العَقِيدَةُ الصَّحِيْحَةُ وَمَا يُضَادُّهَا
صحیح عقیدہ اور اس کے منافی امور
لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ
عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ
رَحِمَهُ اللهُ
تالیف سماحۃ الشیخ
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
پہلا كتابچہ
صحیح عقیدہ اور اس کے منافی امور
ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا اور ان کے اہل بیت اور صحابہ پر۔
اما بعد! چوں کہ صحیح عقیدہ ہی دینِ اسلام کی بنیاد اور ملت اسلامیہ کی اساس ہے، اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس موضوع پر گفتگو کی جائے اور اس کی وضاحت کے لیے کچھ لکھا جائے۔
کتاب و سنت سے ماخوذ شرعی دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کے اعمال و اقوال اسی وقت قبول ہوتے ہیں، جب ان کی بنیاد صحیح عقیدے پر رکھی گئی ہو۔ عقیدہ اگر باطل ہو تو اس سے نکلنے والے اعمال و اقوال بھی باطل ٹھہرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿...وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ﴾
منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وه ہارنے والوں میں سے ہیں۔ [سورۃ المائدۃ: 5]۔
ارشاد باری تعالی ہے :
﴿وَلَقَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ لَئِنۡ أَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ 65﴾
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا. [سورۂ الزمر: 65 ].
اس معنی و مفہوم کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صحیح عقیدے کا خلاصہ ہے: اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور بھلی بری تقدیر پر ایمان رکھنا۔ یہی چھ باتیں صحیح عقیدے کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اور انہی چھ باتوں کے ساتھ اللہ کی کتاب اتری ہے اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
ان چھ بنیادی باتوں کے دلائل اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں،ان میں سے چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:
اولاً : قرآن مجید سے دلائل، ان میں سے ایک اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
﴿لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ...﴾
ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو... [البقرۃ: ۱۷۷]۔
اور اللہ پاک وبرتر نے فر مایا:
﴿ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِ...﴾
رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے... [البقرۃ: ۲۸۵]،
اسی طرح اللہ کا فرمان ہے :
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِن قَبۡلُۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا136﴾
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ [ سورۃ النساء: 136 ]،
اسی طرح اللہ کا فرمان ہے :
﴿أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ 70﴾
کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے۔ [سورۃ الحج: 70]
ثانیاً: سنت سے دلائل، ان میں سے وہ مشہور صحیح حدیث ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جواب دیا : «الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَاليَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ». ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان لائے‘‘۔1 پوری حدیث۔ اور اس حدیث کو شیخین (امام بخاری و امام مسلم) نے -معمولی فرق کے ساتھ - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
ان چھ اصولوں سے وہ تمام عقائد اخذ ہوتے ہیں جن پر ایک مسلمان کا ایمان ہونا واجب ہے، خواہ وہ اللہ عزوجل سے متعلق ہوں، آخرت کے بارے میں ہوں، یا دیگر غیبی امور کے بارے میں ہوں، جن کی خبر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔
اور ان چھ اصولوں کی وضاحت درج ذیل ہے:
پہلا اصل: اللہ تعالیٰ پر ایمان، جو کئی امور پر مشتمل ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
اور اس میں چند امور شامل ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ ہی بر حق معبود اور عبادت کا مستحق ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، کیوں کہ وہی بندوں کا خالق، ان پر احسان کرنے والا، انھیں روزی دینے والا، ان کے ظاہر و باطن سے واقف، اطاعت گزاروں کو ثواب اور نافرمانوں کو عذاب دینے کی قدرت رکھنے والا ہے۔
اس نے اپنی اسی عبادت کے لیے جن و انس کو پیدا کیا ہےاور انہیں اس کا حکم فرمایا‘ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ 56 مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ 57 إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ58﴾
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں.
نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں.
اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی واﻻ اور زور آور ہے. 58﴾ [الذاريات : 56-58]۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ 21 ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فِرَٰشٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ فَلَا تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ 22﴾
اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔
جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ [البقرۃ : 21-22]۔
اللہ نے اسی حق کو بیان کرنے، اس کی جانب لوگوں کو بلانے اور اس کی مخالف چیزوں سے آگاہ کرنے کے لیے رسولوں کو بھیجا ہے اور کتابیں اتاری ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: ۳۶]۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ 25﴾
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو. [الانبیاء: ۲۵]۔
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ1 أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ2﴾
الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں ، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے.
یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں. [سورۃ ھود: 1-2]۔
اس عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ دعا، خوف، امید، نماز، روزہ، ذبح اور نذر وغیرہ جن کاموں کو عبادت کے طور پر کرتا ہے، انھیں صرف اللہ کے لیے، خضوع وفروتنی کے ساتھ، اس کے ثواب کی چاہت رکھتے ہوئے، اس کے عقاب سے ڈرتے ہوئے، ساتھ ہی اس سے کمال درجے کی محبت رکھتے ہوئے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہوکر انجام دے۔
قرآن کا بیش تر حصہ اسی اہم ترین اصل پر مشتمل ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ 2 أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔ [سورۃ الزمر: 2-3]۔
اور پاک وبرتر اللہ نے فر مایا:
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ...﴾
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [الإسراء: ۲۳]۔
اللہ نے مزید فرمایا:
﴿فَٱدۡعُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ14﴾
تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں. [سورۃ غافر: 14]۔
اسی طرح، جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر غور کرے گا، وہ بھی اس عظیم اصول پر خصوصی توجہ پائے گا۔ اس کی ایک مثال وہ حدیث ہے جو صحیحین میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «حَقُّ اللهِ عَلَى العِبَادِ أَن يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا». "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں"۔2
اللہ پر ایمان کے اندر اللہ کے فرض کردہ اسلام کے سبھی پانچ ظاہری ارکان پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔
یہ پانچ ارکان ہیں اس بات کى گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور قدرت ہونے پر اللہ کے مقدس گھر کعبہ کا حج کرنا۔ ان کے علاوہ وہ سارے دوسرے فرائض بھی اس میں داخل ہیں، جو شریعت مطہرہ میں بیان ہوئے ہیں۔
پھر ان ارکان میں بھی سب سے اہم رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ "لا الہ الا اللہ" کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا کسی اورکی عبادت نہ کی جائے۔ یہی "لا الہ الا اللہ" کے معنی ہیں۔ جیسا کہ علمائے کرام رحمہم اللہ نے فرمایا: اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ لہذا اس کے سوا جن انسانوں، فرشتوں یا جنوں وغیرہ کی پوجا کی جاتی ہے، سب باطل معبود ہیں۔ برحق معبود صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ...﴾
یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے... [سورہ الحج: 62]۔
اس سے پہلے یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ پاک و برتر نے اسی عظیم مقصد کے لیے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا، انھیں اسی کا حکم دیا، اسی پیغام کے ساتھ اپنے رسولوں کو بھیجا اور اسی کو بیان کرنے کے لیے اپنی کتابیں اتاری۔ اس لیے بندہ کو اس پر بہترین انداز میں غور وفکر کرنی چاہیے اور اسے اچھے سے سمجھ لینا چاہیے، تاکہ وہ بھیانک جہالت واضح ہو سکے جو اس اصل عظیم کے تعلق سے اکثر مسلمانوں کے یہاں پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں انھوں نے اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی عبادت شروع کر دی ہے اور اس کے خالص حق کو دوسروں پر صرف کرنے کی غلطی کر بیٹھے ہيں۔ ہمیں اللہ اس سے بچائے!
اللہ پر ایمان کے اندر یہ بات داخل ہے کہ اللہ ہی دنیا کا خالق، مخلوقات کے سارے امور کی تدبیر کرنے والا اور اپنے علم و قدرت کے مطابق ان کے بارے میں جس طرح کا چاہے تصرف کرنے والا ہے۔ وہی دینا و آخرت کا مالک اور ساری کائنات کا رب ہے، اس کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اس نے بندوں کی اصلاح اور انھیں دنیا وآخرت میں ان کی فلاح وصلاح کی جانب بلانے کے لیے رسولوں کو بھیجا اور کتابیں اتاری۔ پھر یہ کہ ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک وساجھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ 62﴾
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے. (سورۃ زمر: ۶۲)۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ54﴾
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے ، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ [الاعراف : ۵۴]۔
اللہ پر ایمان کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ اس کی کتاب عزیز میں وارد اور اُس کے رسولِ امین سے ثابت اس کے اسمائے حسنیٰ اور اعلى صفات پر ایمان رکھا جائے۔ اس معاملے میں نہ کسی تحریف سے کام لیا جائے، نہ اللہ کو ان اسما و صفات سے عاری مانا جائے، نہ ان کی کیفیت بیان کی جائے اور نہ ان کی مثال دی جائے۔
﴿...لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾
اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے. [الشورى: 11]-
سو واجب ہے کہ انھیں اسی طرح گزار دیا جائے جس طرح وہ وارد ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کے عظیم معانی پر بھی ایمان رکھا جائے۔ اللہ کو ان اسما و صفات سے ان کے شایان شان انداز میں متصف کرنا واجب ہے اور اس معاملے میں اسے کسی بھی مخلوق کے مشابہ نہيں مانا جائے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ74﴾
پس اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے. [سورۃ النحل: 74]۔
یہ اصحابِ رسول اور اُن کے پیروکار اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، جسے امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’المقالات‘‘ میں محدثین، اہلِ سنت اور دیگر اہلِ علم وایمان سے نقل کیا ہے، اور ان کے علاوہ دیگر اہلِ علم وایمان نے بھى نقل کیا ہے۔
اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ’’زہری اور مکحول سے صفاتِ باری تعالیٰ سے متعلق آیتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ان کو ایسے ہی گذارا جائے جس طرح وہ وارد ہوئی ہیں‘‘3۔
اوزاعی رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا: ’’ہم اس وقت کہا کرتے تھے، جب تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے: اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے عرش پر ہے۔ نیز ہم حدیث میں وارد صفات پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔4
ولید بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام مالک، اوزاعی، لیث بن سعد اور سفیان ثوری رحمہم اللہ سے صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں وارد احادیث وروایات کے بارے میں پوچھا گیا، تو اُن سب نے کہا: اُن کو ایسے ہی تسلیم کرو، جس طرح وہ وارد ہوئی ہیں۔ ان کی کیفیت مت بیان کرو‘‘۔5
جب امام مالک کے استاذ ربیعہ بن ابو عبد الرحمن رحمہما اللہ سے استواء (علی العرش) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : ’’استواء تو مجہول نہیں ہے، لیکن اس کی کیفیت انسانی عقل و دانش سے باہر کی بات ہے۔ اللہ نے پیغام دیا، رسول کا کام اس کی ترسیل اور ہمارا کام اُس کی تصدیق ہے‘‘۔6۔ جب امام مالک رحمہ اللہ سے استواء (علی العرش) کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ’’استواء تو معلوم ہے، لیکن اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس کے بارے میں پوچھنا بدعت ہے۔" پھر سائل سے فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ تم ایک برے آدمی ہو۔ ساتھ ہی ان کے حکم سے سائل کو نکال باہر کر دیا گیا۔‘‘7۔ یہی مفہوم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔8۔
اور امام ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ہم اپنے پاک رب کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ اپنے آسمانوں کے اوپر اپنی مخلوق سے الگ تھلگ اپنے عرش پر مستوی ہے‘‘۔9۔ئ
اس باب میں ائمہ کے بے شمار اقوال موجود ہیں۔ اس جگہ سب کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی اس طرح کے مزید اقوال جاننے کا خواہش مند ہو، تو اُسے ان کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جنہیں علمائے سنت نے اس باب میں لکھا ہے۔ جیسے عبداللہ بن امام احمد کی کتاب ’السُنّہ‘، جلیل القدر امام محمد بن خزیمہ کی کتاب ’التوحید‘، ابوالقاسم اللالکائی الطبری کی کتاب ’السُنّہ‘، ابوبکر بن ابو عاصم کی کتاب ’السُنّہ‘ نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے وہ جوابات جو انہوں نے اہل حماۃ کے لئے لکھے ہیں، یہ بڑے عظیم اور مفید جواب ہیں۔ ان کے اندر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اہلِ سنت کا عقیدہ بیان کیا ہے اور اُن کے بہت سے اقوال اور شرعی و عقلی دلائل بھی ذکر کیے ہیں، جو اہل سنت کے عقائد کی صحت اور ان کے مخالفین کی باتوں کے رد پر دلالت کرتے ہیں۔
اسی طرح اس سلسلے میں ابن تیمیہ کا وہ رسالہ بھی کافی اہم ہے، جو ’’التدمریۃ‘‘ کے نام سے موسوم ہے‘ جس میں اس مسئلے کا ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شرح و بسط کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس میں اہل سنت کے عقیدے کو عقلی اور منطقی دلائل سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مخالفین کے موقف کا دندان شکن جواب بھی دیا ہے، جس سے ہر اس اہل علم کے لیے حق واضح اور باطل کا پردہ فاش ہوجاتا ہے، جو نیک نیتی اور رغبت کے ساتھ حق کی معرفت کا جویا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ اسما وصفات کے باب میں یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ان امور کو ثابت کیا ہے، جنہیں خود اللہ نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنت میں ثابت کیا ہے، لیکن اس اثبات میں تمثیل کا شائبہ تک نہیں ہے، انہوں نے اللہ کو مخلوق کی مشابہت سے اس طرح پاک قرار دیا ہے کہ اس میں اسے صفات سے عاری قرار دینے کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ چنانچہ وہ تناقض سے محفوظ رہے۔ اور انھوں نے سارے دلائل پر عمل کیا؛ یہ اللہ کی طرف سے توفیق ہے؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا یہی طریقۂ کار رہا ہے کہ جو لوگ اُس کے رسولوں کے لائے ہوئے حق کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں، اس راہ میں محنت کرتے ہیں اور خلوصِ نیت سے اسے طلب کرتے ہیں، اللہ انھیں حق پر چلنے کی توفیق دیتا ہے اور ان کے سامنے حق کے دلائل کو آشکارا کر دیتا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞ...﴾
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے... [سورۃ الانبیاء: 18]۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًا33﴾
یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال ﻻئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے. [سورۃ الفرقان : 33]
اور جو کوئی اہل سنت کے عقیدے کی اسما وصفات کے باب میں مخالفت کرتا ہے، وہ لازمی طور پر نقلی وعقلی دلائل کی مخالفت کا شکار ہوتا ہے، اور جس مسئلہ کا بھی اثبات اور نفی کرتا ہے اس میں واضح تناقض کا شکار ہو جاتا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی مشہور تفسیر میں اس موضوع پر عمدہ کلام کیا ہے، جب انہوں نے اللہ عز و جل کے فرمان پر گفتگو کی۔
﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ...﴾
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے ، پھر عرش پر قائم ہوا۔ [الاعراف : ۵۴]۔
اس کی عظیم افادیت کے پیش نظر یہاں نقل کر دینا بہتر معلوم ہوتا ہے؛ آپ رحمہ اللہ لکھـتے ہیں:
اس مقام پر لوگوں نے بہت ساری باتیں کہی ہیں، جنھیں بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ ہم اس مقام پر سلف صالح؛ مالک، اوزاعی، ثوری، لیث بن سعد، شافعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ وغیرہ جیسے قدیم و جدید ائمہ کے طریقے پر چلیں گے، جن کا طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کی آیتوں کو ہو بہو اسی طرح مان لیا جائے جس طرح یہ وارد ہوئی ہيں۔ ان کے اندر بیان کیے گئے صفات کی نہ کیفیت بیان کی جائے، نہ تشبیہ دی جائے اور نہ اللہ کو ان سے عاری مانا جائے۔ جب کہ ان آیتوں کا جو ظاہری مفہوم تشبیہ دینے والوں کے ذہن و دماغ میں فوری طور پر آتا ہے، اسے اللہ تعالی کے لیے ثابت نہیں مانا جا سکتا۔ کیوں کہ اللہ اپنی کسی مخلوق کے مشابہ نہیں ہے۔
﴿...لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾
اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے. [الشورى: 11]- بلکہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کہ ائمہ نے کہا ہے، ان میں سے نعیم بن حماد الخزاعی، جو بخاری کے شیخ ہیں، نے کہا: ”جس نے اللہ کو اپنی مخلوق کے ساتھ مشابہت دی وہ کافر ہو گیا، اور جس نے ان چیزوں کا انکار کیا جن سے اللہ نے خود کو متصف کیا ہے، وہ بھی کافر ہو گیا“10، اور جن چیزوں سے اللہ نے خود کو یا اس کے رسول نے اسے متصف کیا ہے، ان کے اندر تشبیہ جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ لہذا جس نے اللہ کے لیے ان باتوں کو اس کے شایان شان انداز میں ثابت کیا جنھیں اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا جنھیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے لیے ثابت کیا ہے اور اسے نقائص سے پاک کہا تو اس نے ہدایت کے راستے پر چل کر دکھایا۔"11 ابن کثیر رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔
اللہ پر ایمان کے اندر یہ بات بھی شامل ہے کہ ایمان قول و عمل پر مشتمل ہے، جو اطاعت سے بڑھتا ہے اور نافرمانی سے گھٹتا ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ کسی مسلمان کو شرک اور کفر سے کم تر کسی کبیرہ گناہ، جیسے زنا، چوری، سودخوری، نشہ آور اشیا کا استعمال، والدین کی نافرمانی وغیرہ کی بنیاد پر، جب تک ان کو حلال نہ سمجھے، کافر کہنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ...﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے... [النساء: ۴۸]۔ اور جیسا کہ متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ يُخْرِجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ». "اللہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال باہر کرے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا"۔12
دوسرا اصل: فرشتوں پر ایمان، جو دو امور کو شامل ہے:
یہ دو باتوں پر مشتمل ہے: پہلا امر: فرشتوں پر اجمالی ایمان لانا؛ یعنی یہ کہ ہم ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جنہیں اس نے اپنی اطاعت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور ان کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ:
﴿وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۚ بَلۡ عِبَادٞ مُّكۡرَمُونَ 26 لَا يَسۡبِقُونَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ وَهُم بِأَمۡرِهِۦ يَعۡمَلُونَ27 يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ28﴾
(مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن اوﻻد واﻻ ہے (غلط ہے) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وه سب اس کے باعزت بندے ہیں.
کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں.
وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں۔ [الانبیاء: 26-28]
فرشتے کئی طرح کے ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے ذمہ عرشِ الہی اٹھائے رکھنا ہے، کچھ جنت اور جہنم کے نگہبان ہیں نیز ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بندوں کے اعمال کی نگرانی پر مامور ہیں۔ دوسرا امر: فرشتوں پر تفصیلی ایمان لانا؛ یعنی ان فرشتوں پر ایمان لانا جن کا نام اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتایا ہے؛ جیسے جبریل جو وحی لانے پر مامور ہیں، میکائیل جو بارش پر مامور ہیں، جہنم کے داروغہ مالک، اور اسرافیل جو صور میں پھونک مارنے پر مامور ہیں۔ جیسا کہ ان کا ذکر احادیث صحیحہ میں آیا ہے، مثلا: صحیح میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خُلِقَتِ الـمَلَائِكَةُ مِن نُورٍ، وَخُلِقَ الجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُم» "فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کے بارے میں تمہیں بتایا گیا ہے"۔13 اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
تیسرا اصل: کتابوں پر ایمان، اور یہ بھی دو امور کو شامل ہے:
اول: کتابوں پر اجمالی ایمان: یعنی یہ کہ اللہ نے اپنے انبیاء و رسل پر کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ وہ اس کا حق واضح کریں اور اس کی طرف دعوت دیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلۡنَا مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلۡقِسۡطِ...﴾
یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں... [سورۃ الحديد: 25]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ...﴾
دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے... [ سورۃ البقرۃ: 213 ]
دوسرا: کتابوں پر تفصیلی ایمان لانا؛ یعنی ان کتابوں پر ایمان لانا جن کا اللہ نے نام لیا ہے؛ جیسے تورات، انجیل، زبور اور قرآن، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ قرآن ان سب میں سب سے افضل، آخری، ان کا نگراں اور ان کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے، اور یہ کہ اس کی اتباع کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیثوں کے ساتھ اسے فیصل ماننا پوری امت پر فرض ہے؛ کیونکہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جنوں اور انسانوں کی جانب رسول بناکر بھیجا ہے اور آپ پر اس قرآن کو اتارا ہے؛ تاکہ آپ اس کے ذریعے ان کے درمیان فیصلے کریں، اور اللہ نے اسے دلوں کے لیے شفا، ہر چیز کا واضح حل اور مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت بھی بنایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ155﴾
اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر وبرکت والی ، سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو۔ [سورۃ الانعام: 155]۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿...وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ﴾
اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے. [سورۃ النحل:89] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ158﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ۔ [الاعراف: 158]۔ اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
چوتھا اصل: رسولوں پر ایمان
یہ بھی دو باتوں پر مشتمل ہے: پہلا امر: رسولوں پر اجمالی ایمان؛ یعنی یہ کہ ہم ایمان رکھیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں کی جانب کچھ رسول بھیجے، جو ان میں سے خوش خبری دینے والے، ڈرانے والے اور حق کی دعوت دینے والے تھے؛ لہذا جس نے ان کی دعوت قبول کر لی وہ سعادت سے ہم کنار ہوا اور جس نے ان کو ٹھکرا دیا، وہ ناکام و نامراد ہوا۔ اس سلسلے کی آخری کڑی اور سب سے افضل نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: ۳۶]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿رُّسُلٗا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةُۢ بَعۡدَ ٱلرُّسُلِ...﴾
رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے... (سورۃ النساء: 165) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ...﴾
(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے... [الاحزاب: 40]
دوم : رسولوں پر تفصیلی ایمان لانا؛ یعنی ان رسولوں پر تفصیلی اور تعیینی ایمان لانا جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے یا جن کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے؛ جیسے نوح، ہود، صالح اور ابراہیم وغیرہ، ان پر درود وسلام ہو نیز ان کے اہل بیت اور ان کے متبعین پر بھی۔
پانچواں اصل: یومِ آخرت پر ایمان
اور اس میں شامل ہے:
ان تمام امور پر ایمان لانا جن کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے جو موت کے بعد واقع ہوں گے؛ جیسے قبر کا فتنہ، اس کا عذاب اور اس کی نعمت، قیامت کے دن کی ہولناکیاں، مشکلات، صراط، میزان، حساب، جزا، لوگوں کے درمیان صحیفوں کا تقسیم ہونا؛ تو کوئی اپنے دائیں ہاتھ میں کتاب لے گا، کوئی اپنے بائیں ہاتھ میں یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے۔
اس میں یہ بھی شامل ہے: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دئے جانے والے حوض پر ایمان، جنت و جہنم پر ایمان اور ایمان والوں کا اپنے رب کے دیدار اور ہم کلامی کی سعادت وغیرہ پر ایمان، جن کا ذکر قرآن پاک اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی صحیح سنت میں ہے؛ اس لیے بندے پر لازم ہے کہ ان تمام باتوں پر ایمان رکھے اور انھیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کے مطابق مانے۔
چھٹا اصل: تقدیر پر ایمان
ایمان چار امور کو شامل ہے:
پہلا امر: اس بات پر ایمان کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو جو کچھ ہوچکا تھا یا ہونے والا ہے سب کچھ معلوم ہے، نیز اسے بندوں کے احوال، ان کی روزی روٹی، موت وزیست اور کارگزاریاں وغیرہ خوب معلوم ہیں، ان میں سے کوئی بھی چیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے مخفی نہیں۔ جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿...وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ﴾
اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے [سورۃ البقرۃ: 231]۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿...لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا﴾
تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے. [الطلاق: 12]
دوسری بات: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی نے قضا وقدر کی ساری باتیں لکھ رکھی ہیں؛ جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡۖ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ 4﴾
زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وه ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے. [سورہ ق : 4] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿...وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ فِيٓ إِمَامٖ مُّبِينٖ﴾
اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے. [سورہ یس: 12] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ70﴾
کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے۔ [سورۃ الحج: 70]۔
تیسری بات: اللہ تعالیٰ کی مشیئتِ نافذہ پر ایمان؛ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ جیساکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ﴾
بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ [ سورۃ الحج: 18] ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّمَآ أَمۡرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيۡـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ82﴾
وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے. [سورہ یس: 82] ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ29﴾
اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے. [سورہ یسین: ۱۲]
چوتھی بات: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے؛ اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اور نہ کوئی رب ہے؛ جیساکہ اُس کا فرمان ہے:
﴿ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ62﴾
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے. [سورۃ الزمر : 62] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ3﴾
لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو. [سورۃ فاطر: 3]
اس طرح اہلِ سنت والجماعت کے یہاں ایمان بالقدر (تقدیر پر ایمان) ان چار باتوں پر مشتمل ہے؛ ان اہلِ بدعت کے برخلاف جنھوں نے ان میں سے بعض کا انکار کیا ہے۔
صحیح عقیدہ جواہل سنت کا عقیدہ ہے اس میں سے ایک اہم امر یہ ہے کہ: اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے نفرت کرنا، اللہ کے لیے دوستی کرنا اور اللہ کے لیے دشمنی کرنا۔ یہى عقیدہ ولاء وبراء ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا حصہ ہے۔
ایک مومن دوسرے مومنوں سے محبت اور دوستی رکھتا ہے اور کافروں سے نفرت اور دشمنی۔ یاد رہے کہ اس امت کے مسلمانوں کی فہرست میں سب سے اوپر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کا نام ہے، -جیسا کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ ایک ثابت شدہ امر ہے-؛ وہ ان سے محبت اور اپنائیت رکھتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ نبیوں کے بعد سب سے اچھے لوگ ہیں، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «خَيْرُ القُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم» "سب سے اچھے لوگ میرے زمانے کے لوگ ہيں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے"۔14 (متفق علیہ)
ان کا عقیدہ ہے کہ سب سے افضل صحابی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ، پھر عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ اور پھر علی مرتضی رضی اللہ عنہ، پھر باقی عشرہ مبشرہ اور ان کے بعد باقی صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ ہے۔ اہل سنت والجماعت صحابہ کے بیچ رونما ہونے والے اختلافات کے پیچھے نہيں پڑتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس معاملے میں انھوں نے اجتہاد سے کام لیا تھا، لہذا جس کا اجتہاد صحیح تھا اسے دو اجر ملے گا اور جس کا اجتہاد غلط تھا اسے ایک اجر ملے گا۔
وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنے والے آپ کے اہل بیت سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات جو مومنوں کى مائیں ہیں ان سے اپنا تعلق جوڑ کر رکھتے ہیں اور ان سے ولاء کا اظہار کرتے ہیں، نیز سبھى ازواج مطہرات کے لیے اللہ کی رضامندی کی دعا کرتے ہیں۔ وہ روافض کے طریقے سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھیوں سے نفرت کرتے ہیں، ان کو برا کہتے ہیں، اہل بیت کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انھیں اللہ کے دیے ہوئے مقام و مرتبے سے اونچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ناصبیوں کے طریقے سے بھی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، جو اپنے قول و عمل سے اہل بیت کو اذیت دیتے ہیں۔
یہ سب کچھ جو ہم نے ذکر کیا ہے، اس صحیح عقیدے کے اندر شامل ہے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا تھا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جسے لازم پکڑنا، اس پر قائم رہنا اور اس کی مخالفت سے بچنا واجب ہے۔ یہی فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، جس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «لَا تَـزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ»، "میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان کو بے یار ومددگار چھوڑنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے"۔15 ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الحَقِّ مَنْصُورَةٌ»، "میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اسے اللہ کی مدد حاصل ہوتی رہے گی۔"16 اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «افْتَرَقَتِ اليَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ الصَّحَابَةُ: مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي» "یہودی اکہتر فرقوں میں اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور سوائے ایک فرقے کے سارے فرقے جہنم میں ہیں سوائے ایک کے! صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر قائم رہے گا"۔17
صحیح عقیدہ کے مخالف عقائد
اس عقیدے سے انحراف کرنے والے اور اس کی مخالف راہ پر چلنے والے بہت سی قسموں میں بٹے ہوئے ہیں؛ ان میں سے کچھ بتوں، تھانوں، فرشتوں، اولیا، جنوں، درختوں اور پتھروں وغیرہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے رسولوں کی دعوت کو نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کیا، بلکہ اس کی مخالفت کی اور اس سے معاندانہ رویہ اپنایا، جیسا کہ قریش اور دیگر عرب قبیلوں نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روا رکھا تھا۔ وہ اپنے باطل معبودوں سے ضرورتوں کی تکمیل، بیمار لوگوں کو شفا دینے اور دشمنوں پر فتح یابی کی فریاد کرتے، ان کے لیے جانور ذبح کرتے اور نذر و نیاز کرتے تھے۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی ان باتوں کا رد کیا اور انھیں صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا، تو انھوں نے اسے ایک عجیب چیز سمجھا اور کہا:
﴿أَجَعَلَ ٱلۡأٓلِهَةَ إِلَٰهٗا وَٰحِدًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٞ5﴾
کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے. [ص: 5]
لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم لگاتار انھیں اللہ کی جانب بلاتے رہے، شرک سے خوف دلاتے رہے اور ان کے سامنے اپنی دعوت کی حقیقت واضح کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے کچھ لوگوں کو ہدایت دی۔ اس کے بعد لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم، صحابۂ کرام اور اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں کی مسلسل دعوت اور طویل جہاد کے بعد اللہ کا دین تمام ادیان پر غالب آ گیا۔ پھر حالات بدل گئے اور اکثر لوگوں پر جہالت غالب آ گئی، یہاں تک کہ زیادہ تر لوگ انبیا و اولیا کے بارے میں غلو اور ان سے دعا و فریاد جیسے طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہوکر جاہلیت کے دین کی جانب لوٹ گئے۔ انھوں نے "لا الہ الا اللہ" کا وہ معنی بھی نہیں سمجھا جو عرب کے کافروں نے سمجھا تھا۔ اللہ ہی مدد گار ہے!
جہالت کے غلبے اور نبوی دور سے دوری کی وجہ سے یہ شرک لوگوں کے اندر ہمارے اس دور تک پھیلتا ہی چلا گیا۔
بعد کے بت پرستوں کا شبہ وہی ہے جو پہلے کے بت پرستوں کا تھا، اور وہ ان کا یہ کہنا ہے:
﴿...هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴾
یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں [يونس: 18]۔ اور ان کا کہنا ہے:
﴿...مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ...﴾
ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں [الزمر: ۳] اور اللہ تعالیٰ نے اس شبہے کو باطل قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتا ہے وہ شرک اور کفر کا مرتکب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴾
اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں... [سورۃ يونس : 18] چنانچہ اللہ پاک نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
﴿قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ18﴾
آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔ [سورۃ يونس : 18]
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کردیا کہ جس نے اس کے علاوہ نبیوں اور ولیوں یا کسی اور کی عبادت کی، اس نے شرک اکبر کیا، اگرچہ اس میں ملوث لوگ اسے کوئی اور نام دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿...وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ...﴾
اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں [سورۃ الزمر: 3] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:
﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ﴾
یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا. [سورۃ الزمر: 3]
اللہ نے واضح کر دیا کہ ان کا دعا، خوف اور امید وغیرہ کے ذریعے کسی اور کی عبادت کرنا اللہ کا کفر ہے۔ ساتھ ہی ان کے اس دعوے کو جھٹلا دیا کہ ان کے معبود انھیں اللہ کی قربت دلائیں گے۔
صحیح عقیدہ اور رسولوں کی تعلیمات کے مخالف اور کفریہ عقائد میں اس دور کے ملحدین کے عقائد بھی شامل ہیں، جو مارکس اور لینن جیسے الحاد و کفر کے داعیوں کی پیروی کرتے ہيں۔ چاہے وہ اپنے افکار و نظریات کو اشتراکیت کا نام دیں یا شیوعیت کا یا بعثیت کا یا کچھ اور۔ ان تمام ملحدین کے یہاں بنیادی بات یہی ہے کہ کسی معبود کا کوئی وجود نہيں ہے اور زندگی مادہ ہے۔
آخرت، جنت و جہنم اور تمام ادیان کا انکار بھی ان کے یہاں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا اور ان کے افکار و نظریات کو پڑھنے والا ان کے ان عقائد سے بخوبی واقف ہے۔ جب کہ اس بات میں کہیں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس طرح کے عقائد تمام آسمانی مذاہب کے مخالف ہیں اور اپنے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت میں بد ترین انجام سے دوچار کرنے والے ہیں۔
حق کے مخالف عقائد میں سے بعض صوفیوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ ان کے کچھ نام نہاد اولیا، جنھیں وہ اقطاب، اوتاد اور غوث جیسے من گھڑت ناموں سے پکارتے ہیں، کائنات کی تدبیر میں اللہ کے شریک ہیں اور اس میں تصرف بھی کرتے ہیں۔ یہ ربوبیت میں شرک ہے، اور اللہ تعالی کے ساتھ شرک کی بدترین اقسام میں سے ہے۔
جو شخص اہل جاہلیت کے پہلے لوگوں کے شرک پر غور کرے اور اسے بعد کے لوگوں میں پھیلے ہوئے شرک سے موازنہ کرے، تو وہ پائے گا کہ بعد کے لوگوں کا شرک زیادہ بڑا اور زیادہ خطرناک ہے، اور اس کی وضاحت حسب ذیل ہے: عرب کے کفار زمانہ جاہلیت میں دو امور میں ممتاز تھے: پہلا امر: وہ ربوبیت میں شرک نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کا شرک عبادت میں تھا؛ کیونکہ وہ ربوبیت کو اکیلے اللہ عزوجل کے لئے مانتے تھے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ...﴾
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ... [سورۃ الزخرف : 87] مزید ارشاد الہی ہے:
﴿قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ31﴾
آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے. [سورۃ يونس: 31] اس معنی ومفہوم کی آیتیں کثرت سے وارد ہوئی ہیں۔
2۔ عبادت میں بھی وہ ہمیشہ شرک نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا شرک صرف راحت و آرام کی حالت میں ہوتا کرتا تھا، جبکہ سختی اور پریشانی کے وقت وہ عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ65﴾
پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں. [سورۃ العنکبوت: 65]
بعد کے مشرکین، پہلے کے مشرکوں کے مقابلے میں دو ناحیے سے آگے بڑھ چکے ہیں: پہلا ناحیہ: ان میں سے بعض ربوبیت میں شرک کرتے ہیں۔ دوسرا ناحیہ یہ ہے کہ: یہ لوگ خوش حالی کے ساتھ ساتھ پریشانی کے وقت بھی شرک کرتے ہیں۔ ان سے میل جول رکھنے والے، ان کے احوال پر نظر رکھنے والے نیز مصر میں حسین اور بدوی کی قبر کے پاس، عدن میں عیدروس کی قبر کے پاس، یمن میں ہادی اور شام میں ابن عربی کی قبر کے پاس، عراق میں عبد القادر جیلانی کی قبر اور اس طرح کی دوسری مشہور قبروں کے پاس یہ جو کچھ کر رہے ہيں، اس کا مشاہدہ کرنے والے ان باتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ ان قبروں کے بارے میں عام لوگ غلو کے شکار ہيں اور انھیں اللہ کے بہت سارے حقوق دے رہے ہيں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی خال خال ہی نظر آرہے ہیں جو ان کا رد کریں اور عوام کے سامنے اس توحید کی حقیقت بیان کریں، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا تھا اور آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا تھا۔ ان حالات میں ہم انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے ہيں۔
اسما و صفات کے باب میں صحیح عقیدے کے مخالف عقائد میں جہمیہ، معتزلہ اور ان کے راستے پر چلتے ہوئے اللہ کی صفات کی نفی کرنے والے، اسے کمال پر مبنی صفات سے عاری قرار دینے والے اور معدوم و محال اشیا اور جمادات کے وصف سے موصوف کرنے والے اہل بدعت کے عقائد بھی شامل ہیں، جب کہ اللہ تعالی ان کے قول سے کہیں زیادہ بلند وبالا ہے۔
ساتھ ہی اس میں ان لوگوں کا عقیدہ بھی شامل ہے، جو بعض صفات کی نفی کرتے ہیں اور بعض کو ثابت مانتے ہیں، جیسا کہ اشاعرہ کا عقیدہ ہے۔ جن صفات کو وہ ثابت کرتے ہیں ان کے بارے میں بھی انہیں وہی کچھ لازم آتا ہے جس سے انہوں نے راہ فرار اختیار کر رکھی ہے ان صفات کے بارے میں جن کی انہوں نے نفی کی ہے اور ان کے دلائل کی تاویل کر ڈالی ہے۔ نتیجے کے طور پر انہوں نے اپنے اس رویے کے ذریعے سمعی و عقلی دلائل کی مخالفت کی ہے اور واضح تناقض کے شکار ہوئے ہیں۔
جہاں تک اہل سنت والجماعت کا تعلق ہے، تو انہوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے ان اسما و صفات کو ثابت مانا ہے، جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے یا اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے لیے ثابت کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اللہ کو مخلوق کی مشابہت سے اس طرح پاک قرار دیا ہے کہ اس میں اسے اسما و صفات سے عاری قرار دینے کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے تمام دلیلوں پر عمل کیا، تحریف و تعطیل کے شکار نہیں ہوئے اور تناقض سے بھی محفوظ رہے، جس کے دوسرے لوگ شکار ہو چکے ہیں۔
یہی نجات کا راستہ ہے، اور دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ یہی وہ سیدھا راستہ ہے، جس كو اس امت کے سلف اور ائمہ نے اختیار کیا ہے، پھر سچی بات یہ ہے کہ اس امت کے بعد کے لوگوں کی اصلاح اسی چیز کے ذریعے ممکن ہے، جس کے ذریعے اس کے ابتدائی دور کے لوگوں کی اصلاح ہوئی ہے، اور وہ چیز ہے کتاب و سنت کی اتباع اور ان کی مخالف چیزوں سے کنارہ کشی۔ ہم اللہ پاک وبرتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امت کو ہدایت کی راہ پر واپس لائے، اس کے اندر حق کے داعیوں کی کثرت فرمائے، اور اس کے قائدین و علما کو شرک سے لڑنے، اس کا خاتمہ کرنے اور اس کے وسائل سے متنبہ کرنے کی توفیق دے۔ یقینا اللہ سننے والا اور قریب ہے۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، وہ ہم کو کافی اور سب سے بہترین کار ساز ہے، برائیوں سے پھرنے کى قوت اور نیکوں کے کرنے کى طاقت صرف اللہ کى مدد ہی سے ممکن ہے۔ درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ ﷺ کے اہل بیت اور اصحاب پر۔
***
صحیح بخاری : (2856) صحیح مسلم : (30)۔
اس کو امام لالکائی نے ’’شرح أصول الاعتقاد‘‘ (735) میں اور ابن عبد البر نے ’’جامع العلم وفضله‘‘ (1801) میں نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے 'آیات الصفات' کی بجائے 'احادیث' کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ اور ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’ان احادیث کو اسی طرح روایت کرو جیسے کہ وہ وارد ہوئی ہیں اور ان میں بحث و مباحثہ نہ کرو‘‘۔
اس روایت کو امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (865) میں نقل کیا ہے، اور اس کی سند کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’الحموية‘‘ (صفحہ : 269) میں صحیح قرار دیا ہے۔ جب کہ امام ذہبی نے ’’العرش‘‘ (2/223) میں فرمایا: اس کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔
اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (حدیث نمبر : 930) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (حدیث نمبر : 955) میں نقل کیا ہے۔
اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (حدیث نمبر: 665) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (حدیث نمبر: 868) میں نقل کیا ہے۔
اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (664) میں، ابو نعیم نے ’’حلية الأولياء‘‘ (جلد : 6، صفحہ : 325) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (867) میں نقل کیا ہے۔
اس روایت کو المزکی نے ’’المزكيات‘‘ (29) میں، ابن بطة نے ’’الإبانة‘‘ (120) میں اور امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (663) میں نقل کیا ہے۔
اس روایت کو امام دارمی نے ’’الرد على الجهمية‘‘ (67) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (903) میں نقل کیا ہے۔
اس روایت کو امام ذہبی نے ’’العلو‘‘ (464) میں نقل کیا ہے اور البانی نے ’’مختصر العلو‘‘ (صفحہ : 184) میں فرمایا: یہ سند صحیح ہے، اس کے تمام راوی ثقہ اور معروف ہیں۔
تفسیر ابن کثیر (جلد: 3، صفحات: 426-427)۔
اس حدیث کو امام بخاری نے (حدیث نمبر 22) میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام مسلم (2996) نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
اسے بخاری (3651) اور مسلم (2533) نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
صحیح مسلم (1920)، راوی: ثوبان رضی اللہ عنہ۔
سنن ابن ماجه (3952)، راوی: ثوبان رضی اللہ عنہ۔ ابن حبان (6714) اور حاکم (8653) نے اسے صحیح کہا ہے۔
اس حدیث کو امام ترمذی (2641) نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام مناوی نے ’’فیض القدير‘‘ (جلد: 5، صفحہ: 347) میں فرمایا: "اس میں عبد الرحمن بن زیاد الافریقی راوی ہے، جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے"۔ جب کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’’صحیح الجامع‘‘ (5343) میں صحیح قرار دیا ہے۔
صحیح مسلم (8)۔