إِقََامَةُ البَرَاهِينِ عَلَى
حُكْمِ مَنِ اسْتَغَاثَ بِغَيرِ اللهِ
غیر اللہ سے مدد طلب کرنے والے کے حکم سے متعلق دلائل کا بیان
لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ
عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ
رَحِمَهُ اللهُ
تالیف سماحۃ الشیخ
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
دوسرا كتابچہ:
نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد رسى) کرنے کا حکم
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور ان کے اہل بیت اور صحابہ نیز ان کے ہدایت کو اختیار کرنے والوں پر۔
اما بعد: کویتی اخبار "المجتمع" نے اپنے شمارہ نمبر 15، جو 19/4/1390 ھ کو شائع ہوا، میں "مولد نبوى شریف کے یاد میں" کے عنوان کے تحت کچھ اشعار شائع کیے۔ یہ اشعار نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد) اور آپ سے مدد طلب کرنے پر مشتمل تھے تاکہ امت کو اس کے انتشار اور اختلاف سے نجات دلائی جا سکے۔ ان اشعار کو "آمنہ" نامی خاتون کے دسخط کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ یہ اشعار جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان میں سے کچھ کے الفاظ درج ذیل ہیں:
یا رسول اللہ! ایک عالم کو بچائیے... جو جنگ بھڑکاتا ہے اور اس کی آگ میں جلتا ہے۔
اے اللہ کے رسول! امت کی مدد فرمائیں... شک کے اندھیروں میں ان کی رات دراز ہو چکی ہے۔
اے اللہ کے رسول! امت کی مدد فرمائیں... کہ غم کی بھول بھلیوں میں ان کی بصیرت کھو گئی ہے
آگے لکھتی ہے :
جلد از جلد نصرت فرمائے ...جیسا کہ آپ نے بدر کے دن جلدی فرمائی تھی جب آپ نے اللہ کو پکارا
پس ذلت ایک شاندار نصرت میں بدل گئی... بے شک اللہ کے ایسے لشکر ہیں جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے
(اسی طرح یہ کاتبہ اپنی ندا اور استغاثہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ کرتی ہے، جلد سے جلد امت کی مدد اور نصرت کرنے کی درخواست کرتی ہے، اس بات کو بھول کر یا اس بات سے لا علم ہو کر کہ نصرت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ نبی ﷺ یا کسی اور مخلوق کے ہاتھ میں، جیسا کہ اللہ پاک نے اپنی کتاب مبین میں فرمایا:
﴿...وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾
مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں واﻻ ہے. [آل عمران: ۱۲۶]، اور اللہ عز وجل نے فرمایا:
﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ...﴾
اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ [آل عمران: ۱۶۰]۔
یہ عمل، یعنی دعا اور استغاثہ، غیر اللہ کے لیے عبادت کی ایک قسم کو انجام دینا ہے؛ اور نصوص اور اجماع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جائز نہیں، اللہ ـ سبحانہ ـ نے مخلوقات کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کریں، رسولوں کو بھیجا اور کتابیں نازل کیں تاکہ اس عبادت کو بیان کریں اور اس کی طرف دعوت دیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں. (سورہ الذاریات: 56)، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ...﴾
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [سورۃ النحل: 36]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ 25﴾
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو. [الأنبیاء: ۲۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا:
﴿الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ1 أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ2﴾
الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں ، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے.
یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں. [ھود: ۱، ۲]۔
اللہ تعالیٰ نے ان محکم آیات میں واضح کر دیا کہ اس نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی بیان کیا کہ اس نے رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ وہ اس عبادت کا حکم دیں اور اس کی مخالف چیزوں سے روکیں۔ اللہ عز و جل نے خبر دی ہے کہ اس نے اپنی کتاب کی آیات کو محکم اور مفصل بنایا ہے تاکہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
اور یہ معلوم ہے کہ عبادت کا مطلب ہے: اللہ کو ایک ماننا اور اس کی اطاعت کرنا، اس کے احکامات کی پیروی کرنا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا، اور اللہ نے بہت سی آیات میں اس کا حکم دیا اور اس کی خبر دی ہے، مثلا اللہ سبحانہ کا فرمان ہے:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ...﴾
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر... [البینۃ: ۵]، اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے:
﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ...﴾
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [سورہ الإسراء: 23]، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔ [سورۃ الزمر: 2-3]۔
اس معنی کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عبادت خالصتاً اللہ کے لیے ہونی چاہیے اور انبیاء وغیرہ کی عبادت کو ترک کرنا واجب ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دعا عبادت کی اہم ترین اور جامع ترین قسموں میں سے ہے، لہذا اس کو صرف اللہ کے لیے خالص کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:
﴿فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ14﴾
تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں. [غافر: ۱۴]، اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے:
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا18﴾
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو. [الجن: ۱۸]، اور یہ تنبیہ کہ دعا میں اللہ کو اکیلا مانا جائے، تمام مخلوقات بشمول انبیاء کرام پر لاگو ہوتی ہے؛ چنانچہ ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ106﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ [سورۃ يونس: 106] یہاں خطاب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے۔ لیکن یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ کو شرک سے محفوظ رکھا تھا۔ لہذا مراد امت کو خبردار کرنا تھا۔ پھر اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ106﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ [سورۃ يونس: 106] یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، اور اس کا مقصد دوسروں کو خبردار کرنا ہے؛ کیونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے رسول کو شرک سے محفوظ رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالی نے نہی اور تحذیر میں شدت اختیار کی؛ فرمایا:
﴿...فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾
پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے. اور جب ظلم کا ذکر على الاطلاق کیا جاتا ہے تو اس سے مراد شرک اکبر ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿...وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
اور کافر ہی ﻇالم ہیں۔ [ سورۃ البقرة: 254] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿...إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾
بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے. [لقمان: ۱۳]۔ پس اگر آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار - علیہ الصلاۃ والسلام- غیر اللہ کو پکاریں تو وہ ظالموں میں سے ہوں گے، تو پھر دوسروں کا کیا حال ہوگا؟!
ان آیات اور دیگر دلائل سے یہ معلوم ہوا کہ غیر اللہ سے دعا کرنا، خواہ وہ مردے ہوں، درخت ہوں یا بت وغیرہ، اللہ عزوجل کے ساتھ شرک ہے، اور عبادت میں اللہ کی توحید کے منافی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی تخلیق، رسولوں کے بھیجنے اور کتابوں کے نازل کرنے کا مقصد بنایا ہے، اور یہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے معنی کے بھی مخالف ہے؛ جو غیر اللہ کی عبادت کی نفی کرتا ہے اورصرف اکیلے اللہ کے لئے عبادت کو ثابت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ62﴾
یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بیشک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے۔ [سورہ الحج: 62]۔
یہی دین کی اصل اور ملت کی بنیاد ہے، اور اس اصل کی صحت کے بغیر عبادات درست نہیں ہوتیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ65﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا۔ [الزمر: ۶۵]، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿...وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
...اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے۔ [الأنعام: ۸۸]۔
مندرجہ بالا بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام اور شہادتِ (لا الہ الا اللہ) کے دو عظیم اصول ہیں:
اول یہ کہ: اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی جائے؛ چنانچہ جو شخص انبیاء یا دیگر فوت شدگان کو پکارے، یا بتوں، درختوں، پتھروں یا دیگر مخلوقات کو پکارے، یا ان سے مدد طلب کرے، یا ان کے لئے قربانی اور نذریں پیش کرے، یا ان کے لئے نماز پڑھے، یا ان کے لئے سجدہ کرے؛ تو اس نے اللہ کے سوا انہیں رب بنا لیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیا، اور لا الہ الا اللہ کے معنی کی مخالفت کی۔
دوسرا: اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اس کے نبی اور رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق کی جائے، چنانچہ جس نے دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؛ اس نے محمد رسول اللہ کی شہادت کا معنی پورا نہیں کیا، اور اس کا عمل اسے نفع نہیں دے گا اور نہ ہی قبول کیا جائے گا، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
﴿وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا23﴾
اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا. [الفرقان: ۲۳]، آیت میں مذکورہ اعمال سے مراد اس شخص کے اعمال ہیں جو شرک پر مرتا ہے۔
اور اس میں وہ بدعتی اعمال بھی شامل ہیں، جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی، تو وہ قیامت کے دن بکھرے ہوئے ذرات کی مانند ہوں گے، کیوں کہ وہ اس کی پاک شریعت کے مطابق نہیں تھے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ». جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے۔ اس کے صحیح ہونے پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس قلم کار عورت نے اپنی فریاد اور دعا کو رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیر دیا اور اس رب العالمین سے منہ موڑ لیا، جس کے ہاتھ میں مدد، نقصان اور نفع ہے، اور اس کے سوا کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عظیم اور سنگین ظلم ہے، اور اللہ عز وجل نے اپنی دعا کرنے کا حکم دیا ہے، اور جو اس سے دعا کرے گا اس سے قبولیت کا وعدہ کیا ہے، اور جو اس سے منہ موڑے گا اسے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا:
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ 60﴾
اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے. [غافر: ۶۰]، آیت میں وارد لفظ (داخرین) کا معنى ہےعاجزی اور ذلت کے ساتھ۔، اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دعا عبادت ہے، اور جو اس سے خود سری کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، تو جب یہ حال اس کا ہے جو اللہ سے دعا کرنے میں خود سری کرے، تو اس کا کیا حال ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو پکارے، جب کہ اللہ ـ سبحانہ ـ قریب ہے، ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ 186﴾
اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے [البقرة: 186]، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے، اور اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: «احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعْنَتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ». "اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو"۔ اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا؛ دَخَلَ النَّارَ». "جو شخص اس حال میں مرا کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرا کر اسے پکارتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا"۔ (صحیح بخاری)، صحیحین میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «أَنْ تَجْعَلَ لِلهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ». "تو اللہ کے لئے شریک وساجھی بنائے جبکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا"۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "ند" کا مطلب ہے: ہمسر اور ہم مثل، لہذا جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی کو پکارے، یا اس سے مدد طلب کرے، یا اس کے لیے نذر مانے، یا اس کے لیے ذبح کرے، یا عبادت کی کوئی صورت اس کے لیے خاص کرے، تو اس نے اسے اللہ کا ند (ہم مثل) بنا لیا، چاہے وہ نبی ہو، ولی ہو، فرشتہ ہو، جن ہو، بت ہو، یا کوئی اور مخلوق ہو۔
اور یہاں کوئی کہہ سکتا ہے: زندہ اور حاضر شخص سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنے کا کیا حکم ہے جس پر وہ قدرت رکھتا ہو، اور ان حسی امور میں اس سے مدد طلب کرنے کا کیا حکم ہے جن پر وہ قدرت رکھتا ہو؛ جواب یہ ہے کہ یہ شرک میں سے نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے درمیان جائز عام امور میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں فرمایا:
﴿...فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ...﴾
اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی [القصص: ۱۵]، اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی فرمایا:
﴿فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ...﴾
پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزده ہوکر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے [القصص: ۲۱]، یا جس طرح انسان جنگ وغیرہ میں اپنے ساتھیوں سے ان امور میں مدد طلب کرتا ہے، جو لوگوں کو پیش آتے ہیں اور جن میں انہیں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی امت کو بتا دیں کہ وہ کسی کے لیے نفع یا نقصان کے مالک نہیں ہیں، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا21 قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا22﴾
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا.
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں۔ [الجن: ۲۱-۲۲]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ188﴾
آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔ [الاعراف: ۱۸۸]۔
اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ نبی ﷺ صرف اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں، جیسا کہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن اللہ سے فریاد کی، اور اپنے دشمن کے خلاف اللہ سے الحاح وزاری کے ساتھ مدد طلب کی اور فرمایا: "یا رب! مجھے وہ عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے"۔ یہاں تک کہ صدیق اکبر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ، بس کیجیے! بے شک اللہ نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کرنے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:
﴿إِذۡ تَسۡتَغِيثُونَ رَبَّكُمۡ فَٱسۡتَجَابَ لَكُمۡ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلۡفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ مُرۡدِفِينَ9﴾
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔ [الأنفال: ۹]، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کی فریاد کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس نے ان کی دعا قبول کی اور فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد کی تاکہ فتح کی خوشخبری اور اطمینان قلب حاصل ہو، اور اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ فتح فرشتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ درحقیقت فتح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، چنانچہ فرمایا:
﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ...﴾
مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے... [آل عمران: ۱۲۶]، اور اللہ عز وجل نے فرمایا:
﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ123﴾
جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت تمہاری مدد فرمائی تھی جب کہ تم نہایت گری ہوئی حالت میں تھے ، اس لئے اللہ ہی سے ڈرو! (نہ کسی اور سے) تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو. [آل عمران: ۱۲۳] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ بدر کے دن ان کی مدد کرنے والا وہی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جو اسلحہ اور قوت انہیں عطا کی گئی اور فرشتوں کے ذریعے جو امداد کی گئی، یہ سب فتح کے اسباب اور بشارت و اطمینان کے ذرائع ہیں، اور فتح ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قلم کار عورت یا کوئی اور اپنی فریاد اور مدد کی درخواست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرے اور رب العالمین، جو ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے، اس سے منہ موڑ لے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بدترین جہالت میں سے ہے، بلکہ یہ عظیم ترین شرک میں سے ہے، لہذا اس قلم کار عورت پر واجب ہے کہ وہ اللہ ـ سبحانہ ـ کے حضور سچی توبہ کرے، اور سچی توبہ میں کئی امور شامل ہوتے ہیں، جو کہ یہ ہیں: پہلا: جو کچھ ہوچکا اس پر نادم ہونا۔ دوسرا: جو کچھ سرزد ہوا اس سے باز آنا۔ تیسرا: اللہ کی تعظیم اور اخلاص کے ساتھ اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنا، اور اس کے حکم کی پیروی کرنا، اور جس سے اس نے منع کیا ہے اس سے بچنا، یہی توبۃ النصوح ہے۔ اور ایک چوتھی بات یہ ہے کہ جب مخلوق کے حق میں زیادتی ہو تو چوتھا مسئلہ: حق دار کو اس کا حق واپس کرنا یا اس سے گلو خلاصى کروالینا۔
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو توبہ کا حکم دیا ہے اور ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے قبول کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ31﴾
اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ [النور: ۳۱]، اور اللہ تعالى نے نصارى کے حق میں فرمایا:
﴿أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ74﴾
یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہے۔ [المائدۃ: ۷۴]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا68 يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا69 إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا70﴾
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے ، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا.
اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا69.
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ [الفرقان: ۶۸-۷۰]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ25﴾
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے. [الشوری: ۲۵]۔
اور رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: «الإِسْلَامُ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَالتَّوْبَةُ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا». "اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے"۔
یہ مختصر کلمات اس لیے تحریر کیے گئے ہیں کہ شرک کا خطرہ بہت بڑا ہے، اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے، اور اس قلم کار خاتوں کی طرف سے صادر ہونے والی باتوں سے دھوکہ کھانے کا اندیشہ ہے، اور اللہ اور اس کے بندوں کے لیے نصیحت کرنا واجب ہے۔ اللہ جل جلالہ سے دعا ہے کہ وہ اس کو نفع بخش بنائے، اور ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات کو درست فرمائے، اور ہم سب کو دین کی سمجھ اور اس پر ثابت قدمی کی نعمت عطا فرمائے، اور ہمیں اور مسلمانوں کو اپنے نفوس کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے محفوظ رکھے، بے شک وہی اس کا سزاوار اور اس پر قادر ہے۔
اللہ درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے آل بیت اور صحابہ کرام پر۔
***
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
تیسرا کتابچہ:
جنات اور شیاطین سے فریاد کرنا اور ان کے لئے نذر و نیاز کرنے کا حکم
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے تمام مسلمانوں کی خدمت میں، اللہ مجھے اور ان کو اپنے دین پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس پر ثابت قدم رکھے، آمین۔
تم پر سلامتی، اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔
اما بعد: بعض بھائیوں نے مجھ سے ان جاہلوں کے بارے میں سوال کیا جو غیر اللہ کو پکارتے ہیں، اہم معاملات میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں؛ جیسے جنات کو پکارنا، ان سے فریاد کرنا، ان کے لئے نذر ماننا، اور ان کے لئے جانور ذبح کرنا۔ اور اسی طرح بعض لوگوں کا یہ کہنا: (اے سات)، یعنی: جنات کے سات سردار، اسے پکڑ لو، اس کی ہڈیاں توڑ دو، اس کا خون پی لو، اس کی بے حرمتی کرو، اے سات! اس کے ساتھ ایسا کرو، یا بعض لوگوں کا یہ کہنا: (اے دوپہر کے جن، اے عصر کے جن، اسے پکڑ لو)، اور یہ بات بعض جنوبی علاقوں میں بہت پائی جاتی ہے، اور اس سے ملتا جلتا عمل ہے: انبیاء کرام، نیک لوگوں اور دیگر مردوں کو پکارنا، فرشتوں کو پکارنا اور ان سے مدد طلب کرنا، یہ سب اور اس جیسی چیزیں بہت سے ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو اسلام کی طرف منسوب ہیں، وہ اپنی جہالت اور اپنے پیشروؤں کی تقلید کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ لوگ اس میں سہولت کاری سے کام لیتے ہیں اور یہ کہہ کر دلیل دیتے ہیں: یہ تو زبان پر جاری ہوتا ہے، ہم اس کا قصد نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر اعتقاد رکھتے ہیں۔
اور مجھ سے یہ بھی پوچھا: ان لوگوں سے نکاح کرنے کا کیا حکم ہے جو ان اعمال کے ساتھ معروف ہیں، ان کی قربانیوں کا کیا حکم ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے، اور شعبدہ بازوں اور نجومیوں کی تصدیق کرنے کا کیا حکم ہے؛ جیسے وہ لوگ جو محض مریض کے جسم سے مس ہونے والی چیزوں؛ جیسے عمامہ، پاجامہ، دوپٹہ وغیرہ کو دیکھ کر بیماری اور اس کے اسباب جاننے کا دعوی کرتے ہیں۔
جواب: ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے، اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور آپ کے اہل بیت اور اصحاب پر اور ان پر جو قیامت کے دن تک ان کے نقش قدم پر چلیں۔
اما بعد: اللہ سبحانہ وتعالی نے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور دعا، فریاد، ذبح، نذر اور تمام عبادات کو خالص اسی کے لیے انجام دیں۔ اس مقصد کے لیے اس نے رسولوں کو بھیجا اور ان کو اس کا حکم دیا، اور آسمانی کتابیں نازل کیں جن میں سب سے عظیم قرآن کریم ہے، تاکہ اس بات کو بیان کریں اور اس کی طرف دعوت دیں، اور لوگوں کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے اور غیراللہ کی عبادت کرنے سے خبردار کریں۔ یہی تمام اصولوں کى اصل اور ملت ودین کی بنیاد ہے، اور یہی "لا الہ الا اللہ" کی شہادت کا معنی ہے، جس کى حقیقت یہ ہے کہ: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ سو یہ کلمہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے الوہیت اور عبادت کی نفی کرتا ہے، اور عبادت کو صرف اللہ واحد کے لئے ثابت کرتا ہے، اس کے سوا کسى بھی مخلوق کے لئے نہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کے بہت زیادہ دلائل موجود ہیں، ان میں سے ایک اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں. (سورہ الذاریات: 56)، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ...﴾
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [سورہ الإسراء: 23]، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ...﴾
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر... [البینۃ: ۵]، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ60﴾
اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے. [غافر: ۶۰]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ...﴾
اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں... [البقرۃ: ۱۸۶]۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے ان آیات میں یہ واضح فرمایا کہ اس نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس نے اپنے بندوں کو محکم قرآن میں اور رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی زبان سے یہ حکم دیا ہے کہ وہ صرف اپنے رب کی عبادت کریں۔
اور اللہ جل وعلا نے واضح فرمایا کہ دعا ایک عظیم عبادت ہے، جو اس سے خود سرى کرے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا، اور اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اسی کو پکاریں، اور بتایا کہ وہ قریب ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، لہذا تمام بندوں پر واجب ہے کہ وہ دعا صرف اپنے رب سے ہی کریں؛ کیونکہ یہ عبادت کی ایک قسم ہے جس کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے، اور اس کا حکم دیا گیا ہے، اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ162 لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ163﴾
آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الأنعام: 162، 163]۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بتا دیں کہ ان کی نماز اور ان کی قربانی - یعنی: ذبح - اور ان کی زندگی اور ان کی موت؛ یہ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس بنیاد پر: جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح کرے تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، جیسے کہ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نماز پڑھے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور ذبح کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ دونوں صرف اللہ کے لیے ہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ جس نے غیر اللہ کے لئے، جیسے جنات، فرشتے، مردے وغیرہ کے لئے ذبح کیا اور ان کی قربت حاصل کرنے کے لئے یہ عمل کیا، تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے غیر اللہ کے لئے نماز پڑھی۔ صحیح حدیث میں نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: «لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ». ’’جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔‘‘ اور امام احمد -ان پر اللہ کی رحمت ہو- نے حسن سند کے ساتھ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مرَّ رَجُلَانِ عَلَى قَومٍ لَهُم صَنَمٌ لَا يَجُوزُهُ أَحَدٌ حَتَّى يُقرِّبَ لَهُ شَيئًا، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمَا: قَرِّبْ. قَالَ: لَيسَ عِندِي شَيءٌ أَقَرِّبُهُ، قَالُوا: قَرِّبْ وَلَوْ ذَبَابًا، فَقَرَّبَ ذُبَابًا، فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَدَخَلَ النَّارَ، وَقَالُوا لِلآخَرِ: قَرِّبْ. قَالَ: مَا كُنْتُ لِأُقَرِّبَ لِأَحَدٍ شَيْئًا دُونَ اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ، فَضَرَبُوا عُنُقَه، فَدَخَلَ الجَنَّةَ». "دو آدمی ایک قوم کے پاس سے گزرے، جن کا ایک بُت تھا، وہ کسی کو بھی وہاں سے چڑھاوا چڑھائے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے ایک سے کہا: کچھ چڑھا دو۔ اس نے کہا: میرے پاس چڑھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کچھ چڑھا دو، ایک مکھی ہی سہی۔ چنانچہ اُس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھا دیا، تو اُن لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ اس ایک مکھی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔ اور دوسرے سے کہا: کچھ چڑھا دو۔ اس نے کہا: میں اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس کی گردن اُڑا دی، چنانچہ وہ جنت میں داخل ہوگیا"۔
پس جب کوئی شخص مکھی وغیرہ کے ذریعہ بت کا تقرب حاصل کرے تو وہ مشرک ہو جاتا ہے اور جہنم میں داخلے کا مستحق ٹھہرتا ہے، تو پھر وہ شخص جو جنات، فرشتوں اور اولیاء کو پکارتا ہے، ان سے فریاد رسى کرتا ہے، ان کے لیے نذر مانتا ہے، اور ان کے تقرب کے لیے ذبیحے پیش کرتا ہے، اس امید میں کہ اس کا مال محفوظ رہے، یا اس کا مریض شفا پائے، یا اس کے جانور اور کھیت سلامت رہیں، اور وہ جو یہ سب کچھ جنات کے شر سے بچنے کے خوف سے کرتا ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا کرنے والا اور اس جیسے اعمال کرنے والا اس شخص سے زیادہ مشرک اور جہنم میں داخلے کا مستحق ہے جس نے بت کے لیے مکھی کا چڑھاوا پیش کیا۔
اور اس سلسلے میں ایک اور مقام پر اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔ [الزُّمَر: 1-3]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ18﴾
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔ [سورۃ يونس : 18]
اللہ نے ان دو آیتوں میں بتایا کہ مشرکوں نے اللہ کے علاوہ مخلوقات کو اپنا ولی بنا لیا، اور ان کی عبادت خوف، امید، قربانی، نذر اور دعا وغیرہ کے ذریعے کرتے ہیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اولیاء ان کی عبادت کرنے والوں کو اللہ کے قریب کر دیں گے اور ان کے لئے سفارش کریں گے۔ لیکن اللہ نے ان کو جھوٹا قرار دیا، ان کے بطلان کو واضح کیا، اور انہیں جھوٹا، کافر اور مشرک کہا، اور اپنی ذات کو ان کے شرک سے پاک قرار دیا، چنانچہ فرمایا:
﴿...سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾
وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے. النحل: 1۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی فرشتہ، نبی، جن، درخت یا پتھر کو پکارتا ہے، اس سے فریاد کرتا ہے، اس کے لیے نذر و ذبیحہ پیش کرتا ہے، اللہ کے حضور اس کی شفاعت کی امید میں، یا مریض کی شفا، مال کی حفاظت، یا غائب کی سلامتی کی امید میں، یا اس جیسی کسی اور چیز کے لیے؛ تو وہ اس عظیم شرک اور بدترین بلا میں مبتلا ہو گیا ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا48﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔ [النساء: 48]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ72﴾
یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔ [المائدۃ: ۷۲]۔
اور شفاعت قیامت کے دن صرف اہل توحید و اخلاص کے لیے ہوگی، نہ کہ اہل شرک کے لیے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ان سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ». "جس نے خلوصِ دل سے 'لا الہ الا اللہ' کہا"۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَـبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَومَ القِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهِ مَن مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا». "ہر نبی کی ایک قابل قبول دعا ہوتی ہے، تو ہر نبی نے اپنی دعا جلدی مانگ لی، اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے بچا کر رکھا ہے، تو یہ ان شاء اللہ ان لوگوں کو ملے گی جو میری امت میں سے مریں اس حال میں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں"۔
اور اولین مشرکین اللہ کو اپنا رب، خالق اور رازق مانتے تھے، لیکن ان کا تعلق انبیا، اولیا، فرشتوں، درختوں، پتھروں اور ان جیسے دیگر چیزوں سے تھا، وہ ان کی شفاعت کی امید رکھتے تھے اور ان کے ذریعے اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کرتے تھے، جیسا کہ آیات میں پہلے بیان ہوا، اللہ نے ان کے اس عمل کو معاف نہیں کیا بلکہ اپنی عظیم کتاب میں ان کی نکیر کی اور انہیں کافر اور مشرک قرار دیا، اور ان کے اس دعوے کو جھٹلا دیا کہ یہ معبود ان کے لیے سفارش کریں گے اور انہیں اللہ کے قریب کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں قابل عذر نہیں قرار دیا بلکہ اس شرک کی وجہ سے ان سے قتال کیا تاکہ اللہ کےلئے عبادت کو خالص کرلیں، اللہ سبحانہ وتعالی کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے:
﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ...﴾
ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے... [البقرۃ: ۱۹۳]۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُم وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُم عَلَى اللهِ». "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب لوگ یہ کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہوگا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے"۔ اور نبیﷺ کے اس ارشاد کا مطلب ہے: «حَتَّى يَشْهَدُوا أَن لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ» "یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے لگیں" یعنی وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں اور عبادت کو صرف اللہ کے لئے خاص کریں۔
مشرکین جنات سے ڈرتے تھے اور ان سے پناہ مانگتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنا فرمان نازل فرمایا:
﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا6﴾
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے. [الجن: ۶]۔ اہل تفسیر نے اس آیتِ کریمہ کے بارے میں فرمایا: اس فرمان کا مطلب ہے:
﴿...فَزَادُوهُمْ رَهَقًا﴾
یعنی: دہشت اور خوف ڈالنے میں؛ کیونکہ جنات اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ انسان ان سے پناہ مانگتے ہیں، اور اس وقت وہ ان کو مزید خوفزدہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ کثرت سے ان کی عبادت اور ان سے فریاد رسی کرنے لگتے ہیں۔
اور اللہ نے مسلمانوں کو اس کے بدَل کے طور اپنی ذات اور اپنے کامل کلمات کی پناہ طلب کرنے کی تعلیم دی، اور اس بارے میں اللہ جل جلالہ نے یہ ارشاد فرمایا:
﴿وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ200﴾
اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کیجئے بلاشبہ وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔ [الأعراف: ۲۰۰]، اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے:
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ1﴾
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں۔ اور نبی ﷺ کی صحیح روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: (أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ)؛ لَم يَضُرَّهُ شَيءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ». "جو شخص کسی جگہ ٹھہرے اور یہ دعا پڑھے: (میں اللہ تعالی کی مخلوق کے شر سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں) تو اس کے وہاں سے روانہ ہونے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی"۔
اور جو کچھ مذکورہ آیات اور احادیث سے واضح ہوا، اس سے نجات کے طلبگار اور اپنے دین کی حفاظت کے خواہشمند، اور شرک سے بچنے کے متمنی کو یہ علم ہوتا ہے کہ مردوں، فرشتوں، جنات اور دیگر مخلوقات سے تعلق جوڑنا، انہیں پکارنا اور ان سے پناہ مانگنا وغیرہ، جاہلیت کے مشرکین کے اعمال میں سے ہے، اور اللہ سبحانہ کے ساتھ بدترین شرک میں سے ہے۔ لہذا اس کو ترک کرنا واجب ہے، اس سے بچنا اور اسے ترک کرنے کی تلقین کرنا اور جو اس کا ارتکاب کرے اس کی نکیر کرنا واجب ہے۔
اور جو لوگ ان شرکیہ اعمال کے ساتھ معروف ہوں: ان سے نکاح جائز نہیں، نہ ان کا ذبیحہ کھانا، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا، اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ ـ سبحانہ ـ کے حضور توبہ کا اعلان کریں، اور دعا و عبادت کو صرف اللہ کے لئے خالص کریں، کبوں کہ دعا ہی عبادت ہے، بلکہ اس کا مغز ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «الدُّعَاءُ هُوَ العِبَادَةُ». ”دعا ہی عبادت ہے۔“ نیز ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: «الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ». ”دعا عبادت کا مغز (اصل) ہے“۔ جہاں تک مشرکین سے نکاح کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ221﴾
اور شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ وه ایمان نہ ﻻئیں تم نکاح نہ کرو ، ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے، گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک کہ وه ایمان نہ ﻻئیں، ایمان والا غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، گو مشرک تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے، وه اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ وه نصیحت حاصل کریں۔ [سورہ بقرہ : 221]، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرک عورتوں سے شادی کرنے سے منع فرمایا ہے، چاہے وہ بتوں کی عبادت کرنے والی ہوں یا جنات اور فرشتوں کی، جب تک کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے عبادت کو خالص کرنے پر ایمان نہ لائیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہ کریں اور ان کے راستے کی پیروی نہ کریں۔ اور مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں دینے سے منع فرمایا ہے، جب تک کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے عبادت کو خالص کرنے پر ایمان نہ لائیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہ کریں اور ان کی پیروی نہ کریں۔
اور اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ مومنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے، چاہے دیکھنے والے کو اس کا حسن و جمال اور باتوں کی خوبصورتی پسند آئے، اور مومن غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، چاہے سننے اور دیکھنے والے کو اس کا حسن، فصاحت، شجاعت وغیرہ پسند آئیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت کی وجوہات کو واضح کیا۔
﴿...أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ...﴾
یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں [سورہ بقرہ : ۲۲۱]۔ یعنی اس سے مراد مشرک مرد اور عورتیں ہیں کیونکہ وہ اپنی باتوں، اعمال، سیرت اور اخلاق کے ذریعے جہنم کی طرف بلانے والے ہیں، جبکہ مومن مرد اور عورتیں اپنے اخلاق، اعمال اور سیرت کے ذریعے جنت کی طرف بلانے والے ہیں، تو یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں!
جہاں تک مشرکوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا تعلق ہے، تو اللہ جل و علا نے منافقین کے بارے میں فرمایا:
﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ84﴾
ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور مرتے دم تک بدکار بے اطاعت رہے ہیں۔ [التوبۃ: ۸۴]، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں واضح کر دیا ہے کہ منافق اور کافر کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی؛ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کا امام بنایا جائے گا؛ ان کے کفر اور عدم امانت کی وجہ سے، اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی عظیم دشمنی کی بنا پر، اور اس لیے کہ وہ نماز اور عبادت کے اہل نہیں ہیں؛ کیونکہ کفر اور شرک کے ساتھ کوئی عمل باقی نہیں رہتا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس سے عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ اور جہاں تک مشرکین کے ذبیحے کی بات ہے تو اللہ جل جلالہ نے مردار اور مشرکین کے ذبیحے کی حرمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ121﴾
اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے۔ [سورہ الأنعام: 121 ]، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مردار اور مشرک کا ذبیحہ کھانے سے منع فرمایا؛ کیونکہ وہ نجس (ناپاک) ہے، لہٰذا اس کا ذبیحہ مردار کے حکم میں ہے، خواہ اس پر اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا گیا ہو؛ کیونکہ اس کی طرف سے بسم اللہ پڑھنا باطل ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں؛ کیونکہ یہ عبادت ہے، اور شرک عبادت کو ضائع اور باطل کر دیتا ہے، یہاں تک کہ مشرک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور توبہ کرے، اور اللہ جل جلالہ نے صرف اہل کتاب کے کھانے کو مباح قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:
﴿...وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ...﴾
...اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے... [المائدۃ: ۵]، کیونکہ وہ آسمانی دین سے منسوب ہوتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ موسیٰ اور عیسیٰ کے پیروکار ہیں، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو منسوخ کردیا اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرماکر اسے باطل کر دیا۔ لیکن اللہ جل وعلا نے اہل کتاب کا کھانا اور ان کی عورتوں کو ہمارے لیے حلال کر دیا؛ ایک گہری حکمت اور مصلحت کی بنا پر، جسے اہل علم نے واضح کیا ہے، برخلاف مشرکین کے جو بتوں اور مردوں کی عبادت کرتے ہیں، جیسے انبیاء اور اولیاء وغیرہ؛ کیونکہ ان کا دین بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں، بلکہ اس کی بنیاد ہی باطل ہے، اس لیے ان کا ذبیحہ مردار ہے اور اس کا کھانا جائز نہیں۔
اور جہاں تک کسی شخص کا اپنے مخاطب سے یہ کہنا کہ: (جن تم پر آگیا)، (جن نے تمہیں پکڑ لیا)، (شیطان تمہیں اڑا لے گیا)، اور اس طرح کی باتیں، تو یہ سب وشتم کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ مسلمانوں کے درمیان جائز نہیں، جیسے دیگر اقسام کے سب وشتم جائز نہیں ہیں، اور یہ شرک کے زمرے میں نہیں آتا، سوائے اس کے کہ کہنے والا یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ جن اللہ کی اجازت اور مشیت کے بغیر لوگوں پر تصرف کرتے ہیں۔ جو شخص جنات یا دیگر مخلوقات کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے، وہ اس عقیدے کے ساتھ کافر ہے؛ کیونکہ اللہ پاک ہر چیز کا مالک ہے، ہر چیز پر قادر ہے، وہی نفع و نقصان دینے والا ہے، اور اس کی اجازت، مشیت اور پہلے سے مقرر کردہ تقدیر کے بغیر کچھ بھی وجود میں نہیں آتا، جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو اس عظیم بنياد سے آگاہ کریں:
﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ188﴾
آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔ [الاعراف: ۱۸۸]، چنانچہ جب سید الخلق اور افضل البشر ﷺ اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کے مالک نہیں ہیں، سوائے اس کے جو اللہ چاہے، تو دیگر مخلوقات کا کیا حال ہوگا؟! اور اس معنی کی آیتیں بہت زیادہ ہیں۔
اور جہاں تک غیب کى خبروں کے بارے میں اطلاع دینے کا دعوى کرنے والوں، شعبدہ بازوں، نجومیوں اور ان جیسے لوگوں سے سوال کرنے کا تعلق ہے جو غیبی امور کی خبریں دیتے ہیں، تو یہ منکر ہے اور جائز نہیں، اور ان کی تصدیق کرنا تو اور بھی شدید اور بڑا منکر ہے، بلکہ یہ کفر کی شاخوں میں سے ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيءٍ؛ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَومًا». "جو شخص عراف کے پاس جائے اور اُس سے کسى چیز کے بارے میں پوچھے؛ تو چالیس دنوں تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی"۔ اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، صحیح مسلم میں ایک اور روایت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «أَنَّ النَّبيَّ ﷺ نَهَى عَنْ إِتْيَانِ الكُهَّانِ وَسُؤَالِهِم». "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل کے بارے میں یا دل کى بات کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں کے پاس جانے اور ان سے سوال کرنے سے منع فرمایا ہے"۔
اور اہل السنن نے اللہ کے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: «مَنْ أَتَى كَاهِنًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ؛ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ». ’’جو کسی مستقبل کے بارے میں یا دل کى بات کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کا انکار کیا‘‘۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ مستقبل کے بارے میں یا دل کى بات کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں، غیب کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں اور دیگر تمام شعبدہ بازوں سے سوال کرنے سے بچیں، جو غیبی امور کی خبریں دینے اور مسلمانوں کو شبہات میں مبتلا کرنے میں مشغول ہیں، چاہے وہ طب کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور اس سے خبردار کیا ہے۔ اور اس میں ان غیبی امور کا دعوى بھی شامل ہے: جو بعض لوگ طب کے نام پر کرتے ہیں، جیسے مریض کی پگڑی یا مریضہ کی چادر سونگھ کر کہتے ہیں: اس مریض یا مریضہ نے فلاں کام کیا ہے، اور فلاں چیز بنائی ہے، جن کا تعلق غیبی امور سے ہوتا ہے اور جن پر مریض کی پگڑی وغیرہ میں کوئى بھى دلالت نہیں ہوتى ہے، بلکہ اس کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا ہوتا ہے، تاکہ وہ کہیں: یہ طب اور بیماریوں کی اقسام اور ان کے اسباب کو جاننے والا ہے، اور کبھی کبھار وہ انہیں کچھ دوائیں بھی دے دیتے ہیں، اور کبھی اللہ کے حکم سے شفا بھی ہو جاتی ہے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس کی دوا کے سبب ہوا ہے۔ اور بعض اوقات بیماری کی وجہ کچھ جن اور شیاطین ہوتے ہیں، جو اس طب کے دعویدار کی خدمت کرتے ہیں، اور اسے بعض غیبی امور کی خبر دیتے ہیں جن پر وہ مطلع ہوتے ہیں، تو وہ اس پر اعتماد کرتا ہے، اور جن و شیاطین کو ان کی پسندیدہ عبادت کے ذریعے راضی کرتا ہے، تو وہ اس مریض سے دور ہو جاتے ہیں، اور اذيت رساني كا جو كام انہوں نے اس کے ساتھ کی ہوتی ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں، یہ جن و شیاطین اور انہیں استعمال کرنے والوں کے بارے میں معروف بات ہے۔
چنانچہ مسلمانوں پر بھی واجب ہے کہ اس سے بچیں، اور ایک دوسرے کو اسے ترک کرنے کی تلقین کریں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر بھروسہ کریں، اور ہر معاملے میں اسی پر توکل کریں۔ شرعی رقیہ اور مباح دواؤں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، اور ان ڈاکٹروں سے علاج کرانا بھی جائز ہے جو مریض کی جانچ کرتے ہیں اور حسی اور معقول اسباب کے ذریعے اس کی بیماری کی تشخیص کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: «مَا أَنْزَلَ اللهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ علِمه، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ». ’’اللہ تعالیٰ جب کوئی بیماری نازل کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل فرماتا ہے، تو کچھ لوگ اس کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ اس سے ناواقف رہتے ہیں‘‘۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فإِذَا أُصِيبَ دَوَاءٌ الدَّاءَ بََرَأَ بِإِذْنِ اللهِ». ’’ہر بیماری کا علاج ہے، جب بیماری کا علاج مل جائے تو اللہ کے حکم سے شفا حاصل ہو جاتی ہے‘‘۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «عِبَادَ اللهِ، تَدَاوَوا وَلَا تَدَاوَوا بِحَرَامٍ». ’’اے اللہ کے بندو! علاج معالجہ کیا کرو، اور خبردار! حرام چیزوں سے علاج نہ کیا کرو‘‘۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔
ہم اللہ جل جلالہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کے حالات درست فرمائے، ان کے دلوں اور جسموں کو ہر برائی سے شفا عطا فرمائے، اور انہیں ہدایت پر جمع کرے، اور ہمیں اور انہیں تمام فتنوں کی گمراہیوں اور شیطان اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور برائیوں سے پھرنے کى قدرت اور نیکیوں کے کرنے کى طاقت بلند وعظمت والے اللہ کى مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
اللہ درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے آل بیت اور صحابہ کرام پر۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
چوتھا کتابچہ:
بدعیہ اور شرکیہ اوراد کے ذریعہ عبادت کرنے کا حکم:
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے برادر محترم (.........) کی خدمت میں، اللہ انہیں ہر خیر کی توفیق دے، آمین۔
آپ سب پر سلامتی اور اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔
امّا بعد: آپ کا مکرم مکتوب مجھے موصول ہوا، اللہ آپ کو اپنی ہدایت سے بہرہ ور فرمائے، اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آپ کے علاقے میں کچھ لوگ ایسے اذکار پر عمل پیرا ہیں جن کے لیے اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، ان میں سے کچھ بدعی ہیں اور کچھ شرکیہ ہیں، اور وہ ان کو امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وغیرہ سے منسوب کرتے ہیں، وہ ان اوراد کو مجالس ذکر میں یا مساجد میں نماز مغرب کے بعد پڑھتے ہیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہیں، مثلاً وہ کہتے ہیں: اللہ کے حق کے واسطے، اللہ کے بندو! ہمارى مدد کرو اللہ کى مدد کے ساتھ، اور ہوجاؤ ہمارے مدد گار اللہ کى مدد کے ساتھ ۔ اور وہ یہ بھی ورد کرتے ہیں: اے اقطاب، اے سادات، اور ہمارے مابین امداد کے لئے معروف لوگو! ہماری باتوں کو قبول کرو، اور اللہ کے حضور ہماری شفاعت کرو، یہ آپ سب کا بندہ حاضر ہے، اور آپ کے دروازے پر جما بیٹھا ہے، اپنی کوتاہیوں سے خائف ہے، ہماری مدد فرمائیں یا رسول اللہ، میرے پاس آپ کے سوا کوئی نہیں ہے جہاں جاؤں، اور آپ ہی سے میرا مقصد حاصل ہوتا ہے، اور آپ اللہ والے ہیں، حمزہ سید الشہداء کے وسیلے سے، اور آپ لوگوں میں سے ہمارى مدد کون کرسکتا ہے، ہماری مدد فرمائیں یا رسول اللہ۔ اور وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما اس پر جسے تو نے اپنی جبروتی رازوں کے انکشاف کا سبب اور اپنی رحمانی انوار کے ظہور کا ذریعہ بنایا، پس وہ ذات ربانی کا نائب اور تیرے ذاتی رازوں کا خلیفہ بن گیا۔
آپ کی خواہش ہے کہ یہ وضاحت کی جائے کہ بدعت کیا ہے، شرک کیا ہے، اور کیا اس امام کے پیچھے نماز درست ہے جو یہ دعا کرتا ہے، آپ کے سوال میں وارد سارى باتیں واضح ہیں۔
جواب: ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے، اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور آپ کے اہل بیت واصحاب پر، اور ان پر جو قیامت کے دن تک آپ کی ہدایت پر چلتے رہیں۔
اما بعد: معلوم ہو ـ اللہ آپ کو توفیق دے ـ کہ اللہ ـ سبحانہ ـ نے مخلوقات کو پیدا کیا اور رسل ـ علیہم الصلاة والسلام ـ کو بھیجا محض اس لیے کہ وہ تنہا اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں. (الذاریات : ۵۶)۔
عبادت - جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا - یہ ہے: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت کرما اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا؛ ہر اس فعل کو بجا لاکر جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہو، اور ہر اس فعل سے رک کر جس سے اللہ اور اس کے رسول نے رکنے کا حکم دیا ہو، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ، اور عمل میں اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ، اللہ کی محبت کی انتہا کے ساتھ، اور اس کے لیے مکمل عاجزی کے ساتھ، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ...﴾
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [سورہ الإسراء: 23] یعنی: حکم دیا اور وصیت کی کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ2 الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ3 مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ4 إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ5﴾
سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔
بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ [الفاتحۃ: ۲-۵]، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے واضح کردیا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور صرف اسی سے مدد طلب کی جائے۔ اور اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ...﴾
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے... [الزُّمَر: ۲- ۳]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ14﴾
تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں. [غافر: ۱۴]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا18﴾
اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو. [الجن: ۱۸]، اس معنی کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عبادت خالصتاً اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔
اور معلوم ہے کہ دعا اپنی تمام اقسام کے ساتھ عبادت ہے، لہذا کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو پکارے، اور نہ ہی کسی سے مدد طلب کرے یا فریاد کرے، ان آیات کریمہ اور اس مفہوم کی دیگر آیتوں پر عمل کرتے ہوئے۔ اور یہ ان امور کے علاوہ ہے جو عام اور حسی اسباب ہیں، جن پر زندہ اور حاضر مخلوق قدرت رکھتی ہے، کیونکہ یہ عبادت میں شامل نہیں ہیں، بلکہ نص اور اجماع کے مطابق جائز ہے کہ انسان زندہ اور قادر انسان سے ان عام امور میں مدد طلب کرے جن پر وہ قدرت رکھتا ہو؛ جیسے کہ اپنے بیٹے، خادم یا کتے کے شر کو دور کرنے میں اس سے مدد طلب کرے، وغیرہ۔ اور جیسے کہ زندہ اور حاضر قادر انسان سے مدد طلب کرے، یا غائب سے، حسی اسباب کے ذریعے جیسے خط و کتابت وغیرہ کے ذریعے، اپنے گھر کی تعمیر میں، یا اپنی گاڑی کی مرمت میں، یا اس جیسی دیگر چیزوں میں، اس میں یہ بھی شامل ہے: جہاد اور جنگ میں انسان کا اپنے ساتھیوں سے استغاثہ (فریاد رسی کرنا) اور اس جیسی دیگر چیزیں۔ اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں فرمایا:
﴿...فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ...﴾
اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی [القصص: 15]۔
رہی بات مردوں، جنات، فرشتوں، درختوں اور پتھروں سے استغاثہ اور فریاد کرنے کی، تو یہ شرک اکبر ہے، اور یہ ان اگلے مشرکین کے عمل کی جنس سے ہے جو اپنے معبودوں جیسے عزیٰ، لات وغیرہ کے ساتھ کرتے تھے۔ اور اسى قبیل سے ہے ان زندہ لوگوں سے جن کے بارے میں یہ لوگ ولایت کا عقیدہ رکھتے ہیں، فریاد رسى کرنا اور مدد طلب کرنا، ایسى چیزوں میں جن پر صرف اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے؛ جیسے مریضوں کی شفایابی، دلوں کی ہدایت، جنت میں داخلہ، جہنم سے نجات اور اس جیسی دیگر چیزیں۔
گذشتہ آیتیں اور ان کے معنی میں موجود دیگر آیتیں اور احادیث سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام امور میں دلوں کا رخ اللہ کی طرف رکھنا اور عبادت خالصتاً اللہ کے لیے کرنا واجب ہے؛ کیونکہ بندے اسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، اور انہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے - جیسا کہ آیات میں پہلے بیان ہوا - اور جیسا کہ اللہ سبحانہ کے اس فرمان میں ہے:
﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا...﴾
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو... [النساء: ۳۶]، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ...﴾
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں... [البینۃ: ۵]، اور نبی کریم ﷺ کا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ارشاد گرامی ہے: «حَقُّ اللهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا». "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں"۔ (متفق علیہ) نیز حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا؛ دَخَلَ النَّارَ». "جو شخص اس حال میں مرا کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراکر اسے پکارتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا"۔ (صحیح بخاری)۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو ان سے فرمایا: «إِنَّكَ تَأْتِي قَومًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُم إِلَيهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ». "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ چنانچہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں"۔ اور ایک روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «اُدْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ». "انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں"۔ جب کہ بخاری کی ایک روایت میں ہے: «فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُم إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللهَ». لہٰذا سب سے پہلی چیز جس کی تم انہیں دعوت دو وہ یہ ہو کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اعتقاد رکھیں"۔ صحیح مسلم میں طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَالَ: لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِن دُونِ اللهِ؛ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ». "جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ جل جلالہ کے ذمہ ہے"۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔
یہی توحید دینِ اسلام کی اصل، ملت کی بنیاد، تمام امور کا اساس اور اہم ترین فریضہ ہے۔ یہ جن و انس کی تخلیق کی وجہ اور تمام انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی بعثت کی حکمت ہے، جیسا کہ اس پر دلالت کرنے والی آیات گزر چکی ہیں‘ اسی سلسلے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں. (سورہ الذاریات: 56)، اور اس کی ایک اور دلیل اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان ہے:
﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ...﴾
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [سورۃ النحل: 36]، اور پاک وبرتر اللہ نے فر مایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ25﴾
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ [الانبیاء: ۲۵]۔ اللہ جل جلالہ نے نوح، ہود، صالح اور شعیب علیہم الصلاة والسلام کے تعلق سے یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنى قوم سے کہا:
﴿...اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ...﴾
اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں [الاعراف: ۵۹] اور یہ تمام رسولوں کی دعوت ہے، جیسا کہ پچھلی دو آیتوں سے واضح ہوتا ہے، اور رسولوں کے دشمنوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ رسولوں نے انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے سوا ہر معبود کو ترک کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے قوم عاد کے قصے میں فرمایا کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا:
﴿...أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا...﴾
کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں [الاعراف: ۷۰]، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قریش کے بارے میں فرمایا جب ہمارے نبی محمد ﷺ نے انہیں اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرنے اور اللہ کے سوا جو کچھ وہ فرشتوں، اولیاء، بتوں اور درختوں وغیرہ کی عبادت کرتے تھے، اسے چھوڑنے کی دعوت دی:
﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ5﴾
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے. [ص: ۵]، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
﴿إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ35 وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓاْ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٖ مَّجۡنُونِۭ36﴾
یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے.
اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟ [الصافات: ۳۵-۳۶] اس معنی و مفہوم کی نشاندہی کرنے والی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اور جو آیات اور احادیث ہم نے ذکر کی ہیں ان سے آپ پر واضح ہو جائے گا - اللہ مجھے اور آپ کو دین کی سمجھ اور رب العالمین کے حقوق کی بصیرت عطا فرمائے - کہ: یہ دعائیں اور استغاثہ کی اقسام - جنہیں آپ نے اپنے سوال میں بیان کیا ہے - یہ سب شرک اکبر کی اقسام میں سے ہیں؛ کیونکہ یہ غیر اللہ کی عبادت ہیں، اور مردوں اور غائب لوگوں سے ایسی چیزوں کا طلب کرنا ہے جن پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں، اور یہ اولین کے شرک سے بھی بدتر ہے؛ کیونکہ اولین صرف حالتِ خوشحالی میں شرک کرتے تھے۔ اور جب وہ مشکلات میں ہوتے تھے تو اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صرف وہی ـ سبحانہ ـ انہیں سختی سے نجات دے سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مبین میں ان مشرکین کے بارے میں فرمایا:
﴿فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ65﴾
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں. [العنکبوت: ۶۵]، اور اللہ -پاک وبرتر- نے ایک اور آیت میں ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فِي ٱلۡبَحۡرِ ضَلَّ مَن تَدۡعُونَ إِلَّآ إِيَّاهُۖ فَلَمَّا نَجَّىٰكُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ أَعۡرَضۡتُمۡۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ كَفُورًا67﴾
اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی ره جاتا ہے۔ پھر جب وه تمہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو تم منھ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ [الإسراء: 67]۔
اگر ان میں سے کوئی مشرک یہ کہے: ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ بذاتِ خود ہمیں فائدہ پہنچاتے ہیں، یا ہمارے مریضوں کو شفا دیتے ہیں، یا بذاتِ خود ہمیں نفع پہنچاتے ہیں، یا بذاتِ خود ہمیں ضرر پہنچاتے ہیں، بلکہ ہمارا مقصد اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی شفاعت کا حصول ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ: یہی تو اولین کفار کا مقصد اور مراد ہے، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ان کے معبود خود سے پیدا کرتے ہیں یا رزق دیتے ہیں، یا نفع و نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ اس کا بطلان قرآنی آیات سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ وہ ان سے ان کی شفاعت، جاہ و مرتبہ اور اللہ سے قریب کرنے کی خواہش رکھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴾
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں... [يونس: 18]۔ چنانچہ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
﴿...قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے. [يونس: 18]۔ چنانچہ اللہ پاک نے واضح کر دیا کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی اس کے حضور سفارش کرنے والا نہیں ہے جس طرح کہ مشرکین کا مقصد ہوتا ہے، اور جس چیز کا اللہ کو علم نہیں وہ موجود نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ 1 إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے.
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔ [سورۃ الزمر: 1-3]۔
اور یہاں دین کا مطلب ہے: عبادت، یعنی اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت -جیسا کہ پہلے بیان ہوا-، اور اس میں دعا اور استغاثہ، خوف اور امید، قربانی اور نذر بھی شامل ہیں، اسی طرح اس میں شامل ہیں: نماز وروزہ، اور دیگر وہ تمام امور جن کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے واضح فرمایا کہ عبادت صرف اسی کے لیے ہے، اور یہ کہ بندوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی عبادت اسی جل جلالہ کے لیے خالص کریں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت میں اخلاص کا حکم دینا، اس امت کے تمام افراد کے لیے حکم ہے۔
اللہ عز و جل نے اس کے بعد کافروں کے بارے میں وضاحت فرمائی:
﴿...وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ...﴾
اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں [الزمر: ۳]۔ چنانچہ اللہ پاک نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ﴾
یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا. [الزُّمَر: ۳]، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خبر دی ہے کہ کفار نے اس کے سوا اولیا کی عبادت نہیں کی مگر اس لیے کہ وہ انہیں اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک پہنچا دیں؛ اور کفار کا یہ مقصد قدیم و جدید دونوں زمانوں میں رہا ہے، اللہ نے اس کو اپنے اس فرمان سے باطل قرار دیا ہے:
﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ﴾
یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا. [الزُّمَر: ۳]، تو اللہ نے واضح کر دیا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ ان کے معبود انھیں اللہ کی قربت دلائیں گے، جھوٹ ہے اور ان کا ان کی عبادت کرنا کفر ہے۔ اس سے ہر صاحبِ عقل جان سکتا ہے کہ اولین کفار کا کفر انبیاء، اولیاء، درختوں، پتھروں اور دیگر مخلوقات کو اللہ کے ساتھ سفارشی بنانے کی وجہ سے تھا۔ اور ان کا یہ عقیدہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اور رضا کے بغیر ان کی حاجات پوری کرتے ہیں، جیسے وزراء بادشاہوں کے حضور سفارش کرتے ہیں، تو انہوں نے اللہ جل جلالہ کو بادشاہوں اور زعماء پر قیاس کیا۔ اور وہ کہتے ہیں: جس طرح کسی بادشاہ یا حاکم کے پاس اپنی حاجت لے جانے کے لیے اس کے خاص لوگوں اور وزیروں کے ذریعے سفارش کی جاتی ہے، اسی طرح ہم اللہ کا قرب انبیاء اور اولیاء کی عبادت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی باطل بات ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی شبیہ ہے اور نہ ہی اس کا مخلوق سے کوئی موازنہ کیا جا سکتا ہے، اور اس کے حضور کوئی سفارش نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ وہ خود اجازت دے، اور وہ اجازت صرف اہل توحید کو دیتا ہے۔ وہ سبحانہ وتعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، نہ کسی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی کسی کا خوف رکھتا ہے؛ کیونکہ اللہ سبحانہ اپنے بندوں پر غالب ہے، اور ان میں جیسے چاہے تصرف کرتا ہے۔ برخلاف بادشاہوں اور رہنماؤں کے، کیوں کہ وہ ہر چیز پر قادر نہیں ہوتے، اس لیے انہیں اپنے وزیروں، خاص لوگوں اور سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ان کاموں میں ان کی مدد کریں جن میں وہ عاجز ہوتے ہیں؛ اسی طرح ان تک ان لوگوں کی حاجات پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے جن کی حاجات سے وہ واقف نہیں ہوتے، اس لیے انہیں اپنے وزیروں اور خاص لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی توجہ حاصل کریں اور انہیں راضی کریں۔ لیکن رب عز وجل اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے، اور وہ ان پر ان کی ماؤں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور وہ عادل حاکم ہے، جو اپنی حکمت، علم اور قدرت کے مطابق چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھتا ہے، لہذا اس کا اپنی مخلوق سے کسی بھی صورت میں موازنہ جائز نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ واضح کردیا کہ مشرکین اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ہی خالق، رازق اور مدبر ہے، اور وہی ہے جو مضطر کی دعا قبول کرتا ہے، تکلیف کو دور کرتا ہے، زندگی اور موت دیتا ہے، اور اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سے افعال ہیں۔ مشرکین اور رسولوں کے درمیان جھگڑا اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے عبادت کو خالص کرنے کے بارے میں تھا، جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
﴿وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ...﴾
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ... [سورہ الزخرف: 87]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ31﴾
آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے. [یونس: ۳۱]، اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ رسولوں اوران کى قوموں کے درمیان نزاع کا اصل موضوع اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لئے عبادت کو خالص کرنا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:
﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [سورۃ النحل: 36]، اور اس معنیٰ کى دیگر آیتیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں کئی مقامات پر شفاعت کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿...مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِ...﴾
کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے [البقرۃ: ۲۵۵]، اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے:
﴿وَكَم مِّن مَّلَكٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ26﴾
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے۔ [سورہ النجم: 26]۔
اور فرشتوں کے وصف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿...وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ﴾
وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں. [الأنبیاء: ۲۸]۔
اور اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے راضی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے شکر کو پسند کرتا ہے، اور شکر یہ ہے کہ اس کی توحید پر قائم رہا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡۖ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمۡ...﴾
اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے ، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا... [الزمر: ۷]۔
صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ قَالَ: لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ». "جس نے خلوصِ دل سے (لا الہ الا اللہ) کہا"۔ یا فرمایا: «مِنْ نَفْسِهِ». "اپنے نفس سے"۔
اور صحیح حدیث میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا». "ہر نبی کے لئے ایک قبول ہونے والى دعا تھى تو ہر نبی نے اپنى وہ دعا مانگ لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے بچا لیا ہے اور یہ شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہوگی - ان شاء اللہ- جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو"۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔
اور ہم نے جو آیات اور احادیث ذکر کی ہیں وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اور اس میں سے کچھ بھی غیر اللہ کے لیے پھیرنا جائز نہیں، نہ انبیاء کے لیے اور نہ ہی کسی اور کے لیے۔ اور شفاعت اللہ جل جلالہ کى ملکیت ہے، جیسا کہ اس نے فرمایا:
﴿قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗا...﴾
کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے ۔ [الزُّمَر: 44] اور کوئی بھی اس کا مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے والے کو اجازت نہ دے، اور جس کے حق میں شفاعت کی جا رہی ہے اس سے راضی نہ ہو، اور وہ ـ سبحانہ وتعالیٰ ـ صرف توحید سے راضی ہوتا ہے ـ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ چنانچہ: مشرکین کو شفاعت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اپنے فرمان میں واضح کر دیا ہے:
﴿فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ 48﴾
پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی. [المدثر: ۴۸]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿...مَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ حَمِيمٖ وَلَا شَفِيعٖ يُطَاعُ﴾
ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی. [غافر: ۱۸]۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ عند الاطلاق ظلم سے مراد شرک باللہ ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿...وَٱلۡكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ﴾
اور کافر ہی ﻇالم ہیں۔ [ سورہ البقرة: 254]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿...إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ﴾
بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے. [لقمان: ۱۳]۔
جہاں تک سوال میں جو بعض صوفیوں کا مساجد وغیرہ میں یہ کہنا نقل کیا گیا ہے کہ: اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما اس پر جسے تو نے اپنی جبروتی رازوں کے انکشاف کا سبب اور اپنی رحمانی انوار کے ظہور کا ذریعہ بنایا، چنانچہ وہ ذات ربانی کا نائب اور تیرے ذاتی رازوں کا خلیفہ بن گیا... وغیرہ۔
جواب یہ ہے کہ کہا جائے: یہ کلام اور اس جیسے دیگر اقوال تکلف اور تصنع میں سے ہیں؛ جن سے ہمارے نبی محمد ﷺ نے ہمیں خبردار کیا ہے؛ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «هَلَكَ المُتَنَطِّعُونَ» قَالَهَا ثَلَاثًا. "غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے"۔ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔
امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المتنطع: کسی شے میں گہرائی اور تکلف سے کام لینے والا؛ ان اہلِ کلام کے طریقوں پر جو لا یعنی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ایسے امور میں بحث وجدال کرتے ہیں جہاں تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں۔
ابو السعادات ابن الاثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ وہ لوگ ہیں جو باتوں میں پیچیدگى اور غلو سے کام لیتے ہیں، اور حلق کے آخری حصے سے آواز نکالتے ہیں۔ یہ 'نِطَع' سے ماخوذ ہے، جو منہ کے تالو کو کہتے ہیں، بعد ازاں اس کا استعمال ہر قسم کی تعمق پسندی کے لیے ہونے لگا چاہے قول میں ہو یا عمل میں۔
اور ان دونوں ائمہ لغت کے ذکر کردہ باتوں سے آپ اور ہر صاحب بصیرت پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے نبی اور ہمارے پیشوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر درود و سلام بھیجنے کا یہ طریقہ تکلف اور تنطع (غلو وتصنع) میں سے ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ اور اس باب میں مسلمان کے لئے مشروع یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے ثابت شدہ طریقے کو اختیار کرے، یہ طریقے دیگر طریقوں سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔
اس کی مثال: بخاری و مسلم نے اپنی صحیحین میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے؛ تو ہم آپ پر کیسے درود پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». کہو: (اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح درود بھیج جیسے تو نے درود ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ اور محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے)۔
اور صحیحین میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». کہو: (اے اللہ! محمد پر اور ان کى بیویوں اور ان کى ذریت پر تو اسی طرح درود بھیج جیسے تو نے درود آل ابراہیم پر بھیجا ہے، اور محمد پر اور ان کى بیویوں اور ان کى ذریت پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے برکتیں آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے)۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر بن سعد نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے؛ تو ہم آپ پر کیسے درود پڑھیں؟ آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ؛ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ؛ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ فِي العَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا عَلِمتُم». (کہو: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر درود بھیجا، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے تمام جہانوں والوں کے مابین آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی ہے، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ اور سلام اسی طرح بھیجو جس طرح تم جانتے ہو)۔
یہ الفاظ اور ان جیسے دیگر الفاظ - جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں - انہیں ہی مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے میں استعمال کرنا چاہیے؛ کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں کہ ان کے حق میں کیا استعمال کیا جانا چاہیے، جیسے کہ وہ سب سے زیادہ جاننے والے ہیں کہ ان کے رب کے حق میں کون سے الفاظ استعمال کیے جانے چاہئیں۔
جہاں تک پر تکلف اور نو ایجاد کردہ الفاظ کا تعلق ہے، اور وہ الفاظ جو غلط معنی کا احتمال رکھتے ہیں؛ جیسے کہ سوال میں مذکور الفاظ، تو ان کا استعمال درست نہیں ہے؛ کیونکہ ان میں تکلف پایا جاتا ہے، اور یہ باطل معانی کی طرف لے جا سکتے ہیں، جبکہ یہ ان الفاظ کے بھی مخالف ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منتخب فرمائے اور اپنی امت کو ان کی طرف رہنمائی فرمائی، اور وہ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ خیر خواہ اور تکلف سے سب سے دور ہیں، ان پر ان کے رب کی طرف سے بہترین درود و سلام ہو۔
امید ہے کہ مذکورہ دلائل توحید کی حقیقت، شرک کی حقیقت، اور اس باب میں اولین مشرکین اور بعد کے مشرکین کے درمیان فرق کو بیان کرنے میں، اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم پر مشروع طریقے سے درود بھیجنے کی کیفیت کو بیان کرنے میں طالبِ حق کے لئے کافی وشافی ہوں گے۔ جو شخص حق کو جاننے کی خواہش نہیں رکھتا؛ وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
﴿فَإِن لَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ50﴾
پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [القصص: ۵۰]۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ واضح فرمایا کہ اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، اس کے حوالے سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں:
ان دونوں میں سے ایک قسم کے لوگ: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات مانتے ہیں۔
اور دوسرى قسم کے وہ لوگ ہیں: جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں؛ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس سے زیادہ گمراہ کوئی نہیں جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کی پیروی کرے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خواہشات کی پیروی سے محفوظ رکھے، اور ہمیں، آپ کو اور ہمارے تمام بھائیوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات ماننے والوں میں شامل کرے، اور اس کی شریعت کی تعظیم کرنے والوں میں شامل کرے، اور ہر اس چیز سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی شریعت کے مخالف ہو، جیسے بدعات ومحدثات۔ بے شک وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔
اللہ تعالی اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے اہل بیت و اصحاب پر نیز قیامت تک بھلائى کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام نازل فرمائے۔
***