PHPWord

 

 

دَفْنُ المَوتَى فِي المَسَاجِدِ

 

 

مسجدوں میں مردوں کی تدفین

 

 

لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ

رَحِمَهُ اللهُ

 

تالیف سماحۃ الشیخ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

گیارہواں کتابچہ :

مساجد میں مردوں کو دفن کرنا

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، اور آپ کى آل اور آپ کے راستے پر چلنے والوں پر، اما بعد:

میں نے ١٧/ ٤ / ١٤١٥ھ کو شائع ہونے والے اخبار «الخرطوم» کا مطالعہ کیا؛ تو میں نے پایا کہ اس میں یہ بیان شائع ہوا ہے کہ سید محمد الحسن ادریسی کو ان کے والد کے پہلو میں ان کى مسجد میں ام درمان شہر میں دفن کیا گیا ہے... وغیرہ۔

اور چونکہ اللہ نے مسلمانوں کو نصیحت کرنے اور منکر کا انکار کرنے کا وجوبی حکم دیا ہے، اس لیے میں نے یہ تنبیہ ضروری سمجھی کہ مسجدوں میں دفن کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ شرک کے وسائل اور یہود ونصاری کے اعمال میں سے ہے جن پر اللہ نے مذمت کی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے، جیسا کہ صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»، "یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا"۔ صحیح مسلم میں جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ؛ فَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ». ’’خبر دار! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تھا، خبردار! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس سے روکتا ہوں۔‘‘ اور اس معنى کی حديثيں کثیر تعداد میں وارد ہوئی ہیں۔

مسلمانوں پر ہر جگہ ـ حکومتی اور عوامی سطح پر ـ واجب ہے کہ اللہ سے ڈریں، اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے بچیں، اور اپنے مردوں کو مساجد کے باہر دفن کریں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ ـ رضی اللہ عنہم ـ مردوں کو مساجد کے باہر دفن کرتے تھے، اور اسی طرح صحابہ کے سچے پیروکار بھی کرتے تھے۔

اور جہاں تک نبی ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کا مسجد میں موجود ہونے کی بات ہے، تو یہ مساجد میں مردوں کو دفن کرنے کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ کو آپ کے گھر، یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن کیا گیا تھا، پھر آپ کے دونوں صحابہ بھی وہیں دفن کیے گئے۔ جب ولید بن عبد الملک نے مسجد کی توسیع کی تو ہجرت کے پہلے سو سال کے اختتام پر حجرہ عائشہ کو مسجد میں شامل کر لیا۔ اہل علم نے اس پر نکیر کی، لیکن اس نے سمجھا کہ یہ توسیع میں مانع نہیں ہے اور معاملہ واضح ہے، کوئی اشتباہ نہیں ہوگا۔

اور اس سے ہر مسلمان پر واضح ہو جاتا ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما مسجد میں دفن نہیں کیے گئے تھے، اور توسیع کی وجہ سے ان کى قبروں کا مسجد میں داخل کردینا، یہ مساجد میں دفن کرنے کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا؛ کیونکہ وہ مسجد میں مدفون نہیں تھے، بلکہ وہ آپ ﷺ کے گھر میں مدفون ہوئے تھے، اور ولید کا عمل اس معاملے میں کسی کے لئے حجت نہیں بن سکتا، بلکہ حجت کتاب و سنت اور سلف امت کے اجماع میں ہے، رضی اللہ عنہم، اللہ ہمیں بھلائى کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل فرمائے۔

اور نصیحت و بری الذمہ ہونے کے لیے، بتاریخ ١٤/ ٥/ ١٤١٥ ہجری یہ تحریر کیا گیا۔

توفیق کا مالک اللہ ہی ہے۔ اور درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد پر، اور آپ کى آل اور آپ کے صحابہ نیز اچھائى کے ساتھ ان کى اتباع کرنے والوں پر۔

 

 

***