نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کا طریقہ (اردو)

کتاب 'كَيفِيَّةُ صَلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ' میں سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آسان اسلوب اور دقیق منہج کے ساتھ، نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ، صحیح نصوص کی روشنی میں بیان کیا ہے، تاکہ یہ مسلمان کے لیے اس کی نماز میں رہنما ثابت ہو۔ اس کتاب میں نماز کے ارکان، سنتوں اور صفات کو وضو سے لے کر سلام تک بیان کیا گیا ہے، جو دلیل اور وضاحت کا مجموعہ ہے، اور اس عظیم ترین عبادت میں نبی ﷺ کی مکمل پیروی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

  • earth زبان
    (اردو)
  • earth تالیف:
    الشيخ عبد العزيز بن باز

دیگر تراجم 52

ce شيشاني- нохчийн мотт sq ألباني- Shqip pt برتغالي- português as آسامي- অসমীয়া ms ملايو- Melayu uz أوزبكي- Ўзбек ar عربي- العربية ps بشتو- بشتو ur أردو- اردو en إنجليزي- English bn بنغالي- বাংলা ru روسي- Русский zh صيني- 中文 fa فارسي- فارسي fr فرنسي- Français hi هندي- हिन्दी sw سواحيلي- Kiswahili id إندونيسي- Indonesia ha هوسا- Hausa tl فلبيني تجالوج- Tagalog tr تركي- Türkçe gu غوجاراتية- ગુજરાતી te تلغو- తెలుగు si سنهالي- සිංහල ta تاميلي- தமிழ் mk مقدوني- македонски pl بولندي- polski it إيطالي- italiano hu هنجاري مجري- magyar ka جورجي- ქართული es إسباني- español kn كنادي- ಕನ್ನಡ or أورومو- afaan oromoo sr صربي- Српски az أذري- azərbaycanca lo لاو- ພາສາລາວ ml مليالم- മലയാളം tg طاجيكي- тоҷикӣ hy أرميني- Հայերէն bs بوسني- bosanski vi فيتنامي- Tiếng Việt dv ديفهي- ދިވެހި ky قرغيزي- Кыргызча st سوتي- Sesotho th تايلندي- ไทย ne نيبالي- नेपाली cs تشيكي- čeština fi فنلندي- suomi bg بلغاري- български mos موري- Mõõré mg ملاغاشي- Malagasy yo يوربا- Èdè Yorùbá
PHPWord

 

 

 

كَيْفِيَّةُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

 

نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ

 

 

لِفَضِيلَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَازٍ

غَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَلِوَالِدَيْهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ

 

فضیلۃ الشیخ علّامہ

 

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں، اور درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہمارے نبی محمد پر، آپ کى آل اور آپ کے صحابہ پر، أما بعد:

نبی کریم ﷺ کی نماز کے طریقے کی وضاحت کے لیے یہ مختصرباتیں ہیں، جو میں نے ہر مسلمان مرد اور عورت کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ جو بھی اس کو پڑھے وہ اس میں نبى ﷺ کی پیروی کرنے کی کوشش کرے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي) . "تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھا ہے"(1) ۔ اب نماز نبوی کا طریقہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے:

1- اچھی طرح وضو کرے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے اسی طرح وضو کرے، اللہ پاک وبرتر کا ارشاد ہے:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِ...﴾.

"اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو" [المائدۃ: 6] مکمل آیت۔

اور نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: (لا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ) ، (وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی)۔(2)

نیز نبی ﷺ نے اس شخص سے فرمایا جس نے غلط طریقے سے نماز پڑھی : (‌إِذَا ‌قُمْتَ ‌إِلَى ‌الصَّلَاةِ، ‌فَأَسْبِغِ ‌الْوُضُوءَ)، (جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اچھی طرح وضو کرو۔)(3)

2- نمازی جہاں کہیں بھی ہو اپنے پورے جسم کے ساتھ قبلہ یعنی کعبہ کی طرف متوجہ ہوجائے، جو نما ز پڑھنا چاہتا ہو، اپنے دل میں اس کى ادائیگى کی نیت کرے ، خواہ فرض ہو یا نفل، اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا نہ کرے؛ کیوں کہ زبان سے نیت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ بدعت ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبان سے نیت نہیں کی اور نہ ہی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے زبان سے نیت کی، اپنے سامنے ایک سترہ رکھ لے چاہے وہ امام ہو یا منفرد ، اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شرط ہے سوائے چند معروف حالتوں کے، جن کی وضاحت اہل علم کی کتابوں میں موجود ہے۔

3- اللہ اکبر کہتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہے اور اپنی نگاہ سجدہ کی جگہ پر رکھے۔

4- تکبیر تحریمہ کہتے وقت اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں تک یا کانوں کی لو تک اٹھائے۔

5- اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھے، دائیں ہاتھ کو، بائیں ہاتھ کى ہتھیلی، گٹے اور کلائی پر رکھے، کیوں کہ یہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔

6- اس کے بعد نمازی کے لیے مسنون ہے کہ دعائے استفتاح پڑھے، جوکہ یہ ہے: (اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وبيْنَ خَطَايَايَ، كما بَاعَدْتَ بيْنَ المَشْرِقِ والمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطَايَا كما يُنَقَّى الثَّوْبُ الأبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بالمَاءِ والثَّلْجِ والبَرَدِ)، (اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دور رکھ جیسا کہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ پیدا کر دیا ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے ایسے پاک کر جس طرح سفید کپڑے کو گندگی سے پاک کر دیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہ پانی، برف اور اولوں سے دھل دے)۔(4)

اگر چاہے تو اس کے بجائے یہ دعا پڑھے: (سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، ولَا إلَهَ غَيْرُكَ) ، (اےاللہ!، تواپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اور تیرا نام بابرکت ہے، اور تیری شان بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔)،(5) اگر وہ ان دونوں دعاؤں کے علاوہ کوئی اوردعائے ثنا پڑھے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کے لیے بہتر ہے کہ کبھی یہ دعائے ثنا پڑھ لے اور کبھی وہ۔ کیوں کہ یہ اتباع میں زیادہ مکمل ہے، پھر کہے: "أعوذ باللّه من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم" یں اللہ کى پناہ طلب کرتا ہوں شیطان مردود سے، شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے)، پھر سورہ فاتحہ پڑھے، کیوں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: (لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بفَاتِحَةِ الكِتَابِ) ، (جس نےسورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔)(6) سورہ فاتحہ کے بعد جہری نمازوں میں بلند آواز سے اور سری نمازوں میں پست آواز سے "آمین" کہے، پھر قرآن کا جو حصہ یاد ہو اس میں سے پڑھے، افضل یہ ہے کہ اس بابت وارد احادیث پر عمل کرتے ہوئے، ظہر، عصر اور عشاء کی نمازوں میں سورہ فاتحہ کے بعد اوساط مفصل سے پڑھے، فجر میں طوال مفصل سے اور مغرب میں کبھی طوال مفصل سے اور کبھی قصار مفصل سے۔

7- "اللہ اکبر" کہتا ہوا اور اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں تک یا کانوں کی لو تک اٹھاتا ہوا رکوع کرے، رکوع میں سر کو پیٹھ کی برابری میں کر لے اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھے کہ انگلیاں پھیلی ہوئی ہوں، رکوع اطمینان سے کرے اور یہ دعا پڑھے: (‌سُبْحَانَكَ ‌اللهُمَّ ‌وَبِحَمْدِكَ، ‌اللهُمَّ ‌اغْفِرْ ‌لِي)، (اے اللہ! تواپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، اے اللہ!مجھے بخش دے۔)(7)

9- رکوع سے سر اٹھاتے وقت دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک یا کانوں تک بلند کرے، اور کہے: (اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی)۔ بشرطیکہ وہ امام یا منفرد ہو۔ قومہ میں یہ دعا پڑھے: (رَبَّنَا ولَكَ الحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مِلْءَ السَّمَواتِ ومِلْءَ الأرضِ، ومِلْءَ ما شِئتَ مِن شيءٍ بَعدُ)، (اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہرقسم کی حمد وثنا ہے ، بہت زیادہ پاکیزہ اور برکت والی حمد وثنا جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اوراس کے بعد جوتو چاہے بھر جائے)۔(8)

نمازی اگر مقتدی ہو تو رکوع سے سر اٹھاتے وقت صرف (رَبَّنَا ولَكَ الحَمْدُ) آخر تک کہے۔ اور اگر نمازی - خواہ امام ہو یا مقتدی یا منفرد - مذکورہ بالا دعا کے بعد درج ذیل دعا بھی پڑھ لے تو بہتر ہے، کیوں کہ نبی ﷺ سے اس کا پڑھنا ثابت ہے: (أهْلَ الثَّنَاءِ والْمجْدِ، أحَقُّ مَا قَالَ العَبْدُ، وكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ: اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أعْطَيْتَ، ولَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، ولَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ)، (اے عظمت وثنا کے سزا وار! سب سے درست بات جو بندے نے کہى، اور ہم سب تیرے بندے ہیں، وہ یہ ہے: اے اللہ! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے) ۔(9)

مستحب ہے کہ ان میں سے ہر ایک یعنی امام، مقتدی اور منفرد (اکیلے نماز پڑھنے والا) اپنے سینے پر ہاتھ رکھے جیسا کہ رکوع سے پہلے قیام میں رکھا تھا، کیوں کہ یہ وائل بن حجر اور سہل بن سعد رضی الله عنهما کی احادیث سے ثابت ہے۔

9- "اللہ اکبر" کہتا ہوا سجدے میں جائے، اور اگر ہو سکے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو زمین پر رکھے، لیکن اگر اس میں مشقت ہو تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھوں کو زمین پر رکھے۔ سجدے میں دونوں پیر اور دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر سیدھى کر لے۔ سجدہ سات اعضاء پر ہونا چاہیے: پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر کی انگلیوں کا اندرونی حصہ اور سجدے میں یہ دعا پڑھے: ( سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلى) "پاک ہے میرا بلند وبرتر رب" اس دعا کو تین بار یا اس سے زیادہ بار کہنا مسنون ہے، اس دعا کے ساتھ یہ دعا پڑھنا بھی مستحب ہے: (سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنا وبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي)، (اے اللہ، ہمارے رب، تو پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے)، اور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق بہ کثرت دعا کرے: (‌أَمَّا ‌الرُّكُوعُ، ‌فَعَظِّمُوا ‌فِيهِ ‌الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ) ، (رکوع میں رب کی عظمت اور بڑائی بیان کرو، لیکن سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو، کیوں کہ یہ (حالت سجود) اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو جائے)(10)

وہ اپنے رب سے دنیا اور آخرت کی بھلائی طلب کرے۔ نماز خواہ فرض ہو یا نفل، اسے چاہیے کہ اپنے اوپری بازوؤں کو اطراف سے اور پیٹ کو اپنی رانوں سے، اور رانوں کو ٹانگوں سے دور رکھے، اور اپنے بازو زمین سے اٹھائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: (اعْتَدِلُوا في السُّجُودِ، ولَا يَبْسُطْ أحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الكَلْبِ) ، (سجدے اطمینان سے کرو، اور تم میں سے کوئی شخص اپنی بازوؤں کو کتے کی طرح (زمین پر) نہ بچھائے)(11)

10- "اللہ اکبر" کہتا ہوا سجدے سے سر اٹھائے اور بائیں پیر کو بچھا کر اسی پر بیٹھ جائے، دائیں پیر کو کھڑا رکھے، اور اپنے ہاتھوں کو رانوں اور گھٹنوں پر رکھ لے اور یہ دعا پڑھے: (رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي وَاجْبُرْنِي)، (اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے روزی عطا کر، مجھے عافیت میں رکھ اور میرے نقصان کی بھرپائی فرما)(12) یہ جلسہ بھی بالکل اطمینان سے کرے۔

11- پھر "اللہ اکبر" کہتا ہوا دوسرا سجدہ کرے اور اس میں بھی وہی سب کرے جو پہلے سجدہ میں کیا تھا۔

12- "اللہ اکبر" کہتا ہوا سجدہ سے سر اٹھائے اور جس طرح دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھا تھا اسی طرح تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جائے، اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، جو مستحب ہے اور اگر اسے چھوڑ دے تو کوئی حرج کی بات نہیں، جلسہ استراحت میں کوئی ذکر اور دعا نہیں ہے۔ پھر اگر دشوار نہ ہو تو اپنے گھٹنوں پر ورنہ زمین پر ٹیک لگا کر دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، کھڑا ہونے کے بعد سورہ فاتحہ اور فاتحہ کے بعد قرآن کا جو حصہ یاد ہو اس میں سے پڑھے، پھر جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرے۔

13- اگر نماز دو رکعت ہو مثلاً فجر، جمعہ اورعیدین کی نماز تو دوسرے سجدے سے اٹھنے کے بعد دائیں پیر کو کھڑا کر کے، بائیں پیر کو بچھا کر اور داہنا ہاتھ دائیں ران پر رکھ کر بیٹھے، شہادت کی انگلی کو کھلی رکھے اور باقی انگلیوں کو ایک ساتھ پکڑ کر رکھے، شہادت کی ایک انگلی سے اللہ کی وحدانیت کا اشارہ کرے، اگر وہ اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی اور اس کے بغل والی انگلی کو پکڑے، اور انگوٹھے کو درمیانی انگلی سے ملا کرحلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے تو بھی ٹھیک ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے دونوں طریقے ثابت ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ کبھی ایسا کرے اور کبھی ویسا کرے، بائیں ہاتھ کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھے، پھر اس نشست میں تشہد پڑھے، جو یہ ہے: (التَّحِيَّاتُ لله والصَّلَوَاتُ والطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أيُّها النبيُّ ورَحْمَةُ الله وبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وعلَى عِبَادِ الله الصَّالِحِينَ، أشْهَدُ أنْ لا إلَهَ إلَّا الله وأَشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورَسولُهُ)، (ساری حمد وثنا، تمام دعائیں اور ہر طرح کے اچھے اعمال اور اقوال اللہ کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت نازل ہو، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔) پھر کہے: (اللَّهُمَّ صَلِّ علَى مُحَمَّدٍ وعلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كما صَلَّيْتَ علَى إبْرَاهِيمَ وعلَى آلِ إبْرَاهِيمَ؛ إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ علَى مُحَمَّدٍ وعلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كما بَارَكْتَ علَى إبْرَاهِيمَ وعلَى آلِ إبْرَاهِيمَ؛ إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)، (اے اللہ رحمت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اور محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں، بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔)(13)

اس کے بعد چار چیزوں سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے، چنانچہ یہ دعا پڑھے: ( اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِن عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ)، (اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)(14)

پھر وہ دنیا اور آخرت میں جو بھلائی چاہتا ہو اس کے لیے دعا کرے، اور اگر اپنے والدین یا دوسرے مسلمانوں کے لیے دعا کرے تو کوئی حرج نہیں -خواہ نماز فرض ہو یا نفل-؛ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے عام ارشاد کی روشنی میں جب آپ نے ان کو تشہد کی تعلیم دی: (ثُمَّ ‌لِيَتَخَيَّرْ ‌مِنَ ‌الدُّعَاءِ بَعْدُ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو)، (پھر وہ ایسى دعا کا انتخاب کرے جو اسے پسند ہو اور دعا کرے)۔(15) اور ایک دوسرے لفظ میں ہے: (‌ثُمَّ ‌لِيَخْتَرْ ‌مِنْ ‌الْمَسْأَلَةِ ‌مَا ‌شَاءَ)، (پھر وہ دعا میں سے جو چاہے چن لے)۔(16)

یہ بندے کو دنیا اور آخرت میں فائدہ دینے والى تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر اپنے دائیں بائیں سلام کرتے ہوئے کہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

14- اگر تین رکعت والی نماز ہو، جیسے مغرب، یا چار رکعت والی نماز، جیسے ظہر، عصر، اور عشاء، تو وہ اوپر ذکر کئے گئے تشہد کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے، پھر اپنے گھٹنوں پر ٹیک لگا کر کھڑا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کانوں اور کندھوں کے برابر اٹھاتے ہوئے کہے: اللہ اکبر، وہ ہاتھوں کو سابقہ صورت کے مطابق اپنے سینے پر رکھے، اور صرف سورہ فاتحہ پڑھے اور اگر وہ ظہر کی نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں کبھی کبھار سورہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورہ پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیوں کہ یہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی ﷺ سے ثابت ہے، اگر وہ پہلے تشہد کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں، کیوں کہ پہلے تشہد میں درود پڑھنا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔ پھر مغرب کی تیسری رکعت کے بعد اور ظہر، عصر اور عشاء کی چوتھی رکعت کے بعد تشہد پڑھے جیسا کہ اوپر دو رکعت والی نماز میں گزر چکا ہے، پھر اپنے دائیں بائیں سلام پھیرے، اور تین بار اللہ سے استغفار کرے، پھر کہے: (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يا ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَامِ)، (اے اللہ! تو سلامتی والا ہے اور تجھ سے سلامتی ہے، تو بابرکت ہے اے بزرگی اور عزت کے مالک۔)(17) اگر امام ہو تو مقتدیوں کی طرف رخ کرنے سے پہلے تین مرتبہ استغفر اللہ اور مذکورہ دعا پڑھ لے۔ پھر یہ دعا پڑھے: (لا إلَهَ إلَّا الله وحْدَهُ لا شَرِيكَ لَه، لَهُ المُلْكُ، ولَهُ الحَمْدُ، وَهوَ عَلَى كُلِّ شيءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بالله، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أعْطَيْتَ، ولَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ، لَا إلَهَ إلَّا الله، وَلَا نَعْبُدُ إلَّا إيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الحَسَنُ، لَا إلَهَ إلَّا الله مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَو كَرِهَ الكَافِرُونَ)، (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ جو تو دے اس سے روکنے والا کوئی نہیں اور جو تو نہ دے اسے کوئی دینے والا کوئی نہیں اور کسی مالدار کو اس کی دولت تیری بارگاہ میں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گی، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اسی کے کے لئے نعمت اور فضل ہے، اور اسی کے لیے بہترین تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، خواہ کافروں کویہ چیز بری لگے)۔(18)

وہ تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہے اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہے اور تینتیس مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہے، اور سویں بار یہ کہے : "لا إلَهَ إلَّا الله وحْدَهُ لا شَرِيكَ لَه، لَهُ المُلْكُ، ولَهُ الحَمْدُ، وَهوَ عَلَى كُلِّ شيءٍ قَدِيرٌ". (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لئے بادشاہت اور ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)۔ وہ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، قل أعوذ برب الفلق، قل أعوذ برب الناس اور قل هو اللہ أحد پڑھے، فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ان تینوں سورتوں کا تین بار پڑھنا مستحب ہے، کیوں کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے احادیث مروى ہیں، یہ تمام اذکار سنت ہیں فرض نہیں۔

ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں، ظہر کے بعد دو رکعتیں، اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعتیں، عشاء کی نماز کے بعد دو رکعتیں، اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا مشروع ہے، یہ مکمل بارہ رکعتیں ہیں جنہیں سنن رواتب (سنت مؤکدہ) کہا جا تا ہے، کیوں کہ نبی ﷺ حالت اقامت میں ان کی پابندی کرتے تھے۔ جہاں تک سفر کا تعلق ہے تو آپ فجر اور وتر کی سنتوں کے علاوہ دیگر سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، کیوں کہ آپ ﷺ چاہے مقیم ہوں یا مسافر فجر اور وتر کی سنتوں کی پابندی کیا کرتے تھے۔ سنن رواتب اور وتر کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر کوئی مسجد میں پڑھے تو کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (أفْضَلُ صَلَاةِ المَرْءِ في بَيْتِهِ، إلَّا الصَّلَاةَ المَكْتُوبَةَ)، (آدمی کے لیے سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے، سوائے فرض نمازوں کے۔)(19)

ان رکعات کی پابندی کرنا جنت میں داخل ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَومٍ وَلَيْلَةٍ، بُنِيَ لَه بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الجَنَّةِ)، (جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے ان رکعتوں کی وجہ سے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔)(20)

اگر عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت، مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت اور عشاء کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھے تو بہتر ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا ثبوت موجود ہے۔ اگر وہ ظہر سے پہلے چار رکعت اور ظہر کے بعد چار رکعت پڑھے تو یہ اچھی بات ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (مَنْ ‌حَافَظَ ‌عَلَى ‌أَرْبَعِ ‌رَكَعَاتٍ ‌قَبْلَ ‌الظُّهْرِ، وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ)، (جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتوں اور اس کے بعد چار رکعتوں پر محافظت کی، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا۔)(21) مطلب یہ ہے کہ وہ ظہر کے بعد والی سنت راتبہ (مؤکدہ) میں دو رکعت کا اضافہ کرے، کیوں کہ سنت راتبہ ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت ہے۔ اس کے بعد اگر اس میں دو رکعتوں کا اضافہ ہو جائے تو وہ فضیلت حاصل ہوتی ہے جو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں وارد ہوئی ہے۔

اللہ ہی توفیق دینے والا ہے، اور درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد بن عبداللہ پر اور آپ کی آل، آپ کے صحابہ اور تا قیامت بھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر۔ ***


() صحیح مسلم (224)۔

() صحیح بخاری (5782)۔

() صحیح بخاری : 744، صحیح مسلم : 598۔

() صحیح مسلم (399)۔

() صحیح بخاری (756)۔

() صحیح بخاری (817)، صحیح مسلم (484)۔

() صحیح بخاری (711)، صحیح مسلم (598)۔

() صحیح مسلم (477)۔

() صحیح مسلم (479)۔

() صحیح بخاری (788)، صحیح مسلم (493)۔

() جامع ترمذی (284)، سنن ابوداد (850)، سنن ابن ماجہ (898)۔

() صحیح بخاری (797)، صحیح مسلم (402)۔

() صحیح بخاری (1311)، صحیح مسلم (588)۔

() سنن نسائی (1298)۔

() صحیح مسلم (402)۔

() صحیح مسلم (591)۔

() صحیح مسلم (402)۔

() صحیح بخاری (6860)۔

() صحیح مسلم (728)۔

() مسند احمد (25547)، جامع ترمذی (393)، سنن ابو داود (1077)۔

() صحیح بخاری (605)۔