PHPWord

 

 

 

ثَلَاثَةُ الأُصُولِ وَأَدِلَّتُهَا

 

 

تین بنیادی باتیں اور ان کے دلائل

 

 

 

لِلشَّيْخِ

مُحَمَّدٍ التَّمِيمِي رَحِمَهُ اللهُ

 

 

 

فضیلۃ الشیخ محمد تمیمی رحمہ اللہ

 

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ ہم پر درج ذیل چار مسائل کا علم حاصل کرنا واجب ہے:

پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ، اس کے نبی ﷺ اور اس کے دین یعنی اسلام کو دلائل کے ساتھ جاننا۔

دوسرا مسئلہ: علم پر عمل پیرا ہونا۔

تیسرا مسئلہ: اس (دین اسلام) کی طرف دعوت دینا۔

چوتھا مسئلہ: دعوت دین میں پیش آمدہ مشکلات ومصائب پر صبر واستقامت اختیار کرنا،اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

﴿وَٱلۡعَصۡرِ1 إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ2 إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ3﴾

" زمانے کی قسم۔ بے شک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی"۔ [العصر: 1-3]

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر بطور حجت صرف اسی ایک سورت کو نازل فرماتا، تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوتی۔“

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: باب: قول اور عمل سے قبل حصول علم کا بیان؛ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ..." (محمد:9)، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قول وعمل سے پہلے علم کو ذکر کیا۔

اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، یہ بات بھی اچھی طرح جان لیں کہ مندرجہ ذیل تین مسائل کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے:

پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا، رزق عطا فرمایا اور یوں ہی ہمیں بے کار نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ہماری طرف اپنا رسول بھیجا، چنانچہ جس نے آپ ﷺ کی اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے آپ ﷺ کی نافرمانی کی وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿إِنَّآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ رَسُولٗا شَٰهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ رَسُولٗا15 فَعَصَىٰ فِرۡعَوۡنُ ٱلرَّسُولَ فَأَخَذۡنَٰهُ أَخۡذٗا وَبِيلٗا16﴾

" بے شک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا"۔ [المزمل: 15-16]

دوسرا مسئلہ: اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے، نہ کسی مقرب فرشتہ کو اور نہ کسی نبی مرسل کو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا18﴾

" اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو"۔ [الجن: ۱۸]

تیسرا مسئلہ: جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرماں برداری کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کو تسلیم کیا، اس کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کا ناطہ رکھے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دشمنی رکھتے ہوں؛ خواہ وہ دنیوی رشتے کے اعتبار سے کتنے ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہوں۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ22﴾

" اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں ، یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں، آگاه رہو! بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے"۔ [المجادلہ: 22]۔

یہ بات جان لو - اللہ آپ کی اپنی اطاعت وفرماں برداری کی طرف رہنمائی فرمائے - کہ حنیفیت ( یعنی ملتِ ابراہیمی ) یہ ہے کہ آپ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کریں، اسی کام کا اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو حکم دیا ہے اور اسی غرض سے انھیں پیدا فرمایا ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ56﴾

" میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں". (الذاریات: 56)، ’يَعْبُدُونِ‘ کا معنی ہے ’يُوَحِّدُونِ‘، یعنی خالص ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کو ایک جاننا۔

اللہ تعالیٰ نے جن امور کا حکم دیا ہے، ان میں سب سے ارفع واعلٰی ”توحید“ ہے، جو ہر قسم کی عبادات صرف اللہ واحد کے لیے بجا لانے کا دوسرا نام ہے۔

اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، ان میں سب سے بڑا شرک ہے، جو غیر اللہ کو اپنی ندا ودعا میں اس کے ساتھ شامل کرلینے کا دوسرا نام ہے۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿وَٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗا...﴾

" اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو..." [النساء: 36]

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ وہ کون سے تین اصول ہیں، جن کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان پر واجب وضروری ہے؟

تو کہہ دیجیے: بندے کا اپنے رب، اپنے دین اور اپنے نبی محمد ﷺ کی معرفت حاصل کرنا۔

پہلی بنیادی بات

اگر آپ سے استفسار کیا جائے کہ آپ کا رب کون ہے؟

تو آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب اللہ ہے، جس نے اپنے فضل وکرم سے میری اور تمام جہانوں کی پرورش وپرداخت کی، وہی میرا معبود ہے، اس کے سوا میرا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔ دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ2﴾

"سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے"۔ [الفاتحہ: 2]۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کے سوا ہر چیز عالَم (جہاں) ہے اور میں اس عالَم کا ایک فرد ہوں۔

اگر آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے اپنے رب کو کس چیز کے ذریعے پہچانا؟

تو کہہ دیجیے کہ اس کی نشانیوں اور اس کی مخلوقات کے ذریعے سے۔

اس کی نشانیوں میں سے رات‘ دن‘ سورج اور چاند بھی شامل ہیں۔

اور اس کی مخلوقات میں ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے، اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اندر ہے، اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے‘ سب شامل ہیں۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

﴿وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلَّيۡلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُۚ لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ ٱلَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ37﴾

" اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو". [الفصلت: ۳۷]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ54﴾

"بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے"۔ [الاعراف: 54]

رب سے مراد معبود ہے۔ دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ21 ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فِرَٰشٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ فَلَا تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ22﴾

" اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو"۔ [البقرۃ: 21-22]۔

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ان تمام مذکورہ اشیا کا خالق (پیدا کرنے والا) ہی ہر قسم کی عبادت کا صحیح حق دار ہے۔“

اللہ تعالیٰ نے جن انواع واقسام کی عبادت کو بجالانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اسلام، ایمان، احسان؛ اور ایسے ہی دعا، خوف، امید، توکل، رغبت، رہبت (ڈر)، خشوع، خشیت، رجوع، مدد طلبی، پناہ طلبی، استغاثہ، ذبح وقربانی اور نذر ومنت، اور ان کے علاوہ اور بھی عبادتیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ یہ ساری عبادتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا18﴾

" اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو"۔ [الجن: ۱۸]

چنانچہ جس نے ان میں سے کوئی بھی عبادت غیر اللہ کے لیے کی، وہ مشرک وکافر ہے۔ دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿وَمَن يَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرۡهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ117﴾

" جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں"۔ [المؤمنون : 117]۔

اور حدیث میں آیا ہے: "الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ". ”دعا عبادت کا مغز (اصل) ہے“۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ60﴾

" اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے"۔ [غافر: 60]

خوف کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿...فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ﴾

"... تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو"۔ [آل عمران: 175]

امید ورجا کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿...فَمَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدَۢا﴾

"... تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے"۔ [الکہف: 110]

توکل کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿...وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ﴾

"اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے"۔ [المائدۃ: 23] مزید ارشاد ہے:

﴿...وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُ...﴾

" اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا"۔ [الطلاق: ۳]

رغبت و رہبت اور خشوع کے عبادت ہونے کی دلیل یہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿...إِنَّهُمۡ كَانُواْ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَيَدۡعُونَنَا رَغَبٗا وَرَهَبٗاۖ وَكَانُواْ لَنَا خَٰشِعِينَ﴾

" ... یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے"۔لانبیاء: 90]

خشیت کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿...فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِ...﴾

" ... سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو... [المائدۃ: 3]۔

انابت اور رجوع کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَأَنِيبُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَأَسۡلِمُواْ لَهُ...﴾

" تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ... [الزمر: 53]

استعانت کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ5﴾

" ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں"۔ [الفاتحہ: 5]، حدیث پاک میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: "إِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ". ’’جب تم مدد طلب کرو، تو اللہ تعالیٰ سے طلب کرو‘‘

استعاذہ (پناہ طلبی) کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1﴾

" آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں". [الفلق: ۱]، اور یہ بھی اس کی دلیل ہے:

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1﴾

" آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں"۔ [الناس: ۱]

استغاثہ کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿إِذۡ تَسۡتَغِيثُونَ رَبَّكُمۡ فَٱسۡتَجَابَ لَكُمۡ...﴾

" اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی... [الانفال:9].

ذبح وقربانی کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ162 لَا شَرِيكَ لَهُ...﴾

" آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں... [الأنعام : 162-163]۔ اور سنت سے اس کی دلیل یہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: "لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ". ’’جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔‘‘

نذر کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿يُوفُونَ بِٱلنَّذۡرِ وَيَخَافُونَ يَوۡمٗا كَانَ شَرُّهُۥ مُسۡتَطِيرٗا7﴾

" جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے"۔ [الانسان: 7]۔

دوسری بنیادی بات

دین اسلام کو دلائل کے ساتھ جاننا۔ اسلام، توحید کے ذریعے اللہ کے سامنے خود سپردگی، اطاعت کے ذریعے اس کی فرماں برداری اور شرک ومشرکین سے براءت کا نام ہے۔

دین کے تین مراتب ہیں: اسلام، ایمان اور احسان۔

ہر مرتبے کے کچھ ارکان ہیں۔

اسلام کے پانچ ارکان ہیں: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور بیت اللہ شریف کا حج کرنا۔

گواہی کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ18﴾

"اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں"۔ [آل عمران:18].

اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

(لا الہ) میں اللہ کے سوا ان تمام چیزوں کی نفی ہے، جن کی عبادت ہوتی ہے۔

إلا اللّہ: عبادت صرف ایک اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔

اس کی عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح اس کی بادشاہت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔

اس شہادت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کر رہا ہے:

﴿وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦٓ إِنَّنِي بَرَآءٞ مِّمَّا تَعۡبُدُونَ26 إِلَّا ٱلَّذِي فَطَرَنِي..﴾

" اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے.. [الزخرف: 26-27]، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ64﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں"۔ [آل عمران: 64]

اس بات کی شہادت کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں‘ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ128﴾

" تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے‘ جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں‘ ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں"۔ [التوبہ : 128]۔

محمد رسول اللہ کی شہادت کا معنی یہ ہے: آپ کے حکم کی اطاعت، آپ کی خبر کی تصدیق، آپ کی ممانعت سے اجتناب، اور یہ کہ آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کی جائے۔

نماز، زکٰوۃ اور توحید کی تفسیر کی مشترکہ دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ5﴾

" انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں۔ یہی ہے دین سیدھی ملت کا"۔ [البینۃ:5]

رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ183﴾

" اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو"۔ [البقرہ: 183]

بیت اللہ کا حج کرنے کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ97﴾

" اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے"۔ (آل عمران:97)۔

دوسرا مرتبہ: ایمان؛ اس کی ستر سے بھی زیادہ شاخیں ہیں، جن میں سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور سب سے ادنٰی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

ایمان کے چھ ارکان ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا۔

ایمان کے ان چھ ارکان کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ہے:

﴿لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ...﴾

"ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو... [البقرۃ: ۱۷۷]۔

تقدیر پر ایمان کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:

﴿إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ49﴾

" بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے"۔ [القمر: 49]۔

تیسرا مرتبہ: احسان - یہ ایک ہی رکن ہے - اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اللہ کی اس طرح عبادت کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ تصور نہیں کرسکتے تو اتنا تو خیال ضرور رکھیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحۡسِنُونَ128﴾

" یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے"۔ [النحل: 128]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ217 ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ218 وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّٰجِدِينَ219﴾

" اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ۔ جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے۔ اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی"۔ [الشعراء: ۲۱۷- ۲۱۹]۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا تَكُونُ فِي شَأۡنٖ وَمَا تَتۡلُواْ مِنۡهُ مِن قُرۡءَانٖ وَلَا تَعۡمَلُونَ مِنۡ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُودًا إِذۡ تُفِيضُونَ فِيهِ...﴾

" اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو..." [یونس: 61] پورى آیت۔

اور سنت سے دلیل مشہور حدیث جبریل ہے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:"ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا، جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے، اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے قریب بیٹھ گیا، اس نے اپنے دونوں گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر رکھ لیے اور کہا: اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں، رمضان کے روزے رکھیں، اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کریں۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا؛ تو ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ ان سے سوال بھی کرتا ہے اور ان کی تصدیق بھی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا: آپ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟

آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائیں اور تقدیر کے اچھی اور بری ہونے پر ایمان لائیں، فرمایا: آپ نے سچ کہا۔

انہوں نے کہا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ فرمایا: آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کریں گویا کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہوں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ کیفیت ضرور ہونی چاہیے کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

عرض کیا: پھر مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟

آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا: پھر آپ ﷺ مجھے اس کی علامات کے بارے میں بتائیے؟

آپ نے فرمایا: یہ کہ باندی اپنی مالکہ کو جنم دے، اور یہ کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر ونادار بکری چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ بلند وبالا عمارتیں بنوانے میں ایک دوسرے سے بڑھنے لگیں۔

پھر وہ چلا گیا اور میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جبریل (علیہ السلام) تھے، جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آئے تھے"۔

 


تیسری بنیادی بات

اپنے نبی محمد ﷺ کی معرفت۔ آپ کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ہے۔ بنی ہاشم قبیلہ قریش سے اور قریش عرب سے اور عرب حضرت اسماعیل بن ابراہیم خلیل اللہ علیہما وعلی نبینا افضل الصلٰوۃ والسلام کی اولاد ہیں۔

آپ کو تریسٹھ سال کی عمر ملی۔ چالیس سال نبوت سے پہلے اور تیئس سال نبی ورسول بننے کے بعد۔

آپ ﷺ کو ”اقْرَأْ“ کے ساتھ شرفِ نبوت حاصل ہوا اور ”الْمُدَّثِّرُ“ کے ساتھ بارِ رسالت سے مشرف کیا گیا۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ مکرمہ ہے۔

اللہ نے آپ کو شرک سے ڈرانے والا اور توحید کی جانب بلانے والا بناکر بھیجا تھا۔ دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ1 قُمۡ فَأَنذِرۡ2 وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ3 وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ4 وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ5 وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ6 وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ7﴾

" اے کپڑا اوڑھنے والے۔ کھڑا ہوجا اور آگاه کردے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے۔ اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر۔ اور اپنے رب کی راه میں صبر کر"۔ [المدثر : 1- 7].

’الرُّجْز‘ کے معنی اصنام (بت) ہیں۔ ان کو ترک کرنے کا مطلب ہے: ان اصنام کو چھوڑ دینا اور ان اصنام اور ان کے پرستار مشرکوں سے بیزاری و براءت کا اظہار کرنا۔

آپ ﷺ اسی کے مطابق دس سالوں تک لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ دس سال کے بعد آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر (معراج) کرائی گئی اور آپ پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی۔ آپ ﷺ تین سال تک مکہ مکرمہ میں نماز ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا۔

بلد شرک سے بلد اسلام کی طرف منتقل ہو جانے کا نام ”ہجرت“ ہے۔

بلدِ شرک سے بلدِ اسلام کی طرف ہجرت کرنا اس امت پر فرض ہے، اور ہجرت قیامت تک باقی رہے گی۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا97 إِلَّا ٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلۡوِلۡدَٰنِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ حِيلَةٗ وَلَا يَهۡتَدُونَ سَبِيلٗا98﴾

" جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں: کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشاده نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وه پہنچنے کی بری جگہ ہے۔ مگر جو مرد عورتیں اور بچے بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی چارہٴ کار کی طاقت اور نہ کسی راستے کا علم ہے"۔ [النساء: ۹۷-۹۸]۔

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ أَرۡضِي وَٰسِعَةٞ فَإِيَّٰيَ فَٱعۡبُدُونِ56﴾

" اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو"۔ [العنکبوت: 56].

امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی، جو مکہ  میں رہ گئے اور جنھوں نے ہجرت نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان کے وصف سے متصف کر کے پکارا ہے“۔

حدیث سے ہجرت کی دلیل رسالت مآب ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے: "لَا تَنْقَطِعُ الهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا". ”ہجرت ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہوجائے، اور توبہ ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے۔“

جب مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کو استقلال نصیب ہوا، تو آپ ﷺ کو اسلام کے بقیہ احکام و شرائع مثلاً زکوٰۃ، روزہ، حج، اذان، جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا۔ اس کے مطابق آپ ﷺ نے دس برس گزارے۔

آپ ﷺ کی وفات ہو چکی ہے، لیکن آپ ﷺ کا دین باقی ہے۔ یہ آپ ﷺ کے دین کی شان ہے۔ بھلائی کا کوئی ایسا کام نہیں جس کی طرف آپ ﷺ نے امت کی راہ نمائی نہ کی ہو اور برائی کا کوئی ایسا کام نہیں جس سے آپ ﷺ نے اسے آگاہ نہ کیا ہو۔

جس خیر کی طرف آپ نے امت کی رہنمائی کی، اس میں سرِفہرست توحید ہے اور اس میں اللہ کی پسند و رضا کے سارے کام شامل ہیں۔

اور جس شر اور برائی سے آپ نے ڈرایا ہے، اس میں سر فہرست شرک ہے، ساتھ ہی اس میں تمام وہ کام شامل ہیں جو اللہ کو ناپسند اور ناگوار ہیں۔

اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے نبی بناکر بھیجا اور سارے جنوں اور انسانوں پر آپ کی اطاعت کو فرض کیا۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا...﴾

" آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں... [الأعراف:158].

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے دین اسلام کو مکمل کر دیا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ...﴾

" آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا"۔ [المائدة: 3].

آپ ﷺ کی وفات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿إِنَّكَ مَيِّتٞ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ30 ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ31﴾

" یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔ پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے"۔ [الزمر: 30-31]

سارے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ55﴾

" اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے"۔ [طه:55] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَٱللَّهُ أَنۢبَتَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ نَبَاتٗا17 ثُمَّ يُعِيدُكُمۡ فِيهَا وَيُخۡرِجُكُمۡ إِخۡرَاجٗا18﴾

" اور تم کو اللہ نے زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے)۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا"۔ [نوح: 17-18]

اٹھائے جانے کے بعد ان کا حساب وکتاب ہوگا اور انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿...لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ بِٱلۡحُسۡنَى﴾

" ... تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے"۔ [النجم:31].

موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو جھٹلانے والا کافر ہے۔ دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن لَّن يُبۡعَثُواْۚ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ7﴾

" ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے"۔ [التغابن:7]

اللہ نے تمام رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجا تھا۔ دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿رُّسُلٗا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةُۢ بَعۡدَ ٱلرُّسُلِۚ...﴾

" ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے"۔ [ النساء: 165]

سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ﷺ ہیں، آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں؛ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ...﴾

"(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے..."۔[الأحزاب:40].

حضرت نوح علیہ السلام کے پہلے رسول (نہ کہ پہلے نبی) ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿إِنَّآ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ كَمَآ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ نُوحٖ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ مِنۢ بَعۡدِهِ...﴾

" یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی... [النساء: 163]

اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام سے لے کر محمد ﷺ تک ہر امت کی طرف رسول بھیجے ہیں، جو اپنی امت کے لوگوں کو صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیتے اور ”طاغوت“ کی عبادت سے منع کرتے چلے آئے ہیں۔ دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَ...﴾

" ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: 36]

اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں (جن وانس) پر طاغوت کا انکار کرنا اور اللہ پر ایمان لانا فرض قرار دیا ہے۔

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جس کسی بھی باطل معبود (جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے) یا متبوع (جس کی ایسے امور میں اتباع کی جائے، جن میں اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو) یا مطاع (حلت وحرمت میں جس کی اطاعت اس طرح کی جائے کہ فرامین الٰہی کی مخالفت لازم آئے) کی وجہ سے بندہ اپنی حدودِ بندگی (خالص عبادت الٰہی) سے تجاوز کر جائے، وہی چیز ”طاغوت“ ہے۔“

طاغوت تو بے شمار ہیں، مگر ان میں سربر آوردہ پانچ ہیں: ابلیس لعین، ایسا شخص جس کی عبادت کی جائے اور وہ اس پر راضی ہو، ایسا شخص جو لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کی دعوت دیتا ہو، ایسا شخص جو علم غیب جاننے کا دعوی کرتا ہو اور ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی شریعت کے خلاف فیصلہ کرے۔

اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَيِّۚ فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ256﴾

" دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے"۔ [البقرۃ: 256]، یہی 'لا إلٰہ إلا اللہ' (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کا صحیح معنی ومفہوم ہے، حدیث ہے: "رَأْسُ الأَمْرِ: الإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ: الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ: الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ". ”دین کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔“ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

***