الوسائل المفيدة للحياة السعيدة (أردو)

كتاب الوسائل المفيدة للحياة السعيدة للشيخ عبد الرحمن بن ناصر السعدي يعالج أسباب السعادة الحقيقية من منظور إيماني عميق، فيرشد القارئ إلى الطمأنينة القلبية من خلال الإيمان والعمل الصالح، وذكر الله، والقناعة، والتفكر في النعم، والإحسان، والتوكل، والصبر، وتقدير الأمور، بأسلوب جميل، يضع بين يديك خارطة لحياة مطمئنة، متزنة، وسعيدة رغم تقلبات الحياة.

  • earth زبان
    (أردو)
  • earth تالیف:
    الشيخ عبدالرحمن بن ناصر السعدي

دیگر تراجم 53

ta تاميلي- தமிழ் bn بنغالي- বাংলা tr تركي- Türkçe zh صيني- 中文 ha هوسا- Hausa ar عربي- العربية ur أردو- اردو hi هندي- हिन्दी ms ملايو- Melayu en إنجليزي- English ps بشتو- بشتو fr فرنسي- Français ru روسي- Русский sw سواحيلي- Kiswahili fa فارسي- فارسي uz أوزبكي- Ўзбек id إندونيسي- Indonesia tl فلبيني تجالوج- Tagalog gu غوجاراتية- ગુજરાતી te تلغو- తెలుగు si سنهالي- සිංහල as آسامي- অসমীয়া es إسباني- español bs بوسني- bosanski pt برتغالي- português ro روماني- română rw كينيارواندا- Kinyarwanda pl بولندي- polski ml مليالم- മലയാളം mg ملاغاشي- Malagasy lt ليتواني- lietuvių am أمهري- አማርኛ ka جورجي- ქართული ku كردي- Kurdî kn كنادي- ಕನ್ನಡ it إيطالي- italiano cs تشيكي- čeština prs دري- فارسی دری sr صربي- Српски lo لاو- ພາສາລາວ dv ديفهي- ދިވެހި jo جوالا- Jóola sx سوننكي- Soninke ky قرغيزي- Кыргызча nl هولندي- Nederlands pa بنجابي- ਪੰਜਾਬੀ th تايلندي- ไทย mk مقدوني- македонски vi فيتنامي- Tiếng Việt ceb بيسايا- Bisaya hu هنجاري مجري- magyar ne نيبالي- नेपाली yo يوربا- Èdè Yorùbá
PHPWord

 

 

 

 

الوَسَائِلُ المُفِيْدَةُ لِلحَيَاةِ السَّعِيْدَةِ

 

خوشگوار زندگی کے مفید وسائل

 

 

الشَّيْخُ عَبْدُ الرَّحمَنِ بْنُ نَاصِرٍ السَّعْدِيُّ

رَحِمَهُ اللهُ

 

شیخ عبدالرحمن بن ناصر السعدی

رحمہ اللہ

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

مقدمہ

ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام تر تعریفوں کا حقیقی مستحق ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کے اہل وعیال پر اور آپ کے صحابہ پر درود وسلام نازل فرمائے۔

حمد وصلاۃ کے بعد: یقینا ہر شخص دلوں کا چین وقرار اور رنج والم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں کہ اسی سے زندگی فرحت بخش، شادمان اور پُر مسرت ہوسکتی ہے، چنانچہ ان مسرتوں کے حصول کے بعض دینی، فطری اور عملی اسباب و وسائل ہیں جنہیں بیک وقت صرف ایمان والے ہی حاصل کرسکتے ہیں۔ جہاں تک دوسرے لوگوں کی بات ہے تو گرچہ وہ لوگ اپنے دانشمندوں کی کوششوں کی بدولت بعض اسباب کو اختیار کرلیں، لیکن زیادہ نفع بخش ،دائمی اور نتیجے کے اعتبار سے عمدہ ترین اسباب ان سے فوت ہوجائیں گے۔

میں اپنے اس کتابچہ میں بعض ایسے اسباب ووسائل کو بیان کروں گا جو اس عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ ہیں جن کو ہر کوئی حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جنہیں اکثر اسباب ووسائل مہیا ہو جاتے ہیں، چنانچہ ان کی زندگی بہترین اور خوشگوار ہوتی ہے۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو پاتا، چنانچہ یہ لوگ انتہائی رنجیدہ اور خستہ حال زندگی گزارتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو توفیق الہی کے بقدر ان دونوں قسم کے لوگوں کے درمیان میں ہوتے ہیں۔ اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، ہر خیر میں اسی سے مدد مانگی جاتی ہے، اور ہر شر کو دفع کرنے میں بھی اسی سے مدد لی جاتی ہے۔

فصل: ایمان اور عمل صالح

سعادت مند زندگی کے حصول کا سب سے عظیم، بنیادی اور اصلی سبب ایمان اور عمل صالح ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:

﴿مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَنُحۡيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةٗ طَيِّبَةٗۖ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ 97﴾

(جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے ۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔) [سورہ نحل: 97]۔

چنانچہ اللہ تعالی نے ایمان کے ساتھ نیک عمل کرنے والوں سے اس دنیا میں پاکیزہ زندگی اور دنیا وآخرت دونوں میں بہترین بدلہ کا وعدہ کیا ہے۔

اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ وہ یہ کہ حقیقی معنی میں اللہ پر ایمان رکھنے والے وہ لوگ جن کا ایمان انہیں اعمالِ صالحہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے، نیز ان کے دلوں، ان کے اخلاق وعادات اور ان کی دنیا وآخرت سنوار دیتا ہے، انہیں ایسے بنیادی اصول وضوابط مہیا ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ پیش آمدہ مسرت وشادمانی اور رنج و الم کے تمام اسباب کا اچھی طرح سامنا کرنا جان جاتے ہیں۔

لہذا وہ پُر مسرت و خوش آئند چیزوں کو بحسن وخوبی قبول کرکے اس پر شکر بجا لاتے ہیں اور انہیں نفع بخش کاموں میں استعمال کرتے ہیں، چنانچہ جب وہ ان چیزوں کو اس طرح استعمال میں لاتے ہیں تو انہیں فرحت و مسرت حاصل ہوتی ہے اور ان چیزوں کے دوام اور برکت کی شدید خواہش ان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ نیز اس پر وہ اللہ کی جانب سے شکر بجا لانے والوں کے اجر و ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر انہیں ایسی عظیم بھلائیاں اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں جو ان خوشیوں سے بھی اعلیٰ و برتر ہوتی ہیں۔

اسی طرح وہ لوگ تکلیف، مشقت اور غم والم کے حالات میں بالکل ڈتے رہتے ہیں، حتی الامکان ان سے مزاحمت کرتے ہیں اور انہیں کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو صبر جمیل سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ اُنہیں ان مشقتوں اور پریشانیوں کی بدولت مصیبتوں پر ڈتے رہنے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت ،کارآمد تجربات اور (اندرونی )قوت حاصل ہوتی ہے۔ ساتھ ہی صبر و استقامت اور اجرو ثواب کی امید جیسے اتنے بڑے بڑے انعامات ملتے ہیں جن کے سامنے یہ تمام مشقتیں پھیکی پڑ جاتی ہیں اور ان کی جگہ فرحت و مسرت اور نیک امیدیں لے لیتی ہیں۔ نیز اللہ کے فضل و احسان اور اس کی جانب سے اجر وثواب حاصل کرنے کا شوق بھی ان کے اندر بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس صورت حال کو ایک صحیح حدیث میں بیان کیا ہے، فرمایا: (مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے خوش کن بات پہنچتی ہے تو شکر ادا کرتا ہے جو اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے، اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے جو اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے، اور ایسا مومن کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں ہے۔) صحیح مسلم۔

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات کی خبر دی ہے کہ آسانی وپریشانی اور خوشی وغم، ہر دو حالت میں ایک مومن کی خیر وبھلائی اور اس کے نیک اعمال کے اجر وثواب میں برابر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ جب ایک ہی قسم کی خیر و بھلائی یا شر ونقصان دو الگ الگ لوگوں کو پہنچے تو ان کا سامنا کرنے میں دونوں اپنے اپنے ایمان اور عمل صالح کے تفاوت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے یکسر مختلف و متفاوت ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایمان وعمل صالح کو انجام دینے والا شخص خیر اور شر کا سامنا درج بالا شکر وصبر اور اِن جیسی دیگر چیزوں کے ساتھ کرتا ہے۔ لہذا اسے فرحت ومسرت حاصل ہوتی ہے اور رنج و الم، دل کی تنگی اور زندگی کی بدبختی سے چھٹکارا ملتا ہے۔ نیز اس دنیا میں اس کی زندگی خوش گوار اور پاکیزہ ہوجاتی ہے۔ جبکہ دوسرا شخص خیر وبھلائی کا سامنا شیخی، کبر وغرور اور سرکشی ونافرمانی کے ساتھ کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں، بلکہ وہ ان بھلائیوں کا سامنا جانوروں کی مانند حواس باختہ ہوکر طمع ولالچ کے ساتھ کرتا ہے، لیکن ان سب کے باوجود اسے سکون قلب میسر نہیں ہوتا،بلکہ کئی اعتبار سے وہ بہت بے چین رہتا ہے، وہ اس خوف سے بے چین رہتا ہے کہ کہیں یہ پسندیدہ چیزیں ختم نہ ہوجائیں، اور ان چیزوں کو اپنے پاس برقرار رکھنے کے لئے جو کڑی محنت لگتی ہے اس سے بھی وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے، وہ اس وجہ سے بھی بے چین رہتا ہے کہ انسانی نفس کو ہمیشہ مزید سے مزید تر کی چاہت رہتی ہے اور وہ کبھی کسی چیز پر قانع نہیں رہتا، لہذا کبھی تو اسے مزید بھلائیاں مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں ملتیں، بالفرض اگر مل جائیں تب بھی ایسا شخص مذکورہ بالا وجوہات کی بنیاد پر بے چین وپریشان ہی رہتا ہے، اسی طرح جب اس شخص کو مصائب وپریشانیاں درپیش ہوتی ہیں تو وہ ان کا سامنا خوف وہراس، گھبراہٹ اور بے صبری وبے چینی کے ساتھ کرتا ہے، پھر اسے جو بدبختی اور ذہنی وعصبی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں ان کے متعلق تو مت ہی پوچھئے، نیز اسے ایسا ڈر وخوف لاحق ہوجاتا ہے جس سے اس کی زندگی بد سے بدتر اور نہایت پریشان کن ہو جاتی ہے کیونکہ نہ وہ اس پیش آمدہ مصیبت پر اللہ سے اجر وثواب کی امید ہی رکھتا ہے اور نہ صبر ہی کرتا ہے کہ اسے تسلی رہے اوراس کی تکلیف کچھ ہلکی ہوسکے۔

یہ تمام باتیں تجربات سے معلوم ہوئی ہیں۔ چنانچہ اگر ان مثالوں میں سے کسی ایک مثال پر بھی آپ غور کریں گے اور لوگوں کو اس کی روشنی میں پرکھیں گے تو ایمانی تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے والے اور جو ایسے نہیں ہیں، ان دونوں کے درمیان آپ کو بہت فرق نظر آئے گا۔ کیونکہ دین اسلام انسان کو اللہ کی عطا کردہ روزی اور اس کے بیش بہا فضل وکرم پر قناعت اختیار کرنے پر ابھارتا ہے۔

لہذا جب کوئی مومن بیمار پڑتا ہے یا تنگ دست ہوجاتا ہے یا دوسرے لوگوں کی طرح اس جیسی دوسری پریشانی اسے لاحق ہوتی ہے تو اس کی ایمانی قوت، قناعت اور اللہ کی تقدیر پر رضامندی کی وجہ سے آپ اسے بالکل مطمئن اور پُرسکون پاتے ہیں، اور جو چیز اللہ نے اس کی تقدیر میں نہیں لکھی ہے ،اس کا دل اس کی خواہش نہیں کرتا ہے کیونکہ وہ مومن خودسے برتر کے بجائے خود سے کمتر لوگوں کی جانب دیکھتا ہے، بلکہ بسا اوقات یہ اُن لوگوں سے بھی زیادہ خوش وخرم اور پُر سکون زندگی جی رہا ہوتا ہے جنہیں دنیا کی تمام تر آسائشیں میسر ہیں لیکن انہیں ان پر قناعت کی توفیق نہیں ملی۔

دوسری جانب وہ شخص جو ایمانی تقاضوں کے مطابق زندگی نہیں گزارتا، اسے جب کوئی محتاجی لاحق ہوتی ہے یا کچھ دنیاوی نقصان پہنچتا ہے تو آپ اسے انتہائی درجے کی بدحالی وبدبختی کا شکار پاتے ہیں۔

ایک دوسری مثال لیتے ہیں: جب خوف وہراس لاحق ہوتا ہے یا مختلف پریشانیاں آتی ہیں تو سچے ایمان والے کو آپ ثابت قدم اور مطمئن پاتے ہیں، وہ اپنی فکر اور قول وعمل کے ذریعہ اس مصیبت سے بآسانی نمٹ لیتا ہے، گویا وہ پہلے سے ہی اس مصیبت کے لئے بالکل تیار بیٹھا تھا۔ ان حالات میں (اس طرح کا ردِّ عمل) انسان کو چین و سکون اور دل جمعی عطا کرتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب ایمان سے محروم لوگوں کی حالت بالکل اس کے برعکس ہوتی ہے، جب انہیں کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ حد درجہ پریشان اور حواس باختہ ہو جاتے ہیں، وہ ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں اور اندر سے بہت ڈر سہم جاتے ہیں، نیز ظاہری وباطنی ہر دو اعتبار سے وہ اس طرح خوف وبے چینی کے شکار بن کر رہ جاتے ہیں جس کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر انہیں بعض ایسے قدرتی وسائل میسر نہ ہوں جن کے حصول کے لیے بڑی تگ ودو کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی تمام تر قوت جواب دے جائے اور وہ ذہنی ہیجان کے شکار ہو جائیں۔ ایسا اس ایمان کے فقدان کی وجہ سے ہوتا ہے جو انسان کو صبر وتحمل پر آمادہ کرتا ہے، اور ایسا خاص طور پر انتہائی نازک اور المناک حالات میں ہوتا ہے۔

لہذا نیک وبد اور مومن وکافر ،دونوں ( پیش آمدہ مصائب پر) ہمت وشجاعت سے کام لینے اور فطرتًا ان کا سامنا کرنے کی صفت میں مشترک ہوتے ہیں جو خطرات کو ہلکا کردیتے ہیں، لیکن ایک مرد مومن اپنی قوت ایمانی، صبر واستقلال، اللہ پر توکل واعتماد اور اُس سے اجر وثواب کی امید رکھنے کی بنیاد پر ایک الگ ہی شان رکھتا ہے جس سے اس کی ہمت وشجاعت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، اس کاخوف وڈر جاتا رہتا ہے اور صعوبتیں بھی قدرے آسان ہوجاتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿...إِن تَكُونُواْ تَأۡلَمُونَ فَإِنَّهُمۡ يَأۡلَمُونَ كَمَا تَأۡلَمُونَۖ وَتَرۡجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرۡجُونَ...﴾

(... اگر تمہیں بے آرامی ہوتی ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح بے آرامی ہوتی ہے اور تم اللہ تعالیٰ سے وه امیدیں رکھتے ہو، جو امیدیں انہیں نہیں...) [سورہ نساء: 104]۔ نیز انہیں اللہ کی خاص مدد ونصرت اور تائيد حاصل ہوتی ہے جو خطروں کو ختم کردیتی ہے، فرمان باری تعالی ہے:

﴿...وَٱصۡبِرُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ﴾

(اور صبر و سہارا رکھو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔) [سورہ انفال: 46].

رنج والم کو ختم کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب اپنے قول وفعل اور خیر وبھلائی کے ہر طریقے سے اللہ کی مخلوقات کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ یہ سارے خیر وبھلائی کے کام ہیں، اللہ تبارک وتعالی نیک وبد ،دونوں قسم کے لوگوں کے رنج وغم کو‘ اللہ کی مخلوقات کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے اعتبار سے، دور کرتا ہے۔البتہ ایک مومن کو یہ چیزیں اور بھی کامل طریقے سے ملتی ہیں اور اس کے حسن سلوک میں اخلاص اور اللہ سے اجر وثواب کی امید بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس معاملے میں دوسرے لوگوں سے بالکل جدا ہوتا ہے۔

نتیجتاً اللہ اس کے لئے نیکی کے راستے ہموار کردیتا ہے کیوں کہ وہ اللہ سے خیر کی امید رکھتا ہے، نیز اس کے اخلاص اور ثواب کی امید کی وجہ سے اللہ اُس سے تکلیف دہ چیزوں کو دور کردیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿لَّا خَيۡرَ فِي كَثِيرٖ مِّن نَّجۡوَىٰهُمۡ إِلَّا مَنۡ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوۡ مَعۡرُوفٍ أَوۡ إِصۡلَٰحِۭ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا 114﴾

(ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں ، ہاں! بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔) [سورہ نساء: 114]

اللہ تعالی نے ہمیں اس بات کی خبر دی ہے کہ یہ تمام چیزیں ان کو انجام دینے والوں کے لئے خیر کے اعمال ہیں، اور خیر کے اعمال اپنے ساتھ خیر وبھلائی لاتے ہیں اور شر ونقصان کو دور کرتے ہیں، نیز جو مومن اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھتا ہے، اللہ رب العزت اسے بہت عظیم اجر سے نوازتا ہے۔ انسان کے رنج و غم اور مصائب و مشکلات کا ختم ہو جانا اس اجر عظیم کا حصہ ہے۔

 


فصل: عمل صالح کی انجام دہی یا علم نافع کے حصول میں لگے رہنا

ذہنی تناؤ سے پیدا ہونے والی بے قراری اور دل کو بعض مصیبتوں کی اسیری وگرفتاری سے نجات دلانے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے: عمل صالح کی انجام دہی یا علم نافع کے حصول میں لگے رہنا؛ کیونکہ یہ دل کو بے چینی پیدا کرنے والے امور سے دور رکھتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات اس کی وجہ سے وہ رنج والم کے اسباب ہی بھول جاتا ہے اور فرحت وشادمانی سے معمور ہو جاتا ہے نیز اس کے اندر مزید حرکت وچستى آجاتی ہے، یہ سبب بھی مومن اور غیر مومن، دنوں میں مشترک ہے۔ لیکن مومن اپنے ایمان، اپنے اخلاص، علم کو سیکھنے یا سکھانے پر اللہ سے ثواب کی امید رکھنے اور اپنے علم کے مطابق خیر وبھلائی کے کام انجام دینے کی وجہ سے، دوسروں سے جدا وممتاز رہتا ہے، اگر وہ عبادت میں مشغول رہا تو عبادت ہے (کہ اس پر اجر وثواب حاصل ہوتا ہی ہے) اور اگر دنیاوی کام و کاج میں بھی مشغول رہا تو (تقرب الی اللہ اور) اس سے اطاعت الہی پر مدد کی نیت اس کام کو کار ثواب بنا دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رنج وغم وغیرہ کو دور کرنے میں اِن چیزوں کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں کہ جب وہ ذہنی واعصابی پریشانی اور مصیبتوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مختلف اقسام کی بیماریوں کے شکار ہوگئے تو ان کے لئے سب سے بہترین دوا ،رنج وغم اور پریشانی کی وجہ کو بھول جانا اور زندگی کے اہم ترین امور میں مشغول ہوجانا ہی قرار پایا۔

لہذا انسان کو ایسے امور میں مشغول ہونا چاہئے جن کا وہ ذوق و شوق رکھتا ہو کیوں کہ یہ اس مفید مقصد کو حاصل کرنے کا سب سے مناسب اور پُر اثر سبب ہے۔ واللہ اعلم

ساری فکری توجہ آج کے عمل پر مرکوز کرنا: جو چیزیں غم اور بے قراری کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں اُن میں سے یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آج میں تن ومن سے مصروف رہے، آئندہ کل کے پیچھے پڑنے سے بچے اور ماضی پر افسُردہ نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فکر وغم سے پناہ طلب کی ہے۔ غم گزرے ہوئے ایسے امور پر ہوتا ہے جن کو نہ دہرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں درست کیا جا سکتا ہے، اور فکر مستقبل کے خوف سے لاحق ہوتی ہے، لہذا انسان کو چاہئے کہ وہ آج کا آدمی بن کر رہے اور اپنے آج اور اپنے موجودہ وقت کو درست کرنے کی تگ ودو کرے، کیونکہ آج کی اصلاح میں دل جمعی سے کام لینے سے ہی چیزیں پایہ تکمیل کو پہنچتی ہیں اور انسان کو فکر وغم سے نجات ملتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کی دعا کرتے یا اپنی امت کو دعا کرنے کی رہنمائی کرتے تو اللہ سے مدد طلب کرنے اور اس کے فضل واحسان کی چاہت رکھنے کے ساتھ ہی وہ جس چیز کی دعا کرے اسے حاصل کرنے کے لئے تگ ودو کرنے پر آمادہ کرتے۔ جس چیز کو دور کرنے کی دعا کرے اس سے باز رہنے کی رغبت دلاتے‘ کیوں کہ دعا عمل سے جڑی ہوئی ہے‘ اس لئے بندہ کو چاہئے کہ ایسے کام میں تگ ودو کرے جو اسے دنیا وآخرت میں فائدہ پہنچائے‘ اپنے رب سے مقصد میں کامیابی کی دعا کرے اور اس پر اللہ کی مدد طلب کرے‘ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: (جو چیز تمہیں نفع پہنچانے والی ہو، اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تمہیں کوئی مصیبت آن پہنچے تو یوں نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا اور ایسا ہوجاتا، بلکہ یوں کہو: "قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ" یعنی یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے؛ کیوں کہ لفظ 'اگر' شیطان کی در اندازی کا دروازہ کھولتا ہے۔) صحیح مسلم۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے امور کی حرص رکھنے کا حکم دیا جو ہر حال میں (بندہ کے لئے) نفع بخش ہوں، اللہ سے مدد مانگنے کا حکم دیا اور اس عاجزی کے سامنے ڈھیر ہونے سے منع فرمایا جو نقصاندہ سستی وکاہلی کی شکل میں انسان کو لاحق ہوجایا کرتی ہے، ساتھ ہی آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ ماضی میں واقع ہونے والے امور پر واویلا نہ کیا جائے اور قضا وقدر کو تسلیم کر لیا جائے۔

آپ نے امورِ زندگی کی دو قسمیں بتائی: ایک قسم وہ ہے جسے حاصل کرنے یا اس کے ممکنہ حصہ کو حاصل کرنے کے لئے، یا اسے دور کرنے یا اس کی مضرت کو کم کرنے کے لئے بندہ کوشش کرسکتا ہے تو ایسے امور میں بندہ کو اپنی کوشش کرنی چاہئے اور اپنے پروردگار سے مدد طلب کرنی چاہئے۔ دوسری قسم وہ ہے: جس میں بندہ کو یہ اختیار نہیں ہوتا‘ بندہ کو چاہئے کہ ایسے امور پر مطمئن رہے‘ خوش ہو اور انہیں تسلیم کرے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قاعدہ کی رعایت کرنے سے فرحت ومسرت حاصل ہوتی اور حزن وملال سے نجات ملتی ہے۔

 


فصل: اللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر

شرح صدر اور دل کے اطمینان کا ایک عظیم ترین سبب یہ ہے کہ (کثرت سے اللہ کو یاد کیا جائے)‘ کیوں کہ شرح صدر اور اطمینان قلب کو حاصل کرنے اور حزن وملال کو دور کرنے میں اس کا عجیب وغریب اثر ہوتا ہے‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿...أَلَا بِذِكۡرِ ٱللَّهِ تَطۡمَئِنُّ ٱلۡقُلُوبُ﴾

(... یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے.) [سورہ رعد: 28] ذکر الہی کے اندر چونکہ اپنی خاصیت ہوتی ہے اور بندہ اللہ کے اجر وثواب کی امید رکھتا ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا مقصد کے حصول میں اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری اور باطنی نعمتوں کا زبان سے تذکرہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری اور باطنی نعمتوں کو یاد کرنے اور زبان سے ان کا تذکرہ کرنے سے بھی بندہ کو روحانی خوشی اور دل کا اطمینان حاصل ہوتا ہے، بندہ جب اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچاننے لگتا ہے اور ان کا تذکرہ اپنی زبان پر لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے فکر وغم کو دور کر دیتا ہے، اس کی وجہ سے بندہ کے اندر رب تعالیٰ کے لئے شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو اپنے آپ میں بندگی کا بلند ترین مقام و مرتبہ ہے، بندہ چاہے محتاجی کی حالت میں ہو یا بیماری کی حالت میں یا ان کے علاوہ کسی اور آزمائش سے دوچار ہو، جب وہ اللہ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کا موازنہ اپنی موجودہ پریشانی و آزمائش سے کرتا ہے تو اسے موجودہ مصیبت اور اللہ کی عطا کردہ بے حد وحساب نعمتوں کے درمیان کوئی نسبت و مطابقت ہی نظر نہیں آتی۔

بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر جب اللہ تعالیٰ بندہ کو مصائب اور نا پسندیدہ صورتحال کے ذریعہ آزماتا ہے اور اس پر بندہ صبر و برداشت اور تسلیم و رضا کا پیکر بن جاتا ہے تو اس کی وجہ سے مصائب کی سختی کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے اور آزمائشوں کا بوجھ اسے ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے، جب بندہ آزمائش پر رب تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید باندھ لیتا ہے اور صبر ورضا کے عمل کو اللہ کی عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہے تو اس کی وجہ سے زندگی کی تلخ وکڑوی صورت حال بھی بھلی اور شیریں محسوس ہونے لگتی ہے، پھر وہ اجر و ثواب پانے کی لذت میں صبر وبرداشت کی کڑواہٹ کو بھول جاتا ہے۔

اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھنا: آزمائش اور پریشانی کی صورت میں سب سے زیادہ مفید نسخہ وہ ہے جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحیح حدیث میں رہنمائی فرمائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو ، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے)۔ صحیح مسلم۔ جب بندہ اس عظیم الشان انداز فکر کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھتا ہے تو وہ عافیت اور اس سے متعلق معاملات اور رزق اور اس سے متعلق معاملات میں خود کو اللہ کے بہت سے بندوں سے برتر پاتا ہے، چاہے اس کی موجودہ حالت جیسی بھی ہو، اس کی وجہ سے اس کی پریشانی وبے چینی اور فکر وغم دور ہو جاتے ہیں اور اللہ کی عطا کردہ ان نعمتوں کی وجہ سے اس کی خوشی ومسرت دو بالا ہو جاتی ہے جو اس سے نیچے کے لوگوں کو حاصل ہی نہیں ہیں۔

بندہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ظاہری وباطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے صاف طور پر نظر آتا ہے کہ اس کے رب نے اسے خیر کثیر سے نوازا ہے اور بے شمار شرور وفتن سے اس کی حفاظت کی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پہلو سے غور و فکر کرنے سے بھی غموں اور پریشانیوں کا ازالہ ہوتا ہے اور دل کے اندر خوشی ومسرت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

فصل: غموں کو دعوت دینے والے اسباب کے ازالہ اور خوشی ومسرت سے ہمکنار کرنے والے اسباب کے حصول کی کوشش

خوشی و مسرت کے حصول اور فکر وغم کے ازالہ کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ فکر وغم کو دعوت دینے والے اسباب کے ازالہ اور خوشی و مسرت سے ہمکنار کرنے والے اسباب کے حصول کے لئے کوشش کی جائے، بایں طور کہ ماضی میں جو ناپسندیدہ اور برے حالات قدرتی طور پر پیش آئے جنہیں دور کرنا ممکن نہیں تھا، انہیں انسان بھول جائے اور اپنے دل و دماغ سے انہیں نکال پھینکے اور یہ جان لے کہ ماضی کی کلفتوں میں اپنے آپ کو مشغول رکھنا ایک کارِ عبث ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اسے یہ جان لینا چاہئے کہ اس طرح کا منفی رویہ حماقت اور پاگل پن کے قبیل سے ہے، جب انسان کو ان باتوں کی سمجھ آجاتی ہے تو وہ اپنے دل کو ایسے منفی تفکرات سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور مستقبل میں امکانی طور پر پیش آنے والی فقر وفاقہ اور خوف وہراس کی ناپسندیدہ صورتحال کے بارے میں سوچ کر بے چین رہنے سے بچتا ہے۔ پھر وہ زندگی کی اس حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے کہ مستقبل میں جو بھی خیر وشر، امیدیں وآرزوئیں اور تکالیف وپریشانیاں پیش آنے والی ہیں وہ نا معلوم ہیں اور وہ ایک ایسی ذات کے اختیار میں ہے جو عزیز وحکیم ہے، بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنے لئے خیر و بھلائی کو حاصل کرنے اور نقصان و خسارے سے بچنے کے لئے کوشاں رہیں، اسی کے ساتھ بندہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ مستقبل کے معاملات کو لے کر جب وہ اضطراب و بے چینی سے دور رہے گا اور اصلاح احوال کے لئے اپنے رب پر بھروسہ کرے گا اور اس (مثبت فکر) میں اطمینان وسکون محسوس کرے گا تو اس سے اس کا دل بھی مطمئن رہے گا، اس کے احوال اور معاملات بھی درست ہوں گے اور اس کے غم و تفکرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

دعا کا استعمال: مستقبل میں پیش آنے والے امور ومعاملات کے تئیں مثبت رویہ اختیار کرنے کے تعلق سے سب سے زیادہ فائدہ اس دعا کا استعمال ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے: (اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِيَ الَّتِي إِلَيْهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَالْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ) (اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے اور میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے اور میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔) صحیح مسلم۔ اسی قبیل کی ایک دعائے نبوی یہ ہے: (اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ (اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں۔ سو پلک جھپکنے بھر بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات کو سدھار دے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔) (اسے ابوداود نے صحیح سند سے روایت کیا ہے)۔ جب بندہ دل کی توجہ اور سچی نیت کے ساتھ اس دعا کو جس میں اس کی دینی ودنیاوی زندگی کی درستگی کا سامان ہے، اپنی زبان پر جاری کرتا ہے اور اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اپنی کوشش بھی جاری رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبولیت عطا کرتا ہے، اس کی امید کو پوری کر دیتا ہے اور اس کی کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اسے غم وتفکرات سے نجات مل جاتی ہے اور اس کا غم، خوشی ومسرت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

فصل: بدترین احتمالات کا تخمینہ

جب بندہ کو مصائب کا سامنا ہو تو ایسی صورت میں اس کے ذہنی الجھن اور تفکرات کو دور کرنے کا سب سے زیادہ مفید نسخہ یہ ہے کہ وہ اپنی مصیبت کے احساس کو ہلکا کرنے کی اس طرح کوشش کرے کہ وہ اس بدترین امکانی صورت حال کا اندازہ لگائے جہاں تک اس پر نازل ہونے والی مصیبت کا یہ معاملہ پہنچ سکتا ہے اور اپنے نفس کو اس مصیبت کا سامنا کرنے کا عادی بنائے، پھر اس کے ساتھ ہى اپنی مصیبت کے احساس کو امکانی حد تک کم کرنے کی کوشش کرے، اس طرح مصیبت کو برداشت کرنے کی عادت ڈالنے اور اس کے ازالہ کے لئے بہتر طریقہ سے کوشش کرنے کی وجہ سے اس کے غم وتفکرات دور ہو جائیں گے، اور بندہ فوائد کے حصول اور مضرت و نقصان سے بچنے کی تگ و دو کو سہل ومیسور پائے گا۔

جب کسی بندہ کو خوف، بیماری، فقر ومحتاجی اور مختلف قسم کی پسندیدہ چیزوں سے محرومی کا سامنا ہو تو اسے اس ناموافق صورت حال کا اطمینان اور بشاشت کے ساتھ سامنا کرنا چاہئے، اپنے نفس کو ان آزمائشوں کو برداشت کرنے کا خوگر بنانا چاہئے اور اس معاملہ میں آخری حد تک صبر  وبرداشت کے دامن کو تھامے رہنا چاہئے، اس لئے کہ جب انسان کا نفس آزمائش کی سختی کو برداشت کرنے کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر وہ آزمائش اس کے لئے آسان اور قابل برداشت ہو جاتی ہے اور اسے اس کی سختی کا احساس نہیں ہوتا ہے، خاص طور پر جب بندہ اس آزمائش سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنی قدرت وصلاحیت کے بقدر ہاتھ پاؤں مارنے لگتا ہے اور اس جد وجہد میں خود کو مصروف رکھتا ہے تو اس کے حق میں دو چیزیں جمع ہو جاتی ہیں: ایک آزمائش کا سامنا کرنے کی عادت ڈال لینا۔ دوسری صحیح سمت میں اس کے لئے کوشش کرنا، اس کی وجہ سے مصائب کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی طاقت وقوت کے حصول کی خاطر اپنے نفس کو تیار کرتا ہے، علاوہ ازیں اس پورے عمل میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس کا اعتماد وبھروسہ ہوتا ہے اور وہ اپنے رب کی ذات سے خیر کی امید بھی رکھتا ہے، اس میں شک نہیں کہ خوشی ومسرت اور دلی اطمینان وسکون حاصل کرنے کے لئے اوپر بیان کیا گیا نسخہ نہایت کارآمد اور مفید ہے، اس کے علاوہ بندہ آزمائش پر اپنے رب سے اجر وثواب کی امید بھی رکھتا ہے جو اسے یا تو فوری طور پر حاصل ہو جاتا ہے یا اسے آخرت میں ملنے کی امید ہوتی ہے، یہ ایک آزمودہ بات ہے اور اس تجربہ سے گزرنے والوں کی تعداد بڑی ہے۔

فصل: دل کی قوت، اور اس میں کسی بے چینی

اور انفعالی کیفیت کا نہ ہونا

قلبی امراض جو دل کو کمزور کرتے ہیں اور اس کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، نیز جسمانی امراض کا سب سے بہترین علاج یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو کمزور نہ ہونے دے بلکہ اس کی فطری طاقت کو بحال رکھنے پر توجہ دے نیز برے اور منفی افکار و خیالات کی وجہ سے جو اوہام، ذہنی تشویش، انفعالی کیفیت اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے اس سے بچے۔ اس لئے کہ انسان جب منفی خیالات کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے اور اس کا دل خوف، امراض، غصہ اور ذہنی الجھن کے منفی اثرات سے متاثر ہونے لگتا ہے اور جب اپنے ذہن و دماغ پر اس فکر وخیال کو حاوی ہونے دیتا ہے کہ اسے عنقریب برے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اسے جو نعمتیں حاصل ہیں ان سے اسے محروم ہونا پڑ سکتا ہے تو یہ منفی سوچ اسے غم وتفکرات اور جسمانی وقلبی امراض میں مبتلا کر دیتی ہے، اس کی وجہ سے اس کے قوی کمزور پڑ جاتے ہیں اور اس کی جسمانی صحت تیزی کے ساتھ گرنے لگتی ہے، انسان کی زندگی پر اس کے بدترین اثرات مرتب ہوتے ہیں، لوگوں نے اس کے نقصانات کا بارہا مشاہدہ کیا ہے۔

اللہ پر بھروسہ: جب انسان دل سے اللہ تعالیٰ پر اعتماد وبھروسہ کرتا ہے، اوہام اور پراگندہ خیالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا ہے، اپنے اوپر برے خیالات کو حاوی نہیں ہونے دیتا ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے فضل ومہربانی کی امید رکھتا ہے تو اس کی وجہ سے غموں اور تفکرات کے بادل چھٹ جاتے ہیں، اس کی بہت سی جسمانی و قلبی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں اور دل کو ایسی طاقت، اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، کتنے ایسے شفا خانے اور اسپتال ہیں جو اوہام اور ذہنی الجھن اور برے خیالات سے متاثر مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں، کتنے ایسے طاقتور ہیں جن کے دل اس طرح کے منفی خیالات سے متاثر ہو کر کمزور ہو چکے ہیں اور جسمانی طور پر کمزور لوگوں کے دل تو اور جلدی اس سے متاثر ہوتے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو ان اوہام اور منفی خیالات کی زد میں آنے کے بعد حماقت اور جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں، ان جسمانی اور قلبی امراض سے محفوظ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عافیت بخشی ہے اور نفس کے سامنے مغلوب نہ ہونے کی توفیق وہمت عطا کی ہے تاکہ دل کو مضبوطی وقوت دینے والے مفید اسباب اسے حاصل ہوں جو اس کے ذہنی الجھن و پریشانی کا خاتمہ کر دے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿...وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۥٓ...﴾

(اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔) (سورہ طلاق: 3) یعنی اس کے دینی ودنیاوی تفکرات کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات کافی ہو جاتی ہے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ پر توکل و بھروسہ کرنے والا طاقتور دل کا مالک ہوتا ہے، اوہام اور منفی خیالات اس پر اثرانداز نہیں ہوتے ہیں، پیش آنے والے حادثات اسے بے چین و پریشان نہیں کرتے ہیں، کیوں کہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذہنی الجھن و پریشانی سے نفس کی کمزوری، گراوٹ اور وہ خوف جنم لیتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اسی کے ساتھ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر توکل وبھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مکمل طور پر کافی ہو جانے کی ضمانت دی ہے، پھر وہ بندہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے، اس کے وعدہ پر مطمئن رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کی پریشانی و بے چینی دور ہو جاتی ہے، اس کی تنگی آسانی میں، غم خوشی میں اور خوف امن و سلامتی میں بدل جاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طالب ہیں۔ اے اللہ! تو ہمیں اپنی ذات پر مکمل توکل و بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرما جس کے لئے تونے ہر خیر کی ضمانت دی ہے اور جس سے ہر برائی ونقصان کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اس کے ذریعہ ہمارے دل کو قوت و ثبات عطا فرما۔

فصل: نفس کو دوسروں کے عیوب برداشت کرنے پر آمادہ کرنا

نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: (کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے متنفر نہ ہو۔ اگر اسے اس کی کوئی خصلت بری لگتی ہے تو اس کی کوئی عادت اسے پسند بھی ہو گی۔) صحیح مسلم۔

دو عظیم الشان فائدے:

پہلا فائدہ: یہ ہے کہ بیوی، رشتہ دار، ساتھی، ملازم اور ہر وہ شخص جس کا آپ سے کوئی رشتہ وتعلق ہے، سب کے ساتھ آپ کا سلوک وبرتاؤ اچھا ہونا چاہئے، آپ کو اس بات کی عادت ڈال لینی چاہئے کہ ان تمام اہل تعلق میں کوئی عیب، کمی یا ناپسندیدہ خصلت یقینی طور پر ہوگی۔ آپ اس کمی اور عیب کا موازنہ اس کی ان خوبیوں سے کیجئے جن کی وجہ سے آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان کے ساتھ اپنا مضبوط رشتہ باقی رکھیں اور اپنی محبت والفت کو کم نہ ہونے دیں، کیوں کہ ان تمام اہل تعلق کے ساتھ جو رشتہ وجود میں آتا ہے وہ عمومی وخصوصی دونوں طرح کے مقاصد پر مبنی ہوتا ہے، اسی طرح عیوب اور کمیوں سے چشم پوشی کرنے اور محاسن وخوبیوں پر نظر رکھنے سے تعلق وصحبت کو دوام حاصل ہوتا ہے اور آپ ذہنی و فکری طور پر راحت و سکون محسوس کرتے ہیں۔

دوسرا فائدہ: یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث نبوی پر عمل کرنے سے فکر اور الجھن و بے چینی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، طرفین کے درمیان بے لوث محبت باقی رہتی ہے، دونوں طرف سے مستحب اور واجب حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس طرح طرفین کو راحت و سکون میسر آتا ہے، جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے رہنمائی حاصل نہیں کرتا ہے، بلکہ اس کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو حدیث میں بیان کیا گیا ہے، وہ صرف عیوب اور کمیوں پر نظر رکھتا ہے اور اچھائیوں وخوبیوں سے آنکھیں بند کر لیتا ہے تو وہ یقینی طور پر ذہنی اضطراب وبے چینی کا شکار ہوتا ہے، اس کے اور اہل تعلق کے درمیان محبت کا رشتہ یقینی طور پر مکدر ہو جاتا ہے اور جن باہمی حقوق کی حفاظت طرفین کے لئے ضروری تھی ان میں سے بیشتر حقوق پامال ہو کر رہ جاتے ہیں۔

بہت سے بلند ہمت افراد بڑے سانحے اور مصائب کے وقت صبر واطمینان کا مظاہرہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ لیکن معمولی اور ہلکی پھلکی تکلیف پہنچنے پر بے چین ہو جاتے ہیں اور ان کی آپسی محبت وخلوص میں تلخی و کڑواہٹ آجاتی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے بڑے حادثات کے وقت تو صبر وبرداشت کی عادت ڈال رکھی ہے‘ لیکن چھوٹے معاملات کا دانشمندی اور خوش اسلوبی سے سامنا کرنے کے لئے اپنی تربیت نہیں کی ہے، چنانچہ یہ چھوٹے معاملات ان کے لئے نقصان ومضرت کا باعث بنتے ہیں اور ان کا چین وسکون چھین لیتے ہیں۔ عقلمند انسان وہی ہے جو بڑے اور چھوٹے ہر طرح کے معاملات کا سامنا کرنے کے لئے اپنی تربیت کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرتا ہے کہ الہی مدد اس کے شامل حال رہے اور اللہ تعالیٰ ایک لمحہ کے لئے بھی اسے اس کے نفس کے حوالہ نہ کرے، تب اس کے لئے بڑے معاملات کی طرح چھوٹے معاملات سے نمٹنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ ہر حال میں دلی اطمینان وسکون اور آرام وراحت کے ساتھ جیتا ہے۔

 


فصل: غم وفکر کے پیچھے بھاگنے سے اپنے آپ کو روکنا

عقلمند انسان یہ جانتا ہے کہ اس کی اصل زندگی اطمینان اور بے فکری کی زندگی ہے اور یہ زندگی بہت مختصر ہے، لہذا بلا وجہ کے تفکرات اور زندگی کے چین وسکون کو غارت کرنے والے عوامل کو ڈھیل دے کر زندگی کے خوشگوار لمحات کو مزید مختصر کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ اطمینان وسکون اس زندگی کے برخلاف ہے جس کا انسان متلاشی ہوتا ہے، کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہتا کہ اس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ تفکرات اور بدمزگی کی نذر ہو جائے۔ اس معاملہ میں نیک اور بد انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، لیکن مومن کو اس طرح کے تفکرات سے پاک زندگی گزارنے کے معاملہ میں زیادہ کامیابی حاصل ہوتی ہے اور اسے دیر یا سویر اس طرح کی مطمئن زندگی کا زیادہ نفع بخش حصہ ہاتھ لگتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اسے لاحق ہونے والے ناگوار امر کا موازنہ: جب کسی کو کوئی مصیبت یا ناپسندیدہ صورت حال کا سامنا ہو یا اسے کسی طرح کا خوف لاحق ہو تو اسے حاصل شدہ دینی و دنیاوی نعمتوں اور درپیش ناموافق صورت حال کے درمیان موازنہ کرنا چاہئے، اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اسے جو نعمتیں حاصل ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اور ان کے مقابلہ میں درپیش مصیبتیں اور آزمائشیں بہت معمولی ہیں۔

اسی طرح ایک عقلمند انسان ممکنہ طور پر لاحق ہونے والے نقصانات کے خوف واندیشہ کا موازنہ ان بہت سارے امکانی نقصانات سے کرتا ہے جن سے محفوظ رہنے کے امکانات بہت روشن ہوتے ہیں تو وہ موہوم اور کمزور امکان واحتمال کو مضبوط اور کثیر امکانات پر غالب آنے کا موقع نہیں دیتا ہے، اس سے اس کے تفکرات اور خوف کی کیفیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے، وہ اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے امکانی نقصانات کیا ہیں جو اسے پہنچ سکتے ہیں، اگر ان میں سے کوئی نقصان سامنے آ جاتا ہے تو اس کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے، ان امکانی نقصانات میں سے جو ابھی لاحق نہیں ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جو نقصان لاحق ہو چکا ہے اس سے چھٹکارا پانے یا اس کی شدت کو کم کرنے کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔

لوگوں کی ایذا رسانی کا وبال انہی پر ہے، جب تک آپ اس میں مشغول نہ ہوں: نفع بخش باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ اگر لوگ بری باتوں کے ذریعہ آپ کو اذیت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا نقصان آپ کو نہیں بلکہ خود انہیں پہنچے گا، آپ کو اس کا نقصان اس صورت میں پہنچے گا جب آپ لوگوں کی باتوں کو اہمیت دیں گے اور انہیں اپنے حواس وجذبات پر حاوی ہونے کا موقع فراہم کریں گے تب لوگوں کی وہ بری باتیں آپ کے لئے بھی نقصاندہ ہوں گی جیسا کہ خود ان کے لئے نقصاندہ ثابت ہوئیں۔ اگر آپ لوگوں کی لایعنی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیں گے تو آپ کو اس کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

آپ اپنی زندگی کو نفع بخش افکار سے خوشگوار بنائیں، آپ یہ بات جان لیں کہ آپ کی زندگی آپ کی سوچ وفکر کے تابع ہے، اگر آپ کی فکر دینی ودنیاوی اعتبار سے آپ کے لئے فائدہ مند ہوگی تو آپ کی زندگی بھی عمدہ اور خوش گوار ہوگی، ورنہ اس کے برعکس ہوگی۔

یہ کہ معاملہ اللہ کے لئے ہو، مخلوق کے لئے نہیں: غم و فکر کو دور رکھنے کا سب سے نفع بخش طریقہ یہ ہے کہ آپ صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے اچھے عمل کا بدلہ واجر پانے کی امید رکھیں اور یہ فکر کریں کہ وہ عمل اللہ تعالیٰ کو پسند آجائے اور اس کی بارگاہ میں قبول ہو جائے، جس کا آپ پر حق ہے یا جس کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے، ان میں سے جس کے ساتھ بھی آپ کوئی بھلائی کریں تو اس کے تعلق سے یہ واضح رہے کہ یہ آپ کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، لہذا آپ نے جس کے ساتھ احسان کیا ہے اس کے شکریہ کی پرواہ نہ کریں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کے تعلق سے ارشاد فرمایا ہے:

﴿إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمۡ جَزَآءٗ وَلَا شُكُورًا9﴾

ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری۔ (سورہ انسان: 9)۔

یہ پہلو اس وقت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے جب انسان اپنے اہل وعیال اور قریبی تعلق والوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، جب آپ ان لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور شر کو ان سے دور کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں تو آپ ان رشتہ داروں کو بھی آرام پہنچاتے ہیں اور خود بھی آرام وراحت محسوس کرتے ہیں، حصول راحت کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ فضائل اور اچھے کاموں کو منتخب کرکے ان پر عمل کیا جائے، اس کے لئے اندرونی جذبہ کافی ہے، اس میں تکلف کا کوئی کام نہیں ہے کیونکہ اس سے پریشانی محسوس ہوتی ہے۔ آپ مقام ومرتبہ سے نا امید ہو کر زندگی کے راستہ پر چلنے کا خود کو عادی بنائیں کیونکہ زندگی کی راہ پیچیدہ ہے جس پر آپ کو چلنا ہے، یہی حکمت پر مبنی روش ہے، آپ زندگی کی نامناسب و ناموافق چیزوں کو موافق اور لذت آفریں بنانے کی کوشش کریں، اس سے زندگی کی لذت میں اضافہ ہوگا اور بدمزگی دور ہوگی۔

نفع بخش امور میں مشغولیت، نقصاندہ امور سے اجتناب: آپ نفع بخش چیزوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں، آپ نقصاندہ چیزوں کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھیں تاکہ غم وتفکرات کو دعوت دینے والے اسباب وعوامل سے آپ کو سابقہ نہ پڑے، اس معاملہ میں ذہنی راحت وآرام کا احساس اور بڑے کاموں کو انجام دینے کے لئے دلچسپی و دلجمعی کی کیفیت آپ کے لئے ممد ومعاون ہوگی۔

کاموں کو وقت پر نمٹانا: زندگی میں فائدہ پہنچانے والی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر دن کے کاموں کو نمٹاتے رہیں تاکہ اگلے دن کے کاموں کو انجام دینے کے لئے آپ فارغ رہیں، اس لئے کہ جب ہر دن کے کاموں کو نمٹایا نہیں جائے گا تو پچھلے دنوں کے باقی کام اور آنے والے دنوں کے کام سب جمع ہوتے چلے جائیں گے جس کی وجہ سے ان کاموں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو جائے گا، جب آپ ہر کام کو اس کے وقت پر انجام دیں گے تو مستقبل کے کاموں کو انجام دینے کے لئے آپ کے پاس نئی قوت فکر اور کام کرنے کا نیا جوش وجذبہ موجود رہے گا۔

ترجیحات کی ترتیب مشورے کے ساتھ: یہ بھی ضروری ہے کہ آپ مفید کاموں کی ایک ترتیب بنائیں، ان میں جو سب سے زیادہ اہم ہو اس کو پہلے انجام دیں، پھر اس کے بعد جو اہم ہو اس کو انجام دیں، کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کو کرنے کی طرف آپ کا دل مائل ہوتا ہے اور کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جنہیں انجام دینے کی آپ کے اندر شدید چاہت ورغبت ہوتی ہے، ان دونوں طرح کے کاموں کے درمیان آپ فرق کریں اور سب سے پہلے ان کاموں کو انجام دیں جن کو کرنے کی شدید چاہت آپ کے اندر موجود ہو، اس لئے کہ اگر آپ اس کے برخلاف کریں گے تو اس کی وجہ سے اکتاہٹ وبیزاری پیدا ہوگی، اس کے لئے آپ صحیح فکر اور باہمی صلاح ومشورہ کی مدد لیں۔ جو شخص اپنے خیر خواہوں سے مشورہ لیتا رہتا ہے اسے کبھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے، آپ جس کام کو انجام دینا چاہتے ہیں اس کا باریکی سے مطالعہ کریں، جب اس کی افادیت ثابت ہو جائے اور آپ اسے انجام دینے کا عزم کر لیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کریں، اللہ تعالیٰ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔نیز درود وسلام نازل ہو ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کی آل اور آپ کے تمام اصحاب پر۔

فہرست

 

فصل: ایمان اور عمل صالح 3

فصل: عمل صالح کی انجام دہی یا علم نافع کے حصول میں لگے رہنا 13

فصل: اللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر۔ 17

فصل: غموں کو دعوت دینے والے اسباب کے ازالہ اور خوشی و مسرت سے ہمکنار کرنے والے اسباب کے حصول کی کوشش 20

فصل: بدترین احتمالات کا تخمینہ 23

فصل: دل کی قوت، اور اس میں کسی بے چینی اور انفعالی کیفیت کا نہ ہونا 25

فصل: نفس کو دوسروں کے عیوب برداشت کرنے پر آمادہ کرنا 28

فصل: غم وفکر کے پیچھے بھاگنے سے اپنے آپ کو روکنا 31

***