حُكْمُ السِّحْرِ وَالكِهَانَةِ
وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا
جادو، کہانت اور اس سے متعلق امور کا حکم
لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ
عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ
رَحِمَهُ اللهُ
تالیف سماحۃ الشیخ
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نواں پیغام:
جادو، کہانت اور اس سے متعلقہ امور کا حکم1
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو ان پر جن کے بعد کوئى اور نبی نہیں، امابعد:
حالیہ دنوں میں شعبدہ باز بڑی تعداد میں رونما ہوگئے ہیں، جو دعوی تو معالج ہونے کا کرتے ہیں، لیکن علاج جادو اور کہانت کے ذریعہ کرتے ہیں۔ بعض ممالک میں ان کا جال بچھ چکا ہے۔ وہ ایسے سادہ لوح لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں، جن پر جہالت ولاعلمی کا غلبہ ہوتا ہے۔ اسی کے پیش نظر میں نے اللہ اور اس کے بندوں کے تئیں نصح و خیر خواہی کے جذبہ کے تحت یہ مناسب سمجھا کہ اس کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے لئے جو بڑا خطرہ چھپا ہے، اسے واضح کر دوں۔ کیوں کہ اس میں غیر اللہ سے تعلق استوار کرنا اور اللہ اور اس کے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم- کے حکم کی نافرمانی کرنا جیسی چيزیں شامل ہیں۔
چنانچہ میں اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے یہ عرض کرتا ہوں کہ علاج ومعالجہ کرانا متفقہ طور پر جائز ہے۔ مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ باطنی امراض، جراحی امراض، اعصابی امراض یا دیگر بیماریوں کے ڈاکٹر کے پاس جائے، تاکہ وہ اس کی بیماری کی تشخیص کرے اور علمِ طب سے اپنی واقفیت کی روشنی میں مناسب اور شرعی طور پر مباح دواؤں کے ذریعہ اس کا علاج کرے۔ کیوں کہ یہ عمومی اسباب اختیار کرنے کے قبیل سے ہے اور اللہ پر توکل کرنے کے منافی بھی نہیں ہے۔ اللہ پاک و برتر نے بیماری اتاری ہے اور اس کے ساتھ اس کی دوا بھی اتاری ہے۔ کسی کو دوا معلوم ہے اور کسی کو نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی شفا حرام چیزوں میں نہیں رکھی ہے۔
لہذا مریض کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیماری کی تشخیص کے لیے ایسے کاہنوں کے پاس جائے جو غیبی امور جاننے کا دعوی کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ ان کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرے۔ کیوں کہ وہ اٹکل بازی سے کام لیتے ہیں یا پھر جنوں کو پکارتے ہيں، تاکہ اپنے ارادے کی تکمیل میں ان سے مدد لے سکیں۔ ایسے لوگوں کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ علم غیب کا دعوی کریں، تو کافر اور گمراہ ہیں۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا». ’’جو شخص عراف (غیب کی خبر دینے کا دعوى کرنے والے) کے پاس جائے اور اُس سے غیب کی بات پوچھے، تو چالیس دنوں تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی‘‘۔
"جو کسی کاہن (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والے) کے پاس گیا اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کی، اس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے"۔ «مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ». ’’جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کا انکار کیا‘‘۔ اس حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے۔ سنن اربعہ والوں نے بھى اسے روایت کیا ہے۔ حاکم نے اسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان الفاظ کے ساتھ صحیح کہا ہے: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ». "جو شخص کسی عرّاف یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی، اُس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر اتارا گیا ہے"۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ»، "جو بد شگونی لے یا جس کے لیے بدل شگونی لینے کا کام کیا جائے، جو کہانت (دل کى بات کے بارے میں يا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے) کا پیشہ اختیار کرے یا جس کے لئے کہانت کی جائے یا جو جادو کرے یا جس کے لئے جادو کیا جائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور جو کاہن (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والے) کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کردى، تو یقینا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ کفر کیا"۔ اسے بزّار نے جیّد سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ان احادیث شریفہ میں عرّافوں (غیب کى خبر دینے کا دعوى کرنے والوں)، کاہنوں (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں)، جادو گروں اور ان جیسے کے پاس جانے، ان سے سوال کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر وعید آئی ہے؛
یہ بھی جائز نہیں کہ بعض معاملات میں ان کی بات کے صحیح ہو جانے اور کثیر تعداد میں ان کے پاس آنے والے لوگوں کے ہجوم سے دھوکا کھایا جائے، کیوں کہ یہ جاہل و نادان لوگ ہیں۔ ان سے لوگوں کو دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ اس لئے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس جانے اور ان کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ اس سے بڑی برائی، سنگین خطرے اور نہایت برے انجام مرتب ہوتے ہیں اور اس لئے کہ ایسا کرنے والے جھوٹے اور فاسق ہوا کرتے ہیں۔
یہ احادیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ کاہن (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والے)اور جادوگر کافر ہیں؛ کیونکہ وہ علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں جو کہ کفر ہے، اور اس لئے بھی کہ وہ اپنے مقصد میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتے جب تک کہ جنوں سے خدمت نہ لیں اور ان کی عبادت نہ کریں، جو کہ اللہ پاک کے ساتھ کفر اور شرک ہے۔ جو شخص ان کے علمِ غیب کے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے، وہ بھی انہی کی طرح ہے، اور ایسا کرنے والوں سے ان امور کی جانکاری حاصل کرنے والے ہر شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں۔
علاج کے نام پر ان کے ذریعے انجام دیے جانے والے خرافات کو تسلیم کرنا بھی جائز نہيں ہے جیسے جادوئی لکیریں کھینچنا اور تحریریں لکھنا یا سیسہ انڈیلنا وغیرہ ۔ کیوں کہ یہ ساری چيزیں کہانت اور فریب کے دائرے میں آتی ہیں اور انھیں تسلیم کرنا انھیں کرنے والوں کے کفر اور باطل پر ان کی مدد کرنا ہے۔
اسی طرح کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ان کے پاس جاکر یہ دریافت کرے کہ اس کے بیٹے یا قریبی رشتہ دار کی شادی کس سے ہوگی یا پھر میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات اور باہمی محبت، وفاداری یا عداوت اور جدائی جیسی چیزوں کے بارے میں پوچھے۔ کیوں کہ یہ غیب کی باتیں ہیں، جو صرف اللہ پاک و برتر ہی کو معلوم ہیں۔
اس لیے حکام اور افسران وغیرہ، جن کے پاس طاقت اور باگ ڈور ہو، ان کی ذمے داری ہے کہ کاہنوں اور شعبدہ بازوں وغیرہ کے پاس جانے سے لوگوں کو روکیں اور بازاروں میں اس طرح کى کوئى بھی چیز کرنے والوں کو منع کریں اور ان کے پاس جانے والوں کو بھی روکیں۔
اسی طرح جادو بھی کفر تک پہنچانے والی محرمات میں سے ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے دو فرشتوں کے تعلق سے فرمایا ہے:
﴿...وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾
...اور وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔ [البقرۃ: ۱۰۲]
یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کفر ہے اور جادوگر میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے ہیں۔ نیز یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جادو بذات خود نفع و نقصان کی تاثیر نہیں رکھتا، بلکہ اللہ کی کونی و قدری اجازت سے اس میں تاثیر پیدا ہوتی ہے، کیونکہ اللہ پاک و برتر ہی وہ ذات ہے جس نے خیر و شر کو پیدا کیا ہے۔
اسی طرح یہ آیت کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو لوگ جادو سیکھتے ہیں، وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں، جو ان کے لئے مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ ہے اور ان کے لئے اللہ کے پاس کوئی حصہ نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک بہت بڑی وعید ہے، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا و آخرت میں ان کے لئے بڑا نقصان و خسارہ ہے اور انہوں نے نہایت معمولی قیمت میں اپنے آپ کو فروخت کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک و برتر نے اس پر ان کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿...وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾
اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔ [البقرة: 102] یہاں آیت میں وارد لفظ (شراء) کے معنی فروخت کرنے کے ہیں۔
اور ان افترا پردازوں کی وجہ سے نقصان بہت بڑھ گیا ہے، جنہوں نے یہ علوم مشرکین سے وراثت میں پائے ہیں اور ان کے ذریعے کمزور عقل والوں کو دھوکہ دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اللہ ہم کو کافی ہے اور وہ سب سے بہترین کارساز ہے۔
اللہ سے ہم دعا گو ہیں کہ جادوگروں، کاہنوں اور تمام شعبدہ بازوں کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سے ہم یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے اور مسلم حکمرانوں کو توفیق دے کہ ان سے لوگوں کو متنبہ کریں اور ان سے متعلق اللہ کے حکم کو نافذ کریں، تاکہ ان کے نقصان دہ اور خبیث کرتوتوں سے بندے مامون رہیں۔ یقینا اللہ بے پناہ سخی اور کرم فرما ہے۔
اللہ پاک نے بندوں کے لئے جادو واقع ہونے سے پہلے اس کے شر سے بچنے کے طریقے مشروع کر دیے ہیں اور اللہ پاک نے بندوں پر رحم کھاتے ہوئے، ان پر فضل واحسان کرتے ہوئے اور ان پر اپنی نعمت تمام کرتے ہوئے ان کے سامنے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر جادو واقع ہوجائے، تو اس کا علاج کیسے کریں۔
آنے والے سطور میں ان امور کی وضاحت کی جارہی ہے، جن کے ذریعہ جادو واقع ہونے سے پہلے اس کی خطرناکی سے بچا جا سکتا ہے اور شرعی طور پر ان مباح امور کی بھی وضاحت کی جا رہی ہے، جن کے ذریعہ جادو واقع ہونے کے بعد اس کا علاج کیا جا سکتا ہے، اور اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا: جادو کے خطرے سے بچنے کے لئے جو امور اختیار کئے جائیں، ان میں سب سے اہم اور نفع بخش طریقہ یہ ہے کہ شرعی اذکار، مسنون دعاؤں اور ماثور معوذات کے ذریعہ پناہ طلب کی جائے۔ جیسے ہر فرض نماز کے بعد سلام کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت کرنا، جو قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت ہے۔ اس سے مراد اللہ کا یہ فرمان ہے:
﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ255﴾
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے ، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ [البقرۃ: ۲۵۵]، اور سونے کے وقت بھی اس کی تلاوت کرے، کیونکہ ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي لَيْلَةٍ، لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرَبُهُ شَيْطَانٌ حَتَّى يُصْبِحَ». "جو شخص رات میں آیۃ الکرسی کی تلاوت کر لے، اللہ کی طرف سے اس کے لئے ایک محافظ مقرر رہتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں پھٹکتا"۔
اسی طرح ان سورتوں کی تلاوت بھی مفید ومحافظ ہے:
﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1﴾
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے.
﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.
﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں، [الناس: ۱] ہر فرض نماز کے بعد، صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد تین دفعہ اور شام میں مغرب کی نماز کے بعد تین دفعہ ان سورتوں کی تلاوت کرے۔
اسی طرح سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو رات کی ابتدا میں پڑھے۔ یہ دونوں آیتیں اس طرح ہیں :
﴿ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ285﴾
رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے، سورہ کے اخیر تک۔
جیساکہ نبی کریم ﷺ سے یہ ارشاد صحیح طور پر ثابت ہے: «مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ البَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ». "جو شخص رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے، اسے یہ کافی ہو جاتی ہیں"۔ اس کے معنی یہ ہیں واللہ اعلم کہ یہ دونوں آیتيں ہر برائی سے (حفاظت کے لئے) کافی ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح رات و دن میں اور کسی جگہ پر پڑاؤ ڈالتے وقت (اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کے شر سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی) پناہ طلب کرے۔ خواہ وہ جگہ عمارت ہو یا صحرا، فضا ہو یا سمندر۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: «مَن نَزَلَ مَنْزِلًا فَقالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِن شَرِّ ما خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيءٌ حتَّى يَرْتَحِلَ مِن مَنْزِلِهِ ذَلِكَ». جو شخص کسی جگہ پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھ لے: "میں اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں"، تو اُس کے وہاں سے کوچ کرنے تک اُسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اسی طرح مسلمان کو چاہئے کہ صبح وشام تین دفعہ یہ دعا پڑھا کرے: «بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيءٌ فِي الأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ». "اللہ کا نام لے کر کام شروع کرتا ہوں، جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین اور آسمان میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے"۔
کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے اس کی رغبت دلائی اور اس لئے بھی کہ یہ دعا ہر برائی سے محفوظ رہنے کا سبب ہے۔
دوسرا: جادو ہوجانے کے بعد اس کا علاج جن امور کے ذریعہ کیا جاتا ہے، وہ بھی کئی طرح کے ہیں:
نمبر ۱: اللہ کے حضور بکثرت گریہ وزاری کرنا اور اس سے سوال کرنا کہ وہ پریشانی کو دور کرے اور مصیبت کو زائل کرے۔
نمبر ۲: جادو کی جگہ کو جاننے کی کوشش کرنا کہ وہ زمین کے اندر ہے یا پہاڑ وغیرہ پر؛ جب جگہ معلوم ہو جائے اور اسے نکال کر تلف کردیا جائے، تو جادو بے کار ہوجاتا ہے، اور یہ جادو کے علاج میں سے ایک مفید ترین علاج ہے۔
نبمر ۳: شرعی اذکار واوراد کے ذریعے رقیہ کرنا، جو کہ بہت زیادہ ہیں؛ ان میں سے چند اذکار یہ ہیں:
ان اذکار واوراد میں سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ثابت قول ہے: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» "اے اللہ! اے لوگوں کے رب! پریشانی دور کردے اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے"۔ اس دعا کو تین بار پڑھا جائے۔
ان ہی اذکار واوراد میں سے: وہ رقیہ بھی ہے جسے پڑھ کر جبریل علیہ السلام نے اللہ کے نبی صلى اللہ علیہ وسمل کو دم کیا تھا۔ اور وہ اس طرح ہے: «بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ» "اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے اور ہر جان دار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں"۔ اس عمل کو تین بار دہرایا جائے۔
اور ان ہی اذکار واوراد میں سے یہ بھی ہے: - یہ علاج اس مرد کے لیے مفید ہے جسے اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے سے روکا گیا ہو - کہ وہ سبز بیری کے سات پتے لے، انھیں پتھر وغیرہ سے کوٹ کر ایک برتن میں ڈال دے، پھر اس میں اتنا پانی ڈالے جو غسل کے لیے کافی ہو اور اس پر پڑھے:
آیت الکرسی
﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ1﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو! [الکافرون : 1]، اور
﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1﴾
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے. [الإخلاص: 1]،
﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں. [الفلق: ۱]،
﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں. [الناس: ۱]
اور جادو کے بیان پر مشتمل سورہ اعراف کی درج ذیل آیتوں کی تلاوت کرے:
﴿وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ117 فَوَقَعَ ٱلۡحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ118 فَغُلِبُواْ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُواْ صَٰغِرِينَ119﴾
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔
پس حق ﻇاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا۔
پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے۔ [الأعراف: ۱۱۷۔ ۱۱۹]
اور سورہ یونس کی درج ذیل آیتوں کی تلاوت کرے:
﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِي بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖ79 فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ80 فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ81 وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ82﴾
اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو.
پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو۔
سو جب انہوں نے ڈاﻻ تو موسی ﴿علیہ السلام﴾ نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم ﻻئے ہو جادو ہے۔ یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو ابھی درہم برہم کیے دیتا ہے، اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔
اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں۔ [یونس: ۷۹-۸۲]
اور سورہ طہ کی درج ذیل آیتیں:
﴿قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَلۡقَىٰ65 قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ66 فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ67 قُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰ68 وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ69﴾
کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں.
جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں.
پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔
ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا۔
اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالدے کہ ان کی تمام کاریگری کووه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔ [طہ: ۶۵-۶۹]
مذکورہ آیتوں کو پانی میں پڑھنے کے بعد تین چلو پانی پی لے اور باقی پانی سے غسل کر لے۔ اس طرح بیماری دور ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ۔ بیماری دور ہونے تک دو یا اس سے زائد مرتبہ بھی پانی استعمال کرنے کی ضرورت پڑے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ اذکار، معوذات اور طریقے جادو کے شر اور دیگر شرور سے بچنے کے عظیم ترین اسباب ہیں، اور جادو کے اثر ہو جانے کے بعد اسے دور کرنے کے لئے بھی یہ سب سے بڑے ہتھیار ہیں؛ بشرطیکہ ان پر سچے دل، خالص ایمان، اللہ پر بھروسہ اور ان کے مضامین پر یقین کے ساتھ عمل کیا جائے۔
یہ ان امور کا بیان تھا جن کے ذریعہ جادو سے بچا جا سکتا اور اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
یہاں ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے، اور وہ ہے جادو کا علاج جادگروں کے عمل سے کرنا، جو کہ جنوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرنے یا دوسری عبادتوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے؛ تو یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ شیطانی عمل، بلکہ شرک اکبر ہے؛ اسی طرح کاہنوں (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں)، عرافین (غیب کى خبر دینے کا دعوى کرنے والوں) اور شعبدہ بازوں سے اس کا علاج کرانا اور ان کی بتائی ہوئی ترکیب اپنانا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ ایمان کی دولت سے خالی اور جھوٹے وفاجر ہوا کرتے ہیں، جو علم غیب کا دعوی کرتے اور لوگوں کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس جانے، ان سے سوال کرنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ اس کتابچہ کے آغاز میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ لہذا اس سے بچنا واجب ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ جب آپ سے نُشرہ کے تعلق سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «هِيَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ»، "یہ شیطانی عمل ہے"۔ اسے امام احمد اور ابوداود نے جید سند سے روایت کیا ہے۔
نُشرہ کا مطلب ہے جس شخص کو جادو کیا گیا ہو، اس سے جادو کے اثر کو زائل کرنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث سے مراد نشرہ کا وہ طریقہ ہے، جسے اہل جاہلیت انجام دیا کرتے تھے،جو یہ ہے کہ جادوکرنے والے سے کہا جائے کہ وہ جادو کو دور کرے یا پھر کسی دوسرے جادوگر کے ذریعہ جادو ہی کے توسط سے اسے دور کیا جائے۔
رہی بات شرعی رقیہ اور معوذات نیز مباح دواؤں سے اس کا علاج کرنے کی، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔ علامہ ابن قیم نے اور شیخ عبد الرحمن بن حسن رحمہما اللہ نے فتح المجید میں واضح طور پر یہ بات بیان کی ہے اور دیگر علما نے بھى اسے بیان کیا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرح کی برائی سے بچنے کے توفیق عطا کرے، ان کے دین کی حفاظت فرمائے، انہیں دین کی سمجھ بوجھ عطا کرے اور ہر اس عمل سے انہیں بچائے جو اللہ کی شریعت کے مخالف ہو۔
درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ﷺ پر، اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔
***
یہ وصیت 1402ھ میں، تحقيقاتي بحوث، افتا اور دعوت وارشاد کی جنرل پریذیڈنسی كى جانب سے، کتاچہ نمبر 17 میں شائع کى گئى تھى۔