PHPWord

 

 

حِرَاسَةُ التَّوحِيدِ

 

 

حفاظتِ توحيد

 

 

لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ

رَحِمَهُ اللهُ

 

سماحۃ الشیخ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

 

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

پہلا كتابچہ

صحیح عقیدہ اور اس کے منافی امور

ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا اور ان کے اہل بیت اور صحابہ پر۔

اما بعد! چوں کہ صحیح عقیدہ ہی دینِ اسلام کی بنیاد اور ملت اسلامیہ کی اساس ہے، اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس موضوع پر گفتگو کی جائے اور اس کی وضاحت کے لیے کچھ لکھا جائے۔

کتاب و سنت سے ماخوذ شرعی دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان کے اعمال و اقوال اسی وقت قبول ہوتے ہیں، جب ان کی بنیاد صحیح عقیدے پر رکھی گئی ہو۔ عقیدہ اگر باطل ہو تو اس سے سرزد ہونے والے اعمال واقوال بھی باطل ٹھہرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿...وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ﴾

" ...منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وه ہارنے والوں میں سے ہیں"۔ [سورۃ المائدۃ: 5]۔

ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَلَقَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ لَئِنۡ أَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ 65﴾

" یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا [سورۂ الزمر: 65 ].

اس معنی و مفہوم کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صحیح عقیدے کا خلاصہ ہے: اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور بھلی بری تقدیر پر ایمان رکھنا۔ یہی چھ باتیں صحیح عقیدے کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اور انہی چھ باتوں کے ساتھ اللہ کی کتاب اتری ہے اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

ان چھ بنیادی باتوں کے دلائل اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں،ان میں سے چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:

اولاً : قرآن مجید سے دلائل، ان میں سے ایک اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:

﴿لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ...﴾

" ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو..." [البقرۃ: ۱۷۷]۔

اور اللہ پاک وبرتر نے فرمایا:

﴿ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِ...﴾

" رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے..." [البقرۃ: ۲۸۵]،

اسی طرح اللہ کا فرمان ہے :

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِن قَبۡلُۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا136﴾

" اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا"۔ [سورۃ النساء: 136 ]

اسی طرح اللہ کا فرمان ہے :

﴿أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ 70﴾

" کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے"۔ [سورۃ الحج: 70]

ثانیاً: سنت سے دلائل، ان میں سے وہ مشہور صحیح حدیث ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جواب دیا : «الإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَاليَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ». ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان لائے‘‘۔(1) پوری حدیث۔ اس حدیث کو شیخین (امام بخاری و امام مسلم) نے -معمولی فرق کے ساتھ - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

ان چھ اصولوں سے وہ تمام عقائد اخذ ہوتے ہیں جن پر ایک مسلمان کا ایمان ہونا واجب ہے، خواہ وہ اللہ عزوجل سے متعلق ہوں، آخرت کے بارے میں ہوں، یا دیگر غیبی امور کے بارے میں ہوں، جن کی خبر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔

ان چھ اصولوں کی وضاحت درج ذیل ہے:

پہلی اصل: اللہ تعالیٰ پر ایمان، جو کئی امور پر مشتمل ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ ہی بر حق معبود اور عبادت کا مستحق ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، کیوں کہ وہی بندوں کا خالق، ان پر احسان کرنے والا، انھیں روزی دینے والا، ان کے ظاہر و باطن سے واقف، اطاعت گزاروں کو ثواب اور نافرمانوں کو عذاب دینے کی قدرت رکھنے والا ہے۔

اس نے اپنی اسی عبادت کے لیے جن و انس کو پیدا کیا ہےاور انہیں اس کا حکم فرمایا‘ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ 56 مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ 57 إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ58﴾

" میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے [الذاريات : 56-58]۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ 21 ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فِرَٰشٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ فَلَا تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ 22﴾

" اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو"۔ [البقرۃ : 21-22]۔

اللہ نے اسی حق کو بیان کرنے، اس کی جانب لوگوں کو بلانے اور اس کی مخالف چیزوں سے آگاہ کرنے کے لیے رسولوں کو بھیجا ہے اور کتابیں اتاری ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾

" ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: ۳۶]۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ 25﴾

" تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو[الانبیاء: ۲۵]۔

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ1 أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ2﴾

" الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں ، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے۔ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو۔ میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے والا ہوں[سورۃ ھود: 1-2]۔

اس عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ دعا، خوف، امید، نماز، روزہ، ذبح اور نذر وغیرہ جن کاموں کو عبادت کے طور پر کرتا ہے، انھیں صرف اللہ کے لیے، خضوع وفروتنی کے ساتھ، اس کے ثواب کی چاہت رکھتے ہوئے، اس کے عقاب سے ڈرتے ہوئے، ساتھ ہی اس سے کمال درجے کی محبت رکھتے ہوئے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہوکر انجام دے۔

قرآن کا بیش تر حصہ اسی اہم ترین اصل پر مشتمل ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ 2 أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾

" یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا"۔ [سورۃ الزمر: 2-3]۔

اور پاک وبرتر اللہ نے فرمایا:

﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ...﴾

" اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [الإسراء: ۲۳]۔

اللہ نے مزید فرمایا:

﴿فَٱدۡعُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ14﴾

" تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں[سورۃ غافر: 14]۔

اسی طرح، جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر غور کرے گا، وہ بھی اس عظیم اصول پر خصوصی توجہ پائے گا۔ اس کی ایک مثال وہ حدیث ہے جو صحیحین میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «حَقُّ اللهِ عَلَى العِبَادِ أَن يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا». "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں"۔(2)

اللہ پر ایمان کے اندر اللہ کے فرض کردہ اسلام کے سبھی پانچ ظاہری ارکان پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔

یہ پانچ ارکان یہ ہیں: اس بات کى گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور قدرت ہونے پر اللہ کے مقدس گھر کعبہ کا حج کرنا۔ ان کے علاوہ وہ سارے دوسرے فرائض بھی اس میں داخل ہیں، جو شریعت مطہرہ میں بیان ہوئے ہیں۔

پھر ان ارکان میں بھی سب سے اہم رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ "لا الہ الا اللہ" کی گواہی کا تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا کسی اورکی عبادت نہ کی جائے۔ یہی "لا الہ الا اللہ" کے معنی ہیں۔ جیسا کہ علمائے کرام رحمہم اللہ نے فرمایا: اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ لہذا اس کے سوا جن انسانوں، فرشتوں یا جنوں وغیرہ کی پوجا کی جاتی ہے، سب باطل معبود ہیں۔ برحق معبود صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ...﴾

" یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے... [سورہ الحج: 62]۔

اس سے پہلے یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ پاک و برتر نے اسی عظیم مقصد کے لیے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا، انھیں اسی کا حکم دیا، اسی پیغام کے ساتھ اپنے رسولوں کو بھیجا اور اسی کو بیان کرنے کے لیے اپنی کتابیں اتاری۔ اس لیے بندہ کو اس پر بہترین انداز میں غور وفکر کرنی چاہیے اور اسے اچھے سے سمجھ لینا چاہیے، تاکہ وہ بھیانک جہالت واضح ہو سکے جو اس اصل عظیم کے تعلق سے اکثر مسلمانوں کے یہاں پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں انھوں نے اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی عبادت شروع کر دی ہے اور اس کے خالص حق کو دوسروں پر صرف کرنے کی غلطی کر بیٹھے ہيں۔ ہمیں اللہ اس سے بچائے!

اللہ پر ایمان کے اندر یہ بات داخل ہے کہ اللہ ہی دنیا کا خالق، مخلوقات کے سارے امور کی تدبیر کرنے والا اور اپنے علم وقدرت کے مطابق ان کے بارے میں جس طرح کا چاہے تصرف کرنے والا ہے۔ وہی دنیا وآخرت کا مالک اور ساری کائنات کا رب ہے، اس کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اس نے بندوں کی اصلاح اور انھیں دنیا وآخرت میں ان کی فلاح وصلاح کی جانب بلانے کے لیے رسولوں کو بھیجا اور کتابیں اتاری۔ پھر یہ کہ ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک وساجھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ 62﴾

" اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے (سورۃ زمر: ۶۲)۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ54﴾

" بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے ، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے"۔ [الاعراف : ۵۴]۔

اللہ پر ایمان کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ اس کی کتاب عزیز میں وارد اور اُس کے رسولِ امین سے ثابت اس کے اسمائے حسنیٰ اور اعلى صفات پر ایمان رکھا جائے۔ اس معاملے میں نہ کسی تحریف سے کام لیا جائے، نہ اللہ کو ان اسما و صفات سے عاری مانا جائے، نہ ان کی کیفیت بیان کی جائے اور نہ ان کی مثال دی جائے۔

﴿...لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾

" اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے[الشورى: 11]

اس لیے واجب ہے کہ انھیں اسی طرح گزار دیا جائے جس طرح وہ وارد ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کے عظیم معانی پر بھی ایمان رکھا جائے۔ اللہ کو ان اسما و صفات سے ان کے شایان شان انداز میں متصف کرنا واجب ہے اور اس معاملے میں اسے کسی بھی مخلوق کے مشابہ نہيں مانا جائے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ74﴾

" پس اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے [سورۃ النحل: 74]۔

یہ اصحابِ رسول اور اُن کے پیروکار اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، جسے امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’المقالات‘‘ میں محدثین، اہلِ سنت اور دیگر اہلِ علم وایمان سے نقل کیا ہے، اور ان کے علاوہ دیگر اہلِ علم وایمان نے بھى نقل کیا ہے۔

اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ’’زہری اور مکحول سے صفاتِ باری تعالیٰ سے متعلق آیتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ان کو ایسے ہی گذارا جائے جس طرح وہ وارد ہوئی ہیں‘‘(3)۔

اوزاعی رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا: ’’ہم اس وقت کہا کرتے تھے، جب تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے: اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے عرش پر ہے۔ نیز ہم حدیث میں وارد صفات پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔(4)

ولید بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’امام مالک، اوزاعی، لیث بن سعد اور سفیان ثوری رحمہم اللہ سے صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں وارد احادیث وروایات کے بارے میں پوچھا گیا، تو اُن سب نے کہا: اُن کو ایسے ہی تسلیم کرو، جس طرح وہ وارد ہوئی ہیں۔ ان کی کیفیت مت بیان کرو‘‘۔(5)

جب امام مالک کے استاذ ربیعہ بن ابو عبد الرحمن رحمہما اللہ سے استواء (علی العرش) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : ’’استواء تو مجہول نہیں ہے، لیکن اس کی کیفیت انسانی عقل و دانش سے باہر کی بات ہے۔ اللہ نے پیغام دیا، رسول کا کام اس کی ترسیل اور ہمارا کام اُس کی تصدیق کرنا ہے‘‘۔(6)جب امام مالک رحمہ اللہ سے استواء (علی العرش) کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ’’استواء تو معلوم ہے، لیکن اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس کے بارے میں پوچھنا بدعت ہے۔" پھر سائل سے فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ تم ایک برے آدمی ہو۔ ساتھ ہی ان کے حکم سے سائل کو نکال باہر کر دیا گیا۔‘‘(7)۔ یہی مفہوم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔(8)۔

امام ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ہم اپنے پاک رب کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ اپنے آسمانوں کے اوپر اپنی مخلوق سے الگ تھلگ اپنے عرش پر مستوی ہے‘‘۔(9)

اس باب میں ائمہ کے بے شمار اقوال موجود ہیں۔ اس جگہ سب کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی اس طرح کے مزید اقوال جاننے کا خواہش مند ہو، تو اُسے ان کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جنہیں علما‎ئے سنت نے اس باب میں لکھا ہے۔ جیسے عبداللہ بن امام احمد کی کتاب ’السُنّہ‘، جلیل القدر امام محمد بن خزیمہ کی کتاب ’التوحید‘، ابوالقاسم اللالکائی الطبری کی کتاب ’السُنّہ‘، ابوبکر بن ابو عاصم کی کتاب ’السُنّہ‘ نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے وہ جوابات جو انہوں نے اہل حماۃ کے لئے لکھے ہیں، یہ بڑے عظیم اور مفید جواب ہیں۔ ان کے اندر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اہلِ سنت کا عقیدہ بیان کیا ہے اور اُن کے بہت سے اقوال اور شرعی و عقلی دلائل بھی ذکر کیے ہیں، جو اہل سنت کے عقائد کی صحت اور ان کے مخالفین کی باتوں کے رد پر دلالت کرتے ہیں۔

اسی طرح اس سلسلے میں ابن تیمیہ کا وہ رسالہ بھی کافی اہم ہے، جو ’’التدمریۃ‘‘ کے نام سے موسوم ہے‘ جس میں اس مسئلے کا ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شرح و بسط کے ساتھ تذکرہ کیا ہے۔ اس میں اہل سنت کے عقیدے کو عقلی اور منطقی دلائل سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مخالفین کے موقف کا دندان شکن جواب بھی دیا ہے، جس سے ہر اس شخص کے لیے حق واضح اور باطل کا پردہ فاش ہوجاتا ہے، جو نیک نیتی اور رغبت کے ساتھ حق کی معرفت کا جویا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ اسما وصفات کے باب میں یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ان امور کو ثابت کیا ہے، جنہیں خود اللہ نے اپنی کتاب میں یا اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنت میں ثابت کیا ہے، لیکن اس اثبات میں تمثیل کا شائبہ تک نہیں ہے، انہوں نے اللہ کو مخلوق کی مشابہت سے اس طرح پاک قرار دیا ہے کہ اس میں اسے صفات سے عاری قرار دینے کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ چنانچہ وہ تناقض سے محفوظ رہے۔ اور انھوں نے سارے دلائل پر عمل کیا؛ یہ اللہ کی توفیق ہے؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا یہی طریقۂ کار رہا ہے کہ جو لوگ اُس کے رسولوں کے لائے ہوئے حق کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں، اس راہ میں محنت کرتے ہیں اور خلوصِ نیت سے اسے طلب کرتے ہیں، اللہ انھیں حق پر چلنے کی توفیق دیتا ہے اور ان کے سامنے حق کے دلائل کو آشکارا کر دیتا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞ...﴾

" بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے... [سورۃ الانبیاء: 18]۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًا33﴾

" یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال ﻻئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے [سورۃ الفرقان : 33]

اسما وصفات کے باب میں جو کوئی اہل سنت کے عقیدے کی مخالفت کرتا ہے، وہ لازمی طور پر نقلی وعقلی دلائل کی مخالفت کا شکار ہوتا ہے، اور جس مسئلہ کا بھی اثبات اور نفی کرتا ہے اس میں واضح تناقض کا شکار ہو جاتا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی مشہور تفسیر میں اس موضوع پر عمدہ کلام کیا ہے، جب انہوں نے اللہ عز و جل کے اس فرمان پر گفتگو کی:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ...﴾

" بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے ، پھر عرش پر قائم ہوا"۔ [الاعراف : ۵۴]۔

اس کی عظیم افادیت کے پیش نظر اسے یہاں نقل کر دینا بہتر معلوم ہوتا ہے؛ آپ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

"اس مقام پر لوگوں نے بہت ساری باتیں کہی ہیں، جنھیں بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ ہم اس مقام پر سلف صالحین؛ مالک، اوزاعی، ثوری، لیث بن سعد، شافعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ وغیرہ جیسے قدیم و جدید ائمہ کے طریقے پر چلیں گے، جن کا طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کی آیتوں کو ہو بہو اسی طرح مان لیا جائے جس طرح یہ وارد ہوئی ہيں۔ ان کے اندر بیان کیے گئے صفات کی نہ کیفیت بیان کی جائے، نہ تشبیہ دی جائے اور نہ اللہ کو ان سے عاری مانا جائے۔ جب کہ ان آیتوں کا جو ظاہری مفہوم تشبیہ دینے والوں کے ذہن و دماغ میں فوری طور پر آتا ہے، اسے اللہ تعالی کے لیے ثابت نہیں مانا جا سکتا۔ کیوں کہ اللہ اپنی کسی مخلوق کے مشابہ نہیں ہے۔

﴿...لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾

" اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے [الشورى: 11]

بلکہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کہ ائمہ نے کہا ہے، ان میں سے نعیم بن حماد الخزاعی، جو بخاری کے شیخ ہیں، نے کہا: ”جس نے اللہ کو اپنی مخلوق کے ساتھ مشابہت دی وہ کافر ہو گیا، اور جس نے ان چیزوں کا انکار کیا جن سے اللہ نے خود کو متصف کیا ہے، وہ بھی کافر ہو گیا“(10)، اور جن چیزوں سے اللہ نے خود کو یا اس کے رسول نے اسے متصف کیا ہے، ان کے اندر تشبیہ جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ لہذا جس نے اللہ کے لیے ان باتوں کو اس کے شایان شان انداز میں ثابت کیا جنھیں اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے یا جنھیں اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے لیے ثابت کیا ہے اور اسے نقائص سے پاک کہا تو اس نے ہدایت کے راستے پر چل کر دکھایا۔"(11) ابن کثیر رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔

اللہ پر ایمان کے اندر یہ بات بھی شامل ہے کہ ایمان قول و عمل پر مشتمل ہے، جو اطاعت سے بڑھتا ہے اور نافرمانی سے گھٹتا ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ کسی مسلمان کو شرک اور کفر سے کم تر کسی کبیرہ گناہ، جیسے زنا، چوری، سودخوری، نشہ آور اشیا کا استعمال، والدین کی نافرمانی وغیرہ کی بنیاد پر، جب تک ان کو حلال نہ سمجھے، کافر کہنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ...﴾

" یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے... [النساء: ۴۸]۔

اور متواتر احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللهَ يُخْرِجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ». "اللہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال باہر کرے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا"۔(12)

 


دوسری اصل: فرشتوں پر ایمان، جو دو امور کو شامل ہے:

یہ دو باتوں پر مشتمل ہے: پہلا امر: فرشتوں پر اجمالی ایمان لانا؛ یعنی یہ کہ ہم ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جنہیں اس نے اپنی اطاعت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور ان کی صفت یہ بتائی ہے:

﴿وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۚ بَلۡ عِبَادٞ مُّكۡرَمُونَ 26 لَا يَسۡبِقُونَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ وَهُم بِأَمۡرِهِۦ يَعۡمَلُونَ27 يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ28﴾

" (مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن اوﻻد واﻻ ہے۔ (یہ غلط ہے) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وه سب اس کے باعزت بندے ہیں۔ کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں۔ وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں"۔ [الانبیاء: 26-28]

فرشتے کئی طرح کے ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے ذمہ عرشِ الہی اٹھائے رکھنا ہے، کچھ جنت اور جہنم کے نگہبان ہیں نیز ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بندوں کے اعمال کی نگرانی پر مامور ہیں۔ دوسرا امر: فرشتوں پر تفصیلی ایمان لانا؛ یعنی ان فرشتوں پر ایمان لانا جن کا نام اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتایا ہے؛ جیسے جبریل جو وحی لانے پر مامور ہیں، میکائیل جو بارش پر مامور ہیں، جہنم کے داروغہ مالک، اور اسرافیل جو صور میں پھونک مارنے پر مامور ہیں۔ جیسا کہ ان کا ذکر احادیث صحیحہ میں آیا ہے، مثلا: صحیح میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خُلِقَتِ الـمَلَائِكَةُ مِن نُورٍ، وَخُلِقَ الجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُم» "فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کے بارے میں تمہیں بتایا گیا ہے"۔(13) اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

 


تیسری اصل: کتابوں پر ایمان، اور یہ بھی دو امور کو شامل ہے:

اول: کتابوں پر اجمالی ایمان: یعنی یہ کہ اللہ نے اپنے انبیاء و رسل پر کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ وہ اس کا حق واضح کریں اور اس کی طرف دعوت دیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلۡنَا مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلۡقِسۡطِ...﴾

" یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں... [سورۃ الحديد: 25]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ...﴾

" دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے... [ سورۃ البقرۃ: 213 ]

دوسرا: کتابوں پر تفصیلی ایمان لانا؛ یعنی ان کتابوں پر ایمان لانا جن کا اللہ نے نام لیا ہے؛ جیسے تورات، انجیل، زبور اور قرآن، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ قرآن ان سب میں سب سے افضل، آخری، ان کا نگراں اور ان کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے، اور یہ کہ اس کی اتباع کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیثوں کے ساتھ اسے فیصل ماننا پوری امت پر فرض ہے؛ کیونکہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جنوں اور انسانوں کی جانب رسول بناکر بھیجا ہے اور آپ پر اس قرآن کو اتارا ہے؛ تاکہ آپ اس کے ذریعے ان کے درمیان فیصلے کریں، اور اللہ نے اسے دلوں کے لیے شفا، ہر چیز کا واضح حل اور مومنوں کے لیے ہدایت و رحمت بھی بنایا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ مُبَارَكٞ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ155﴾

" اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیر وبرکت والی ، سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو"۔ [سورۃ الانعام: 155]۔ ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿...وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ﴾

" اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے [سورۃ النحل:89] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ158﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ"۔ [الاعراف: 158]۔ اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

چوتھی اصل: رسولوں پر ایمان

یہ بھی دو باتوں پر مشتمل ہے: پہلا امر: رسولوں پر اجمالی ایمان؛ یعنی یہ کہ ہم ایمان رکھیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں کی جانب کچھ رسول بھیجے، جو ان میں سے خوش خبری دینے والے، ڈرانے والے اور حق کی دعوت دینے والے تھے؛ لہذا جس نے ان کی دعوت قبول کر لی وہ سعادت سے ہم کنار ہوا اور جس نے ان کو ٹھکرا دیا، وہ ناکام و نامراد ہوا۔ اس سلسلے کی آخری کڑی اور سب سے افضل نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾

" ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو..." [النحل: ۳۶]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿رُّسُلٗا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةُۢ بَعۡدَ ٱلرُّسُلِ...﴾

" رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے... (سورۃ النساء: 165) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ...﴾

" (لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے...[الاحزاب: 40]

دوم : رسولوں پر تفصیلی ایمان لانا؛ یعنی ان رسولوں پر تفصیلی ایمان لانا جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے یا جن کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے؛ جیسے نوح، ہود، صالح اور ابراہیم وغیرہ، ان پر درود وسلام ہو نیز ان کے اہل بیت اور ان کے متبعین پر بھی۔

 


 

پانچویں اصل: یومِ آخرت پر ایمان

اس میں درج ذیل امور شامل ہیں:

ان تمام امور پر ایمان لانا جن کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے جو موت کے بعد واقع ہوں گے؛ جیسے قبر کا فتنہ، اس کا عذاب اور اس کی نعمت، قیامت کے دن کی ہولناکیاں، مشکلات، صراط، میزان، حساب، جزا، لوگوں کے درمیان صحیفوں کا تقسیم ہونا؛ تو کوئی اپنے دائیں ہاتھ میں کتاب لے گا اور کوئی اپنے بائیں ہاتھ میں یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے۔

اس میں یہ بھی شامل ہے: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دئے جانے والے حوض پر ایمان، جنت و جہنم پر ایمان اور ایمان والوں کا اپنے رب کے دیدار اور ہم کلامی کی سعادت وغیرہ پر ایمان، جن کا ذکر قرآن پاک اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی صحیح سنت میں ہے؛ اس لیے بندے پر لازم ہے کہ ان تمام باتوں پر ایمان رکھے اور انھیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کے مطابق مانے۔

چھٹی اصل: تقدیر پر ایمان

یہ چار امور کو شامل ہے:

پہلا امر: اس بات پر ایمان کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو جو کچھ ہوچکا تھا یا ہونے والا ہے سب کچھ معلوم ہے، نیز اسے بندوں کے احوال، ان کی روزی روٹی، موت وزیست اور کارگزاریاں وغیرہ خوب معلوم ہیں، ان میں سے کوئی بھی چیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے مخفی نہیں۔ جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿...وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ﴾

" اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے [سورۃ البقرۃ: 231]۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿...لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا﴾

" تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے [الطلاق: 12]

دوسری بات: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالی نے قضا وقدر کی ساری باتیں لکھ رکھی ہیں؛ جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡۖ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ 4﴾

" زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وه ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے[سورہ ق : 4] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ فِيٓ إِمَامٖ مُّبِينٖ﴾

" اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے [سورہ یس: 12] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ70﴾

" کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ پر تو یہ امر بالکل آسان ہے"۔ [سورۃ الحج: 70]۔

تیسری بات: اللہ تعالیٰ کی مشیّتِ نافذہ پر ایمان؛ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ جیساکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ﴾

"بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے"۔ [ سورۃ الحج: 18]

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّمَآ أَمۡرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيۡـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ82﴾

" وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے[سورہ یس: 82] ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ29﴾

" اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاه سکتے[سورہ یسین: ۱۲]

چوتھی بات: اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے تمام موجودات کو پیدا کیا ہے؛ اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اور نہ کوئی رب ہے؛ جیساکہ اُس کا فرمان ہے:

﴿ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ62﴾

" اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے [سورۃ الزمر : 62] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ3﴾

" لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو [سورۃ فاطر: 3]

اس طرح اہلِ سنت والجماعت کے یہاں ایمان بالقدر (تقدیر پر ایمان) ان چار باتوں پر مشتمل ہے؛ ان اہلِ بدعت کے برخلاف جنھوں نے ان میں سے بعض کا انکار کیا ہے۔

صحیح عقیدہ جواہل سنت کا عقیدہ ہے اس میں سے ایک اہم امر یہ ہے: اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے نفرت کرنا، اللہ کے لیے دوستی کرنا اور اللہ کے لیے دشمنی کرنا۔ یہى عقیدہ ولاء وبراء ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا حصہ ہے۔

ایک مومن دوسرے مومنوں سے محبت اور دوستی رکھتا ہے اور کافروں سے نفرت اور دشمنی۔ یاد رہے کہ اس امت کے مسلمانوں کی فہرست میں سب سے اوپر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کا نام ہے، -جیسا کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ ایک ثابت شدہ امر ہے-؛ وہ ان سے محبت اور اپنائیت رکھتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ نبیوں کے بعد سب سے اچھے لوگ ہیں، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «خَيْرُ القُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم» "سب سے اچھے لوگ میرے زمانے کے لوگ ہيں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے"۔(14) (متفق علیہ)

ان کا عقیدہ ہے کہ سب سے افضل صحابی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ، پھر عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ اور پھر علی مرتضی رضی اللہ عنہ، پھر باقی عشرہ مبشرہ اور ان کے بعد باقی صحابہ رضی اللہ عنہم کا درجہ ہے۔ اہل سنت والجماعت صحابہ کے بیچ رونما ہونے والے اختلافات کے پیچھے نہيں پڑتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس معاملے میں انھوں نے اجتہاد سے کام لیا تھا، لہذا جس کا اجتہاد صحیح تھا اسے دو اجر ملے گا اور جس کا اجتہاد غلط تھا اسے ایک اجر ملے گا۔

وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنے والے آپ کے اہل بیت سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات جو مومنوں کى مائیں ہیں ان سے اپنا تعلق جوڑ کر رکھتے ہیں اور ان سے ولاء کا اظہار کرتے ہیں، نیز سبھى ازواج مطہرات کے لیے اللہ کی رضامندی کی دعا کرتے ہیں۔ وہ روافض کے طریقے سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھیوں سے نفرت کرتے ہیں، ان کو برا کہتے ہیں، اہل بیت کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انھیں اللہ کے دیے ہوئے مقام ومرتبے سے اونچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ناصبیوں کے طریقے سے بھی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، جو اپنے قول و عمل سے اہل بیت کو اذیت دیتے ہیں۔

یہ سب کچھ جو ہم نے ذکر کیا ہے، اس صحیح عقیدے کے اندر شامل ہے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا تھا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جسے لازم پکڑنا، اس پر قائم رہنا اور اس کی مخالفت سے بچنا واجب ہے۔ یہی فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، جس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «لَا تَـزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ‌ظَاهِرِينَ ‌عَلَى ‌الحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ»، "میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان کو بے یار ومددگار چھوڑنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے"۔(15) ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الحَقِّ مَنْصُورَةٌ»، "میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور اسے اللہ کی مدد حاصل ہوتی رہے گی۔"(16) اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «افْتَرَقَتِ اليَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً فَقَالَ الصَّحَابَةُ: مَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي» "یہودی اکہتر فرقوں میں اور نصاری بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور سوائے ایک فرقے کے سارے فرقے جہنم میں ہیں سوائے ایک کے! صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ ایک فرقہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر قائم رہے گا"۔(17)

صحیح عقیدہ کے مخالف عقائد

اس عقیدے سے انحراف کرنے والے اور اس کی مخالف راہ پر چلنے والے بہت سی قسموں میں بٹے ہوئے ہیں؛ ان میں سے کچھ بتوں، تھانوں، فرشتوں، اولیا، جنوں، درختوں اور پتھروں وغیرہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے رسولوں کی دعوت کو نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کیا، بلکہ اس کی مخالفت کی اور اس سے معاندانہ رویہ اپنایا، جیسا کہ قریش اور دیگر عرب قبیلوں نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روا رکھا تھا۔ وہ اپنے باطل معبودوں سے ضرورتوں کی تکمیل، بیمار لوگوں کو شفا دینے اور دشمنوں پر فتح یابی کی فریاد کرتے، ان کے لیے جانور ذبح کرتے اور نذر و نیاز کرتے تھے۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی ان باتوں کا رد کیا اور انھیں صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا، تو انھوں نے اسے ایک عجیب چیز سمجھا اور کہا:

﴿أَجَعَلَ ٱلۡأٓلِهَةَ إِلَٰهٗا وَٰحِدًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٞ5﴾

" کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے[ص: 5]

لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم لگاتار انھیں اللہ کی جانب بلاتے رہے، شرک سے خوف دلاتے رہے اور ان کے سامنے اپنی دعوت کی حقیقت واضح کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے کچھ لوگوں کو ہدایت دی۔ اس کے بعد لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم، صحابۂ کرام اور اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں کی مسلسل دعوت اور طویل جہاد کے بعد اللہ کا دین تمام ادیان پر غالب آ گیا۔ پھر حالات بدل گئے اور اکثر لوگوں پر جہالت غالب آگئی، یہاں تک کہ زیادہ تر لوگ انبیا و اولیا کے بارے میں غلو اور ان سے دعا وفریاد جیسے طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہوکر جاہلیت کے دین کی جانب لوٹ گئے۔ انھوں نے "لا الہ الا اللہ" کا وہ معنی بھی نہیں سمجھا جو عرب کے کافروں نے سمجھا تھا۔ اللہ ہی مدد گار ہے!

جہالت کے غلبے اور نبوی دور سے دوری کی وجہ سے یہ شرک لوگوں کے اندر ہمارے اس دور تک پھیلتا ہی چلا گیا۔

بعد کے بت پرستوں کا شبہ وہی ہے جو پہلے کے بت پرستوں کا تھا، اور وہ ان کا یہ کہنا ہے:

﴿...هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴾

" یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں [يونس: 18]۔ نیز فرمایا:

﴿...مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ...﴾

" ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں [الزمر: ۳]

اللہ تعالیٰ نے اس شبہے کو باطل قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتا ہے وہ شرک اور کفر کا مرتکب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴾

" اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں... [سورۃ يونس : 18]

چنانچہ اللہ پاک نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:

﴿قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ18﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے"۔ [سورۃ يونس : 18]

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کردیا کہ جس نے اس کے علاوہ نبیوں اور ولیوں یا کسی اور کی عبادت کی، اس نے شرک اکبر کیا، اگرچہ اس میں ملوث لوگ اسے کوئی اور نام دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿...وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ...﴾

" اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں [سورۃ الزمر: 3] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:

﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ﴾

" یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا[سورۃ الزمر: 3]

اللہ نے واضح کر دیا کہ ان کا دعا، خوف اور امید وغیرہ کے ذریعے کسی اور کی عبادت کرنا اللہ کے ساتھ کفر ہے۔ ساتھ ہی ان کے اس دعوے کو جھٹلا دیا کہ ان کے معبود انھیں اللہ کی قربت دلائیں گے۔

صحیح عقیدہ اور رسولوں کی تعلیمات کے مخالف اور کفریہ عقائد میں اس دور کے ملحدین کے عقائد بھی شامل ہیں، جو مارکس اور لینن جیسے الحاد و کفر کے داعیوں کی پیروی کرتے ہيں۔ چاہے وہ اپنے افکار و نظریات کو اشتراکیت کا نام دیں یا شیوعیت کا یا بعثیت کا یا کچھ اور۔ ان تمام ملحدین کے یہاں بنیادی بات یہی ہے کہ کسی معبود کا کوئی وجود نہيں ہے اور زندگی مادہ ہے۔

آخرت، جنت و جہنم اور تمام ادیان کا انکار بھی ان کے یہاں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا اور ان کے افکار و نظریات کو پڑھنے والا ان کے ان عقائد سے بخوبی واقف ہے۔ جب کہ اس بات میں کہیں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس طرح کے عقائد تمام آسمانی مذاہب کے مخالف ہیں اور اپنے ماننے والوں کو دنیا اور آخرت میں بد ترین انجام سے دوچار کرنے والے ہیں۔

حق کے مخالف عقائد میں سے بعض صوفیوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ ان کے کچھ نام نہاد اولیا، جنھیں وہ اقطاب، اوتاد اور غوث جیسے من گھڑت ناموں سے پکارتے ہیں، کائنات کی تدبیر میں اللہ کے شریک ہیں اور اس میں تصرف بھی کرتے ہیں۔ یہ ربوبیت میں شرک ہے، اور اللہ تعالی کے ساتھ شرک کی بدترین اقسام میں سے ہے۔

جو شخص اہل جاہلیت کے پہلے لوگوں کے شرک پر غور کرے اور اسے بعد کے لوگوں میں پھیلے ہوئے شرک سے موازنہ کرے، تو وہ پائے گا کہ بعد کے لوگوں کا شرک زیادہ بڑا اور زیادہ خطرناک ہے، اور اس کی وضاحت حسب ذیل ہے: عرب کے کفار زمانہ جاہلیت میں دو امور میں ممتاز تھے: پہلا امر: وہ ربوبیت میں شرک نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کا شرک عبادت میں تھا؛ کیونکہ وہ ربوبیت کو اکیلے اللہ عزوجل کے لئے مانتے تھے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ...﴾

" اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ... [سورۃ الزخرف : 87] مزید ارشاد الہی ہے:

﴿قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ31﴾

"آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے [سورۃ يونس: 31] اس معنی ومفہوم کی آیتیں کثرت سے وارد ہوئی ہیں۔

2۔ عبادت میں بھی وہ ہمیشہ شرک نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا شرک صرف راحت و آرام کی حالت میں ہوا کرتا تھا، جبکہ سختی اور پریشانی کے وقت وہ عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ65﴾

" پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں [سورۃ العنکبوت: 65]

بعد کے مشرکین، پہلے کے مشرکوں کے مقابلے میں دو ناحیے سے آگے بڑھ چکے ہیں: پہلا ناحیہ: ان میں سے بعض ربوبیت میں شرک کرتے ہیں۔ دوسرا ناحیہ یہ ہے کہ یہ لوگ خوش حالی کے ساتھ ساتھ پریشانی کے وقت بھی شرک کرتے ہیں۔ ان سے میل جول رکھنے والے، ان کے احوال پر نظر رکھنے والے نیز مصر میں حسین اور بدوی کی قبر کے پاس، عدن میں عیدروس کی قبر کے پاس، یمن میں ہادی اور شام میں ابن عربی کی قبر کے پاس، عراق میں عبد القادر جیلانی کی قبر اور اس طرح کی دوسری مشہور قبروں کے پاس یہ جو کچھ کر رہے ہيں، اس کا مشاہدہ کرنے والے ان باتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ ان قبروں کے بارے میں عام لوگ غلو کے شکار ہيں اور انھیں اللہ کے بہت سارے حقوق دے رہے ہيں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی خال خال ہی نظر آرہے ہیں جو ان کا رد کریں اور عوام کے سامنے اس توحید کی حقیقت بیان کریں، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تھا اور آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا تھا۔ ان حالات میں ہم انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے ہيں۔

اسما و صفات کے باب میں صحیح عقیدے کے مخالف عقائد میں جہمیہ، معتزلہ اور ان کے راستے پر چلتے ہوئے اللہ کی صفات کی نفی کرنے والے، اسے کمال پر مبنی صفات سے عاری قرار دینے والے اور معدوم و محال اشیا اور جمادات کے وصف سے موصوف کرنے والے اہل بدعت کے عقائد بھی شامل ہیں، جب کہ اللہ تعالی ان کے قول سے کہیں زیادہ بلند وبالا ہے۔

ساتھ ہی اس میں ان لوگوں کا عقیدہ بھی شامل ہے، جو بعض صفات کی نفی کرتے ہیں اور بعض کو ثابت مانتے ہیں، جیسا کہ اشاعرہ کا عقیدہ ہے۔ جن صفات کو وہ ثابت کرتے ہیں ان کے بارے میں بھی انہیں وہی کچھ لازم آتا ہے جس سے انہوں نے راہ فرار اختیار کر رکھی ہے ان صفات کے بارے میں جن کی انہوں نے نفی کی ہے اور ان کے دلائل کی تاویل کر ڈالی ہے۔ نتیجے کے طور پر انہوں نے اپنے اس رویے کے ذریعے سمعی و عقلی دلائل کی مخالفت کی ہے اور واضح تناقض کے شکار ہوئے ہیں۔

جہاں تک اہل سنت والجماعت کا تعلق ہے، تو انہوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے ان اسما و صفات کو ثابت مانا ہے، جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے یا اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے لیے ثابت کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اللہ کو مخلوق کی مشابہت سے اس طرح پاک قرار دیا ہے کہ اس میں اسے اسما و صفات سے عاری قرار دینے کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے تمام دلیلوں پر عمل کیا، تحریف و تعطیل کے شکار نہیں ہوئے اور تناقض سے بھی محفوظ رہے، جس کے دوسرے لوگ شکار ہو چکے ہیں۔

یہی نجات کا راستہ ہے، اور دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ یہی وہ سیدھا راستہ ہے، جس كو اس امت کے سلف اور ائمہ نے اختیار کیا ہے، پھر سچی بات یہ ہے کہ اس امت کے بعد کے لوگوں کی اصلاح اسی چیز کے ذریعے ممکن ہے، جس کے ذریعے اس کے ابتدائی دور کے لوگوں کی اصلاح ہوئی ہے، اور وہ چیز ہے کتاب وسنت کی اتباع اور ان کی مخالف چیزوں سے کنارہ کشی۔ ہم اللہ پاک وبرتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امت کو ہدایت کی راہ پر واپس لائے، اس کے اندر حق کے داعیوں کی کثرت فرمائے، اور اس کے قائدین و علما کو شرک سے لڑنے، اس کا خاتمہ کرنے اور اس کے وسائل سے متنبہ کرنے کی توفیق دے۔ یقینا اللہ سننے والا اور قریب ہے۔ اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، وہ ہم کو کافی اور سب سے بہترین کار ساز ہے، برائیوں سے پھرنے کى قوت اور نیکیاں کرنے کى طاقت صرف اللہ کى مدد ہی سے ممکن ہے۔ درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ ﷺ کے اہل بیت اور اصحاب پر۔

 

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

دوسرا كتابچہ: نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد رسى) کرنے کا حکم

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور ان کے اہل بیت اور صحابہ نیز ان کے ہدایت کو اختیار کرنے والوں پر۔

اما بعد: کویتی اخبار "المجتمع" نے اپنے شمارہ نمبر 15، جو 19/4/1390 ھ کو شائع ہوا، میں "مولد نبوى شریف کے یاد میں" کے عنوان کے تحت کچھ اشعار شائع کیے۔ یہ اشعار نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد) اور آپ سے مدد طلب کرنے پر مشتمل تھے تاکہ امت کو اس کے انتشار اور اختلاف سے نجات دلائی جا سکے۔ ان اشعار کو "آمنہ" نامی خاتون کے دستخط کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ یہ اشعار جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان میں سے کچھ کے الفاظ درج ذیل ہیں:

یا رسول اللہ! ایک عالم کو بچائیے... جو جنگ بھڑکاتا ہے اور اس کی آگ میں جلتا ہے۔

اے اللہ کے رسول! امت کی مدد فرمائیں... شک کے اندھیروں میں ان کی رات دراز ہو چکی ہے۔

اے اللہ کے رسول! امت کی مدد فرمائیں... کہ غم کی بھول بھلیوں میں ان کی بصیرت کھو گئی ہے۔

آگے لکھتی ہے :

جلد از جلد نصرت فرمائیے ...جیسا کہ آپ نے بدر کے دن جلدی فرمائی تھی جب آپ نے اللہ کو پکارا۔

چنانچہ ذلت ایک شاندار نصرت میں بدل گئی... بے شک اللہ کے ایسے لشکر ہیں جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے۔

(اسی طرح یہ کاتبہ اپنی ندا اور استغاثہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ کرتی ہے، جلد سے جلد امت کی مدد اور نصرت کرنے کی درخواست کرتی ہے، اس بات کو بھول کر یا اس بات سے لا علم ہو کر کہ نصرت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ نبی ﷺ یا کسی اور مخلوق کے ہاتھ میں، جیسا کہ اللہ پاک نے اپنی کتاب مبین میں فرمایا:

﴿...وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾

"مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں واﻻ ہے [آل عمران: ۱۲۶]، اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ...﴾

" اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ [آل عمران: ۱۶۰]۔

یہ عمل، یعنی دعا اور استغاثہ، غیر اللہ کے لیے عبادت کی ایک قسم کو انجام دینا ہے؛ اور نصوص اور اجماع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جائز نہیں، اللہ سبحانہ نے مخلوقات کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کریں، رسولوں کو بھیجا اور کتابیں نازل کیں تاکہ اس عبادت کو بیان کریں اور اس کی طرف دعوت دیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾

" میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں(سورہ الذاریات: 56)، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ...﴾

" ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [سورۃ النحل: 36]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ 25﴾

" تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو[الأنبیاء: ۲۵] اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ1 أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ2﴾

" الرٰ، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں ، پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے۔ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے والا ہوں [ھود: ۱، ۲]۔

اللہ تعالیٰ نے ان محکم آیات میں واضح کر دیا کہ اس نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی بیان کیا کہ اس نے رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ وہ اس عبادت کا حکم دیں اور اس کی مخالف چیزوں سے روکیں۔ اللہ عز و جل نے خبر دی ہے کہ اس نے اپنی کتاب کی آیات کو محکم اور مفصل بنایا ہے تاکہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

یہ معلوم ہے کہ عبادت کا مطلب ہے: اللہ کو ایک ماننا اور اس کی اطاعت کرنا، اس کے احکامات کی پیروی کرنا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا، اللہ نے بہت سی آیات میں اس کا حکم دیا اور اس کی خبر دی ہے، مثلا اللہ سبحانہ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ...﴾

" انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر... [البینۃ: ۵]، اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے:

﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ...﴾

" اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [سورہ الإسراء: 23]، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾

" یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا"۔ [سورۃ الزمر: 2-3]۔

اس معنی کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عبادت خالصتاً اللہ کے لیے ہونی چاہیے اور انبیاء وغیرہ کی عبادت کو ترک کرنا واجب ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دعا عبادت کی اہم ترین اور جامع ترین قسموں میں سے ہے، لہذا اس کو صرف اللہ کے لیے خالص کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:

﴿فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ14﴾

" تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں[غافر: ۱۴]، اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے:

﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا18﴾

" اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو [الجن: ۱۸]، اور یہ تنبیہ کہ دعا میں اللہ کو اکیلا مانا جائے، تمام مخلوقات بشمول انبیاء کرام پر لاگو ہوتی ہے؛ چنانچہ ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ106﴾

"اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے"۔ [سورۃ يونس: 106] یہاں خطاب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے۔ لیکن یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ کو شرک سے محفوظ رکھا تھا۔ لہذا مراد امت کو خبردار کرنا تھا۔ پھر اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ106﴾

" اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے"۔ [سورۃ يونس: 106] یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، اور اس کا مقصد دوسروں کو خبردار کرنا ہے؛ کیونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے رسول کو شرک سے محفوظ رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالی نے نہی اور تحذیر میں شدت اختیار کی؛ فرمایا:

﴿...فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾

" پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے

اور جب ظلم کا ذکر على الاطلاق کیا جاتا ہے تو اس سے مراد شرک اکبر ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿...وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾

" اور کافر ہی ظالم ہیں"۔ [ سورۃ البقرة: 254] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾

" بیشک شرک بڑا بھاری ظالم ہے[لقمان: ۱۳]۔ اگر آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار - علیہ الصلاۃ والسلام- غیر اللہ کو پکاریں تو وہ ظالموں میں سے ہوں گے، تو پھر دوسروں کا کیا حال ہوگا؟!

ان آیات اور دیگر دلائل سے یہ معلوم ہوا کہ غیر اللہ سے دعا کرنا، خواہ وہ مردے ہوں، درخت ہوں یا بت وغیرہ، اللہ عزوجل کے ساتھ شرک ہے، اور عبادت میں اللہ کی توحید کے منافی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے جن و انس کی تخلیق، رسولوں کے بھیجنے اور کتابوں کے نازل کرنے کا مقصد بنایا ہے، اور یہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے معنی کے بھی مخالف ہے؛ جو غیر اللہ کی عبادت کی نفی کرتا ہے اورصرف اکیلے اللہ کے لئے عبادت کو ثابت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ62﴾

" یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وه باطل ہے اور بیشک اللہ ہی بلندی واﻻ کبریائی واﻻ ہے"۔ [سورہ الحج: 62]۔

یہی دین کی اصل اور ملت کی بنیاد ہے، اور اس اصل کی صحت کے بغیر عبادات درست نہیں ہوتیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ65﴾

" یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا"۔ [الزمر: ۶۵]، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿...وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

" ...اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے"۔ [الأنعام: ۸۸]۔

مندرجہ بالا بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام اور شہادتِ (لا الہ الا اللہ) کے دو عظیم اصول ہیں:

اول یہ کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی جائے؛ چنانچہ جو شخص انبیاء یا دیگر فوت شدگان کو پکارے، یا بتوں، درختوں، پتھروں یا دیگر مخلوقات کو پکارے، یا ان سے مدد طلب کرے، یا ان کے لئے قربانی اور نذریں پیش کرے، یا ان کے لئے نماز پڑھے، یا ان کے لئے سجدہ کرے؛ تو اس نے اللہ کے سوا انہیں رب بنا لیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیا، اور لا الہ الا اللہ کے معنی کی مخالفت کی۔

دوسرا: اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اس کے نبی اور رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق کی جائے، چنانچہ جس نے دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؛ اس نے محمد رسول اللہ کی شہادت کا معنی پورا نہیں کیا، اور اس کا عمل اسے نفع نہیں دے گا اور نہ ہی قبول کیا جائے گا، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا23﴾

" اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا [الفرقان: ۲۳]، آیت میں مذکورہ اعمال سے مراد اس شخص کے اعمال ہیں جو شرک پر مرتا ہے۔

اس میں وہ بدعتی اعمال بھی شامل ہیں، جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی، تو وہ قیامت کے دن بکھرے ہوئے ذرات کی مانند ہوں گے، کیوں کہ وہ اس کی پاک شریعت کے مطابق نہیں تھے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»." جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ (متفق علیہ)

خلاصہ یہ ہے کہ اس قلم کار عورت نے اپنی فریاد اور دعا کو رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیر دیا اور اس رب العالمین سے منہ موڑ لیا، جس کے ہاتھ میں مدد، نقصان اور نفع ہے، اور اس کے سوا کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عظیم اور سنگین ظلم ہے، اور اللہ عز وجل نے اپنی دعا کرنے کا حکم دیا ہے، اور جو اس سے دعا کرے گا اس سے قبولیت کا وعدہ کیا ہے، اور جو اس سے منہ موڑے گا اسے جہنم میں داخل ہونے کی وعید سنائی ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ 60

" اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے [غافر: ۶۰]

آیت میں وارد لفظ (داخرین) کا معنى ہےعاجزی اور ذلت کے ساتھ۔اس آیت کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دعا عبادت ہے، اور جو اس سے خود سری کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، تو جب یہ حال اس کا ہے جو اللہ سے دعا کرنے میں خود سری کرے، تو اس کا کیا حال ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو پکارے، جب کہ اللہ ـ سبحانہ ـ قریب ہے، ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ 186﴾

" اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے [البقرة: 186]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے، اور اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: «احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعْنَتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ». "اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو"۔ اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا؛ دَخَلَ النَّارَ». "جو شخص اس حال میں مرا کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرا کر اسے پکارتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا"۔ (صحیح بخاری)، صحیحین میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «أَنْ تَجْعَلَ لِلهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ». "تو اللہ کے لئے شریک وساجھی بنائے جبکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا"۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "ند" کا مطلب ہے: ہمسر اور ہم مثل، لہذا جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی کو پکارے، یا اس سے مدد طلب کرے، یا اس کے لیے نذر مانے، یا اس کے لیے ذبح کرے، یا عبادت کی کوئی صورت اس کے لیے خاص کرے، تو اس نے اسے اللہ کا ند (ہم مثل) بنا لیا، چاہے وہ نبی ہو، ولی ہو، فرشتہ ہو، جن ہو، بت ہو، یا کوئی اور مخلوق ہو۔

اور یہاں کوئی کہہ سکتا ہے: زندہ اور حاضر شخص سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنے کا کیا حکم ہے جس پر وہ قدرت رکھتا ہو، اور ان حسی امور میں اس سے مدد طلب کرنے کا کیا حکم ہے جن پر وہ قدرت رکھتا ہو؛ جواب یہ ہے کہ یہ شرک میں سے نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے درمیان جائز عام امور میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں فرمایا:

﴿...فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ...﴾

" اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی [القصص: ۱۵]، اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں بھی فرمایا:

﴿فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ...﴾

" پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزده ہوکر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے [القصص: ۲۱]، یا جس طرح انسان جنگ وغیرہ میں اپنے ساتھیوں سے ان امور میں مدد طلب کرتا ہے، جو لوگوں کو پیش آتے ہیں اور جن میں انہیں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ اپنی امت کو بتا دیں کہ وہ کسی کے لیے نفع یا نقصان کے مالک نہیں ہیں، چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

﴿قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا21 قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا22﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں"۔ [الجن: ۲۱-۲۲]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ188﴾

" آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں"۔ [الاعراف: ۱۸۸]۔

اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ نبی ﷺ صرف اپنے رب ہی کو پکارتے ہیں، جیسا کہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن اللہ سے فریاد کی، اور اپنے دشمن کے خلاف اللہ سے الحاح وزاری کے ساتھ مدد طلب کی اور فرمایا: "یا رب! مجھے وہ عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے"۔ یہاں تک کہ صدیق اکبر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ، بس کیجیے! بے شک اللہ نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کرنے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:

﴿إِذۡ تَسۡتَغِيثُونَ رَبَّكُمۡ فَٱسۡتَجَابَ لَكُمۡ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلۡفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ مُرۡدِفِينَ9﴾

" اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے"۔ [الأنفال: ۹]، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کی فریاد کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس نے ان کی دعا قبول کی اور فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد کی تاکہ فتح کی خوشخبری اور اطمینان قلب حاصل ہو، اور اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ فتح فرشتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ درحقیقت فتح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، چنانچہ فرمایا:

﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ...﴾

" مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے... [آل عمران: ۱۲۶]، اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ123﴾

" جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت تمہاری مدد فرمائی تھی جب کہ تم نہایت گری ہوئی حالت میں تھے ، اس لئے اللہ ہی سے ڈرو! (نہ کسی اور سے) تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو [آل عمران: ۱۲۳]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ بدر کے دن ان کی مدد کرنے والا وہی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جو اسلحہ اور قوت انہیں عطا کی گئی اور فرشتوں کے ذریعے جو امداد کی گئی، یہ سب فتح کے اسباب اور بشارت و اطمینان کے ذرائع ہیں، اور فتح ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قلم کار عورت یا کوئی اور اپنی فریاد اور مدد کی درخواست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرے اور رب العالمین، جو ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے، اس سے منہ موڑ لے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بدترین جہالت میں سے ہے، بلکہ یہ عظیم ترین شرک میں سے ہے، لہذا اس قلم کار عورت پر واجب ہے کہ وہ اللہ ـ سبحانہـ کے حضور سچی توبہ کرے، اور سچی توبہ میں کئی امور شامل ہوتے ہیں، جو کہ یہ ہیں: پہلا: جو کچھ ہوچکا اس پر نادم ہونا۔ دوسرا: جو کچھ سرزد ہوا اس سے باز آنا۔ تیسرا: اللہ کی تعظیم اور اخلاص کے ساتھ اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنا، اور اس کے حکم کی پیروی کرنا، اور جس سے اس نے منع کیا ہے اس سے بچنا، یہی توبۃ النصوح ہے۔ اور ایک چوتھی بات یہ ہے کہ جب مخلوق کے حق میں زیادتی ہو تو چوتھا مسئلہ: حق دار کو اس کا حق واپس کرنا یا اس سے گلو خلاصى کروالینا۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو توبہ کا حکم دیا ہے اور ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسے قبول کرے گا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ31﴾

" اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ"۔ [النور: ۳۱]، اور اللہ تعالى نے نصارى کے حق میں فرمایا:

﴿أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ74﴾

" یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہے"۔ [المائدۃ: ۷۴]،ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا68 يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا69 إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا70﴾

" اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے ، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے"۔ [الفرقان: ۶۸-۷۰]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ25﴾

"وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے[الشوری: ۲۵]۔

اور رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: «الإِسْلَامُ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَالتَّوْبَةُ تَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهَا». "اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتی ہے"۔

یہ مختصر کلمات اس لیے تحریر کیے گئے ہیں کہ شرک کا خطرہ بہت بڑا ہے، اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے، اور اس قلم کار خاتون کی طرف سے صادر ہونے والی باتوں سے دھوکہ کھانے کا اندیشہ ہے، اور اللہ اور اس کے بندوں کے لیے نصیحت کرنا واجب ہے۔ اللہ جل جلالہ سے دعا ہے کہ وہ اس کو نفع بخش بنائے، اور ہمارے اور تمام مسلمانوں کے حالات کو درست فرمائے، اور ہم سب کو دین کی سمجھ اور اس پر ثابت قدمی کی نعمت عطا فرمائے، اور ہمیں اور مسلمانوں کو اپنے نفوس کے شر اور اپنے اعمال کی برائیوں سے محفوظ رکھے، بے شک وہی اس کا سزاوار اور اس پر قادر ہے۔

اللہ درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے آل بیت اور صحابہ کرام پر۔

 

 

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تیسرا کتابچہ

جنات اور شیاطین سے فریاد کرنا اور ان کے لئے نذر و نیاز کرنے کا حکم

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے تمام مسلمانوں کی خدمت میں، اللہ مجھے اور ان کو اپنے دین پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس پر ثابت قدم رکھے، آمین۔

تم پر سلامتی، اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

اما بعد: بعض بھائیوں نے مجھ سے ان جاہلوں کے بارے میں سوال کیا جو غیر اللہ کو پکارتے ہیں، اہم معاملات میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں؛ جیسے جنات کو پکارنا، ان سے فریاد کرنا، ان کے لئے نذر ماننا، اور ان کے لئے جانور ذبح کرنا۔ اور اسی طرح بعض لوگوں کا یہ کہنا: (اے سات)، یعنی: جنات کے سات سردار، اسے پکڑ لو، اس کی ہڈیاں توڑ دو، اس کا خون پی لو، اس کی بے حرمتی کرو، اے سات! اس کے ساتھ ایسا کرو، یا بعض لوگوں کا یہ کہنا: (اے دوپہر کے جن، اے عصر کے جن، اسے پکڑ لو)، اور یہ بات بعض جنوبی علاقوں میں بہت پائی جاتی ہے، اور اس سے ملتا جلتا عمل ہے: انبیاء کرام، نیک لوگوں اور دیگر مردوں کو پکارنا، فرشتوں کو پکارنا اور ان سے مدد طلب کرنا، یہ سب اور اس جیسی چیزیں بہت سے ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو اسلام کی طرف منسوب ہیں، وہ اپنی جہالت اور اپنے پیشروؤں کی تقلید کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ لوگ اس میں سہولت کاری سے کام لیتے ہیں اور یہ کہہ کر دلیل دیتے ہیں: یہ تو زبان پر جاری ہوتا ہے، ہم اس کا قصد نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر اعتقاد رکھتے ہیں۔

اور مجھ سے یہ بھی پوچھا: ان لوگوں سے نکاح کرنے کا کیا حکم ہے جو ان اعمال کے ساتھ معروف ہیں، ان کی قربانیوں کا کیا حکم ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے، اور شعبدہ بازوں اور نجومیوں کی تصدیق کرنے کا کیا حکم ہے؛ جیسے وہ لوگ جو محض مریض کے جسم سے مس ہونے والی چیزوں؛ جیسے عمامہ، پاجامہ، دوپٹہ وغیرہ کو دیکھ کر بیماری اور اس کے اسباب جاننے کا دعوی کرتے ہیں۔

جواب: ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے، اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور آپ کے اہل بیت اور اصحاب پر اور ان پر جو قیامت کے دن تک ان کے نقش قدم پر چلیں۔

اما بعد: اللہ سبحانہ وتعالی نے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور دعا، فریاد، ذبح، نذر اور تمام عبادات کو خالص اسی کے لیے انجام دیں۔ اس مقصد کے لیے اس نے رسولوں کو بھیجا اور ان کو اس کا حکم دیا، اور آسمانی کتابیں نازل کیں جن میں سب سے عظیم قرآن کریم ہے، تاکہ اس بات کو بیان کریں اور اس کی طرف دعوت دیں، اور لوگوں کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے اور غیراللہ کی عبادت کرنے سے خبردار کریں۔ یہی تمام اصولوں کى اصل اور ملت ودین کی بنیاد ہے، اور یہی "لا الہ الا اللہ" کی شہادت کا معنی ہے، جس کى حقیقت یہ ہے کہ: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ سو یہ کلمہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے الوہیت اور عبادت کی نفی کرتا ہے، اور عبادت کو صرف اللہ واحد کے لئے ثابت کرتا ہے، اس کے سوا کسى بھی مخلوق کے لئے نہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کے بہت زیادہ دلائل موجود ہیں، ان میں سے ایک اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾

" میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں (سورہ الذاریات: 56)، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ...﴾

" اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [سورہ الإسراء: 23]، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ...﴾

" انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر... [البینۃ: ۵]، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ60﴾

" اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے [غافر: ۶۰]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ...﴾

" اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں... [البقرۃ: ۱۸۶]۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے ان آیات میں یہ واضح فرمایا کہ اس نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، اور اس نے اپنے بندوں کو محکم قرآن میں اور رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی زبان سے یہ حکم دیا ہے کہ وہ صرف اپنے رب کی عبادت کریں۔

اور اللہ جل وعلا نے واضح فرمایا کہ دعا ایک عظیم عبادت ہے، جو اس سے خود سرى کرے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا، اور اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اسی کو پکاریں، اور بتایا کہ وہ قریب ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، لہذا تمام بندوں پر واجب ہے کہ وہ دعا صرف اپنے رب سے ہی کریں؛ کیونکہ یہ عبادت کی ایک قسم ہے جس کے لیے انہیں پیدا کیا گیا ہے، اور اس کا حکم دیا گیا ہے، اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ162 لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ163﴾

" آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں"۔ [الأنعام: 162، 163]۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بتا دیں کہ ان کی نماز اور ان کی قربانی - یعنی: ذبح - اور ان کی زندگی اور ان کی موت؛ یہ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس بنیاد پر: جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ذبح کرے تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، جیسے کہ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نماز پڑھے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور ذبح کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ دونوں صرف اللہ کے لیے ہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ جس نے غیر اللہ کے لئے، جیسے جنات، فرشتے، مردے وغیرہ کے لئے ذبح کیا اور ان کی قربت حاصل کرنے کے لئے یہ عمل کیا، تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے غیر اللہ کے لئے نماز پڑھی۔ صحیح حدیث میں نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: «لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ». ’’جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔‘‘ اور امام احمد -ان پر اللہ کی رحمت ہو- نے حسن سند کے ساتھ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مرَّ رَجُلَانِ عَلَى قَومٍ لَهُم صَنَمٌ لَا يَجُوزُهُ أَحَدٌ حَتَّى يُقرِّبَ لَهُ شَيئًا، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمَا: قَرِّبْ. قَالَ: لَيسَ عِندِي شَيءٌ أَقَرِّبُهُ، قَالُوا: قَرِّبْ وَلَوْ ذَبَابًا، فَقَرَّبَ ذُبَابًا، فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَدَخَلَ النَّارَ، وَقَالُوا لِلآخَرِ: قَرِّبْ. قَالَ: مَا كُنْتُ لِأُقَرِّبَ لِأَحَدٍ شَيْئًا دُونَ اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ، فَضَرَبُوا عُنُقَه، فَدَخَلَ الجَنَّةَ». "دو آدمی ایک قوم کے پاس سے گزرے، جن کا ایک بُت تھا، وہ کسی کو بھی وہاں سے چڑھاوا چڑھائے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انہوں نے ایک سے کہا: کچھ چڑھا دو۔ اس نے کہا: میرے پاس چڑھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کچھ چڑھا دو، ایک مکھی ہی سہی۔ چنانچہ اُس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھا دیا، تو اُن لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ اس ایک مکھی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔ اور دوسرے سے کہا: کچھ چڑھا دو۔ اس نے کہا: میں اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس کی گردن اُڑا دی، چنانچہ وہ جنت میں داخل ہوگیا"۔

چنانچہ جب کوئی شخص مکھی وغیرہ کے ذریعہ بت کا تقرب حاصل کرے تو وہ مشرک ہو جاتا ہے اور جہنم میں داخلے کا مستحق ٹھہرتا ہے، تو پھر وہ شخص جو جنات، فرشتوں اور اولیاء کو پکارتا ہے، ان سے فریاد رسى کرتا ہے، ان کے لیے نذر مانتا ہے، اور ان کے تقرب کے لیے ذبیحے پیش کرتا ہے، اس امید میں کہ اس کا مال محفوظ رہے، یا اس کا مریض شفا پائے، یا اس کے جانور اور کھیت سلامت رہیں، اور وہ جو یہ سب کچھ جنات کے شر سے بچنے کے خوف سے کرتا ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا کرنے والا اور اس جیسے اعمال کرنے والا اس شخص سے زیادہ مشرک اور جہنم میں داخلے کا مستحق ہے جس نے بت کے لیے مکھی کا چڑھاوا پیش کیا۔

اس سلسلے میں ایک اور مقام پر اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾

" یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا"۔ [الزُّمَر: 1-3]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ18﴾

" اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے"۔ [سورۃ يونس : 18]

اللہ نے ان دو آیتوں میں بتایا کہ مشرکوں نے اللہ کے علاوہ مخلوقات کو اپنا ولی بنا لیا، اور ان کی عبادت خوف، امید، قربانی، نذر اور دعا وغیرہ کے ذریعے کرتے ہیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اولیاء ان کی عبادت کرنے والوں کو اللہ کے قریب کر دیں گے اور ان کے لئے سفارش کریں گے۔ لیکن اللہ نے ان کو جھوٹا قرار دیا، ان کے بطلان کو واضح کیا، اور انہیں جھوٹا، کافر اور مشرک کہا، اور اپنی ذات کو ان کے شرک سے پاک قرار دیا، چنانچہ فرمایا:

﴿...سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾

" وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے [النحل: 1]

اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی فرشتہ، نبی، جن، درخت یا پتھر کو پکارتا ہے، اس سے فریاد کرتا ہے، اس کے لیے نذر و ذبیحہ پیش کرتا ہے، اللہ کے حضور اس کی شفاعت کی امید میں، یا مریض کی شفا، مال کی حفاظت، یا غائب کی سلامتی کی امید میں، یا اس جیسی کسی اور چیز کے لیے؛ تو وہ اس عظیم شرک اور بدترین بلا میں مبتلا ہو گیا ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا48﴾

"یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا"۔ [النساء: 48]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ72﴾

" یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا"۔ [المائدۃ: ۷۲]۔

اور شفاعت قیامت کے دن صرف اہل توحید و اخلاص کے لیے ہوگی، نہ کہ اہل شرک کے لیے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ان سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ». "جس نے خلوصِ دل سے 'لا الہ الا اللہ' کہا"۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَـبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَومَ القِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهِ مَن مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا». "ہر نبی کی ایک قابل قبول دعا ہوتی ہے، تو ہر نبی نے اپنی دعا جلدی مانگ لی، اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے بچا کر رکھا ہے، تو یہ ان شاء اللہ ان لوگوں کو ملے گی جو میری امت میں سے مریں اس حال میں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں"۔

اولین مشرکین اللہ کو اپنا رب، خالق اور رازق مانتے تھے، لیکن ان کا تعلق انبیا، اولیا، فرشتوں، درختوں، پتھروں اور ان جیسے دیگر چیزوں سے تھا، وہ ان کی شفاعت کی امید رکھتے تھے اور ان کے ذریعے اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کرتے تھے، جیسا کہ آیات میں پہلے بیان ہوا، اللہ نے ان کے اس عمل کو معاف نہیں کیا بلکہ اپنی عظیم کتاب میں ان کی نکیر کی اور انہیں کافر اور مشرک قرار دیا، اور ان کے اس دعوے کو جھٹلا دیا کہ یہ معبود ان کے لیے سفارش کریں گے اور انہیں اللہ کے قریب کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں قابل عذر نہیں قرار دیا بلکہ اس شرک کی وجہ سے ان سے قتال کیا تاکہ اللہ کےلئے عبادت کو خالص کرلیں، اللہ سبحانہ وتعالی کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے:

﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ...﴾

" ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے..." [البقرۃ: ۱۹۳]۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُم وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُم عَلَى اللهِ». "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب لوگ یہ کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہوگا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے"۔ اور نبیﷺ کے اس ارشاد کا مطلب ہے: «حَتَّى يَشْهَدُوا أَن لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ» "یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے لگیں" یعنی وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں اور عبادت کو صرف اللہ کے لئے خاص کریں۔

مشرکین جنات سے ڈرتے تھے اور ان سے پناہ مانگتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنا فرمان نازل فرمایا:

﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا6﴾

"بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے [الجن: ۶]۔ اہل تفسیر نے اس آیتِ کریمہ کے بارے میں فرمایا: اس فرمان کا مطلب ہے:

﴿...فَزَادُوهُمْ رَهَقًا﴾

یعنی: دہشت اور خوف ڈالنے میں؛ کیونکہ جنات اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں، جب وہ دیکھتے ہیں کہ انسان ان سے پناہ مانگتے ہیں، اور اس وقت وہ ان کو مزید خوفزدہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ کثرت سے ان کی عبادت اور ان سے فریاد رسی کرنے لگتے ہیں۔

اللہ نے مسلمانوں کو اس کے بدَل کے طور اپنی ذات اور اپنے کامل کلمات کی پناہ طلب کرنے کی تعلیم دی، اور اس بارے میں اللہ جل جلالہ نے یہ ارشاد فرمایا:

﴿وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ200﴾

" اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کیجئے بلاشبہ وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے والا ہے"۔ [الأعراف: ۲۰۰]، اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے:

﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ1﴾

" آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں"۔

اور نبی ﷺ کی صحیح روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ: (أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ)؛ لَم يَضُرَّهُ شَيءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ». "جو شخص کسی جگہ ٹھہرے اور یہ دعا پڑھے: (میں اللہ تعالی کی مخلوق کے شر سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں) تو اس کے وہاں سے روانہ ہونے تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی"۔

جو کچھ مذکورہ آیات اور احادیث سے واضح ہوا، اس سے نجات کے طلبگار اور اپنے دین کی حفاظت کے خواہشمند، اور شرک سے بچنے کے متمنی کو یہ علم ہوتا ہے کہ مردوں، فرشتوں، جنات اور دیگر مخلوقات سے تعلق جوڑنا، انہیں پکارنا اور ان سے پناہ مانگنا وغیرہ، جاہلیت کے مشرکین کے اعمال میں سے ہے، اور اللہ سبحانہ کے ساتھ بدترین شرک میں سے ہے۔ لہذا اس کو ترک کرنا واجب ہے، اس سے بچنا اور اسے ترک کرنے کی تلقین کرنا اور جو اس کا ارتکاب کرے اس کی نکیر کرنا واجب ہے۔

جو لوگ ان شرکیہ اعمال کے ساتھ معروف ہوں: ان سے نکاح جائز نہیں، نہ ان کا ذبیحہ کھانا، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا، اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ ـ سبحانہ ـ کے حضور توبہ کا اعلان کریں، اور دعا و عبادت کو صرف اللہ کے لئے خالص کریں، کبوں کہ دعا ہی عبادت ہے، بلکہ اس کا مغز ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «الدُّعَاءُ هُوَ العِبَادَةُ». ”دعا ہی عبادت ہے۔“ نیز ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: «الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ». ”دعا عبادت کا مغز (اصل) ہے“۔ جہاں تک مشرکین سے نکاح کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ221﴾

" اور شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ وه ایمان نہ ﻻئیں تم نکاح نہ کرو ، ایمان والی لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہت بہتر ہے، گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک کہ وه ایمان نہ ﻻئیں، ایمان والا غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، گو مشرک تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے، وه اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ وه نصیحت حاصل کریں"۔ [سورہ بقرہ : 221]، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرک عورتوں سے شادی کرنے سے منع فرمایا ہے، چاہے وہ بتوں کی عبادت کرنے والی ہوں یا جنات اور فرشتوں کی، جب تک کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے عبادت کو خالص کرنے پر ایمان نہ لائیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہ کریں اور ان کے راستے کی پیروی نہ کریں۔ اور مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں دینے سے منع فرمایا ہے، جب تک کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے عبادت کو خالص کرنے پر ایمان نہ لائیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہ کریں اور ان کی پیروی نہ کریں۔

اور اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ مومنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے بہتر ہے، چاہے دیکھنے والے کو اس کا حسن و جمال اور باتوں کی خوبصورتی پسند آئے، اور مومن غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، چاہے سننے اور دیکھنے والے کو اس کا حسن، فصاحت، شجاعت وغیرہ پسند آئیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت کی وجوہات کو واضح کیا۔

﴿...أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ...﴾

" یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں [سورہ بقرہ : ۲۲۱]

یعنی اس سے مراد مشرک مرد اور عورتیں ہیں کیونکہ وہ اپنی باتوں، اعمال، سیرت اور اخلاق کے ذریعے جہنم کی طرف بلانے والے ہیں، جبکہ مومن مرد اور عورتیں اپنے اخلاق، اعمال اور سیرت کے ذریعے جنت کی طرف بلانے والے ہیں، تو یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں!

جہاں تک مشرکوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا تعلق ہے، تو اللہ جل و علا نے منافقین کے بارے میں فرمایا:

﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ84﴾

" ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور مرتے دم تک بدکار بے اطاعت رہے ہیں"۔ [التوبۃ: ۸۴]، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں واضح کر دیا ہے کہ منافق اور کافر کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی؛ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کا امام بنایا جائے گا؛ ان کے کفر اور عدم امانت کی وجہ سے، اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی عظیم دشمنی کی بنا پر، اور اس لیے کہ وہ نماز اور عبادت کے اہل نہیں ہیں؛ کیونکہ کفر اور شرک کے ساتھ کوئی عمل باقی نہیں رہتا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس سے عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ اور جہاں تک مشرکین کے ذبیحے کی بات ہے تو اللہ جل جلالہ نے مردار اور مشرکین کے ذبیحے کی حرمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ121﴾

" اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے"۔ [سورہ الأنعام: 121 ]، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مردار اور مشرک کا ذبیحہ کھانے سے منع فرمایا؛ کیونکہ وہ نجس (ناپاک) ہے، لہٰذا اس کا ذبیحہ مردار کے حکم میں ہے، خواہ اس پر اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا گیا ہو؛ کیونکہ اس کی طرف سے بسم اللہ پڑھنا باطل ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں؛ کیونکہ یہ عبادت ہے، اور شرک عبادت کو ضائع اور باطل کر دیتا ہے، یہاں تک کہ مشرک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور توبہ کرے، اور اللہ جل جلالہ نے صرف اہل کتاب کے کھانے کو مباح قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:

﴿...وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ...﴾

" ...اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے... [المائدۃ: ۵]، کیونکہ وہ آسمانی دین سے منسوب ہوتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ موسیٰ اور عیسیٰ کے پیروکار ہیں، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو منسوخ کردیا اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرماکر اسے باطل کر دیا۔ لیکن اللہ جل وعلا نے اہل کتاب کا کھانا اور ان کی عورتوں کو ہمارے لیے حلال کر دیا؛ ایک گہری حکمت اور مصلحت کی بنا پر، جسے اہل علم نے واضح کیا ہے، برخلاف مشرکین کے جو بتوں اور مردوں کی عبادت کرتے ہیں، جیسے انبیاء اور اولیاء وغیرہ؛ کیونکہ ان کا دین بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں، بلکہ اس کی بنیاد ہی باطل ہے، اس لیے ان کا ذبیحہ مردار ہے اور اس کا کھانا جائز نہیں۔

اور جہاں تک کسی شخص کا اپنے مخاطب سے یہ کہنا کہ: (جن تم پر آگیا)، (جن نے تمہیں پکڑ لیا)، (شیطان تمہیں اڑا لے گیا)، اور اس طرح کی باتیں، تو یہ سب وشتم کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ مسلمانوں کے درمیان جائز نہیں، جیسے دیگر اقسام کے سب وشتم جائز نہیں ہیں، اور یہ شرک کے زمرے میں نہیں آتا، سوائے اس کے کہ کہنے والا یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ جن اللہ کی اجازت اور مشیت کے بغیر لوگوں پر تصرف کرتے ہیں۔ جو شخص جنات یا دیگر مخلوقات کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے، وہ اس عقیدے کے ساتھ کافر ہے؛ کیونکہ اللہ پاک ہر چیز کا مالک ہے، ہر چیز پر قادر ہے، وہی نفع و نقصان دینے والا ہے، اور اس کی اجازت، مشیت اور پہلے سے مقرر کردہ تقدیر کے بغیر کچھ بھی وجود میں نہیں آتا، جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو اس عظیم بنياد سے آگاہ کریں:

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ188﴾

" آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں"۔ [الاعراف: ۱۸۸]، چنانچہ جب سید الخلق اور افضل البشر ﷺ اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کے مالک نہیں ہیں، سوائے اس کے جو اللہ چاہے، تو دیگر مخلوقات کا کیا حال ہوگا؟! اور اس معنی کی آیتیں بہت زیادہ ہیں۔

جہاں تک غیب کى خبروں کے بارے میں اطلاع دینے کا دعوى کرنے والوں، شعبدہ بازوں، نجومیوں اور ان جیسے لوگوں سے سوال کرنے کا تعلق ہے جو غیبی امور کی خبریں دیتے ہیں، تو یہ منکر ہے اور جائز نہیں، اور ان کی تصدیق کرنا تو اور بھی شدید اور بڑا منکر ہے، بلکہ یہ کفر کی شاخوں میں سے ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيءٍ؛ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَومًا». "جو شخص عراف کے پاس جائے اور اُس سے کسى چیز کے بارے میں پوچھے؛ تو چالیس دنوں تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی"۔ اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، صحیح مسلم میں ایک اور روایت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «أَنَّ النَّبيَّ ﷺ نَهَى عَنْ إِتْيَانِ الكُهَّانِ وَسُؤَالِهِم». "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل کے بارے میں یا دل کى بات کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں کے پاس جانے اور ان سے سوال کرنے سے منع فرمایا ہے"۔

اور اہل السنن نے اللہ کے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: «مَنْ أَتَى كَاهِنًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ؛ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ». ’’جو کسی مستقبل کے بارے میں یا دل کى بات کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کا انکار کیا‘‘۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ مستقبل کے بارے میں یا دل کى بات کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں، غیب کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں اور دیگر تمام شعبدہ بازوں سے سوال کرنے سے بچیں، جو غیبی امور کی خبریں دینے اور مسلمانوں کو شبہات میں مبتلا کرنے میں مشغول ہیں، چاہے وہ طب کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور اس سے خبردار کیا ہے۔ اور اس میں ان غیبی امور کا دعوى بھی شامل ہے: جو بعض لوگ طب کے نام پر کرتے ہیں، جیسے مریض کی پگڑی یا مریضہ کی چادر سونگھ کر کہتے ہیں: اس مریض یا مریضہ نے فلاں کام کیا ہے، اور فلاں چیز بنائی ہے، جن کا تعلق غیبی امور سے ہوتا ہے اور جن پر مریض کی پگڑی وغیرہ میں کوئى بھى دلالت نہیں ہوتى ہے، بلکہ اس کا مقصد عوام کو دھوکہ دینا ہوتا ہے، تاکہ وہ کہیں: یہ طب اور بیماریوں کی اقسام اور ان کے اسباب کو جاننے والا ہے، اور کبھی کبھار وہ انہیں کچھ دوائیں بھی دے دیتے ہیں، اور کبھی اللہ کے حکم سے شفا بھی ہو جاتی ہے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس کی دوا کے سبب ہوا ہے۔ اور بعض اوقات بیماری کی وجہ کچھ جن اور شیاطین ہوتے ہیں، جو اس طب کے دعویدار کی خدمت کرتے ہیں، اور اسے بعض غیبی امور کی خبر دیتے ہیں جن پر وہ مطلع ہوتے ہیں، تو وہ اس پر اعتماد کرتا ہے، اور جن و شیاطین کو ان کی پسندیدہ عبادت کے ذریعے راضی کرتا ہے، تو وہ اس مریض سے دور ہو جاتے ہیں، اور اذيت رساني كا جو كام انہوں نے اس کے ساتھ کی ہوتی ہے، اسے چھوڑ دیتے ہیں، یہ جن و شیاطین اور انہیں استعمال کرنے والوں کے بارے میں معروف بات ہے۔

چنانچہ مسلمانوں پر بھی واجب ہے کہ اس سے بچیں، اور ایک دوسرے کو اسے ترک کرنے کی تلقین کریں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر بھروسہ کریں، اور ہر معاملے میں اسی پر توکل کریں۔ شرعی رقیہ اور مباح دواؤں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، اور ان ڈاکٹروں سے علاج کرانا بھی جائز ہے جو مریض کی جانچ کرتے ہیں اور حسی اور معقول اسباب کے ذریعے اس کی بیماری کی تشخیص کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: «مَا أَنْزَلَ اللهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ علِمه، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ». ’’اللہ تعالیٰ جب کوئی بیماری نازل کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل فرماتا ہے، تو کچھ لوگ اس کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ اس سے ناواقف رہتے ہیں‘‘۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فإِذَا أُصِيبَ دَوَاءٌ الدَّاءَ بََرَأَ بِإِذْنِ اللهِ». ’’ہر بیماری کا علاج ہے، جب بیماری کا علاج مل جائے تو اللہ کے حکم سے شفا حاصل ہو جاتی ہے‘‘۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «عِبَادَ اللهِ، تَدَاوَوا وَلَا تَدَاوَوا بِحَرَامٍ». ’’اے اللہ کے بندو! علاج معالجہ کیا کرو، اور خبردار! حرام چیزوں سے علاج نہ کیا کرو‘‘۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

ہم اللہ جل جلالہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کے حالات درست فرمائے، ان کے دلوں اور جسموں کو ہر برائی سے شفا عطا فرمائے، اور انہیں ہدایت پر جمع کرے، اور ہمیں اور انہیں تمام فتنوں کی گمراہیوں اور شیطان اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت سے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور برائیوں سے پھرنے کى قدرت اور نیکیوں کے کرنے کى طاقت بلند وعظمت والے اللہ کى مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

اللہ درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے آل بیت اور صحابہ کرام پر۔

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

چوتھا کتابچہ:

بدعیہ اور شرکیہ اوراد کے ذریعہ عبادت کرنے کا حکم:

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے برادر محترم (.........) کی خدمت میں، اللہ انہیں ہر خیر کی توفیق دے، آمین۔

آپ سب پر سلامتی اور اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

امّا بعد: آپ کا مکرم مکتوب مجھے موصول ہوا، اللہ آپ کو اپنی ہدایت سے بہرہ ور فرمائے، اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آپ کے علاقے میں کچھ لوگ ایسے اذکار پر عمل پیرا ہیں جن کے لیے اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، ان میں سے کچھ بدعی ہیں اور کچھ شرکیہ ہیں، اور وہ ان کو امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وغیرہ سے منسوب کرتے ہیں، وہ ان اوراد کو مجالس ذکر میں یا مساجد میں نماز مغرب کے بعد پڑھتے ہیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہیں، مثلاً وہ کہتے ہیں: اللہ کے حق کے واسطے، اللہ کے بندو! ہمارى مدد کرو اللہ کى مدد کے ساتھ، اور ہوجاؤ ہمارے مدد گار اللہ کى مدد کے ساتھ ۔ اور وہ یہ بھی ورد کرتے ہیں: اے اقطاب، اے سادات، اور ہمارے مابین امداد کے لئے معروف لوگو! ہماری باتوں کو قبول کرو، اور اللہ کے حضور ہماری شفاعت کرو، یہ آپ سب کا بندہ حاضر ہے، اور آپ کے دروازے پر جما بیٹھا ہے، اپنی کوتاہیوں سے خائف ہے، ہماری مدد فرمائیں یا رسول اللہ، میرے پاس آپ کے سوا کوئی نہیں ہے جہاں جاؤں، اور آپ ہی سے میرا مقصد حاصل ہوتا ہے، اور آپ اللہ والے ہیں، حمزہ سید الشہداء کے وسیلے سے، اور آپ لوگوں میں سے ہمارى مدد کون کرسکتا ہے، ہماری مدد فرمائیں یا رسول اللہ۔ اور وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما اس پر جسے تو نے اپنی جبروتی رازوں کے انکشاف کا سبب اور اپنی رحمانی انوار کے ظہور کا ذریعہ بنایا، پس وہ ذات ربانی کا نائب اور تیرے ذاتی رازوں کا خلیفہ بن گیا۔

آپ کی خواہش ہے کہ یہ وضاحت کی جائے کہ بدعت کیا ہے، شرک کیا ہے، اور کیا اس امام کے پیچھے نماز درست ہے جو یہ دعا کرتا ہے، آپ کے سوال میں وارد سارى باتیں واضح ہیں۔

جواب: ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اکیلا ہے، اور درود وسلام ہو اس نبی پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور آپ کے اہل بیت واصحاب پر، اور ان پر جو قیامت کے دن تک آپ کی ہدایت پر چلتے رہیں۔

اما بعد: معلوم ہو ـ اللہ آپ کو توفیق دے ـ کہ اللہ ـ سبحانہ ـ نے مخلوقات کو پیدا کیا اور رسل ـ علیہم الصلاة والسلام ـ کو بھیجا محض اس لیے کہ وہ تنہا اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾

" میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں (الذاریات : ۵۶)۔

عبادت - جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا - یہ ہے: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت کرما اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا؛ ہر اس فعل کو بجا لاکر جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہو، اور ہر اس فعل سے رک کر جس سے اللہ اور اس کے رسول نے رکنے کا حکم دیا ہو، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ، اور عمل میں اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ، اللہ کی محبت کی انتہا کے ساتھ، اور اس کے لیے مکمل عاجزی کے ساتھ، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ...﴾

" اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا... [سورہ الإسراء: 23] یعنی: حکم دیا اور وصیت کی کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ2 الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ3 مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ4 إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ5﴾

"سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے واﻻ۔ بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں"۔ [الفاتحۃ: ۲-۵]، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے واضح کردیا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور صرف اسی سے مدد طلب کی جائے۔ اور اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ...﴾

" یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے... [الزُّمَر: ۲- ۳]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ14﴾

" تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں[غافر: ۱۴]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا18﴾

" اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو [الجن: ۱۸]، اس معنی کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عبادت خالصتاً اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔

معلوم ہے کہ دعا اپنی تمام اقسام کے ساتھ عبادت ہے، لہذا کسی انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو پکارے، اور نہ ہی کسی سے مدد طلب کرے یا فریاد کرے، ان آیات کریمہ اور اس مفہوم کی دیگر آیتوں پر عمل کرتے ہوئے۔ یہ ان امور کے علاوہ ہے جو عام اور حسی اسباب ہیں، جن پر زندہ اور حاضر مخلوق قدرت رکھتی ہے، کیونکہ یہ عبادت میں شامل نہیں ہیں، بلکہ نص اور اجماع کے مطابق جائز ہے کہ انسان زندہ اور قادر انسان سے ان عام امور میں مدد طلب کرے جن پر وہ قدرت رکھتا ہو؛ جیسے کہ اپنے بیٹے، خادم یا کتے کے شر کو دور کرنے میں اس سے مدد طلب کرے، وغیرہ۔ جیسے کہ زندہ اور حاضر قادر انسان سے مدد طلب کرے، یا غائب سے، حسی اسباب کے ذریعے جیسے خط و کتابت وغیرہ کے ذریعے، اپنے گھر کی تعمیر میں، یا اپنی گاڑی کی مرمت میں، یا اس جیسی دیگر چیزوں میں، اس میں یہ بھی شامل ہے: جہاد اور جنگ میں انسان کا اپنے ساتھیوں سے استغاثہ (فریاد رسی کرنا) اور اس جیسی دیگر چیزیں۔ اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں فرمایا:

﴿...فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ...﴾

" اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی [القصص: 15]۔

رہی بات مردوں، جنات، فرشتوں، درختوں اور پتھروں سے استغاثہ اور فریاد کرنے کی، تو یہ شرک اکبر ہے، اور یہ ان اگلے مشرکین کے عمل کی جنس سے ہے جو اپنے معبودوں جیسے عزیٰ، لات وغیرہ کے ساتھ کرتے تھے۔ اسى قبیل سے ہے ان زندہ لوگوں سے جن کے بارے میں یہ لوگ ولایت کا عقیدہ رکھتے ہیں، فریاد رسى کرنا اور مدد طلب کرنا، ایسى چیزوں میں جن پر صرف اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے؛ جیسے مریضوں کی شفایابی، دلوں کی ہدایت، جنت میں داخلہ، جہنم سے نجات اور اس جیسی دیگر چیزیں۔

گذشتہ آیتیں اور ان کے معنی میں موجود دیگر آیتیں اور احادیث سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام امور میں دلوں کا رخ اللہ کی طرف رکھنا اور عبادت خالصتاً اللہ کے لیے کرنا واجب ہے؛ کیونکہ بندے اسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، اور انہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے - جیسا کہ آیات میں پہلے بیان ہوا - اور جیسا کہ اللہ سبحانہ کے اس فرمان میں ہے:

﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا...﴾

" اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو..." [النساء: ۳۶]، نیز اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ...﴾

" انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں..." [البینۃ: ۵]، اور نبی کریم ﷺ کا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ارشاد گرامی ہے: «حَقُّ اللهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا». "بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں"۔ (متفق علیہ) نیز حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایت میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا؛ دَخَلَ النَّارَ». "جو شخص اس حال میں مرا کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراکر اسے پکارتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا"۔ (صحیح بخاری)۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو ان سے فرمایا: «إِنَّكَ تَأْتِي قَومًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُم إِلَيهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ». "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ چنانچہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں"۔ ایک روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «اُدْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ». "انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں"۔ جب کہ بخاری کی ایک روایت میں ہے: «فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُم إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللهَ». لہٰذا سب سے پہلی چیز جس کی تم انہیں دعوت دو وہ یہ ہو کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اعتقاد رکھیں"۔ صحیح مسلم میں طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَالَ: لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِن دُونِ اللهِ؛ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ جَلَّ جَلَالُهُ». "جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ جل جلالہ کے ذمہ ہے"۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

یہی توحید دینِ اسلام کی اصل، ملت کی بنیاد، تمام امور کا اساس اور اہم ترین فریضہ ہے۔ یہ جن و انس کی تخلیق کی وجہ اور تمام انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی بعثت کی حکمت ہے، جیسا کہ اس پر دلالت کرنے والی آیات گزر چکی ہیں‘ اسی سلسلے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ56﴾

"میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں (سورہ الذاریات: 56)، اور اس کی ایک اور دلیل اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ...﴾

" ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو..." [سورۃ النحل: 36]، اور پاک وبرتر اللہ نے فرمایا:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ25﴾

" تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو"۔ [الانبیاء: ۲۵]۔ اللہ جل جلالہ نے نوح، ہود، صالح اور شعیب علیہم الصلاة والسلام کے تعلق سے یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنى قوم سے کہا:

﴿...اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ...﴾

"اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں [الاعراف: ۵۹] یہ تمام رسولوں کی دعوت ہے، جیسا کہ پچھلی دو آیتوں سے واضح ہوتا ہے، اور رسولوں کے دشمنوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ رسولوں نے انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے سوا ہر معبود کو ترک کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے قوم عاد کے قصے میں فرمایا کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا:

﴿...أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا...﴾

" کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں [الاعراف: ۷۰]، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قریش کے بارے میں فرمایا جب ہمارے نبی محمد ﷺ نے انہیں اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرنے اور اللہ کے سوا جو کچھ وہ فرشتوں، اولیاء، بتوں اور درختوں وغیرہ کی عبادت کرتے تھے، اسے چھوڑنے کی دعوت دی:

﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ5﴾

" کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے [ص: ۵]، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:

﴿إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ35 وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓاْ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٖ مَّجۡنُونِۭ36﴾

" یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟ [الصافات: ۳۵-۳۶] اس معنی و مفہوم کی نشاندہی کرنے والی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

جو آیات اور احادیث ہم نے ذکر کی ہیں ان سے آپ پر واضح ہو جائے گا - اللہ مجھے اور آپ کو دین کی سمجھ اور رب العالمین کے حقوق کی بصیرت عطا فرمائے - کہ: یہ دعائیں اور استغاثہ کی اقسام - جنہیں آپ نے اپنے سوال میں بیان کیا ہے - یہ سب شرک اکبر کی اقسام میں سے ہیں؛ کیونکہ یہ غیر اللہ کی عبادت ہیں، اور مردوں اور غائب لوگوں سے ایسی چیزوں کا طلب کرنا ہے جن پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں، اور یہ اولین کے شرک سے بھی بدتر ہے؛ کیونکہ اولین صرف حالتِ خوشحالی میں شرک کرتے تھے۔ اور جب وہ مشکلات میں ہوتے تھے تو اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صرف وہی ـ سبحانہ ـ انہیں سختی سے نجات دے سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مبین میں ان مشرکین کے بارے میں فرمایا:

﴿فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ65﴾

" پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں [العنکبوت: ۶۵]، اور اللہ -پاک وبرتر- نے ایک اور آیت میں ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فِي ٱلۡبَحۡرِ ضَلَّ مَن تَدۡعُونَ إِلَّآ إِيَّاهُۖ فَلَمَّا نَجَّىٰكُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ أَعۡرَضۡتُمۡۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ كَفُورًا67﴾

"اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی ره جاتا ہے۔ پھر جب وه تمہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے"۔ [الإسراء: 67]۔

اگر ان میں سے کوئی مشرک یہ کہے: ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ بذاتِ خود ہمیں فائدہ پہنچاتے ہیں، یا ہمارے مریضوں کو شفا دیتے ہیں، یا بذاتِ خود ہمیں نفع پہنچاتے ہیں، یا بذاتِ خود ہمیں ضرر پہنچاتے ہیں، بلکہ ہمارا مقصد اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی شفاعت کا حصول ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ: یہی تو اولین کفار کا مقصد اور مراد ہے، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ان کے معبود خود سے پیدا کرتے ہیں یا رزق دیتے ہیں، یا نفع و نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ اس کا بطلان قرآنی آیات سے ظاہر ہوتا ہے، بلکہ وہ ان سے ان کی شفاعت، جاہ و مرتبہ اور اللہ سے قریب کرنے کی خواہش رکھتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ...﴾

" اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں..." [يونس: 18]۔ چنانچہ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:

﴿...قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وه پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے [يونس: 18]۔ چنانچہ اللہ پاک نے واضح کر دیا کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی اس کے حضور سفارش کرنے والا نہیں ہے جس طرح کہ مشرکین کا مقصد ہوتا ہے، اور جس چیز کا اللہ کو علم نہیں وہ موجود نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ 1 إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ2 أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ3﴾

" اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے۔ یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا"۔ [سورۃ الزمر: 1-3]۔

یہاں دین کا مطلب ہے: عبادت، یعنی اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت -جیسا کہ پہلے بیان ہوا-، اور اس میں دعا اور استغاثہ، خوف اور امید، قربانی اور نذر بھی شامل ہیں، اسی طرح اس میں شامل ہیں: نماز وروزہ، اور دیگر وہ تمام امور جن کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے واضح فرمایا کہ عبادت صرف اسی کے لیے ہے، اور یہ کہ بندوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی عبادت اسی جل جلالہ کے لیے خالص کریں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت میں اخلاص کا حکم دینا، اس امت کے تمام افراد کے لیے حکم ہے۔

اللہ عز و جل نے اس کے بعد کافروں کے بارے میں وضاحت فرمائی:

﴿...وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ...

" اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں [الزمر: ۳]۔ چنانچہ اللہ پاک نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:

﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ﴾

"یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا[الزُّمَر: ۳]، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خبر دی ہے کہ کفار نے اس کے سوا اولیا کی عبادت نہیں کی مگر اس لیے کہ وہ انہیں اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک پہنچا دیں؛ اور کفار کا یہ مقصد قدیم و جدید دونوں زمانوں میں رہا ہے، اللہ نے اس کو اپنے اس فرمان سے باطل قرار دیا ہے:

﴿...إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ﴾

"یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا[الزُّمَر: ۳]، تو اللہ نے واضح کر دیا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ ان کے معبود انھیں اللہ کی قربت دلائیں گے، جھوٹ ہے اور ان کا ان کی عبادت کرنا کفر ہے۔ اس سے ہر صاحبِ عقل جان سکتا ہے کہ اولین کفار کا کفر انبیاء، اولیاء، درختوں، پتھروں اور دیگر مخلوقات کو اللہ کے ساتھ سفارشی بنانے کی وجہ سے تھا۔ اور ان کا یہ عقیدہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اور رضا کے بغیر ان کی حاجات پوری کرتے ہیں، جیسے وزراء بادشاہوں کے حضور سفارش کرتے ہیں، تو انہوں نے اللہ جل جلالہ کو بادشاہوں اور زعماء پر قیاس کیا۔ اور وہ کہتے ہیں: جس طرح کسی بادشاہ یا حاکم کے پاس اپنی حاجت لے جانے کے لیے اس کے خاص لوگوں اور وزیروں کے ذریعے سفارش کی جاتی ہے، اسی طرح ہم اللہ کا قرب انبیاء اور اولیاء کی عبادت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی باطل بات ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی شبیہ ہے اور نہ ہی اس کا مخلوق سے کوئی موازنہ کیا جا سکتا ہے، اور اس کے حضور کوئی سفارش نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ وہ خود اجازت دے، اور وہ اجازت صرف اہل توحید کو دیتا ہے۔ وہ سبحانہ وتعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، نہ کسی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی کسی کا خوف رکھتا ہے؛ کیونکہ اللہ سبحانہ اپنے بندوں پر غالب ہے، اور ان میں جیسے چاہے تصرف کرتا ہے۔ برخلاف بادشاہوں اور رہنماؤں کے، کیوں کہ وہ ہر چیز پر قادر نہیں ہوتے، اس لیے انہیں اپنے وزیروں، خاص لوگوں اور سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ان کاموں میں ان کی مدد کریں جن میں وہ عاجز ہوتے ہیں؛ اسی طرح ان تک ان لوگوں کی حاجات پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے جن کی حاجات سے وہ واقف نہیں ہوتے، اس لیے انہیں اپنے وزیروں اور خاص لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی توجہ حاصل کریں اور انہیں راضی کریں۔ لیکن رب عز وجل اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے، اور وہ ان پر ان کی ماؤں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور وہ عادل حاکم ہے، جو اپنی حکمت، علم اور قدرت کے مطابق چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھتا ہے، لہذا اس کا اپنی مخلوق سے کسی بھی صورت میں موازنہ جائز نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ واضح کردیا کہ مشرکین اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ہی خالق، رازق اور مدبر ہے، اور وہی ہے جو مضطر کی دعا قبول کرتا ہے، تکلیف کو دور کرتا ہے، زندگی اور موت دیتا ہے، اور اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سے افعال ہیں۔ مشرکین اور رسولوں کے درمیان جھگڑا اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے عبادت کو خالص کرنے کے بارے میں تھا، جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ...﴾

" اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ..." [سورہ الزخرف: 87]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ31﴾

" آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے". [یونس: ۳۱]، اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ رسولوں اوران کى قوموں کے درمیان نزاع کا اصل موضوع اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لئے عبادت کو خالص کرنا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:

﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾

" ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو..." [سورۃ النحل: 36]، اور اس معنیٰ کى دیگر آیتیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں کئی مقامات پر شفاعت کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿...مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِ...﴾

" کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے" [البقرۃ: ۲۵۵]، اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے:

﴿وَكَم مِّن مَّلَكٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ26﴾

"اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے"۔ [سورہ النجم: 26]۔

اور فرشتوں کے وصف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿...وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ﴾

" وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں". [الأنبیاء: ۲۸]۔

اور اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے راضی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے شکر کو پسند کرتا ہے، اور شکر یہ ہے کہ اس کی توحید پر قائم رہا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡۖ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمۡ...﴾

" اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے ، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا..." [الزمر: ۷]۔

صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ قَالَ: لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ». "جس نے خلوصِ دل سے (لا الہ الا اللہ) کہا"۔ یا فرمایا: «مِنْ نَفْسِهِ». "اپنے نفس سے"۔

اور صحیح حدیث میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا». "ہر نبی کے لئے ایک قبول ہونے والى دعا تھى تو ہر نبی نے اپنى وہ دعا مانگ لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے بچا لیا ہے اور یہ شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہوگی - ان شاء اللہ- جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو"۔ اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

ہم نے جو آیات اور احادیث ذکر کی ہیں وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عبادت صرف اللہ کا حق ہے اور اس میں سے کچھ بھی غیر اللہ کے لیے پھیرنا جائز نہیں، نہ انبیاء کے لیے اور نہ ہی کسی اور کے لیے۔ اور شفاعت اللہ جل جلالہ کى ملکیت ہے، جیسا کہ اس نے فرمایا:

﴿قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗا...﴾

" کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے" ۔ [الزُّمَر: 44] اور کوئی بھی اس کا مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے والے کو اجازت نہ دے، اور جس کے حق میں شفاعت کی جا رہی ہے اس سے راضی نہ ہو، اور وہ ـ سبحانہ وتعالیٰ ـ صرف توحید سے راضی ہوتا ہے ـ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ چنانچہ: مشرکین کو شفاعت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، اور اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اپنے فرمان میں واضح کر دیا ہے:

﴿فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ 48﴾

" پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی". [المدثر: ۴۸]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...مَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ حَمِيمٖ وَلَا شَفِيعٖ يُطَاعُ﴾

" ظالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی". [غافر: ۱۸]۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ عند الاطلاق ظلم سے مراد شرک باللہ ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿...وَٱلۡكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ﴾

" اور کافر ہی ظالم ہیں"۔ [ سورہ البقرة: 254]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ﴾

"بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے". [لقمان: ۱۳]۔

جہاں تک سوال میں جو بعض صوفیوں کا مساجد وغیرہ میں یہ کہنا نقل کیا گیا ہے کہ: اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما اس پر جسے تو نے اپنی جبروتی رازوں کے انکشاف کا سبب اور اپنی رحمانی انوار کے ظہور کا ذریعہ بنایا، چنانچہ وہ ذات ربانی کا نائب اور تیرے ذاتی رازوں کا خلیفہ بن گیا... وغیرہ۔

جواب یہ ہے کہ کہا جائے: یہ کلام اور اس جیسے دیگر اقوال تکلف اور تصنع میں سے ہیں؛ جن سے ہمارے نبی محمد ﷺ نے ہمیں خبردار کیا ہے؛ جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «هَلَكَ المُتَنَطِّعُونَ» "غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے"۔ یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔

امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المتنطع: کسی شے میں گہرائی اور تکلف سے کام لینے والا؛ ان اہلِ کلام کے طریقوں پر جو لا یعنی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ایسے امور میں بحث وجدال کرتے ہیں جہاں تک ان کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں۔

ابو السعادات ابن الاثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ وہ لوگ ہیں جو باتوں میں پیچیدگى اور غلو سے کام لیتے ہیں، اور حلق کے آخری حصے سے آواز نکالتے ہیں۔ یہ 'نِطَع' سے ماخوذ ہے، جو منہ کے تالو کو کہتے ہیں، بعد ازاں اس کا استعمال ہر قسم کی تعمق پسندی کے لیے ہونے لگا چاہے قول میں ہو یا عمل میں۔

ان دونوں ائمہ لغت کے ذکر کردہ باتوں سے آپ اور ہر صاحب بصیرت پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے نبی اور ہمارے پیشوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا یہ طریقہ تکلف اور تنطع (غلو وتصنع) میں سے ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ اور اس باب میں مسلمان کے لئے مشروع یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے ثابت شدہ طریقے کو اختیار کرے، یہ طریقے دیگر طریقوں سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔

اس کی مثال: بخاری و مسلم نے اپنی صحیحین میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے؛ تو ہم آپ پر کیسے درود پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». کہو: (اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح درود بھیج جیسے تو نے درود ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ اور محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے)۔‏‏‏‏

اور صحیحین میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». کہو: (اے اللہ! محمد پر اور ان کى بیویوں اور ان کى ذریت پر تو اسی طرح درود بھیج جیسے تو نے درود آل ابراہیم پر بھیجا ہے، اور محمد پر اور ان کى بیویوں اور ان کى ذریت پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے برکتیں آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے)۔‏‏‏‏

صحیح مسلم میں حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر بن سعد نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے؛ تو ہم آپ پر کیسے درود پڑھیں؟ آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: «قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ؛ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ؛ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ فِي العَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا عَلِمتُم». (کہو: اے اللہ! محمد اور آل محمد پر درود بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر درود بھیجا، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے تمام جہانوں والوں کے مابین آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی ہے، بے شک تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ اور سلام اسی طرح بھیجو جس طرح تم جانتے ہو)۔

یہ الفاظ اور ان جیسے دیگر الفاظ - جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں - انہیں ہی مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے میں استعمال کرنا چاہیے؛ کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں کہ ان کے حق میں کیا استعمال کیا جانا چاہیے، جیسے کہ وہ سب سے زیادہ جاننے والے ہیں کہ ان کے رب کے حق میں کون سے الفاظ استعمال کیے جانے چاہئیں۔

جہاں تک پر تکلف اور نو ایجاد کردہ الفاظ کا تعلق ہے، اور وہ الفاظ جو غلط معنی کا احتمال رکھتے ہیں؛ جیسے کہ سوال میں مذکور الفاظ، تو ان کا استعمال درست نہیں ہے؛ کیونکہ ان میں تکلف پایا جاتا ہے، اور یہ باطل معانی کی طرف لے جا سکتے ہیں، جبکہ یہ ان الفاظ کے بھی مخالف ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منتخب فرمائے اور اپنی امت کو ان کی طرف رہنمائی فرمائی، اور وہ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ خیر خواہ اور تکلف سے سب سے دور ہیں، ان پر ان کے رب کی طرف سے بہترین درود و سلام ہو۔

امید ہے کہ مذکورہ دلائل توحید کی حقیقت، شرک کی حقیقت، اور اس باب میں اولین مشرکین اور بعد کے مشرکین کے درمیان فرق کو بیان کرنے میں، اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم پر مشروع طریقے سے درود بھیجنے کی کیفیت کو بیان کرنے میں طالبِ حق کے لئے کافی وشافی ہوں گے۔ جو شخص حق کو جاننے کی خواہش نہیں رکھتا؛ وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے، اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿فَإِن لَّمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ50﴾

"پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [القصص: ۵۰]۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ واضح فرمایا کہ اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، اس کے حوالے سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں:

ان دونوں میں سے ایک قسم کے لوگ: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات مانتے ہیں۔

اور دوسرى قسم کے وہ لوگ ہیں: جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں؛ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس سے زیادہ گمراہ کوئی نہیں جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کی پیروی کرے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خواہشات کی پیروی سے محفوظ رکھے، اور ہمیں، آپ کو اور ہمارے تمام بھائیوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات ماننے والوں میں شامل کرے، اور اس کی شریعت کی تعظیم کرنے والوں میں شامل کرے، اور ہر اس چیز سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی شریعت کے مخالف ہو، جیسے بدعات ومحدثات۔ بے شک وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔

اللہ تعالی اپنے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے اہل بیت و اصحاب پر نیز قیامت تک بھلائى کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام نازل فرمائے۔

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

پانچواں کتابچہ:

میلاد النبیﷺ اور دیگر میلادوں کے جشن کا حکم

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور ان کے اہل بیت اور صحابہ نیز آپ کى ہدایت کى پیروى کرنے والوں پر۔

اما بعد: بہت سے لوگوں کی طرف سے نبی ﷺ کے میلاد کے جشن منانے، اس دوران آپ کے لئے کھڑے ہونے، اور آپ پر سلام بھیجنے وغیرہ کے بارے میں بارہا سوال کیا گیا ہے کہ ان کا کیا حکم ہے؟

جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے میلاد یا کسی اور کے میلاد کا جشن منانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ دین میں نئی ایجاد کردہ بدعات میں سے ہے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نہیں کیا، نہ ہی آپ کے خلفائے راشدین نے، اور نہ ہی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے، اور نہ ہی ان کے بعد آنے والے تابعین نے جو قرون مفضلہ میں تھے، جبکہ وہ سنت کے سب سے زیادہ جاننے والے، رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے، اور آپ کی شریعت کی پیروی کرنے میں ہم سے زیادہ کامل تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح کتاب میں فرمایا:

﴿...وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْ...﴾

" ...اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ..."

[الحشر: ۷] اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿...فَلۡيَحۡذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ يُصِيبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

" سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے"۔ [سورہ النُّور: 63]، ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا21﴾

" یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے". [سورہ الاحزاب: 21]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ100﴾

"اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے"۔ [التوبۃ:۱۰۰] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

" آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳] اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اور نبی ﷺ سے یہ ارشاد ثابت ہے: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنهُ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ یعنی: وہ عمل مردود ہے، ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَلَيكُم بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيَّينَ مِنْ بَعدِي، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالةٌ». "تم میری سنت کو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں داڑھوں سے پکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ (دین میں) ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ ان دونوں احادیث میں بدعت ایجاد کرنے اور اس پر عمل کرنے سے سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے،

اور اس طرح کی میلادوں کا ایجاد کرنا اس بات کو سمجھنے کے مترادف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے دین کو مکمل نہیں کیا، اور رسول کریم ﷺ نے وہ سب کچھ نہیں پہنچایا جس پر امت کے لیے عمل کرنا ضروری تھا، یہاں تک کہ بعد کے لوگوں نے آکر اللہ کے دین میں وہ چیزیں ایجاد کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؛ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ یہ چیزیں انہیں اللہ کے قریب کر دیں گی۔ اور اس میں بلا شبہ بڑا خطرہ ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے دین کو مکمل کردیا ہے اور ان پر اپنی نعمت پوری کردی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح پیغام پہنچا دیا ہے، اور کوئی راستہ جو جنت تک پہنچاتا ہو اور جہنم سے دور کرتا ہو، نہیں چھوڑا مگر اسے امت کے لیے واضح کردیا، جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «مَا بَعَثَ اللهُ مِن نَبِيٍ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيهِ أَن يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُم، وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ». "اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنی امت کو اس خیر کی طرف رہنمائی کرے جو وہ ان کے لیے جانتا تھا، اور ان کو اس شر سے ڈرائے جو وہ ان کے لیے جانتا تھا"۔ [صحیح مسلم]۔

یہ بات معلوم ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل اور خاتم الانبیاء ہیں، اور تبلیغ و نصیحت میں سب سے کامل ہیں۔ اگر میلاد کا جشن دین کا حصہ ہوتا جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امت کے لیے واضح کیا ہوتا، یا اپنی زندگی میں اس کا اہتمام کیا ہوتا، یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے انجام دیا ہوتا۔ جب ان میں سے کوئی چیز واقع نہیں ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ اسلام کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان بدعات میں سے ہے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو خبردار کیا ہے، جیسا کہ احادیث میں اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اس باب میں آیات اور احادیث بڑی تعداد میں موجود ہے۔

مذکورہ دلائل اور دیگر دلائل کی بنیاد پر متعدد علماء نے میلاد کے انکار اور اس سے بچنے کی تاکید کی ہے؛ جبکہ بعض متاخرین نے اختلاف کیا اور اس کی اجازت دی بشرطیکہ اس میں کوئی منکر عمل شامل نہ ہو؛ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو، مردوں اور عورتوں کا اختلاط، آلاتِ لہو ولعب کا استعمال، اور دیگر وہ امور جنہیں شریعتِ مطہرہ ناپسند کرتی ہے، اور انہوں نے گمان کیا کہ یہ بدعتِ حسنہ میں سے ہے۔

شرعی قاعدہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان جو بھی تنازع ہو، اسے کتاب اللہ اور سنت رسول محمد ﷺ کی طرف لوٹایا جائے، جیسا کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا59﴾

" اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے"۔ [النساء: ۵۹] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ...﴾

" اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے ..." [سورہ الشورى: 10]

ہم نے اس مسئلے کو، یعنی: میلاد کے جشن کو اللہ کی کتاب کی طرف لوٹایا، تو ہم نے پایا کہ یہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ کی پیروی کرنے کا حکم دیتی ہے، اور جس سے آپ نے منع فرمایا ہے اس سے ہمیں خبردار کرتی ہے، اور ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے اس کا دین مکمل کر دیا ہے، اور یہ جشن ان چیزوں میں سے نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے؛ لہذا یہ اس دین کا حصہ نہیں ہے جسے اللہ نے ہمارے لیے مکمل کیا ہے، اور جس میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔

ہم نے اس کو سنت رسول ﷺ کی طرف بھی لوٹایا تو ہمیں اس میں نہ تو یہ ملا کہ آپ ﷺ نے اسے کیا ہو، نہ اس کا حکم دیا ہو، اور نہ ہی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے کیا ہو؛ تو ہم نے جان لیا کہ یہ دین میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ بدعات محدثات میں سے ہے، اور یہود و نصاریٰ کی عیدوں میں ان کی مشابہت اختیار کرنے کے قبیل سے ہے۔

اس سے ہر اس شخص پر واضح ہو جاتا ہے جس کے پاس ادنیٰ بصیرت اور حق کی طلب میں انصاف ہو کہ میلاد کا جشن دین اسلام میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ بدعات و خرافات میں سے ہے جنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے چھوڑنے اور ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ عقل مند انسان کو ان لوگوں کی کثرت سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے جو اس پر مختلف ممالک میں عمل کرتے ہیں، کیونکہ حق کثرتِ عاملین سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ شرعی دلائل سے پہچانا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرمایا:

﴿وَقَالُواْ لَن يَدۡخُلَ ٱلۡجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوۡ نَصَٰرَىٰۗ تِلۡكَ أَمَانِيُّهُمۡۗ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ111﴾

" یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو"۔ [البقرۃ: ۱۱۱]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ...﴾

" اور دنیا میں زیاده لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وه آپ کو اللہ کی راه سے بے راه کردیں..." [الانعام: ۱۱۶]

پھر یہ کہ اکثر میلاد کی یہ محفلیں بدعت ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر منکرات سے بھی خالی نہیں ہوتیں؛ جیسے مردوں اور عورتوں کا اختلاط، گانے بجانے کا استعمال، مسکرات اور منشیات کا استعمال، اور دیگر برائیاں اور غلط کام۔ اور اس میں اس سے بھی بڑا گناہ واقع ہو سکتا ہے، یعنی شرک اکبر، جو رسول اللہ ﷺ یا دیگر اولیاء کے بارے میں غلو کرنے، ان کو پکارنے، ان سے فریاد کرنے، ان سے مدد طلب کرنے، اور یہ اعتقاد رکھنے میں ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں، اور اس طرح کی دیگر کفریہ باتیں جو بہت سے لوگ نبی کریم ﷺ کے میلاد، یا آپ کے علاوہ جنہیں وہ اولیاء کہتے ہیں، ان کے میلاد کے موقع پر کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِيَّاكُم وَالغُلُوُّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَن كَانَ قَبْلَكُم الغُلُوَّ فِي الدِّينِ». ”تم دین میں غلو سے بچو، اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا ہے“۔ اسی طرح اللہ کے نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، إِنَّمَا أَنَا عَبدٌ، فَقُولُوا: عَبدُ اللهِ وَرَسُولُه». "میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو"۔ اسے بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

اور یہ بھی عجیب و غریب بات ہے کہ بہت سے لوگ ان بدعتی محفلوں میں شرکت کے لیے سرگرم اور کوشاں رہتے ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں، اور ان چیزوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو اللہ نے ان پر فرض کی ہیں جیسے جمعہ اور جماعت کی نمازوں میں شرکت، اور اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے، اور نہ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑا منکر کام کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایمان کی کمزوری، بصیرت کی کمی، اور دلوں پر گناہوں اور معاصی کی کثرت کا نتیجہ ہے۔ ہم اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے عافیت کی دعا کرتے ہیں۔

اس کی مثال: ان میں سے بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میلاد میں حاضر ہوتے ہیں؛ اسی لیے وہ کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کرتے ہیں، یہ سب سے بڑی باطل بات اور بدترین جہالت ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن سے پہلے اپنی قبر سے نہیں نکلیں گے، نہ ہی کسی سے رابطہ کرتے ہیں، نہ ہی ان کے اجتماعات میں حاضر ہوتے ہیں، بلکہ آپ ﷺ اپنی قبر میں قیامت کے دن تک مقیم رہیں گے، اور آپ کی روح اپنے رب کے پاس کرامت والى جگہ میں اعلیٰ علیین میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ15 ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ16﴾

" اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔ پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے". [المؤمنون: ۱۵- ۱۶]۔

اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ القَبْرُ يَومَ القِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوًّلُ مُشَفَّعٍ». ’’قیامت کے دن سب سے پہلے میں قبر سے نکلوں گا، اور میں سب سے پہلا شافع ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی‘‘۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بہترین درود وسلام نازل ہو۔

چنانچہ یہ دونوں آیات کریمہ، اور حدیث شریف، اور ان کے معنی میں جو آیات و احادیث آئی ہیں یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ اور دیگر اموات اپنی قبروں سے قیامت کے دن ہی نکلیں گے، اور یہ بات علماے اسلام کے درمیان متفق علیہ ہے؛ اس میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پس ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان امور پر توجہ دے اور جاہلوں اور ان جیسے لوگوں کی پیدا کردہ بدعات اور خرافات سے بچتا رہے؛ جن کے لئے اللہ تعالی نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے، اور اسی پر بھروسہ ہے، اور اس کی توفیق کے بغیر نہ برائیوں سے پھرنے کى طاقت ہے اور نہ ہی نیکیوں کے کرنے کى کوئی قوت۔

اللہ کے رسول ﷺ پر درود و سلام بھیجنا بہترین نیکی اور صالح اعمال میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِيِّۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا56﴾

" اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو"۔ [سورہ الاحزاب: 56] اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً؛ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ بِهَا عَشْرًا». ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالی اس کى بنا پر اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ یہ ہر وقت مشروع ہے، اور ہر نماز کے آخر میں اس کی تاکید ہے، بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک ہر نماز کے آخری تشہد میں واجب ہے۔ اس کے سنت ہونے کی تاکید کئی مواقع پر ہے؛ ان میں اذان کے بعد، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے وقت، اور جمعہ کے دن اور اس کی رات شامل ہیں، جیسا کہ بہت سی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین کی صحیح سمجھ اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائے، اور سب کو سنت کی پیروی کرنے اور بدعت سے بچنے کی توفیق عطا کرے۔ یقینا وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

چھٹا کتابچہ:

شب اسراء ومعراج میں جشن کا حکم

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور ان کے اہل بیت اور صحابہ پر۔

اما بعد: اس میں کوئی شک نہیں کہ اسراء و معراج اللہ کی عظیم نشانیوں میں سے ہیں جو اس کے رسول محمد ﷺ کی صداقت اور اللہ جل جلالہ کے نزدیک ان کے بلند مقام کی دلیل ہیں، اور یہ اللہ کی بے پناہ قدرت اور اس کی تمام مخلوقات پر برتری کی نشانیوں میں سے بھی ہیں، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:

﴿سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ1﴾

" پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے"۔ [الاسراء: ۱]

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ کو آسمانوں کی طرف لے جایا گیا، اور ان کے دروازے آپ کے لئے کھول دیے گئے یہاں تک کہ آپ ساتویں آسمان سے بھی آگے گزر گئے، اور آپ کے پاک رب نے آپ سے جو چاہا کلام کیا، اور آپ پر پانچ نمازیں فرض کیں، حالاں کہ اللہ ـ سبحانہ ـ نے پہلے پچاس نمازیں فرض کی تھیں، لیکن ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم بار بار اللہ سے تخفیف کی درخواست کرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں پانچ کر دیا گیا، یہ پانچ فرضیت میں ہیں، اور اجر میں پچاس؛ کیونکہ ایک نیکی کا اجر دس گنا ہوتا ہے، تو اللہ کا شکر اور حمد ہے اس کی تمام نعمتوں پر۔‘‘

وہ رات جس میں اسراء ومعراج کا واقعہ پیش آیا، اس کی تعیین کے بارے میں نہ رجب میں اور نہ ہی کسی اور مہینے میں کوئی صحیح حدیث وارد ہوئی ہے، اور جو کچھ بھی اس کی تعیین کے بارے میں وارد ہوا ہے وہ اہل علم کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے، اللہ کی حکمت بالغہ ہے کہ لوگوں کو اس کا علم نہیں دیا، اور اگر اس کی تعیین ثابت بھی ہو جاتی تو مسلمانوں کے لیے جائز نہ ہوتا کہ وہ اس رات کو کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کریں، اور نہ ہی ان کے لیے جائز ہوتا کہ وہ اس کا جشن منائیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا جشن نہیں منایا اور نہ ہی اسے کسی خاص عمل کے لیے مخصوص کیا۔ اگر اس رات کا جشن منانا مشروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے امت کو اپنے قول یا عمل سے اس کی وضاحت فرمائی ہوتی، اور اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو وہ معروف اور مشہور ہوتا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہم تک نقل کرتے، کیونکہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے ہر وہ چیز نقل کی ہے جس کی امت کو ضرورت ہے، اور دین کے کسی معاملے میں کوتاہی نہیں کی، بلکہ وہ ہر خیر کے کام میں سبقت کرنے والے ہیں، تو اگر اس رات کا جشن منانا مشروع ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس کی طرف سبقت کرتے۔ اور نبی ﷺ لوگوں کے لئے سب سے زیادہ خیرخواہ ہیں، آپ نے رسالت کو پوری طرح پہنچا دیا اور امانت کو ادا کر دیا۔ اگر اس رات کی تعظیم اور اس کا جشن منانا دین کا حصہ ہوتا تو نبی ﷺ اسے نظرانداز نہ کرتے اور نہ ہی اسے چھپاتے۔ جب ایسا کچھ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا جشن منانا اور تعظیم کرنا اسلام کا حصہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے اس کے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کو اس پر تمام کر دیا ہے، اور ان لوگوں کی مذمت کی جو دین میں ایسی چیزیں داخل کرتے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی واضح کتاب میں فرمایا:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

" آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳]، اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ21﴾

" کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں ۔ اگر فیصلے کے دن کا وعده نہ ہوتا تو (ابھی ہی) ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ یقیناً (ان) ظالموں کے لیے ہی دردناک عذاب ہے"۔ [الشوری: ۲۱]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث میں ثابت ہے: بدعتوں سے خبردار کرنا، اور صراحت کے ساتھ ان کو گمراہی قرار دینا؛ تاکہ امت کو ان کے عظیم خطرے سے آگاہ کیا جائے، اور ان کے ارتکاب سے نفرت دلائی جائے، مثلاً: صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔ صحیح مسلم کى ایک روایت یوں ہے: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيهِ أَمْرَنَا؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے: «أَمَا بَعْدَ، فَإِنَّ خَيرَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». "امّابعد؛ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ نسائی نے بسندِ جید یہ اضافہ کیا ہے: «وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ». "اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے" اور سنن میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نہایت بلیغ وعظ ارشاد فرمایا، جس سے دل ڈر گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو گویا الوداع کہنے والے کا وعظ ہے، تو ہمیں وصیت فرما دیجئے! تو آپ نے فرمایا: «أُوصِيكُم بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيكُم عَبدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُم فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيكُم بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخلُفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُم وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٍ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی کیوں نہ امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!) تم میں سے جو (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا، چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، انہیں دانتوں سے خوب جکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ (دین میں) ایجاد کردہ ہر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد سلف صالحین سے ثابت ہے کہ انہوں نے بدعتوں سے خبردار کیا اور ان سے ڈرایا؛ یہ اس لیے کہ بدعت دین میں اضافہ ہے، اور ایسی شریعت سازى ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی، یہ اللہ کے دشمنوں یعنی یہود و نصاریٰ کی مشابہت ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں اضافہ کیا اور ایسی چیزیں ایجاد کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی، اس کا لازمی نتیجہ دین اسلام کی تنقیص اور اس پر عدم کمال کا الزام ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اس میں عظیم فساد، شدید منکر اور اللہ جل جلالہ کے قول کے ساتھ شدید ٹکراؤ ہے۔

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ...﴾

" آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا [المائدۃ: ۳]، اور اس میں رسول علیہ الصلاة والسلام کی ان احادیث کی صریح مخالفت ہے جو بدعتوں سے خبردار کرتی اور ان سے نفرت دلاتی ہیں۔

امید ہے کہ مذکورہ دلائل طالبِ حق کے لئے بدعتِ شب اسراء ومعراج کے انکار اور اس سے خبردار کرنے کے لیے کافی وشافی ہوں گے، اور یہ بیان کرنے کے لئے کہ دین اسلام سے ان کا کوئى بھی ناطہ نہیں ہے۔

اور چونکہ اللہ نے مسلمانوں کو نصیحت کرنے اور ان کے لئے دین کے احکام کو واضح کرنے کو واجب قرار دیا ہے، اور علم کو چھپانا حرام ٹھہرایا ہے؛ میں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو اس بدعت پر متنبہ کرنا ضروری سمجھا، جو بہت سے ملکوں میں پھیل چکی ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اسے دین کا حصہ سمجھ لیا ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے، انہیں دین کی سمجھ عطا کرے، ہمیں اور انہیں حق پر قائم رہنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے، اور جو اس کے مخالف ہو اسے چھوڑنے کی توفیق دے۔ یقینا اللہ ہی اس پر قادر ہے اور وہی اس کی طاقت رکھتا ہے۔

اللہ درود وسلام اور برکتیں نازل فرمائے اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کے آل بیت اور صحابہ کرام پر۔

***

 


ساتواں کتابچہ:

پندرھویں شعبان کی شب کے جشن منانے کا حکم

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے دین کو مکمل کیا، ہم پر نعمت کو بھرپور کیا، اور درود و سلام ہو اللہ کے نبی اور رسول محمد ﷺ پر جو نبیِ توبہ و رحمت ہیں۔

امابعد! اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

"آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳]، ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ...﴾

" کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیئے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں..."۔[سورہ الشوریٰ: 21] صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ جمعہ کے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: «أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ خَيرَ الحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيرَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ». "امّا بعد: سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی چیزیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ اس معنی میں آیات اور احادیث بہت زیادہ وارد ہوئی ہیں، جو اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے اس کے دین کو مکمل کردیا ہے، اور اپنی نعمت کو اس پر تمام کردیا ہے، اور نبی کریم ﷺ کی وفات اس وقت تک نہیں ہوئی جب تک آپ نے واضح طور پر تبلیغ نہیں کردی، اور امت کے لیے وہ سب کچھ بیان نہیں کردیا جو اللہ نے امت کے لیے اقوال و اعمال کے طور پر مشروع کیا ہے۔ نبی ﷺ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ لوگوں کی طرف سے آپ ﷺ کے بعد دین اسلام کی طرف منسوب کیا جانے والا ہر قول یا عمل بدعت ہے اور وہ اس شخص پر مردود ہے جس نے اسے ایجاد کیا، چاہے اس کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کو سمجھا، اور اسی طرح ان کے بعد کے علماے اسلام نے بھی بدعتوں کا انکار کیا اور ان سے خبردار کیا، جیسا کہ ان تمام مؤلفین نے ذکر کیا ہے جنہوں نے سنت کی تعظیم اور بدعت کے انکار پر کتابیں تصنیف کیں؛ جیسے ابن وضاح، طرطوشی، اور ابو شامة وغیرہ۔

اور ان بدعتوں میں سے جو بعض لوگوں نے ایجاد کی ہیں یہ بھی ہے: نصف شعبان کی شب کا جشن منانا اور اس کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرنا، اس پر کوئی قابل اعتماد دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ اس کی فضیلت میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ ضعیف ہیں، جن پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔

"جہاں تک اس رات میں نماز کی فضیلت کے بارے میں وارد احادیث کی بات ہے؛ تو وہ سب موضوع ہیں، جیسا کہ اس پر بہت سے اہل علم نے تنبیہ کی ہے، اور ان شاء اللہ ان کے بعض اقوال کا ذکر آئے گا۔

اور اس سلسلے میں اہل شام وغیرہ میں سے بعض سلف صالحین کے کچھ آثار بھى منقول ہیں۔

جمہور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کا جشن منانا بدعت ہے، اور اس کی فضیلت میں وارد ہونے والی تمام احادیث ضعیف ہیں، بلکہ بعض موضوع بھی ہیں، حافظ ابن رجب نے اپنی کتاب (لطائف المعارف) میں اس کی نشاندہی کی ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ ضعیف احادیث پر صرف ان عبادات میں عمل کیا جاتا ہے جن کی اصل صحیح دلائل سے ثابت ہو چکی ہو۔ جہاں تک پندرھویں شعبان کی شب کے جشن منانے کا تعلق ہے، تو اس کى کوئی صحیح اصل موجود نہیں ہے کہ جس کے لیے ضعیف احادیث سے تائید حاصل کیا جاسکے۔ اس عظیم قاعدہ کا ذکر امام ابو العباس شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کیا ہے۔

میں ـ اے قاری ـ آپ کے لیے اس مسئلہ میں بعض اہل علم کا قول نقل کرتا ہوں، تاکہ آپ اس مسئلہ سے بخوبی واقف رہیں۔

علماء کرام رحمہم اللہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ لوگوں کے درمیان جس مسئلہ میں تنازع ہو، اسے اللہ جل جلالہ کى کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کى طرف لوٹانا واجب ہے، اور جو ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے مطابق ہو، وہی شریعت ہے جس کی پیروی واجب ہے، اور جو ان کے خلاف ہو، اسے ترک کرنا واجب ہے، اور جو عبادات ان دونوں میں وارد نہیں ہیں، وہ بدعت ہیں جنہیں انجام دینا جائز نہیں، چہ جائیکہ ان کی دعوت دی جائے یا ان کی تحسین کی جائے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا59﴾

" اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے"۔ [النساء: ۵۹] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ...﴾

" اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے... [سورہ الشورى: 10] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ...﴾

" کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا..." [آل عمران: 31] اور اللہ عز وجل نے فرمایا:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا65﴾

" سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں"۔ [النساء: ۶۵] اس معنی کی آیتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور یہ نص ہیں کہ اختلافی مسائل کو کتاب و سنت کی طرف لوٹانا اور ان کے حکم سے راضی ہونا واجب ہے، اور یہى ایمان کا تقاضا ہے، اور بندوں کے لئے دنیا و آخرت میں بہتر ہے، اور بطور انجام بھی۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ اپنی کتاب ”لطائف المعارف“ میں اس مسئلے پر، سابقہ گفتگو کے بعد، یوں رقم طراز ہیں:

اور پندرھویں شعبان کی رات کو شام کے تابعین جیسے خالد بن معدان، مکحول، لقمان بن عامر وغیرہ بہت عظمت دیتے تھے اور اس رات عبادت میں خوب محنت کرتے تھے، اور انہی سے لوگوں نے اس رات کی فضیلت اور عظمت کو اخذ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اس بارے میں اسرائیلی روایات پہنچی تھیں، جب یہ بات ان کے بارے میں مشہور ہوگئی تو لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوا؛ کچھ لوگوں نے ان کی بات کو قبول کیا اور ان کی تعظیم میں ان کی موافقت کی، ان میں بصرہ کے عبادت گزاروں کی ایک جماعت اور دیگر لوگ شامل تھے۔ اور اس پر حجاز کے اکثر علما نے سخت نکیر کی ہے، جن میں عطاء اور ابن ابی ملیکہ شامل ہیں، اور اسے عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے فقہائے اہل مدینہ سے نقل کیا ہے، اور اصحاب مالک وغیرہم کا یہی قول ہے، ان سب نے کہا: یہ سب بدعت ہے۔

اہل شام کے علماء کے مابین اس رات کی شب بیداری کی صفت کے بارے میں دو اقوال ہیں۔

ایک یہ کہ اس رات کو مساجد میں اجتماعی طور پر شب بیداری کرنا مستحب ہے، خالد بن معدان، لقمان بن عامر وغیرہم اس رات میں اپنے بہترین کپڑے پہنتے، خوشبو اور سرمہ لگاتے، اور مسجد میں قیام کرتے تھے، اس بات میں اسحاق بن راہویہ نے بھی ان کی موافقت کی ہے‘ مساجد میں جماعت کے ساتھ قیام کرنے سے متعلق اسحاق بن راہویہ کا کہنا ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے، اسے حرب کرمانی نے اپنے مسائل میں نقل کیا ہے۔

دوسرا یہ کہ مساجد میں نماز، قصے گوئی اور دعا کے لیے اجتماع کرنا حرام ہے، لیکن کسی شخص کا ذاتی طور پر وہاں نماز پڑھنا حرام نہیں ہے۔ یہ اہل شام کے امام، فقیہ اور عالم اوزاعی کا قول ہے، اور ان شاء اللہ تعالیٰ یہ قول زیادہ قریب ہے"۔ اور اپنى بات کو جارى رکھتے ہوئے یہ بات کہی: "اور امام احمد سے نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی قول معروف نہیں ہے، اور عیدین کی راتوں کے قیام کے بارے میں ان سے دو روایتیں آئی ہیں، جن سے نصف شعبان کی رات قیام کے استحباب میں ان سے دو روایتوں کى تخریج ہوتی ہے، کیونکہ (ایک روایت میں) انہوں نے عیدین کی راتوں کے قیام کو جماعت کے ساتھ مستحب نہیں کہا؛ کیونکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ سے اس کے بارے میں کچھ منقول نہیں ہے۔ اور (ایک روایت میں) انہوں نے اسے مستحب کہا ہے، کیونکہ عبدالرحمن بن یزید بن اسود نے ایسا کیا، اور وہ تابعین میں سے ہیں۔ تو اسی طرح نصف شعبان کی رات کا قیام بھی ہے، اس کے بارے میں نبی ﷺ یا ان کے صحابہ سے کچھ ثابت نہیں ہے، البتہ اہل شام کے بعض معروف فقہاء تابعین سے اس کے بارے میں ثبوت ہے۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کے کلام کا مقصود ختم ہوا، اور اس میں ان کی یہ صراحت ہے کہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں نبی ﷺ یا آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔

رہی بات امام اوزاعی – رحمہ اللہ – کا انفرادی طور پر قیام کو مستحب قرار دینے، اور حافظ ابن رجب کا اس قول کو اختیار کرنے کی، تو یہ غریب (شاذ) اور ضعیف قول ہے؛ کیونکہ کوئى بھی چیز جس کا شرعی دلائل سے مشروع ہونا ثابت نہ ہو، مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے دینِ الہی میں ایجاد کرے، چاہے وہ اسے انفرادی طور پر کرے یا جماعت میں، اور چاہے وہ اسے چھپائے یا ظاہر کرے؛ نبی ﷺ کی اس عمومی حدیث کی وجہ سے: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيهِ أَمْرُنَا؛ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے"۔ اور ان دلائل کی وجہ سے جو بدعتوں کے انکار اور ان سے خبردار کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔

امام ابوبکر طرطوشی ـ رحمہ اللہ ـ نے اپنی کتاب: «الحوادث والبدع» میں یہ بات لکھی ہے:

"ابن وضاح نے زید بن اسلم سے روایت کیا، انہوں نے کہا: ہم نے اپنے مشائخ اور فقہاء میں سے کسی کو بھی پندرھویں شعبان کی طرف توجہ دیتے نہیں دیکھا، اور نہ ہی وہ مکحول کی حدیث کی طرف توجہ دیتے تھے، اور نہ ہی اس رات کو دیگر راتوں پر کوئی فضیلت دیتے تھے"۔

ابن ابی ملیکہ سے کہا گیا: زیاد نمیری کہتے ہیں: «نصف شعبان کی رات کا اجر شب قدر کے اجر کے برابر ہے»، تو فرمایا: "اگر میں اسے سنتا اور میرے ہاتھ میں چھڑی ہوتی تو میں اسے مار دیتا"۔ زیاد قصہ گو تھے۔ (بات ختم ہوئی۔)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ اپنی کتاب «الفوائد المجموعة» میں فرماتے ہیں:

یہ حدیث موضوع ہے: ''اے علی! جو شخص شعبان کی پندرہویں رات میں سو رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الاخلاص دس مرتبہ پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت پوری کرے گا''۔ اور اس کے الفاظ میں اس پر عمل کرنے والے کو ملنے والے اجر وثواب کی جو صراحت آئی ہے، اس کے موضوع ہونے میں کوئی صاحب تمیز شک نہیں کر سکتا، اور اس کے روات مجہول ہیں، اور یہ دوسرے اور تیسرے طرق سے بھی مروی ہے، جو سب کے سب موضوع ہیں اور ان کے روات مجہول ہیں۔ المختصر میں کہا: نصف شعبان کی نماز والی حدیث باطل ہے، اور ابن حبان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا: ”جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس کی رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو“، یہ حدیث ضعیف ہے۔ اور «اللآلئ» میں کہا: «نصف شعبان کی رات میں سو رکعت نماز، ہر رکعت میں دس مرتبہ سورہ اخلاص» یہ حدیث اپنى بھارى بھر کم فضیلت کے باوجود، جو دیلمی وغیرہ میں مروى ہے, موضوع ہے، اور تینوں طرق کے اکثر راوی مجہول اور ضعیف ہیں۔ کہا: "اور بارہ رکعتیں اخلاص کے ساتھ تیس مرتبہ" موضوع ہے، "اور چودہ رکعتیں" موضوع ہے۔

اس حدیث سے بعض فقہاء جیسے صاحب "الإحیاء" وغیرہ اور بعض مفسرین بھی دھوکہ کھا گئے ہیں، اور پندرہویں شعبان کى رات کی نماز ـ یعنی: شب برات کی نماز ـ مختلف طرق سے وارد ہوئی ہے جو سب کی سب باطل اور موضوع ہیں۔ یہ ترمذی کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروى ہے کہ رسول اللہ ﷺ بقیع تشریف لے گئے، اور پندرھویں شعبان کی رات رب آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے، اور وہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے، کیونکہ بات تو اس رات میں گڑھ لى گئى نماز کے بارے میں ہورہی ہے۔ مزید یہ کہ عائشہ - رضی اللہ عنہا- کی یہ حدیث ضعیف اور منقطع ہے، جیسا کہ علی - رضی اللہ عنہ- کی حدیث جو اس رات قیام اللیل کے بارے میں پہلے ذکر کی گئی، اس نماز کے موضوع ہونے کے ساتھ متناقض نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس میں بھی ضعف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ۔ انتہى

حافظ عراقی نے فرمایا: ’’نصف شعبان کی رات کی نماز والی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑی ہوئی اور جھوٹ ہے۔‘‘ امام نووی نے اپنی کتاب (المجموع) میں فرمایا: "وہ نماز جو صلاة الرغائب کے نام سے معروف ہے، جو بارہ رکعت ہے اور مغرب و عشاء کے درمیان ماہِ رجب کے پہلے جمعہ کی شب کو پڑھی جاتی ہے، اور نصف شعبان کی شب کو سو رکعت کی نماز، یہ دونوں نمازیں بدعت اور منکر ہیں، اور ان کا ذکر (قوت القلوب) اور (احیاء علوم الدین) میں ہونے سے دھوکہ نہ کھائیں، اور نہ ہی ان میں مذکور حدیث سے، کیونکہ یہ سب باطل ہيں، اور نہ ہی ان ائمہ سے دھوکہ کھائیں جن پر ان کا حکم مشتبہ ہوا اور انہوں نے ان کے استحباب میں کئی صفحات لکھ دیے، کیوں کہ اس معاملے میں ان سے غلطی ہوگئی"۔

شیخ امام ابو محمد عبدالرحمن بن اسماعیل المقدسی نے اس موضوع پر ایک نہایت قیمتی کتاب تصنیف کی ہے، جس میں انہوں نے بہترین انداز میں اس کی تردید کی ہے۔ اس مسئلے پر اہل علم کے اقوال بہت زیادہ ہیں، اور اگر ہم اس مسئلے پر موجود تمام اقوال کو نقل کرنے لگیں تو بات بہت طویل ہوجائے گی۔ امید ہے کہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے، وہ حق کے طالب کے لیے کافی اور قانع کرنے والا ہوگا۔

مذکورہ بالا آیات، احادیث اور اہل علم کے اقوال سے حق کے طالب کے لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پندرھویں شعبان کی شب میں نماز یا دیگر عبادات کے ساتھ جشن منانا، اور اس کے دن کو روزے کے لیے مخصوص کرنا؛ اکثر اہل علم کے نزدیک ایک منکر بدعت ہے، اور شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کے بعد پیدا ہوا ہے، اور اس باب میں اور دیگر امور میں حق کے طالب کے لیے اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان کافی ہے:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ...﴾

"آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا [المائدۃ: ۳] اور اس معنیٰ کى دیگر آیتیں، اور نبی ﷺ کا یہ ارشاد بھی کافی ہے: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ». "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ اور اس معنی کى دیگر حدیثیں۔

صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَهَا بِالصِّيَامِ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ». "تم جمعے کی رات کو دوسری راتوں کے درمیان قیام (نفلی نماز وغیرہ) کے لیے خاص نہ کرو اور نہ جمعے کے دن کو دوسرے دنوں کے درمیان سے روزے کے لیے خاص کرو مگر یہ کہ جمعہ اس مدت میں آجائے جس میں تم میں سے کوئی روزے رکھتا ہو"۔ اگر کسی رات کو کسی خاص عبادت کے لئے مخصوص کرنا جائز ہوتا، تو جمعہ کی رات دیگر راتوں سے زیادہ مستحق ہوتی؛ کیونکہ اس کا دن سب سے بہترین دن ہے جس میں سورج نکلتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ کی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ جب نبی ﷺ نے اس رات کو دیگر راتوں کے بالمقابل قیام کے لیے مخصوص کرنے سے منع فرمایا، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دیگر راتوں کو بھی کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کرنا جائز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی صحیح دلیل اس تخصیص پر دلالت کرے۔

جب شب قدر اور رمضان کی راتوں میں قیام اور شب بیداری مشروع تھی، تو نبی ﷺ نے اس کی طرف توجہ دلائی اور امت کو اس کے قیام کی ترغیب دی، اور خود بھی ایسا کیا، جیسا کہ صحیحین میں نبی ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے، اور جس نے شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔“ اگر پندرہویں شعبان کی رات، یا رجب کی پہلی جمعہ کی رات، یا شبِ معراج کو کسی جشن یا عبادت کے لیے مخصوص کرنا مشروع ہوتا، تو نبی ﷺ نے امت کو اس کی رہنمائی فرمائی ہوتی، یا خود اس کو انجام دیا ہوتا۔ اور اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے امت تک پہنچاتے اور اسے امت سے نہ چھپاتے، کیونکہ وہ بہترین لوگ ہیں اور انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے زیادہ خیرخواہ ہیں نیز اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے راضی ہوا اور انہیں راضی بھی کیا۔

آپ نے علماء کے کلام سے پہلے ہی جان لیا ہے کہ نہ رسول اللہ ﷺ سے اور نہ ہی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے رجب کی پہلی جمعہ کی رات یا نصف شعبان کی رات کی فضیلت میں کچھ ثابت ہے، تو معلوم ہوا کہ ان دونوں راتوں کا جشن منانا اسلام میں ایک نئی بدعت ہے، اور اسی طرح ان کو کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کرنا بھی ایک منکر بدعت ہے۔ اسی طرح سابقہ دلائل کی بنا پر رجب کی ستائیسویں رات، جسے بعض لوگ شب معراج سمجھتے ہیں، اس رات کو بھی کسی خاص عبادت کے لیے مخصوص کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کا جشن منانا جائز ہے، یہ تو تب ہے جب اس کا علم ہو، جبکہ علماء کے صحیح اقوال کے مطابق یہ رات نا معلوم ہے۔ اور جو یہ کہتا ہے کہ رجب کی ستائیسویں رات (ہی اسراء ومعراج کی رات) ہے، تو اس کا قول باطل ہے اور صحیح احادیث میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے:

سب سے بہتر امور وہ ہیں جو ہدایت پر گذر چکے ہیں... اور سب سے بری چیزیں نئی نئی بدعات ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو سنت پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس کى مخالف چیزوں سے بچنے کی توفیق عطا کرے، بے شک وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے۔

اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہمارے نبی محمد پر اور آپ کى تمام آل اور تمام صحابہ پر۔

 

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

آٹھواں کتابچہ:

نہایت اہم تنبیہ اس وصیت کے جھوٹے ہونے پر جو منسوب کى جاتی ہےحرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کى طرف

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے تمام مسلمانوں کی خدمت میں، اللہ انہیں اسلام کے ذریعے محفوظ رکھے، اور ہمیں اور انہیں ظالم جاہلوں کی من گھڑت باتوں سے بچائے، آمین۔

آپ سب پر سلامتی اور اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔

اما بعد: میں نے ایک تحریر دیکھی جو حرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کی طرف منسوب ہے، جس کا عنوان ہے: «یہ ایک وصیت ہے مدینہ منورہ سے حرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کی طرف سے»، جس میں انہوں نے کہا:

’’میں جمعہ کی رات جاگ رہا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا، اور اللہ کے اسماء حسنى کے پڑھنے کے بعد جب میں فارغ ہوا تو سونے کی تیاری کی۔ پھر میں نے خواب میں صاحبِ رخ انور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، جو رحمة للعالمین اور ہمارے سردار محمد ﷺ ہیں، اور جو قرآن کی آیات اور شریعت کے احکام لے کر آئے، تو آپ نے فرمایا: اے شیخ احمد، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، اے اللہ کى سب سے مکرم مخلوق!"۔ تو آپ نے مجھ سے کہا: میں لوگوں کے قبیح اعمال سے شرمندہ ہوں، اور میں اپنے رب اور فرشتوں کا سامنا نہیں کر سکتا؛ کیونکہ جمعہ سے جمعہ تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد بغیر دین اسلام کے مر گئے- پھر آپ نے کچھ ان گناہوں کا ذکر کیا جن میں لوگ مبتلا ہو گئے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وصیت ان کے لئے اللہ عزیز وجبار کی طرف سے رحمت ہے۔ پھر قیامت کی کچھ نشانیاں ذکر کیں، یہاں تک کہ کہا: - اے شیخ احمد! ان لوگوں کو اس وصیت کے بارے میں بتا دو؛ کیونکہ یہ لوح محفوظ سے قلم تقدیر کے ذریعے نقل کی گئی ہے، اور جو شخص اسے لکھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجے، یا ایک مقام سے دوسرے مقام پر بھیجے؛ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جو اسے نہ لکھے اور نہ بھیجے، اس پر قیامت کے دن میری شفاعت حرام ہوگی۔ اور جو اسے لکھے تو اس وصیت کی برکت سے اگروہ فقیر ہو تو اللہ اسے غنی کر دے گا، یا مقروض ہو تو اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا، یا اس پر کوئی گناہ ہو تو اللہ اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف کر دے گا۔ اور اللہ کا جو بندہ اسے نہیں لکھتا، اس کا چہرہ دنیا اور آخرت میں سیاہ ہو جائے گا۔ اور فرمایا: اللہ عظیم کى قسم، تین بار (اس قسم کو دہرایا)، یہ حقیقت ہے، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو دنیا سے غیرِ اسلام پر نکل جاؤں، اور جو اس کی تصدیق کرتا ہے وہ عذابِ نار سے نجات پاتا ہے، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ کفر کرتا ہے"۔

یہ خلاصہ ہے اس وصیت کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے، اور ہم نے یہ موضوع وصیت کئی بار سنی ہے، جو کئی سالوں سے وقتاً فوقتاً لوگوں میں پھیلائی جاتی ہے، اور عام لوگوں میں بہت زیادہ رائج کی جاتی ہے، اور اس کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور اس کا جھوٹ یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اس نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے یہ وصیت اس کے سپرد کی، اور اس آخری اشاعت میں جس کا ہم نے آپ کو ذکر کیا، اے قارئین، افترا پرداز نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے نبی ﷺ کو اس وقت دیکھا جب وہ سونے کی تیاری کر رہا تھا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے انہیں بیداری میں دیکھا!

اس افترا پرداز نے اس وصیت میں بہت سی باتوں کا دعویٰ کیا ہے؛ جو کہ واضح ترین جھوٹ اور باطل ترین امر ہے، میں اس پر جلد ہی اس گفتگو میں ان شاء اللہ متنبہ کروں گا، اور میں گزشتہ سالوں میں اس پر تنبیہ کر چکا ہوں، اور لوگوں کو بتایا ہے کہ یہ واضح ترین جھوٹ اور باطل ترین امر ہے، پھر جب میں نے اس آخری اشاعت کو دیکھا تو اس پر لکھنے میں تردد ہوا، کیوں کہ اس کا بطلان ظاہر ہے اور اسے گھڑنے والے نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے، اور میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اس کا بطلان کسی ایسے شخص پر رائج ہو سکتا ہے جس کے پاس ادنیٰ بھی بصیرت یا فطرت سلیمہ ہو، لیکن بہت سے بھائیوں نے مجھے بتایا کہ یہ بہت سے لوگوں میں رائج ہو چکی ہے، اور وہ اسے آپس میں بانٹتے ہیں اور بعض لوگوں نے اس پر یقین بھی کر لیا ہے؛ اسی وجہ سے میں نے سمجھا کہ مجھ جیسے لوگوں پر اس کے بارے میں لکھنا ضروری ہے، تاکہ اس کے بطلان کی وضاحت ہو سکے، اور اس لئے بھی کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گھڑی گئی بات ہے تاکہ کوئی اس سے دھوکہ نہ کھائے، اور جو اہل علم و ایمان یا صحیح فطرت اور درست عقل رکھنے والے اس پر غور کریں گے، وہ جان لیں گے کہ یہ بہت سے پہلوؤں سے جھوٹ اور تہمت ہے۔

میں نے شیخ احمد کے بعض قریبی رشتہ داروں سے اس وصیت کے بارے میں پوچھا، جو ان کی طرف منسوب کی گئی ہے، تو انہوں نے جواب دیا: یہ شیخ احمد پر جھوٹ باندھا گیا ہے، اور انہوں نے ہرگز یہ بات نہیں کہی۔ اور مذکورہ شیخ احمد کا بہت پہلے انتقال ہو چکا ہے، اور اگر ہم فرض کر لیں کہ مذکورہ شیخ احمد یا ان سے بھی بڑے کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خواب یا بیداری میں دیکھا اور ان کو یہ وصیت کی، تو ہمیں یقیناً معلوم ہوگا کہ وہ جھوٹا ہے، یا یہ کہ جس نے اس سے یہ بات کہی وہ شیطان ہے، نہ کہ رسول اللہ ﷺ، اس کی کئی وجوہات ہیں:

اولاً: رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات کے بعد بیداری میں نہیں دیکھا جا سکتا، اور جو جاہل صوفی یہ دعویٰ کرے کہ وہ نبی ﷺ کو بیداری میں دیکھتا ہے، یا یہ کہ آپ میلاد میں حاضر ہوتے ہیں، یا اس جیسی کوئی اور بات؛ تو اس نے بدترین غلطی کی، شدید التباس کا شکار ہوا، اور وہ ایک عظیم خطا میں مبتلا ہوا، اور اس نے کتاب و سنت اور اہل علم کے اجماع کی مخالفت کی؛ کیونکہ مردے تو اپنی قبروں سے قیامت کے دن نکلیں گے نہ کہ دنیا میں۔ اور جو اس کے خلاف کہے وہ واضح جھوٹا ہے، یا وہ دھوکہ کھایا ہوا ہے، وہ اس حق کو نہیں پہچانا جو سلف صالحین نے پہچانا، اور جس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اور ان کے نیک پیروکار چلے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ15 ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ16﴾

" اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔ پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے"۔ [المؤمنون: ۱۵- ۱۶]، اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ». ’’میں قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے نکلوں گا اور میں سب سے پہلا سفارشی رہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی‘‘۔ اس معنی و مفہوم کی بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں۔

ثانیاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حق کے خلاف نہیں کہتے، نہ اپنی زندگی میں اور نہ اپنی وفات کے بعد، اور یہ وصیت آپ کی شریعت کے خلاف ہے، جو کہ کئی وجوہات سے واضح ہے، جیسا کہ آگے آئے گا، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے، اور جس نے خواب میں آپ ﷺ کو آپ کی مبارک صورت میں دیکھا تو اس نے آپ ﷺ کو ہی دیکھا، کیونکہ شیطان آپ ﷺ کی صورت اختیار نہیں کرسکتا، جیسا کہ صحیح حدیث شریف میں آیا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ دیکھنے والے کے ایمان، صداقت، عدالت، ضبط، دیانت اور امانت کس معیار کی ہے، اور کیا اس نے نبی ﷺ کو آپ کی صورت میں دیکھا یا کسی اور صورت میں۔

اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث آپ کی زندگی میں آئی ہو، لیکن وہ ثقہ، عادل اور ضابط راویوں کے طریق سے نہ آئی ہو، تو اس پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس سے حجت پکڑی جائے گی۔ یا اگر وہ ثقہ اور ضابط راویوں کے ذریعے آئی ہو، لیکن وہ ان راویوں کی روایت کے خلاف ہو جو ان سے زیادہ حافظہ والے اور زیادہ معتبر ہوں، اور دونوں روایات کے درمیان جمع وتطبیق ممکن نہ ہو، تو ان میں سے ایک منسوخ ہوگی جس پر عمل نہیں کیا جائے گا، اور دوسری ناسخ ہوگی جس پر عمل کیا جائے گا، بشرطیکہ اس کے شرائط پورے ہوں۔ اور اگر جمع یا نسخ ممکن نہ ہو تو کم حافظہ اور کم عدالت والے کی روایت کو ترک کرنا واجب ہوگا، اور اس پر حکم لگایا جائے گا کہ وہ شاذ ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

تو پھر اس وصیت کا کیا حال ہوگا جس کے نقل کرنے والے کا کوئی علم نہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے، اور نہ ہی اس کی عدالت اور امانت کا کوئی پتہ ہے، تو ایسی حالت میں یہ وصیت حقیقتاً پھینکنے کے لائق ہے اور اس کی طرف توجہ نہیں دی جانی چاہیے، اگرچہ اس میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو، تو پھر کیا حال ہوگا جب وصیت میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہوں جو اس کے باطل ہونے کی دلیل ہوں، اور اس بات کى بھی کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ گیا ہے، اور ساتھ وہ وصیت ایسے دین کی شریعت سازی پر مشتمل ہو جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے؟!

جب کہ نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: «مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ؛ فَلْيَتَـبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ». "جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی؛ تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے"۔ اور اس وصیت کو گھڑنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کی جو آپ نے نہیں کہی، اور آپ پر صریح اور خطرناک جھوٹ بولا، اور اگر وہ توبہ میں جلدی نہ کرے اور لوگوں کے سامنے اس وصیت کے جھوٹ کو ظاہر نہ کرے تو وہ اس عظیم وعید کا کتنا زیادہ مستحق اور حق دار ہے؟!!؛ کیونکہ جو شخص لوگوں میں باطل پھیلائے اور اسے دین کی طرف منسوب کرے؛ اس کی توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوتی جب تک وہ اس کا اعلان اور اظہار نہ کرے؛ تاکہ لوگ یہ جان لیں کہ اس نے اپنے جھوٹ سے رجوع کر لیا اور اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیا۔ جیسا کہ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلۡهُدَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنَّٰهُ لِلنَّاسِ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أُوْلَٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ ٱللَّهُ وَيَلۡعَنُهُمُ ٱللَّٰعِنُونَ159 إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَتُوبُ عَلَيۡهِمۡ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ160﴾

"جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں"۔ [البقرۃ: ۱۵۹، ۱۶۰]، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں یہ واضح فرمایا کہ جو شخص حق میں سے کسی چیز کو چھپاتا ہے، اس کی توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اصلاح اور وضاحت نہ کرے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے دین کو مکمل کردیا اور ان پر اپنی نعمتیں نبی کریم ﷺ کی بعثت اور آپ پر شریعت کاملہ نازل کرکے تمام کردی ہیں، اور انہیں اپنے پاس اسی وقت بلایا جب کہ شریعت مکمل ہوگئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗا...﴾

" آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدۃ: ۳]

اور اس وصیت کو گھڑنے والا چودھویں صدی میں آیا، وہ لوگوں پر ایک نیا دین مسلط کرنا چاہتا تھا، جس کے نتیجے میں اس کے تشریعی احکام کو ماننے والا جنت میں داخل ہوگا، اور جو اس کے تشریعی احکام کو نہیں مانے گا، وہ جنت سے محروم رہے گا اور جہنم میں داخل ہوگا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس من گھڑت وصیت کو قرآن سے بھی زیادہ عظیم اور افضل بنا دے، کیوں کہ اس نے اس وصیت میں یہ جھوٹ باندھا ہے کہ جو شخص اسے لکھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجے، یا ایک مقام سے دوسرے مقام پر بھیجے؛ اس کے لیے جنت میں ایک محل بنایا جائے گا، اور جو اسے نہ لکھے اور نہ بھیجے، اس پر قیامت کے دن نبی ﷺ کی شفاعت حرام ہوگی۔ یہ بدترین جھوٹ ہے اور اس وصیت کے جھوٹ ہونے کی واضح ترین دلیل ہے، اور اسے گھڑنے والے کی بے حیائی اور جھوٹ پر اس کی بڑی جرأت کو ظاہر کرتی ہے؛ کیونکہ جس نے قرآن کریم کو لکھا اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک ملک سے دوسرا ملک بھیجا، اگر وہ قرآن کریم پر عمل نہ کرے تو اسے یہ فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی، تو پھر اس جھوٹ کو لکھنے والے اور اسے ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے والے کو یہ فضیلت کیسے حاصل ہوگی۔ اور جو شخص قرآن نہیں لکھتا اور نہ ہی اسے ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجتا ہے، اگر وہ نبی ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتا ہے، تو وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے محروم نہیں ہوگا۔ اور اس وصیت میں یہ ایک بہتان ہی اس کے بطلان اور اسے نشر کرنے والے کے جھوٹ، بے شرمی، حماقت اور اس کی شریعت محمدی سے دوری کی دلیل کے لئے کافی ہے ۔

اور اس وصیت میں ـ جو ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ ـ اور بھی امور ہیں، جو اس کے بطلان اور جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں، چاہے اس کا گھڑنے والا اس کی صحت پر ہزار قسمیں کھائے یا اپنے آپ پر سب سے بڑے عذاب اور سخت ترین سزا کی دعا کرے کہ وہ سچا ہے؛ تب بھی وہ سچا نہیں ہوگا، اور نہ ہی یہ وصیت صحیح ہوگی، بلکہ یہ اللہ کی قسم، پھر اللہ کی قسم، عظیم ترین اور بدترین باطل میں سے ہے، اور ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور ہمارے پاس جو فرشتے موجود ہیں‘ ان کو گواہ بناتے ہیں، ـ یہ وہ گواہی ہے جس کے ساتھ ہم اپنے رب جل جلالہ سے ملیں گے ـ: کہ یہ وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ اور بہتان ہے، اللہ تعالیٰ اس جھوٹ کو گھڑنے والے کو رسوا کرے اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جس کا وہ مستحق ہے۔

اور اس وصیت کے اندر اس کے جھوٹ اور باطل ہونے کی اور بھی بہت سی دلیلیں موجود ہیں، مثلاً:

پہلى بات: اس کا یہ کہنا کہ (کیوں کہ جمعہ سے جمعہ تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد بغیر دین اسلام کے مر گئے)؛ یہ علم غیب میں سے ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اور آپ ﷺ اپنی زندگی میں غیب نہیں جانتے تھے تو وفات کے بعد کیسے جان سکتے ہیں؛ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ...﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں... [الأنعام: ۵۰] اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُ...﴾

" کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا... [النمل: ۶۵] صحیح حدیث میں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: «يُذَادُ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي يَوْمَ القِيَامَةِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أَصْحَابِي أَصْحَابِي، فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ العَبْدُ الصَّالِحُ: ﴿وَكُنتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا مَّا دُمۡتُ فِيهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ [المائدة: 117]». "قیامت کے دن کچھ لوگ میرے حوض سے دور کر دیے جائیں گے، تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے لوگ ہیں، یہ میرے لوگ ہیں۔ تو مجھ سے کہا جائے گا: آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی تھیں۔ میں وہی کہوں گا، جو نیک بندے نے کہا تھا: یں ان پر گواه رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا، تو تو ہی ان پر مطلع رہا اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے) [المائدة: 117]۔

دوسری بات: ان امور میں سے جو اس وصیت کے بطلان اور اس کے جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں، اس کا یہ کہنا بھی ہے: (اور جو اسے لکھے تو اس وصیت کی برکت سے اگر وہ فقیر ہو تو اللہ اسے غنی کر دے گا، یا مقروض ہو تو اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا، یا اس پر کوئی گناہ ہو تو اللہ اس کے اور اس کے والدین کے گناہ معاف کر دے گا) وغیرہ۔ یہ ایک عظیم ترین جھوٹ ہے اور اس کے گھڑنے والے کے جھوٹ اور اللہ اور اس کے بندوں سے بے حیائی کی واضح ترین دلیل ہے؛ کیونکہ یہ تینوں امور محض قرآن کریم کو لکھنے سے حاصل نہیں ہوتے، تو پھر یہ باطل وصیت لکھنے والے کو کیسے حاصل ہوں گے؟! یہ خبیث لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور انہیں اس وصیت سے جوڑنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے لکھیں اور اس موہوم فضیلت سے وابستہ ہو جائیں، اور ان اسباب کو چھوڑ دیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں، اور جو انہیں مالداری وبے نیازی، قرض کی ادائیگی اور گناہوں کی مغفرت تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں خذلان کے اسباب، خواہشات کی پیروی اور شیطان کی اطاعت سے۔

تیسری بات: ان امور میں سے جو اس وصیت کے باطل ہونے کی دلیل ہیں، اس کا یہ کہنا بھی ہے: ( اللہ کا جو بندہ اسے نہیں لکھتا، اس کا چہرہ دنیا اور آخرت میں سیاہ ہو جائے گا)۔ یہ بھی جھوٹ کی بدترین قسموں میں سے ہے اور اس وصیت کے باطل ہونے اور اس کے جھوٹے ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔ بھلا کسی عقل مند کى عقل میں یہ بات کیسے آ سکتی ہے کہ یہ وصیت ایک نامعلوم شخص نے چودہویں صدی میں گھڑی ہو، اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کرے، اور یہ دعویٰ کرے کہ جو شخص اسے نہیں لکھے گا اس کا چہرہ دنیا و آخرت میں سیاہ ہو جائے گا، اور جو اسے لکھے گا وہ فقر کے بعد غنی ہو جائے گا، اور قرض کے بوجھ سے نجات پا جائے گا، اور اس کے کیے ہوئے گناہ معاف ہو جائیں گے!!

سبحان اللہ یہ تو بہت بڑا بہتان ہے!! دلائل اور حقیقت اس مفتری کے جھوٹ اور اللہ پر اس کی بڑی جرأت اور اللہ اور لوگوں سے اس کی بے حیائی کی گواہی دیتے ہیں، بہت سی قومیں ہیں جنہوں نے اسے نہیں لکھا، تو ان کے چہرے سیاہ نہیں ہوئے، اورایک بہت بڑى تعداد میں لوگوں نے، جنیہں اللہ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا، اسے کئی بار لکھا، تو ان کا قرض ادا نہیں ہوا، اور ان کی غربت ختم نہیں ہوئی، ہم اللہ سے دلوں کى کجی سے اور گناہوں کے زنگ سے پناہ مانگتے ہیں، یہ اوصاف اور بدلے شریعتِ مطہرہ نے اس کے لیے نہیں بیان کیں جس نے بہترین اور عظیم ترین کتاب یعنی قرآنِ کریم کو لکھا، تو پھر اسے کیسے حاصل ہوں گی جس نے جھوٹی وصیت لکھی جو باطل کی اقسام اور کفر کی مختلف جملوں پر مشتمل ہے۔ سبحان اللہ! اللہ کتنا بردبار ہے اس پر جو اس پر جھوٹ باندھنے کی جرأت کرتا ہے۔

چوتھی بات: وہ امور جو اس وصیت کے باطل ترین اور واضح جھوٹ ہونے کی دلیل ہیں ان میں سے یہ قول بھی ہے: ( جو اس کی تصدیق کرتا ہے وہ عذابِ نار سے نجات پاتا ہے، اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہوگیا)، یہ بھی جھوٹ پر جرات کی انتہا اور بدترین باطل میں سے ہے۔ یہ فریبی تمام لوگوں کو اپنی فریب کاری پر یقین کرنے کی دعوت دیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس پر ایمان لانے سے وہ آگ کے عذاب سے بچ جائیں گے، اور جو اس کو جھٹلائے گا وہ کافر ہو جائے گا۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اس جھوٹے شخص نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے، اور اللہ کی قسم، اس نے حق کے خلاف بات کہی ہے۔ جو اس پر یقین کرے وہی کافر ہونے کا مستحق ہے، نہ کہ جو اس کو جھٹلائے؛ کیونکہ یہ جھوٹ، باطل اور بے بنیاد امر ہے۔ ہم اللہ کو گواہ بناتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے، اور اس کا گھڑنے والا جھوٹا ہے، جو لوگوں کے لیے وہ چیز مشروع کرنا چاہتا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی، اور ان کے دین میں وہ چیز داخل کرنا چاہتا ہے جو اس کا حصہ نہیں ہے۔ اللہ نے اس امت کے لیے دین کو اس جھوٹ سے چودہ صدیوں پہلے مکمل اور تمام کر دیا ہے۔ اس لیے خبردار رہیں میرے قارئین اور برادران، اور ایسی من گھڑت باتوں پر یقین کرنے سے بچیں، اور ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ بات آپ کے درمیان رائج نہ ہو جائے، کیونکہ حق پر نور ہوتا ہے جو اس کے طالب پر خلط ملط نہیں ہوتا، اس لیے دلیل کے ساتھ حق کو تلاش کریں، اور جو بات آپ کو مشکل معلوم ہو اس کے بارے میں اہل علم سے پوچھیں، اور جھوٹے قسم کھانے والوں کے قسم پر نہ کان نہ دھریں، کیونکہ ابلیس لعین نے آپ کے والدین آدم و حوا کے لئے قسم کھائی تھی کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے، حالانکہ وہ سب سے بڑا خائن اور سب سے بڑا جھوٹا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:

﴿وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ21﴾

" اور ان دونوں کے روبرو قسم کھالی کہ یقین جانیئے میں تم دونوں کا خیر خواه ہوں [الأعراف: ۲۱]۔ لہٰذا اس سے اور اس کے دجل وفریب کرنے والے پیروکاروں سے ہوشیار رہیں، کیوں کہ ان کے اور ان کے پیروکاروں کے پاس بہت ساری ہی جھوٹی قسمیں، فریبی عہد و پیمان، اور گمراہ کن اور دھوکہ دینے والے الفاظ ہیں! اس مفتری نے جن منکرات کے ظہور کا ذکر کیا ہے، تو یہ ایک امر واقعہ ہے، اور قرآنِ کریم اور سنتِ مطہرہ نے ان سے انتہائی درجہ کی تنبیہ کی ہے، اور ان دونوں میں ہدایت اور کفایت موجود ہے۔

جہاں تک قیامت کی نشانیوں کا تعلق ہے، تو احادیث نبویہ نے قیامت کی علامات ونشانیوں کو واضح کیا ہے، اور قرآن کریم نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، جو شخص اس کو جاننا چاہے وہ اسے کتبِ حدیث اور اہلِ علم و ایمان کی تصانیف میں اپنے مقام پر پائے گا، لوگوں کو اس افترا پرداز کے بیان اور حق و باطل کے درمیان اس کی آمیزش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ مجھے، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو شیاطین کے شر، گمراہ کرنے والوں کے فتنوں، بہکانے والوں کی گمراہیوں اور اللہ کے دشمنوں کی باطل سازشوں سے محفوظ رکھے، جو اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور لوگوں کے دین میں شبہات پیدا کرتے ہیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا اور اپنے دین کا مددگار ہے، چاہے اللہ کے دشمن شیاطین اور ان کے کافر و ملحد پیروکار اسے ناپسند کریں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے، اور انہیں حق کی پیروی کرنے، اس پر استقامت اختیار کرنے اور تمام گناہوں سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اور ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے، اور برائیوں سے پھرنے اور نیکیوں کے کرنے کى قوت وطاقت صرف بلند و بالا اور عظمت والے اللہ کى توفیق ہی سے ممکن ہے۔

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے، اور درود و سلام نازل ہو اس کے بندے اور رسول صادق و امین محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور آپ کی آل، آپ کے اصحاب اور قیامت کے دن تک پوری ایمان داری سے آپ کی اتباع کرنے والوں پر۔

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

نواں پیغام: جادو، کہانت اور اس سے متعلقہ امور کا حکم(18)

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو ان پر جن کے بعد کوئى اور نبی نہیں، امابعد:

حالیہ دنوں میں شعبدہ باز بڑی تعداد میں رونما ہوگئے ہیں، جو دعوی تو معالج ہونے کا کرتے ہیں، لیکن علاج جادو اور کہانت کے ذریعہ کرتے ہیں۔ بعض ممالک میں ان کا جال بچھ چکا ہے۔ وہ ایسے سادہ لوح لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں، جن پر جہالت ولاعلمی کا غلبہ ہوتا ہے۔ اسی کے پیش نظر میں نے اللہ اور اس کے بندوں کے تئیں نصح و خیر خواہی کے جذبہ کے تحت یہ مناسب سمجھا کہ اس کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے لئے جو بڑا خطرہ چھپا ہے، اسے واضح کر دوں۔ کیوں کہ اس میں غیر اللہ سے تعلق استوار کرنا اور اللہ اور اس کے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم- کے حکم کی نافرمانی کرنا جیسی چيزیں شامل ہیں۔

چنانچہ میں اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے یہ عرض کرتا ہوں کہ علاج ومعالجہ کرانا متفقہ طور پر جائز ہے۔ مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ باطنی امراض، جراحی امراض، اعصابی امراض یا دیگر بیماریوں کے ڈاکٹر کے پاس جائے، تاکہ وہ اس کی بیماری کی تشخیص کرے اور علمِ طب سے اپنی واقفیت کی روشنی میں مناسب اور شرعی طور پر مباح دواؤں کے ذریعہ اس کا علاج کرے۔ کیوں کہ یہ عمومی اسباب اختیار کرنے کے قبیل سے ہے اور اللہ پر توکل کرنے کے منافی بھی نہیں ہے۔ اللہ پاک و برتر نے بیماری اتاری ہے اور اس کے ساتھ اس کی دوا بھی اتاری ہے۔ کسی کو دوا معلوم ہے اور کسی کو نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی شفا حرام چیزوں میں نہیں رکھی ہے۔

لہذا مریض کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیماری کی تشخیص کے لیے ایسے کاہنوں کے پاس جائے جو غیبی امور جاننے کا دعوی کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ ان کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرے۔ کیوں کہ وہ اٹکل بازی سے کام لیتے ہیں یا پھر جنوں کو پکارتے ہيں، تاکہ اپنے ارادے کی تکمیل میں ان سے مدد لے سکیں۔ ایسے لوگوں کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ علم غیب کا دعوی کریں، تو کافر اور گمراہ ہیں۔

امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا». ’’جو شخص عراف (غیب کی خبر دینے کا دعوى کرنے والے) کے پاس جائے اور اُس سے غیب کی بات پوچھے، تو چالیس دنوں تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی‘‘۔

"جو کسی کاہن (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والے) کے پاس گیا اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کی، اس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے"۔ «مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ». ’’جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کا انکار کیا‘‘۔ اس حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے۔ سنن اربعہ والوں نے بھى اسے روایت کیا ہے۔ حاکم نے اسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان الفاظ کے ساتھ صحیح کہا ہے: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ». "جو شخص کسی عرّاف یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی، اُس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر اتارا گیا ہے"۔

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ»، "جو بد شگونی لے یا جس کے لیے بدل شگونی لینے کا کام کیا جائے، جو کہانت (دل کى بات کے بارے میں يا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے) کا پیشہ اختیار کرے یا جس کے لئے کہانت کی جائے یا جو جادو کرے یا جس کے لئے جادو کیا جائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور جو کاہن (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والے) کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کردى، تو یقینا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے ساتھ کفر کیا"۔ اسے بزّار نے جیّد سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ان احادیث شریفہ میں عرّافوں (غیب کى خبر دینے کا دعوى کرنے والوں)، کاہنوں (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں)، جادو گروں اور ان جیسے کے پاس جانے، ان سے سوال کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر وعید آئی ہے؛

یہ بھی جائز نہیں کہ بعض معاملات میں ان کی بات کے صحیح ہو جانے اور کثیر تعداد میں ان کے پاس آنے والے لوگوں کے ہجوم سے دھوکا کھایا جائے، کیوں کہ یہ جاہل و نادان لوگ ہیں۔ ان سے لوگوں کو دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ اس لئے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس جانے اور ان کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ اس سے بڑی برائی، سنگین خطرے اور نہایت برے انجام مرتب ہوتے ہیں اور اس لئے کہ ایسا کرنے والے جھوٹے اور فاسق ہوا کرتے ہیں۔

یہ احادیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ کاہن (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والے)اور جادوگر کافر ہیں؛ کیونکہ وہ علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں جو کہ کفر ہے، اور اس لئے بھی کہ وہ اپنے مقصد میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتے جب تک کہ جنوں سے خدمت نہ لیں اور ان کی عبادت نہ کریں، جو کہ اللہ پاک کے ساتھ کفر اور شرک ہے۔ جو شخص ان کے علمِ غیب کے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے، وہ بھی انہی کی طرح ہے، اور ایسا کرنے والوں سے ان امور کی جانکاری حاصل کرنے والے ہر شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہیں۔

علاج کے نام پر ان کے ذریعے انجام دیے جانے والے خرافات کو تسلیم کرنا بھی جائز نہيں ہے جیسے جادوئی لکیریں کھینچنا اور تحریریں لکھنا یا سیسہ انڈیلنا وغیرہ ۔ کیوں کہ یہ ساری چيزیں کہانت اور فریب کے دائرے میں آتی ہیں اور انھیں تسلیم کرنا انھیں کرنے والوں کے کفر اور باطل پر ان کی مدد کرنا ہے۔

اسی طرح کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ان کے پاس جاکر یہ دریافت کرے کہ اس کے بیٹے یا قریبی رشتہ دار کی شادی کس سے ہوگی یا پھر میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات اور باہمی محبت، وفاداری یا عداوت اور جدائی جیسی چیزوں کے بارے میں پوچھے۔ کیوں کہ یہ غیب کی باتیں ہیں، جو صرف اللہ پاک و برتر ہی کو معلوم ہیں۔

اس لیے حکام اور افسران وغیرہ، جن کے پاس طاقت اور باگ ڈور ہو، ان کی ذمے داری ہے کہ کاہنوں اور شعبدہ بازوں وغیرہ کے پاس جانے سے لوگوں کو روکیں اور بازاروں میں اس طرح کى کوئى بھی چیز کرنے والوں کو منع کریں اور ان کے پاس جانے والوں کو بھی روکیں۔

اسی طرح جادو بھی کفر تک پہنچانے والی محرمات میں سے ہے، جیسا کہ اللہ عز وجل نے دو فرشتوں کے تعلق سے فرمایا ہے:

﴿...وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾

" ...اور وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے"۔ [البقرۃ: ۱۰۲]

یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کفر ہے اور جادوگر میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے ہیں۔ نیز یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جادو بذات خود نفع و نقصان کی تاثیر نہیں رکھتا، بلکہ اللہ کی کونی وقدری اجازت سے اس میں تاثیر پیدا ہوتی ہے، کیونکہ اللہ پاک و برتر ہی وہ ذات ہے جس نے خیر و شر کو پیدا کیا ہے۔

اسی طرح یہ آیت کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو لوگ جادو سیکھتے ہیں، وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں، جو ان کے لئے مفید ہونے کے بجائے نقصان دہ ہے اور ان کے لئے اللہ کے پاس کوئی حصہ نہیں ہے۔ دراصل یہ ایک بہت بڑی وعید ہے، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا و آخرت میں ان کے لئے بڑا نقصان و خسارہ ہے اور انہوں نے نہایت معمولی قیمت میں اپنے آپ کو فروخت کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک و برتر نے اس پر ان کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

﴿...وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾

"اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے"۔ [البقرة: 102] یہاں آیت میں وارد لفظ (شراء) کے معنی فروخت کرنے کے ہیں۔

ان افترا پردازوں کی وجہ سے نقصان بہت بڑھ گیا ہے، جنہوں نے یہ علوم مشرکین سے وراثت میں پائے ہیں اور ان کے ذریعے کمزور عقل والوں کو دھوکہ دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اور اللہ ہم کو کافی ہے اور وہ سب سے بہترین کارساز ہے۔

اللہ سے ہم دعا گو ہیں کہ جادوگروں، کاہنوں اور تمام شعبدہ بازوں کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سے ہم یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے اور مسلم حکمرانوں کو توفیق دے کہ ان سے لوگوں کو متنبہ کریں اور ان سے متعلق اللہ کے حکم کو نافذ کریں، تاکہ ان کے نقصان دہ اور خبیث کرتوتوں سے بندے مامون رہیں۔ یقینا اللہ بے پناہ سخی اور کرم فرما ہے۔

اللہ پاک نے بندوں کے لئے جادو واقع ہونے سے پہلے اس کے شر سے بچنے کے طریقے مشروع کر دیے ہیں اور اللہ پاک نے بندوں پر رحم کھاتے ہوئے، ان پر فضل واحسان کرتے ہوئے اور ان پر اپنی نعمت تمام کرتے ہوئے ان کے سامنے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر جادو واقع ہوجائے، تو اس کا علاج کیسے کریں۔

آنے والے سطور میں ان امور کی وضاحت کی جارہی ہے، جن کے ذریعہ جادو واقع ہونے سے پہلے اس کی خطرناکی سے بچا جا سکتا ہے اور شرعی طور پر ان مباح امور کی بھی وضاحت کی جا رہی ہے، جن کے ذریعہ جادو واقع ہونے کے بعد اس کا علاج کیا جا سکتا ہے، اور اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلا: جادو کے خطرے سے بچنے کے لئے جو امور اختیار کئے جائیں، ان میں سب سے اہم اور نفع بخش طریقہ یہ ہے کہ شرعی اذکار، مسنون دعاؤں اور ماثور معوذات کے ذریعہ پناہ طلب کی جائے۔ جیسے ہر فرض نماز کے بعد سلام کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت کرنا، جو قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت ہے۔ اس سے مراد اللہ کا یہ فرمان ہے:

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ255﴾

" اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے ، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے"۔ [البقرۃ: ۲۵۵]، اور سونے کے وقت بھی اس کی تلاوت کرے، کیونکہ ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي لَيْلَةٍ، لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرَبُهُ شَيْطَانٌ حَتَّى يُصْبِحَ». "جو شخص رات میں آیۃ الکرسی کی تلاوت کر لے، اللہ کی طرف سے اس کے لئے ایک محافظ مقرر رہتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں پھٹکتا"۔

اسی طرح ان سورتوں کی تلاوت بھی مفید ومحافظ ہے:

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1﴾

"آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے"۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1﴾

"آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1﴾

" آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں"، [الناس: ۱]

ہر فرض نماز کے بعد، صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد تین دفعہ اور شام میں مغرب کی نماز کے بعد تین دفعہ ان سورتوں کی تلاوت کرے۔

اسی طرح سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو رات کی ابتدا میں پڑھے۔ یہ دونوں آیتیں اس طرح ہیں :

﴿ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ285﴾

" رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے سورہ کے اخیر تک۔

جیساکہ نبی کریم ﷺ سے یہ ارشاد صحیح طور پر ثابت ہے: «مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ البَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ». "جو شخص رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے، اسے یہ کافی ہو جاتی ہیں"۔ اس کے معنی یہ ہیں واللہ اعلم کہ یہ دونوں آیتيں ہر برائی سے (حفاظت کے لئے) کافی ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح رات و دن میں اور کسی جگہ پر پڑاؤ ڈالتے وقت (اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کے شر سے اللہ تعالی کے مکمل کلمات کی) پناہ طلب کرے۔ خواہ وہ جگہ عمارت ہو یا صحرا، فضا ہو یا سمندر۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: «مَن نَزَلَ مَنْزِلًا فَقالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِن شَرِّ ما خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيءٌ حتَّى يَرْتَحِلَ مِن مَنْزِلِهِ ذَلِكَ». جو شخص کسی جگہ پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھ لے: "میں اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں"، تو اُس کے وہاں سے کوچ کرنے تک اُسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

اسی طرح مسلمان کو چاہئے کہ صبح وشام تین دفعہ یہ دعا پڑھا کرے: «بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيءٌ فِي الأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ». "اللہ کا نام لے کر کام شروع کرتا ہوں، جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین اور آسمان میں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے"۔

کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے اس کی رغبت دلائی اور اس لئے بھی کہ یہ دعا ہر برائی سے محفوظ رہنے کا سبب ہے۔

دوسرا: جادو ہوجانے کے بعد اس کا علاج جن امور کے ذریعہ کیا جاتا ہے، وہ بھی کئی طرح کے ہیں:

نمبر ۱: اللہ کے حضور بکثرت گریہ وزاری کرنا اور اس سے سوال کرنا کہ وہ پریشانی کو دور کرے اور مصیبت کو زائل کرے۔

نمبر ۲: جادو کی جگہ کو جاننے کی کوشش کرنا کہ وہ زمین کے اندر ہے یا پہاڑ وغیرہ پر؛ جب جگہ معلوم ہو جائے اور اسے نکال کر تلف کردیا جائے، تو جادو بے کار ہوجاتا ہے، اور یہ جادو کے علاج میں سے ایک مفید ترین علاج ہے۔

نمبر ۳: شرعی اذکار واوراد کے ذریعے رقیہ کرنا، جو کہ بہت زیادہ ہیں؛ ان میں سے چند اذکار یہ ہیں:

ان اذکار واوراد میں سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ثابت قول ہے: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» "اے اللہ! اے لوگوں کے رب! پریشانی دور کردے اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے"۔ اس دعا کو تین بار پڑھا جائے۔

ان ہی اذکار واوراد میں سے: وہ رقیہ بھی ہے جسے پڑھ کر جبریل علیہ السلام نے اللہ کے نبی صلى اللہ علیہ وسمل کو دم کیا تھا۔ اور وہ اس طرح ہے: «بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ» "اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے اور ہر جان دار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں"۔ اس عمل کو تین بار دہرایا جائے۔

ان ہی اذکار واوراد میں سے یہ بھی ہے: یہ علاج اس مرد کے لیے مفید ہے جسے اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے سے روکا گیا ہو - کہ وہ سبز بیری کے سات پتے لے، انھیں پتھر وغیرہ سے کوٹ کر ایک برتن میں ڈال دے، پھر اس میں اتنا پانی ڈالے جو غسل کے لیے کافی ہو اور اس پر پڑھے:

آیت الکرسی

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ1﴾

"آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو! [الکافرون : 1]، اور

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے [الإخلاص: 1]،

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1﴾

"آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں [الفلق: ۱]،

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1﴾

"آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں [الناس: ۱]

اور جادو کے بیان پر مشتمل سورہ اعراف کی درج ذیل آیتوں کی تلاوت کرے:

﴿وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ117 فَوَقَعَ ٱلۡحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ118 فَغُلِبُواْ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُواْ صَٰغِرِينَ119﴾

" اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا۔ پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے"۔ [الأعراف: ۱۱۷۔ ۱۱۹]

اور سورہ یونس کی درج ذیل آیتوں کی تلاوت کرے:

﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِي بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖ79 فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ80 فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ81 وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ82﴾

"اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو۔ پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو۔ سو جب انہوں نے ڈاﻻ تو موسی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم ﻻئے ہو جادو ہے۔ یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو ابھی درہم برہم کیے دیتا ہے، اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔ اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ﺛابت کردیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں"۔ [یونس: ۷۹-۸۲]

اور سورہ طہ کی درج ذیل آیتیں:

﴿قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَلۡقَىٰ65 قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ66 فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ67 قُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰ68 وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ69﴾

" کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔ ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا۔ اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالدے کہ ان کی تمام کاریگری کووه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا"۔ [طہ: ۶۵-۶۹]

مذکورہ آیتوں کو پانی میں پڑھنے کے بعد تین چلو پانی پی لے اور باقی پانی سے غسل کر لے۔ اس طرح بیماری دور ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ۔ بیماری دور ہونے تک دو یا اس سے زائد مرتبہ بھی پانی استعمال کرنے کی ضرورت پڑے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ اذکار، معوذات اور طریقے جادو کے شر اور دیگر شرور سے بچنے کے عظیم ترین اسباب ہیں، اور جادو کے اثر ہو جانے کے بعد اسے دور کرنے کے لئے بھی یہ سب سے بڑے ہتھیار ہیں؛ بشرطیکہ ان پر سچے دل، خالص ایمان، اللہ پر بھروسہ اور ان کے مضامین پر یقین کے ساتھ عمل کیا جائے۔

یہ ان امور کا بیان تھا جن کے ذریعہ جادو سے بچا جا سکتا اور اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔

یہاں ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے، اور وہ ہے جادو کا علاج جادوگروں کے عمل سے کرنا، جو کہ جنوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرنے یا دوسری عبادتوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے؛ تو یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ شیطانی عمل، بلکہ شرک اکبر ہے؛ اسی طرح کاہنوں (دل کى بات کے بارے میں یا مستقبل کے بارے میں خبر دینے کا دعوى کرنے والوں)، عرافین (غیب کى خبر دینے کا دعوى کرنے والوں) اور شعبدہ بازوں سے اس کا علاج کرانا اور ان کی بتائی ہوئی ترکیب اپنانا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ ایمان کی دولت سے خالی اور جھوٹے وفاجر ہوا کرتے ہیں، جو علم غیب کا دعوی کرتے اور لوگوں کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس جانے، ان سے سوال کرنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ اس کتابچہ کے آغاز میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ لہذا اس سے بچنا واجب ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ جب آپ سے نُشرہ کے تعلق سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «هِيَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ»، "یہ شیطانی عمل ہے"۔ اسے امام احمد اور ابوداود نے جید سند سے روایت کیا ہے۔

نُشرہ کا مطلب ہے جس شخص کو جادو کیا گیا ہو، اس سے جادو کے اثر کو زائل کرنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث سے مراد نشرہ کا وہ طریقہ ہے، جسے اہل جاہلیت انجام دیا کرتے تھے،جو یہ ہے کہ جادوکرنے والے سے کہا جائے کہ وہ جادو کو دور کرے یا پھر کسی دوسرے جادوگر کے ذریعہ جادو ہی کے توسط سے اسے دور کیا جائے۔

رہی بات شرعی رقیہ اور معوذات نیز مباح دواؤں سے اس کا علاج کرنے کی، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔ علامہ ابن قیم نے اور شیخ عبد الرحمن بن حسن رحمہما اللہ نے فتح المجید میں واضح طور پر یہ بات بیان کی ہے اور دیگر علما نے بھى اسے بیان کیا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرح کی برائی سے بچنے کے توفیق عطا کرے، ان کے دین کی حفاظت فرمائے، انہیں دین کی سمجھ بوجھ عطا کرے اور ہر اس عمل سے انہیں بچائے جو اللہ کی شریعت کے مخالف ہو۔

درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ﷺ پر، اور آپ ﷺ کے آل واصحاب پر۔

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

دسواں کتابچہ: قبروں پر مسجد بنانے پر تنبیہ

شروع اللہ کے نام سے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم پر۔

اما بعد: میں نے رابطہ علوم اسلاميہ کے مجلہ کے تیسرے شمارے میں (مسلمانوں کی خبریں اس مہینے میں) کے باب میں شائع شدہ مواد کا مطالعہ کیا تو پایا کہ مملکت اردنیہ ہاشمیہ کى رابطہ علوم اسلاميہ اس غار پر مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو حال ہی میں الرحیب گاؤں میں دریافت ہوا ہے، اور یہ وہی غار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں قرآن کریم میں مذکور اصحاب کہف آرام فرما تھے۔انتہى

اللہ اور اس کے بندوں کے لیے نصیحت کے وجوب کو مدنظر رکھتے ہوئے؛ میں نے مملکت اردنیہ ہاشمیہ کى رابطہ علوم اسلامیہ کو اسی مجلے میں ایک پیغام دینے کا ارادہ کیا؛ جس کا مضمون یہ ہے: اس رابطہ کو اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس غار پر مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس پر عمل درآمد نہ کریں؛ کیونکہ انبیا و صالحین کی قبروں اور ان کے آثار پر مساجد تعمیر کرنا ان چیزوں میں سے ہے جن سے کامل اسلامی شریعت نے منع اور خبردار کیا ہے، اور اس فعل کو انجام دینے والے پر لعنت کی ہے؛ کیونکہ یہ شرک کے ذرائع میں سے ہے، اور انبیا و صالحین کے بارے میں غلو کا سبب بنتا ہے، حقیقت اس بات کی گواہ ہے کہ شریعت جو کچھ لے کر آئی ہے وہ درست ہے اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے، اور یہ ایک روشن دلیل اور قاطع حجت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جو کچھ اللہ کی طرف سے لایا اور امت تک پہنچایا وہ سچ ہے۔ اور جو کوئی بھی اسلامی دنیا کے حالات پر غور کرے، اور اس شرک وغلو پر غور کرے جو اس کے اندر قبروں پر مساجد تعمیر کرنے، ان کی تعظیم کرنے، ان پر فرش بچھانے، ان کو سجانے اور ان کے لیے مجاور مقرر کرنے کی وجہ سے، پیدا ہوگیا ہے، تو وہ یقیناً جان لے گا کہ یہ سب امور شرک کے ذرائع میں سے ہیں، اور یہ کہ اسلامی شریعت کی خوبیوں مں سے یہ شمار کیا جائے گا کہ اس نے ان سب سے منع کیا اور روکا ہے اور اس طرح کے کا موں کا اہتمام کرنے اور ان پر توجہ دینے سے خبردار کیا ہے۔

اس بارے میں جو روایتیں آئی ہیں ان میں یہ روایت بھی ہے جسے شیخین بخاری و مسلم ـ رحمہما اللہ ـ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، قالَتْ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا، قالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا». ’’یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔ اور اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ ﷺ کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن یہ ڈر تھا کہ کہیں اسے مسجد (سجدہ گاہ) نہ بنا لیا جائے۔ اور اسی طرح بخاری ومسلم میں ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک کلیسا کا ذکر کیا جو انہوں نے ملکِ حبشہ میں دیکھا تھا، اور اس میں موجود تصویروں کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ؛ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ». "وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر اُن میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں وہ تصویریں بنا لیتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات میں سب سے بدترین ہیں"۔

صحیح مسلم میں جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے پانچ دن قبل فرماتے ہوئے سنا: «إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، فَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ». "میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں"۔ اس باب کی حديثيں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

مذاہب اربعہ کے علمائے کرام اور ان کے علاوہ دیگر مسلم علما نے بھی ، رسول صلى اللہ علیہ وسلم کى سنت پر عمل کرتے ہوئے اور امت کے لئے خیر خواہى کى بنا پر، اور اس کو اس بات سے خبردار کرنے کے لئے کہ کہیں وہ ان غلطیوں میں نہ پڑجائے جن میں ان سے پہلے کے یہود و نصاریٰ کے غلو صفت اور اس امت کے گمراہ لوگ پڑ چکے ہیں، واضح طور قبروں پر مساجد بنانے سے منع کیا ہے اور اس سے خبردار کیا ہے۔

رابطہ علوم اسلامیہ اردن اور دیگر مسلمانوں پر واجب ہے کہ سنت کو اپنائیں، ائمہ کے منہج پر چلیں، اور ان چیزوں سے بچیں جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے خبردار کیا ہے؛ کیونکہ اسی میں بندوں کی اصلاح، ان کی سعادت اور دنیا و آخرت میں ان کی نجات ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس باب کا تعلق اصحاب کہف کے قصہ میں وارد اللہ تعالی کے اس فرمان سے جوڑا ہے:

﴿...قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا﴾

" کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے". [الکھف: ۲۱]

اس کے جواب میں یہ عرض ہے: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس زمانے کے سرداروں اور اہل اقتدار کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی، اور یہ ان سے رضا مندی اور ان کی تائید کے طور پر نہیں ہے، بلکہ ان کے عمل کی مذمت، عیب جوئی اور ان کے طرز عمل سے نفرت دلانے کے لیے ہے۔ اس پر یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن پر یہ آیت نازل ہوئی اور جو اس کی تفسیر سب سے بہتر جانتے تھے، انہوں نے اپنی امت کو قبروں پر مساجد بنانے سے منع فرمایا، اس سے ڈرایا اور اس فعل کو انجام دینے والے پر لعنت بھیجی اور اس كى مذمت کی۔

اگر یہ جائز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس پر اتنی سختی نہ فرماتے اور نہ ہی اس پر لعنت بھیجتے، اور نہ ہی یہ فرماتے کہ ایسا کرنے والا اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق میں سے ہے۔ اور یہ حق کے طالب کے لیے کافی اور قانع کرنے والا ہے۔ اور اگر ہم فرض کر لیں کہ قبروں پر مساجد بنانا ہم سے پہلے والوں کے لیے جائز تھا، تو بھی ہمارے لیے اس میں ان کی پیروی جائز نہیں؛ کیونکہ ہماری شریعت نے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے، ہمارے رسول علیہ الصلاة والسلام خاتم الرسل ہیں، آپ کی شریعت کامل اور عام ہے، اور آپ نے ہمیں قبروں پر مساجد بنانے سے منع فرمایا ہے؛ لہذا آپ کی مخالفت ہمارے لیے جائز نہیں، آپ کی اتباع اور آپ کے لائے ہوئے دین پر قائم رہنا واجب ہے، اور ان قدیم شریعتوں اور ان لوگوں کی پسندیدہ عادات کو چھوڑ دینا واجب ہے جو ان پر عمل کرتے تھے؛ کیونکہ اللہ کے شریعت سے زیادہ کامل کوئی چیز نہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رہنے اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اقوال و اعمال، ظاہر و باطن اور تمام معاملات میں مضبوطی سے تھامنے کی توفیق عطا فرمائے، یہاں تک کہ ہم اللہ جل جلالہ سے ملیں۔ یقینا اللہ تعالى سب کچھ سننے والا اور بہت قریب ہے۔

درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد پر اور آپ کے اہل بیت, صحابہ اور تا قیامت آپ کے طریقہ کى پیروى کرنے والوں پر۔

 

***

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

گیارہواں کتابچہ : مساجد میں مردوں کو دفن کرنا

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور آپ کى آل اور آپ کے راستے پر چلنے والوں پر، اما بعد:

میں نے ١٧/ ٤ / ١٤١٥ھ کو شائع ہونے والے اخبار «الخرطوم» کا مطالعہ کیا؛ تو میں نے پایا کہ اس میں یہ بیان شائع ہوا ہے کہ سید محمد الحسن ادریسی کو ان کے والد کے پہلو میں ان کى مسجد میں ام درمان شہر میں دفن کیا گیا ہے... وغیرہ۔

اور چونکہ اللہ نے مسلمانوں کو نصیحت کرنے اور منکر کا انکار کرنے کا وجوبی حکم دیا ہے، اس لیے میں نے یہ تنبیہ ضروری سمجھی کہ مسجدوں میں دفن کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ شرک کے وسائل اور یہود ونصاری کے اعمال میں سے ہے جن پر اللہ نے مذمت کی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے، جیسا کہ صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»، "یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا"۔ صحیح مسلم میں جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ؛ فَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ». ’’خبر دار! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس سے روکتا ہوں۔‘‘ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

مسلمانوں پر ہر جگہ ـ حکومتی اور عوامی سطح پر ـ واجب ہے کہ اللہ سے ڈریں، اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچیں، اور اپنے مردوں کو مساجد کے باہر دفن کریں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ـ رضی اللہ عنہم ـ مردوں کو مساجد کے باہر دفن کرتے تھے، اور اسی طرح صحابہ کے سچے پیروکار بھی کرتے تھے۔

اور جہاں تک نبی ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کا مسجد میں موجود ہونے کی بات ہے، تو یہ مساجد میں مردوں کو دفن کرنے کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ کو آپ کے گھر، یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن کیا گیا تھا، پھر آپ کے دونوں صحابہ بھی وہیں دفن کیے گئے۔ جب ولید بن عبد الملک نے مسجد کی توسیع کی تو ہجرت کے پہلے سو سال کے اختتام پر حجرہ عائشہ کو مسجد میں شامل کر لیا۔ اہل علم نے اس پر نکیر کی، لیکن اس نے سمجھا کہ یہ توسیع میں مانع نہیں ہے اور معاملہ واضح ہے، کوئی اشتباہ نہیں ہوگا۔

اس سے ہر مسلمان پر واضح ہو جاتا ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما مسجد میں دفن نہیں کیے گئے تھے، اور توسیع کی وجہ سے ان کى قبروں کا مسجد میں داخل کردینا، یہ مساجد میں دفن کرنے کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا؛ کیونکہ وہ مسجد میں مدفون نہیں تھے، بلکہ وہ آپ ﷺ کے گھر میں مدفون ہوئے تھے، اور ولید کا عمل اس معاملے میں کسی کے لئے حجت نہیں بن سکتا، بلکہ حجت کتاب و سنت اور سلف امت کے اجماع میں ہے، رضی اللہ عنہم، اللہ ہمیں بھلائى کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل فرمائے۔

اور نصیحت و بری الذمہ ہونے کے لیے، بتاریخ ١٤/ ٥/ ١٤١٥ ہجری یہ تحریر کیا گیا۔

توفیق کا مالک اللہ ہی ہے۔ اور درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد پر، اور آپ کى آل اور آپ کے صحابہ نیز اچھائى کے ساتھ ان کى اتباع کرنے والوں پر۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

بارہواں کتابچہ: اس بات کا بیان کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ کسی کے لیے شریعت محمدیہ سے تجاوز کرنا جائز ہے، وہ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہے۔

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، اور درود و سلام ہو نبیوں اور رسولوں کے خاتم، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کى آل اور تمام صحابہ پر۔

اما بعد: میں نے الشرق الاوسط اخبار کے شمارہ نمبر (٥٨٢٤) مورخہ ٥/ ٦/ ١٤١٥ ھ میں شائع شدہ مضمون کا مطالعہ کیا، جسے عبد الفتاح الحايك نام سے خود کو ذکر کرنے والے نے (غلط فہمی) کے عنوان سے سپرد قلم کیا ہے۔

مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نے دین اسلام کی ایسی بات کا انکار کیا جس کا شمار دین اسلام کى انتہائى بنیادی واضح باتوں میں ہے، اور جو نصوص اور اجماع سے ثابت ہے؛ مقصود محمد ﷺ کی رسالت کا تمام انسانوں کے لیے عام ہونا ہے، اور اس کا یہ دعویٰ کہ جو محمد ﷺ کی پیروی نہ کرے اور ان کی اطاعت نہ کرے، بلکہ یہودی یا عیسائی ہی رہے، وہ بھی حق پر ہے۔ پھر اس نے رب العالمین ـ سبحانہ ـ کی حکمت پر بھی جرأت کی اور کافروں اور نافرمانوں کو عذاب دینے کو عبث قرار دیا۔

اس نے شرعی نصوص میں تحریف کی، انہیں ان کے اصل مقامات سے ہٹا دیا اور اپنی خواہشات کے مطابق ان کی تفسیر کی، ان شرعی دلائل اور صریح نصوص سے اعراض کیا جو محمد ﷺ کی رسالت کے تمام انسانوں کے لیے عام ہونے پر اور اس شخص کے کفر پر دلالت کرتی ہیں جو آپ کے بارے میں سنے اور آپ کی پیروی نہ کرے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ کسی دین کو قبول نہیں کرتا، اور دیگر صریح نصوص سے بھی اعراض کیا تاکہ اس کی باتوں سے جاہل لوگ دھوکہ کھا جائیں۔ اور یہ جو اس نے کیا وہ صریح کفر ہے، اسلام سے ارتداد ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلانا ہے، جیسا کہ اہل علم و ایمان میں سے جس نے بھی یہ مضمون پڑھا وہ جانتا ہے۔

حاکم پر واجب ہے کہ اسے عدالت کے حوالے کرے تاکہ اس سے توبہ کروائی جائے اور اس پر شریعت مطہرہ کے مطابق حکم صادر کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی رسالت کی عمومیت اور تمام جن و انس پر آپ کی اتباع کی فرضیت کو واضح کردیا ہے، اور یہ بات کسی بھی مسلمان سے مخفی نہیں جو علم کی ادنیٰ سی بھی سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ158﴾

"آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ"۔ [الاعراف: ۱۵۸] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ...﴾

" ...اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعے سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں... [الانعام: ۱۹] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ31﴾

" کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے"۔ [آل عمران: 31]. ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ85﴾

" جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ [آل عمران: 85]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا...﴾

" ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے... [سبا: ۲۸] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ107﴾

" اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے [سورہ الانبياء: 107]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ فَإِنۡ أَسۡلَمُواْ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ﴾

" اور اہل کتاب سے اور اَن پڑھ لوگوں سے کہہ دیجیئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟ پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہداہت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے"۔ [آل عمران: 20]. ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا1﴾

" بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لئے آگاه کرنے واﻻ بن جائے [الفرقان: 1].

جب کہ امام بخاری اور مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، فَلْيُصَلّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً». "مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، تمام زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی حلال نہ تھا۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ اور نبی صرف اپنی ہی قوم کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔

یہ ہمارے نبی محمد ﷺ کی رسالت کی عمومیت اور شمولیت کا صریح بیان ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہے، اور اس نے اگلى تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے، اور جو محمد ﷺ کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا؛ وہ کافر اور نافرمان اور عذاب کا مستحق ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿...وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ مِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ فَٱلنَّارُ مَوۡعِدُهُۥ...﴾

" اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے [ھود: ۱۷] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...فَلۡيَحۡذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ يُصِيبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

" سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے"۔ [سورہ النور : 63]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ14﴾

" اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے"۔ [النساء: ۱۴] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ﴾

" ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے"۔ [البقرة: ۱۰۸] اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو مانے گا وہ خسارہ اٹھانے والا ہے، اس سے نہ کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گى اور نہ ہی کوئى نفلی عبادت، اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ 85

" جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ [آل عمران: 85]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ...

" اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی [ سورہ النساء: 80 ] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا...

" کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے۔ ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو"۔ [سورہ النور: 54]. ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ 6

" بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں [البینۃ: ۶]

امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ؛ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ؛ إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ». ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی، اسے میری بعثت کی اطلاع ہوئی ہو اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے، تو وہ یقینًا اہلِ جہنم میں سے ہوگا‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول و فعل سے واضح کر دیا کہ جو اسلام میں داخل نہیں ہوا، اس کا دین باطل ہے۔ آپ نے یہود و نصاری کے ساتھ ساتھ دیگر کفار سے بھی جنگ کی اور ان میں سے جو جزیہ دینے پر راضی ہوئے، ان سے جزیہ لیا تاکہ ان کی باقی قوم تک دعوت پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور جو ان میں سے اسلام میں داخل ہونا چاہے، وہ اپنی قوم کے خوف کے بغیر داخل ہو سکے کہ وہ اسے روکیں گے یا قتل کریں گے۔

نیز بخاری و مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: «انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ، فَنَادَاهُمْ فَقَالَ :يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ذَلِكَ أُرِيدُ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ...». "یہود کے پاس چلو۔" تو ہم ان کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم بیت المدراس پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پکارا: "اے یہودیو! اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے۔" انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنی بات پہنچا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "یہی میں چاہتا ہوں، اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے۔" انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنی بات پہنچا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "یہی میں چاہتا ہوں۔" پھر تیسری بار بھی یہی فرمایا۔ حدیث لمبی ہے۔

مقصود یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہودیوں کے دینی تعلیم حاصل کرنے کى جگہ گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی، اور فرمایا: "اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے"، اور یہ بات ان کے سامنے بار بار دہرائی۔

اسی طرح: آپ نے اپنا خط ہرقل کے پاس بھیجا، جس میں اسے اسلام کی دعوت دی اور بتایا کہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس پر ان لوگوں کا گناہ بھی ہو گا جو اس کے انکار کی وجہ سے اسلام سے دور رہیں گے۔ بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں روایت کیا ہے کہ ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا، پھر اسے پڑھا تو اس میں (لکھا تھا): «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ، فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ "اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے یہ خط ہے روم کى سب سے عظیم شخصیت کے نام۔ اس شخص پر سلامتى ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد میں تمہارے سامنے دعوتِ اسلام پیش کرتا ہوں۔ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو (دین و دنیا میں) سلامتی نصیب ہو گی اور اللہ تم کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر تم (میری دعوت سے) روگردانی کرو گے، تو تمہارى رعایا کا گناہ تم پر ہو گا"۔

﴿يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ64﴾

" اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں"۔ [آل عمران: 64]۔

پھر جب انہوں نے اسلام میں داخل ہونے سے انکار کر دیا اور پیٹھ پھیر لی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے جنگ کی اور ان پر جزیہ عائد کیا۔

ان کی گمراہی کی تصدیق کے لیے اور اس تاکید کے لیے کہ وہ منسوخ شدہ دین پر ہیں، جسے محمد رسول اللہﷺ کے دین سے بدل دیا گیا؛ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو حکم دیا کہ وہ ہر دن، ہر نماز اور ہر رکعت میں اللہ سے سیدھے راستے کی ہدایت مانگے، جو کہ صحیح اور مقبول ہے، اور وہ ہے: اسلام، اور اللہ سے دعا مانگے کہ اسے ان لوگوں کے راستے سے بچائے جن پر غضب نازل ہوا، یعنی یہود اور ان جیسے لوگ جو جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں اور پھر بھی اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اللہ سے دعا کرے کہ ان گمراہ لوگوں کی راہ سے بچائے، جو بغیر علم کے عبادت کرتے ہیں، اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت کے راستے پر ہیں، حالانکہ وہ گمراہی کے راستے پر ہیں، اور وہ ہیں: نصاریٰ، اور دیگر اقوام جو گمراہی اور جہالت کی بنیاد پر عبادت کرتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ مسلمان یقین کے ساتھ جان لے کہ اسلام کے علاوہ ہر دین باطل ہے، اور جو کوئی اللہ کی عبادت اسلام کے علاوہ کسی اور طریقے سے کرتا ہے وہ گمراہ ہے، اور جو اس کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ کتاب و سنت میں اس باب کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔

لہذا مضمون نگار عبد الفتاح پر واجب ہے کہ وہ سچی توبہ کرنے میں جلدی کرے، اور ایک مضمون لکھے جس میں اپنی توبہ کا اعلان کرے، اور جو شخص اللہ کی طرف سچی توبہ کرتا ہے؛ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے؛ جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿...وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾

" اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ"۔ [النور: ۳۱]، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا68 يُضَٰعَفۡ لَهُ ٱلۡعَذَابُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيهِۦ مُهَانًا69 إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلٗا صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا70﴾

" اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے ، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے"۔ [سورۃ الفرقان: 68-70] نیز اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الإِسْلَامُ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَالتَّوبَةُ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا». "اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور توبہ اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے"۔ کیونکہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبَ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ». "گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں"۔

اس معنی و مفہوم کی بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو حق کی شکل میں دکھائے اور ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں باطل کو باطل کی شکل میں دکھائے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم پر، مصنف عبد الفتاح پر اور تمام مسلمانوں پر خالص توبہ کی نعمت فرمائے، اور ہمیں تمام فتنوں کی گمراہیوں، خواہشات کی پیروی اور شیطان کی اطاعت سے محفوظ رکھے، بے شک وہی اس کا سزاوار اور اس پر قادر ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد پر اور آپ کى آل اور آپ کے صحابہ نیز تاقیامت اچھائى کے ساتھ ان کى پیروى کرنے والوں پر۔

 

***

فہرست

 

پہلی اصل: اللہ تعالیٰ پر ایمان، جو کئی امور پر مشتمل ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں: 7

دوسری اصل: فرشتوں پر ایمان، جو دو امور کو شامل ہے: 26

تیسری اصل: کتابوں پر ایمان، اور یہ بھی دو امور کو شامل ہے: 28

چوتھی اصل: رسولوں پر ایمان 31

پانچویں اصل: یومِ آخرت پر ایمان 33

چھٹی اصل: تقدیر پر ایمان 34

صحیح عقیدہ کے مخالف عقائد 41

دوسرا كتابچہ: نبی ﷺ سے استغاثہ (فریاد رسى) کرنے کا حکم 52

تیسرا کتابچہ:جنات اور شیاطین سے فریاد کرنا اور ان کے لئے نذر و نیاز کرنے کا حکم 75

چوتھا کتابچہ: بدعیہ اور شرکیہ اوراد کے ذریعہ عبادت کرنے کا حکم: 101

پانچواں کتابچہ: میلاد النبیﷺ اور دیگر میلادوں کے جشن کا حکم 133

چھٹا کتابچہ: شب اسراء ومعراج میں جشن کا حکم 146

ساتواں کتابچہ: پندرھویں شعبان کی شب کے جشن منانے کا حکم 154

آٹھواں کتابچہ: نہایت اہم تنبیہ اس وصیت کے جھوٹے ہونے پر جو منسوب کى جاتی ہےحرم نبوی شریف کے خادم شیخ احمد کى طرف 171

نواں پیغام: جادو، کہانت اور اس سے متعلقہ امور کا حکم 190

دسواں کتابچہ: قبروں پر مسجد بنانے پر تنبیہ 211

گیارہواں کتابچہ : مساجد میں مردوں کو دفن کرنا 218

بارہواں کتابچہ: اس بات کا بیان کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ کسی کے لیے شریعت محمدیہ سے تجاوز کرنا جائز ہے، وہ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہے۔ 221

***

 


() صحیح بخاری : (2856) صحیح مسلم : (30)۔

() اس کو امام لالکائی نے ’’شرح أصول الاعتقاد‘‘ (735) میں اور ابن عبد البر نے ’’جامع العلم وفضله‘‘ (1801) میں نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے 'آیات الصفات' کی بجائے 'احادیث' کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ اور ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’ان احادیث کو اسی طرح روایت کرو جیسے کہ وہ وارد ہوئی ہیں اور ان میں بحث و مباحثہ نہ کرو‘‘۔

() اس روایت کو امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (865) میں نقل کیا ہے، اور اس کی سند کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’الحموية‘‘ (صفحہ : 269) میں صحیح قرار دیا ہے۔ جب کہ امام ذہبی نے ’’العرش‘‘ (2/223) میں فرمایا: اس کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔

() اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (حدیث نمبر : 930) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (حدیث نمبر : 955) میں نقل کیا ہے۔

() اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (حدیث نمبر: 665) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (حدیث نمبر: 868) میں نقل کیا ہے۔

() اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (664) میں، ابو نعیم نے ’’حلية الأولياء‘‘ (جلد : 6، صفحہ : 325) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (867) میں نقل کیا ہے۔

() اس روایت کو المزکی نے ’’المزكيات‘‘ (29) میں، ابن بطة نے ’’الإبانة‘‘ (120) میں اور امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (663) میں نقل کیا ہے۔

() اس روایت کو امام دارمی نے ’’الرد على الجهمية‘‘ (67) میں اور امام بیہقی نے ’’الاسماء والصفات‘‘ (903) میں نقل کیا ہے۔

() اس روایت کو امام ذہبی نے ’’العلو‘‘ (464) میں نقل کیا ہے اور البانی نے ’’مختصر العلو‘‘ (صفحہ : 184) میں فرمایا: یہ سند صحیح ہے، اس کے تمام راوی ثقہ اور معروف ہیں۔

() تفسیر ابن کثیر (جلد: 3، صفحات: 426-427)۔

() اس حدیث کو امام بخاری نے (حدیث نمبر 22) میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

() اس حدیث کو امام مسلم (2996) نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

() اسے بخاری (3651) اور مسلم (2533) نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

() صحیح مسلم (1920)، راوی: ثوبان رضی اللہ عنہ۔

() سنن ابن ماجه (3952)، راوی: ثوبان رضی اللہ عنہ۔ ابن حبان (6714) اور حاکم (8653) نے اسے صحیح کہا ہے۔

() اس حدیث کو امام ترمذی (2641) نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام مناوی نے ’’فیض القدير‘‘ (جلد: 5، صفحہ: 347) میں فرمایا: "اس میں عبد الرحمن بن زیاد الافریقی راوی ہے، جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے"۔ جب کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’’صحیح الجامع‘‘ (5343) میں صحیح قرار دیا ہے۔

() صحیح مسلم (8)۔

() صحیح بخاری : (2856) صحیح مسلم : (30)۔