رِسَالَتَانِ مُوجَزَتَانِ فِي الزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ
زکوٰۃ اور روزے سے متعلق دو مختصر رسائل
لِسَمَاحَةِ الشَّيْخِ
عَبْدِ العَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَازٍ
رَحِمَهُ اللهُ
سماحۃ الشیخ
عبد العزيز بن عبد الله بن باز
رحمہ الله
بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ
زکوۃ سے متعلق چند اہم مسائل
ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو اکیلا ہے اور درود وسلام ہو اس ذات پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا اور آپ کے آل واصحاب پر، اما بعد :
ان کلمات کو لکھنے کا مقصد فریضۂ زکوٰۃ کی یاد دہانی اور نصیحت ہے، جس فریضہ کے بارے میں بہت سارے مسلمان تساہل کا شکار ہیں اور شرعی طریقے سے اسے نہیں نکالتے ہیں، جب کہ اس کا مرتبہ بڑا ہی بلند ہے اور یہ اسلام کے ان پانچ ارکان میں سے ہے جن کے بغیر اسلام کی بنیاد استوار نہیں ہو سکتی، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ البَيْتِ»، ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور خانہ کعبہ کا حج کرنا۔“(1) (متفق علیہ)۔
مسلمانوں پر زکوٰۃ کی فرضیت اسلام کی نمایاں خوبیوں میں سے ہے، یہ مسلمانوں کے تئیں اسلام کی خبر گیری کا مظہر ہے؛ اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں اور غریب مسلمانوں کو اس کی سخت حاجت ہے۔
ان فوائد میں سے پہلا فائدہ غریبوں اور مالداروں کے درمیان الفت ومحبت کے رشتے کو استوار کرنا ہے کیوں کہ انسان کا نفس فطری طور پر اپنے محسن سے محبت کرنے لگتا ہے۔
انہی فوائد میں سے دوسرا فائدہ: نفس کی پاکیزگی و تزکیہ، اور بخیلی و طمع جیسی خصلتوں سے دوری ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم نے اس معنی کی طرف اشارہ کیا ہے:
﴿خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا...﴾
" آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں..."۔ [التوبۃ : 103]۔
انہی فوائد میں سے تیسرا فائدہ: مسلمان کے اندر سخاوت و فیاضی کی صفت پیدا کرنا اور محتاجوں کے تئیں لطف وکرم کا عادی بنانا ہے۔
انہی فوائد میں سے چوتھا فائدہ: برکت، اضافہ اور اللہ کی طرف سے نعم البدل کا حاصل ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿...وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۥۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ﴾
"تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے"۔ [سبا: 39]۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ نُنْفِقْ عَلَيْكَ...»، "اے ابن آدم ! خرچ کر، ہم تجھ پر خرچ کریں گے..."(2)، اس طرح کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔
جو زکاۃ نکالنے میں کوتاہی کرے یا بخیلی سے کام لے اس کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿...وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ 34 يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ35﴾
" اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی۔ (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو"۔ [التوبۃ : 35-34]۔
چنانچہ ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے، وہ خزانہ (کنز) ہے جس کے ذریعہ روزِ قیامت اس کے مالک کو عذاب دیا جائے گا، جیسا کہ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ؛ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ العِبَادِ، فَيُرَى سَبِيلَهُ: إِمَّا إِلَى الجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» "جو بھی سونا یا چاندی والا شخص (صاحبِ نصاب) اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی؛ اور انھیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔"(3)
پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اونٹ، گائے اور بکریوں کے مالک کا ذکر کیا جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اور بتایا کہ قیامت کے دن اسے ان جانوروں کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: «مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوِّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلَهْزِمَتَيْهِ (يَعْنِي شِدْقَيْهِ)، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ»، ثُمَّ تَلَا النَّبِيُّ ﷺ قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ هُوَ خَيۡرٗا لَّهُمۖ بَلۡ هُوَ شَرّٞ لَّهُمۡۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ...﴾ ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہے تو قیامت کے دن اس (مال) کو اس کے لیے ایک زہریلے سانپ کی شکل میں بنایا جائے گا جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، جو اس کے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں (جبڑوں کو) پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں‘‘۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا: ”جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن وہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے…“۔ [آل عمران: 180](4)۔
زکوٰۃ چار قسم کی چیزوں میں واجب ہے: زمین سے پیدا ہونے والے غلے اور پھل، چرنے والے چوپائے، سونا اور چاندی، اور سامان تجارت۔
ان چاروں اقسام میں سے ہر ایک کا ایک مقررہ نصاب ہے، اس سے کم مقدار پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ غلہ اور پھلوں کا نصاب: پانچ وسق ہے، اور ایک وسق کی مقدار ساٹھ صاع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صاع کے مطابق۔ لہذا کھجور، کشمش، گندم، چاول، جو اور ان جیسے دیگر اناج کا نصاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صاع کے مطابق تین سو صاع ہے، اور ایک صاع کی مقدار یہ ہے کہ درمیانہ قد کے آدمی کے دونوں بھرے ہاتھوں سے چار مرتبہ ناپا جائے۔
اگر کھجور کے درخت اور کھیتیاں بلا اخراجات کے سیراب ہوں جیسے بارش، نہر یا جاری چشموں کے پانی سے، تو اس میں دسواں حصہ واجب ہوگا۔
اگر سینچائی اخراجات اور محنت سے ہو جیسے پن چکی اور پانی کھینچنے والی مشینوں وغیرہ سے، تو اس میں بیسواں حصہ واجب ہوگا، جیساکہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔
جہاں تک سائمہ یعنی چرنے والے اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ کا نصاب ہے، تو اس کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں موجود ہے، جو شخص اس کے بارے میں جاننا چاہے وہ اہل علم سے سوال کر لے، اگر اختصار مقصود نہ ہوتا تو ہم مکمل فائدے کے لیے اس کا ذکر کردیتے۔
چاندی کا نصاب ایک سو چالیس مثقال ہے، اور اس کی مقدار سعودی عرب کے درہم کے مطابق چھپن ریال ہے۔
سونے کا نصاب بیس مثقال ہے، اور اس کی مقدار سعودی جنیہ کے مطابق گیارہ جنیہ اور سات میں تین حصے ہیں، اور گرام کے اعتبار سے بانوے گرام ہے۔ جو شخص اتنی مقدار میں سونا یا چاندی کا مالک ہو اور اس پر سال گزر جائے، تو اس پر چالیسواں حصہ زکوٰۃ واجب ہے۔
(منافع) اصل مال کے تابع ہوتا ہے، اس لیے اس پر نیا سال مکمل ہونے کی شرط نہیں۔ اسی طرح چرنے والے مویشیوں کی افزائش بھی اصل مال کے تابع ہوتی ہے، لہٰذا اگر اصل مال نصاب کو پہنچ چکا ہو تو اس کی نئی پیداوار پر الگ سے سال گزرنے کی ضرورت نہیں۔
سونے اور چاندی کے حکم میں وہ پیسے (نقدی کرنسی) بھی شامل ہیں جن کو آج کے دور میں لوگ استعمال کرتے ہیں، چاہے انہیں درہم کہا جائے، دینار کہا جائے، ڈالر کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے۔ اگر ان کی قیمت چاندی یا سونے کے نصاب کو پہنچ جائے اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
نقدی ہی کے حکم میں خواتین کے سونے یا چاندی کے زیورات بھی شامل ہیں، خاص طور پر جب وہ نصاب کو پہنچ جائیں اور ان پر ایک سال گزر جائے، تو ان میں زکوٰۃ واجب ہے اگرچہ وہ استعمال کے لیے ہوں یا عاریۃ دینے کے لیے رکھے ہوں، یہی علماء کا صحیح ترین قول ہے؛ کیوں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ» "جو شخص سونے یا چاندی کا مالک ہو اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی"۔(5) پہلے بیان کردہ حدیث کے آخر تک۔
اس لیے بھی کہ نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک عورت کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے تو فرمایا: «أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟». قَالَتْ: لَا. قَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِهِمَا يَوْمَ القِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ!». فَأَلْقَتْهُمَا، وَقَالَتْ: «هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ». ’’کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں اس بات سے خوشی ہوگی کہ ان دونوں کنگن کے بدلے اللہ تعالیٰ تمھیں قیامت کے دن آگ کے کنگن پہنائے؟‘‘ تو ان دونوں کو اس نے نکال کر ڈال دیا اور کہا: ’’یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں‘‘۔(6)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ وہ سونے کے زیورات پہنتی تھیں، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا یہ ’’کنز‘‘ (خزانہ) ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: «مَا بَلَغَ أَنْ يُزَكَّى فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» ’’جو مال زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچ جائے پھر اس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو وہ ’’کنز‘‘ (خزانہ) میں شمار نہیں ہوگا‘‘۔(7)اس معنى کی دیگر احادیث بھی موجود ہیں۔
جہاں تک تعلق ہے عروض کا، یعنی وہ سامان جو فروخت کے لیے تیار کیا گیا ہو، تو سال کے اختتام پر اس کی قیمت کا حساب لگایا جائے گا اور اس کی پوری قیمت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ نکالا جائے گا، خواہ اس کی قیمت اس کی خریدی کے برابر ہو، یا اس سے زیادہ ہو یا کم؛ کیوں کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّهُ لِلْبَيْعِ». ’’رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اس مال سے صدقہ (زکوٰۃ) نکالیں جسے ہم فروخت کے لیے تیار کرتے ہیں‘‘۔(8)
اس ضمن میں فروخت کی غرض سے رکھی ہوئی زمینیں، عمارتیں، گاڑیاں، پانی کھینچنے والی مشینیں اور دیگر ایسے سامان داخل ہیں جو فروخت کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔
البتہ وہ عمارتیں جو کرایہ پر دینے کے لیے تیار کی گئی ہوں اور فروخت کے لیے نہ ہوں، تو ان کے کرایے پر زکوۃ واجب ہوگی جب کہ ان پر سال گزر جائے، لیکن خود ان عمارتوں پر کوئی زکوۃ نہیں ہے کیوں کہ وہ فروخت کے لیے تیار نہیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح ذاتی استعمال کی گاڑیاں اور کرایہ کی گاڑیاں بھی اگر فروخت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکوۃ نہیں ہے، اس لیے کہ ان کے مالک نے انھیں اپنے ذاتی استعمال کے لیے خریدا ہے۔
اگر کرائے پر دی ہوئی گاڑی کے مالک کے پاس کرائے یا کسی اور ذریعہ سے اتنے پیسے جمع ہو جائیں جو نصاب کو پہنچ جائیں تو ایک سال گزرنے پر اس میں زکوٰۃ واجب ہو جائے گی، چاہے وہ اسے خرچ کے لیے اٹھا رکھا ہو، شادی کے لیے جمع کر رکھا ہو یا جائیداد خریدنے کے لیے جمع کر رکھا ہو یا قرض ادا کرنے کے لیے رکھا ہو یا کوئی اور مقصد ہو۔ شریعت کی عمومی دلیلیں ایسی صورت حال میں زکوٰۃ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔
علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق قرض زکوٰۃ میں مانع نہیں ہے جیساکہ گزر چکا ہے۔
اسی طرح جمہور علماء کے نزدیک یتیموں اور پاگلوں کے مال میں بھی زکوٰۃ واجب ہے جب وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے، اور ان کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ سال مکمل ہونے پر ان کی طرف سے ان کے مال کی زکوٰۃ نکالیں؛ اس کی دلیل وہ عام احادیث ہیں جو اس ضمن میں آئی ہیں، مثلاً معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کو یمن کی طرف بھیجنے لگے تو فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ». ’’یقینًا اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ کو فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے اور ان کے غریبوں کو دی جائے‘‘(9)۔
زکاۃ اللہ کا حق ہے، اسے ان لوگوں کو دینا جائز نہیں جو اس کے مستحق نہیں ہیں، نہ ہی اس سے انسان اپنے لیے کوئی فائدہ حاصل کرے یا کوئی نقصان دور کرے، نہ ہی اس سے اپنے مال کی حفاظت کرے یا اپنی کسی مصیبت کو دور کرے۔ بلکہ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زکاۃ کو اس کے مستحقین پر خرچ کرے کیوں کہ وہی اس کے حق دار ہیں، کسی اور غرض کو سامنے نہ رکھے، اللہ کی خاطر خوش دلی سے اس کو ادا کردے تاکہ وہ بری الذمہ ہو جائے اور اجر عظیم کا مستحق قرار پائے اور مال میں برکت کا باعث ہو۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں زکوٰۃ کے مستحقین کو بیان فرما دیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ60﴾
"صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت والا ہے"۔ [التوبۃ: ۶۰]
اس آیت کریمہ کے اختتام پر ان دو عظیم اسماء (العلیم اور الحکیم) کے ذکر میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے احوال کو جانتا ہے کہ کون ان میں سے زکوٰۃ کا مستحق ہے اور کون نہیں، وہ اس کو اور اس کی مقدار کو مشروع کرنے میں بڑا حکیم ہے، وہ تمام چیزوں کو ان کے لائق مقامات پر ہی رکھتا ہے، (اگرچہ بعض لوگوں پر اس کی حکمتیں مخفی ہوتی ہیں) تاکہ اس کی شریعت سے لوگ مطمئن رہیں اور اس کے حکم کو تسلیم کریں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، اس کے معاملات میں راست بازی کی توفیق عطا فرمائے، اس کی رضا مندی کے کاموں میں پہل کرنے کی سعادت نصیب فرمائے اور اس کا غضب لانے والے امور سے عافیت دے۔ یقینًا اللہ تعالىٰ سب کچھ سننے والا اور بہت قریب ہے۔
درود وسلام نازل ہو اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ﷺ پر اور آپ کے آل واصحاب پر۔
الرئيس العام لإدارات البحوث العلمية
افتاء، دعوت و ارشاد
سماحۃ الشیخ: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ
***
دوسرا پیغام
رمضان کے روزے اور قیام کی فضیلت کے ساتھ ساتھ بعض ایسے اہم احکام کا بیان، جو بعض لوگوں پر مخفی ہو سکتے ہیں۔
شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔
عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کی جانب سے یہ رسالہ ہر اس مسلمان کی خدمت میں ہے جو اس کو دیکھے۔ اللہ مجھے اور ان سب کو اہل ایمان کے راستے پر چلائے، اور مجھے اور ان کو کتاب و سنت کی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
آپ سب پر سلامتی اور اللہ کى رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔
اما بعد: یہ ایک مختصر نصیحت ہے جو ماہِ رمضان کے روزے اور قیام کی فضیلت، اور رمضان میں نیک اعمال میں سبقت کرنے کی فضیلت سے متعلق ہے، ساتھ ہی کچھ ایسے اہم احکام کا بیان بھی ہے جو بعض لوگوں پر مخفی ہو سکتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ ماہِ رمضان کی آمد کی خوشخبری اپنے صحابہ کو سناتے اور یہ خبر دیتے کہ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں رحمت اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: «إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ». ’’جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا نہیں رہتا، اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ ایک منادی پکارتا ہے: اے نیکی کے طلب گار! آگے بڑھ، اور اے برائی کے طلب گار! رک جا۔ اللہ تعالیٰ جہنم سے (بعض) لوگوں کو آزاد کرتا ہے۔ اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے‘‘۔
آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «جَاءَكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ بَرَكَةٍ يَغْشَاكُمُ اللهُ فِيهِ: فَيُنْزِلُ الرَّحْمَةَ وَيَحُطُّ الخَطَايَا، وَيَسْتَجِيبُ الدُّعَاءَ، يَنْظُرُ اللهُ إِلَى تَنَافُسِكُمْ فِيهِ فَيُبَاهِي بِكُمْ مَلَائِكَتَهُ؛ فَأَرُوا اللهَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خَيْرًا؛ فَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ حُرِمَ فِيهِ رَحْمَةَ اللهِ». ’’ماہِ رمضان، ماہِ مبارک تمھارے پاس آپہنچا ہے، اللہ تم پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے، دعاؤں کو قبول کرتا ہے، اور اللہ تمھارا اس میں نیکیوں میں سبقت کرنے کو دیکھتا ہے اور اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتا ہے؛ لہٰذا اپنی طرف سے اللہ کے سامنے خیر و بھلائی پیش کرو، کیوں کہ بدبخت وہ ہے جو اس ماہ میں اللہ کی رحمت سے محروم کردیا گیا۔‘‘
نیز آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». ’’جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور جس نے شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘۔
اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «يَقُولُ اللهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ الحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ؛ تَرَكَ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ. وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ المِسْكِ». "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، -نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے-، سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا؛ وہ میرے لیے اپنی شہوت اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے"۔
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت اور عمومی طور پر روزے کی فضیلت سے متعلق بہت ساری احادیث موجود ہیں۔
لہذا مومن کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور ماہِ رمضان کو پانے کی اللہ نے جو سعادت بخشی ہے اس کو غنیمت جانتے ہوئے نیکیوں میں آگے بڑھے ، برائیوں سے بچے اور اللہ کے فرائض ادا کرنے میں اور خصوصًا پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ کرے، اس لیے کہ یہ اسلام کا ستون اور شہادتین کے بعد سب سے عظیم ترین فریضہ ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان مرد اور عورت پر ان نمازوں کی پابندی خشوع و اطمینان کے ساتھ ان کے اوقات میں واجب ہے۔
مردوں کے حق میں تو یہ اہم ترین واجب ہے کہ وہ نمازوں کو اللہ کے ان گھروں میں پہنچ کر باجماعت ادا کریں جن میں اللہ نے اپنا نام بلند کرنے اور ان میں اپنے نام کا ذکر کرنے کی اجازت دی ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱرۡكَعُواْ مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ 43﴾
" اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو"۔ [البقرۃ : 43]۔ ارشاد باری تعالی ہے :
﴿حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ وَقُومُواْ لِلَّهِ قَٰنِتِينَ238﴾
" نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو"۔ [البقرة : 238]
نیز فرمان باری تعالى ہے:
﴿قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ 1 ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ 2﴾
" یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں"۔ یہاں تک ارشاد فرمایا:
﴿وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَوَٰتِهِمۡ يُحَافِظُونَ 9 أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡوَٰرِثُونَ10 ٱلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ 11﴾
" جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں. یہی لوگ وارث ہیں. جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے"۔ [المؤمنون : 11-9]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «العَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ». ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان فرق نماز کا ہے، تو جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا۔“
نماز کے بعد سب سے اہم فریضہ زکاۃ کی ادائیگی ہے جیسا کہ رب العزت نے فرمایا:
﴿وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ 5﴾
" انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا"۔ [البینۃ: ۵]
ارشاد باری تعالی ہے :
﴿وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ 56﴾
" نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے"۔ [النور: 56].
اللہ کی عظیم کتاب اور اس کے رسولِ کریم کی احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، قیامت کے دن اس کو اسی مال سے عذاب دیا جائے گا۔
نماز وزکاۃ کے بعد سب سے اہم فریضہ رمضان کے روزے ہیں، اور یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں مذکور ہے: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ البَيْتِ». ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بیشک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور خانہ کعبہ کا حج کرنا۔“
لہذا مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نماز اور روزوں کو اللہ کے حرام کردہ اقوال و اعمال سے محفوظ رکھے، اس لیے کہ روزوں سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی فرمانبرداری، اس کی حرمتوں کی تعظیم ، اللہ کی اطاعت میں نفس سے لڑنے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر صبر کرنے کی عادت پیدا کرنا مقصود ہے۔ صرف کھانے، پینے اور روزے کو توڑنے والی دیگر چیزوں سے رک جانا مقصود نہیں۔ اسی وجہ سے صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ»، ’’روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو تو نہ دل لگی کی باتیں کرے اور نہ شور وغل کرے۔ چنانچہ اگر کوئی اس کے ساتھ گالی گلوچ کرے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں تو روزے دار ہوں‘‘۔ رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ وَالجَهْلَ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ». ’’جو شخص جھوٹ بولنے، اس پر عمل کرنے اور جہالت سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پانی چھوڑدے‘‘۔ لہٰذا ان نصوص اور دیگر دلائل سے معلوم ہوا کہ روزے دار پر واجب ہے کہ وہ ہر اس چیز سے اپنے آپ کو بچائے جو اللہ نے اس پر حرام کیا ہے اور ہر اس چیز کی پابندی کرے جو اللہ نے اس پر واجب کیا ہے، اس طرح اس کے لیے مغفرت، جہنم سے آزادی، اور روزے اور قیام کی قبولیت کی امید کی جا سکتی ہے۔
چند اہم احکام ایسے ہیں جو کچھ لوگوں سے مخفی ہو سکتے ہیں:
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ روزہ ایمان کے ساتھ اور ثواب کے حصول کے لیے رکھے، ریاکاری، شہرت طلبی، لوگوں کی تقلید یا اپنے اہلِ خانہ یا اہل وطن کی پیروی کرتے ہوئے نہ رکھے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ روزہ رکھنے پر آمادہ کرنے والی بات اس کا یہ ایمان ہو کہ اللہ نے اس پر یہ فرض کیا ہے، اور اس کے رب کے ہاں اجر کی نیت سے ہو۔ اسی طرح رمضان کا قیام بھی ایمان واحتساب کے ساتھ کرنا چاہیے، نہ کہ کسی اور مقصد سے؛ اسی لیے نبی علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». ’’جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور جس نے شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘‘۔
جن باتوں کا حکم بعض لوگوں سے مخفی ہو سکتا ہے‘ ان میں سے یہ بھی ہے کہ بسا اوقات کسی زخم کا خون یا نکسیر یا قئے اور پانی یا پٹرول بغیر اختیار کے روزے دار کے حلق تک پہنچ جاتا ہے۔ تو ان تمام باتوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا، ہاں اگر کسی نے عمدًا قئے کیا تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا کیوں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَنْ ذَرَعَهُ القَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ القَضَاءُ». ''جسے قے آجائے اس پر قضا نہیں ہے اور جو قے کرے اس پر قضا واجب ہے۔''
ان میں سے یہ بھی ہے کہ کبھی روزے دار جنابت کےغسل کو طلوعِ فجر تک مؤخر کردیتا ہے اور اسی طرح بعض عورتیں حیض و نفاس سے پاکی کے غسل کو فجر تک مؤخر کردیتی ہیں، اگر اس عورت نے طلوعِ فجر سے پہلے پاکی دیکھ لی تو اس پر روزہ رکھنا لازم ہوگا۔ اس صورت میں فجر طلوع ہونے کے بعد بھی غسل کر سکتی ہے مگر سورج طلوع ہونے تک غسل کو مؤخر کرنا اس کے لیے جائز نہیں، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ غسل کر کے طلوعِ شمس سے پہلے نمازِ فجر ادا کرلے۔ اسی طرح جنبی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ طلوعِ شمس کے بعد جنابت کا غسل کرے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ غسل کرے اور طلوعِ شمس سے پہلے نمازِ فجر ادا کرلے، اور مرد پر جلدی غسل کرنا واجب ہے تاکہ وہ نمازِ فجر باجماعت ادا کر سکے۔
جن باتوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا ان میں یہ بھی ہے: خون ٹیسٹ کروانا، غذائی انجکشن کے علاوہ کوئی دوائی کا انجکشن لگوانا، لیکن اگر اشد ضرورت نہ ہو تو افطار تک مؤخر کرنا احوط و اولیٰ ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ». "جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔".
نیز رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے: «مَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ». ’’جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا‘‘۔
ان امور میں سے جن کا حکم بعض لوگوں سے مخفی رہ سکتا ہے‘ یہ بھی ہے: نماز میں اطمینان کا نہ ہونا، چاہے وہ فرض نماز ہو یا نفل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اطمینان، نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، جس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی، اس سے مراد نماز میں سکون، خشوع و خضوع اور اطمینان کے ساتھ ادائیگی ہے یہاں تک کہ ہر جوڑ اس کی جگہ پر واپس لوٹ جائے۔ بہت سے لوگ رمضان میں تراویح کی نماز ایسے پڑھتے ہیں کہ نہ اس کو سمجھتے ہیں اور نہ اس میں اطمینان ہوتا ہے، بلکہ کوّے کے ٹھونگ مارنے کی طرح (جلدی جلدی) ادا کرتے ہیں، اور ایسی نماز حقیقت میں باطل ہے، اور اس کا پڑھنے والا گناہ گار اور بے اجر ہوتا ہے۔
ان امور میں سے جن کا حکم بعض لوگوں سے مخفی رہ سکتا ہے‘ یہ بھی ہے : بعض لوگوں کا یہ گمان کہ تراویح کی رکعتیں بیس سے کم نہیں ہو سکتیں، اور بعض لوگوں کا یہ گمان کہ گیارہ یا تیرہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھا جا سکتا، یہ سارے گمان غلط ہیں، بلکہ یہ دلائل کے مخالف ہیں۔
رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کی نماز کی تعداد میں وسعت ہے، اس میں کوئی مخصوص تعداد کی حد بندی نہیں کی گئی جس کی خلاف ورزی نہ کی جاسکے۔ بلکہ آپ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے رات میں کبھی گیارہ رکعت ادا فرمائی، کبھی تیرہ اور کبھی اس سے بھی کم ادا فرمائی، رمضان میں بھی اور غیر رمضان میں بھی، اور جب آپ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى». ”دو دو رکعت (کر کے پڑھو) اور جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا خوف ہو تو وہ ایک رکعت نماز پڑھ لے؛ وہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنادے گی۔“ (متفق علیہ)
چنانچہ آپ ﷺ نے متعین رکعات کی حد بندی نہیں فرمائی نہ رمضان کے لیے اور نہ غیر رمضان کے لیے، اسی لیے صحابہ کرام نے عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بعض اوقات تئیس رکعات اور بعض اوقات گیارہ رکعات ادا فرمائی، یہ سب عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے دور کے صحابہ سے ثابت ہے۔
بعض سلف رمضان میں چھتیس رکعات اور تین وتر پڑھتے تھے، اور بعض اکتالیس رکعت پڑھتے تھے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے بھی اہلِ علم سے نقل کیا ہے اور فرمایا کہ اس معاملے میں وسعت ہے، اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص قراءت، رکوع اور سجدے کو لمبا کرے، اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ رکعتوں کی تعداد کم کرے، اور جو قراءت، رکوع اور سجدے کو ہلکا کرے، وہ تعداد میں اضافہ کرے۔ یہ ان کے کلام کا مفہوم ہے، رحمہم اللہ۔
جو شخص نبی ﷺ کی سنت پر غور کرے اس کو معلوم ہوجائے گا کہ اس سب میں افضل یہی ہے کہ گیارہ یا تیرہ رکعات نماز پڑھی جائے، چاہے رمضان ہو یا غیر رمضان؛ کیونکہ یہ نبی ﷺ کے اکثر اوقات کے عمل کے مطابق ہے، اور یہ نمازیوں کے لیے زیادہ آسان اور خشوع و خضوع کے قریب ہے۔ جو اس سے زیادہ پڑھنا چاہے تو وہ بغیر کسی حرج اور کراہیت کے پڑھ سکتا ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔
جو قیامِ رمضان کے لیے امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے اس کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ اپنی نماز کو امام کے ساتھ مکمل کر لے، کیوں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ». ’’جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ نماز مکمل کرلے تو اللہ اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھ دیتا ہے‘‘۔
تمام مسلمانوں کے لیے اس مبارک مہینے میں مختلف عبادات میں محنت کرنا مشروع ہے، جیسے نفل نماز، تدبر وتفکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت، کثرت سے تسبیح، تہلیل، تحمید، تکبیر، دعا واستغفار، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، دعوت الی اللہ، فقراء و مساکین کی دلجوئی، والدین کی فرمانبرداری، صلہ رحمی، پڑوسی کی عزت، مریض کی عیادت اور دیگر نیک کام؛ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گزر چکا ہے جس میں آپ نے فرمایا: «يَنْظُرُ اللهُ إِلَى تَنَافُسِكُمْ فِيهِ، فَيُبَاهِي بِكُمْ مَلَائِكَتَهُ؛ فَأَرُوا اللهَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خَيْرًا، فَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ حُرِمَ فِيهِ رَحْمَةَ اللهِ». ’’نیکیوں میں تمھارے سبقت کرنے کو اللہ دیکھتا ہے اور اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتا ہے، لہٰذا اللہ کو اپنی جانب سے بھلائی دکھاؤ کیونکہ بدبخت وہ ہے جو اس ماہ میں اللہ کی رحمت سے محروم ہوجائے‘‘.
نیز نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: «مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنْ خِصَالِ الخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ». ’’جس نے اس ماہ میں کسی نیکی کے ذریعے قرب حاصل کیا اس نے گویا دوسرے اوقات میں کسی فریضہ کو انجام دیا اور جس نے اس میں کسی فرض کو ادا کیا گویا اس نے دوسرے اوقات میں ستر فرضوں کو ادا کیا‘‘۔
مزید حدیثِ صحیح میں آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا ارشاد ہے: «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً، أَوْ قَالَ: حَجَّةً مَعِي». ’’رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔ یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) میرے ساتھ کئے گئے حج کے برابر ہے‘‘۔
اس ماہِ مبارک میں نیکی کے مختلف کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی مشروعیت کو بیان کرنے والی احادیث و آثار بکثرت موجود ہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ہر اس کام کی توفیق دے جو اس کی رضا کا باعث ہو، ہمارے روزے اور قیام کو قبول فرمائے، ہمارے حالات کو درست کردے، اور ہمیں ہر گمراہ کن فتنوں سے محفوظ رکھے۔ ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلم حکمرانوں کی اصلاح فرمائے اور حق پر ان تمام کو جمع فرمادے۔ یقینا اللہ ہی اس پر قادر ہے اور وہی اس کی طاقت رکھتا ہے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
() صحیح مسلم، حدیث نمبر: (993)۔
() صحیح مسلم، حدیث نمبر: (987)۔
() صحیح بخاری‘ حدیث نمبر: 1338۔
() صحیح مسلم، حدیث نمبر: (987)۔
() اسے ابوداود نے حدیث نمبر: (1563)، اور نسائی نے حدیث نمبر: (2270) کے تحت حسن سند سے روایت کیا ہے۔
() سنن ابو داود‘ حدیث نمبر: 1564۔
() سنن ابو داود‘ حدیث نمبر: 1562۔
() صحیح بخاری: 1395، صحیح مسلم: 19۔
() صحیح بخاری (8) صحیح مسلم (16)۔