التَّحْذِيرُ مِنْ بِنَاءِ المَسَاجِدِ
عَلَى القُبُورِ
قبروں پر مسجدیں بنانے کی ممانعت
لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ
عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ
رَحِمَهُ اللهُ
تالیف سماحۃ الشیخ
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
دسواں کتابچہ:
قبروں پر مسجد بنانے پر تنبیہ
شروع اللہ کے نام سے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم پر۔
اما بعد: میں نے رابطہ علوم اسلاميہ کے مجلہ کے تیسرے شمارے میں (مسلمانوں کی خبریں اس مہینے میں) کے باب میں شائع شدہ مواد کا مطالعہ کیا تو پایا کہ مملکت اردنیہ ہاشمیہ کى رابطہ علوم اسلاميہ اس غار پر مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو حال ہی میں الرحیب گاؤں میں دریافت ہوا ہے، اور یہ وہی غار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں قرآن کریم میں مذکور اصحاب کہف آرام فرما تھے۔انتہى
اللہ اور اس کے بندوں کے لیے نصیحت کے وجوب کو مدنظر رکھتے ہوئے؛ میں نے مملکت اردنیہ ہاشمیہ کى رابطہ علوم اسلامیہ کو اسی مجلے میں ایک پیغام دینے کا ارادہ کیا؛ جس کا مضمون یہ ہے: اس رابطہ کو اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس غار پر مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس پر عمل درآمد نہ کریں؛ کیونکہ انبیا و صالحین کی قبروں اور ان کے آثار پر مساجد تعمیر کرنا ان چیزوں میں سے ہے جن سے کامل اسلامی شریعت نے منع اور خبردار کیا ہے، اور اس فعل کو انجام دینے والے پر لعنت کی ہے؛ کیونکہ یہ شرک کے ذرائع میں سے ہے، اور انبیا و صالحین کے بارے میں غلو کا سبب بنتا ہے، حقیقت اس بات کی گواہ ہے کہ شریعت جو کچھ لے کر آئی ہے وہ درست ہے اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے، اور یہ ایک روشن دلیل اور قاطع حجت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جو کچھ اللہ کی طرف سے لایا اور امت تک پہنچایا وہ سچ ہے۔ اور جو کوئی بھی اسلامی دنیا کے حالات پر غور کرے، اور اس شرک وغلو پر غور کرے جو اس کے اندر قبروں پر مساجد تعمیر کرنے، ان کی تعظیم کرنے، ان پر فرش بچھانے، ان کو سجانے اور ان کے لیے مجاور مقرر کرنے کی وجہ سے، پیدا ہوگیا ہے، تو وہ یقیناً جان لے گا کہ یہ سب امور شرک کے ذرائع میں سے ہیں، اور یہ کہ اسلامی شریعت کی خوبیوں مں سے یہ شمار کیا جائے گا کہ اس نے ان سب سے منع کیا اور روکا ہے اور اس طرح کے کا موں کا اہتمام کرنے اور ان پر توجہ دینے سے خبردار کیا ہے۔
اس بارے میں جو روایتیں آئی ہیں ان میں یہ روایت بھی ہے جسے شیخین بخاری و مسلم ـ رحمہما اللہ ـ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، قالَتْ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا، قالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا». ’’یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔ اور اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن یہ ڈر تھا کہ کہیں اسے مسجد (سجدہ گاہ) نہ بنا لیا جائے۔ اور اسی طرح بخاری ومسلم میں ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کلیسا کا ذکر کیا جو انہوں نے ملکِ حبشہ میں دیکھا تھا، اور اس میں موجود تصویروں کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ؛ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ». "وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر اُن میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں وہ تصویریں بنا لیتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات میں سب سے بدترین ہیں"۔
صحیح مسلم میں جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے پانچ دن قبل فرماتے ہوئے سنا: «إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، فَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ». "میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں"۔ اس باب کی حديثيں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
مذاہب اربعہ کے علمائے کرام اور ان کے علاوہ دیگر مسلم علما نے بھی ، رسول صلى اللہ علیہ وسلم کى سنت پر عمل کرتے ہوئے اور امت کے لئے خیر خواہى کى بنا پر، اور اس کو اس بات سے خبردار کرنے کے لئے کہ کہیں وہ ان غلطیوں میں نہ پڑجائے جن میں ان سے پہلے کے یہود و نصاریٰ کے غلو صفت اور اس امت کے گمراہ لوگ پڑ چکے ہیں، واضح طور قبروں پر مساجد بنانے سے منع کیا ہے اور اس سے خبردار کیا ہے۔
رابطہ علوم اسلامیہ اردن اور دیگر مسلمانوں پر واجب ہے کہ سنت کو اپنائیں، ائمہ کے منہج پر چلیں، اور ان چیزوں سے بچیں جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے خبردار کیا ہے؛ کیونکہ اسی میں بندوں کی اصلاح، ان کی سعادت اور دنیا و آخرت میں ان کی نجات ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس باب کا تعلق اصحاب کہف کے قصہ میں وارد اللہ تعالی کے اس فرمان سے جوڑا ہے:
﴿...قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا﴾
کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے. [الکھف: ۲۱]
اور اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس زمانے کے سرداروں اور اہل اقتدار کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی، اور یہ ان سے رضا مندی اور ان کی تائید کے طور پر نہیں ہے، بلکہ ان کے عمل کی مذمت، عیب جوئی اور ان کے طرز عمل سے نفرت دلانے کے لیے ہے۔ اس پر یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن پر یہ آیت نازل ہوئی اور جو اس کی تفسیر سب سے بہتر جانتے تھے، انہوں نے اپنی امت کو قبروں پر مساجد بنانے سے منع فرمایا، اس سے ڈرایا اور اس فعل کو انجام دینے والے پر لعنت بھیجی اور اس كى مذمت کی۔
اور اگر یہ جائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس پر اتنی سختی نہ فرماتے اور نہ ہی اس پر لعنت بھیجتے، اور نہ ہی یہ فرماتے کہ ایسا کرنے والا اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق میں سے ہے۔ اور یہ حق کے طالب کے لیے کافی اور قانع کرنے والا ہے۔ اور اگر ہم فرض کر لیں کہ قبروں پر مساجد بنانا ہم سے پہلے والوں کے لیے جائز تھا، تو بھی ہمارے لیے اس میں ان کی پیروی جائز نہیں؛ کیونکہ ہماری شریعت نے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے، ہمارے رسول علیہ الصلاة والسلام خاتم الرسل ہیں، آپ کی شریعت کامل اور عام ہے، اور آپ نے ہمیں قبروں پر مساجد بنانے سے منع فرمایا ہے؛ لہذا آپ کی مخالفت ہمارے لیے جائز نہیں، آپ کی اتباع اور آپ کے لائے ہوئے دین پر قائم رہنا واجب ہے، اور ان قدیم شریعتوں اور ان لوگوں کی پسندیدہ عادات کو چھوڑ دینا واجب ہے جو ان پر عمل کرتے تھے؛ کیونکہ اللہ کے شریعت سے زیادہ کامل کوئی چیز نہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رہنے اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اقوال و اعمال، ظاہر و باطن اور تمام معاملات میں مضبوطی سے تھامنے کی توفیق عطا فرمائے، یہاں تک کہ ہم اللہ جل جلالہ سے ملیں۔ یقینا اللہ تعالى سب کچھ سننے والا اور بہت قریب ہے۔
درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد پر اور آپ کے اہل بیت, صحابہ اور تا قیامت آپ کے طریقہ کى پیروى کرنے والوں پر۔
***