا سات دن نکلتا ہے؛ اور کبھی اس سے زیادہ یا کم بھی ہو سکتا ہے، عورت کی فطری ساخت کے مطابق اس کا مہینہ لمبا یا چھوٹا ہوتا ہے۔
حیض کے احکام:
1- حالت حیض میں عورت نہ نماز پڑھے گى نہ روزہ رکھے گى اور نہ ہى اس کى نماز اور روزہ صحیح ہوگا۔
2- حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ روزے کی قضا کرے گی، نماز کی نہیں۔
3- اس کے لیے طواف کرنا جائز نہیں۔ اس حال میں نہ وہ قرآن بھی نہیں پڑھ سکتی ہے اور نہ مسجد میں بیٹھ سکتی ہے۔ 4- اس کے شوہر پراس حالت میں اس سے جماع کرنا حرام ہے جب تک کہ اس کا حیض نہ رک جائے اور وہ غسل نہ کر لے۔
5- البتہ اس کا شوہر اس سے جماع کے علاوہ دیگر طریقوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے جیسے بوس وکنار وغیرہ ۔
6- حیض کی حالت میں عورت کو اس کا شوہر طلاق نہیں دے سکتا۔
طُہر سے مراد ہے خون کا رک جانا، چنانچہ جب خون تھم جائے تو عورت پاک ہو جاتی ہے اور اس کی مدت حیض پوری ہو جاتی ہے۔ اس وقت اس پر غسل واجب ہوجاتا ہے۔ پھر جو کچھ حیض کی وجہ سے حرام تھا وہ سب کر سکتی ہے۔
اگر طہر کے بعد کوئی گدلا یا پیلا پانی دیکھے تو اس کا اعتبار نہ کرے۔
۲- نفاس:
یہ وہ خون ہے جو رحمِ مادر سے ولادت کے وقت اور اس کے بعد خارج ہوتا ہے، اور یہ وہ خون ہوتا ہے جو حمل کے دوران رحم میں رکا رہتا ہے۔
حیض کی طرح نفاس کی حالت میں بھی بجز جماع کے ہر طرح سے لطف اندوز ہونا حلال ہے۔
اور وہ ساری چیزیں حرام ہیں جو حیض کی حالت میں حرام ہوتی ہیں، جیسے جماع، نماز، روزہ، طلاق، طواف، قرآن پڑھنا اور مسجد میں رکنا۔ حیض کی طرح جب نفاس کا خون رک جائے تو غسل واجب ہوگا۔
حائضہ ہی کی مانند روزے کی قضا کرے گی نماز کی نہیں۔
نفاس کی اکثرِ مدت چالیس دن ہے۔ لیکن اگر چالیس دن سے پہلے خون رک جائے تو بھی اس کی مدت نفاس ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ وہ غسل کرے گی، نماز پڑھے گی اور وہ سب کچھ کرے گی جو اس کے لیے بسبب نفاس ممنوع تھا۔
دوسرا مبحث: نماز کا بیان:
پہلا مسئلہ: اذان واقامت کے احکام:
اذان سنہ 1 ہجری میں مشروع ہوئی۔ اذان کی وجہ مشروعیت یہ تھی کہ جب مسلمانوں کو اوقات معلوم کرنے میں دشواری محسوس ہوئی تو انہوں نے آپسی مشورے سے یہ طے کیا کہ اس کے لیے کوئی علامت اپنائی جائے، عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں یہ اذان دکھائی گئی جسے وحی الہی نے معتمد قرار دیا۔
اذان: یعنی نماز کے وقت کے داخل ہونے کی خبر دینا۔ اقامت : یعنی نماز شروع ہونے کی خبر دینا۔
اذان واقامت فرض نمازوں میں مردوں کى جماعت کے لیے فرض کفایہ ہیں۔ یہ اسلام کے ظاہری شعائر میں سے ہیں‘ اس لیے انہیں موقوف کرنا جائز نہیں۔
اذان کے شرائط:
1- مؤذن مرد ہو۔
2- اذان بالترتیب ہو۔
3- اذان تسلسل کے ساتھ ہو۔
4- اذان دخول وقت کے بعد دی جائے۔ اور اس شرط سے مستثنی ہیں: فجر اور جمعہ کی پہلی اذان۔
اذان کی سنتیں:
1- دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں ڈالنا۔
2- اول وقت میں اذان دینا۔
3- حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہتے ہوئے دائیں اور بائیں مڑنا۔
4- مؤذن کا خوش نوا ہونا۔
5- اذان کے الفاظ ٹھہر ٹھہر کر کہے لیکن حد سے زیادہ نہ کھینچے۔
6- اذان کے ہر جملہ کے اخیر میں ٹھہرے۔
7- اذان دیتے وقت قبلہ رخ ہو۔
اذان کے جملے پندرہ ہیں، جیسا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی موجودگی میں ہمیشہ یہی اذان کہتے تھے۔
اذان کے الفاظ:
(الله أكبر) چار مرتبہ۔
(أشهد أن لا إله إلا الله) دو مرتبہ۔
(أشهد أن محمدا رسول الله) دو مرتبہ۔
(حي على الصلاة): دو مرتبہ۔
(حي على الفلاح) دو مرتبہ۔
پھر (الله أكبر) دو مرتبہ۔
اخیر میں (لا إله إلا الله) ایک مرتبہ۔
اور فجر میں حي على الفلاح کے بعد دو مرتبہ (الصلاة خير من النوم) کا اضافہ کرے ؛ کیوں کہ اس وقت لوگ اکثر سو رہے ہوتے ہیں۔
اقامت کے جملے بارہ ہیں، اقامت کے جملے جلدی جلدی کہے، کیوں کہ اقامت کا مقصد مسجد میں موجود لوگوں کو آگاہ کرنا ہے‘ اس لیے اسے زیادہ کھینچنے کی ضرورت نہیں۔
اقامت کے الفاظ یوں ہیں:
(الله أكبر): دو مرتبہ۔
(أشهد أن لا إله إلا الله) ایک مرتبہ۔
(أشهد أن محمدا رسول الله) ایک مرتبہ۔
(حي على الصلاة) ایک مرتبہ۔
(حي على الفلاح) ایک مرتبہ۔
(قد قامت الصلاة): دو مرتبہ۔
(الله أكبر): دو مرتبہ۔
(لا إله إلا الله): ایک مرتبہ۔
اذان سننے والے کے لیے مستحب ہے کہ مؤذن کے الفاظ کو دہرائے، لیکن (حي على الصلاة) اور (حي على الفلاح) کی جگہ (لا حول ولا قوة إلا بالله) کہے۔ پھر نبی ﷺ پر درود بھیجے۔ اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «اللهمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاةِ القَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ». ”اے اللہ ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب، تو محمدﷺ کو خاص تقرب اور خاص فضیلت عطا کر اور انھیں اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، یقینََا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔“12
اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيًّا». (میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوں)13
بلا عذر یا واپسی کی نیت کے بغیر اذان کے بعد مسجد سے نکلنا حرام ہے۔
جمع بین الصلاتین کی صورت میں اذان ایک ہوگی اور اقامت ہر نماز کے لیے الگ الگ ہوگ[۔
دوسرا مسئلہ: نماز کا مقام ومرتبہ اور اس کی فضیلت:
نماز شہادتین کے بعد اسلام کا سب سے اہم رکن ہے۔ اسلام میں اس کا خاص مقام ومرتبہ ہے، اللہ نے اسے معراج کی رات آسمان میں اپنے رسول پر فرض کیا، جس سے اس کی عظمت، اللہ تعالی کے ہاں اس کا مقام اور اس کی تاکیدی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
نماز کی فضیلت اور فرضیت کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ نماز کی فرضیت دین اسلام کے مشہور ومعروف امور میں سے ہے۔
نماز کے واجب اور حتمی ہونے کے چند دلائل ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں:
1- اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿...إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا﴾
" ... یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے"۔ [النِّساء: 103] یعنی ان اوقات میں فرض ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔
2- فرمان الٰہی ہے:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ...﴾
" اُنہیں (اس کے سوا) کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں، اُس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، بالکل یکسو ہوکر، اور نماز قائم کریں ..." [البینۃ : 5]
3- فرمان باری تعالى ہے:
﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ...﴾
" پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ..." [التوبۃ : 11]
4- جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ». ”بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے۔“14
5- بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «العَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَن تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ». ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان فرق نماز کا ہے، تو جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا۔“15
جو شخص نماز کے وجوب کا انکار کرے اس کے کافر ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔ اور جو شخص لا پرواہی اور سستی میں نماز چھوڑے تو صحیح قول کے مطابق وہ بھی کافر ہے، اس کى دلیل مذکورہ صحیح حدیث ہے اور اس پر صحابہ کرام کا اجماع بھى ہے۔
تیسرا مسئلہ: نماز کے شرائط:
1- دخول وقت:
کیونکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
﴿...إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا﴾
"... یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے"۔ [النساء : 103] یعنی متعینہ اوقات میں فرض ہے۔
فرض نمازوں کے اوقات حسب ذیل ہیں:
ا- نمازِ فجر: طلوعِ فجر سے لے کر طلوعِ شمس تک۔
ب- نمازِ ظہر: زوال شمس سے کر اس وقت تک جب ہر چیز کا سایہ لمبائی میں اس کے برابر ہو جائے۔
ج- نمازِ عصر: ظہر کا وقت نکلنے سے لے کر سورج زرد ہونے تک اور اضطراری وقت سورج ڈوبنے تک۔
د- نمازِ مغرب: سورج ڈوبنے سے لے کر لال شفق غائب ہونے تک۔
ہ- نمازِ عشا: لال شفق غائب ہونے سے لے کر آدھی رات تک۔
2- شرم گاہ کی ستر پوشی:
شرم گاہ سے مراد جسم کا وہ حصہ ہے جسے ڈھانکنا ضروری ہے اور جس کے کھلنے پر شرم آئے۔ مرد کی شرم گاہ ناف سے گھٹنے تک ہے، اور عورت نماز کی حالت میں سوائے چہرہ کے اپنا پورا جسم ڈھانکے گی۔ البتہ غیر محرموں کے سامنے اپنے چہرے کا بھی پردہ کرے گی۔
3- نجاست سے اجتناب:
نجاست سے مراد چند مخصوص گندگیاں ہیں جن کے ساتھ نماز نہیں ہوتی؛ جیسے بول وبراز اور خون وغیرہ، یہ گندگیاں جسم، جگہ اور کپڑے پر نہ ہوں۔
4۔ قبلہ کی جانب رخ کرنا۔
قبلہ کعبہ شریف کو کہتے ہیں، اس کو قبلہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس کى جانب رخ کرتے ہیں۔
استقبال قبلہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿...وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُ...﴾
" ... اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو... "۔ [البقرۃ: 144]
5- نیت:
نیت کے لغوی معنی ہیں ارادہ کے، اور شریعت کی اصطلاح میں نیت کا مطلب ہے اللہ تعالی کی قربت حاصل کرنے کے لیے کسی عبادت کو انجام دینے کا عزم کرنا۔ نیت دل میں ہوتی ہے، زبان سے نیت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے۔
چوتھا مسئلہ: نماز کے ارکان:
نماز کے ارکان چودہ ہیں:
پہلا رکن: اگر استطاعت ہو تو کھڑا ہونا۔
کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿...وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ﴾
”...اور اللہ کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو“۔ [البقرة : 238] عمران رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے: «صَلِّ قَائِمًا، فَإِن لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِن لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ». " کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو"۔16
یعنی اگر کسی مرض کی وجہ سے کھڑا ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر یا پہلو کے بل جیسے ممکن ہو نماز ادا کرے۔ ڈرا ہوا، ننگا انسان اور جسے کسی علاج کے تحت بیٹھنا یا لیٹنا پڑے یہ سب مریض کے حکم میں ہیں۔ اسی طرح اگر امام راتب کھڑے ہوکر نماز پڑھانے سے قاصر ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے سارے مقتدی امام کی اتباع میں بیٹھ کر ہی نماز ادا کریں گے۔ رہی بات نوافل کی تو استطاعت ہوتے ہوئے بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن ایسی صورت میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی طرح ثواب نہیں ملے گا۔
دوسرا رکن: نماز کے شروع میں تکبیر تحریمہ:
اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَكَبِّرْ». ”پھر قبلہ کی جانب منہ کرو اور تکبیر کہو۔“17
تکبیر تحریمہ میں (اللہ اکبر) کہنا ضروری ہے‘ اس کے علاوہ کچھ اور کہنا کافى نہیں ہوگا۔
تیسرا رکن: سورہ فاتحہ کی تلاوت:
اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «لَا صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ». " اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی"۔18
چوتھا رکن: ہر رکعت میں رکوع کرنا:
کیونکہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا...﴾
"اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو..." [الحج: 77]
پانچواں اور چھٹا رکن:
رکوع سے سر اٹھانا اور حالت قیام کی طرح سیدھے کھڑے ہو جانا؛ کیوں کہ آپ ﷺ یہ عمل ہمیشہ کرتے رہے۔
اور غلط طریقے سے نماز پڑھنے والے شخص سے فرمایا: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا». ''پھر (اپنا سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ''۔19
ساتواں رکن: سات اعضا کے بل سجدہ کرنا:
سات اعضا یہ ہیں: پیشانی اور اس کے ساتھ ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدموں کی انگلیاں۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: الجَبْهَةِ، وَأَشَارَ بِيدِهِ عَلَى أَنْفِهِ، وَالكَفَّيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ القَدَمَيْنِ». "ہمیں سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی - اور آپ نے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا-، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدموں کی انگلیاں"۔20
آٹھواں رکن: سجدہ سے سر اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا:
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا». ”نبی ﷺ جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہیں کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔“21
نواں رکن: تمام ارکان کو اطمینان کے ساتھ انجام دینا:
اور اطمینان سے مراد ٹھہراؤ ہے گرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو، اللہ کے رسول ﷺ نے غلط طریقے سے نماز پڑھنے والے شخص سے فرمایا: «حَتَّى تَطْمَئِنَّ». ”یہاں تک کہ تم مطمئن ہو جاؤ۔“22
دسواں اور گیارہواں رکن:
آخری تشہد اور اس کے لیے بیٹھنا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». " جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ دعا کہے: "تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی رحمت، سلامتی اور برکتیں ہوں، نیز ہم پر اور اللہ کے (دوسرے) نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔23
بارہواں رکن: آخری تشہد میں نبی ﷺ پر درود بھیجنا:
اس کے لیے صرف اتنا کہنا کافی ہے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ»، «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ»24 اور اس سے زیادہ کہنا سنت ہے۔
تیرہواں رکن: تمام ارکان کو بالترتیب انجام دینا:
کیوں کہ آپ ﷺ انہیں ترتیب کے ساتھ انجام دیتے تھے‘ اور آپ نے فرمایا: «صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي». ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“25 اور آپ نے غلط طریقے سے نماز پڑھنے والے کو اسی ترتیب سے نماز سکھائی تھی۔
چودہواں رکن: سلام پھیرنا:
اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: ««وَخِتَامُهَا التَّسْلِيمُ»، ”اور اس کا اختتام سلام کے ساتھ ہوتا ہے۔“ نیز آپ نے فرمایا: «وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ». ”نماز سے حلال ہونے کا ذریعہ سلام پھیرنا ہے۔“26
پانچواں مسئلہ: نماز کے واجبات:
نماز کے واجبات آٹھ ہیں:
1- تکبیر تحریمہ کے علاوہ ساری تکبیریں۔
2- رکوع میں ایک بار «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم» کہنا۔ یہ دعا تین بار کہنا سنت اور کمال کا ادنی درجہ اور دس مرتبہ کہنا اعلی درجہ ہے۔
3- امام اور منفرد دونوں کا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنا۔
4- رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونے کی حالت میں «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنا۔
5- سجدہ میں ایک بار «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہنا‘ اور تین بار کہنا مسنون ہے۔
6- دونوں سجدوں کے درمیان ایک بار «رَبِّ اغْفِرْ لِي» کہنا‘ اور تین بار کہنا مسنون ہے۔
7- پہلا تشہد؛ جس میں یہ دعا پڑھے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی رحمت، سلامتی اور برکتیں ہوں، نیز ہم پر اور اللہ کے (دوسرے) نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“27
8- پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا۔
چھٹا مسئلہ: نماز کی سنتیں:
سنت چھوڑنے کی وجہ سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ سنتیں دو قسم کی ہیں: قولی اور فعلی۔
پہلی قسم: قولی سنتیں:
1- دعائے ثنا، اس کے کئی الفاظ وارد ہوئے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالى جَدُّكَ، وَلا إِلٰهَ غَيْرُكَ» . "اے اللہ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے"۔28
2- سورۂ فاتحہ سے قبل اللہ تعالی سے پناہ مانگنا، یعنی «أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» کہنا۔
3- تلاوت سے پہلے بسملہ، یعنی ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کہنا۔
4- رکوع اور سجدہ میں ایک سے زائد بار تسبیح پڑھنا۔
5- ایک سے زائد بار «رَبِّ اغْفِرْ لِي» دونوں سجدوں کے درمیان «رَبِّ اغْفِرْ لِي» پڑھنا۔
6- یہ کہنا: «مَلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمَلْءَ الْأَرْضِ، وَمَلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمَلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»، «مَلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمَلْءَ الْأَرْضِ، وَمَلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمَلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» «رَبَّنَا ولَكَ الحَمْدُ» «رَبَّنَا ولَكَ الحَمْدُ». پڑھنے کے بعد29
7- سورۂ فاتحہ کے بعد (کسی سورہ) کی تلاوت کرنا۔
8- آخری تشہد میں یہ دعا پڑھنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ». یعنی ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے فتنہ سے"30۔ اور اس کے علاوہ آخری تشہد کی دیگر دعائیں پڑھنا۔
دوسری قسم: فعلی سنتیں:
1- چار جگہوں پر دونوں ہاتھ کانوں یا کندھوں کے برابر اٹھانا:
ا- تکبیر تحریمہ کے وقت۔
ب- رکوع میں جاتے وقت۔
ج- رکوع سے اٹھتے وقت-
د- تیسری رکعت کے لیے اٹھتے وقت۔
2- حالتِ قیام میں، رکوع سے پہلے ہو یا رکوع کے بعد، دایاں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینہ کے اوپر رکھنا۔
3- سجدہ کی جگہ پر نگاہ رکھنا-
4- سجدہ کے دوران بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھنا۔
5- سجدوں کے دوران رانوں کو پیٹ سے دور رکھنا۔
6- نماز کے تمام جلسہ میں (بائیں) پیر کو بچھائے رکھنا سوائے تین اور چار رکعتوں والی نماز کے آخری تشہد کے۔
7- تین یا چار رکعتوں والی نماز کے آخری تشہد میں تورک کرنا۔
ساتواں مسئلہ: نماز پڑھنے کا طریقہ:
1- نبی ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہو کر اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور ہتھیلی کا اندرونی حصہ قبلہ کی طرف رکھتے اور کہتے: «الله أكبر».
2- پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر سینے پر رکھتے۔
3- پھر دعائے استفتاح پڑھتے جو ہمیشہ ایک ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس سلسلہ میں جتنی دعائیں آپ سے ثابت ہیں وہ سب پڑھنا جائز ہے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالى جَدُّكَ، وَلا إِلٰهَ غَيْرُكَ». " اے اللہ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے"۔
4- پھر کہتے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ».
5- پھر سورۂ فاتحہ پڑھتے اور اس کو ختم کرنے کے بعد آمین کہتے۔
6- پھر جتنا میسر ہوتا اتنا قرآن کی تلاوت کرتے، فجر‘ مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اونچی آواز میں تلاوت کرتے‘ اور ان کے علاوہ میں سری تلاوت کرتے۔ آپ کی پہلی رکعت ہمیشہ دوسری رکعت سے لمبی ہوتی۔
7- پھر رفع الیدین کرتے جیسا کہ شروع میں رفع الیدین کیا تھا، پھر(الله أكبر) کہتے ہوئے رکوع میں جاتے پھر کھلی انگلیوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پیٹھ کو سیدھا اور سر کو اس کے بالکل برابر رکھتے نہ اوپر نہ نیچے، اور ایک مرتبہ یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» مرةً، " پاک ہے میرا رب، جو بڑی عظمت والا ہے"۔ اور تین مرتبہ کہنا کمال کا ادنی درجہ ہے جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
8- پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ۔“ کہتے ہوئے سر اٹھاتے، اور رفع الیدین کرتے جیسے رکوع میں جاتے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔
9- پھر سیدھے کھڑے ہو کر یہ دعا کہتے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، مَلْءَ السَّمَاءِ، وَمَلْءَ الْأَرْضِ، وَمَلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمَلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» . ”اے اللہ! ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہر قسم کی با برکت اور اچھی تعریف ہے، اتنی زیادہ کہ جس سے آسمان بھر جائیں، زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ سب بھر جائے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھی بھر جائے جو تو چاہے، اے تعریف اور بزرگی کے لائق! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی -جب کہ ہم سب تیرے ہی بندے ہیں- (یہ ہے کہ): اے اللہ! جو تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“31 آپ دیر تک اس حالت میں کھڑے رہتے۔
10- پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں جاتے، اور اس جگہ رفع الیدین نہیں کرتے، پیشانی، ناک، دونوں ہاتھوں، گھٹنوں اور پیروں کی انگلیوں کے بل سجدہ کرتے، ہاتھ اور پیر کی انگلیاں قبلہ کی طرف ہوتیں، پیٹھ سیدھی رکھتے، پیشانی اور ناک زمین پر رکھتے‘ کہنیوں کو اٹھا کر ہتھیلیوں کے بل سجدہ کرتے، بازؤں کو پہلؤں سے اور پیٹ کو رانوں سے دور رکھتے اور رانوں کو پنڈلیوں سے اٹھاکر رکھتے اور سجدہ کے دوران ایک مرتبہ کہتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى»، اور تین مرتبہ کہنا کمال کا ادنی درجہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر وارد دعائیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
11- پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے سر اٹھاتے، پھر بایاں پیر بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور دایاں پیر کھڑا رکھتے‘ پھر ہاتھوں کو رانوں پر رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي». ”اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کردے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر۔“32
12- پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں جاتے اور دوسری رکعت کو پہلی رکعت ہی کی طرح ادا کرتے۔
13- پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھاتے اور گھٹنوں اور رانوں کے سہارے تلووں کے بل کھڑے ہوتے۔
14- مکمل کھڑے ہو جانے کے بعد تلاوت شروع کرتے اور دوسری رکعت بھی پہلى رکعت کى طرح ادا کرتے۔
15- پھر بائیں پیر کو بچھا کر پہلے تشہد کے لیے بیٹھتے جیسے دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھتے۔
دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ کی شکل بنا کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» " ساری تعظیمات‘ سب دعائیں اور تمام پاکیزہ اقوال واعمال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔ آپ پہلے تشہد میں مختصر بیٹھتے۔
16- پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوتے اور تیسری اور چوتھی رکعتیں پہلی دو رکعتوں سے ہلکی ادا کرتے۔ ان میں بھی سورۂ فاتحہ پرھتے۔
17- پھر تورک کے ساتھ آخری تشہد میں بیٹھتے۔ تورک کا طریقہ یہ ہے کہ نمازى اپنے بائیں پیر کو بچھا کر دائیں پیر کے نیچے سے نکالے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھتے ہوئے زمین پر بیٹھے۔
18- پھر تشہد اول ہی کی طرح تشہد اخیر کی دعا پرھتے۔ اس تشہد میں درود بھی پڑھے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». " اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے"۔
19- اس تشہد میں جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنہ، اور مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اس کے بعد کتاب وسنت میں وارد دیگر کوئی بھی دعا کی جا سکتی ہے۔
20- پھر دائیں طرف یہ کہتے ہوئے سلام پھیرے: «السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»، اور اسی طرح بائیں طرف بھی سلام پھیرے۔ قبلہ رخ ہو کر سلام شروع کرتے اور پورے طور پر چہرہ کو گھماتے۔
آٹھواں مسئلہ: نماز کے دوران مکروہ چیزیں:
1- بلا ضرورت ادھر ادھر دیکھنا۔
2- آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا۔
3- بغیر ضرورت کے آنکھیں بند کرنا۔
4- سجدہ کے دوران بازؤں کو بچھانا۔
5- بلا وجہ ناک اور منہ کو ڈھانکنا۔
6- قضائے حاجت کی شدید حاجت کے وقت یا ایسے کھانے کی موجودگی میں نماز ادا کرنا جس کی اشتہا ہو۔
7- سجدہ کے دوران اگر ناک یا پیشانی پر کچھ لگ جائے تو اسے صاف کرنا، البتہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
8- قیام کی حالت میں بلا ضرورت دیوار وغیرہ پر ٹیک لگانا۔
نواں مسئلہ: نماز کو باطل کرنے والی چیزیں:
1- کھانا پینا۔
2- نماز کے باہر کی باتیں۔
3- ہنسی اور قہقہہ۔
4- جان بوجھ کر کسی رکن یا واجب کو ترک کرنا۔
5- جان بوجھ کر کسی رکن یا رکعت کا اضافہ کرنا۔
6- جان بوجھ کر امام سے پہلے سلام پھیرنا۔
7- نماز کے باہر کی غیر ضروری مسلسل حرکتیں۔
8- نماز کی کسی شرط کے منافی کوئی کام کرنا؛ جیسے وضو ٹوٹنا، جان بوجھ کر ستر کھولنا، بلا ضرورت جسم کو قبلہ سے زیادہ پھیر دینا اور نیت ختم کرنا۔
دسواں مسئلہ: سجدۂ سہو:
سہو کے معنی ہیں بھولنے کے، اور نماز میں نبی ﷺ سے بھی سہو ہوا ہے کیوں کہ بھولنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ آپ ﷺ سے سہو کا صدور اس لیے ہوا تاکہ امت محمدیہ پر نعمت الہی اور دین اسلام کی کی تکمیل ہو سکے، اور امت سہو کی صورت میں آپ ﷺ کے اس حکم کی پیروی کر سکے جو آپ نے مقرر فرمایا۔
سجدۂ سہو کے اسباب:
1- پہلی حالت:
نماز میں افعال یا اقوال کا اضافہ:
ا- افعال کا اضافہ: اگر یہ افعال نماز کی جنس سے ہوں تو سجدۂ سہو کیا جائے گا؛ جیسے بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہو جانا، کھڑا ہونے کے بجائے بیٹھ جانا یا زائد رکوع یا سجدہ کر لینا۔
ب- اقوال کا اضافہ: جیسے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنا۔
ایسا کرنے والے کے لیے سجدۂ سہو کرنا مستحب ہوگا۔
2- دوسری حالت:
نماز میں بھول کر کمی کرنا، اور یہ دو طرح سے ہو سکتا ہے:
ا- کوئی رکن ترک کر دینا: اگر یہ رکن تکبیر تحریمہ ہو تو نمازدرست ہی نہیں ہوگی‘ نتیجۃً سجدۂ سہو کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی دوسرا رکن ترک کرے اور دوسری رکعت کی قرات شروع کرنے سے پہلے یاد آ جائے تو دوبارہ اس رکن کو اور اس رکعت کے دیگر اعمال کو ادا کرنا واجب ہوگا۔
اور اگر دوسری رکعت کی قرات شروع کرنے کے بعد یاد آئے تو وہ رکعت باطل ہوگی اور اگلی رکعت اس کے قائم مقام ہوگی۔
ب- کوئی واجب ترک کرنا: جیسے تشہد اول بھول جائے یا رکوع کی تسبیح چھوٹ جائے تو اس حالت میں سجدۂ سہو کرے گا۔
3- تیسری حالت: شک:
جیسے اگر کسی کو ظہر میں شک ہو جائے کہ تین پڑھی یا چار تو اس حالت میں:
ا- اگر اسے ظن غالب حاصل ہو تو اس کے مطابق عمل کرے گا اور سجدۂ سہو کرے گا۔
ب- اگر ظن غالب نہ حاصل ہو سکے تو جس پریقین ہو (یعنی اقل مقدار) اس کا اعتبار کرے گا اور سجدۂ سہو کرے گا۔
اگر شک نماز کے بعد ہو یا وہ بہت زیادہ شکوک کا شکار ہوتا ہو تو اس طرح کے کسی شک پر توجہ نہ دے۔
فائدہ: اگر نماز میں کوئی کمی یا شک ہو اور ظن غالب حاصل نہ ہو پائے تو سجدۂ سہو سلام سے پہلے ہوگا۔ اور اگر کوئی زیادتی ہو یا شک ہونے کی صورت میں ظن غالب پر عمل کیا ہو تو سجدۂ سہو سلام کے بعد ہوگا۔ اس معاملے میں ان شاء اللہ تعالی وسعت ہے۔
گیارہواں مسئلہ: نماز کے ممنوعہ اوقات:
اصل یہ ہے کہ نماز ہر وقت جائز ہے، لیکن شریعت نے بعض اوقات میں نماز کو ممنوع قرار دیا ہے جوکہ حسب ذیل ہیں:
1- فجر کے بعد سے اس وقت تک جب دیکھنے میں سورج زمین سے ایک نیزہ کے بقدر بلند ہو جائے۔
2- جب سورج آسمان کے بیچوں بیچ ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے۔ اور یہ سب سے مختصر ممنوعہ وقت ہے۔
3- عصر کى نماز سے غروب شمس تک، اور یہ سب سے لمبا ممنوعہ وقت ہے۔
وہ نمازیں جو ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں:
1- فرض نمازوں کی قضا۔
2- اسباب والی نمازیں، جیسے تحیۃ المسجد، سنت طواف، گرہن اور جنازہ کی نمازیں۔
3- نماز فجر کے بعد سنتِ فجر کی قضا۔
بارہواں مسئلہ : نماز باجماعت:
مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے، تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجدوں میں باجماعت پنج وقتہ نمازیں ادا کرنا اہم اور عظیم ترین عبادتوں میں سے ہے‘ بلکہ یہ اسلام کا عظیم ترین شعیرہ ہے۔
1- نماز با جماعت کا حکم:
جن مردوں کے پاس کوئی عذر نہ ہو ان پر پنج وقتہ نمازیں باجماعت مسجدوں میں ادا کرنا فرضِ عین ہے۔ خواہ وہ حضر میں ہوں یا سفر میں۔ امن وامان کی حالت میں ہوں یا خوف کی۔
کتاب وسنت کے نصوص اور شروع سے آج تک ہر زمانے میں مسلمانوں کا عمل جماعت کے وجوب کی دلیل ہے۔
قرآنی دلائل میں سے ایک دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمۡ فَأَقَمۡتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَةٞ مِّنۡهُم مَّعَكَ...﴾
" جب تم ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو تو چاہئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو..." [النساء: 102]۔ یہ آیت جماعت کے وجوب کی تاکید پر دلالت کرتی ہے، کیوں کہ حالت خوف میں بھی مسلمانوں کو جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر جماعت واجب نہ ہوتی تو خوف اس کے لیے سب سے بڑا عذر ہوتا۔ بلکہ جماعت کے سلسلہ میں سستی کرنا منافقوں کی ایک مشہور ترین صفت ہے۔
سنت کے ذخیرہ میں بہت ساری حدیثیں موجود ہیں، جن میں سے ایک
یہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے أَنَّ رَجُلًا أَعْمَى قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَجِبْ». کہ ایک نابینا شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول، مجھے مسجد تک لانے والا کوئی نہیں، انہوں نے آپ سے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت دے دی، جب وہ جانے لگا تو آپ نے اسے واپس بلا کر پوچھا: ”کیا تمہیں اذان سنائی دیتی ہے؟“، کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اذان کا جواب دو اور مسجد میں حاضر ہو۔“33
یہ آدمی نابینا تھا اور اسے کافی دقتوں کا سامنا تھا پھر بھی آپ ﷺ نے اسے اذان کا جواب دینے اور مسجد میں آکر باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ نمازِ با جماعت کے وجوب کی دلیل ہے۔
2- جس چیز کے ملنے سے جماعت مل جاتی ہے:
اگر امام کے ساتھ ایک رکعت مل جائے تو جماعت مل جاتی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ». ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی یقینََا اس نے نماز پالی۔“34
3- جس چیز کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے:
رکوع کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے۔ چنانچہ جب مسبوق امام کو رکوع کی حالت میں پائے تو اس پر واجب ہے کہ کھڑے کھڑے تکبیر تحریمہ پڑھے پھر دوبارہ تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلا جائے۔ اور حالت قیام میں اگر تکبیر تحریمہ پر اکتفا کر لے تو کوئی حرج نہیں۔
4- جن اعذار کی وجہ سے جماعت چھوڑنا جائز ہے:
1- ایسا مرض جس کی وجہ سے جمعہ اور جماعت میں حاضری میں مشقت لا حق ہو۔
2- جب قضائے حاجت کی شدید ضرورت ہو۔ کیوں کہ اس حال میں نماز کے دوران خشوع وخضوع ممکن نہیں اور اس سے جسم کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔
3- جب انسان کو سخت بھوک لگی ہو یا کھانے کی اشتہا ہو اور کھانا حاضر ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے عادت یا جماعت چھوڑنے کا بہانا نہ بنا لے۔
4- جب نفس یا مال وغیرہ کے بارے میں یقینی خوف لاحق ہو۔
تیرہواں مسئلہ: صلاۃ الخوف (ڈر کی حالت میں پڑھی جانے والی نماز):
ہر جائز لڑائی جیسے کافروں، باغیوں اور محاربین کے خلاف لڑائی کے دوران صلاۃ الخوف مشروع ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿...إِنۡ خِفۡتُمۡ أَن يَفۡتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ...﴾
”... اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے... ۔“ [النساء: 101] ان پر ان باقی لوگوں کو بھی قیاس کیا جائے گا جن سے لڑائی کرنا جائز ہے۔
صلاۃ الخوف کی دو شرطیں ہیں:
1- دشمن ایسا ہو کہ اس سے جنگ کرنا جائز ہو۔
2- نماز کے دوران مسلمانوں پر دشمن کے حملہ کا ڈر ہو۔
صلاۃ الخوف کی ادائیگی کا طریقہ:
اس کے کئی طریقے ہیں، سب سے مشہور طریقہ کا ذکر سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے: أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَ النَّبِي ﷺ، وَطَائِفَةً وِجَاهَ العَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، وَصَفُّوا وِجَاهَ العَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ. ایک جماعت نے نبی ﷺ کے ساتھ صف بندی کی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے صف آرا ہوئی۔ جو جماعت آپ ﷺ کے ساتھ تھی، اسے آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے رہے اور صحابہ نے خود اپنی نماز پوری کی۔ پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف آرا ہوگئے۔ اب دوسری جماعت آئی، تو آپ ﷺ نے انہیں نماز کی باقی رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھے رہے اور صحابہ نے خود اپنی نماز پوری کی۔ پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔35
صلاۃ الخوف سے مستفاد باتیں:
1- اسلام میں نماز اور بالخصوص نماز با جماعت کی اہمیت، کیونکہ یہ ان نازک حالات میں بھی ساقط نہیں ہوتی۔
2- اس امت سے تنگی اور دشواری کو دور کر دیا گیا، شریعت اسلامیہ کی آسانی اور اس کا ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لیے مناسب ہونا۔
3- شریعت اسلامیہ کا کمال، جس نے ہر حالت کے لیے حسب حال مناسب حکم نافذ کیا ہے۔
چودہواں مسئلہ: جمعہ کی نماز:
۱- اس کا حکم:
نماز جمعہ ہر عاقل، بالغ اور مسلمان مرد پر فرض ہے جو مقیم اور غیر معذور ہو۔
کیونکہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ9﴾
”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف چل پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔“ [الجمعة: 9]۔
اور اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ». ”خبر دار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“36
۲- نماز جمعہ کی صحت کے شرائط:
1) وقت: اس کا وقت وہی ہے جو نماز ظہر کا ہے۔ چنانچہ نہ تو جمعہ کى نماز ظہر کى نماز کے وقت سے پہلے صحیح ہوگی اور نہ ہى اس کے بعد۔
2) جماعت کے ساتھ ادا کرنا، اور صحیح قول کے مطابق جماعت کی اقل تعداد تین ہے۔ چنانچہ نہ اکیلے شخص کی جمعہ صحیح ہوگی اور نہ دو لوگوں کی۔
3) نمازى ایسی دائمی رہائشوں میں رہنے والے ہوں جن میں عام طور سے لوگ رہتے ہیں، چاہے سمنٹ کے ہوں یا مٹی یا پتھر وغیرہ کے۔ اس لیے خیموں میں رہنے والے بادیہ نشینوں کی جمعہ نہیں ہوگی جو کسی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے بلکہ جہاں بھی انہیں مویشیوں کے لیے چارہ مل جاتا ہے وہیں منتقل ہو جاتے ہیں۔
4) جمعہ کى نماز سے پہلے دو خطبے ہوں؛ کیوں کہ نبی ﷺ ان دو خطبوں کی پابندی کرتے تھے۔
۳- جمعہ کے دونوں خطبوں کے ارکان:
1- اللہ تعالی کی حمد وثنا اور شہادتین۔
2- نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
3- تقوی کی وصیت کرنا۔
4- قرآن کریم کی کچھ آیتیں تلاوت کرنا۔
5- وعظ ونصیحت کرنا۔
۴- جمعہ کے دونوں خطبوں سے متعلق مستحب باتیں:
1- منبر پر خطبہ دینا۔
2- دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھنا۔ 3- مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کے لیے دعا کرنا۔
4- مختصر خطبہ دینا۔
5- منبر پر چڑھتے وقت خطیب کا لوگوں کو سلام عرض کرنا۔
۵- جمعہ کے دن کے مستحب اعمال:
1- مسواک کرنا۔
2- اگر میسر ہو تو خوشبو لگانا۔
3- جمعہ کے لیے جلدی نکلنا۔
4- پیدل مسجد جانا، اور سواری کا استعمال نہ کرنا۔
5- امام کے قریب بیٹھنا۔
6- دعا کرنا۔
7- سورۂ کہف کی تلاوت کرنا۔
8- نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
۶- جو جمعہ میں حاضر ہو اس کے لیے ممنوع چیزیں:
1- خطبہ کے دوران بات کرنا حرام ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: «إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: أَنصِتْ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغُوتَ». " جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ ”خاموش ہو جاؤ“ تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی"۔37 یعنی تم نے لغو بات کہی اور لغو سے مراد گناہ ہے۔
2- گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا مکروہ ہے، لیکن اگر امام ہو یا سامنے کی طرف کوئی خالی جگہ ہو اور وہاں پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہ ہو تو کوئي حرج نہیں۔
جمعہ کو پانا:
جو امام کے ساتھ دوسری رکعت کا رکوع پا جائے اس نے جمعہ پا لیا، اس لیے وہ دو رکعت پوری کرے گا۔ جسے دوسری رکعت کا رکوع نہیں ملا اس کی جمعہ فوت ہو گئی چناچہ وہ چار رکعت ظہر ادا کرے گا۔ اسی طرح اگر کسی کی جمعہ نیند وغیرہ کی وجہ سے فوت ہو جائے تو وہ بھی چار رکعت ظہر ادا کرے گا۔
پندرہواں مسئلہ: معذوروں کی نماز:
ا: مریض کی نماز:
۱- مریض پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نماز ادا کرے۔ جب تک ہوش باقی ہو تب تک نماز میں تاخیر کرنا جائز نہیں۔
۲- مریض کیسے نماز ادا کرے گا؟
1- اگر مریض بلا کسی نقصان یا مشقت کے کھڑا ہو کر نماز ادا کر سکے تو اس کے لیے کھڑا ہو کر نماز ادا کرنا اور رکوع وسجدہ کرنا ضروری ہے۔
2- اگر قیام کی استطاعت ہو لیکن رکوع یا سجدہ کرنے میں دقت ہو تو کھڑے ہو کر اشارہ سے رکوع کرے گا اور بیٹھے بیٹھے اشارہ سے سجدہ کرے گا۔
3- اگر کھڑا ہوکر نماز پڑھنے سے قاصر ہو تو بیٹھ کر ہی نماز ادا کرے گا۔ سنت یہ ہے کہ چار زانو بیٹھے اور اشارہ سے رکوع کرے۔ اگر ممکن ہو تو زمین پر سجدہ کرے ورنہ اشارہ ہی سے سجدہ کرے اور سجدہ کے دوران رکوع سے زیادہ جھکے۔
4- اگر بیٹھ کر بھی نماز ادا کرنے سے عاجز ہو تو قبلہ رخ ہو کر پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے۔ دائیں پہلو کے بل ادا کرنا افضل ہے اگر ممکن ہو، اس حالت میں رکوع وسجدہ اشارہ سے کرے گا۔
5- اگر پہلو کے بل بھی نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو تو پیٹھ کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے گا، پیر قبلہ کی طرف ہوں گے اور اشارہ سے رکوع وسجدہ کرے گا۔
6- اگر رکوع وسجدہ کے دوران جسم سے اشارہ کرنے میں دشواری ہو تو سر سے اشارہ کرے گا، اگر اس میں بھی مشقت ہو تو اشارہ بھی ساقط ہو جائے گا، اور نماز کے تمام اعمال دل سے ادا کرے گا، چنانچہ رکوع، سجدہ اور جلسہ کی نیت کر کے تمام اذکار کہتے ہوئے اپنی حالت ہی میں نماز ادا کرے گا۔
7- نماز کی جن جن شرطوں کی استطاعت ہو انہیں ادا کرے گا، جیسے قبلہ رخ ہونا، پانی سے وضو کرنا یا اگر یہ ممکن نہ ہو تو تیمم کرنا، نجاستوں کو دور کرنا اور اگر کسی نجاست سے پاکی حاصل کرنے میں کوئی دشواری ہو تو یہ شرط ساقط ہو جائے گی اور مریض اپنی حالت کے مطابق نماز ادا کرے گا البتہ نماز کو مؤخر نہیں کرے گا۔
8- سنت یہ ہے کہ مریض قیام اور رکوع کی حالت میں چار زانو بیٹھے اور دیگر حالتوں میں پیر بچھا کر بیٹھے۔
ب: مسافر کی نماز:
1- مسافر بھی معذور لوگوں میں سے ہے، اس کے لیے مشروع ہے کہ چار رکعت والی نماز کو قصر کر کے دو رکعت پڑھے۔ کیونکہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
﴿وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُواْ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ...﴾
" جب تم سفر میں جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناه نہیں..." [النساء: 101]۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: «خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ». " ہم نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے سفر پر نکلے، آپ دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے"۔38
قصر کی شروعات شہر کی آبادی سے نکلنے کے بعد ہوگی؛ کیوں کہ اللہ تعالی نے قصر کو اس کے لیے جائز قرار دیا ہے جو زمین میں سفر کرے، آبادی سے نکلنے سے پہلے انسان مسافر شمار نہیں ہوتا اور اس لیے بھی کہ نبی ﷺ (شہر سے) کوچ کرنے کے بعد ہی قصر کرتے تھے۔
2- جب مسافر تقریبا 80 کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کی نیت کرے تو اس کے لیے قصر کرنا جائز ہے۔
3- مسافر واپسی میں اپنے شہر میں داخل ہونے تک قصر کر سکتا ہے۔
4- جب مسافر کسی شہر میں پہنچے اور وہاں ٹھہرنا چاہے تو اس کی تین حالتیں ہو سکتی ہیں:
أ) چار دن سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت ہو؛ اس حالت میں پہلے دن ہی سے اسے پوری نماز پڑھنی ہے اور سفر کی کوئی رخصت اسے حاصل نہیں ہوگی۔
ب) چار دن یا اس سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو قصر کر سکتا ہے اور سفر کی دیگر رخصتیں بھی اسے حاصل ہوں گی۔
ج) اس کے رکنے کی کوئی مدت متعین نہ ہو، ہو سکتا ہے ایک دن ٹھہرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر جگہ موزوں ہو تو دس دن تک قیام کرے یا کسی علاج یا کسی سے ملنے کی غرض سے آیا ہو اور جب مقصد پورا ہو جائے تو واپس چلا جائے۔ ایسی حالت میں لوٹ آنے تک قصر کرنا اور سفر کی رخصتوں سے مستفید ہونا جائز ہے گرچہ چار دن سے بھی زیادہ رکے۔
5- جب مسافر کسی مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اس پر پوری نماز پڑھنا واجب ہوگا گرچہ اسے امام کے ساتھ صرف آخری تشہد ہی ملا ہو۔
6- جب مقیم کسی قصر کرنے والے مسافر کے پیچھے نماز پڑھے تو مقیم پر واجب ہے کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد نماز پوری کرے۔
سولہواں مسئلہ: عیدین کی نماز:
مسلمانوں کی عیدیں اللہ تعالی کی طرف سے مشروع کردہ ہیں‘ نہ کہ ان کی اپنی ایجاد کردہ۔ ان کی صرف دو ہی عیدیں ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔ بر خلاف کفار کی عیدوں اور بدعی عیدوں کے جنہیں اللہ تعالی نے نہ مشروع کیا ہے اور نہ ہی ان کا حکم دیا ہے بلکہ لوگوں نے خود سے انہیں ایجاد کر لیا ہے۔
عیدین کی نماز کا حکم:
عیدین کی نماز فرض کفایہ ہے، نبی ﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم ہمیشہ یہ نماز ادا کرتے رہے۔ یہ دین کی نشانیوں اور ظاہری شعائر میں سے ہے۔
نماز عیدین کا وقت: نماز عید کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج ایک نیزہ کے بقدر بلند ہوجائے، یعنی طلوع آفتاب کے تقریبا 15 منٹ کے بعد اور زوال آفتاب کے وقت ختم ہوتا ہے۔
نماز عیدین کا طریقہ:
1- پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد دعائے ثنا پڑھ کر چھ تکبیریں کہے، ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھائے اور تکبیروں کے درمیان حمد وثنا اور درود پڑھے‘ پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت شروع کرے۔
2- دوسری رکعت میں تکبیر انتقال کے بعد پانچ تکبیریں کہے‘ پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ کہہ کر تلاوت شروع کرے۔ پہلی رکعت میں سورۂ اعلی اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ پڑھنا مستحب ہے۔
3- سلام پھیرنے کے بعد امام منبر پر چڑھے، خطبۂ جمعہ کی طرح دو خطبے دے اور دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے۔
عید کی سنتیں:
ا- غسل۔
ب- صفائی ستھرائی اور خوشبو کا استعمال۔
ج- عید الفطر کے لیے نکلنے سے پہلے کھانا اور عید الاضحی میں اگر قربانی کا جانور ہو تو نماز کے بعد اس کا گوشت کھانا۔
د- پیدل چل کر جانا۔
ہ- ایک راستہ سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔
و- مقتدی کے لیے مستحب ہے کہ عید گاہ جلدی پہنچے نہ کہ امام کے لئے۔
تکبیرکہنا:
دونوں عید کی راتوں، ذو الحجہ کے دس دنوں اور تشریق کے دنوں (11، 12، 13 ذو الحجہ) میں تکبیر کہنا سنت ہے، اور تکبیر کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: تکبیر مطلق: جس کا کوئی متعین وقت نہیں۔
1: عید الفطر میں یہ تکبیر عید کی رات کو غروب آفتاب سے شروع اور نماز عید کے شروع ہونے پر ختم ہوتی ہے۔
2: اور عید الاضحی میں ذو الحجہ کی پہلی رات کو غروب آفتاب سے شروع ہوتی اور ایام تشریق کے آخری دن غروب آفتاب پر ختم ہوتی ہے۔
دوسری قسم: تکبیر مقید: یہ تکبیر فرض نمازوں کے بعد کہی جاتی ہے۔
1: غیر محرِم یہ تکبیر یوم عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن کی عصر تک کہے گا۔
2: اور محرمِ کے لیے اس تکبیر کا وقت عید کے دن کی ظہر کی نماز سے ایام تشریق کے آخری دن کی عصر تک ہے۔
سترہواں مسئلہ: نمازِ کسوف (گرہن کی نماز):
خسوف اور کسوف کے معنی:
خسوف: رات کے وقت چاند کا کلی یا جزوی طور پر بے نور ہونا۔
اور کسوف: دن میں سورج کی پوری یا کچھ روشنی کا ختم ہونا۔
نماز کسوف کا حکم:
نماز کسوف سنت مؤکدہ ہے، اس کی دلیل نبی ﷺ کا عمل ہے، جب آپ کے عہد میں سورج گہن ہوا تو آپ نے نماز کسوف ادا کی۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ نے اس کا حکم بھی دیا، نیز اس کی مشروعیت پر علما کا اجماع ہے۔
نماز کسوف کا وقت:
گہن لگنے سے لے کر روشن ہونے یعنی گہن دور ہونے تک۔
صلاۃ کسوف کا طریقہ:
یہ دو رکعت والی نماز ہے جس میں بلند آواز سے تلاوت کی جاتی ہے، اور اس کا طریقہ حسب ذیل ہے:
ا- تکبیر تحریمہ، ثنا، اعوذ باللہ، بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ کے بعد لمبی لمبی تلاوت کرے۔
ب- پھر لمبا رکوع کرے۔
ج- رکوع سے اٹھ کر ”سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ“ کہنے کے بعد پھر سورۂ فاتحہ پڑھے اور اس بار کی تلاوت پہلی بار سے مختصر ہو۔
د- پھر لمبا رکوع کرے لیکن پہلے سے کم۔
ہ- پھر رکوع سے اٹھ کر ”سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ“ کہے۔
و- پھر دو لمبے سجدے کرے۔
ز- پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اور دوسری رکعت پہلی رکعت ہی کی طرح پڑھے لیکن اس میں طول پہلى رکعت کى بہ نسبت کم ہو۔
کسوف کی نماز کی سنتیں:
ا) ”الصلاۃ جامعۃ“ کہہ کر اس کا اعلان کیا جائے۔
ب) جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔
ج) قیام، رکوع اور سجود کو لمبا کرے۔
د) دوسری رکعت پہلی سے مختصر ہو۔
ہ) نماز کے بعد وعظ ونصیحت کی جائے‘ نیکیوں پر ابھارا جائے اور برائیوں سے روکا جائے۔
و) بکثرت دعا، گریہ وزاری، استغفار اور صدقہ کیا جا ئے۔
اٹھارہواں مسئلہ- نماز استسقا:
1) استسقا کے معنی ہیں قحط سالی میں اللہ تعالی سے بارش طلب کرنے کے۔
نماز استسقا کی مشروعیت کا وقت:
جب سوکھا پڑ جائے، بارش رک جائے اور اس کی وجہ سے نقصان پہنچے تو نماز استسقا پڑھنا مشروع ہے، ایسی حالت میں لوگوں کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گریہ وزاری کرنی چاہیے اور ہر قسم کی انکساری وعاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بارش کی دعا کرنی چاہیے:
ا- کبھی نماز با جماعت میں یا کبھی اکیلے۔
ب- کبھی خطیب خطبہ جمعہ میں دعا کریں اور مسلمان ان کی دعا پر آمین کہیں۔
ج- کبھی عام اوقات میں بغیر نماز اور بغیر خطبہ کے بھی دعا کرنی چاہیے۔
نماز استسقا کا حکم:
جب سبب موجود ہو تو نماز استسقا پڑھنا سنت مؤکدہ ہے کیوں کہ نبی ﷺ نے یہ نماز پڑھی ہے جیسا کہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: «خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى الْمُصَلَّى، فَاسْتَسْقَى، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ». " نبی ﷺ استسقا کے ارادہ سے مصلی (مسجد کے علاوہ دیگر جائے نماز) پہنچے، قبلہ رخ ہوئے، چادر پلٹی اور دو رکعت نماز ادا کی۔"39
نماز استسقا کی ادائیگی کا طریقہ:
جائے ادائیگی کے اعتبار سے نماز استسقا نماز عید ہی کی طرح ہے۔ چناں چہ نماز استسقا مصلی (عید گاہ یا اس کی طرح کھلی جگہ) میں پڑھنا مستحب ہے اور اس کے احکام نماز عید کے احکام سے مشابہت رکھتے ہیں، اس کی بھی دو رکعتیں ہیں جو خطبہ سے پہلے پڑھی جائیں گی، اونچی آواز میں قرات کی جائے گی اور پہلی اور دوسری رکعت میں تلاوت سے پہلے زائد تکبیریں کہی جائیں گی۔ جیسا کہ ان باتوں کا ذکر نماز عیدین کے بیان میں گزر چکا۔ اس میں ایک ہی خطبہ ہوگا۔
انیسواں مسئلہ: جنازے کے احکام:
پہلا مسئلہ: جاں کنی میں مبتلا شخص کے پاس آنے والوں سے متعلق احکام:
1- جو شخص جاں کنی میں مبتلا شخص کے پاس آئے اسے چاہیے کہ اس شخص کو (لا الہ الا اللہ) کی تلقین کرے۔
2- اسے قبلہ رخ کرنا سنت ہے۔
3- (وفات کے بعد) اس کی آنکھیں بند کر دینا مستحب ہے۔
4- وفات کے بعد میت کو کسی کپڑے سے ڈھانپ دینا سنت ہے۔
5- اس کی تجہیز وتکفین میں جلدی کرنی چاہیے۔
6- اس کے قرضوں کی ادائیگی میں بھی جلدی کرنی چاہیے۔
7- میت کو غسل دے کر کفنایا جائے گا اور یہ دونوں فرض کفایہ ہیں۔
۲) نماز جنازہ کے احکام:
نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔
اس کی شرطیں:
1) قبلہ کی جانب رخ کرنا۔
2) شرم گاہ کی ستر پوشی۔
3) نجاست سے اجتناب۔
4) نماز جنازہ پڑھنے والے اور میت دونوں کا پاک ہونا۔
5) نماز جنازہ پڑھنے والے اور میت دونوں کا مسلمان ہونا۔
6- اگر شہر میں ہو تو جنازہ میں حاضر ہونا۔
7) مکلف ہونا۔
نماز جنازہ کے ارکان:
1) قیام۔
2) چار تکبیریں۔
3) سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
4) نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
5) میت کے لیے دعا کرنا۔
6) ترتیب۔
7) سلام پھیرنا۔
نماز جنازہ کی سنتیں:
1) ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا۔
2) اعوذ باللہ پڑھنا۔
3) اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا کرنا۔
4) پست آواز میں تلاوت کرنا۔
5) چوتھی تکبیر کے بعد اور سلام سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہرنا۔
6) داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھنا۔
7) سلام پھیرتے وقت دائیں طرف مڑنا۔
نماز جنازہ کا طریقہ:
امام اور منفرد مرد کے سینے کے پاس اور عورت کے درمیان میں کھڑا ہوگا، تکبیر تحریمہ کہے گا، اعوذ باللہ پڑھے گا، دعائے ثنا نہیں پڑھے گا اور بسم اللہ کہہ کر سورۂ فاتحہ پڑھے گا۔
پھر تکبیر کہہ کر درود پڑھے گا اور تکبیر کہنے کے بعد میت کے لیے سنت سے ثابت کوئی دعا پڑھے گا۔ جیسا کہ آپ ﷺ کی یہ دعا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِيمَانِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِسْلَامِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ». " اے اللہ! ہمارے زندوں اور مُردوں اور ہمارے چھوٹوں اور بڑوں اور ہمارے مردوں اور عورتوں اور ہمارے حاضر وغائب کو بخش دے، اے اللہ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے، اسے ایمان پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو تو وفات دے، اسے اسلام پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔"40
آپ ﷺ یہ دعا بھی پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مَدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ». ”اے اللہ ! اسے بخش دے‘ اس پر رحم فرما‘ اسے عافیت دے‘ اس سے درگزر فرما‘ اس کی مہمان نوازی اچھی کر‘ اس کی قبر کو فراخ کر دے اور اس ( کے گناہ) دھودے پانی، برف اور اولوں کے ساتھ اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیا‘ اسے بدلے میں ایسا گھر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو‘ ایسے گھر والے جو اس کے گھر والوں سے زیادہ بہتر ہوں‘ ایسی بیوی دے جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو‘ اسے جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب اور آگ کے عذاب سے بچا۔“41 پھر تکبیر کہہ کر تھوڑی دیر ٹھہرے اور دائیں جانب ایک سلام پھیرے۔
تیسرا مبحث: زکوۃ:
1- زکوۃ کی تعریف اور اس کا مقام ومرتبہ:
زکوۃ کے لغوی معنی ہیں بڑھنے اور زیادہ ہونے کے۔
شریعت کی اصطلاح میں زکاۃ متعینہ مالوں میں مخصوص لوگوں کے لیے واجب شرعی حق کو کہتے ہیں۔
یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ زکوۃ اتنی اہم عبادت ہے کہ اسے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نماز کے ساتھ بیاسی جگہوں پر ذکر کیا ہے، جو اس کی عظمت شان کو ظاہر کرتا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ...﴾
" نماز کی پابندی کرو اور زکوٰة ادا کرو..." [البقرۃ: 43]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّـهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّـهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ». ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بیشک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“42
اس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جو زکوۃ کے وجوب کا انکار کرے وہ کافر ہے اور جو زکوۃ دینے سے انکار کرے اس سے جنگ کی جائے گی۔
2- زکوۃ کے وجوب کی شرطیں:
ا) آزادی: اس لیے غلام پر زکوۃ واجب نہیں؛ کیوں کہ اس کا ذاتی کوئی مال نہیں ہوتا اور جو اس کے پاس ہوتا ہے وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوتی ہے، لہذا اس کی زکاۃ اس کے مالک کے ذمہ ہوگی۔
ب) اسلام: کافر پر واجب نہیں؛ کیوں کہ یہ عبادت واطاعت ہے اور کافر کا عبادت سے کوئی سروکار نہیں۔
ج) نصاب کی ملکیت: نصاب سے کم میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی، نصاب مال کی ایک متعین مقدار کا نام ہے۔
د) مکمل ملکیت: انسان اس مال کا مکمل مالک ہو اس لیے ایسے مال میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی جس کی ملکیت پوری طرح ثابت نہ ہوئی ہو جیسے کہ مکاتبت کا قرض۔
ہ) مال پرایک سال کی مدت کا گزرنا: عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا روایت ہے: «لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ». ''کسی مال میں اس وقت تک زکاۃ نہیں جب تک اس پر ایک سال نہ گزر جائے۔''43
3- وہ اموال جن میں زکوۃ واجب ہے:
1- چوپایے،
یعنی اونٹ، گاۓ، بھیڑ اور بکری۔ ان میں زکوۃ دو شرطوں کے ساتھ واجب ہے:
1- انہیں ان کے دودھ اور افزائش نسل کے لیے رکھا جائے، کام کے لیے نہیں۔
2- یہ جانور چرنے والے ہوں۔ اس لیے ان چوپایوں میں زکوۃ واجب نہیں جنہیں خرید کر یا کہیں سے اکھٹا کرکے چارہ دیا جائے۔ اور ان جانوروں میں بھی کوئی زکوۃ نہیں جو پورے سال یا سال کے اکثر دنوں میں نہیں چرتے۔
4- چوپایوں کا نصاب:
1- اونٹوں کی زکوۃ:
شروط مکمل ہونے کے بعد ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری واجب ہے، دس اونٹ میں دو بکریاں، پندرہ میں تین اور بیس میں چار۔ جیسا کہ سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ جب اونٹ پچیس ہو جائیں تو ان میں ایک بنت مخاض واجب ہوگی۔ بنت مخاض: وہ اونٹنی جو دوسرے سال میں داخل ہوگئی ہو، اگر بنت مخاض موجود نہ ہو تو ابن لبون کافی ہوگا۔
جب اونٹوں کی تعداد چھتیس کو پہنچ جائے تو ان میں ایک بنت لبون واجب ہوگی۔ بنت لبون: وہ اونٹنی ہے جس کے دو سال پورے ہو گئے ہوں۔
اگر انٹوں کی تعداد چھیالیس ہو جائے تو ان میں ایک حِقّہ واجب ہوگی۔ حقہ:وہ اونٹنی ہے جس نے تین سال پورے کر لیے ہوں۔
اگر اونٹوں کی تعداد اکسٹھ ہو جائے تو ان میں ایک جذعہ واجب ہوگی۔ جذعہ: وہ اونٹنی جس نے چار سال پورے کر لیے ہوں۔
جب اونٹوں کی مجموعی تعداد چھہتر کو پہنچ جائے تو ان میں دو بنت لبون واجب ہوگی۔
جب اونٹوں کی تعداد اکیانوے ہو جائے تو ان میں دو حقہ واجب ہوگی۔
پھر جب اونٹوں کی تعداد ایک سو بیس سے ایک زیادہ ہو جائے تو ان میں تین بنت لبون واجب ہوگی، اور اس کے بعد ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہوگی۔
2- گائے کی زکوۃ:
شروط مکمل ہونے کے بعد جب گائے کی تعداد تیس کو پہنچ جائے تو ان میں ایک تبیع یا تبیعہ واجب ہوگی۔ تبیع یا تبیعہ اس بچھیا یا بچھڑے کو کہتے ہیں جس کی عمر ایک سال ہو چکی ہو اور دوسرا سال شروع ہو چکا ہو۔
اگر گائے کی تعداد تیس سے کم ہو تو ان میں زکاۃ نہیں ہے۔
جب ان کی تعداد چالیس کو پہنچ جائے تو ان میں ایک مسنۃ واجب ہوگی، مسنہ: جس کے دو سال پورے ہو گئے ہوں۔
جب ان کی تعداد چالیس سے زیادہ ہو جائے تو ہر تیس میں ایک تبیع یا تبیعہ اور ہر چالیس میں ایک مسنہ واجب ہوگی۔
3- بھیڑ اور بکری کی زکوۃ:
جب بھیڑ یا بکری کی تعداد چالیس ہو جائے تو ان میں ایک بکری ہے‘ یا ایک سال سے کم عمر کا دنبہ۔
چالیس سے کم میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ جب بھیڑ یا بکری ایک سو اکیس ہو جائیں تو ان میں دو بکریاں واجب ہوں گی۔ جب دو سو ایک کی تعداد کو پہنچ جائیں تو ان میں تین بکریاں واجب ہوں گی۔
اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری واجب ہوگی جیسے چار سو میں چار بکریاں۔
2: زمینی پیدوار کی زکوۃ:
زمینی پیداوار کی دو قسمیں ہیں:
1- اناج اور پھل۔
2- معدنیات۔
پہلی قسم: اناج اور پھل۔
اناج؛ جیسے گیہوں، جو اور چاول میں زکوۃ واجب ہے۔ اور پھلوں میں؛ جیسے کھجور اور کشمش، ان کے علاوہ دوسرے پودوں میں زکوۃ واجب نہیں ہے جیسے ساگ سبزی وغیرہ۔
اناجوں اور پھلوں میں زکوۃ کے وجوب کی شرطیں:
1- ان کی ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہو: اس لیے ایسے پھلوں اور سبزیوں میں زکوۃ واجب نہیں جن کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہوتی ہو۔
2- وہ ناپی جانے والی چیزیں ہوں: اس لیے ان چیزوں میں زکوۃ واجب نہیں جو گن کر یا وزن کرکے بیچی جاتی ہیں جیسے تربوز، پیاز اور انار وغیرہ۔
3- نصاب کو پہنچ جائیں: جو کہ پانچ وسق ہے، اس سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔
4- زکوۃ کے وجوب کے وقت نصاب کو پہنچا ہوا یہ مال ملکیت میں ہو۔
لہذا اگر کوئی وجوبِ زکوۃ کے بعد اس کا مالک بنے جیسے فصل کی کٹائی کے بعد اسے خریدے یا اسے ہدیہ کیا جائے تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔
اناجوں اور پھلوں میں زکوۃ کے وجوب کا وقت:
غلّوں اور پھلوں میں زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب ان کی پختگی شروع ہو جائے۔ پختگی کی علامت مندرجۂ ذیل ہے:
ا- اناج میں: جب اس کا دانہ سخت ہو جائے اور خشک ومضبوط بن جائے۔
2- کھجور مبں: جب وہ لال یا پیلی ہو جائے۔
ج- انگور میں: جب وہ نرم اور میٹھا ہو جائے۔
اناجوں اور پھلوں کا نصاب:
اناجوں اور پھلوں کا نصاب پانچ وسق ہے۔ ایک وسق ساٹھ صاع ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کا نصاب تین سو صاع نبوی ہوگا، اور کلیو گرام کے حساب سے تقریبا 900 کیلو ہوگا۔
اناجوں اور پھلوں میں واجب زکوۃ کی مقدار:
جس فصل کی سینچائی بلا اخراجات اور مشقت کے ہوئی ہو اس میں دسواں حصہ واجب ہوگا، مثلا جس کی سینچائی بارش یا چشمہ کے پانی سے ہوتی ہو۔
اور جس کی سینچائی اخراجات اور محنت سے ہوئی ہو مثلا جس کی سینچائی کنوے یا نہر سے جدید آلات یا جانوروں کے ذریعہ کی گئی ہو تو اس میں بیسواں حصہ واجب ہوگا۔
دوسری قسم: معدنیات:
زمینی پیداوار کی ایک قسم معدنیات ہے۔ زمین سے اس کی جنس کے علاوہ جو چیزیں نکالی جاتی ہیں انہیں معدنیات کہا جاتا ہے جیسے سونا، چاندی، لوہا اور جواہرات۔
ان میں زکوۃ کے وجوب کا وقت:
جب انہیں اپنے قبضہ اور ملکیت میں لے لے تو فورا ان کی زکوۃ نکالے، ان میں سال کے گزرنے کی شرط نہیں ہے۔ ان کا نصاب وہی ہے جو سونے اور چاندی کا ہے اور ان کی قیمت کا چالیسواں حصہ بطور زکوۃ نکالا جائے گا۔
تیسرا مسئلہ: زروں کی زکوۃ:
زر سے مراد: سونا، چاندی اور پیسہ ہے، اور ان کی زکوۃ واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ 34﴾
" اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے"۔ [التوبہ: 34]
حدیث رسول ﷺ ہے: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي فِيهَا حَقَّهَا؛ إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ». " جو شخص سونے اور چاندی کے واجب حقوق کو ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے لئے آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی"۔44
سونے اور چاندی میں بالاجماع زکوۃ واجب ہے اور پیسوں کا وہی حکم ہے جو سونے چاندی کا ہے، کیونکہ یہ نقدی معاملات میں سونے چاندی کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔
زروں میں زکوۃ کا نصاب، اور واجب زکوۃ کی مقدار:
اس کا نصاب سونے یا چاندی کا نصاب ہے کیونکہ یہ ان کی جگہ قیمت کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، جب ان میں سے کسی کا نصاب پورا ہو جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں عموما نقدی اوراق کے نصاب کی تعیین چاندی کے اعتبار سے ہوتی ہے کیونکہ وہ سونے سے سستی ہوتی ہے لہذا اس کا نصاب سونے سے پہلے پورا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جب ایک مسلمان (595) گرام چاندی کی قیمت کا مالک بن جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں زکوۃ واجب ہو جائے گی۔ چاندی کی قیمت بدلتی رہتی ہے، اس لیے جس کے پاس تھوڑا سا مال ہو اور اسے پتہ نہ ہو کہ نصاب کو پہنچا یا نہیں تو وہ چاندی کے تاجروں سے ایک گرام چاندی کی قیمت پوچھے پھر اسے (595) میں ضرب دے، جو نتیجہ ہوگا وہی نصاب ہے۔
فائدہ: جب کوئی اپنے مال کی زکوۃ نکالنا چاہے تو نصاب کو چالیس میں تقسیم کرے، جو نتیجہ ہوگا وہی (اس مال میں زکوۃ کی) واجب مقدار ہوگی۔
چوتھا مسئلہ: سامانِ تجارت کی زکوۃ:
یہ وہ سامان ہیں جو منافع کی غرض سے خرید وفروخت کے لئے تیار کیے گئے ہوں۔ سامان تجارت میں پیسوں کے علاوہ سارے مال داخل ہیں؛ جیسے گاڑیاں، کپڑے، لوہا، لکڑی وغیرہ دیگر سامان جو تجارت کے لئے خاص ہوں۔
سامان تجارت میں زکوۃ کے وجوب کی شرطیں:
1- اپنی محنت سے اس کا مالک بنا ہو جیسے خرید وفروخت، کرایہ اور دیگر اسباب معاش سے۔
2- تجارت کی نیت سے اس کا مالک ہونا: یعنی اس سے کمانے کی نیت ہو، کیوں کہ اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور تجارت ایک عمل ہے، اس لیے تمام اعمال کی طرح اس میں بھی نیت کا شامل ہونا واجب ہے۔
3- اس کی قیمت سونے یا چاندی کے اعتبار سے نصاب کو پہنچ جائے۔
4- حولان حول یعنی ایک سال کا گزر جائے۔
سامان تجارت کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ:
سال پورا ہونے پر سامان کی قیمت سونے یا چاندی کے اعتبار سے طے کی جائے گی۔ اگر سامان سونے یا چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے تو اس کی قیمت کا چالیسواں حصہ نکالا جائے گا۔
پانچواں مسئلہ: صدقۂ فطر کا بیان:
یہ وہ صدقہ ہے جو ماہ رمضان کے اختتام پر واجب ہوتا ہے۔ صدقۂ فطر دوسری ہجری میں فرض کیا گیا۔
اس کا حکم:
صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر واجب ہے جس کے پاس عید کے دن اور رات اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے کافی غذا سے زیادہ کھانے پینے کی چیز موجود ہو۔ اور یہ ہر مسلم مرد، عورت، چھوٹے، بڑے، آزاد وغلام پر واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے: «فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنثَى، وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، مِنَ الْمُسْلِمِينَ». " رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ الفطر مسلمان غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے (سب پر) فرض قرار دی ہے"۔45 فرض کرنے کا معنى واجب اور لازم کیا ہے۔
صدقۂ فطر کی مشروعیت کی حکمت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: «فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ؛ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ». ''اللہ کے رسول ﷺ نے روزہ دار کو لغو باتوں اور فحش گوئی سے پاک کرنے اور مساکین کے کھانے کا انتظام کرنے کی غرض سے صدقۂ فطر فرض کیا''۔46
صدقۂ فطر کے وجوب اور اسے ادا کرنے کا وقت:
صدقۂ فطر عید کی رات سورج ڈوبنے کے بعد واجب ہوتا ہے۔ اسے عید کے دن عید گاہ جانے سے پہلے ادا کرنا مستحب ہے اور عید کی نماز کے بعد ادا کرنا جائز نہیں۔ اگر عید کی نماز کے بعد ادا کرے تو اسے اس کی قضا دینی ہوگی اور تاخیر کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا۔
البتہ عید کے ایک یا دو دن پہلے ادا کرنا جائز ہے۔
صدقۂ فطر کی مقدار اور کونسی چیز صدقۂ فطر کے طور پر نکالی جائے:
اہل بلد کے عام کھانے میں سے ایک صاع؛ جیسے چاول، کھجور اور جو وغیرہ۔ ایک صاع تقریبا تین کیلو ہوتا ہے۔ اس کی قیمت ادا کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
زکوۃ کی ادائیگی اور اس کے مصارف:
زکوۃ نکالنے کا وقت:
جیسے ہی زکوۃ کے وجوب کا وقت ہوجائے فورا اسے ادا کرنا واجب ہے۔ بلا ضرورت اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں؛ ضرورت جیسے مال دور کسی دوسرے شہر میں ہو اور وہاں کوئی وکیل نہ مل سکے۔
زکوۃ نکالنے کی جگہ:
افضل یہ ہے کہ زکوۃ اسی جگہ نکالی جائے جہاں مال موجود ہو۔ لیکن بعض حالتوں میں اسے دوسرے علاقوں میں بھیجنا بھی جائز ہے:
ا- جب اپنے ملک میں کوئی محتاج نہ مل سکے۔
2- دوسرے ملک میں کوئی قریبی محتاج رہتا ہو۔
ج- جب کوئی شرعی مصلحت موجود ہو جو اس زکاۃ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی متقاضی ہو جیسے مسلمانوں کے سیلاب زدہ اور بھکمری والے علاقوں میں بھیجنا۔
عمومی دلائل کی بنا پر بچہ اور پاگل کے مال میں بھی زکوۃ واجب ہے اور اسے نکالنے کی ذمہ داری ان کے ولی کی ہے۔ بلا نیت کے زکوۃ نکالنا جائز نہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ». " تمام اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے"۔47
زکوۃ کے مستحقین:
زکوۃ کے حقدار آٹھ قسم کے لوگ ہیں:
پہلی قسم: فقراء:
یہ وہ لوگ ہیں جن کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں؛ جیسے گھر، کھانا اور کپڑا۔ انہیں اس قدر زکوۃ دی جائے گی کہ ان کو اور ان کے اہل خانہ کو ایک سال کے لیے کافی ہو جائے۔
دوسری قسم: مساکین:
جن کی اکثر ضرورت پوری ہوتی ہے لیکن مکمل نہیں، جیسے کسی کو تنخواہ ملتی ہو لیکن وہ پورے سال کے لیے کافی نہ ہو۔
انہیں اس قدر زکوۃ دی جائے گی کہ ایک سال تک ان کی اور ان کے اہل خانہ کی باقی ضرورت پوری ہو جائے۔
تیسری قسم: زکوۃ وصول کرنے والے:
جنہیں حاکم وقت زکوۃ اکٹھا کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے یا جو زکوۃ کی حفاظت کرتے ہیں یا اسے محتاجوں تک پہنچاتے ہیں۔
اگر حکومت کی جانب سے ان کی کوئی متعین تنخواہ جاری نہ ہو تو انہیں ان کے کام کے بقدر زکوۃ دی جائے گی۔
چوتھی قسم: وہ لوگ جن کے دلوں کو (اسلام کی طرف) مائل کیا جا رہا ہو:
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عطایا دیے جائیں تو ان کے اسلام لانے، ان کے ایمان کی مضبوطی، یا ان کے شر سے مسلمانوں کی حفاظت کی امید کی جائے۔
انہیں زکوٰۃ کی جو مقدار دی جائے گی، وہ اتنی ہوگی جس سے ان کے دلوں کو مائل کرنا ممکن ہو۔
پانچویں قسم: گردن:
یعنی غلاموں اور مکاتبین کو آزاد کرنا۔
مکاتب: اس غلام کو کہتے ہیں جس نے خود کو اپنے مالک سے خرید لیا ہو۔ اس میں جنگوں میں قید کیے جانے والے مسلمانوں کو فدیہ کے ذریعہ آزاد کرانا بھی شامل ہے۔
چھٹی قسم: قرض دار، اور ان کی دو قسمیں ہیں:
پہلی: جس نے اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے قرض لیا ہو اور ادا نہ کر سکے۔ تو اسے اس قدر دیا جائے گا کہ اس کا قرض ادا ہو جائے۔
دوسری: جس نے لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کی غرض سے قرض لیا ہو۔ اسے اس قدر زکوۃ دی جائے گی کہ اس کا قرض ادا ہو جائے گرچہ وہ مالدار ہو۔
ساتویں قسم: اللہ کی راہ میں:
یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے۔
ان کے لیے زکوۃ کی مقدار: جس سے جہاد کی ضروریات پوری ہو جائیں؛ جیسے سواری، ہتھیار اور کھانا وغیرہ۔
آٹھویں قسم: ابن سبیل:
یہ اس مسافر کو کہا جاتا ہے جس کا زاد راہ ختم ہو گیا ہو یا چوری ہو گیا ہو اور اپنے شہر تک پہنچنے کے لیے اس کے پاس کافی مال نہ ہو۔
ان کے لیے زکوۃ کی مقدار: اسے اس قدر دیا جائے گا کہ اپنے شہر تک پہنچ جائے گرچہ وہ اپنے شہر میں مالدار ہو۔
چوتھا مبحث: روزہ:
روزہ یہ ہے:
اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طور پر طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ توڑنے والی چیزوں سے باز رہنا۔
یہ اسلام کا ایک رکن ہے جو اللہ تعالی کی جانب سے فرض کردہ ہے۔ دین کے ان امور میں سے ہے جو قطعی اور بنیادی طور پر معلوم ہیں۔ اس کی فرضیت کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُ...﴾
" ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے..." [البقرۃ : 185]
صیام رمضان کے وجوب کی شرطیں:
1- اسلام: کافر کی طرف سے روزہ درست نہیں ہوگا۔
2- بلوغت: نا بالغ پر واجب نہیں۔ البتہ تمیز کی عمر والے بچے کا روزہ درست ہے اور وہ اس کے حق میں نفل ہوگا۔
3- عقل: پاگل پر نہ روزہ واجب ہے اور نہ اس کا روزہ درست ہوگا؛ کیوں کہ وہ نیت نہیں کر سکتا۔
4- روزہ رکھنے کی قدرت، اس لیے ایسا بیمار پر جو روزے سے عاجز ہو اور مسافر پر روزہ واجب نہیں۔ لیکن عذر یعنى بیمارى اور سفر ختم ہونے کے بعد دونوں قضا کریں گے۔ عورت کے روزہ کی صحت کے لیے شرط ہے کہ حیض اور نفاس کا خون رک جائے۔
ماہ رمضان کا آغاز دو میں سے کسی ایک چیز سے ثابت ہوتا ہے:
۱- ماہ رمضان کے چاند کا نظر آنا۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ». ”چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔“48
ب- ماہ شعبان کے تیس دن پورے کرنا، جب بادل یا گرد وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: «فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ؛ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاثِينَ يَوْمًا». ”اگر چاند دیکھنا ممکن نہ ہو تو شعبان کے تیس دنوں کی تعداد پوری کرو۔“49
روزہ کی نیت:
دیگر عبادتوں کی طرح روزہ بھی بلا نیت صحیح نہیں ہوگا۔ فرض روزہ میں نیت کے وجوب کا وقت دوسرے روزوں سے مختلف ہے، اور اس کا بیان درج ذیل ہے:
۱- فرض روزہ جیسے رمضان، قضا یا نذر کے روزہ میں طلوع فجر سے پہلے رات کو نیت کرنا ضروری ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «مَن لَمْ يُبَيِّتْ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا صِيَامَ لَهُ». ”جس نے رات کو روزہ کی نیت نہیں کی اس کا کوئی روزہ نہیں۔ “50
۲- نفل روزہ کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے۔ بشرطیکہ طلوع فجر کے بعد ایسا کوئی عمل نہ کیا ہو جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
روزہ کو فاسد کرنے والی چیزیں:
1- جماع: اس سے روزہ باطل ہو جائے گا اور اس روزہ کی قضا کرنی ہوگی جس دن اس نے جماع کیا ہے۔ ساتھ ہی بطور کفارہ ایک گردن آزاد کرنا واجب ہوگا۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پے در پے دو مہینے کے روزے رکھنا واجب ہوگا۔ اگر کسی عذر شرعی کی بنا اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو اپنے علاقہ کے مروج کھانوں میں سے کھلانا پڑے گا، ہر مسکین کو آدھا صاع۔
2- منی خارج ہونا: خواہ بوس وکنار کی وجہ سے یا مشت زنی یا بار بار دیکھنے کی وجہ سے۔ اس میں صرف قضا کے طور پر روزہ رکھنا ہے؛ کیوں کہ کفارہ جماع کے ساتھ خاص ہے۔ رہی بات نیند کی حالت میں احتلام کی تو ایسی حالت میں کچھ بھی واجب نہیں؛ کیوں کہ یہ انسان کے اختیار کے باہر کی چیز ہے، جسے احتلام ہوا ہو وہ صرف غسل جنابت کرے گا۔
3- جان بوجھ کر کھانا پینا۔ کیونکہ فرمان باری تعالى ہے:
﴿وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِ...﴾
" تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ﻇاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو..." [البقرۃ: 187]
لیکن اگر بھول چوک میں کھا پی لے تو کوئی حرج نہیں۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے: «مَن نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ». ”جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“51
4- جان بوجھ کر قے کرنا، لیکن اگر کسی کو بلا اختیار قے آ جائے تو اس سے اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَن اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ». ”جسے قے آ جائے اس پر قضا نہیں ہے اور جو عمدا قے کرے اس پر قضا واجب ہے۔“52
5- بدن سے خون نکالنا، جیسے: حجامت کے ذریعے، یا رگ کاٹ کر، یا کسی مریض کی مدد کے لیے خون کا عطیہ دینا‘ ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن اگر جانچ کی غرض سے تھوڑا سا خون نکالا جائے تو اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اسی طرح اگر بلا اختیار کہیں سے خون نکلے تو اس سے بھی روزہ متاثر نہیں ہوگا، مثلا اگر نکسیر یا کسی زخم یا دانت نکالنے سے خون نکلے۔
جنہیں رمضان میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے:
پہلی قسم: جنہیں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن ان پر قضا کرنا واجب ہے:
1- ایسا مریض جسے شفا کی امید ہو اور روزہ رکھنے میں اسے نقصان یا مشقت ہو۔
2- مسافر؛ خواہ سفر میں اسے کوئی مشقت ہو یا نہ ہو۔
ان دونوں کی دلیل اللہ کا یہ ارشاد ہے:
﴿...وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَ...﴾
"اور جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے..."۔ [البقرة: 185]
3- حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتوں کو اگر روزہ رکھنے میں مشقت ہو یا انہیں یا ان کے بچوں کو اس سے نقصان پہنچے تو وہ مریض کے حکم میں ہیں اور ان کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے۔ لیکن بعد میں ان پر روزے کى قضا واجب ہے۔
4- حائضہ اور نفاس والی عورت: ان کے اوپر روزہ چھوڑنا واجب ہے۔ ان کا روزہ صحیح نہیں ہوگا اور انہیں دیگر ایام میں قضا کرنی ہوگی۔
دوسری قسم: جن کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے لیکن ان پر قضا نہیں بلکہ کفارہ واجب ہے، اور وہ ہیں:
1- ایسا مریض جس کی شفایابی کی امید نہ ہو۔
2- عمر دراز شخص جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو۔
یہ لوگ ماہ رمضان کے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گے۔ لیکن جب انسان اتنا معمر ہو جائے کہ وہ فہم و شعور کھو بیٹھے تو اس سے شرعی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے لہٰذا وہ روزہ نہ رکھے تو اس پر کچھ واجب نہیں۔
قضا کرنے کا وقت اور اس میں تاخیر کرنے کا حکم:
اگلے رمضان کے آنے سے پہلے ہی رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔ اور افضل یہ ہے کہ قضا میں جلدی کی جائے۔ اور اگلے رمضان کے بعد تک قضا کو مؤخر کرنا جائز نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وه بیان کرتی ہیں: «كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ ﷺ». ”مجھ پر رمضان کی قضا ہوتی تھی اور میں اللہ کے رسول ﷺ کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے صرف شعبان ہی میں قضا رکھ پاتی تھی۔“53
جو اگلے رمضان تک بھی قضا نہ کرے اس کی دو حالتیں ہو سکتی ہیں:
1- کسی شرعی عذر کے تحت تاخیر کرے، مثلا دوسرے رمضان تک اس کی بیماری دور نہ ہو تو اس پر صرف قضا ہوگی۔
2- بلا کسی عذر شرعی کے تاخیر کرے، تو وہ گناہ گار ہوگا، اس پر توبہ کرنا‘ قضا کرنا اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہو گا۔
جس پر قضا ہو اس کے لیے نفلی روزہ رکھنے کا حکم:
جس پر رمضان کی قضا ہو اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے قضا رکھے۔ لیکن اگر کوئی ایسا نفل ہو جس کا دن متعین ہو جیسے عرفہ اور عاشورا کے روزے تو قضا سے پہلے رکھے گا؛ کیوں کہ قضا کا وقت طویل ہے جبکہ عاشورا اور عرفہ کے روزے وقت پہ نہ رکھے جائیں تو فوت ہو جائیں گے۔ البتہ شوال کے چھ روزے قضا کے بعد ہی رکھے گا۔
حرام روزے:
1- عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزے رکھنا؛ کیوں کہ اس سے منع کیا گیا ہے۔
2- ذو الحجہ کے ایام تشریق میں روزے رکھنا۔ لیکن متمتع اور قارن کے پاس اگر ہدی کا جانور نہ ہو تو وہ یہ روزے رکھ سکتے ہیں۔ ذوالحجہ کا گیارہواں، بارہواں اور تیرھواں دن ایام تشریق کہلاتا ہے۔
3- یومِ شک کو شک کی بنا پر روزہ رکھنا اور اس سے مراد شعبان کی تیسویں تاریخ ہے جب اس رات کو بادل یا گرد کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے۔
مکروہ روزے:
1- رجب کے مہینے کو روزہ رکھنے کے لئے خاص کرنا۔ ب- صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا کیوں کہ اس کی ممانعت آئی ہے۔ لیکن اگر ایک دن اس سے پہلے یا ایک دن اس کے بعد بھی روزہ رکھے تو کراہت ختم ہو جاتی ہے۔
مسنون روزے:
ا- شوال کے چھ روزے۔ ب- ذو الحجہ کے نو روزے اور ان میں سب سے اہم یوم عرفہ کا روزہ ہے، لیکن حاجی کے لیے یہ روزہ مسنون نہیں، اس دن کا روزہ دو سال کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ ج- ہر مہینے کے تین روزے اور افضل یہ ہے کہ یہ تین روزے ایام بیض میں رکھے جائیں۔ (ہجرى مہینے کى) 13، 14، اور 15 تاریخ کوایام بیض کہا جاتا ہے۔ د- ہر ہفتے سوموار اور جمعرات کے روزے؛ کیوں کہ نبی ﷺ یہ روزے رکھتے تھے، اس لئے کہ ان دنوں میں بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
نفلی روزہ:
ا- صیام داود علیہ السلام، آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور دوسرے دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔
ب- ماہ محرم کے روزے۔ یہ افضل ترین مہینہ ہے جس میں روزہ رکھنا مستحب ہے۔ اس مہینہ کا اہم ترین روزہ دسویں محرم یعنی یوم عاشورا کا روزہ ہے۔ اس کے ساتھ نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھنا مسنون ہے کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: «لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ». ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا۔“54 اس روزہ سے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
پانچواں مبحث: حج وعمرہ
حج کے لغوی معنی ارادہ کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں متعینہ اوقات میں مخصوص اعمال کی انجام دہی کے ارادہ سے بیت اللہ الحرام اور مشاعر مقدسہ کا قصد کرنا حج کہلاتا ہے۔
عمرہ کے لغوی معنی زیارت کے ہیں۔
شرعی اصطلاح میں کسى بھى وقت مخصوص اعمال کی ادائیگی کے لیے مسجد حرام کی زیارت کرنا عمرہ کہلاتا ہے۔
حج اسلام کا ایک عظیم رکن اورعظیم ستون ہے۔ حج سنہ 9 ہجری میں فرض کیا گیا۔ نبی ﷺ نے ایک ہی حج کیا، اور وہ ہے حجۃ الوداع۔
مستطیع شخص پر زندگی میں ایک حج واجب ہے۔ اور جو اس سے زائد ہوگا وہ نفل ہوگا۔ رہی بات عمرہ کی تو بہت سے علما کے نزدیک عمرہ واجب ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کیا عورتوں پر بھی جہاد واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ». ”ہاں، ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی نہیں، یعنی حج اور عمرہ۔“55
حج وعمرہ کے وجوب کی شرطیں:
1- اسلام
2- عقل
3- بلوغت
4- آزادی
5- استطاعت
عورت کے لیے ایک اضافی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے محرم کے ساتھ حج کا سفر کرے۔ کیوں کہ اس کے لیے بغیر محرم کے حج یا کسی اور مقصد سے سفر کرنا جائز نہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے: «لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ». ” کوئی خاتون اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور نہ اس کے پاس کوئی مرد ہی آئے جب تک اس کے ساتھ محرم موجو نہ ہو۔“56
عورت کا محرم: اس کا خاوند یا ہر وہ شخص جس کے لیے اس سے نکاح کرنا دائمی طور پر حرام ہو۔ نسب کی وجہ سے: جیسے بھائی، باپ، چچا، بھتیجا اور ماموں، یا کسی جائز سبب سے: جیسے رضاعی بھائی، یا رشتہ مصاہرت کی وجہ سے جیسے سوتیلا باپ یا سوتیلا بیٹا۔
استطاعت مادی اور جسمانی دونوں طاقتوں کو شامل ہے‘ یعنی سواری کرنے پر قادر ہو، سفر کی مشقت اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اور آنے جانے کے اخراجات موجود ہوں۔ ساتھ ہی بال بچوں اور جن کا نفقہ اس پر واجب ہو ان کے لیے اتنا فراہم کرسکے کہ واپس آنے تک کافی ہو۔
حج کے راستہ میں جان ومال کا کوئی خطرہ نہ ہو۔
جو شخص صرف مالی طاقت رکھتا ہو لیکن جسمانی طاقت نہ رکھتا ہو بایں طور کہ بہت عمر دراز ہو چکا ہو یا ایسی دائمی بیماری کا شکار ہو جس سے شفایابی کی امید نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ کسی کو اپنا نائب مقرر کرے جو اس کی طرف سے حج وعمرہ کا فریضہ انجام دے۔
حج وعمرہ میں نیابت دو شرطوں کے ساتھ صحیح ہوتی ہے:
1- نائب ایسا شخص ہو جس کا فریضۂ حج ادا کرنا صحیح ہو اور وہ ہے عاقل وبالغ مسلمان۔
2- وہ اپنی طرف سے فریضہ حج ادا کر چکا ہو۔
احرام کے مواقیت:
مواقیت میقات کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی حد کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں میقات عبادت کی جگہ یا وقت کو کہا جاتا ہے۔
حج کے زمانی اور مکانی مواقیت:
ا- زمانی مواقیت کا ذکر اللہ نے اس آیت میں فرمایا ہے:
﴿ٱلۡحَجُّ أَشۡهُرٞ مَّعۡلُومَٰتٞۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلۡحَجَّ...﴾
"حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے..." [البقرة: 197]
اور یہ مہینے ہیں: شوال، ذو القعدہ اور ذو الحجہ کے دس دن۔
ب- مکانی میقات: یہ ان حدود کو کہا جاتا ہے جن کو بغیر احرام کے عبور کرکے مکہ جانا حاجی کے لیے جائز نہیں۔ یہ مواقیت درج ذیل ہیں:
1- ذو الحلیفہ: مدینہ والوں کا میقات ہے۔
2- جحفہ: شام، مصر اور مغرب والوں کا میقات ہے۔
3- قرن المنازل: جسے اب سیل کے نام سے معروف ہے، اہل نجد کا میقات ہے۔
4- ذات عرق: اہل عراق کا میقات ہے۔
5- یلملم : اہل یمن کا میقات ہے۔
جس کا گھر ان مواقیت کے اندر ہو وہ حج اور عمرہ کا احرام اپنے گھر سے باندھے گا۔ اہل مکہ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے، انہیں باہر نکل کر میقات تک جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جہاں تک عمرہ کی بات ہے تو وہ حدود حرم سے قریب ترین کسی حلال جگہ (جو حدود حرم کے باہر ہو) تک جائیں گے اور وہاں سے احرام باندھیں گے۔ جو شخص حج یا عمرہ کرنا چاہتا ہو اسے ان جگہوں سے احرام کی نیت کرنی چاہیے جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائے ہیں، اور یہ وہ مواقیت ہیں جن کی وضاحت پہلے کر دی گئی ہے۔ جو شخص حج یا عمرہ کرنا چاہے اس کے لیے بغیر احرام کے میقات عبور کرنا جائز نہیں۔
- جو شخص بھی ان میقاتوں کا باشندہ نہ ہو اور مذکورہ میقاتوں میں سے کسی میقات سے گزرے تو وہ وہیں سے احرام باندھے گا۔
- جو شخص خشکی، سمندر یا فضا کے راستہ سے مکہ جاتے ہوئے ان میقاتوں سے نہ گزرے تو وہ جب قریب ترین میقات کے برابر ہو تو وہیں سے احرام باندھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ”دیکھو کب تم میقات کی برابر ہوتے ہو۔“57
- جو شخص حج یا عمرہ کے لیے ہوائی جہاز سے سفر کرے‘ اس کے لیے اس وقت احرام باندھنا واجب ہے جب جہاز اس کے راستے میں واقع میقات کے برابر سے گزرے۔ یہ جائز نہیں کہ ایئرپورٹ پرہوائی جہاز کے اترنے تک احرام کو مؤخر کردے۔
احرام:
یعنی حج یا عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کرنا؛ حج میں احرام کا مطلب ہے: حج میں داخل ہونے کی نیت کرنا، اور عمرہ میں احرام کا مطلب ہے: عمرہ میں داخل ہونے کی نیت کرنا، اس نیت کے بغیر کوئی شخص محرِم نہیں ہو سکتا۔ بغیر نیت کے صرف احرام کا لباس پہن لینا احرام نہیں کہلاتا۔
احرام میں مستحب امور:
1- احرام سے پہلے غسل کرنا۔
2- جسم میں خوشبو لگانا، احرام کے لباس میں نہیں۔
3- ایک سفید ازار اور ایک سفید چادراور چپل پہننا۔
4- سواری کی حالت میں قبلہ رخ ہو کر احرام کی نیت کرنا۔
حج کے اقسام:
محرم کو حج کے تین قسموں میں سے کسى ایک کو حسب منشا اختیار کرنے کا اختیار ہے، اور وہ تینوں قسمیں حسب ذیل ہیں:
1- تمتع: وہ یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے اور اس سے فارغ ہو کر اسی سال پھر حج کا احرام باندھے۔
2- افراد: وہ یہ ہے کہ میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور اسی احرام میں حج کے سارے اعمال انجام دے۔
3- قِران: وہ یہ ہے کہ میقات سے ایک ساتھ حج اور عمرہ کا یا صرف عمرہ کا احرام باندھے پھر طواف شروع کرنے سے پہلے حج کو اس میں شامل کر لے، چنانچہ وہ عمرہ اور حج کی نیت میقات سے کرے یا طوافِ عمرہ شروع کرنے سے قبل کرے، اور عمرہ اور حج دونوں کے لیے طواف وسعی کرے۔
متمتع اور قارن پر قربانی کرنا لازم ہے بشرطیکہ وہ مسجد حرام (مکہ) کا رہنے والا نہ ہو۔
ان تینوں قسموں میں افضل ترین قسم حج تمتع ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو اسی کا حکم دیا58، اس کے بعد حج قران؛ کیوں کہ یہ حج اور عمرہ دونوں کو شامل ہے اور اس کے بعد حج افراد کا درجہ ہے۔
ج) جب ان میں سے کسی ایک قسم کی نیت کر لے تو اس کے بعد تلبیہ کے یہ الفاظ کہے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ». ”اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“59
یہ سنت ہے اور کثرت سے اسے پڑھنا مستحب ہے۔ مرد بلند آواز سے کہیں گے اور خواتین دھیمی آواز میں کہیں گی۔
تلبیہ کا وقت: تلبیہ کا وقت احرام کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت حسب ذیل ہے:
1- معتمر طواف شروع کرنے سے پہلے تلبیہ پڑھنا چھوڑ دے۔
2- حاجی عید کے دن اس وقت سے تلبیہ پڑھنا چھوڑ دے جب جمرۂ عقبہ کی رمی شروع کرے۔
ممنوعات احرام:
1- جسم کے کسی بھی حصہ کا بال چھیلنا، کاٹنا یا اکھاڑنا۔
2- بلا کسی عذر کے ہاتھ یا پیر کے ناخن کاٹنا، لیکن اگر کوئی ناخن ٹوٹ جائے اور اسے الگ کر دے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔
3- مرد کا سر کو کسی متصل چیز سے ڈھانپنا؛ جیسے ٹوپی اور غترہ وغیرہ۔
4- مرد کا جسم یا اپنے کسی حصہ پر سلا ہوا کپڑا پہننا؛ جیسے قمیص، پگڑی یا پاجامہ۔ سلا ہوا کپڑا: جو اعضائے جسم کے بقدر تیار کیا گیا ہو جیسے چمڑے کے موزے، دستانے اور کپڑے کے موزے۔ البتہ عورت حالت احرام میں کوئی بھی کپڑا پہن سکتی ہے کیوں کہ اسے ستر اور پردہ کی ضرورت ہے، البتہ وہ چہرہ ڈھانپنے والا برقع نہیں پہنے گی، لیکن جب اس کے سامنے کوئی اجنبی آ جائے تو اوڑھنی وغیرہ سے اپنا چہرہ ڈھانپ لے گی‘ اور دستانے بھی نہیں پہنے گی۔
5- خوشبو؛ کیوں کہ محرم سے مطلوب یہ ہے کہ وہ دنیا کی رنگینیوں اور لذتوں سے دور رہے اور یکوسی کے ساتھ آخرت کی تیاری کرے۔
6- خشکى کے جانور کو قتل کرنا اور اس کا شکار کرنا: کیونکہ محرم خشکی کے جانور کا شکار نہیں کر سکتا اور نہ اسے شکار کرنے میں کسی کی مدد کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ذبح کر سکتا ہے۔
اگر محرم نے (خشکى کا) کوئى جانور شکار کیا ہو یا اس میں مدد کی ہو یا اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو تو اس کا گوشت نہیں کھا سکتا، وہ اس کے لیے مانند مردار ہے۔
البتہ سمندر میں شکار کر سکتا ہے‘ اسی طرح پالتو جانور جیسے مرغی اور چوپائے ذبح کر سکتا ہے؛ کیوں کہ یہ شکار نہیں ہیں۔
7- اپنا نکاح کرنا یا کسی اور کا یا نکاح میں گواہ بننا۔
8- جماع؛ جو شخص تحلل اول (عید کے دن رمی، ذبح اور حلق کرنے) سے پہلے جماع کرے اس کا حج فاسد ہو جائے گا لیکن اسے حج کے مناسک پورے کرنے ہوں گے، اگلے سال قضا کرنی ہوگی اور ایک اونٹنی یا اونٹ ذبح کرنا ہوگا۔ اور اگر تحلل اول کے بعد جماع کرے تو اس کا حج فاسد نہیں ہوگا لیکن اسے دم دینا ہوگا۔
اور اگر جماع میں عورت کی رضامندی شامل ہو تو اس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
9- شرمگاہ کے علاوہ دیگر اعضا سے مباشرت کرنا، مُحرِم کے لیے عورت سے مباشرت کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ حرام وطی (جماع) کا ذریعہ ہے، اور یہاں مباشرت سے مراد ہے: عورت کو شہوت کے ساتھ چھونا۔
عُمرہ:
ا- عمرہ کے ارکان:
1- احرام۔
2- طواف۔
3- سعی۔
ب- عمرہ کے واجبات:
1- معتبر میقات سے احرام باندھنا۔
2- بال حلق کروانا یا چھوٹا کروانا۔
ج- عمرہ کا طریقہ:
سب سے پہلے طواف کے سات چکر پورے کرے، حجر اسود سے شروع کرے اور اسی پہ ختم کرے۔ با وضو ہو کر اور ناف سے گھٹنے تک ستر کو ڈھانک کر طواف کرے۔ پورے طواف کے دوران اضطباع سنت ہے، اضطباع یہ ہے کہ دائیں کندھے کو کھلا رکھے اور چادر اس کے نیچے سے گزارے اور چادر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر رکھے۔ جب ساتواں چکر پورا ہو جائے تو اپنے دونوں کندھوں کو ڈھانک لے۔
اس کے بعد حجر اسود کی طرف رخ کرے اور اگر بوسہ دینا ممکن ہو تو بوسہ دے اور اگر بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو گنجائش کى صورت میں حجر اسود کا دائیں ہاتھ سے استلام کرے، اور ہاتھ کو بوسہ دے۔ اگر حجر اسود کا استلام نہ کر سکے تو اللہ اکبر کہتے ہوئے دائیں ہاتھ سے ایک مرتبہ اس کی طرف اشارہ کرے لیکن ہاتھ کو بوسہ نہ دے اور نہ ہی وہاں ٹھہرے۔ پھر کعبہ کو بائیں طرف رکھ کر طواف شروع کرے، پہلے تین چکروں میں رمل کرنا مستحب ہے۔ رمل کا مطلب ہے چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ تیز تیز چلنا۔
جب کعبہ کے چوتھے رکن یعنی رکن یمانی سے گزرے تو اگر ممکن ہو تو اسے دائیں ہاتھ سے استلام کرے، نہ تکبیر کہے اور نہ بوسہ دے اور اگر استلام ممکن نہ ہو تو گزر جائے، نہ اشارہ کرے اور نہ تکبیر کہے۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے:
﴿...رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ﴾
"... اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے"۔ [البقرۃ: 201]۔
طواف پورا کرنے کے بعد اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مسجد کے کسی بھی حصہ میں دو رکعت ادا کرے۔ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کافرون پڑھنا مسنون ہے اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پڑھنا مسنون ہے۔ پھر مسعی کی طرف بڑھے اور صفا ومروہ کے بیچ سات چکر لگائے ؛ جانا ایک چکر اور لوٹنا دوسرا چکر شمار ہوگا۔
سعی صفا سے شروع ہوگی، چنانچہ صفا پر چڑھے یا اس کے پاس ٹھہرے‘ البتہ اگر ممکن ہو تو صفا پر چڑھا افضل ہے۔ سعى شروع کرتے وقت یہ آیت پڑھے:
﴿إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلۡمَرۡوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ...﴾
(صفا اور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں...) [البقرة: 158]
یہ مستحب ہے کہ قبلہ رخ ہو کر اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرے، تکبیر کہے اوریہ دعا پڑھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ». "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے ساری حمد ہے، وہی زندگی اور موت دیتا ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلے ہی اس نے لشکروں کو شکست دی۔"60 پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور مذکورہ ذکر تین مرتبہ دہرائے۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف چلے یہاں تک کہ جب پہلے (سبز) نشان کے پاس پہنچے تو مرد اگلے نشان تک تیزی سے چلے۔ مگر عورت کے لیے پردہ کا لحاظ کرتے ہوئے یہاں تیزی سے چلنا مشروع نہیں ہے بلکہ اسے پوری سعی کے دوران عام چال چلنا ہے۔ پھر مروہ کے پاس پہنچ کر اس پر چڑھے اور اگر ممکن ہو تو یہ افضل ہے ورنہ اس کے پاس ٹھہرے۔ جو صفا پر کہا اور کیا تھا وہی مروہ پر بھی کہے اور کرے، البتہ یہ آیت نہیں پڑھے:
﴿إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلۡمَرۡوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ...﴾
"صفا اور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں..." کیوں کہ یہ آیت پڑھنا صرف صفا پہ چڑھتے وقت پہلے چکر میں ہی مشروع ہے۔ پھر نیچے اترے اور عام چال کی جگہ پر عام چال چلے اور تیز چلنے والی جگہ پر تیز چلے اور صفا پر پہنچے۔ ایسا سات مرتبہ کرے، اس کا جانا ایک چکر ہوگا اور لوٹنا دوسرا چکر۔ سعی کے دوران مستحب ہے کہ بقدر استطاعت کثرت سے ذکر اور دعا کرے۔ نیز وہ حدث اکبر اور حدث اصغر سے پاک ہو لیکن اگر وہ طہارت کے بغیر بھی سعی کرے تو کافی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حائضہ اور نفاس والی عورت بھی سعی کر سکتی ہے کیوں کہ سعی میں طہارت شرط نہیں صرف مستحب ہے۔
سعی مکمل ہو جائے تو بال منڈوائے یا چھوٹے کروائے البتہ مرد کے حق میں حلق افضل ہے۔
اس طرح اس کے عمرہ کے اعمال پورے ہو جائیں گے۔
حج:
ا- حج کے ارکان:
1- احرام۔
2 : وقوفِ عرفہ۔
3- طواف افاضہ۔
4- سعی۔
ب- حج کے واجبات:
1- میقات سے احرام باندھنا۔
2- نو ذی الحجہ کو عرفہ میں ٹھہرنا، جو دن میں ٹھہرے وہ غروب آفتاب تک ٹھہرے گا۔
3- دس ذی الحجہ کى نصف شب تک مزدلفہ میں قیام کرنا۔
4- ایام تشریق کی راتوں میں منیٰ میں قیام کرنا۔
5- جمرات کو کنکری مارنا۔
6- بال حلق کروانا یا چھوٹا کروانا۔
7- طواف وداع۔
ج- حج کا طریقہ:
اگر وقت تنگ ہو تو میقات پہنچ کر حج افراد کا تلبیہ پکارے گا، مکہ پہنچ کر طواف وسعی کرے گا اور احرام ہی کی حالت میں نو ذی الحجہ کو عرفات کی طرف نکلے گا اور وہاں غروب آفتاب تک قیام کرے گا۔
پھر تلبیہ پکارتے ہوئے مزدلفہ کی طرف واپس لوٹے گا، مزدلفہ ہی میں رات گزارے گا، فجر کی نماز پڑھے گا پھر افق روشن ہونے تک ذکر ودعا اور تلبیہ میں مشغول رہے گا۔
جب صبح نمودار ہو جائے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف روانہ ہوگا، پھر جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں مارے گا، پھر حلق یا تقصیر کروائے گا، البتہ حلق کرانا افضل ہے۔
پھر طواف افاضہ کرے گا اور پہلے جو سعی کی تھی‘ وہ کافی ہوگی۔ اور اس طرح حج پورا ہوجائے گا اور تحلل کامل حاصل ہو جائے گا۔
اگر وہ جلدی مکہ سے نکلنا چاہے تو اس پر صرف گیارہ اور بارہ تاریخ کو کنکری مارنا باقی رہے گا؛ چنانچہ تینوں جمرات کو کنکریاں مارے، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارے، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے، ابتدا صغری سے کرے جو مسجد الخیف کے قریب ہے، پھر وسطی کو، اور آخر میں جمرہ عقبہ کو، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارے۔ اگر بارہ تاریخ کے بعد رکنا چاہے تو تیرہ تاریخ کو بھی اسی طرح جمرات کو کنکریاں مارے گا جیسے اس نے گیارہ اور بارہ تاریخ کو کنکریاں ماری تھی۔
کنکری مارنے کا وقت: تینوں دن زوال آفتاب کے بعد۔
اگر بارہ تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے ہی منی سے نکل جائے تو کوئی حرج نہیں، اور اگر تیرہ کو زوال کے بعد کنکری مار کر روانہ ہو تو یہ افضل ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿...فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوۡمَيۡنِ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۖ لِمَنِ ٱتَّقَىٰ...﴾
" ... پس دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگارکے لئے ہے... "۔
[البقرۃ: 203]۔
جب مکہ سے نکلنا چاہے تو طواف وداع کرے گا لیکن سعی نہیں کرے گا۔
اگر اس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو تو افضل یہ ہے کہ تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھے، پھر آٹھویں ذی الحجہ کو حج کی تلبیہ کہے، اور حج کے سارے اعمال انجام دے، اور اگر حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھے تو بھی کوئی حرج نہیں، اسے حج قران کہا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج کا ایک ساتھ احرام باندھے اور ایک ہی طواف وسعی کرے۔
تیسری فصل:
معاملات کا بیان
علماء رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس علم کو واضح کیا ہے جس کا سیکھنا ہر شخص پر فرض عین ہے۔
انہوں نے اس پر بھی گفتگو کی ہے کہ کس قدر علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ چنانچہ انہوں نے ذکر کیا کہ تاجر کے لیے بیع وشرا کے احکام کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاکہ نا دانستہ حرام یا سود میں نہ واقع ہو۔ بعض صحابۂ کرام -رضی اللہ عنہم- سے اس کی تائید میں کچھ اقوال منقول ہیں:
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہمارے بازار میں صرف وہی کاروبار کر سکتا ہے جس کے پاس دین کا علم ہو۔“61
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ - نے فرمایا: ”جو شخص بلا علم دین کے تجارت میں داخل ہوگا وہ یقینا سود میں واقع ہوگا۔“62
ابن عابدین نے علامی سے نقل کیا ہے: ”ہر مکلف مرد اور عورت پر علم دین وہدایت سیکھنے کے بعد یہ بھی فرض ہے کہ وضو، غسل، نماز، روزہ کا علم حاصل کرے، اگر اس کا مال نصاب کو پہنچ گیا ہو تو زکوۃ کا بھى علم حاصل کرے اور اگر اس پر حج واجب ہوگیا ہو تو حج کا طریقہ معلوم کرے، اور تاجروں پر بیع وشراء کا علم حاصل کرنا واجب ہے، تاکہ وہ تمام معاملات میں شبہات اور مکروہات سے بچ سکیں، اسی طرح اہل حرفت اور ہر اس شخص پر جو کسی پیشے سے جڑا ہو، اس کام کا علم اور اس کے احکام کا جاننا فرض ہے تاکہ وہ اس سلسلے میں حرام سے بچ سکے۔“63
امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”بیع، نکاح اور اسی طرح جو معاملہ اصلاً واجب نہیں‘ اس کی شرط معلوم کیے بغیر اس پر اقدام کرنا حرام ہے۔“64
ذیل میں شریعت کے مالی معاملات سے متعلق چند قواعد ذکر کیے جا رہے ہیں:
1- ہر وہ چیز جائز ہے جس میں خالص مصلحت یا راجح مصلحت موجود ہو؛ جیسے مباح چیزوں کی خرید وفروخت، کرایہ پر دینا اور شفعہ۔65
2- ہر وہ چیز مشروع ہے جس سے لوگوں کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں؛ جیسے گروی رکھنا اور گواہ بنانا۔
3- ہر وہ چیز مشروع ہے جس میں طرفین کی مصلحت ہو؛ جیسے بیع فسخ کرنا، بیع فسخ کرنے کا اختیار اور بیع وشرا میں مستعمل شروط۔
4- ہر وہ معاملہ ممنوع ہے جس سے لوگوں پر ظلم ہو اور ناحق ان کا مال لیا جائے؛ جیسے سود، غصب اور ناجائز ذخیرہ اندوزی۔
5- ہر وہ معاملہ مشروع ہے جس سے نیکی میں تعاون ہو؛ جیسے قرض دینا، عاریۃً دینا اور امانت رکھنا۔
6- بغیر محنت اور بلا کسی جد وجہد کے حاصل ہونے والی کمائی حرام ہے؛ جیسے جوا اور سود۔
7- ہر وہ معاملہ حرام ہے جس میں لا علمی اور دھوکے کا پہلو غالب ہو؛ جیسے غیر مملوکہ اور نامعلوم چیز کی فروخت۔
8- کسی حرام معاملہ کو انجام دینے کے لیے حیلہ بازی ممنوع ہے؛ جیسے بیع عینہ66۔
9- جو معاملہ اللہ کی عبادت سے غافل کرے وہ حرام ہے جیسے جمعہ کی دوسری اذان کے بعد بیع وشرا۔
10- ہر وہ معاملہ جس میں کوئی نقصان ہو یا اس سے مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوتی ہو وہ حرام ہے جیسے حرام چیزوں کی خرید وفروخت اور خرید وفروخت پر خرید وفروخت۔
جب کوئی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو علما سے اس کے بارے میں دریافت کرے اور حکم شرعی کی معرفت کے بغیر اس پر اقدام نہ کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿...فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾
"... پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو"۔ [النحل: 43]-
اس کتاب میں اتنا ہی تحریر کرنا ممکن ہوا۔ اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ ہمیں نفع بخش علم اور نیک عمل کی توفیق دے، یقینا وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔ اور بکثرت درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد پر اور آپ کی آل اور صحابہ پر۔
***
فہرست
مقدّمہ 2
پہلی فصل: 3
عقیدے کا بیان 3
پہلا مبحث: اسلام کا معنی ومفہوم اور اس کے ارکان: 3
توحید کی اہمیت: 3
لا الہ الا اللہ کی گواہی کے معنی یہ ہیں: 5
”لا إِلٰهَ إِلا اللہ“ کے شروط یہ ہیں: 6
اللہ کے رسول محمد ﷺ کی گواہی دینے کا معنی: 8
دوسرا مبحث: ایمان کا معنی ومفہوم اور اس کے ارکان: 10
1) اللہ تعالیٰ پر ایمان تین امور کو شامل ہے: 12
1۔ اللہ کی ربوبیت پر ایمان لانا: 12
2 ۔ اللہ کی الوہیت پر ایمان: 15
3 ۔ اسما وصفات پر ایمان: 18
2) فرشتوں پر ایمان: 28
3) کتابوں پر ایمان: 29
4) رسولوں علیہم السلام پر ایمان لانا: 31
5) یومِ آخرت پر ایمان: 32
ا- بعث پر ایمان: 32
ب- حساب وجزا پر ایمان: 33
ج- جنت اور جہنم پہ ایمان: 34
6) اچھی اور بری تقدیر پر ایمان: 34
تیسرا مبحث: احسان: 37
چوتھا مبحث: اہل سنت والجماعت کے عقائد کا مختصر خلاصہ: 38
دوسری فصل: عبادات کا بیان 40
پہلا مبحث: طہارت 40
پہلا مسئلہ: پانی کی قسمیں: 40
دوسرا مسئلہ: نجاست: 41
تیسرا مسئلہ: وہ اعمال جو محدِث (حدث والے شخص) پر حرام ہیں: 45
چوتھا مسئلہ: قضائے حاجت کے آداب: 47
پانچواں مسئلہ: استنجا اور پتھر وغیرہ کے استعمال سے متعلق احکام: 49
چھٹا مسئلہ: وضو کے احکام: 50
ساتواں مسئلہ: مختلف فسم کے موزوں پر مسح کے احکام: 53
آٹھواں مسئلہ: تیمم کے احکام: 56
نواں مسئلہ : حیض ونفاس کے احکام: 59
دوسرا مبحث: نماز کا بیان: 61
پہلا مسئلہ: اذان واقامت کے احکام: 61
دوسرا مسئلہ: نماز کا مقام ومرتبہ اور اس کی فضیلت: 66
تیسرا مسئلہ: نماز کے شرائط: 68
چوتھا مسئلہ: نماز کے ارکان: 71
پانچواں مسئلہ: نماز کے واجبات: 76
چھٹا مسئلہ: نماز کی سنتیں: 78
ساتواں مسئلہ: نماز پڑھنے کا طریقہ: 81
آٹھواں مسئلہ: نماز کے دوران مکروہ چیزیں: 87
نواں مسئلہ: نماز کو باطل کرنے والی چیزیں: 88
دسواں مسئلہ: سجدۂ سہو: 89
گیارہواں مسئلہ: نماز کے ممنوعہ اوقات: 91
بارہواں مسئلہ : نماز باجماعت: 92
تیرہواں مسئلہ: صلاۃ الخوف (ڈر کی حالت میں پڑھی جانے والی نماز): 96
صلاۃ الخوف کی ادائیگی کا طریقہ: 96
چودہواں مسئلہ: جمعہ کی نماز: 98
۵- جمعہ کے دن کے مستحب اعمال: 101
جمعہ کو پانا: 102
پندرہواں مسئلہ: معذوروں کی نماز: 102
سولہواں مسئلہ: عیدین کی نماز: 107
سترہواں مسئلہ: نمازِ کسوف (گرہن کی نماز): 110
اٹھارہواں مسئلہ- نماز استسقا: 112
انیسواں مسئلہ: جنازے کے احکام: 113
تیسرا مبحث: زکوۃ: 118
1- زکوۃ کی تعریف اور اس کا مقام ومرتبہ: 118
2- زکوۃ کے وجوب کی شرطیں: 120
3- وہ اموال جن میں زکوۃ واجب ہے: 121
چوتھا مبحث: روزہ: 136
صیام رمضان کے وجوب کی شرطیں: 137
پانچواں مبحث: حج وعمرہ 146
حج وعمرہ کے وجوب کی شرطیں: 147
احرام کے مواقیت: 149
احرام: 152
عُمرہ: 157
حج: 162
تیسری فصل: 165
معاملات کا بیان 165
***
مسند احمد: 6072)(‘ سنن ترمذی : (1535)، ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اسے بخاری نے الادب المفرد : (716) میں، احمد نے مسند : (19606) میں اور ضیاء مقدسی نے الأحاديث المختارة : (1/150) میں روایت کیا ہے۔ اس حدیث کو البانی نے صحیح الجامع الصغیر میں صحیح قرار دیا ہے‘ حدیث نمبر: (3731)۔
صحیح مسلم : (121)، مسند احمد : (10434)۔
(مذی): اس بے رنگ باریک پانی کو کہتے ہیں جو بیوی کے ساتھ لطف اندوزی، جماع کی یاد یا اس کے ارادے یا شہوت کو برانگیختہ کرنے والی کسی چیز کو دیکھ کر قطروں کی شکل میں نکل آتا ہے اور بسا اوقات احساس بھی نہیں ہوتا۔ (ودی): یہ گاڑھا سفید پانی ہے جو پیشاب کے بعد یا بھاری چیز اٹھانے کے وقت نکلتا ہے۔
صحیح مسلم (224)۔
موطا امام مالک: (680 و 21)، سنن دارمی: (312)‘ مصنف عبد الرزاق : (1328)۔ البانی نے ارواء الغلیل : (122) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
سنن نسائی: (12808)‘ مسند احمد: (15423)۔ البانی نے اسے ارواء الغلیل : (121) میں اسے صحیح کہا ہے۔
ابن ماجہ : (594) اور ابن حبان : (799) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اس حدیث کو ضعیف سنن ترمذی: (146) میں ضعیف قرار دیا ہے۔
صحیح بخاری: (142)، صحیح مسلم: (122)۔
صحیح بخاری: (7288)، صحیح مسلم: (6066)۔
ابن باز رحمہ اللہ اپنے مجموع الفتاوی (29/141) میں فرماتے ہیں: (بیہقی کے نزدیک جابر رضی اللہ عنہ سے بسند جید آپ کے قول (الذی وعدتہ) کے بعد (إنک لا تخلف المیعاد) کا اضافہ مروی ہے)۔
سنن ترمذی: (2635)
صحیح مسلم : (82)
سنن ترمذی: (265) اور امام ترمذی نے فرمایا: حسن صحیح غریب۔ البانی نے اسے صحیح الترغیب والترھیب میں صحیح قرار دیا ہے۔
صحیح بخاری: (1117)۔
صحیح بخاری: (6251)، صحیح مسلم: (884)۔
صحیح بخاری: (756)، صحیح مسلم: (872)۔
صحیح بخاری: (793)، صحیح مسلم: (398)۔
صحیح بخاری: (812)، صحیح مسلم: (490)۔
صحیح مسلم: (498)۔
صحیح بخاری: (724)، صحیح مسلم: (398)۔
صحیح بخاری: (797)، صحیح مسلم: (402)۔
سنن ترمذی: (839)۔
صحیح بخاری: (6008)۔
صحیح بخاری: (1110)۔
صحیح بخاری: (835)۔
صحیح بخاری: (743)، صحیح مسلم: (399)۔
سنن ترمذی: (266)۔
صحیح مسلم : (588)۔
سنن ابو داود : (5168)۔
سنن ترمذی : (284)۔
صحیح مسلم : (1484)۔
صحیح بخاری: (609)، صحیح مسلم: (602)۔
صحیح بخاری: (4130)، صحیح مسلم: (842)۔
صحیح مسلم: (865)۔
صحیح بخاری: (934)، صحیح مسلم: (851)۔
صحیح بخاری: (1081)، صحیح مسلم: (693)۔
صحیح بخاری: (1012)، صحیح مسلم : (894)۔
سنن ابو داود: (3201)، سنن ترمذی: (1024)- امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا۔
صحیح مسلم : (962)۔
صحیح بخاری: (8)‘ صحیح مسلم: (111)
سنن ابن ماجہ : (1792) اور سنن ترمذی: (63) و (631)۔
صحیح بخاری: (1402)، صحیح مسلم: (2287)۔
صحیح بخاری: (1432)، صحیح مسلم: (984)
سنن ابو داود: (1609)۔ سنن ابن ماجہ : (1827)۔ امام البانی نے صحیح سنن ابوداود: (1609) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
صحیح بخاری: (1)، صحیح مسلم: (1907)
صحیح بخاری: (1810)، صحیح مسلم: (1086)۔
صحیح بخاری: (1909)
مسند احمد: (26457)، سنن ابو داود : (2454)، سنن نسائی: (2331) اور یہ نسائی کے الفاظ ہیں۔
صحیح بخاری: (6669)، صحیح مسلم: (2709)۔
سنن ابو داود: (2380)، سنن ترمذی: (719)‘ سنن ابن ماجہ: (676)۔
صحیح بخاری: (1849)، صحیح مسلم: (1846)۔
صحیح مسلم : (1134)۔
مسند احمد: (25198)، سنن نسائی: (2627)، سنن ابن ماجہ: (2901)۔
صحیح بخاری: (1862)۔ صحیح مسلم: (1341)
صحیح بخاری: (1531)۔
صحیح مسلم : (1211)
صحیح بخاری: (1549)
صحیح مسلم: (1218)۔
سنن ترمذی: (487) اور امام ترمذی نے فرمایا: حسن غریب۔ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
دیکھیں: مغني المحتاج (2/22)۔
حاشیہ ابن عابدين: (1/ 42)-
دیکھیں: المجموع: (1/50)۔
شفعہ: وہ حق ہے جس کی بنا پر ایک شریک اپنے دوسرے شریک کے اس حصہ کو خرید کر واپس لے سکتا ہے جو کسی اور شخص کے پاس منتقل ہوچکا ہو۔
بیع عینہ: یعنی انسان کسی دوسرے کو کوئی چیز ادھار قیمت پر بیچے اور اسے اس کے حوالے کر دے، پھر قیمت وصول کرنے سے پہلے ہی اسے کم قیمت پر نقد خرید لے۔
صحیح بخاری: (8)