PHPWord

 

 

بَيَانُ كُفْرِ وَضَلَالِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَجُوزُ لِأَحَدٍ الخُرُوجُ مِنْ شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ ﷺ

 

جو شخص یہ دعوی کرے کہ کسی کے لیے شریعت اسلامیہ سے اعراض کرنا جائز ہے، اس کے کفر وگمراہی کا بیان

 

 

لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ العَلَّامَةِ

عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ

رَحِمَهُ اللهُ

 

تالیف سماحۃ الشیخ

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

بارہواں کتابچہ:

اس بات کا بیان کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ کسی کے لیے شریعت محمدیہ سے تجاوز کرنا جائز ہے، وہ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہے۔

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، اور درود و سلام ہو نبیوں اور رسولوں کے خاتم، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کى آل اور تمام صحابہ پر۔

اما بعد: میں نے الشرق الاوسط اخبار کے شمارہ نمبر (٥٨٢٤) مورخہ ٥/ ٦/ ١٤١٥ ھ میں شائع شدہ مضمون کا مطالعہ کیا، جسے عبد الفتاح الحايك نام سے خود کو ذکر کرنے والے نے (غلط فہمی) کے عنوان سے سپرد قلم کیا ہے۔

مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نے دین اسلام کی ایسی بات کا انکار کیا جس کا شمار دین اسلام کى انتہائى بنیادی واضح باتوں میں ہے، اور جو نصوص اور اجماع سے ثابت ہے؛ مقصود محمد ﷺ کی رسالت کا تمام انسانوں کے لیے عام ہونا ہے، اور اس کا یہ دعویٰ کہ جو محمد ﷺ کی پیروی نہ کرے اور ان کی اطاعت نہ کرے، بلکہ یہودی یا عیسائی ہی رہے، وہ بھی حق پر ہے۔ پھر اس نے رب العالمین ـ سبحانہ ـ کی حکمت پر بھی جرأت کی اور کافروں اور نافرمانوں کو عذاب دینے کو عبث قرار دیا۔

اس نے شرعی نصوص میں تحریف کی، انہیں ان کے اصل مقامات سے ہٹا دیا اور اپنی خواہشات کے مطابق ان کی تفسیر کی، ان شرعی دلائل اور صریح نصوص سے اعراض کیا جو محمد ﷺ کی رسالت کے تمام انسانوں کے لیے عام ہونے پر اور اس شخص کے کفر پر دلالت کرتی ہیں جو آپ کے بارے میں سنے اور آپ کی پیروی نہ کرے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ کسی دین کو قبول نہیں کرتا، اور دیگر صریح نصوص سے بھی اعراض کیا تاکہ اس کی باتوں سے جاہل لوگ دھوکہ کھا جائیں۔ اور یہ جو اس نے کیا وہ صریح کفر ہے، اسلام سے ارتداد ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلانا ہے، جیسا کہ اہل علم و ایمان میں سے جس نے بھی یہ یمضمون پڑھا وہ جانتا ہے۔

اور حاکم پر واجب ہے کہ اسے عدالت کے حوالے کرے تاکہ اس سے توبہ کروائی جائے اور اس پر شریعت مطہرہ کے مطابق حکم صادر کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی رسالت کی عمومیت اور تمام جن و انس پر آپ کی اتباع کی فرضیت کو واضح کردیا ہے، اور یہ بات کسی بھی مسلمان سے مخفی نہیں جو علم کی ادنیٰ سی بھی سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ158﴾

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ۔ [الاعراف: ۱۵۸] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ...﴾

...اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعے سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں... [الانعام: ۱۹] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ31﴾

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو ، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے۔ [آل عمران: 31]. ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ85﴾

جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ [آل عمران: 85]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا...﴾

ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے... [سبا: ۲۸] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ107﴾

اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے. [سورہ الانبياء: 107]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ فَإِنۡ أَسۡلَمُواْ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ﴾

اور اہل کتاب سے اور انپڑھ لوگوں سے کہہ دیجیئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟ پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہداہت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے۔ [آل عمران: 20]. ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا1﴾

بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لئے آگاه کرنے واﻻ بن جائے. [الفرقان: 1].

جب کہ امام بخاری اور مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، فَلْيُصَلّ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً». "مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، تمام زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی حلال نہ تھا۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ اور نبی صرف اپنی ہی قوم کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔

یہ ہمارے نبی محمد ﷺ کی رسالت کی عمومیت اور شمولیت کا صریح بیان ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہے، اور اس نے اگلى تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے، اور جو محمد ﷺ کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا؛ وہ کافر اور نافرمان اور عذاب کا مستحق ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿...وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ مِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ فَٱلنَّارُ مَوۡعِدُهُۥ...﴾

اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے [ھود: ۱۷] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...فَلۡيَحۡذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ يُصِيبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔ [سورہ النور : 63]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ14﴾

اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔ [النساء: ۱۴] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿...وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ﴾

ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے۔ [البقرة: ۱۰۸] اس معنی و مفہوم کی آیتیں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو مانے گا وہ خسارہ اٹھانے والا ہے، اس سے نہ کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گى اور نہ ہی کوئى نفلی عبادت، اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ 85

جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ [آل عمران: 85]۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ...

اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی [ سورہ النساء: 80 ] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا...

کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ [سورہ النور: 54]. ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ 6

بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں. [البینۃ: ۶]

امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ؛ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ؛ إِلَّا كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ». ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا عیسائی، اسے میری بعثت کی اطلاع ہوئی ہو اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے، تو وہ یقینًا اہلِ جہنم میں سے ہوگا‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول و فعل سے واضح کر دیا کہ جو اسلام میں داخل نہیں ہوا، اس کا دین باطل ہے۔ آپ نے یہود و نصاری کے ساتھ ساتھ دیگر کفار سے بھی جنگ کی اور ان میں سے جو جزیہ دینے پر راضی ہوئے، ان سے جزیہ لیا تاکہ ان کی باقی قوم تک دعوت پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور جو ان میں سے اسلام میں داخل ہونا چاہے، وہ اپنی قوم کے خوف کے بغیر داخل ہو سکے کہ وہ اسے روکیں گے یا قتل کریں گے۔

نیز بخاری و مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: «انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ، فَنَادَاهُمْ فَقَالَ :يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ذَلِكَ أُرِيدُ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا، فَقَالُوا: قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ذَلِكَ أُرِيدُ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ...». "یہود کے پاس چلو۔" تو ہم ان کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم بیت المدراس پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پکارا: "اے یہودیو! اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے۔" انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنی بات پہنچا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "یہی میں چاہتا ہوں، اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے۔" انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنی بات پہنچا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "یہی میں چاہتا ہوں۔" پھر تیسری بار بھی یہی فرمایا۔ حدیث لمبی ہے۔

مقصود یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہودیوں کے دینی تعلیم حاصل کرنے کى جگہ گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی، اور فرمایا: "اسلام قبول کر لو، محفوظ رہوگے"، اور یہ بات ان کے سامنے بار بار دہرائی۔

اسی طرح: آپ نے اپنا خط ہرقل کے پاس بھیجا، جس میں اسے اسلام کی دعوت دی اور بتایا کہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس پر ان لوگوں کا گناہ بھی ہو گا جو اس کے انکار کی وجہ سے اسلام سے دور رہیں گے۔ بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں روایت کیا ہے کہ ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا، پھر اسے پڑھا تو اس میں (لکھا تھا): «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ، فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ "اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے یہ خط ہے روم کى سب سے عظیم شخصیت کے نام۔ اس شخص پر سلامتى ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد میں تمہارے سامنے دعوتِ اسلام پیش کرتا ہوں۔ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو (دین و دنیا میں) سلامتی نصیب ہو گی اور اللہ تم کو دوہرا ثواب دے گا اور اگر تم (میری دعوت سے) روگردانی کرو گے، تو تمہارى رعایا کا گناہ تم پر ہو گا"۔

﴿يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ64﴾

اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ آل عمران: 64۔

پھر جب انہوں نے اسلام میں داخل ہونے سے انکار کر دیا اور پیٹھ پھیر لی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے جنگ کی اور ان پر جزیہ عائد کیا۔

اور ان کی گمراہی کی تصدیق کے لیے اور اس تاکید کے لیے کہ وہ منسوخ شدہ دین پر ہیں، جسے محمد رسول اللہﷺ کے دین سے بدل دیا گیا؛ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو حکم دیا کہ وہ ہر دن، ہر نماز اور ہر رکعت میں اللہ سے سیدھے راستے کی ہدایت مانگے، جو کہ صحیح اور مقبول ہے، اور وہ ہے: اسلام، اور اللہ سے دعا مانگے کہ اسے ان لوگوں کے راستے سے بچائے جن پر غضب نازل ہوا، یعنی یہود اور ان جیسے لوگ جو جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں اور پھر بھی اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اللہ سے دعا کرے کہ ان گمراہ لوگوں کی راہ سے بچائے، جو بغیر علم کے عبادت کرتے ہیں، اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت کے راستے پر ہیں، حالانکہ وہ گمراہی کے راستے پر ہیں، اور وہ ہیں: نصاریٰ، اور دیگر اقوام جو گمراہی اور جہالت کی بنیاد پر عبادت کرتی ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ مسلمان یقین کے ساتھ جان لے کہ اسلام کے علاوہ ہر دین باطل ہے، اور جو کوئی اللہ کی عبادت اسلام کے علاوہ کسی اور طریقے سے کرتا ہے وہ گمراہ ہے، اور جو اس کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔ کتاب و سنت میں اس باب کے دلائل بہت زیادہ ہیں۔

لہذا مضمون نگار عبد الفتاح پر واجب ہے کہ وہ سچی توبہ کرنے میں جلدی کرے، اور ایک مضمون لکھے جس میں اپنی توبہ کا اعلان کرے، اور جو شخص اللہ کی طرف سچی توبہ کرتا ہے؛ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے؛ جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿...وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾

اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ [النور: ۳۱]، مزید اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا68 يُضَٰعَفۡ لَهُ ٱلۡعَذَابُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيهِۦ مُهَانًا69 إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلٗا صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا70﴾

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے ، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا.

اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے۔ [سورۃ الفرقان: 68-70] نیز اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الإِسْلَامُ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَالتَّوبَةُ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا». "اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور توبہ اپنے سے پہلے کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے"۔ کیونکہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبَ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ». "گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں"۔

اس معنی و مفہوم کی بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کو حق کی شکل میں دکھائے اور ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں باطل کو باطل کی شکل میں دکھائے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم پر، مصنف عبد الفتاح پر اور تمام مسلمانوں پر خالص توبہ کی نعمت فرمائے، اور ہمیں تمام فتنوں کی گمراہیوں، خواہشات کی پیروی اور شیطان کی اطاعت سے محفوظ رکھے، بے شک وہی اس کا سزاوار اور اس پر قادر ہے۔

درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد پر اور آپ کى آل اور آپ کے صحابہ نیز تاقیامت اچھائى کے ساتھ ان کى پیروى کرنے والوں پر۔

***