PHPWord

 

 

 

فَضْلُ عَشْرِ ذِي الحِجَّةِ

 

عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت

 

اللَّجْنَةُ العِلْمِيَّةُ

بِرِئَاسَةِ الشُّؤُونِ الدِّينِيَّةِ بِالمَسْجِدِ الحَرَامِ وَالمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ

 

مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کی صدارت کے ما تحت علمی کمیٹی

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت

مقدمہ

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، اور درود وسلام ہو اُس ہستی پر جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، نیز آپ کے اہلِ بیت، صحابہ کرام، اور قیامت تک آنے والے ان تمام لوگوں پر جو آپ کی سنت پر چلیں اور آپ کی ہدایت کی پیروری کریں۔ اما بعد:

یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل کے بارے میں وہ اہم باتیں شامل ہیں جن کی ایک مسلمان کو ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے اسے حرمین شریفین کی زیارت کرنے والے حضرات وخواتین کے لیے جمع کیا ہے، تاکہ وہ اپنے دینی احکام سے آگاہی اور بصیرت حاصل کر سکیں۔ ہم کریم ومنان اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سے نفع پہنچائے،اسے مقبول بنائے‘ اسے اپنی رضا کے لیے خاص کر لے؛ بے شک وہ بہترین مانگا جانے والا اور سب سے زیادہ سخی امید کیا جانے والا ہے۔

علمی کمیٹی جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات

 

 

***

 


عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل :

ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن میں اور اللہ کے نبی محمد ﷺ نے اپنی سنت میں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ یہی وہ ایام ہیں جن کی قسم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یوں کھائی ہے:

﴿وَٱلۡفَجۡرِ 1 وَلَيَالٍ عَشۡر2

(قسم ہے فجر کی!* اور دس راتوں کی!) [الفجر: ۱- ۲]، اس سے مراد ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، جیسا کہ ابن عباس، ابن زبیر، مجاہد، ابن کثیر، ابن القیم اور دیگر سلف و خلف نے بیان کیا ہے1۔

یہ وہ ایام ہیں جن میں کیا جانے والا نیک عمل اللہ کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ افضل ہے؛ جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَٰلِكَ بِشَيْءٍ». "ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہيں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "نہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ سوائے اس شخص کے جو جان اور مال کے ساتھ نکلتا ہو اور پھر ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آتا ہو۔"2

ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں میں نیک اعمال کے فضائل:

1. حج اور عمرہ کی ادائیگی: یہ دونوں عبادتیں ان دس دنوں کے بہترین اعمال میں سے ہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: «مَن حَجَّ هَذَا الْبَيْتِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». "جو شخص اس گھر کا حج کرے اور نہ فحش کام کرے اور نہ ہی فسق وفجور میں مبتلا ہو تو وہ ایسے گناہوں سے پاک واپس ہوگا جیسے اسے آج ہی اس کی ماں نے جنم دیا ہو" اور صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: «مَن أَتَى هَذَا الْبَيْتِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ؛ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». "جو شخص (اللہ) کے اس گھر میں آیا، نہ کوئی فحش گوئی کی اور نہ گناہ کیا تو وہ (گناہوں سے پاک ہوکر) اس طرح لوٹے گا جس طرح اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا"3 آپ ﷺ کا یہ فرمان (جو اس گھر (کعبہ) کے پاس آئے) اس کے مفہوم میں حج اور عمرہ دونوں شامل ہیں، الحمد للہ۔ نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ». "ایک عمرہ دوسرے عمرے کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حج مبرور (مسنون ومقبول حج) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔"4

2. ابتدائی نو دنوں کے روزے یا جتنے روزے ممکن ہو؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرِ»، "ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیک عمل کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں میں نیک عمل کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ روزہ نیک اعمال میں سے ایک عظیم ترین عمل ہے، نبی کریم ﷺ نے اس پر ابھارا ہے اور اس کی رغبت دلائی ہے، اس کی ایک مثال نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا». "جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس ایک دن کے بدلے میں اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور کر دیتا ہے۔"5

3. یوم النحر (10 ذو الحجہ) اور ایامِ تشریق (11، 12، 13 ذو الحجہ) میں قربانی کرنا مشروع ہے، آپ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے: «ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا». "دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔"6

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، وَإِنَّهُ لَيُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِي الْأَرْضِ، فَطَيِّبُوا بِهَا نَفْسًا». "قربانی کے دن اللہ کے نزدیک ابن آدم کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کُھروں کے ساتھ لائے جائیں گے، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو۔"7

جب ذو الحجہ کے ابتدائی دس دن شروع ہو جائیں، تو جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے بال اور جلد نہ کاٹے؛ کیونکہ امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ؛ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ». "جب تم ذو الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے" ایک اور روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «... فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ». "... تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔"8

4. ان دس دنوں اور ایامِ تشریق میں تکبیر کہنا، 'لا إله إلا الله' پڑھنا اور دیگر اذکار کرنا؛ جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمَ عِندَ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرِ، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ: مِنَ التَّهْلِيلِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّحْمِيدِ». "اللہ کے نزدیک کوئی دن ان دس دنوں (ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں) سے بڑھ کر عظمت والے اور نیک اعمال کے لیے زیادہ محبوب نہیں، لہٰذا ان دنوں میں 'لا إله إلا الله' (تہلیل)، 'الله أكبر' (تکبیر) اور 'الحمد لله' (تحمید) کثرت سے پڑھا کرو۔"9۔

تکبیر کی دو قسمیں ہیں جو اس طرح ہیں:

پہلی قسم: تکبیر مطلق، جو نمازوں کے بعد مقید نہیں؛ بلکہ ہر وقت مشروع ہے۔

تکبیر مطلق کا آغاز عید الاضحی میں عشرۂ ذی الحجہ کے پہلے دن سے ہوتا ہى اور ایام تشریق کے آخری دن تک رہتا ہے: یہ تکبیر ہر وقت رات میں، دن میں، راستے میں، بازاروں میں، مساجد میں، گھروں میں، اور ہر ایسی جگہ جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر جائز ہو‘ کہی جا سکتی ہے۔

دوسری قسم: تکبیر مقید: یہ خاص طور پر عید الاضحیٰ کے موقع پر فرض نمازوں کے بعد کہی جاتی ہے، اس کا وقت اور طریقہ کار درج ذیل ہے:

اولاً : تکبیر مقیّد کا آغاز عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعد سے ہوتا ہے، اور ایامِ تشریق کے تیسرے دن (یعنی 13 ذو الحجہ) کی عصر کی نماز کے بعد ختم ہوتا ہے۔ یہ حکم غیر حاجیوں کے لیے ہے، جبکہ حاجیوں کے لیے تکبیر مقید کا آغاز یوم النحر (10 ذو الحجہ) کی ظہر کی نماز سے ہوتا ہے۔

ثانيًا : تکبیر کہنے کا طریقہ یہ ہے: (اللَّه أكبر، اللَّه أكبر، لا إله إلا اللَّه، واللَّه أكبر اللَّه أكبر ولله الحمد) یعنی : "اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔"10

5. حاجی کے علاوہ دیگر افراد کے لیے نمازِ عید کی ادائیگی کا اہتمام کرنا، اس کے لیے جلدی جانا اور خطبہ سننا (مشروع ہے)؛ کیونکہ یہ اسلام کے عظیم ترین شعائر میں سے ہے؛ اس کی عظمتِ شان کی وجہ سے کنواری اور حائضہ خواتین کو بھی عید گاہ میں حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: «كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ حَتَّى نَخْرُجَ الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا، حَتَّى نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ، وَيَدْعُونَ بِدَعَائِهِمْ، وَيَرْجُونَ بَرَكَةَ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَطَهَارَتِهِ». "(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ) ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن گھر سے نکلیں، حتی کہ پردہ نشیں کنواری لڑکیوں اور حائضہ عورتوں کو بھی گھروں سے بر آمد کریں، چنانچہ وہ مردوں کے پیچھے رہتیں، ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں، نیز مردوں کی دعا کے ساتھ دعائیں مانگتیں اور اس دن کی برکت اور طہارت کی امید رکھتی تھیں۔"۔

ایک روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّىٰ الْمُسْلِمِينَ». "اور حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ نمازيوں کی جگہ سے ہٹ کر بیٹھیں"11

6. زیادہ سے زیادہ اعمالِ صالحہ اور نفل عبادات کا اہتمام کرنا: جیسے نماز پڑھنا، صدقہ دینا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، اور اس کے علاوہ دیگر نیک اعمال انجام دینا، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا عمومی ارشاد ہے: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَٰلِكَ بِشَيْءٍ». "ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہيں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: "نہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو جان اور مال کے ساتھ نکلتا ہو اور پھر ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آتا ہو۔"12

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں جو علم دیا ہے اس سے ہمیں نفع پہنچائے، اور ہمیں وہ علم عطا فرمائے جو ہمارے لیے نفع بخش ہو، یقینا وہ نہایت سخی اور کرم والا ہے، اور درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ اور آپ کی آل پر، اور بہت زیادہ سلامتی ہو۔

 

 

***

فہرست

 

مقدمہ 2

عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل : 4

ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں میں نیک اعمال کے فضائل: 5

 

***

 


اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور الفاظ ترمذی کے ہیں۔

متفق علیہ

متفق علیہ

متفق علیہ

متفق علیہ

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

صحیح مسلم

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

دیکھیے: المغني لابن قدامة (290/3)، اور الشرح الكبير مع المقنع والإنصاف (380/5)

متفق علیہ

اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر (106/4)، زاد المعاد (56/1)