PHPWord

 

 

التَّحْذِيرُ مِنَ البِدَعِ

 

 

بدعات سے ممانعت

 

 

لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ

رَحِمَهُ اللهُ

 

تالیف سماحۃ الشیخ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

 

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

پانچواں کتابچہ:

میلاد النبیﷺ اور دیگر میلادوں کے جشن کا حکم

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور ان کے اہل بیت اور صحابہ نیز آپ کى ہدایت کى پیروى کرنے والوں پر۔

اما بعد: بہت سے لوگوں کی طرف سے نبی ﷺ کے میلاد کے جشن منانے، اس دوران آپ کے لئے کھڑے ہونے، اور آپ پر سلام بھیجنے وغیرہ کے بارے میں بارہا سوال کیا گیا ہے کہ ان کا کیا حکم ہے؟

جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے میلاد یا کسی اور کے میلاد کا جشن منانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ دین میں نئی ایجاد کردہ بدعات میں سے ہے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نہیں کیا، نہ ہی آپ کے خلفائے راشدین نے، اور نہ ہی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے، اور نہ ہی ان کے بعد آنے والے تابعین نے جو قرون مفضلہ میں تھے، جبکہ وہ سنت کے سب سے زیادہ جاننے والے، رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے، اور آپ کی شریعت کی پیروی کرنے میں ہم سے زیادہ کامل تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح کتاب میں فرمایا:

﴿...وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْ...﴾

...اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ...

[الحشر: ۷] اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿...فَلۡيَحۡذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ يُصِيبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔ [سورہ النُّور: 63]، ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا21﴾

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے. [سورہ الاحزاب: 21]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ100﴾

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔ [التوبۃ:۱۰۰] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ [المائدۃ: ۳] اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اور نبی ﷺ سے یہ ارشاد ثابت ہے: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنهُ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ یعنی: وہ عمل مردود ہے، ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَلَيكُم بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيَّينَ مِنْ بَعدِي، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالةٌ». "تم میری سنت کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں داڑھوں سے پکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ (دین میں) ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ ان دونوں احادیث میں بدعت ایجاد کرنے اور اس پر عمل کرنے سے سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے،

اور اس طرح کی میلادوں کا ایجاد کرنا اس بات کو سمجھنے کے مترادف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے دین کو مکمل نہیں کیا، اور رسول کریم ﷺ نے وہ سب کچھ نہیں پہنچایا جس پر امت کے لیے عمل کرنا ضروری تھا، یہاں تک کہ بعد کے لوگوں نے آکر اللہ کے دین میں وہ چیزیں ایجاد کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؛ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ یہ چیزیں انہیں اللہ کے قریب کر دیں گی۔ اور اس میں بلا شبہ بڑا خطرہ ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے دین کو مکمل کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمت پوری کردی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح پیغام پہنچا دیا ہے، اور کوئی راستہ جو جنت تک پہنچاتا ہو اور جہنم سے دور کرتا ہو، نہیں چھوڑا مگر اسے امت کے لیے واضح کردیا، جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «مَا بَعَثَ اللهُ مِن نَبِيٍ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيهِ أَن يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُم، وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ». "اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنی امت کو اس خیر کی طرف رہنمائی کرے جو وہ ان کے لیے جانتا تھا، اور ان کو اس شر سے ڈرائے جو وہ ان کے لیے جانتا تھا"۔ [صحیح مسلم]۔

یہ بات معلوم ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل اور خاتم الانبیاء ہیں، اور تبلیغ و نصیحت میں سب سے کامل ہیں۔ اگر میلاد کا جشن دین کا حصہ ہوتا جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امت کے لیے واضح کیا ہوتا، یا اپنی زندگی میں اس کا اہتمام کیا ہوتا، یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے انجام دیا ہوتا۔ جب ان میں سے کوئی چیز واقع نہیں ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ اسلام کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان بدعات میں سے ہے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو خبردار کیا ہے، جیسا کہ احادیث میں اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اس باب میں آیات اور احادیث بڑی تعداد میں موجود ہے۔

مذکورہ دلائل اور دیگر دلائل کی بنیاد پر متعدد علماء نے میلاد کے انکار اور اس سے بچنے کی تاکید کی ہے؛ جبکہ بعض متاخرین نے اختلاف کیا اور اس کی اجازت دی بشرطیکہ اس میں کوئی منکر عمل شامل نہ ہو؛ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو، مردوں اور عورتوں کا اختلاط، آلاتِ لہو ولعب کا استعمال، اور دیگر وہ امور جنہیں شریعتِ مطہرہ ناپسند کرتی ہے، اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ بدعتِ حسنہ میں سے ہے۔

شرعی قاعدہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان جو بھی تنازع ہو، اسے کتاب اللہ اور سنت رسول محمد ﷺ کی طرف لوٹایا جائے، جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا59﴾

اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ [النساء: ۵۹] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ...﴾

اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے ... [سورہ الشورى: 10]

ہم نے اس مسئلے کو، یعنی: میلاد کے جشن کو اللہ کی کتاب کی طرف لوٹایا، تو ہم نے پایا کہ یہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ کی پیروی کرنے کا حکم دیتی ہے، اور جس سے آپ نے منع فرمایا ہے اس سے ہمیں خبردار کرتی ہے، اور ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے اس کا دین مکمل کر دیا ہے، اور یہ جشن ان چیزوں میں سے نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے؛ لہذا یہ اس دین کا حصہ نہیں ہے جسے اللہ نے ہمارے لیے مکمل کیا ہے، اور جس میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔

ہم نے اس کو سنت رسول ﷺ کی طرف بھی لوٹایا تو ہمیں اس میں نہ تو یہ ملا کہ آپ ﷺ نے اسے کیا ہو، نہ اس کا حکم دیا ہو، اور نہ ہی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے کیا ہو؛ تو ہم نے جان لیا کہ یہ دین میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ بدعات محدثات میں سے ہے، اور یہود و نصاریٰ کی عیدوں میں ان کی مشابہت اختیار کرنے کے قبیل سے ہے۔

اس سے ہر اس شخص پر واضح ہو جاتا ہے جس کے پاس ادنیٰ بصیرت اور حق کی طلب میں انصاف ہو کہ میلاد کا جشن دین اسلام میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ بدعات و خرافات میں سے ہے جنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے چھوڑنے اور ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ عقل مند انسان کو ان لوگوں کی کثرت سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے جو اس پر مختلف ممالک میں عمل کرتے ہیں، کیونکہ حق کثرتِ عاملین سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ شرعی دلائل سے پہچانا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرمایا:

﴿وَقَالُواْ لَن يَدۡخُلَ ٱلۡجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوۡ نَصَٰرَىٰۗ تِلۡكَ أَمَانِيُّهُمۡۗ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ111﴾

یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو۔ [البقرۃ: ۱۱۱]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ...﴾

اور دنیا میں زیاده لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وه آپ کو اللہ کی راه سے بے راه کردیں... [الانعام: ۱۱۶]

پھر یہ کہ اکثر میلاد کی یہ محفلیں بدعت ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر منکرات سے بھی خالی نہیں ہوتیں؛ جیسے مردوں اور عورتوں کا اختلاط، گانے بجانے کا استعمال، مسکرات اور منشیات کا استعمال، اور دیگر برائیاں اور غلط کام۔ اور اس میں اس سے بھی بڑا گناہ واقع ہو سکتا ہے، یعنی شرک اکبر، جو رسول اللہ ﷺ یا دیگر اولیاء کے بارے میں غلو کرنے، ان کو پکارنے، ان سے فریاد کرنے، ان سے مدد طلب کرنے، اور یہ اعتقاد رکھنے میں ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں، اور اس طرح کی دیگر کفریہ باتیں جو بہت سے لوگ نبی کریم ﷺ کے میلاد، یا آپ کے علاوہ جنہیں وہ اولیاء کہتے ہیں، ان کے میلاد کے موقع پر کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِيَّاكُم وَالغُلُوُّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَن كَانَ قَبْلَكُم الغُلُوَّ فِي الدِّينِ». ”تم دین میں غلو سے بچو، اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا ہے“۔ اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، إِنَّمَا أَنَا عَبدٌ، فَقُولُوا: عَبدُ اللهِ وَرَسُولُه». "میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو"۔ اسے بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

اور یہ بھی عجیب و غریب بات ہے کہ بہت سے لوگ ان بدعتی محفلوں میں شرکت کے لیے سرگرم اور کوشاں رہتے ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں، اور ان چیزوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو اللہ نے ان پر فرض کی ہیں جیسے جمعہ اور جماعت کی نمازوں میں شرکت، اور اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے، اور نہ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑا منکر کام کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایمان کی کمزوری، بصیرت کی کمی، اور دلوں پر گناہوں اور معاصی کی کثرت کا نتیجہ ہے۔ ہم اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے عافیت کی دعا کرتے ہیں۔

اس کی مثال: ان میں سے بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میلاد میں حاضر ہوتے ہیں؛ اسی لیے وہ کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کرتے ہیں، یہ سب سے بڑی باطل بات اور بدترین جہالت ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن سے پہلے اپنی قبر سے نہیں نکلیں گے، نہ ہی کسی سے رابطہ کرتے ہیں، نہ ہی ان کے اجتماعات میں حاضر ہوتے ہیں، بلکہ آپ ﷺ اپنی قبر میں قیامت کے دن تک مقیم رہیں گے، اور آپ کی روح اپنے رب کے پاس کرامت والى جگہ میں اعلیٰ علیین میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ15 ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ16﴾

اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔

پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے. [المؤمنون: ۱۵- ۱۶]۔

اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ القَبْرُ يَومَ القِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوًّلُ مُشَفَّعٍ». ’’قیامت کے دن سب سے پہلے میں قبر سے نکلوں گا، اور میں سب سے پہلا شافع ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی‘‘۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بہترین درود و سلام نازل ہو۔

پس یہ دونوں آیات کریمہ، اور حدیث شریف، اور ان کے معنی میں جو آیات و احادیث آئی ہیں یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ اور دیگر اموات اپنی قبروں سے قیامت کے دن ہی نکلیں گے، اور یہ بات علماے اسلام کے درمیان متفق علیہ ہے؛ اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پس ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان امور پر توجہ دے اور جاہلوں اور ان جیسے لوگوں کی پیدا کردہ بدعات اور خرافات سے بچتا رہے؛ جن کے لئے اللہ تعالی نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے، اور اسی پر بھروسہ ہے، اور اس کی توفیق کے بغیر نہ برائیوں سے پھرنے کى طاقت ہے اور نہ ہی نیکیوں کے کرنے کى کوئی قوت۔

اللہ کے رسول ﷺ پر درود و سلام بھیجنا بہترین نیکی اور صالح اعمال میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا56﴾

اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ [سورہ الاحزاب: 56] اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً؛ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ بِهَا عَشْرًا». ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس کى بنا پر اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ یہ ہر وقت مشروع ہے، اور ہر نماز کے آخر میں اس کی تاکید ہے، بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک ہر نماز کے آخری تشہد میں واجب ہے۔ اس کے سنت ہونے کی تاکید کئی مواقع پر ہے؛ ان میں اذان کے بعد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے وقت، اور جمعہ کے دن اور اس کی رات شامل ہیں، جیسا کہ بہت سی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین کی صحیح سمجھ اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائے، اور سب کو سنت کی پیروی کرنے اور بدعت سے بچنے کی توفیق عطا کرے۔ یقینا وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

چھٹا کتابچہ:

شب اسراء ومعراج میں جشن کا حکم

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور ان کے اہل بیت اور صحابہ پر۔

اما بعد: اس میں کوئی شک نہیں کہ اسراء و معراج اللہ کی عظیم نشانیوں میں سے ہیں جو اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت اور اللہ جل جلالہ کے نزدیک ان کے بلند مقام کی دلیل ہیں، اور یہ اللہ کی بے پناہ قدرت اور اس کی تمام مخلوقات پر برتری کی نشانیوں میں سے بھی ہیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:

﴿سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ1﴾

پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے۔ [الاسراء: ۱]

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ کو آسمانوں کی طرف لے جایا گیا، اور ان کے دروازے آپ کے لئے کھول دیے گئے یہاں تک کہ آپ ساتویں آسمان سے بھی آگے گزر گئے، اور آپ کے پاک رب نے آپ سے جو چاہا کلام کیا، اور آپ پر پانچ نمازیں فرض کیں، حالاں کہ اللہ ـ سبحانہ ـ نے پہلے پچاس نمازیں فرض کی تھیں، لیکن ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم بار بار اللہ سے تخفیف کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں پانچ کر دیا گیا، یہ پانچ فرضیت میں ہیں، اور اجر میں پچاس؛ کیونکہ ایک نیکی کا اجر دس گنا ہوتا ہے، تو اللہ کا شکر اور حمد ہے اس کی تمام نعمتوں پر۔‘‘

وہ رات جس میں اسراء ومعراج کا واقعہ پیش آیا، اس کی تعیین کے بارے میں نہ رجب میں اور نہ ہی کسی اور مہینے میں کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے، اور جو کچھ بھی اس کی تعیین کے بارے میں وارد ہوا ہے وہ اہل علم کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے، اللہ کی حکمت بالغہ ہے کہ لوگوں کو اس کا علم نہیں دیا، اور اگر اس کی تعیین ثابت بھی ہو جاتی تو مسلمانوں کے لیے جائز نہ ہوتا کہ وہ اس رات کو کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کریں، اور نہ ہی ان کے لیے جائز ہوتا کہ وہ اس کا جشن منائیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا جشن نہیں منایا اور نہ ہی اسے کسی خاص عمل کے لیے مخصوص کیا۔ اگر اس رات کا جشن منانا مشروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے امت کو اپنے قول یا عمل سے اس کی وضاحت فرمائی ہوتی، اور اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو وہ معروف اور مشہور ہوتا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہم تک نقل کرتے، کیونکہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے ہر وہ چیز نقل کی ہے جس کی امت کو ضرورت ہے، اور دین کے کسی معاملے میں کوتاہی نہیں کی، بلکہ وہ ہر خیر کے کام میں سبقت کرنے والے ہیں، تو اگر اس رات کا جشن منانا مشروع ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس کی طرف سبقت کرتے۔ اور نبی ﷺ لوگوں کے لئے سب سے زیادہ خیرخواہ ہیں، آپ نے رسالت کو پوری طرح پہنچا دیا اور امانت کو ادا کر دیا۔ اگر اس رات کی تعظیم اور اس کا جشن منانا دین کا حصہ ہوتا تو نبی ﷺ اسے نظرانداز نہ کرتے اور نہ ہی اسے چھپاتے۔ جب ایسا کچھ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا جشن منانا اور تعظیم کرنا اسلام کا حصہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے اس کے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو اس پر تمام کر دیا ہے، اور ان لوگوں کی مذمت کی جو دین میں ایسی چیزیں داخل کرتے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح کتاب میں فرمایا:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ [المائدۃ: ۳]، اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ21﴾

کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں ۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان) ﻇالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے۔ [الشوری: ۲۱]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں ثابت ہے: بدعتوں سے خبردار کرنا، اور صراحت کے ساتھ ان کو گمراہی قرار دینا؛ تاکہ امت کو ان کے عظیم خطرے سے آگاہ کیا جائے، اور ان کے ارتکاب سے نفرت دلائی جائے، مثلاً: صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔ صحیح مسلم کى ایک روایت یوں ہے: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيهِ أَمْرَنَا؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے: «أَمَا بَعْدَ، فَإِنَّ خَيرَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». "امّابعد؛ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ نسائی نے بسندِ جید یہ اضافہ کیا ہے: «وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ». "اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے" اور سنن میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نہایت بلیغ وعظ ارشاد فرمایا، جس سے دل ڈر گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو گویا الوداع کہنے والے کا وعظ ہے، تو ہمیں وصیت فرما دیجئے! تو آپ نے فرمایا: «أُوصِيكُم بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيكُم عَبدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُم فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيكُم بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخلُفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُم وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٍ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی کیوں نہ امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا، چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ (دین میں) ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد سلف صالحین سے ثابت ہے کہ انہوں نے بدعتوں سے خبردار کیا اور ان سے ڈرایا؛ یہ اس لیے کہ بدعت دین میں اضافہ ہے، اور ایسی شریعت سازى ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی، یہ اللہ کے دشمنوں یعنی یہود و نصاریٰ کی مشابہت ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں اضافہ کیا اور ایسی چیزیں ایجاد کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی، اس کا لازمی نتیجہ دین اسلام کی تنقیص اور اس پر عدم کمال کا الزام ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اس میں عظیم فساد، شدید منکر اور اللہ جل جلالہ کے قول کے ساتھ شدید ٹکراؤ ہے۔

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ...﴾

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا [المائدۃ: ۳]، اور اس میں رسول علیہ الصلاة والسلام کی ان احادیث کی صریح مخالفت ہے جو بدعتوں سے خبردار کرتی اور ان سے نفرت دلاتی ہیں۔

امید ہے کہ مذکورہ دلائل طالبِ حق کے لئے بدعتِ شب اسراء ومعراج کے انکار اور اس سے خبردار کرنے کے لیے کافی وشافی ہوں گے، اور یہ بیان کرنے کے لئے کہ دین اسلام سے ان کا کوئى بھی ناطہ نہیں ہے۔

اور چونکہ اللہ نے مسلمانوں کو نصیحت کرنے اور ان کے لئے دین کے احکام کو واضح کرنے کو واجب قرار دیا ہے، اور علم کو چھپانا حرام ٹھہرایا ہے؛ میں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو اس بدعت پر متنبہ کرنا ضروری سمجھا، جو بہت سے ملکوں میں پھیل چکی ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اسے دین کا حصہ سمجھ لیا ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے، انہیں دین کی سمجھ عطا کرے، ہمیں اور انہیں حق پر قائم رہنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے، اور جو اس کے مخالف ہو اسے چھوڑنے کی توفیق دے۔ یقینا اللہ ہی اس پر قادر ہے اور وہی اس کی طاقت رکھتا ہے۔

اللہ درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے آل بیت اور صحابہ کرام پر۔

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

ساتواں کتابچہ:

پندرھویں شعبان کی شب کے جشن منانے کا حکم

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے دین کو مکمل کیا، ہم پر نعمت کو بھرپور کیا، اور درود و سلام ہو اللہ کے نبی اور رسول محمد ﷺ پر جو نبیِ توبہ و رحمت ہیں۔

امابعد! اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ [المائدۃ: ۳]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ...﴾

کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں... [سورہ الشوریٰ: 21] صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ جمعہ کے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: «أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ خَيرَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». "امّا بعد: سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ اس معنی میں آیات اور احادیث بہت زیادہ وارد ہوئی ہیں، جو اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے اس کے دین کو مکمل کردیا ہے، اور اپنی نعمت کو اس پر تمام کردیا ہے، اور نبی کریم ﷺ کی وفات اس وقت تک نہیں ہوئی جب تک آپ نے واضح طور پر تبلیغ نہیں کردی، اور امت کے لیے وہ سب کچھ بیان نہیں کردیا جو اللہ نے امت کے لیے اقوال و اعمال کے طور پر مشروع کیا ہے۔ نبی ﷺ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ لوگوں کی طرف سے آپ ﷺ کے بعد دین اسلام کی طرف منسوب کیا جانے والا ہر قول یا عمل بدعت ہے اور وہ اس شخص پر مردود ہے جس نے اسے ایجاد کیا، چاہے اس کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کو سمجھا، اور اسی طرح ان کے بعد کے علماے اسلام نے بھی بدعتوں کا انکار کیا اور ان سے خبردار کیا، جیسا کہ ان تمام مؤلفین نے ذکر کیا ہے جنہوں نے سنت کی تعظیم اور بدعت کے انکار پر کتابیں تصنیف کیں؛ جیسے ابن وضاح، طرطوشی، اور ابو شامة وغیرہ۔

اور ان بدعتوں میں سے جو بعض لوگوں نے ایجاد کی ہیں یہ بھی ہے: نصف شعبان کی شب کا جشن منانا اور اس کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرنا، اس پر کوئی قابل اعتماد دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ اس کی فضیلت میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ ضعیف ہیں، جن پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔

"جہاں تک اس رات میں نماز کی فضیلت کے بارے میں وارد احادیث کی بات ہے؛ تو وہ سب موضوع ہیں، جیسا کہ اس پر بہت سے اہل علم نے تنبیہ کی ہے، اور ان شاء اللہ ان کے بعض اقوال کا ذکر آئے گا۔

اور اس سلسلے میں اہل شام وغیرہ میں سے بعض سلف صالحین کے کچھ آثار بھى منقول ہیں۔

جمہور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کا جشن منانا بدعت ہے، اور اس کی فضیلت میں وارد ہونے والی تمام احادیث ضعیف ہیں، بلکہ بعض موضوع بھی ہیں، حافظ ابن رجب نے اپنی کتاب (لطائف المعارف) میں اس کی نشاندہی کی ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ ضعیف احادیث پر صرف ان عبادات میں عمل کیا جاتا ہے جن کی اصل صحیح دلائل سے ثابت ہو چکی ہو۔ جہاں تک پندرھویں شعبان کی شب کے جشن منانے کا تعلق ہے، تو اس کى کوئی صحیح اصل موجود نہیں ہے کہ جس کے لیے ضعیف احادیث سے تائید حاصل کیا جاسکے۔ اس عظیم قاعدہ کا ذکر امام ابو العباس شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کیا ہے۔

اور میں ـ اے قاری ـ آپ کے لیے اس مسئلہ میں بعض اہل علم کا قول نقل کرتا ہوں، تاکہ آپ اس مسئلہ سے بخوبی واقف رہیں۔

علماء کرام رحمہم اللہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ لوگوں کے درمیان جس مسئلہ میں تنازع ہو، اسے اللہ جل جلالہ کى کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کى طرف لوٹانا واجب ہے، اور جو ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے مطابق ہو، وہی شریعت ہے جس کی پیروی واجب ہے، اور جو ان کے خلاف ہو، اسے ترک کرنا واجب ہے، اور جو عبادات ان دونوں میں وارد نہیں ہیں، وہ بدعت ہیں جنہیں انجام دینا جائز نہیں، چہ جائیکہ ان کی دعوت دی جائے یا ان کی تحسین کی جائے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا59﴾

اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔ [النساء: ۵۹] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ...﴾

اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے... [سورہ الشورى: 10] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ...﴾

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا... [آل عمران: 31] اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا65﴾

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ [النساء: ۶۵] اس معنی کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ نص ہیں کہ اختلافی مسائل کو کتاب و سنت کی طرف لوٹانا اور ان کے حکم سے راضی ہونا واجب ہے، اور یہى ایمان کا تقاضا ہے، اور بندوں کے لئے دنیا و آخرت میں بہتر ہے، اور بطور انجام بھی۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ اپنی کتاب ”لطائف المعارف“ میں اس مسئلے پر، سابقہ گفتگو کے بعد، یوں رقم طراز ہیں:

اور پندرھویں شعبان کی رات کو شام کے تابعین جیسے خالد بن معدان، مکحول، لقمان بن عامر وغیرہ بہت عظمت دیتے تھے اور اس رات عبادت میں خوب محنت کرتے تھے، اور انہی سے لوگوں نے اس رات کی فضیلت اور عظمت کو اخذ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اس بارے میں اسرائیلی روایات پہنچی تھیں، جب یہ بات ان کے بارے میں مشہور ہوگئی تو لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوا؛ کچھ لوگوں نے ان کی بات کو قبول کیا اور ان کی تعظیم میں ان کی موافقت کی، ان میں بصرہ کے عبادت گزاروں کی ایک جماعت اور دیگر لوگ شامل تھے۔ اور اس پر حجاز کے اکثر علما نے سخت نکیر کی ہے، جن میں عطاء اور ابن ابی ملیکہ شامل ہیں، اور اسے عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے فقہائے اہل مدینہ سے نقل کیا ہے، اور اصحاب مالک وغیرہم کا یہی قول ہے، ان سب نے کہا: یہ سب بدعت ہے۔

اہل شام کے علماء کے مابین اس رات کی شب بیداری کی صفت کے بارے میں دو اقوال ہیں۔

ایک یہ کہ اس رات کو مساجد میں اجتماعی طور پر شب بیداری کرنا مستحب ہے، خالد بن معدان، لقمان بن عامر وغیرہم اس رات میں اپنے بہترین کپڑے پہنتے، خوشبو اور سرمہ لگاتے، اور مسجد میں قیام کرتے تھے، اس بات میں اسحاق بن راہویہ نے بھی ان کی موافقت کی ہے‘ مساجد میں جماعت کے ساتھ قیام کرنے سے متعلق اسحاق بن راہویہ کا کہنا ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے، اسے حرب کرمانی نے اپنے مسائل میں نقل کیا ہے۔

دوسرا یہ کہ مساجد میں نماز، قصے گوئی اور دعا کے لیے اجتماع کرنا حرام ہے، لیکن کسی شخص کا ذاتی طور پر وہاں نماز پڑھنا حرام نہیں ہے۔ یہ اہل شام کے امام، فقیہ اور عالم اوزاعی کا قول ہے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ یہ قول زیادہ قریب ہے"۔ اور اپنى بات کو جارى رکھتے ہوئے یہ بات کہی: "اور امام احمد سے نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی قول معروف نہیں ہے، اور عیدین کی راتوں کے قیام کے بارے میں ان سے دو روایتیں آئی ہیں، جن سے نصف شعبان کی رات قیام کے استحباب میں ان سے دو روایتوں کى تخریج ہوتی ہے، کیونکہ (ایک روایت میں) انہوں نے عیدین کی راتوں کے قیام کو جماعت کے ساتھ مستحب نہیں کہا؛ کیونکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ سے اس کے بارے میں کچھ منقول نہیں ہے۔ اور (ایک روایت میں) انہوں نے اسے مستحب کہا ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن یزید بن اسود نے ایسا کیا، اور وہ تابعین میں سے ہیں۔ تو اسی طرح نصف شعبان کی رات کا قیام بھی ہے، اس کے بارے میں نبی ﷺ یا ان کے صحابہ سے کچھ ثابت نہیں ہے، البتہ اہل شام کے بعض معروف فقہاء تابعین سے اس کے بارے میں ثبوت ہے۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کے کلام کا مقصود ختم ہوا، اور اس میں ان کی یہ صراحت ہے کہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں نبی ﷺ یا آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔

اور رہی بات امام اوزاعی – رحمہ اللہ – کا انفرادی طور پر قیام کو مستحب قرار دینے، اور حافظ ابن رجب کا اس قول کو اختیار کرنے کی، تو یہ غریب (شاذ) اور ضعیف قول ہے؛ کیونکہ کوئى بھی چیز جس کا شرعی دلائل سے مشروع ہونا ثابت نہ ہو، مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے دینِ الہی میں ایجاد کرے، چاہے وہ اسے انفرادی طور پر کرے یا جماعت میں، اور چاہے وہ اسے چھپائے یا ظاہر کرے؛ نبی ﷺ کی اس عمومی حدیث کی وجہ سے: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيهِ أَمْرُنَا؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ اور ان دلائل کی وجہ سے جو بدعتوں کے انکار اور ان سے خبردار کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔

امام ابوبکر طرطوشی ـ رحمہ اللہ ـ نے اپنی کتاب: «الحوادث والبدع» میں یہ بات لکھی ہے:

"ابن وضاح نے زید بن اسلم سے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہم نے اپنے مشائخ اور فقہاء میں سے کسی کو بھی پندرھویں شعبان کی طرف توجہ دیتے نہیں دیکھا، اور نہ ہی وہ مکحول کی حدیث کی طرف توجہ دیتے تھے، اور نہ ہی اس رات کو دیگر راتوں پر کوئی فضیلت دیتے تھے"۔

ابن ابی ملیکہ سے کہا گیا: زیاد نمیری کہتے ہیں: «نصف شعبان کی رات کا اجر شب قدر کے اجر کے برابر ہے»، تو فرمایا: "اگر میں اسے سنتا اور میرے ہاتھ میں چھڑی ہوتی تو میں اسے مار دیتا"۔ زیاد قصہ گو تھے۔ (بات ختم ہوئی۔)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ اپنی کتاب «الفوائد المجموعة» میں فرماتے ہیں:

یہ حدیث موضوع ہے: ''اے علی! جو شخص شعبان کی پندرہویں رات میں سو رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص دس مرتبہ پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت پوری کرے گا''۔ تو یہ موضوع حدیث ہے اور اس کے الفاظ میں اس پر عمل کرنے والے کو ملنے والے اجر وثواب کی جو صراحت آئی ہے، اس کے وضع ہونے میں کوئی صاحب تمیز شک نہیں کر سکتا، اور اس کے روات مجہول ہیں، اور یہ دوسرے اور تیسرے طرق سے بھی مروی ہے، جو سب کے سب موضوع ہیں اور ان کے روات مجہول ہیں۔ المختصر میں کہا: نصف شعبان کی نماز والی حدیث باطل ہے، اور ابن حبان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا: ”جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس کی رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو“، یہ حدیث ضعیف ہے۔ اور «اللآلئ» میں کہا: «نصف شعبان کی رات میں سو رکعت نماز، ہر رکعت میں دس مرتبہ سورہ اخلاص» یہ حدیث اپنى بھارى بھر کم فضیلت کے باوجود، جو دیلمی وغیرہ میں مروى ہے, موضوع ہے، اور تینوں طرق کے اکثر راوی مجہول اور ضعیف ہیں۔ کہا: "اور بارہ رکعتیں اخلاص کے ساتھ تیس مرتبہ" موضوع ہے، "اور چودہ رکعتیں" موضوع ہے۔

اور اس حدیث سے بعض فقہاء جیسے صاحب "الإحیاء" وغیرہ اور بعض مفسرین بھی دھوکہ کھا گئے ہیں، اور پندرہویں شعبان کى رات کی نماز ـ یعنی: شب برات کی نماز ـ مختلف طریقوں سے وارد ہوئی ہے جو سب کی سب باطل اور موضوع ہیں۔ اور یہ ترمذی کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروى ہے کہ رسول اللہ ﷺ بقیع تشریف لے گئے، اور پندرھویں شعبان کی رات رب آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے، اور وہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے، کیونکہ بات تو اس رات میں

گڑھ لى گئى نماز کے بارے میں ہورہی ہے۔ مزید یہ کہ عائشہ - رضی اللہ عنہا- کی یہ حدیث ضعیف اور منقطع ہے، جیسا کہ علی - رضی اللہ عنہ- کی حدیث جو اس رات قیام اللیل کے بارے میں پہلے ذکر کی گئی، اس نماز کے موضوع ہونے کے ساتھ متناقض نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس میں بھی ضعف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا "۔ انتہى

حافظ عراقی نے فرمایا: ’’نصف شعبان کی رات کی نماز والی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑی ہوئی اور جھوٹ ہے۔‘‘ امام نووی نے اپنی کتاب (المجموع) میں فرمایا: "وہ نماز جو صلاة الرغائب کے نام سے معروف ہے، جو بارہ رکعت ہے اور مغرب و عشاء کے درمیان ماہِ رجب کے پہلے جمعہ کی شب کو پڑھی جاتی ہے، اور نصف شعبان کی شب کو سو رکعت کی نماز، یہ دونوں نمازیں بدعت اور منکر ہیں، اور ان کا ذکر (قوت القلوب) اور (احیاء علوم الدین) میں ہونے سے دھوکہ نہ کھائیں، اور نہ ہی ان میں مذکور حدیث سے، کیونکہ یہ سب باطل ہيں، اور نہ ہی ان ائمہ سے دھوکہ کھائیں جن پر ان کا حکم مشتبہ ہوا اور انہوں نے ان کے استحباب میں کئی صفحات لکھ دیے، کیوں کہ اس معاملے میں ان سے غلطی ہوگئی"۔

شیخ امام ابو محمد عبدالرحمن بن اسماعیل المقدسی نے اس موضوع پر ایک نہایت قیمتی کتاب تصنیف کی ہے، جس میں انہوں نے بہترین انداز میں اس کی تردید کی ہے۔ اس مسئلے پر اہل علم کے اقوال بہت زیادہ ہیں، اور اگر ہم اس مسئلے پر موجود تمام اقوال کو نقل کرنے لگیں تو بات بہت طویل ہوجائے گی۔ امید ہے کہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے، وہ حق کے طالب کے لیے کافی اور قانع کرنے والا ہوگا۔

مذکورہ بالا آیات، احادیث اور اہل علم کے اقوال سے حق کے طالب کے لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پندرھویں شعبان کی شب میں نماز یا دیگر عبادات کے ساتھ جشن منانا، اور اس کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرنا؛ اکثر اہل علم کے نزدیک ایک منکر بدعت ہے، اور شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کے بعد پیدا ہوا ہے، اور اس باب میں اور دیگر امور میں حق کے طالب کے لیے اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان کافی ہے:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ...﴾

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا [المائدۃ: ۳] اور اس معنیٰ کى دیگر آیتیں، اور نبی ﷺ کا یہ ارشاد بھی کافی ہے: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ اور اس معنی کى دیگر حدیثیں۔

صحیح مسلم میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَهَا بِالصِّيَامِ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ». "تم جمعے کی رات کو دوسری راتوں کے درمیان قیام (نفلی نماز وغیرہ) کے لیے خاص نہ کرو اور نہ جمعے کے دن کو دوسرے دنوں کے درمیان سے روزے کے لیے خاص کرو مگر یہ کہ جمعہ اس مدت میں آجائے جس میں تم میں سے کوئی روزے رکھتا ہو"۔ اگر کسی رات کو کسی خاص عبادت کے لئے مخصوص کرنا جائز ہوتا، تو جمعہ کی رات دیگر راتوں سے زیادہ مستحق ہوتی؛ کیونکہ اس کا دن سب سے بہترین دن ہے جس میں سورج نکلتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ جب نبی ﷺ نے اس رات کو دیگر راتوں کے بالمقابل قیام کے لیے مخصوص کرنے سے منع فرمایا، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دیگر راتوں کو بھی کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کرنا جائز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی صحیح دلیل اس تخصیص پر دلالت کرے۔

جب شب قدر اور رمضان کی راتوں میں قیام اور شب بیداری مشروع تھی، تو نبی ﷺ نے اس کی طرف توجہ دلائی اور امت کو اس کے قیام کی ترغیب دی، اور خود بھی ایسا کیا، جیسا کہ صحیحین میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جس نے شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ اگر پندرہویں شعبان کی رات، یا رجب کی پہلی جمعہ کی رات، یا شبِ معراج کو کسی جشن یا عبادت کے لیے مخصوص کرنا مشروع ہوتا، تو نبی ﷺ نے امت کو اس کی رہنمائی فرمائی ہوتی، یا خود اس کو انجام دیا ہوتا۔ اور اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے امت تک پہنچاتے اور اسے امت سے نہ چھپاتے، کیونکہ وہ بہترین لوگ ہیں اور انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے زیادہ خیرخواہ ہیں نیز اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے راضی ہوا اور انہیں راضی بھی کیا۔

اور آپ نے علماء کے کلام سے پہلے ہی جان لیا ہے کہ نہ رسول اللہ ﷺ سے اور نہ ہی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے رجب کی پہلی جمعہ کی رات یا نصف شعبان کی رات کی فضیلت میں کچھ ثابت ہے، تو معلوم ہوا کہ ان دونوں راتوں کا جشن منانا اسلام میں ایک نئی بدعت ہے، اور اسی طرح ان کو کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کرنا بھی ایک منکر بدعت ہے۔ اسی طرح سابقہ دلائل کی بنا پر رجب کی ستائیسویں رات، جسے بعض لوگ شب معراج سمجھتے ہیں، اس رات کو بھی کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کا جشن منانا جائز ہے، یہ تو تب ہے جب اس کا علم ہو، جبکہ علماء کے صحیح اقوال کے مطابق یہ رات نا معلوم ہے۔ اور جو یہ کہتا ہے کہ رجب کی ستائیسویں رات (ہی اسراء ومعراج کی رات) ہے، تو اس کا قول باطل ہے اور صحیح احادیث میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے:

اور سب سے بہتر امور وہ ہیں جو ہدایت پر گذر چکى ہیں... اور سب سے بری چیزیں نئی نئی بدعات ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو سنت پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس کى مخالف چیزوں سے بچنے کی توفیق عطا کرے، بے شک وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔

اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہمارے نبی محمد پر اور آپ کى تمام آل اور تمام صحابہ پر۔

 

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

آٹھواں کتابچہ:

نہایت اہم تنبیہ اس وصیت کے جھوٹے ہونے پر جو منسوب کى جاتی ہےحرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کى طرف

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے تمام مسلمانوں کی خدمت میں، اللہ انہیں اسلام کے ذریعے محفوظ رکھے، اور ہمیں اور انہیں ظالم جاہلوں کی من گھڑت باتوں سے بچائے، آمین۔

آپ سب پر سلامتی اور اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

اما بعد: میں نے ایک تحریر دیکھی جو حرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کی طرف منسوب ہے، جس کا عنوان ہے: «یہ ایک وصیت ہے مدینہ منورہ سے حرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کی طرف سے»، جس میں انہوں نے کہا:

’’میں جمعہ کی رات جاگ رہا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا، اور اللہ کے اسماء حسنى کے پڑھنے کے بعد جب میں فارغ ہوا تو سونے کی تیاری کی۔ پھر میں نے خواب میں صاحبِ رخ انور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، جو رحمة للعالمین اور ہمارے سردار محمد ﷺ ہیں، اور جو قرآن کی آیات اور شریعت کے احکام لے کر آئے، تو آپ نے فرمایا: اے شیخ احمد، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، اے اللہ کى سب سے مکرم مخلوق!"۔ تو آپ نے مجھ سے کہا: میں لوگوں کے قبیح اعمال سے شرمندہ ہوں، اور میں اپنے رب اور فرشتوں کا سامنا نہیں کر سکتا؛ کیونکہ جمعہ سے جمعہ تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد بغیر دین اسلام کے مر گئے- پھر آپ نے کچھ ان گناہوں کا ذکر کیا جن میں لوگ مبتلا ہو گئے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وصیت ان کے لئے اللہ عزیز وجبار کی طرف سے رحمت ہے۔ پھر قیامت کی کچھ نشانیاں ذکر کیں، یہاں تک کہ کہا: - اے شیخ احمد! ان لوگوں کو اس وصیت کے بارے میں بتا دو؛ کیونکہ یہ لوح محفوظ سے قلم تقدیر کے ذریعے نقل کی گئی ہے، اور جو شخص اسے لکھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجے، یا ایک مقام سے دوسرے مقام پر بھیجے؛ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جو اسے نہ لکھے اور نہ بھیجے، اس پر قیامت کے دن میری شفاعت حرام ہوگی۔ اور جو اسے لکھے تو اس وصیت کی برکت سے اگروہ فقیر ہو تو اللہ اسے غنی کر دے گا، یا مقروض ہو تو اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا، یا اس پر کوئی گناہ ہو تو اللہ اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف کر دے گا۔ اور اللہ کا جو بندہ اسے نہیں لکھتا، اس کا چہرہ دنیا اور آخرت میں سیاہ ہو جائے گا۔ اور فرمایا: اللہ عظیم کى قسم، تین بار (اس قسم کو دہرایا)، یہ حقیقت ہے، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو دنیا سے غیرِ اسلام پر نکل جاؤں، اور جو اس کی تصدیق کرتا ہے وہ عذابِ نار سے نجات پاتا ہے، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ کفر کرتا ہے"۔

یہ خلاصہ ہے اس وصیت کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑی گئی ہے، اور ہم نے یہ موضوع وصیت کئی بار سنی ہے، جو کئی سالوں سے وقتاً فوقتاً لوگوں میں پھیلائی جاتی ہے، اور عام لوگوں میں بہت زیادہ رائج کی جاتی ہے، اور اس کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور اس کا جھوٹ یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اس نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے یہ وصیت اس کے سپرد کی، اور اس آخری اشاعت میں جس کا ہم نے آپ کو ذکر کیا، اے قارئین، افترا پرداز نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے نبی ﷺ کو اس وقت دیکھا جب وہ سونے کی تیاری کر رہا تھا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے انہیں بیداری میں دیکھا!

اس افترا پرداز نے اس وصیت میں بہت سی باتوں کا دعویٰ کیا ہے؛ جو کہ واضح ترین جھوٹ اور باطل ترین امر ہے، میں اس پر جلد ہی اس گفتگو میں ان شاء اللہ متنبہ کروں گا، اور میں گزشتہ سالوں میں اس پر تنبیہ کر چکا ہوں، اور لوگوں کو بتایا ہے کہ یہ واضح ترین جھوٹ اور باطل ترین امر ہے، پھر جب میں نے اس آخری اشاعت کو دیکھا تو اس پر لکھنے میں تردد ہوا، کیوں کہ اس کا بطلان ظاہر ہے اور اسے گھڑنے والے نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، اور میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اس کا بطلان کسی ایسے شخص پر رائج ہو سکتا ہے جس کے پاس ادنیٰ بھی بصیرت یا فطرت سلمیہ ہو، لیکن بہت سے بھائیوں نے مجھے بتایا کہ یہ بہت سے لوگوں میں رائج ہو چکی ہے، اور وہ اسے آپس میں بانٹتے ہیں اور بعض لوگوں نے اس پر یقین بھی کر لیا ہے؛ اسی وجہ سے میں نے سمجھا کہ مجھ جیسے لوگوں پر اس کے بارے میں لکھنا ضروری ہے، تاکہ اس کے بطلان کی وضاحت ہو سکے، اور اس لئے بھی کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑی گئی بات ہے تاکہ کوئی اس سے دھوکہ نہ کھائے، اور جو اہل علم و ایمان یا صحیح فطرت اور درست عقل رکھنے والے اس پر غور کریں گے، وہ جان لیں گے کہ یہ بہت سے پہلوؤں سے جھوٹ اور تہمت ہے۔

اور میں نے شیخ احمد کے بعض قریبی رشتہ داروں سے اس وصیت کے بارے میں پوچھا، جو ان کی طرف منسوب کی گئی ہے، تو انہوں نے جواب دیا: کہ یہ شیخ احمد پر جھوٹ باندھا گیا ہے، اور انہوں نے ہرگز یہ بات نہیں کہی۔ اور مذکورہ شیخ احمد کا بہت پہلے انتقال ہو چکا ہے، اور اگر ہم فرض کر لیں کہ مذکورہ شیخ احمد یا ان سے بھی بڑے کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خواب یا بیداری میں دیکھا اور ان کو یہ وصیت کی، تو ہمیں یقیناً معلوم ہوگا کہ وہ جھوٹا ہے، یا یہ کہ جس نے اس سے یہ بات کہی وہ شیطان ہے، نہ کہ رسول اللہ ﷺ، اس کی کئی وجوہات ہیں:

اولاً: رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات کے بعد بیداری میں نہیں دیکھا جا سکتا، اور جو جاہل صوفی یہ دعویٰ کرے کہ وہ نبی ﷺ کو بیداری میں دیکھتا ہے، یا یہ کہ آپ میلاد میں حاضر ہوتے ہیں، یا اس جیسی کوئی اور بات؛ تو اس نے بدترین غلطی کی، شدید التباس کا شکار ہوا، اور وہ ایک عظیم خطا میں مبتلا ہوا، اور اس نے کتاب و سنت اور اہل علم کے اجماع کی مخالفت کی؛ کیونکہ مردے تو اپنی قبروں سے قیامت کے دن نکلیں گے نہ کہ دنیا میں۔ اور جو اس کے خلاف کہے وہ واضح جھوٹا ہے، یا وہ دھوکہ کھایا ہوا ہے، وہ اس حق کو نہیں پہچانا جو سلف صالحین نے پہچانا، اور جس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور ان کے نیک پیروکار چلے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ15 ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ16﴾

اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو.

پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے۔ [المؤمنون: ۱۵- ۱۶]، اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ». ’’میں قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے نکلوں گا اور میں سب سے پہلا سفارشی رہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی‘‘۔ اس معنی و مفہوم کی بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں۔

ثانیاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حق کے خلاف نہیں کہتے، نہ اپنی زندگی میں اور نہ اپنی وفات کے بعد، اور یہ وصیت آپ کی شریعت کے خلاف ہے، جو کہ کئی وجوہات سے واضح ہے، جیسا کہ آگے آئے گا، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے، اور جس نے خواب میں آپ ﷺ کو آپ کی مبارک صورت میں دیکھا تو اس نے آپ ﷺ کو ہی دیکھا، کیونکہ شیطان آپ ﷺ کی صورت اختیار نہیں کرسکتا، جیسا کہ صحیح حدیث شریف میں آیا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ دیکھنے والے کے ایمان، صداقت، عدالت، ضبط، دیانت اور امانت کس معیار کی ہے، اور کیا اس نے نبی ﷺ کو آپ کی صورت میں دیکھا یا کسی اور صورت میں۔

اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث آپ کی زندگی میں آئی ہو، لیکن وہ ثقہ، عادل اور ضابط راویوں کے طریق سے نہ آئی ہو، تو اس پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس سے حجت پکڑی جائے گی۔ یا اگر وہ ثقہ اور ضابط راویوں کے ذریعے آئی ہو، لیکن وہ ان راویوں کی روایت کے خلاف ہو جو ان سے زیادہ حافظہ والے اور زیادہ معتبر ہوں، اور دونوں روایات کے درمیان جمع وتطبیق ممکن نہ ہو، تو ان میں سے ایک منسوخ ہوگی جس پر عمل نہیں کیا جائے گا، اور دوسری ناسخ ہوگی جس پر عمل کیا جائے گا، بشرطیکہ اس کے شرائط پورے ہوں۔ اور اگر جمع یا نسخ ممکن نہ ہو تو کم حافظہ اور کم عدالت والے کی روایت کو ترک کرنا واجب ہوگا، اور اس پر حکم لگایا جائے گا کہ وہ شاذ ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

تو پھر اس وصیت کا کیا حال ہوگا جس کے نقل کرنے والے کا کوئی علم نہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے، اور نہ ہی اس کی عدالت اور امانت کا کوئی پتہ ہے، تو ایسی حالت میں یہ وصیت حقیقتاً پھینکنے کے لائق ہے اور اس کی طرف توجہ نہیں دی جانی چاہیے، اگرچہ اس میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو، تو پھر کیا حال ہوگا جب وصیت میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہوں جو اس کے باطل ہونے کی دلیل ہوں، اور اس بات کى بھی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ گیا ہے، اور ساتھ وہ وصیت ایسے دین کی شریعت سازی پر مشتمل ہو جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے؟!

جب کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ؛ فَلْيَتَـبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ». "جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی؛ تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے"۔ اور اس وصیت کو گھڑنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات کہی جو آپ نے نہیں کہی، اور آپ پر صریح اور خطرناک جھوٹ بولا، اور اگر وہ توبہ میں جلدی نہ کرے اور لوگوں کے سامنے اس وصیت کے جھوٹ کو ظاہر نہ کرے تو وہ اس عظیم وعید کا کتنا زیادہ مستحق اور حق دار ہے؟!!؛ کیونکہ جو شخص لوگوں میں باطل پھیلائے اور اسے دین کی طرف منسوب کرے؛ اس کی توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوتی جب تک وہ اس کا اعلان اور اظہار نہ کرے؛ تاکہ لوگ یہ جان لیں کہ اس نے اپنے جھوٹ سے رجوع کر لیا اور اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیا۔ جیسا کہ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلۡهُدَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أُوْلَٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلۡعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ159 إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيۡهِمۡ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ160﴾

جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔

مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں۔ [البقرۃ: ۱۵۹، ۱۶۰]، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ واضح فرمایا کہ جو شخص حق میں سے کسی چیز کو چھپاتا ہے، اس کی توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اصلاح اور وضاحت نہ کرے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے دین کو مکمل کردیا اور ان پر اپنی نعمتیں نبی کریم ﷺ کی بعثت اور آپ پر شریعت کاملہ نازل کرکے تمام کردی ہیں، اور انہیں اپنے پاس اسی وقت بلایا جب کہ شریعت مکمل ہوگئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ [المائدۃ: ۳]

اور اس وصیت کو گھڑنے والا چودھویں صدی میں آیا، وہ لوگوں پر ایک نیا دین مسلط کرنا چاہتا تھا، جس کے نتیجے میں اس کے تشریعی احکام کو ماننے والا جنت میں داخل ہوگا، اور جو اس کے تشریعی احکام کو نہیں مانے گا، وہ جنت سے محروم رہے گا اور جہنم میں داخل ہوگا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس من گھڑت وصیت کو قرآن سے بھی زیادہ عظیم اور افضل بنا دے، کیوںکہ اس نے اس وصیت میں یہ جھوٹ باندھا ہے کہ جو شخص اسے لکھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجے، یا ایک مقام سے دوسرے مقام پر بھیجے؛ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جو اسے نہ لکھے اور نہ بھیجے، اس پر قیامت کے دن نبی ﷺ کی شفاعت حرام ہوگی۔ یہ بدترین جھوٹ ہے اور اس وصیت کے جھوٹ ہونے کی واضح ترین دلیل ہے، اور اسے گھڑنے والے کی بے حیائی اور جھوٹ پر اس کی بڑی جرأت کو ظاہر کرتی ہے؛ کیونکہ جس نے قرآن کریم کو لکھا اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک ملک سے دوسرا ملک بھیجا، اگر وہ قرآن کریم پر عمل نہ کرے تو اسے یہ فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی، تو پھر اس جھوٹ کو لکھنے والے اور اسے ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے والے کو یہ فضیلت کیسے حاصل ہوگی۔ اور جو شخص قرآن نہیں لکھتا اور نہ ہی اسے ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجتا ہے، اگر وہ نبی ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتا ہے، تو وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے محروم نہیں ہوگا۔ اور اس وصیت میں یہ ایک بہتان ہی اس کے بطلان اور اسے نشر کرنے والے کے جھوٹ، بے شرمی، حماقت اور اس کی شریعت محمدی سے دوری کی دلیل کے لئے کافی ہے ۔

اور اس وصیت میں ـ جو ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ ـ اور بھی امور ہیں، جو اس کے بطلان اور جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں، چاہے اس کا گھڑنے والا اس کی صحت پر ہزار قسمیں کھائے یا اپنے آپ پر سب سے بڑے عذاب اور سخت ترین سزا کی دعا کرے کہ وہ سچا ہے؛ تب بھی وہ سچا نہیں ہوگا، اور نہ ہی یہ وصیت صحیح ہوگی، بلکہ یہ اللہ کی قسم، پھر اللہ کی قسم، عظیم ترین اور بدترین باطل میں سے ہے، اور ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور ہمارے پاس جو فرشتے موجود ہیں‘ ان کو گواہ بناتے ہیں، ـ یہ وہ گواہی ہے جس کے ساتھ ہم اپنے رب جل جلالہ سے ملیں گے ـ: کہ یہ وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ اور بہتان ہے، اللہ تعالیٰ اس جھوٹ کو گھڑنے والے کو رسوا کرے اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جس کا وہ مستحق ہے۔

اور اس وصیت کے اندر اس کے جھوٹ اور باطل ہونے کی اور بھی بہت سی دلیلیں موجود ہیں، مثلاً:

پہلى بات: اس کا یہ کہنا کہ (کیوں کہ جمعہ سے جمعہ تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد بغیر دین اسلام کے مر گئے)؛ یہ علم غیب میں سے ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اور آپ ﷺ اپنی زندگی میں غیب نہیں جانتے تھے تو وفات کے بعد کیسے جان سکتے ہیں؛ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ...﴾

آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں... [الأنعام: ۵۰] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُ...﴾

کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا... [النمل: ۶۵] صحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: «يُذَادُ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي يَوْمَ القِيَامَةِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ العَبْدُ الصَّالِحُ: ﴿وَكُنتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا مَّا دُمۡتُ فِيهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ [المائدة: 117]». "قیامت کے دن کچھ لوگ میرے حوض سے دور کر دیے جائیں گے، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے لوگ ہیں، یہ میرے لوگ ہیں۔ تو مجھ سے کہا جائے گا: آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی تھیں۔ میں وہی کہوں گا، جو نیک بندے نے کہا تھا: ﴿میں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا، تو تو ہی ان پر مطلع رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے﴾ [المائدة: 117]۔

دوسری بات: -ان امور میں سے جو اس وصیت کے بطلان اور اس کے جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں، اس کا یہ کہنا بھی ہے: (اور جو اسے لکھے تو اس وصیت کی برکت سے اگر وہ فقیر ہو تو اللہ اسے غنی کر دے گا، یا مقروض ہو تو اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا، یا اس پر کوئی گناہ ہو تو اللہ اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف کر دے گا) وغیرہ۔ یہ ایک عظیم ترین جھوٹ ہے اور اس کے گھڑنے والے کے جھوٹ اور اللہ اور اس کے بندوں سے بے حیائی کی واضح ترین دلیل ہے؛ کیونکہ یہ تینوں امور محض قرآن کریم کو لکھنے سے حاصل نہیں ہوتے، تو پھر یہ باطل وصیت لکھنے والے کو کیسے حاصل ہوں گے؟! یہ خبیث لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور انہیں اس وصیت سے جوڑنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے لکھیں اور اس موہوم فضیلت سے وابستہ ہو جائیں، اور ان اسباب کو چھوڑ دیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں، اور جو انہیں مالداری وبے نیازی، قرض کی ادائیگی اور گناہوں کی مغفرت تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں خذلان کے اسباب، خواہشات کی پیروی اور شیطان کی اطاعت سے۔

تیسری بات: ان امور میں سے جو اس وصیت کے باطل ہونے کی دلیل ہیں، اس کا یہ کہنا بھی ہے: ( اللہ کا جو بندہ اسے نہیں لکھتا، اس کا چہرہ دنیا اور آخرت میں سیاہ ہو جائے گا)۔ یہ بھی جھوٹ کی بدترین قسموں میں سے ہے اور اس وصیت کے باطل ہونے اور اس کے گھڑنے کے جھوٹے ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔ بھلا کسی عقل مند کى عقل میں یہ بات کیسے آ سکتی ہے کہ یہ وصیت ایک نامعلوم شخص نے چودہویں صدی میں گھڑی ہو، اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کرے، اور یہ دعویٰ کرے کہ جو شخص اسے نہیں لکھے گا اس کا چہرہ دنیا و آخرت میں سیاہ ہو جائے گا، اور جو اسے لکھے گا وہ فقر کے بعد غنی ہو جائے گا، اور قرض کے بوجھ سے نجات پا جائے گا، اور اس کے کیے ہوئے گناہ معاف ہو جائیں گے!!

سبحانک یہ تو بہت بڑا بہتان ہے!! دلائل اور حقیقت اس مفتری کے جھوٹ اور اللہ پر اس کی بڑی جرأت اور اللہ اور لوگوں سے اس کی بے حیائی کی گواہی دیتے ہیں، بہت سی قومیں ہیں جنہوں نے اسے نہیں لکھا، تو ان کے چہرے سیاہ نہیں ہوئے، اورایک بہت بڑى تعداد میں لوگوں نے، جنیہں اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا، اسے کئی بار لکھا، تو ان کا قرض ادا نہیں ہوا، اور ان کی غربت ختم نہیں ہوئی، ہم اللہ سے دلوں کى کجی سے اور گناہوں کے زنگ سے پناہ مانگتے ہیں، یہ اوصاف اور بدلے شریعتِ مطہرہ نے اس کے لیے نہیں بیان کیں جس نے بہترین اور عظیم ترین کتاب یعنی قرآنِ کریم کو لکھا، تو پھر اسے کیسے حاصل ہوں گی جس نے جھوٹی وصیت لکھی جو باطل کی اقسام اور کفر کی مختلف جملوں پر مشتمل ہے۔ سبحان اللہ! اللہ کتنا بردبار ہے اس پر جو اس پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کرتا ہے۔

چوتھی بات: -وہ امور جو اس وصیت کے باطل ترین اور واضح جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں ان میں سے یہ قول بھی ہے: ( جو اس کی تصدیق کرتا ہے وہ عذابِ نار سے نجات پاتا ہے، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہوگیا)، یہ بھی جھوٹ پر جرات کی انتہا اور بدترین باطل میں سے ہے۔ یہ فریبی تمام لوگوں کو اپنی فریب کاری پر یقین کرنے کی دعوت دیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر ایمان لانے سے وہ آگ کے عذاب سے بچ جائیں گے، اور جو اس کو جھٹلائے گا وہ کافر ہو جائے گا۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اس جھوٹے شخص نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے، اور اللہ کی قسم، اس نے حق کے خلاف بات کہی ہے۔ جو اس پر یقین کرے وہی کافر ہونے کا مستحق ہے، نہ کہ جو اس کو جھٹلائے؛ کیونکہ یہ جھوٹ، باطل اور بے بنیاد امر ہے۔ ہم اللہ کو گواہ بناتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے، اور اس کا گھڑنے والا جھوٹا ہے، جو لوگوں کے لیے وہ چیز مشروع کرنا چاہتا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی، اور ان کے دین میں وہ چیز داخل کرنا چاہتا ہے جو اس کا حصہ نہیں ہے۔ اللہ نے اس امت کے لیے دین کو اس جھوٹ سے چودہ صدیوں پہلے مکمل اور تمام کر دیا ہے۔ اس لیے خبردار رہیں میرے قارئین اور برادران، اور ایسی من گھڑت باتوں پر یقین کرنے سے بچیں، اور ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ بات آپ کے درمیان رائج نہ ہو جائے، کیونکہ حق پر نور ہوتا ہے جو اس کے طالب پر خلط ملط نہیں ہوتا، اس لیے دلیل کے ساتھ حق کو تلاش کریں، اور جو بات آپ کو مشکل معلوم ہو اس کے بارے میں اہل علم سے پوچھیں، اور جھوٹے قسم کھانے والوں کے قسم پر نہ کان نہ دھریں، کیونکہ ابلیس لعین نے آپ کے والدین آدم و حوا کے لئے قسم کھائی تھی کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے، حالانکہ وہ سب سے بڑا خائن اور سب سے بڑا جھوٹا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:

﴿وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ21﴾

اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں [الأعراف: ۲۱]۔ لہٰذا اس سے اور اس کے دجل وفریب کرنے والے پیروکاروں سے ہوشیار رہیں، کیوں کہ ان کے اور ان کے پیروکاروں کے پاس بہت ساری ہی جھوٹی قسمیں، فریبی عہد و پیمان، اور گمراہ کن اور دھوکہ دینے والے الفاظ ہیں! اس مفتری نے جن منکرات کے ظہور کا ذکر کیا ہے، تو یہ ایک امر واقعہ ہے، اور قرآنِ کریم اور سنتِ مطہرہ نے ان سے انتہائی درجہ کی تنبیہ کی ہے، اور ان دونوں میں ہدایت اور کفایت موجود ہے۔

جہاں تک قیامت کی نشانیوں کا تعلق ہے، تو احادیث نبویہ نے قیامت کی علامات ونشانیوں کو واضح کیا ہے، اور قرآن کریم نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، جو شخص اس کو جاننا چاہے وہ اسے کتبِ حدیث اور اہلِ علم و ایمان کی تصانیف میں اپنے مقام پر پائے گا، لوگوں کو اس افترا پرداز کے بیان اور حق و باطل کے درمیان اس کی آمیزش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ مجھے، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو شیاطین کے شر، گمراہ کرنے والوں کے فتنوں، بہکانے والوں کی گمراہیوں اور اللہ کے دشمنوں کی باطل سازشوں سے محفوظ رکھے، جو اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور لوگوں کے دین میں شبہات پیدا کرتے ہیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا اور اپنے دین کا مددگار ہے، چاہے اللہ کے دشمن شیاطین اور ان کے کافر و ملحد پیروکار اسے ناپسند کریں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے، اور انہیں حق کی پیروی کرنے، اس پر استقامت اختیار کرنے اور تمام گناہوں سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اور ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے، اور برائیوں سے پھرنے اور نیکیوں کے کرنے کى قوت وطاقت صرف بلند و بالا اور عظمت والے اللہ کى توفیق ہی سے ممکن ہے۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے، اور درود و سلام نازل ہو اس کے بندے اور رسول صادق و امین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور قیامت کے دن تک پوری ایمان داری سے آپ کی اتباع کرنے والوں پر۔

***