PHPWord

 

 

حِصْنُ المُسْلِمِ

 

حِصن المسلم

کتاب وسنت کے منتخب اذکار

 

 

 

د. سَعِيدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ وَهْفٍ الْقَحْطَانِيُّ

 

اللہ تعالیٰ کا محتاج بندہ

ڈاکٹر سعید بن علی بن وہَف القحطانی

 

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

حصن المسلم

کتاب و سنت کے منتخب اذکار

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

مقدمہ

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، ہم اپنے نفسوں اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں۔ وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی ڈھیروں درود وسلام نازل فرمائے آپ پر، آپ کے اہل خانہ اور اولاد پر، آپ کے اصحاب پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر ۔ امّا بعد:

یہ مختصر کتاب میری ایک دوسری کتاب ’’الذِّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالعِلاَجُ بِالرُّقَى مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘1 کی تلخیص ہے جس کے اندر میں نے صرف ذکر اور دعا کی قسم کو مختصرََا پیش کیا ہے تاکہ اسے سفر میں ساتھ رکھنا آسان ہو۔

اس کتاب میں میں نے ذکر اور دعا کے متن پر اکتفا کیا ہے اور اصل کتاب میں موجود حوالہ جات میں سے صرف ایک یا دو حوالوں کو ذکر کیا ہے، جسے صحابی (راوی) کا نام جاننے یا مزید تخریج کی ضرورت ہو وہ اصل کتاب کی طرف رجوع کرلے۔ میں اللہ عزو جل کے اسماء حسنی اور صفات علیا کے واسطہ سے اس سے دعا گو ہوں کہ وہ اس عمل کو اپنے شرف وعزت والے چہرہ کے لیے خالص بنائے، اس سے مجھے میری زندگی میں اور میرے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچائے، اور جو بھی اس کتاب کو پڑھے یا شائع کرے یا اس کی اشاعت کا ذریعہ بنے اسے اس کے لیے فائدہ مند بنائے، بے شک اللہ سبحانہ ہی اس کا مالک اور اس پر قادر ہے۔ اللہ تعالی درود و سلام نازل فرمائے ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کے اہل خانہ اور اولاد پر، آپ کے صحابہ پر اور قیامت تک بھلائى کے ساتھ آپ کے صحابہ کی پیروی کرنے والوں پر۔

مؤلف

تحریر کردہ : ماہ صفر 1409هـ

 

 

***

 


ذکر کی فضیلت

اللہ تعالی نے فرمایا :

﴿فَٱذۡكُرُونِيٓ أَذۡكُرۡكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِي وَلَا تَكۡفُرُونِ 152﴾

’’تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔‘‘2

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ ذِكۡرٗا كَثِيرٗا41﴾

”اے ایمان والو! تم اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘3

﴿...وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾

’’...اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کیا ہے۔‘‘4

﴿وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ 205﴾

’’اور (اے نبی!) اپنے رب کو صبح وشام اپنے دل میں یاد کیجیے، عاجزی سے اور ڈرتے ہوئے، پست اور ہلکی آواز سے، اور آپ غافلوں میں (شامل) نہ ہوں۔‘‘5

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ، وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ ربَّهُ، مَثَلُ الحَيِّ وَالمَيِّتِ»، ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور (اس کی) جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا ایسے ہے جیسے زندہ اور مردہ شخص۔“6

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أَلَا أُنبِّئُكُم بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ، وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالوَرِقِ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقِكُم؟» قَالُوا بَلَى. «ذِكْرُ اللَّهِ تَعَالَى»، ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سب اعمال سے بہتر ہے اور تمھارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمھارے درجات میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمھارے لیے سونا اورچاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“7

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً»، ’’اللہ تعالی فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے اس یقین کے مطابق ہوں جو وہ میری بابت رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے ایسی محفل میں یاد کرتا ہوں جو اس کی محفل سے زیادہ بہتر ہے اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتاہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میں اس کے دونوں بازؤں کے پھیلاؤ کے برابر قریب آتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔‘‘8

عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! اسلام کے احکام وقوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئے جن پر میں (مضبوطی) سے جما رہوں، آپﷺ نے فرمایا: «لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ»، ’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘9

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ: ﴿الــم﴾ حَرْفٌ، وَلَكِنْ: أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيْمٌ حَرْفٌ». ’’جو شخص اللہ کی کتاب (قرآن) سے ایک حرف پڑھے تو اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی (کا اجر) اس جیسی دس نیکیوں کے برابر ہے، میں نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔‘‘10

عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکل کر تشریف لائے۔ ہم صفہ (چبوترے) پر موجود تھے، آپﷺ نے فرمایا: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ، أَوْ إِلَى العَقِيقِ، فَيَأْتيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ؟» ’’تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز صبح بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے بڑے بڑے کوہانوں والى دو اونٹنیاں لے آئے، اس کے لیے نہ وہ کسی جرم کا ارتکاب کرے اور نہ قطع رحمی کرے؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم (سب ہی) یہ پسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : «أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى المَسْجِدِ فَيَعْلَمَ، أَوْ يَقْرَأَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عز وجل خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ». ’’کیا تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے مسجد کی طرف نہیں جاتا کہ وہ اللہ عز وجل کی کتاب کی دو آیتیں سیکھ لے یا پڑھ لے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین (آیتیں) اس کے لیے تین (اونٹنیوں) سے بہتر ہیں اور چار (آیتیں) اس کے لیے چار (اونٹنیوں) سے بہتر ہیں اور (جتنی بھی آیتیں ہوں) اپنی تعداد کے اونٹوں سے (بہتر ہیں۔)‘‘11۔

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ، كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجِعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ». ’’جو شخص کسی ایسی جگہ بیٹھا جس میں اس نے اللہ تعالی کو یاد نہ کیا تو وہ (نشست) اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے باعثِ نقصان ہوگی اور جو شخص کسی ایسی جگہ لیٹا جہاں اس نے اللہ تعالی کو یاد نہ کیا تو وہ (لیٹنا) اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے باعثِ نقصان ہوگا۔‘‘12

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًَا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عذَّبَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ». ’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں جس میں وہ نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی, پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انھیں معاف کردے۔‘‘13

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ لهُمْ حَسْرةً». ’’جو لوگ کسی مجلس سے اٹھتے ہیں جس میں وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتے تو وہ مردہ گدھے کی بدبودار لاش جیسی چیز سے اٹھتے ہیں اور (یہ عمل) ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گا۔‘‘14

1۔ نیند سے بیدار ہونے کے اذکار

«الحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ». ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اس نے ہمیں ماردیا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کرجانا ہے۔‘‘15

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَريكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ للَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العَلِيِّ العَظِيمِ، رَبِّ اغْفرْ لِي»، (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے، اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت مگر بلندی اور عظمت والے اللہ ہی کی توفیق سے، اے میرے رب! مجھے بخش دے۔‘‘16

«الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي، وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ». ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے جسمانی عافیت دی اور مجھ پر میری روح لوٹادی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت دی۔‘‘17

﴿إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ 190 ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ 191 رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ 192 رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَـَٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ 193 رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ إِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ 194 فَٱسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ أَنِّي لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٖ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰۖ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَٰتَلُواْ وَقُتِلُواْ لَأُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ ثَوَابٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلثَّوَابِ 195 لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ 196 مَتَٰعٞ قَلِيلٞ ثُمَّ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ 197 لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّلۡأَبۡرَارِ 198 وَإِنَّ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَمَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِمۡ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشۡتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ 199 يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ 200﴾

’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں (ان لوگوں کے لیے) عظیم نشانیاں ہیں جو صاحبِ عقل ودانش ہیں۔

وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور وفکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! تو نے اس (سب کچھ) کو بے فائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس تو ہمیں عذابِ دوزخ سے بچانا۔

اے ہمارے پروردگار! بے شک جسے تو دوزخ میں ڈال دے، اسے یقیناً تو نے رسوا کر دیا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

اے ہمارے رب! بے شک ہم نے ایک منادی کو ایمان کا اعلان کرتے ہوئے سنا کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! پس تو ہمارے گناه معاف فرمادے اور ہم سے ہماری سب برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ موت دے۔

یا رب! ہمیں وہ کچھ عنایت فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

پس ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول فرمالى کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، لٰہذا جنھوں نے ہجرت کی اور جنھیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور انھیں میری راه میں تکلیف دی گئی اور وہ لڑے اور قت کردیے گئے تو میں ضرور ان سے ان کی برائیاں دور کروں گا اور یقینََا انھیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، (یہ سب کچھ) اللہ کی طرف سے صلے کے طور پر ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین صلہ ہے۔

تمھیں کافروں کا شہروں میں گھومنا پھرنا ہرگز دھوکا نہ دے۔

یہ فائدہ تو معمولی ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانا تو جہنم ہے اور وہ برى جگہ ہے۔

تاہم جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے، ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ سب کچھ) اللہ کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ نیکوں کے لیے بہت بہتر ہے۔

اور یقینََا کچھ اہلِ کتاب ایسے ہیں جو اللہ پر اور جو کچھ تمھاری طرف نازل کیا گیا اور جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا، اس پر ایمان لاتے ہیں، وہ اللہ کے سامنے جھکنے والے ہیں، وہ اللہ تعالی کی آیتوں کو معمولی قیمت کے عوض نہیں بیچتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، بے شک اللہ تعالی جلد حساب لینے والا ہے۔

اے ایمان والو! صبر کرو، (مقابلے کے وقت) ثابت قدم رہو اور مورچہ بند ہوکر تیار رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔‘‘

[آل عمران‘ آیت: 190-200]18۔

2 ـ لباس پہننے کی دعا

«الحَمْدُ للَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا (الثَّوْبَ) وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَّا قُوَّة...». ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور مجھے میری ذاتی قوت اور طاقت کے بغیر یہ عطا کیا۔‘‘19

3 ـ نیا لباس پہننے کی دعا

«اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ». ’’اے اللہ ! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تجھی نے مجھے یہ پہنایا، میں تجھی سے سوال کرتاہوں اس کی بھلائی کا اور اس کام کی بھلائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کام کے شر سے جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔‘‘20

4 ـ نیا لباس پہننے والے کے لیے دعا

«تُبْلِي وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى». ’’تم اسے بوسیدہ کرو اور اللہ تعالی (تمھیں) اس کے عوض اور دے۔‘‘21

«اِلبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا». ’’نیا لباس پہنو اور قابلِ تعریف زندگی بسر کرو اور تم شہید بن کر فوت ہو۔‘‘22

5 ـ لباس اتارتے وقت کیا پڑھے ؟

«بِسْمِ اللَّه». ’’اللہ تعالی کے نام کے ساتھ۔‘‘23

6 ـ بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا

«[بِسْمِ اللَّهِ] اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الخُبْثِ وَالخَبَائِثِ». ’’[اللہ کے نام کے ساتھ] اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں خبیثوں اور خبیثنیوں سے۔‘‘24

7 ـ بیت الخلا سے نکلنے کی دعا

«غُفْرَانَكَ». ’’(اے اللہ ! میں) تیری بخشش (چاہتاہوں۔)‘‘25

8 ـ وضوع سے پہلے کا ذکر

«بِسْمِ اللَّهِ». ’’اللہ تعالی کے نام کے ساتھ۔‘‘26

9 ـ وضو کے بعد کا ذکر

«أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ..». ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔‘‘27

«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ». ’’اے اللہ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں میں سے بنادے اور مجھے بہت پاک صاف رہنے والوں میں سے کردے۔‘‘28

«سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتوبُ إِلَيْكَ». ’’پاک ہے تو اے اللہ! اپنی تعریفوں کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘29

10 ـ گھر سے نکلتے وقت کا ذکر

«بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّّا بِاللَّهِ». ’’(میں اس گھر سے ) اللہ کے نام کے ساتھ (نکل رہاہوں)، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘30

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ». ’’اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں (اس بات سے) کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کردیا جائے، يا میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، يا میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، يا میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں یا میرے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔‘‘31

11 ـ گھر میں داخل ہوتے وقت کا ذکر

«بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ». ’’اللہ کےنام کےساتھ ہم ( گھرمیں) داخل ہوئے اور اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہم نکلے اور اپنے رب ہی پر ہم نے توکل کیا، پھر اپنے اہل خانہ کو سلام کرے۔‘‘32

12 ـ مسجد کی طرف جانے کی دعا

«اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي عَصَبِي نُورًا، وَفِي لَحْمِي نُورًا، وَفِي دَمِي نُورًا، وَفِي شَعْرِي نُورًا، وَفِي بَشَرِي نُورًا». ’’اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرمادے اور میری زبان میں بھی نور، میرے کانوں میں بھی نور اور میری نگاہ میں بھی نور، میرے اوپر بھی نور اور میرے نیچے بھی نور، میرے دائیں بھی نور اور میرے بائیں بھی نور، میرے سامنے بھی نور اور میرے پیچھے بھی نور، اور میرے نفس میں بھی نور پیدا فرمادے اور میرے نور کو خوب زیادہ کر، مجھے بہت زیادہ نور عطا کر اور میرے لیے (ہر طرف) نور کردے اور مجھے نور بنادے، اے اللہ ! مجھے نور عطا کر اور میرے پٹھے میں نور کردے اور میرے گوشت میں بھی اور میرے خون میں بھی اور میرے بالوں میں بھی اور میری جلد میں بھی نور کردے۔‘‘33

«اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَبْرِي... وَنُورًا فِي عِظَامِي» «وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا» «وَهَبْ لِي نُورًا عَلَى نُورٍ». ’’اے اللہ ! میرے لیے میری قبر میں نور کردے... اور میری ہڈیوں میں بھی۔‘‘34 ’’اور مجھے اور نور عطا کر، میرے نور میں زیادتى عطا فرما، مجھ کو زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔‘‘35 ’’اور مجھے نور پر نور عطا فرما۔‘‘36

 

13 ـ مسجد میں داخل ہونے کی دعا

(پہلے دایاں پاؤں اندر رکھیں)37 اور کہیں : «أَعُوذُ بِاللَّهِ العَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ القَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ’’ میں عظمت والے اللہ کی، اس کے عزت وشرف والے چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے‘‘38

«بِسْمِ اللَّهِ، وَالصَّلَاةُ» «وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» ’’اللہ کے نام کے ساتھ، اور درود‘‘39 ’’اور سلام ہو رسول اللہ ﷺ پر۔‘‘40

«اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ». ’’اے اللہ، میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘41

14 ـ مسجد سے نکلنے کی دعا

"پہلے اپنا بایاں پاؤں باہر رکھے"42 اور یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، ’’شروع اللہ کے نام سے اور درود وسلام ہو اللہ کے رسول پر،

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِك، اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل وکرم کا سوال کرتا ہوں،

اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ». اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ رکھ۔‘‘43۔

15 ـ اذان کے اذکار

اذان سن کر وہی الفاظ کہے جو مؤذن کہتا ہے۔ البتہ ((حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ)) ’’آؤ ! نماز کی طرف آؤ ! آؤ کامیابی کی طرف‘‘ کے جواب میں کہے : «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». «اللہ کے بغیر نہ کوئی (نیک کام کرنے کی) طاقت ہے اور نہ کسی (برائی سے بچنے کی) قوت۔»44

(جواب میں) کہے: «وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًَّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًَا» ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ اکیلے کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے پر، محمد (ﷺ) کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوا۔‘‘45

(یہ دعا مؤذن کے شہادتین کہنے کے بعد پڑھے۔)46

مؤذن کا جواب دینے کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے۔47

یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ القَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًَا مَحمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، [إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ المِيعَادَ]». ’’اے اللہ ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب، تو محمدﷺ کو خاص تقرب اور خاص فضیلت عطا کر اور انھیں اس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، یقینََا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‘‘48

(اذان اور اقامت کے درمیان اپنے لیے دعا کرے کیوں کہ اس وقت دعا رد نہیں ہوتی۔)49

16 ـ استفتاح (نماز شروع کرنے) کی دعا

«اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْني مِنْ خَطَايَايَ، بِالثَّلْجِ وَالماءِ وَالبَرَدِ». ’’اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جیسے تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری پیدا فرمائی ہے۔ اے اللہ ! مجھے میرے گناہوں سے صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ ! مجھ سے میرے گناہ برف، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے۔‘‘50

«سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ». ’’اے اللہ ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اور تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔‘‘51

«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًَا وَمَا أَنَا مِنَ المُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ المُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ المَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبي جَمِيعًَا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِها إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتوبُ إِلَيْكَ». میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینََا میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی بات کا حکم ہوا ہے اور میں اللہ کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور میں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، لہذا تو میرے سب گناہ معاف فرمادے، تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا اور بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما، تیرے سوا کوئی بھی بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی نہیں کرسکتا اور مجھ سے سارے برے اخلاق ہٹا دے، تیرے سوا کوئی بھی مجھ سے برے اخلاق نہیں ہٹا سکتا، میں حاضر اور تابع فرمان ہوں، تمام تر بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے اور برائی تیری طرف منسوب نہیں ہو سکتی، میری توفیق تیری ہی وجہ سے ہے، التجا بھی تیری طرف ہے، تو بہت بابرکت اور بڑا بلند ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘52

«اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ، وَمِيْكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقيمٍ». ’’اے اللہ ! جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے تھے۔ مجھے اپنے حکم کے ساتھ حق کی باتوں میں ہدایت دے جن میں اختلاف ہو گیا ہے، یقینََا تو ہی جسے چاہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘53

«اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًَا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ’’اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا، اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا۔ ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ۔ اور میں صبح وشام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں۔‘‘

تین مرتبہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ». «میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے: اس کے تکبر سے، اس کی پھونک سے، اور اس کے وسوسے سے»54.

«اللَّهُمَّ لَكَ الحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، [وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ] [وَلَكَ الحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ] [وَلَكَ الحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ] [وَلَكَ الحَمْدُ] [أَنْتَ الحَقُّ، وَوَعْدُكَ الحَقُّ، وَقَوْلُكَ الحَقُّ، وَلِقاؤُكَ الحَقُّ، وَالجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمحَمَّدٌ ﷺ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ] [اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حاكَمْتُ. فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ] [وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي] [أَنْتَ المُقَدِّمُ، وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ] [أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ] [وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ]». ’’اے اللہ ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے55، تو نور ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان چیزوں کا) جو ان میں ہیں، اور تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تو منتظم ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ بھی ان میں ہے اور تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، تو ہی رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان میں موجود چیزوں کا اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے۔ تیرے لیے بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو ان میں ہے اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو بادشاہ ہے آسمانوں اور زمین کا اور تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو حق ہے اور تیرا وعدہ حق ہے، تیری بات حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، آگ حق ہے، انبیاء حق ہیں، محمد ﷺ حق ہیں اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ ! تیرے ہی لیے میں تابع ہوا اور تجھی پر میں نے توکل کیا، تجھی پر میں ایمان لایا اور تیری ہی طرف میں نے رجوع کیا، تیری ہی مدد کے ساتھ میں نے (تیرے دشمنوں سے) مقابلہ کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لئے آیا، لہذا تو میری مغفرت فرمادے ان سب (گناہوں) سے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا، [اور جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے]، تو ہی (ہر چیز کو اس کے مقام تک) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی (اس سے) پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘56

17 ـ رکوع کی دعا

«سُبْحانَ رَبِّيَ العَظِيمِ». «پاک ہے میرا رب، عظمت والا»۔

تین دفعہ پڑھے57۔

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي». ’’پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ ! میرى مغفرت فرما دے۔‘‘58

«سُبُّوُحٌ، قُدُّوسٌ، رَبُّ المَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ». ’’بہت ہی پاکیزہ، انتہائی مقدس، فرشتوں اور روح (جيرائیل)کا رب۔‘‘59

«اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، [وَمَا استَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي]». ’’اے اللہ ! میں تیرے ہی واسطے جھکا اور تجھی پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرماں بردار بنا،اور میرے کانوں نے، میری آنکھوں نے، میرے دماغ نے، میری ہڈیوں نے،اور میرے پٹھوں نے [اور جسے میرے قدموں نے اٹھایا ہوا ہے] تیرے لئے اظہار عاجزی کیا۔‘‘60

«سُبْحَانَ ذِي الجَبَرُوتِ، وَالمَلَكُوتِ، وَالكِبْرِيَاءِ، وَالعَظَمَةِ». ’’پاک ہے بہت بڑی قدرت وطاقت والا اور بہت بڑی بادشاہت والا اور بڑائی اور عظمت والا۔‘‘61

18 ـ رکوع سے اٹھنے کی دعا

«سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ». ’’اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘62

«رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، حَمْدًا كَثيرًا طَيِّبًا مُبارَكًا فِيهِ». ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے، بہت زیادہ اور پاکیزہ تعریف جس میں برکت کی گئی ہے۔‘‘63

«مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيءٍ بَعْدُ. أَهلَ الثَّناءِ وَالمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ العَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ». ’’(اے اللہ! ہمارے پرودگار ! تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے) اتنی کہ جس سے آسمان بھر جائیں اور جس سے زمین بھر جائے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور اس کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جسے تو چاہے۔ اے تعریف اور بزرگی کے لائق ! سب سے سچی بات جو بندے نے کہی جب کہ ہم سب تیرے ہی بندے ہیں (یہ ہے کہ): اے اللہ ! جو تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔‘‘64

19 ـ سجدے کی دعا

«سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى» «پاک ہے میرا پروردگار جو سب سے بلند ہے»

تین دفعہ پڑھے65۔

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي». ’’پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے۔‘‘66

«سُبُّوحٌ، قُدُّوسٌ، رَبُّ المَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ». ’’بہت ہی پاکیزہ، انتہائی مقدس، فرشتوں اور روح (جيرائیل)کا رب۔‘‘67

«اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الخَالِقِينَ». ’’اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھی پر ایمان لایا اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا، میرا چہرہ اس ہستی کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا، اسے شکل وصورت دی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے، بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر انداز میں مقدار مقرر کرنے والا اور صورت گرى کرنے والا ہے۔‘‘68

«سُبْحَانَ ذِي الجَبَرُوتِ، وَالمَلَكُوتِ، وَالكِبْرِيَاءِ، وَالعَظَمَةِ». ’’پاک ہے انتہائی غلبے اور بڑی بادشاہت والا اور بڑائی اور عظمت والا۔‘‘69

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ: دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَّتَهُ وَسِرَّهُ». ’’اے اللہ! میرے تمام گناہوں کى مغفرت فرمادے، چھوٹے اور بڑے، پہلے اور بعد والے، ظاہر اور پوشیدہ۔‘‘70

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ». ’’اے اللہ! میں (تیرى) پناہ مانگتا ہوں تیری ناراضگی سے تیری رضا کے توسط سے، تیری سزا سے تیری معافی کے توسط سے اور میں تیرى پناہ مانگتا ہوں تجھ سے (يعنی تیرے عذاب سے)، میں تیری پوری تعریف نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنے آپ کی تعریف کی ہے۔‘‘71

 

20 ـ دو سجدوں کے درمیان کی دعا

«رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي». ’’اے میرے رب ! میرى مغفرت فرمادے، اے میرے رب ! میرى مغفرت فرمادے۔‘‘72

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَاجْبُرْنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي». ’’اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، میرا نقصان پورا کردے، مجھے عافیت دے، مجھے رزق دے اور مجھے بلندی عطا فرما۔‘‘73

21 ـ سجدۂ تلاوت کی دعا

«سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ، فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الخَالِقِينَ» ’’میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا اور اس نے اپنی طاقت اور قوت کے ذریعے سے اس کے کان اور آنکھ کے سوراخ بنائے، [بڑا بابرکت ہے اللہ تعالی جو سب سے بہتر انداز میں مقدار مقرر کرنے والا اور صورت گرى کرنے والا ہے]۔‘‘

[المؤمنون، آیت: 14]74۔

«اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ». ’’اے اللہ ! میرے لیے اس (سجدے) کے عوض اپنے ہاں اجر لکھ دے اور اس کی وجہ سے مجھ سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنادے اور اس (سجدے) کو میری طرف سے قبول فرما جیسے تو نے یہ (سجدہ) اپنے بندے داود علیہ السلام کی طرف سے قبول کیا تھا۔‘‘75

22 ـ تشہد

«التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَواتُ، وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسولُهُ». ’’(میری) تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے (دیگر) نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘76

23 ـ تشہد کے بعد نبی ﷺ پر درود وسلام

«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». ’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آلِ محمد پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف بڑی شان والا ہے، اے اللہ ! برکت نازل فرما محمد پر اور آلِ محمد پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف، شان والا ہے۔‘‘77

«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْواجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». ’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواجِ مطہرات اور آپ کی اولاد پر جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی آلِ ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواجِ مطہرات اور آپ کی اولاد پر جیسے تو نے برکت نازل فرمائی آلِ ابرہیم پر، یقینََا تو قابلِ تعریف بڑی شان والا ہے۔‘‘78

24 ـ آخری تشہد کے بعد سلام پھیر نے سے پہلے کی دعائیں

«اللَّهُــمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ». ’’اے اللہ! بلا شبہ میں عذابِ قبر سے، عذابِ جہنم سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘79

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ». ’’اے اللہ ! بے شک میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! یقیناً میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘80

«اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ». ’’اے اللہ ! بلاشبہ میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا، لہذا تو اپنی خاص بخشش سے میرى مغفرت فرمادے اور مجھ پر رحم فرما، یقینََا تو بہت مغفرت کرنے والا، انتہائی مہربان ہے۔“81

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ المُقَدِّمُ، وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ! تو میرے لئے معاف فرما دے ان (گناہوں) کو جو میں نے پہلے کیا اور جو بعد میں کیا، جو میں نے چھپ کر کیا اور جو میں نے سرِ عام کیا اور اس زیادتى کو بھى جو مجھ سے سرزد ہوئی اور اسے بھى جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی (ہر چیز کو اس کے مقام تک) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی (اس سے) پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔‘‘82

«اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبادَتِكَ». ’’اے اللہ! تو اپنے ذکر پر میری مدد فرما اور اپنے شکر پر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت بجالانے پر۔‘‘83

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ البُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ القَبْرِ». ’’اے اللہ! بلاشبہ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں عمر کے ناکارہ ترین حصے کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘84

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ». ’’اے اللہ! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘85

«اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الخَلقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الحَقِّ فِي الرِّضَا وَالغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ القَصْدَ فِي الغِنَى وَالفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ القَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ العَيْشِ بَعْدَ المَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَا بِزِينَةِ الإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ». ’’اے اللہ! اپنے غیب جاننے اور مخلوق پر قدرت رکھنے کے باعث مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندگی بہتر ہو اور مجھے اس وقت موت دینا جب تیرے علم کے مطابق میرے لیے موت بہتر ہو، اے اللہ ! بے شک میں حاضر اور غائب (دونوں حالتوں) میں تجھ سے تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے خوشنودی اور ناراضگی (دونوں حالتوں) میں کلمۂ حق کی توفیق کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے مالداری اور تنگ دستی میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور تجھ سے آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو، تجھ سے تیرے فیصلوں پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک مانگتا ہوں، میں تجھ سے تیرے چہرے کے دیدار کی لذت کا سوال کرتا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا (جو) بغیر کسی تکلیف دہ مصیبت اور گمراہ کن فتنے کے (حاصل) ہو، اے اللہ ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ رہنما بنادے۔‘‘86

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الوَاحِدُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِّيمُ». ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ ! اس لیے کہ تو واحد ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے، اس بات کى کہ تو میرے لئے میرے گناہوں کى مغفرت فرمادے، یقینََا تو بہت زیادہ مغفرت کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘87

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، المَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ يَا ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ الجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ». ’’اے اللہ ! یقینََا میں تجھ سے اس لیے سوال کر رہا ہوں کہ ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے، تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تیرا کوئی ساجھى نہیں، (تو) بے حد احسان کرنے والا ہے، اے آسمانوں اور زمین کو بے مثل پیدا کرنے والے، اے صاحبِ جلال اور عزت والے ! اے زندۂ جاوید! اے قائم ودائم ! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘88

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ». ’’اے اللہ ! بلا شبہ میں تجھ سے اس لیے سوال کر رہا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو یکتا ہے، بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔‘‘89

25 ـ سلام پھیرنے کے بعد کے اذکار

«أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ "میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں"

(تین مرتبہ) اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَامِ». ’’اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، تو بہت با برکت ہے اے بڑی شان اور عزت والے!۔‘‘90

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور ساری تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے"

[تین مرتبہ] اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ». "اے اللہ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی مالدار کو اس کی مالداری تیرے مقابلے میں نفع نہیں دے سکتی"91۔

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الكَافِرُونَ». ’’اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لئے نعمت ہے اور اسی کے لیے فضل اور اسی کے لیے بہترین ثنا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، ہم اسی کے لیے بندگی کو خالص کرنے والے ہیں، خواہ کافر (اسے) ناگوار سمجھیں۔‘‘92

«سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ "اللہ پاک ہے، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے"

(تینتیس مرتبہ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ». "اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"93۔

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1 ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ2 لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ3 وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ4﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔

اللہ بے نیاز ہے۔

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘ [الإخلاص: 1-4]۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1 مِن شَرِّ مَا خَلَقَ2 وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ3 وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ4 وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ5﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔

اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔

اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

اور ان کے شر سے جو پھونکنے والی ہیں گرہوں میں۔

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ (الفلق : 1-5)۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1 مَلِكِ ٱلنَّاسِ2 إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ3 مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ4 ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ5 مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ6﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔

لوگوں کے بادشاہ کی

لوگوں کے معبود کی۔

اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے۔

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘ [الناس: 1-6]۔

ہر نماز کے بعد۔94

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ255﴾

’’ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ اور قائم ودائم اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اورجو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلند تر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘

[ البقرة: 255]۔ ہر نماز کے بعد۔95

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» «اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔»

فجر اور مغرب کی نماز کے بعد دس مرتبہ یہ دعا پڑھے۔96

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا» «اے اللہ! بے شک میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں۔»

بَعْدَ السَّلامِ مِنْ صَلَاةِ الفَجْرِ. فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھے۔97

26 ـ نماز استخارہ کی دعا

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنے کی ایسے ہی تعلیم دیتے جیسے قرآن کریم کی کسی سورت کی تعلیم دیتے۔ آپ فرماتے: «إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ لْيَقُلْ: "جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہو، تو وہ دو رکعت نفل نماز ادا کرے، پھر یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيمِ؛ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأمْرَ - وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ - خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي – أَوْ قَالَ: عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ - فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي – أَوْ قَالَ: عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ – فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ». اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیرے علم کے ساتھ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ساتھ طاقت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جانتا ہے، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ بے شک یہ کام -اور اپنى حاجت کا نام لے- میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار -یا فرمایا: جلدى یا دیر- کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کا میرے حق میں فیصلہ کردے اور اسے میرے لیے آسان کردے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار -یا فرمایا: جلدى یا دیر- کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کردے اور مجھے اس سے دور کردے اور میرے لیے بھلائی کا فیصلہ کردے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی کردے۔‘‘98

جو شخص اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے اور مومن مخلوق سے مشورہ کرے اور پھر ثابت قدمی سے وہ کام سرانجام دے تو اسے ندامت نہیں ہوتی، فرمانِ باری تعالی ہے :

﴿...وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ...﴾.

’’...اور ان سے اہم کام میں مشورہ کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر توکل کری...۔‘‘99

27 ـ صبح و شام کے اذکار

"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو یکتا ہے اور درود وسلام ہو اس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں"۔100

’’میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔‘‘

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ255﴾

’’ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ اور قائم ودائم اور سب کو تھامنےوالا ہے، اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلند تر اور نہایت عظمت والا ہے۔‘‘

[البقرۃ‘ آیت: 255]101.

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1 ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ2 لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ3 وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ4﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔

اللہ بے نیاز ہے۔

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘ [الاخلاص‘ آیت: 1-4]۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1 مِن شَرِّ مَا خَلَقَ2 وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ3 وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ4 وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ5﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔

اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔

اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

اور ان کے شر سے جو پھونکنے والی ہیں گرہوں میں۔

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘

(الفلق‘ آیت : 1-5)۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1 مَلِكِ ٱلنَّاسِ2 إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ3 مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ4 ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ5 مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ6﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔

لوگوں کے بادشاہ کی۔

لوگوں کے معبود کی۔

اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے۔

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘

[الناس‘ آیت: 1-6]۔ (تین دفعہ پڑھے)102۔

«أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ المُلْكُ لِلَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا اليَوْمِ وَخَيرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذَا اليَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الكَسَلِ وَسُوءِ الكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي القَبْرِ». ’’ہم نے صبح کی اور اللہ کے سارے ملک نے صبح کی اور ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس دن کی بہتری کا جو اس کے بعد آنے والا ہے اور میں اس دن کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس کے بعد آنے والے دن کے شر سے، اے میرے رب! میں کاہلی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے میرے رب! میں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘103

اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الكَسَلِ وَسُوءِ الكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي القَبْرِ». «ہم نے شام کی اور اللہ کی ساری بادشاہی نے شام کی، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی اور اس کے بعد آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس رات کے شر اور اس کے بعد آنے والے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں سستی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے میرے رب! میں جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں»104۔

«اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ». ’’ اے اللہ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری ہی حفاظت میں شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے ہیں اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘105

اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ». «اے اللہ! ہم نے تیری ہی مدد سے شام کی، اور تیری ہی مدد سے ہم نے صبح کی، اور تیرے ہی سہارے ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی حکم سے ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔»106

«اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کےمطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تجھ سے اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، میں تیرے سامنے تیرے انعام کا اقرار کرتا ہوں107 جو مجھ پر ہوا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، لہذا تو میرى مغفرت فرمادے، حق یہ ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت نہیں کرسکتا۔‘‘108

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتِكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» (اے ﷲ! میں نے صبح کی، تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرے حاملین عرش، دوسرے فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بے شک تو ہی ﷲ ہے، تیرے ایک اکیلے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تیرا کوئی ساجھی نہیں اور بے شک محمد (ﷺ) تیرے بندے اور رسول ہیں)۔ چار مرتبہ109

اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَمْسَيْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتِكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» «اے اللہ! میں نے اس حال میں شام کی کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں، اور تیرے عرش اٹھانے والوں کو، تیرے فرشتوں کو، اور تیری تمام مخلوق کو کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، اور بے شک محمد تیرے بندے اور رسول ہیں» چار مرتبہ110

«اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ». ’’اے اللہ ! صبح کے وقت مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی انعام ہوا ہے، وہ تیری ہی طرف سے ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، چنانچہ تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔‘‘111

اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ مَا أَمْسَى بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ». «اے اللہ! اس شام مجھ پر یا تیری مخلوق میں سے کسی پر جو بھی نعمت ہوئی، وہ اکیلے تیری ہی طرف سے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، چنانچہ تیرے ہی لیے ساری تعریفیں ہیں اور تیرے ہی لیے شکر ہے۔»112

«اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الكُفْرِ، وَالفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (اے اللہ مجھے اپنے بدن میں عافیت عطا فرما، اے اللہ مجھے اپنی سماعت میں عافیت عطا فرما، اے اللہ مجھے اپنی بصارت میں عافیت عطا فرما، تیرے علاوہ کوئی اور معبود برحق نہیں ہے۔ اے اللہ میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتاہوں، اے اللہ میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتاہوں اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے )

تین دفعہ پڑھے113۔

«حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَهُوَ رَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ» «مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔» سات مرتبہ114

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَفْوَ وَالعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَفْوَ وَالعَافِيَةَ: فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَينِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي». ”اے اللہ! بے شک میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا اور اپنے اہل ومال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میری گھبراہٹوں میں امن دے۔ اے اللہ! تو میری حفاظت فرما میرے سامنے سے، میرے پیچھے سے، میری دائیں طرف سے، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے، اور میں تیری عظمت کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتاہوں کہ ناگہاں اپنے نیچے سے اچک لیاجاؤں۔‘‘115

«اللَّهُمَّ عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطانِ وَشَرَكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ». ’’اے اللہ ! غیب اور حاضر کے جاننے والے! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تیری پناہ میں آتاہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اور اس کے شرک سے اور اس بات سے کہ اپنے ہی خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘116

«بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ العَلِيمُ» (اللہ کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سنتا ہے اور خوب جانتا ہے۔) (تین دفعہ پڑھے)117

«رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًَّا، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ نَبِيًّا» (میں اللہ کے رب ہونے پر‘ اسلام کے دین ہونے پر‘ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں) تین دفعہ پڑھے118۔

«يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ». ’’اے زندۂ جاوید! اے قائم ودائم اور سب کو تھامنے والا! میں تیری رحمت کے توسل سے فریاد کرتا ہوں، تو میرا ہر کام سنوار دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کرنا۔‘‘119

«أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ المُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، اللَّهُـمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا اليَوْمِ: فَتْحَهُ، وَنَصْرَهُ، وَنورَهُ، وَبَرَكَتَهُ، وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ». ’’ہم نے صبح کی اور اللہ رب العالمین کے سارے ملک نے صبح کی ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بہتری مانگتا ہوں، اس کی فتح ونصرت، اس کا نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت اور میں اس دن کے شر اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘120

اور جب شام ہو تو یہ کہے: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى المُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ: فَتْحَهَا، وَنَصْرَهَا، وَنُورَهَا، وَبَرَكَتَهَا، وَهُدَاهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا». «ہم نے شام کی اور اللہ رب العالمین کے لیے تمام بادشاہی نے شام کی، اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اس رات کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں: اس کی فتح، اس کی مدد، اس کے نور، اس کی برکت اور اس کی ہدایت کا، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جو اس میں ہے اور اس برائی سے جو اس کے بعد ہے۔»121

«أَصْبَحْنا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلَامِ، وَعَلَى كَلِمَةِ الإِخْلاَصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ، حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ المُشرِكِينَ». ’’ہم نے فطرتِ اسلام، کلمۂ اخلاص، اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کے دین اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو یک رخ (اور) فرماں بردار تھے، کی ملت پر صبح کی اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔‘‘122

اور جب شام ہو تو یہ دعا پڑھے: «أَمْسَيْنَا عَلَى فِطْرَةِ الإِسْلَامِ، وَعَلَى كَلِمَةِ الإِخْلاَصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ، حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ المُشرِكِينَ». «ہم نے فطرتِ اسلام پر، کلمہ اخلاص پر، اپنے نبی محمد ﷺ کے دین پر اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر شام کی، جو یکسو مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔»123

«سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» «اللہ پاک ہے اور اسی کی تعریف ہے»

سو مرتبہ124

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» «اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔»

یہ دعا دس مرتبہ پڑھے،125 اگر سستی لاحق ہو تو ایک بار پڑھ لے۔126

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» «اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے» صبح کے وقت سو مرتبہ پڑھے127

«سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ: عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» (اللہ کی پاکیزگی ہے اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس قدر جتنی کہ اس کی مخلوق ہے اور اتنی کہ اس سے وہ راضی ہو جائے اور اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس قدر جتنی کہ اس کے کلمات کی روشنائی ہے)

صبح کے وقت تین مرتبہ128

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا» (اے اللہ میں تجھ سے علم نافع‘ رزق حلال اور عمل مقبول کا سوال کرتا ہوں)

صبح کے وقت129

«أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» «میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں» دن میں سو مرتبہ پڑھے130

«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» «میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے»

شام کے وقت تین مرتبہ131

«اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَى نَبَيِّنَا مُحَمَّدٍ» «اے اللہ ! رحمت نازل فرما ہمارے نبى محمد ﷺ پر۔» دس مرتبہ132

28 ـ سونے کے وقت کے اذکار

نبی (ﷺ) دونوں ہتھیلیاں ساتھ ملا کر ان میں پھونکتے اور ان میں یہ سورتیں پڑھتے :

﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ1 ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ2 لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ3 وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ4﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ ایک (ہی) ہے۔

اللہ بے نیاز ہے.

اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔

اور نہ ہی اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘ [الاخلاص‘ آیت: 1-4]۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ1 مِن شَرِّ مَا خَلَقَ2 وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ3 وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ4 وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ5﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔

اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔

اور اندھیرا کرنے والی (رات) کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

اور ان کے شر سے جو پھونکنے والی ہیں گرہوں میں۔

اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘

(الفلق‘ آیت : 1-5)۔

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ1 مَلِكِ ٱلنَّاسِ2 إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ3 مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ4 ٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِ5 مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ6﴾

”آپ کہہ دیجیے کہ میں پناه میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔

لوگوں کے بادشاہ کی۔

لوگوں کے معبود کی۔

اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈالنے والا کھسک جانے والا ہے۔

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔‘‘ [الناس‘ آیت: 1-6]۔

پھر ان دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ سر اور چہرہ اور جسم کے سامنے کے حصے سے شروع فرماتے))۔ اس طرح آپ ﷺ تین مرتبہ یہ عمل کرتے تھے۔133.

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ255﴾

’’ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ جاوید اور قائم ودائم اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے ہاں سفارش کرسکے مگر اس کی اجازت سے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جس قدر وہ خود چاہے، اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہ بلند تر، نہایت عظمت والا ہے۔‘‘

[البقرۃ‘ آیت: 255]134۔

﴿ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ285 لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَآ إِن نَّسِينَآ أَوۡ أَخۡطَأۡنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَآ إِصۡرٗا كَمَا حَمَلۡتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦۖ وَٱعۡفُ عَنَّا وَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَآۚ أَنتَ مَوۡلَىٰنَا فَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ286﴾

’’رسول (ﷺ) اس پر ایمان ﻻئے ہیں جو ان کے رب طرف سے نازل کی گئی ہے اور سارے مومن بھی، سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں : ہم نے (حکم) سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، کسی شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو اس نے برائی کی اس کا وبال بھی اسی پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول چوک ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کر، اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈاﻻ تھا، اے ہمارے رب! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوا اور ہم سے درگزر فرما اور ہمارى مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔‘‘

[البقرۃ‘ آیت: 285-286]135۔

«بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا، بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ». ’’اے میرے رب ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا اور تیرے ہی نام کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا، لہذا اگر تو میری روح روک لے تو اس پر رحم فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی ایسے حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘136137

«اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْياهَا، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ العَافِيَةَ». ’’اے اللہ ! تو نے میری روح پیدا فرمائی اور تو ہی اسے فوت کرے گا، تیرى ہی ملکیت میں اس کی موت اور حیات ہے اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرمانا اور اگر تو اسے موت دے تو اس کى مغفرت فرمانا۔ اے اللہ ! بلا شبہ میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘138

«اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ». ’’اے اللہ ! مجھے اس دن139 اپنے عذاب سے بچا لینا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔‘‘140

«بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا». ’’تیرے ہی نام کے ساتھ اے اللہ ! میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘141

«سُبْحَانَ اللَّهِ "سبحان اللہ"

(ثَلَاثًا وَثَلاثِينَ)، (تینتیس مرتبہ) وَالحَمْدُ لِلَّهِ اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں

(ثَلَاثًا وَثَلاثِينَ)، (تینتیس مرتبہ) وَاللَّهُ أَكْبَرُ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔

(أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ)». (چونتیس مرتبہ)۔142

«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الأَرْضِ، وَرَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الحَبِّ وَالنَّوَى، وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ، وَالفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ البَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الفَقْرِ». ’’اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب ! زمین کے رب ! اور عرشِ عظیم کے رب ! اے ہمارے اور ہرچیز کے رب ! اے دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والے! اور اے تورات وانجیل اور فرقان (قرآن) کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑے ہوئے ہے، اے اللہ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اور تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں ہے، ہم سے (ہمارا) قرض ادا کردے اور ہمیں فقر سے نکال کر غنی بنادے۔‘‘143

«الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ». ’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں کافی ہوگیا اور ہمیں ٹھکانا دیا، (ورنہ) کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ ٹھکانا دینے والا۔‘‘144

«اللَّهُمَّ عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا، أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ». ’’اے اللہ ! اے غیب اور حاضر کے جاننے والے! اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! اے ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس بات سے بھی کہ اپنے ہی نفس کے خلاف کسی برائی کا ارتکاب کروں یا اسے کسی مسلمان کی طرف کھینچ لاؤں۔‘‘145

«يَقْرَأُ ﴿الــم﴾ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ، وَتَبَارَكَ الَّذي بِيَدِهِ المُلْكُ». "سورت الم تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ اور سورت تَبَارَكَ الَّذي بِيَدِهِ الْمُلْكُ پڑھے"۔146

«اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ». ’’اے اللہ !147 میں نے اپنا نفس تیرے تابع کردیا اور اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے، تجھ سے دور ہوکر نہ کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ جائے نجات تیری بارگاہ کے سوا، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل فرمایا اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے (ہماری طرف) بھیجا۔‘‘148

29 ـ رات کو کروٹ بدلتے وقت کی دعا

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الوَاحِدُ القَهّارُ، رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا العَزيزُ الغَفَّارُ». ’’اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں، وہ یکتا ہے، زبردست ہے، رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کا جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، بہت غالب، بہت مغفرت کرنے والا ہے۔‘‘149

30 ـ وحشت اور نیند میں گھبراہٹ کے وقت کی دعا

«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ، وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّياطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ». ’’میں اللہ کے مکمل کلمات كى پناہ مانگتا ہوں اس کی ناراضی اور اس کی سزا اور اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسہ ڈالنے (گناہوں پر ابھارنے اور اکسانے) سے اور اس بات سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں (اور مجھے بہکائیں۔)‘‘150

31 ـ برا خواب آئے تو کیا کرے

(1) برا خواب آئے تو [تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھوکے۔]151

(2) [شیطان اور اپنے اس خواب کی برائی سے تین دفعہ اللہ کی پناہ مانگے۔]152

(3) [یہ خواب کسی کو نہ سنائے۔]153

(4) [جس پہلو لیٹا ہو اسے بدل دے۔]154

(5) [اگر چاہے تو اٹھ کر نماز پڑھے۔]155

32 ـ قنوتِ وتر کی دعائیں

«اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، [وَلاَ يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ]، تَبارَكْتَ رَبَّنا وَتَعَالَيْتَ». ’’اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے کر ان میں (داخل کر) جنھیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان میں (شامل کر) جنھیں تو نے عافیت دی اور میری سرپرستی فرما ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی فرمائی اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تونے عطا کیں اور مجھے ان فیصلوں کے شر سے بچا جو تو نے کیے، اس لیے کہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے (فیصلے کے) خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو دوست بن جائے [اور وہ معزز نہیں ہو سکتا جس سے تو دشمنی کرے]، اے ہمارے رب ! تو بہت بابرکت اور نہایت بلند ہے۔‘‘156

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ». ’’اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا کے توسل سے تیری ناراضگی سے اور تیری معافی کے توسل سے تیری سزا سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیرے توسل سے تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنے آپ کی تعریف کی۔‘‘157

«اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ مَنْ يَكْفرُكَ». ’’اے اللہ ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، اور تیری طرف ہی کوشش اور جلدی کرتے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں تیری رحمت کی اور ڈرتے ہیں تیرے عذاب سے، بے شک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ ! بے شک ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں اور تیری بہترین تعریف کرتے ہیں، اور ہم تیری ناشکری نہیں کرتے اور ہم ایمان لاتے ہیں تجھ پر اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں تیرے سامنے اور علحیدگی اختیار کرتے ہیں ہم اس سے جو تجھ سے کفر کرے۔‘‘158

33 ـ نمازِ وتر سے سلام پھیرنے کے بعد کی دعا

«سُبْحَانَ المَلِكِ القُدُّوسِ» «پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے»

ثلَاثَ مرَّاتٍ تین مرتبہ والثَّالِثَةُ يَجْهَرُ بها ويَمُدُّ بِهَا صَوتَهُ يَقُولُ: اور تیسری بار بلند آواز سے پڑھے اور اپنی آواز کو کھینچ کر کہے: «رَبِّ المَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ». «فرشتوں اور روح (جبریل) کا رب»۔159

34 ـ فکر مندی اور حزن وملال کے وقت کی دعائیں

«اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ القُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي». ’’اے اللہ! یقیناََ میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے ہی بندے کا بیٹا ہوں اور تیری ہی کنیز کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، مجھ میں تیرا ہی حکم جاری وساری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ مبنی بر انصاف ہے، میں تیرے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے تجھ سے درخواست کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو اپنے علمِ غیب میں اپنے پاس (رکھنے کو) خاص کیا ہے (میں درخواست کرتا ہوں) کہ تو قرآنِ مجید کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا علاج اور میری فکروں کا تریاق بنا دے۔‘‘160

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ». ’’اے اللہ! میں تیرى پناہ چاہتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجزی اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘161

35 ـ بے قراری اور اضطراب کے وقت کی دعائیں

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ العَظِيمُ الحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ وَرَبُّ العَرْشِ الكَرِيمِ». "اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت عظمت والا، بڑا بُردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ عرشِ عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرشِ کریم کا رب ہے۔‘‘162

«اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ! میں تیری رحمت ہی کی امید رکھتا ہوں، لہذا تو آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے اپنے نفس کے سپرد نہ کرنا اور میرے لیے میرے سب کام سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘163

«لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ». ’’تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، یقینََا میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘164

«اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا». ’’اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘165

36 ـ دشمن اور صاحبِ سلطنت سے ملتے وقت کی دعائیں

«اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِم، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ». ’’اے اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔‘‘166

«اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي، وَأَنْتَ نَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقاتِلُ». ’’اے اللہ! تو ہی میرا ناصر وحامی ہے اور تو ہی میرا مددگار ہے۔ تیری ہی توفیق سے میں دشمنوں کے مکر وفریب کا سد باب کرتا ہوں اور تیری ہی مدد کے ساتھ میں دشمنوں پر حملہ کرتا ہوں اور تیرى ہى توفیق ومدد سے (دشمن سے) لڑتا ہوں۔‘‘167

«حَسْبُنا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيلُ». ’’ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور (وہ) بہترین کار ساز ہے۔‘‘168

37 ـ بادشاہ کے ظلم سے ڈرنے والے کی دعائیں

«اللَّهُمَّ ربَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، وَأَحْزَابِهِ مِنْ خَلَائِقِكَ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ يَطْغَى، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». ’’اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا رب ! تو میرے لیے فلاں بن فلاں سے اور تیری مخلوق میں سے اس کے تمام حامیوں اور مددگاروں سے پناہ دینے والا بن جا، اس بات سے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی مجھ پر زیادتی یا سرکشی کرے، تیری پناہ مضبوط ہے اور تیری تعریف عظیم ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘169

«اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، المُمْسِكِ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِ، مِنَ الجِنِّ وَالإِنْسِ، اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اپنی تمام مخلوق سے زیادہ زور اور غلبے والا ہے، اللہ ان سے کہیں زیادہ طاقت والا ہے جن سے میں خوف کھاتا اور ڈرتا ہوں، میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو روکے ہوئے ہے اس بات سے کہ وہ زمین پر گرجائیں ، مگر اس کی اجازت سے، تیرے فلاں بندے کے شر سے، اس کے لشکروں کے شر سے، اس کے پیروکاروں اور اس کے ساتھیوں کے شر سے، خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، اے اللہ ! تو ان کے شر سے میرا پشت پناہ بن جا، تیری تعریف عظیم ہے اور تیری پناہ مضبوط ہے اور تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘

ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. (تین مرتبہ پڑھے)170۔

38 ـ دشمن پر بد دعا

«اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الكِتَابِ، سَرِيعَ الحِسَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ». ’’اے اللہ ! کتاب نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، (مخالف) گروہوں کو شکست سے دو چار فرما، اے اللہ! انھیں شکست دے اور انھیں ہلاکر رکھ دے۔‘‘171

39 ـ لوگوں سے ڈرے تو یہ دعا مانگے

«اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ». ’’اے اللہ ! تو مجھے ان سے کافی ہوجا، جس طرح تو چاہے۔‘‘172

40 ـ جسے ایمان میں وسوسہ لا حق ہوجائے اس کے لیے دعائیں

[اللہ تعالی کی پناہ مانگے۔]173 کہے: (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔)

([اس چیز یا کام سے رک جائے جس میں وسوسہ لاحق ہوا ہو۔)174

(یہ دعا پڑھے : (آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ). (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔)175

[اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھے :

﴿هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡأٓخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ 3﴾

’’وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔‘‘ [الحدید‘ آیت: 3 ]176۔

41 ـ قرض کی ادائیگی کی دعا

«اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكِ عَمَّنْ سِوَاكَ». ’’اے اللہ ! تو مجھے اپنے حلال کردہ چیزوں کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘177

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ». ’’اے اللہ! یقینََا میں تیری پناہ میں آتا ہوں فکر اور حزن وملال سے، عاجز ہو جانے اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘178

42 ـ قرآن اور نماز میں وسوسے سے بچنے کی دعا

«أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ الرَّجِيمِ، «میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں،

وَاتْفُلْ عَلَى يَسَارِكَ (ثَلَاثًا)». اور اپنی بائیں جانب تھتکاریں۔ (تین مرتبہ)»179

43 ـ مشکل کام کی آسانی کے لیے دعا

«اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلاً، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلاً». ’’اے اللہ ! کوئی کام آسان نہیں ہے مگر وہی جسے تو آسان کردے اور تو مشکل کام جب چاہے، آسان کردیتا ہے۔‘‘180

44 ـ گناہ کر بیٹھے تو کیا کہے اور کیا کرے؟

«مَا مِنْ عَبْدٍ يُذنِبُ ذَنْبًا فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ». "جو شخص کوئی گناہ کرے تو وہ اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اللہ تعالی سے مغفرت کا طلب گار ہو تو اللہ تعالی اس کى مغفرت فرمادیتا ہے"181۔

45 ـ شیطان اور اس کے وسوسوں کو دور کرنے کی دعا

شیطان سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔182

(اذان)۔183

مسنون اذکار اور قرآنِ مجید کی تلاوت۔

«لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ». «اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔»184

اسی طرح جو چیزیں شیطان کو دور کرتی ہیں ان میں صبح وشام کی دعائیں، سونے اور جاگنے کی دعائیں، گھر میں داخل ہونے اور گھر سے باہر نکلنے کی دعائیں، مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے باہر نکلنے کی دعائیں اور ایسی تمام دعائیں شامل ہیں جو شریعتِ میں ثابت ہیں، مثلا : سوتے وقت آیۃ الکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے، اور جو شخص لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مِائَةَ مَرَّةٍ، كانت له حرزًا من الشيطان يومه كله، سو مرتبہ پڑھے، تو وہ پورے دن شیطان سے محفوظ رہے گا185، اسی طرح اذان شیطان کو بھگاتی ہے۔

46 ـ ناپسندیدہ واقعہ کے رونما ہونے اورمغلوب ہوجانے کے وقت کی دعا

«قَدَرُ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ». ’’اللہ تعالی نے مقدر فرمایا اور اس نے جو چاہا کیا۔‘‘186

47 ـ جس کے یہاں نو مولود کى ولادت ہوئى ہو اس کو مبارکبادى اور اس کا جواب

«بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي المَوْهُوبِ لَكَ، وَشَكَرْتَ الوَاهِبَ، وَبَلَغَ أَشُدَّهُ، وَرُزِقْتَ بِرَّهُ». «اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس عطا کردہ (بچے) میں برکت دے، تم عطا کرنے والے کا شکر ادا کرو، وہ اپنی جوانی کو پہنچے، اور تمہیں اس کی فرمانبرداری نصیب ہو۔»187

جسے مبارکباد دی جائے وہ اسے جواب میں کہے: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، وَرَزَقَكَ اللَّهُ مِثْلَهُ، وَأَجْزَلَ ثَوَابَكَ». «اللہ آپ کے لیے برکت دے اور آپ پر برکت نازل فرمائے، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ آپ کو اس کی مثل عطا فرمائے، اور آپ کے ثواب کو بڑھا دے۔»188

48 ـ بچوں کو کن الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیا جائے

رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیتے تھے : «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ». ’’میں تم دونوں کو اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر لگ جانے والی نظر سے۔‘‘189

49 ـ بیمار پرسی کے وقت مریض کے لیے دعائیں

«لَا بأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ». ’’کوئی حرج نہیں اگر اللہ نے چاہا تو یہ بیماری (گناہوں سے) پاک کرنے والی ہے۔‘‘190

«أَسْأَلُ اللَّهَ العَظِيمَ رَبَّ العَرْشِ العَظِيمِ أَنْ يَشْفيَكَ» (میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت اور بڑائی والا اور عرش عظیم کا رب ہے کہ تجھے شفاء عنایت فرمائے۔) سات مرتبہ۔191

50 ـ بیمار پرسی کی فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا : «إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مَشَى فِي خِرَافَةِ الجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ». ’’جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی کے لیے جاتا ہے تو وہ بیٹھنے تک جنت کے میووں میں چلتا ہے، جب وہ بیٹھتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کا وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کا وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔‘‘192

51 ـ زندگی سے ناامید مریض کی دعائیں

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى». ’’اے اللہ ! ميرى مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما اور مجھے اعلى ساتھیوں کے ساتھ ملا دے۔‘‘193

’’نبی کریم ﷺ وفات کے وقت اپنے ہاتھوں کو پانی میں ڈال کر اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے ہوئے یہ دعا پڑھ رہے تھے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ «اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں

إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ». بے شک موت کی سختیاں ہیں۔»194

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے۔‘‘195

52 ـ قریب الموت کو تلقین

«مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ «جس کا آخری کلام یہ ہو کہ

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں

دَخَلَ الجَنَّة». وہ جنت میں داخل ہوگا۔»196

53 ـ مبتلائے مصیبت کی دعا

«إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًَا مِنْهَا». ’’یقیناََ ہم اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ ! مجھے میرى مصیبت میں اجر دے اور مجھے بدلے میں اس سے زیادہ بہتر دے۔‘‘197

54 ـ میت کی آنکھیں بند کرتے وقت کی دعا

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِفُلَانٍ (بِاسْمِهِ) وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي المَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ العَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ». ’’اے اللہ ! فلاں (نام لے کر کہے) کى مغفرت فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور اس کے بعد اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں اس کا جانشین بن اور ہمارى اور اس کى مغفرت فرما اے رب العالمین! اور اس کے لیے اس کی قبر میں کشادگی فرما اور روشنی کردے۔‘‘198

55 ـ میت کے لیے نمازِ جنازہ کے دوران کی دعائیں

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًَا خَيًْرا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ [وَعَذَابِ النَّارِ]». ’’اے اللہ ! اسى کى مغفرت فرما دے ، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اسے معاف فرمادے، اس کی مہمان نوازی اچھی کر، اس کی قبر فراخ کر دے، (اس کے گناہوں کو) دھودے پانی، برف اور اولوں کے ساتھ اور اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کر دیا، اسے بدلے میں ایسا گھر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو اور ایسے گھر والے جو اس کے گھر والوں سے زیادہ بہتر ہوں اور ایسی بیوی جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو اور اسے جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب اور آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘199

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ». ’’اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ کو، ہمارے حاضر اور غائب کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو معاف فرما دے، یا الٰہی ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے تو فوت کرے، اسے ایمان پر فوت کر، اے اللہ ! ہمیں اس ( میت) کے اجر سے محروم نہ کرنا اور ہمیں اس کے بعد گمراہ نہ کرنا۔‘‘200

«اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ، وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ القَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الوَفَاءِ وَالحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحيمُ». ’’اے اللہ! بلا شبہ فلاں بن فلاں تیرے ذمے اور تیری پناہ میں ہے، لہذا تو اسے فتنۂ قبر اور آگ کے عذاب سے بچا اور تو وفا اور حق والا ہے، چنانچہ تو اس کى مغفرت فرمادے اور اس پر رحم فرما، یقینا تو بہت زیادہ مغفرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘201

«اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي حَسَنَاتِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ». ’’اے اللہ! تیرا (یہ) بندہ اور تیری کنیز کا بیٹا، تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے، اگر یہ نیک تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما اور اگر یہ گناہ گار تھا تو اس سے درگزر فرما۔‘‘202

56 ـ بچے کی نمازِ جنازہ کی دعائیں

«اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ». ’’اے اللہ ! اسے عذاب قبر سے بچا۔‘‘203

اور اگر وہ کہے : «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ فَرَطًا وَذُخْرًا لِوَالِدَيْهِ، وَشَفِيعًا مُجَابًا، اللَّهُمَّ ثَقِّلْ بِهِ مَوَازِينَهُمَا، وَأَعْظِمْ بِهِ أُجورَهُمَا، وَأَلْحِقْهُ بِصَالِحِ المُؤْمِنِينَ، وَاجْعَلْهُ فِي كَفَالَةِ إِبْرَاهِيمَ، وَقِهِ بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ الجَحِيمِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَسْلَافِنَا، وَأَفْرَاطِنَا، وَمَنْ سَبَقَنَا بِالإِيمَانِ» «اے اللہ! اسے اس کے والدین کے لیے آگے بھیجا ہوا سامان اور ذخیرہ بنا دے، اور ایسا سفارش کرنے والا بنا جس کی سفارش قبول کی جائے۔ اے اللہ! اس کے ذریعے ان دونوں کے ترازو کو بھاری کردے، اس کے ذریعے ان کے اجر کو بڑھا دے، اسے نیک مومنوں کے ساتھ ملا دے، اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی کفالت میں رکھ، اپنی رحمت سے اسے جہنم کے عذاب سے بچا لے، اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر، اور اس کے اہل وعیال کے بدلے بہتر اہل وعیال عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے اسلاف، ہمارے پیش روؤں اور ہم سے پہلے ایمان لانے والوں کی مغفرت فرما۔»

تو اچھی بات ہے۔204

«اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا، وَسَلَفًا، وَأَجْرًا». «اے اللہ! اس (بچے) کو ہمارے لیے آگے پہنچ کر انتظام کرنے والا، ذخیرۂ آخرت اورباعثِ اجر بنا دے۔»205

57 ـ تعزیت کی دعائیں

«إِنَّ للَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمَّى... فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ». ’’یقیناََ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور اس کے پاس ہر چیز وقتِ مقررہ کے ساتھ ہے...اس لیے چاہیے کہ تم صبر کرو اور اس صبر میں اجر وثواب کی نیت رکھو۔‘‘206

اور اگر ساتھ میں یہ بھى کہے: «أَعْظَمَ اللَّهُ أَجْرَكَ، وَأَحْسَنَ عَزَاءَكَ، وَغَفَرَ لِمَيِّتِكَ» ’’اللہ تعالی تیرا اجر بڑھائے اور تمھیں اچھے طریقے سے تسلی دے اور تمھارے فوت شدہ کى مغفرت فرمادے۔‘‘

تو اچھی بات ہے۔207

58 ـ میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا

«بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ». ’’اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق (تمھیں دفن کرتے ہیں)۔‘‘208

59 ـ میت کو دفن کرنے کے بعد کی دعا

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ». ’’اے اللہ ! اس کى مغفرت فرمادے، اے اللہ ! اسے ثابت قدم رکھ۔‘‘209

60 ـ زیارتِ قبور کی دعا

«السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ، مِنَ المُؤْمِنِينَ وَالمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، [وَيَرْحَمُ اللَّهُ المُسْتَقدِمِينَ مِنَّا وَالمُسْتأْخِرِينَ] أَسْاَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ العَافِيَةَ». ’’ان گھروں (قبروں ) کے مومن اور مسلمان مکینو ! تم پر سلام ہو اور بلا شبہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ضرور ملنے والے ہیں، [اور ہم میں سے پہلے جانے والوں پر اور بعد میں جانے والوں پر اللہ رحم فرمائے۔] میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمھارے لیے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘210

61 ـ آندھی کی دعائیں

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا». ’’اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘211

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ». ’’اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس چیز کی بھلائی کا جو اس میں ہے اور اس چیز کی بھلائی کا جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اور میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس چیز کے شر سے جو اس میں ہے اور اس چیز کے شر سے جس کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے۔‘‘212

62 ـ بادل گرجنے کے وقت کی دعا

«سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ». ’’پاک ہے وہ ذات کہ گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے (تسبیح کرتے ہیں)۔‘‘213

63 ـ بارش طلب کرنے کی چند دعائیں

«اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ». ’’اے اللہ ! تو ہمیں ایسی بارش سے سیراب کر جو مددگار، خوش گوار، سرسبز کرنے والی، مفید ہو نقصان دہ نہ ہو، جلد ہو، نہ کہ دیر سے آنے والی۔‘‘214

«اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا». ’’اے اللہ ! ہمیں بارش دے، اے اللہ ! ہمیں بارش دے، اے اللہ ! ہمیں بارش دے۔‘‘215

«اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ، وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِي بَلَدَكَ المَيِّتَ». ’’اے اللہ ! اپنے بندوں اور اپنے چوپایوں کو پانی پلا اور اپنی رحمت عام کردے اور اپنے مردہ شہر کو زندہ کردے۔‘‘216

64 ـ بارش نازل ہوتے وقت کی دعا

«اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا». ’’اے اللہ ! اسے نفع بخش بارش بنا۔‘‘217

65 ـ بارش نازل ہونے کے بعد کی دعا

«مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ». ’’ہم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ بارش سے نوازے گئے۔‘‘218

66 ـ مطلع صاف ہونے کے لیے دعا

«اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ». ’’اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا اور (اب) ہم پر نہ (برسا)۔ اے اللہ! ٹیلوں پر، پہاڑیوں پر، اور وادیوں میں نیز درختوں کے اگنے کی جگہوں پر (بارش برسا)۔‘‘219

67 ـ چاند دیکھنے کی دعا

«اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإِسْلَامِ، وَالتَّوْفِيقِ لِمَا تُحِبُّ رَبَّنَا وَتَرْضَى، رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ». ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! تو اسے امن، ایمان، سلامتی، اسلام اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جسے تو پسند کرتا ہے، ہم پر طلوع فرما، اے ہمارے رب ! اور (جس سے) تو راضی ہوتا ہے۔ (اے چاند!) ہمارا اور تمھارا رب اللہ ہے۔‘‘220

68 ـ افطار کے وقت کی دعائیں

«ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ العُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ». ’’پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔‘‘221

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي». ’’اے اللہ ! بے شک میں تیری اس رحمت کے ذریعے سے جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے۔‘‘222

69 ـ کھانا کھانے سے پہلے کی دعا

«إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: ’’جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو اسے کہنا چاہیے:

بِسْمِ اللَّهِ، بسم اللہ

فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ: اگر شروع میں کہنا بھول جائے تو یوں کہے: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ». اللہ کے نام سے اس کے شروع اور آخر میں»223.

«مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ الطَّعَامَ فَلْيَقُلْ: ’’جسے اللہ تعالی کھانا کھلائے، اسے کہنا چاہیے :

اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں اس سے زیادہ بہتر کھلا۔

وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اور جسے اللہ تعالی دودھ پلائے، اسے کہنا چاہیے : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ». اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ نواز»224۔

70 ـ کھانے سے فراغت کے بعد کی دعائیں

«الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا، وَرَزَقَنِيهِ، مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ». ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے یہ (کھانا) مجھے کھلایا اور مجھے یہ (کھانا) عطا کیا بغیر میری کسی طاقت کے اور بغیر میری کسی قوت کے۔‘‘225

«الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ [مَكْفِيٍّ وَلَا] مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنَىً عَنْهُ رَبَّنَا». ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت، نہ (یہ کھانا) کفایت کیا گیا (کہ مزید کی ضرورت نہ رہے) ، نہ اسے چھوڑا گیا ہے اور نہ اس سے بے نیاز ہوا جاسکتا ہے، اے ہمارے رب۔‘‘226

71 ـ میزبان کے حق میں مہمان کی دعا

«اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُم، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ». ’’اے اللہ ! ان کے لیے ان چیزوں میں برکت عطا فرما جو تو نے ان کو دیں اور ان کى مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔‘‘227

72 ـ کھانا یا پانی طلب کرنے کے لئے بطور تعریض دعا دینا۔

«اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي، وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي». ’’اے اللہ ! اسے کھلا جس نے مجھے کھلایا اور اسے پلا جس نے مجھے پلایا۔‘‘228

73 ـ کسی کے ہاں افطاری کرنے کے وقت کى دعا

«أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ المَلَائِكَةُ». ”روزے دار تمھارے ہاں افطار کرتے رہیں، نیک لوگ تمھارا کھانا کھاتے رہیں اور اللہ کے فرشتے تمھارے لیے دعائیں کرتے رہیں۔‘‘229

74 ـ روزہ دار کى دعا کہ جب کھانا حاضر ہو اور روزہ دار کھانا تناول نہ کرے

«إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ»، ”جب تم میں سے کسی کو (کھانے کی) دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے, اگر وہ روزہ دار ہو تو اسے (صاحب خانہ کے لیے) دُعا کرنی چاہیے، اور اگر وہ روزہ سے نہ ہو تو اسے کھانا چاہیے۔‘‘230

حدیث میں وارد لفظ ’’فَلْيُصَلِّ‘‘ کے معنے دعا کرنے کے ہیں۔

75 ـ روزے دار کو کوئی گالی دے تو کیا کہے؟

«إِنِّي صَائِمٌ، إِنِّي صَائِمٌ». ’’بلاشبہ میں روزے سے ہوں، بلاشبہ میں روزے سے ہوں۔‘‘231

76 ـ پہلا پھل دیکھنے کے وقت کی دعا

«اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا». ’’اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے پھل میں برکت فرما، ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت فرما، ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت فرما اور ہمارے لیے ہمارے مُد میں برکت فرما۔“232

77 ـ چھینک کی دعا

«إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُم فَلْيَقُلِ: «جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے کہنا چاہیے:

الحَمْدُ لِلَّهِ، تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں،

وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: اور جو اسے سنے وہ کہے: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، اللہ آپ پر رحم فرمائے،

فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ: پھر جب وہ اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے تو چھینکنے والا جواب میں کہے: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُم». اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارا حال درست کرے۔»233

78 ـ اگر کافر چھینک آنے پر الحمد للہ کہے تو کیا کہا جائے

«يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ». ’’اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارا حال درست کرے۔‘‘234

79 ـ شادی کرنے والے کے لیے دعا

«بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ». ’’اللہ تیرے لیے برکت کرے اور تجھ پر برکت کرے اور تم دونوں کو خیر میں جمع کرے۔‘‘235

80 ـ شادی کرنے اور سواری خرید نے والے کی دعا

جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے یا خادم خریدے تو اس چاہیے کہ یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، «اے اللہ ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور اس چیز کی بھلائی کا جس پر تونے اس کو پیدا کیا اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا،

وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ». اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑے اور یہی دعا پڑھے۔»236

81 ـ بیوی کے پاس آنے سے پہلے کی دعا

«بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا». ’’اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ ! ہمیں شیطان (مردود) سے بچا اور اس (اولاد) کو بھی شیطان سے بچا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔‘‘237

82 ـ غصہ کے وقت کی دعا

«أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ». ’’میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں شیطانِ مردود سے۔‘‘238

83 ـ مصیبت زدہ کو دیکھنے کے وقت کی دعا

«الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا». ’’ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور مجھے اپنی مخلوق میں سے بہتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔‘‘239

84 ـ دورانِ مجلس کی دعا

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک ہى مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو مرتبہ یہ دعا شمار کی جاتی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الغَفُورُ». ’’اے میرے رب ! میرى مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا اور انتہائی مغفرت فرمانے والا ہے۔‘‘240

85 ـ مجلس کا کفارہ

«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ». ’’اے اللہ! پاک ہے تو اپنی تعریفوں سمیت، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘241

86 ـ اس شخص کے لئے دعا جو یہ کہے اللہ آپ کى مغفرت فرمائے

«وَلَكَ». ’’اور اللہ آپ کى بھى مغفرت فرمائے۔‘‘242

87 ـ حسن سلوک کرنے والے کے لیے دعا

«جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا». ’’اللہ تمھیں (اس سے) زیادہ بہتر بدلہ دے۔‘‘243

88 ـ وہ اذکار جن کے اختیار کرنے کى وجہ سے اللہ تعالے دجال سے محفوظ رکھے گا

«مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ»، "جو شخص سورۂ کہف کی شروع کی دس آیتیں حفظ کرے گا وہ دجال سے محفوظ ہوجائے گا۔‘‘244۔

اور ہر نماز کے آخری تشہد میں دجال کے فتنے سے اللہ کى پناہ مانگنا بھی اس سے تحفظ کا باعث ہے۔245

89 ـ مجھے تم سے اللہ کے لیے محبت ہے، کہنے والے کو دعا۔

«أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ». ’’وہ ہستی (اللہ تعالی) تم سے محبت کرے جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی۔‘‘246

90 ـ اس شخص کے حق میں دعا جو آپ کے سامنے اپنال مال پیش کرے

«بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ». ’’اللہ تعالی تیرے لئے تیرے اہل وعیال اور مال ودولت میں برکت عطا فرمائے۔‘‘247

91 ـ قرض کی ادائیگی کے وقت قرض دینے والے کے لیے دعا

«بارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الحَمْدُ وَالأَدَاءُ». ’’اللہ تعالی تیرے اہل وعیال اور مال ودولت میں برکت عطا فرمائے، قرض کا صلہ تو صرف اور صرف شکریہ اور ادائیگی ہی ہے۔‘‘248

92 ـ شرک سے خوف کى دعا

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ». ’’اے اللہ! بے شک مَیں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ جان بوجھ کر (کسی کو) تیرا شریک ٹھہراؤں، اور میں تجھ سے ان غلطیوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جنھیں میں نہیں جانتا۔‘‘249

93 ـ برکت کی دعا دینے والے کے حق میں دعا

«وَفِيكَ بَارَكَ اللَّهُ». ’’اور اللہ تعالی تجھے بھی برکت عطا کرے۔‘‘250

94 ـ بد شگونی سے ناپسندیدگی کی دعا

«اللَّهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ». ’’اے اللہ ! نہیں ہے کوئی بدشگونی، مگر تیری ہی بدشگونی (یعنى تیرے ہی حکم سے) اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری ہی بھلائی (یعنى تیری ہی مشیت سے) اور تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔‘‘251

95 ـ سواری پر بیٹھنے کی دعا

«بِسْمِ اللَّهِ، وَالحَمْدُ للَّهِ - ’’اللہ تعالی کے نام سے، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔

﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔‘‘

الحَمْدُ لِلَّهِ، الحَمْدُ لِلَّهِ، الحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي؛ فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ». ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! تو پاک ہے ! یقیناََ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، تو میرى مغفرت فرمادے، بے شک تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت نہیں کرسکتا۔‘‘252

96 ـ سفر کی دعا

«اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، - ’’اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے،

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو) ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم اسے قابو میں کرلینے والے نہیں تھے۔

وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔‘‘

اللَّهُمَّ إِنّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ العَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالخَليفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ المَنْظَرِ، وَسُوءِ المُنْقَلَبِ فِي المَالِ وَالأَهْلِ»، ’’اے اللہ ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے، اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کی لمبی مسافت ہم سے لپیٹ دے،اے اللہ ! اس سفر میں تو ہی (ہمارا) ساتھی ہے اور (تو ہی ہمارا) جانشین ہے گھر والوں میں، اے اللہ ! سفر کی مشقت، (اس کے) تکلیف دہ منظر اور مال اور گھر والوں میں بری تبدیلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

سفر سے واپسی پر بھی یہی الفاظ کہتے اور ان میں یہ اضافہ کرے: «آيِبُونَ، تائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ». ’’(ہم) واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘253

97 ـ کسی شہر یا بستی میں داخل ہونے کی دعا

«اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّياطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ القَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا». ’’اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور ان چیزوں کے رب جن پر یہ سایہ کیے ہوئے ہیں، اور ساتوں زمینوں اور ان چیزوں کے رب جنھیں یہ اٹھائے ہوئے ہیں، شیطانوں کے اور ان کے رب جن کو انھوں نے گمراہ کیا، ہواؤں اور ان چیزوں کے رب جو انھوں نے اڑائی ہیں، میں تجھ سے اس بستی، اس کے باشندوں اور اس (بستی) میں موجود چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس کے شر سے اور اس کے باسیوں کے شر سے اور (ان چیزوں کے) شر سے جو اس میں ہیں۔‘‘254

98 ـ بازار میں داخل ہونے کی دعا

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ». ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور سب تعریف اسی کے لیے ہے، وہی زندگی دیتا اور وہی مارتا ہے اور وہ زندہ ہے مرتا نہیں، اسی کے ہاتھ میں سب بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘255

99 ـ سواری پھسلنے کے وقت کی دعا

«بِسْمِ اللَّهِ». ’’اللہ کے نام کے ساتھ۔‘‘256

100 ـ مقیم کے حق میں مسافر کی دعا

«أَسْتَوْدِعُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ». ’’میں تمھیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔‘‘257

101 ـ مسافر کے حق میں مقیم کی دعائیں

«أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ». ’’میں تمھارا دین، تمھاری امانت اور تمھارا آخری عمل اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘258

«زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، وَيَسَّرَ لَكَ الخَيْرَ حَيْثُ ما كُنْتَ». ’’اللہ تمھیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے، تمھارے گناہ بخش دے اور تم جہاں بھی رہو تمھارے لیے بھلائی آسان کردے۔‘‘259

 

102 ـ دورانِ سفر تسبیح وتکبیر

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: «جب ہم بلندی پر چڑھتے تو تکبیر (اللہ اکبر) کہتے، کہتے: (اللہ سب سے بڑا ہے۔) اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے۔»260

کہتے: (اللہ پاک ہے)

103 ـ دورانِ سفر صبح کے وقت کی دعا

«سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صاحِبْنَا، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ». ’’ایک سننے والے نے اللہ کی تعریف سنی اور ہم پر اس کے جو اچھے انعامات ہوئے (ان کا تذکرہ بھی سنا) اے ہمارے رب ! ہمارا ساتھی بن جا اور ہم پر مہربانی فرما، (ہم یہ دعا کرتے ہیں) اللہ کی پناہ میں آتے ہوئے آگ (کے عذاب) سے۔‘‘261

104 ـ دورانِ سفر یا سفر کے بغیر کسی جگہ ٹھہر نے کی دعا

«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ». ’’میں اللہ کے مکمل کلمات کى پناہ طلب کرتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘262

105 ـ سفر سے واپسی کی دعا

«يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ: «ہر بلندی پر تین مرتبہ تکبیر (اللہ اکبر) کہے، پھر کہے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزابَ وَحْدَهُ». اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور ساری تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے تمام (مخالف) گروہوں کو شکست دے دی۔‘‘263

106 ـ خوشخبری یا نا پسندیدہ بات سننے والا کیا کہے؟

رسول اللہ ﷺ کے پاس اگر کوئی خوش کن خبر آتی تو آپ فرماتے : «الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ» ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کے انعام کے باعث ہی نیک کام مکمل ہوتے ہیں۔‘‘

اگر کوئی ناپسندیدہ معاملہ سامنے آتا تو فرماتے : «الحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ». ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ہر حال میں۔‘‘264

107 ـ رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کی فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا : «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا». ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا، اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘265 جیسے کہے: (اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام نازل فرما۔)

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «لَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُم تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ». ”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ اور مجھ پر درود بھیجو، تم جہاں بھی ہو تمھارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔“266

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «البَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ». ’’بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘267

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ». ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو روئے زمین میں چلتے پھرتے ہیں، وہ میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔‘‘268

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِيَ حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ». ’’کوئی شخص (جب) بھی مجھے سلام کہتا ہے، اللہ تعالی میری روح مجھے واپس لوٹا دیتا ہے تاکہ میں اسے سلام کا جواب دوں۔‘‘269

108 ـ سلام کو پھیلانا

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : «لَا تَدْخُلُوا الجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُم عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُم، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ». ’’تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک کہ تم مومن نہیں ہوگے اور تم مومن نہیں ہوگے جب تک کہ تم باہم محبت نہ کرو گے، کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں جس کے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرو گے ! آپس میں سلام کثرت سے کہو۔‘‘270

«ثَلَاثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الإِيمَانَ: الإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ، وَالإِنْفَاقُ مِنَ الإِقْتَارِ». "تین خصلتیں ایسى ہیں کہ جس نے انہیں اپنے اندر جمع کر لیا، اس نے ایمان کو اکٹھا کر لیا: اپنے نفس سے انصاف کرنا، دنیا میں سلام کو عام کرنا، اور تنگدستی کے باوجود خرچ کرنا۔"271

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا، کون سا اسلام بہتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ». ’’تم کھانا کھلاؤ، اور سلام کہو اسے جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے ہو۔‘‘272

 

109 ـ کافر کے سلام کا جواب

«إذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الكِتَابِ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ». نبی ﷺ کا فرمان ہے :’’جب اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) تمھیں سلام کہیں تو تم کہو : وعلیکم (اور تم پر بھی۔)‘‘273

110 - مرغ کے بولنے اور گدھا کے رینکنے کے وقت کی دعا

«إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ؛ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، «جب تم مرغ کی پکار سنو تو اللہ تعالی سے اس کا فضل مانگو کیوں کہ اس نے فرشتہ دیکھا ہے،

جیسے یہ کہے: (اے اللہ، میں تجھ سے تیرے فضل وکرم کا سوال کرتا ہوں۔)

وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيطَانِ؛ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا». اور جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، اس لیے کہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔»274 جیسے یہ کہے: (میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔)

111 ـ رات کو کتوں کے بھونکنے کے وقت کی دعا

«إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الكِلَابِ وَنَهِيقَ الحَمِيرِ بِاللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْهُنَّ؛ فَإِنَّهُنَّ يَرَيْنَ مَا لَا تَرَوْنَ». "جب تم رات کے وقت کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے رینکنے کی آواز سنو تو ان سے اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا کرو کیوں کہ یہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنھیں تم نہیں دیکھ پاتے۔‘‘275

جیسے یہ کہے: (میں شیطان مردود کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔)

112 ـ ایسے شخص کے لیے دعا جسے تم نے گالی دی ہو

نبی ﷺ نے فرمایا : «اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ القِيَامَةِ». ’’اے اللہ ! جس کسی مومن کو میں نے برا بھلا کہا، تو اسے اس (مومن) کے لیے قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنادے۔‘‘276

113 ـ مسلمان دوسرے مسلمان کی تعریف میں کیا کہے؟

نبی ﷺ نے فرمایا: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُم مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا، أَحْسِبُهُ –إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَاكَ – كَذَا وَكَذَا». "اگر تم میں سے کسی کے لیے اپنے ساتھی کی تعریف کرنا ناگزیر ہو جائے تو اسے کہنا چاہیے: میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں اور اللہ ہی اس کا حساب لینے والا ہے اور میں اللہ کے سامنے کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔ میں اسے ایسا اور ایسا سمجھتا ہوں، اگر وہ اسے ویسا ہی جانتا ہو۔"277

114 ـ جب مسلمان اپنی تعریف سنے تو کیا کہے؟

«اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ، وَاغْفِرْ لِي مَا لَا يَعْلَمُونَ، [وَاجْعَلْنِي خَيْرًا مِمَّا يَظُّنُّونَ]». ’’اے اللہ ! میری اس کی وجہ سے گرفت نہ فرمانا جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور میرے لئے ان (گناہوں) کى مغفرت فرما دے جو یہ نہیں جانتے [اور مجھے اس سے زیادہ بہتر بنادے جو یہ (میرے بارے میں) گمان رکھتے ہیں]۔‘‘278

115 ـ حج یا عمرے کا احرام باندھنے والا لبیک کیسے کہے؟

«لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ». ’’اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلاشبہ ہر تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘279

 

116 ـ حجرِ اسود کے قریب جاکر اللہ اکبر کہنا

«طَافَ النَّبيُّ ﷺ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى الرُّكْنَ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ عِنْدَهُ وَكَبَّرَ». "نبی کریم ﷺ نے اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا، جب آپ حجرِ اسود کے پاس آتے تو اس کی طرف، اپنے پاس موجود کسی چیز کے ذریعے سے اشارہ کرتے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے۔"280

117 ـ رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان کی دعا

﴿...رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ﴾

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘281

118 ـ صفا اور مروہ پر ٹھہرنے کے وقت کى دعا

رسول اللہ ﷺ جب صفا کے قریب ہوئے تو تلاوت کیا: «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللَّهِ...، أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ’’(بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں...) میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتدا فرمائی ہے۔‘‘

پھر نبی ﷺ نے ’’صفا‘‘ سے آغاز فرمایا۔ اس کے اوپر چڑھتے گئے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا، پھر قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالی کی توحید اور کبریائی بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے ہی نے (مخالف) گروہوں کو شکست دی۔‘‘

ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذلكَ، قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» پھر اس کے درمیان دعا کی، آپ ﷺ نے اسی طرح تین بار فرمایا۔» پورى حدیث۔ اس کے اندر یہ اضافہ بھی ہے: اور پھر مروہ پر ویسا ہی کیا جیسا صفا پر کیا تھا282۔

119 ـ یوم عرفہ کی دعا

نبی ﷺ نے فرمایا : «خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبيُّونَ مِنْ قَبْلِي: سب سے بہتر دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔ اور (اس دن) جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہا ہے اس میں سب سے افضل یہ ہے : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ». اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے»283۔ "نبی ﷺ قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوگئے۔ جب مشعرِ حرام پہنچے تو قبلہ رخ ہوکر اللہ تعالی سے دعا کی، اللہ کى تکبیر وتہلیل میں لگے رہے اور کلماتِ توحید کہتے رہے۔ پھر خوب روشنی ہونے تک یہیں ٹھہرے رہے، اس کے بعد سورج نکلنے سے پہلے یہاں سے روانہ ہوگئے۔"284 "رسول اللہ ﷺ تینوں جمرات کے پاس جب بھی کنکری پھینکتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر آگے بڑھتے اور پہلے اور دوسرے جمرے کے بعد قبلہ رخ ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا بھی فرماتے، تاہم جمرہ عقبہ کو رمی کرتے ہوئے ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور اس کے پاس ٹھہرے بغیر واپس ہوجاتے۔"285

120 ـ مشعرِ حرام کے پاس ذکر

121 ـ رمیٔ جمرات کے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا

122 ـ تعجب اور خوشی کے وقت کی دعائیں

«سُبْحَانَ اللَّهِ!». ’’اللہ پاک ہے۔‘‘286

«اللَّهُ أَكْبَرُ!». ’’اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘287

123 ـ خوشخبری ملنے پر کیا کرے

«كَانَ النَّبيُّ ﷺ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ يُسَرُّ بِهِ خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى». "نبی ﷺ کو کسی خوش کن چیز کی اطلاع ملتی تو آپ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے۔"288

 

 

124 ـ جسم میں تکلیف محسوس ہو تو کیا کرے اور کیا کہے؟

«ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَألَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: ’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور کہو :

بِسْمِ اللَّهِ، اللہ کے نام سے

ثَلَاثًا، (تین مرتبہ) وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو: أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ». میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، اس تکلیف کے شر سے، جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔»289

125- خود اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا کہے؟

«إِذَا رَأَى أَحَدُكُم مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ [فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ] فَإِنَّ العَيْنَ حَقٌّ». ’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے نفس میں یا اپنے مال میں کوئی خوش کن چیز دیکھے تو اسے اس کے لئے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیوں کہ نظر (لگ جانا) حق ہے۔"290

126 ـ گھبراہٹ کے وقت کیا کہا جائے ؟

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ!». ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘291

127 ـ عام جانور یا اونٹ ذبح کرتے وقت کیا کہے؟

«بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ [اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ] اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي». ’’(میں) اللہ تعالی کے نام سے (ذبح کرتاہوں) اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! یہ تیری ہی طرف سے اور تیرے ہی لیے ہے، اے اللہ ! تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما۔‘‘292

128 ـ سرکش شیطانوں کے مکر وفریب سے بچنے کی دعا

«أَعُوذُ بكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ: مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَبَرَأَ وَذَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ». ’’میں اللہ تعالی کے ان مکمل کلمات کے پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک اور کوئی برا آگے نہیں گزر سکتا، اس چیز کے شر سے جسے اس نے پیدا فرمایا اور پھیلایا اور وجود عطا کیا اور اس چیز کے شر سے جو آسمانوں سے اتری ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جسے اس نے زمین میں پھیلایا اور اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کے وقت ہر آنے والے کے شر سے، سوائے رات کو ایسے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے، اے نہایت رحم کرنے والے!‘‘293

 

129 ـ توبہ واستغفار

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : «وَاللَّهِ إِنِّي لأَسْتَغفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي اليَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةٍ». ’’اللہ کی قسم! میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔‘‘294

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ فَإِنِّي أَتُوبُ فِي اليَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ». ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘295

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَنْ قَالَ: «جس نے یہ دعا پڑھی: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ العَظيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّوُمُ وَأَتُوبُ إِلَيهِ، میں عظمت والے اللہ سے مغفرت کا خواستگار ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور سب کو تھامنے والا ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں،

غَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ». اللہ اسے بخش دے گا، اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہی کیوں نہ ہو۔»296

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ العَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الآخِرِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ». ’’ربِ تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے، اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں تو ہو جاؤ۔‘‘297

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ العَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكثِرُوا الدُّعَاءَ». ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ نزدیک سجدہ کرتے ہوئے ہوتا ہے، لہٰذا (سجدے میں) زیادہ سے زیادہ دعا کیا کرو۔‘‘298

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي اليَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ». ”میرے دل پر پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو دفعہ اللہ تعالی سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔“299

130 ـ تسبیح، حمد وثنا، لا الہ الا اللہ اورتکبیر کی فضیلت

رسول اللہ نے فرمایا : «مَنْ قَالَ: «جس نے کہا: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریف کے ساتھ۔

فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ البَحْر». دن میں سو بار، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔»300

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «مَنْ قَالَ: «جس نے یہ دعا پڑھی: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور ساری تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔

عَشْرَ مِرَارٍ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ». دس دفعہ، تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کیے۔»301

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: «دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بڑے وزنی ہیں اور رحمان کو بڑے محبوب ہیں: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحانَ اللَّهِ العَظِيمِ». پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت، پاک ہے اللہ بہت عظمت والا۔»302

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «لَأَنْ أَقُولَ: «میرا یہ کہنا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے،

أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمسُ». مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔»303

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُم أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ» ’’کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکی کرنے سے عاجز ہے ؟‘‘ آپ ﷺ کے ہم نشینوں میں سے کسی نے دریافت کیا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيُكتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ». ”وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکی لکھ دی جاتی ہے یا اس کے ایک ہزار گناہ مٹادیے جاتے ہیں۔“304

«مَنْ قَالَ: «جس نے کہا:

سُبْحَانَ اللَّهِ العَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو بہت بڑا ہے، اس کی تعریف کے ساتھ۔

غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الجَنَّةِ». اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔»305

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الجَنَّةِ؟» (اے عبد اللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانہ کے بارے میں نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیوں نہیں ! (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : «قُلْ: «آپ کہہ دیجیے: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». اللہ کے بغیر نہ (نیکی کرنے کی) کوئی طاقت ہے اور نہ (برائی سے رکنے کی) کوئی قوت»306۔

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أَحَبُّ الكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: «اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے،

لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأتَ». تم ان کلمات میں سے جسے چاہو پہلے ذکر کرو، اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔»307

ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں (بطور ذکر) کہا کروں۔ آپﷺ نے فرمایا: «قُلْ: «آپ یہ دعا پڑھا کیجیے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ العَزِيزِ الحَكِيمِ» ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ سب سے بڑا، بہت بڑا ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے بہت زیادہ، پاک ہے اللہ جو ساری کائنات کا رب ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ غالب (اور) حکمت والے ہی کی توفیق سے۔‘‘

اعرابی کہنے لگا کہ یہ تو میرے رب کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : «قُلْ: «آپ یہ دعا پڑھا کیجیے: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي». اے اللہ! میری مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، اور مجھے رزق دے۔»308

263-(10) جب کوئی شخص اسلام قبول كرتا تو نبی ﷺ اسے نماز سکھاتے، پھر اسے حکم فرماتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کرے: «اللَّهُمَّ اغْفِرِ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي». ’’اے اللہ! میرى مغفرت فرمادے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔‘‘309

«إِنَّ أَفْضَلَ الدُّعَاءِ «سب سے افضل دعا یہ ہے:

الحَمْدُ لِلَّهِ، تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں،

وَأَفْضَلَ الذِّكْرِ اور سب سے افضل ذکر یہ ہے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔»310

«البَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ: «الباقیات الصالحات (باقی رہنے والے اعمال) یہ ہیں:

سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه». اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ (نیکی کرنے کی) کوئی طاقت ہے اور نہ (برائی سے بچنے کی) کوئی قوت۔»311

131 ـ نبی کریم ﷺ تسبیح کیسے پڑھتے تھے؟

عبد اللہ بن عمرو رضي الله عنہما فرماتے ہیں: «رَأَيْتُ النَّبيَّ ﷺ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ» وفي زيادةٍ: «بِيَمِينِهِ». ’’میں نے نبی کریم ﷺ کو تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: "اپنے داہنے ہاتھ سے"۔312

132 ـ نوع بہ نوع خیر اور جامع آداب

نبی ﷺ نے فرمایا : «إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ – أَوْ أَمْسَيْتُم – فَكُفُّوا صِبْيَانَـكُم، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيلِ فَخَلُّوهُمْ، وَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ؛ فَإِنَّ الشَّيطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُم، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ». ’’جب رات کا اندھیرا چھا جائے یا فرمایا: جب شام ہوجائے تو اپنے بچوں کو روک لیا کرو کیوں کہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں، جب رات کا کچھ وقت گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو، بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کردیا کرو، کیوں کہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزے کے تسمے بند کردیا کرو، اور اللہ تعالی کا نام لے کر برتن ڈھانپ دیا کرو خواہ ان پر کوئی چیز ہی رکھ دیا کرو اور اپنے چراغ بجھا دیا کرو۔‘‘313

درود وسلام اور برکت نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ ، آپ کے آل بیت اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر۔

 

 

***

فہرست

 

کتاب و سنت کے منتخب اذکار 2

مقدمہ 2

ذکر کی فضیلت 5

1۔ نیند سے بیدار ہونے کے اذکار 12

2 ـ لباس پہننے کی دعا 17

3 ـ نیا لباس پہننے کی دعا 18

4 ـ نیا لباس پہننے والے کے لیے دعا 18

5 ـ لباس اتارتے وقت کیا پڑھے ؟ 19

6 ـ بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا 19

7 ـ بیت الخلا سے نکلنے کی دعا 20

8 ـ وضوع سے پہلے کا ذکر 20

9 ـ وضو کے بعد کا ذکر 20

10 ـ گھر سے نکلتے وقت کا ذکر 21

11 ـ گھر میں داخل ہوتے وقت کا ذکر 22

12 ـ مسجد کی طرف جانے کی دعا 23

13 ـ مسجد میں داخل ہونے کی دعا 25

14 ـ مسجد سے نکلنے کی دعا 26

15 ـ اذان کے اذکار 27

16 ـ استفتاح (نماز شروع کرنے) کی دعا 29

17 ـ رکوع کی دعا 35

18 ـ رکوع سے اٹھنے کی دعا 37

19 ـ سجدے کی دعا 38

20 ـ دو سجدوں کے درمیان کی دعا 41

21 ـ سجدۂ تلاوت کی دعا 41

22 ـ تشہد 43

23 ـ تشہد کے بعد نبی پر درود وسلام 43

24 ـ آخری تشہد کے بعد سلام پھیر نے سے پہلے کی دعائیں 44

25 ـ سلام پھیرنے کے بعد کے اذکار 50

26 ـ نماز استخارہ کی دعا 57

27 ـ صبح و شام کے اذکار 59

28 ـ سونے کے وقت کے اذکار 78

29 ـ رات کو کروٹ بدلتے وقت کی دعا 89

30 ـ وحشت اور نیند میں گھبراہٹ کے وقت کی دعا 89

31 ـ برا خواب آئے تو کیا کرے 90

32 ـ قنوتِ وتر کی دعائیں 91

33 ـ نمازِ وتر سے سلام پھیرنے کے بعد کی دعا 93

34 ـ فکر مندی اور حزن وملال کے وقت کی دعائیں 94

35 ـ بے قراری اور اضطراب کے وقت کی دعائیں 95

36 ـ دشمن اور صاحبِ سلطنت سے ملتے وقت کی دعائیں 97

37 ـ بادشاہ کے ظلم سے ڈرنے والے کی دعائیں 98

38 ـ دشمن پر بد دعا 100

39 ـ لوگوں سے ڈرے تو یہ دعا مانگے 100

40 ـ جسے ایمان میں وسوسہ لا حق ہوجائے اس کے لیے دعائیں 101

41 ـ قرض کی ادائیگی کی دعا 102

42 ـ قرآن اور نماز میں وسوسے سے بچنے کی دعا 102

43 ـ مشکل کام کی آسانی کے لیے دعا 103

44 ـ گناہ کر بیٹھے تو کیا کہے اور کیا کرے؟ 103

45 ـ شیطان اور اس کے وسوسوں کو دور کرنے کی دعا 104

46 ـ ناپسندیدہ واقعہ کے رونما ہونے اورمغلوب ہوجانے کے وقت کی دعا 105

47 ـ جس کے یہاں نو مولود کى ولادت ہوئى ہو اس کو مبارکبادى اور اس کا جواب 106

48 ـ بچوں کو کن الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ میں دیا جائے 107

49 ـ بیمار پرسی کے وقت مریض کے لیے دعائیں 107

50 ـ بیمار پرسی کی فضیلت 108

51 ـ زندگی سے ناامید مریض کی دعائیں 109

52 ـ قریب الموت کو تلقین 110

53 ـ مبتلائے مصیبت کی دعا 111

54 ـ میت کی آنکھیں بند کرتے وقت کی دعا 111

55 ـ میت کے لیے نمازِ جنازہ کے دوران کی دعائیں 112

56 ـ بچے کی نمازِ جنازہ کی دعائیں 114

57 ـ تعزیت کی دعائیں 116

58 ـ میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا 117

59 ـ میت کو دفن کرنے کے بعد کی دعا 117

60 ـ زیارتِ قبور کی دعا 118

61 ـ آندھی کی دعائیں 118

62 ـ بادل گرجنے کے وقت کی دعا 119

63 ـ بارش طلب کرنے کی چند دعائیں 120

64 ـ بارش نازل ہوتے وقت کی دعا 121

65 ـ بارش نازل ہونے کے بعد کی دعا 121

66 ـ مطلع صاف ہونے کے لیے دعا 121

67 ـ چاند دیکھنے کی دعا 122

68 ـ افطار کے وقت کی دعائیں 122

69 ـ کھانا کھانے سے پہلے کی دعا 123

70 ـ کھانے سے فراغت کے بعد کی دعائیں 124

71 ـ میزبان کے حق میں مہمان کی دعا 125

72 ـ کھانا یا پانی طلب کرنے کے لئے بطور تعریض دعا دینا۔ 125

73 ـ کسی کے ہاں افطاری کرنے کے وقت کى دعا 125

74 ـ روزہ دار کى دعا کہ جب کھانا حاضر ہو اور روزہ دار کھانا تناول نہ کرے 126

75 ـ روزے دار کو کوئی گالی دے تو کیا کہے؟ 127

76 ـ پہلا پھل دیکھنے کے وقت کی دعا 127

77 ـ چھینک کی دعا 127

78 ـ اگر کافر چھینک آنے پر الحمد للہ کہے تو کیا کہا جائے 128

79 ـ شادی کرنے والے کے لیے دعا 128

80 ـ شادی کرنے اور سواری خرید نے والے کی دعا 129

81 ـ بیوی کے پاس آنے سے پہلے کی دعا 130

82 ـ غصہ کے وقت کی دعا 130

83 ـ مصیبت زدہ کو دیکھنے کے وقت کی دعا 130

84 ـ دورانِ مجلس کی دعا 131

85 ـ مجلس کا کفارہ 131

86 ـ اس شخص کے لئے دعا جو یہ کہے اللہ آپ کى مغفرت فرمائے 132

87 ـ حسن سلوک کرنے والے کے لیے دعا 132

88 ـ وہ اذکار جن کے اختیار کرنے کى وجہ سے اللہ تعالے دجال سے محفوظ رکھے گا 133

89 ـ مجھے تم سے اللہ کے لیے محبت ہے، کہنے والے کو دعا۔ 133

90 ـ اس شخص کے حق میں دعا جو آپ کے سامنے اپنال مال پیش کرے 134

91 ـ قرض کی ادائیگی کے وقت قرض دینے والے کے لیے دعا 134

92 ـ شرک سے خوف کى دعا 135

93 ـ برکت کی دعا دینے والے کے حق میں دعا 135

94 ـ بد شگونی سے ناپسندیدگی کی دعا 135

95 ـ سواری پر بیٹھنے کی دعا 136

96 ـ سفر کی دعا 137

97 ـ کسی شہر یا بستی میں داخل ہونے کی دعا 139

98 ـ بازار میں داخل ہونے کی دعا 140

99 ـ سواری پھسلنے کے وقت کی دعا 140

100 ـ مقیم کے حق میں مسافر کی دعا 141

101 ـ مسافر کے حق میں مقیم کی دعائیں 141

102 ـ دورانِ سفر تسبیح وتکبیر 142

103 ـ دورانِ سفر صبح کے وقت کی دعا 142

104 ـ دورانِ سفر یا سفر کے بغیر کسی جگہ ٹھہر نے کی دعا 143

105 ـ سفر سے واپسی کی دعا 143

106 ـ خوشخبری یا نا پسندیدہ بات سننے والا کیا کہے؟ 144

107 ـ رسول اللہ پر درود بھیجنے کی فضیلت 144

108 ـ سلام کو پھیلانا 146

109 ـ کافر کے سلام کا جواب 148

110 - مرغ کے بولنے اور گدھا کے رینکنے کے وقت کی دعا 148

111 ـ رات کو کتوں کے بھونکنے کے وقت کی دعا 149

112 ـ ایسے شخص کے لیے دعا جسے تم نے گالی دی ہو 149

113 ـ مسلمان دوسرے مسلمان کی تعریف میں کیا کہے؟ 150

114 ـ جب مسلمان اپنی تعریف سنے تو کیا کہے؟ 150

115 ـ حج یا عمرے کا احرام باندھنے والا لبیک کیسے کہے؟ 151

116 ـ حجرِ اسود کے قریب جاکر اللہ اکبر کہنا 152

117 ـ رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان کی دعا 152

118 ـ صفا اور مروہ پر ٹھہرنے کے وقت کى دعا 153

119 ـ یوم عرفہ کی دعا 154

120 ـ مشعرِ حرام کے پاس ذکر 155

121 ـ رمیٔ جمرات کے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا 155

122 ـ تعجب اور خوشی کے وقت کی دعائیں 155

123 ـ خوشخبری ملنے پر کیا کرے 156

124 ـ جسم میں تکلیف محسوس ہو تو کیا کرے اور کیا کہے؟ 157

125- خود اپنی نظر لگ جانے کا اندیشہ ہو تو کیا کہے؟ 157

126 ـ گھبراہٹ کے وقت کیا کہا جائے ؟ 158

127 ـ عام جانور یا اونٹ ذبح کرتے وقت کیا کہے؟ 158

128 ـ سرکش شیطانوں کے مکر وفریب سے بچنے کی دعا 159

129 ـ توبہ واستغفار 160

130 ـ تسبیح، حمد وثنا، لا الہ الا اللہ اورتکبیر کی فضیلت 162

131 ـ نبی کریم تسبیح کیسے پڑھتے تھے؟ 169

132 ـ نوع بہ نوع خیر اور جامع آداب 170

***

 

ur24v5.0 - 02/09/2026


سورة البقرة، آیت: 152۔

سورة الأحزاب، آیت: 41۔

سورة الأحزاب، آیت: 35۔

سورة الأعراف، آیت: 205۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 208، حدیث: 6407، صحیح مسلم : 1/ 539، حدیث: 779، میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے: ’’اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔‘‘: 1/539۔

جامع ترمذی: 5/ 459، حدیث: 3377، سنن ابن ماجہ : 2/ 124، حدیث : 3790، نیز دیکھیے: صحيح سنن ابن ماجہ: 2/ 316، اور صحيح جامع ترمذی: 3/ 139۔

صحیح بخاری: 8/ 171، حدیث : 7405، صحیح مسلم : 4/ 2061، حدیث : 2675، مذکورہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

جامع ترمذی: 5/ 458، حدیث : 3375، سنن ابن ماجہ : 2/ 1246، حدیث : 3793، امام البانی رحمہ اللہ نے صحيح ترمذی : 3/139، اور صحيح سنن ابن ماجہ : 2/317 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

جامع ترمذی: 5/ 75، حدیث : 2910، امام البانی رحمہ اللہ نے صحيح ترمذی: 3/9، اور صحيح الجامع الصغير : 5/340 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

صحیح مسلم : 1/553، حدیث نمبر: 803

سنن ابی داود : 4/ 264، حدیث : 4856، وغيرہ، اور دیکھیے : صحيح الجامع 5/342۔

جامع ترمذی: 5/ 461، حدیث : 3380، اور دیکھیے: صحيح ترمذی، 3/140۔

سنن ابی داود : 4/ 264، حدیث : 4855، مسند أحمد : 2/389، حدیث : 10680، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 5/176۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 113، حدیث : 6314، صحیح مسلم : 4/ 2083، حدیث : 2711۔

جو شخص یہ کلمات کہے اسے بخش دیا جاتا ہے،اگر کوئی دعا کرے تو وہ قبول ہوتی ہے، پھر اگر وضو کر کے نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔ صحیح بخاری مع فتح الباری 3/ 39، حدیث : 1154، وغيره، الفاظ ابن ماجہ کے ہیں، دیکھئے : صحيح ابن ماجہ، 2/335 ۔

جامع ترمذی: 5/ 473، حدیث : 3401، اور دیکھیے: صحيح ترمذی: 3/144۔

صحیح بخارى مع الفتح : 8/ 337، حدیث : 4569، اور صحيح مسلم : 1/ 530، حدیث : 256۔

نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے اس کو روایت کیا ہے: سنن ابو داود، حدیث : 4023، جامع ترمذی، حدیث : 3458، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3285، اور إرواء الغليل : 7/47 میں امام البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔

سنن ابو داود، حدیث : 4020، جامع ترمذی: حدیث : 1767، بغوی: 12/ 40، اور دیکھیے: مختصر شمائل الترمذي از البانی، ص47۔

سنن ابی داود 4/ 41، حدیث : 4020، اور دیکھیے: صحيح ابی داود : 2/760۔

ابن ماجہ 2/ 1178، حدیث : 3558، بغوی: 12/41، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ 2/275 ۔

جامع ترمذی: 2/ 505، حدیث : 606، وغيره، دیکھیے : إرواء الغليل، حدیث : 50، اور صحيح الجامع : 3/203۔

صحیح بخاری: 1/ 45، حدیث : 142، صحیح مسلم: 1/ 283، حدیث: 375، اس دعا کے شروع میں : ((بسم الله)) کا اضافہ سعيد بن منصور نے روایت کیا ہے، دیکھیے : فتح الباری: 1/244۔

نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے اس کو روایت کیا ہے، اور نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں اس کو روایت کیا ہے، حدیث : 79، سنن ابو داود، حدیث : 30، جامع ترمذی، حدیث : 7، سنن ابن ماجه، حدیث : 300، اور البانی نے صحیح سنن ابی داود : 1/ 19 میں اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

سنن ابو داود، حدیث : 101، سنن ابن ماجہ، حدیث :397، مسند احمد، حدیث :9418، اور دیکھیے : إرواء الغليل 1/122۔

صحیح مسلم: 1/209، حدیث نمبر: 234

جامع ترمذی: 1/ 78، حدیث : 55، اور دیکھیے: صحيح ترمذی، 1/18۔

نسائی، عمل الیوم واللیلۃ، ص 173‘ دیکھیں: ارواء الغلیل: 1/135، 3/94۔

سنن ابو داود : 4/ 325، حدیث : 5095، جامع ترمذی: 5/ 490، حدیث : 3426، اور دیکھیے : صحيح ترمذی:3/151۔

اصحابِ سنن : سنن ابو داود، حدیث : 5094، جامع ترمذی، حدیث : 3427، نسائی، حدیث : 5501، ابن ماجہ، حدیث : 3884، اور دیکھیے: صحيح ترمذی: 3/152، صحيح ابن ماجہ : 2/336 ۔

سنن ابو داود : 4/ 325، حدیث : 5096، علامہ ابن باز نے تحفة الأخيار ص28 میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، اور صحیح مسلم میں ہے: ((جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے اور کھانا کھانے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے: تمہارے لیے یہاں رات گزارنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ رات کا کھانا ہے۔))، صحیح مسلم، حدیث : 2018۔

دیکھیے یہ تمام الفاظ صحیح بخاری میں: 11/ 116، حدیث : 3166، اور صحیح مسلم میں : 1/ 526، و529، و530، حدیث : 763۔ .

سنن ترمذی، 5/483، حدیث نمبر: 3419

بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث : 695، ص258 اور البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کو صحیح کہا ہے، حدیث :536۔

اسے ابن حجر نے فتح الباری میں ذکر فرمایا اور اسے ابن ابی عاصم کی طرف منسوب کیا ہے کہ انہوں نے اسے کتاب الدعا میں ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے فتح الباری: 118/11، اور فرمایا: مختلف روایات سے پچیس خصلتیں جمع ہو گئیں ہیں۔

ایسا اس لئے کیا جائے گا کیونہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ جب تم مسجد میں داخل ہونے لگو تو پہلے دایاں پاؤں اندر رکھو اور باہر نکلنے لگو تو پہلے بایاں پاؤں باہر رکھو۔‘‘ حاکم 1/ 218، حاکم نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، بیہقی نے بھى (2/ 442) اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اس کو حسن قرار دیا ہے : 5/ 624، حدیث : 2478۔

سنن ابو داود، حدیث : 466، اور دیکھیے : صحيح الجامع، حدیث : 4591۔

ابن السنی، حدیث : 88، اور البانی نے الثمر المستطاب میں اس کو حسن قرار دیا ہے، ص 607۔

سنن ابو داود : 1/ 126، حدیث : 465، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 1/528۔

صحیح مسلم : 1/ 494، حدیث : 713، سنن ابن ماجہ میں فاطمہ رضی الله عنها سے یہ دعا مروی ہے : ’’اے اللہ ! میرے گناہوں کى مغفرت فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘ البانی نے اس کے شواہد کی وجہ سے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھیے : صحيح ابن ماجہ 1/128-129۔

حاكم : 1/ 218، بيهقی: 2/ 442، اور البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اس کو حسن قرار دیا ہے: 5/ 624، حدیث : 2478۔ اس کی تخریج گزرچکی ہے۔

اس حدیث کى روایات کى تخریج کو حاشیہ نمبر 20 میں مسجد میں داخل ہونے کی دعا کے تحت ملاحظہ فرمائیں، اور ’’اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے بچا کے رکھ۔‘‘ کا اضافہ سنن ابن ماجہ میں ہے، دیکھیے : صحيح سنن ابن ماجہ، 1/129۔

صحیح بخاری: 1/ 152، حدیث : 611، حدیث : 613، صحیح مسلم : 1/ 288، حدیث : 383۔

صحیح مسلم، 1/290، حدیث نمبر: 386

ابن خزيمۃ : 1/220۔

صحیح مسلم، 1/288، حدیث نمبر: 384.

صحیح بخاری: 1/ 152، حدیث : 614، قوسین کے درمیان جو الفاظ ہیں وہ بیہقی: 1/410 کے ہیں۔ اس کى سند کو ابن باز رحمہ اللہ نے تحفة الأخيار ص38 میں حسن قرار دیا ہے۔

جامع ترمذی، حدیث: 3594، حدیث: 3595، سنن ابو داود، حدیث: 525، مسند احمد، حدیث: 12200، اور دیکھیے: إرواء الغليل، 1/262۔

صحیح بخاری: 1/ 181، حدیث : 744، صحیح مسلم : 1/ 419، حدیث: 598۔

صحیح مسلم، حدیث: 399، اصحاب سنن اربعہ: سنن ابو داود، حدیث : 775، جامع ترمذی، حدیث: 243، سنن ابن ماجه، حدیث: 806، سنن نسائی، حدیث: 899، دیکھیے: صحيح ترمذی: 1/77، اور صحيح ابن ماجہ : 1/135۔

مسلم : 1/ 534، حدیث : 771۔

مسلم : 1/ 534، حدیث : 770۔

سنن ابو داود : 1/ 203، حدیث : 764، سنن ابن ماجہ : 1/ 265، حدیث : 807، مسند احمد : 4/ 85، حدیث: 16739، اور شعيب الارناؤوط نے مسند احمد کی تحقیق میں اسے ”حسن لغيره“ کہا ہے، اور عبد القادر الارناؤوط نے امام ابن تیمیہ کی کتاب الكلم الطيب کى تخریج میں کہا: ”یہ حدیث شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے“ حدیث : 78، البانی نے صحیح الكلم الطيب میں اسے ذکر کیا ہے حدیث : 62، اور مسلم نے اسی طرح کی حدیث ابن عمر رضي الله عنهما سے روایت کى ہے اور اس سے متعلق ایک قصہ ہے۔ 1/ 420، حدیث :601۔

نبی کریم ﷺ جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے، تو یہ دعا پڑھتے تھے۔

صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 3، و11/ 116، و13/ 371، حدیث نمبر: 423، 465، 1120، 6317، 7385، 7442، 7499، مسلم نے اسی طرح مختصراً روایت کیا ہے، 1/ 532، حدیث : 769۔

اسے اصحابِ سنن اور امام احمد نے روایت کیا ہے، سنن ابو داود، حدیث : 870، جامع ترمذی، حدیث : 262، سنن نسائی، حدیث : 1007، سنن ابن ماجہ، حدیث : 897، مسند احمد، حدیث : 3514۔ نیز دیکھیے: صحيح ترمذی، 1/83۔

صحیح بخاری: 1/ 99، حدیث : 794، صحیح مسلم : 1/ 350، حدیث : 484۔

مسلم : 1/ 353، حدیث : 487، سنن ابو داود : 1/ 230، حدیث : 872۔

مسلم : 1/ 534، حدیث : 771، سنن اربعہ سوائے ابن ماجہ : سنن ابو داود، حدیث : 760، حدیث : 761، جامع ترمذی، حدیث : 3421، نسائی، حدیث : 1049، قوسین کے درمیان مذکور الفاظ ابن خزيمة کے ہیں، حدیث : 607، اور ابن حبان، حدیث : 1901۔

سنن ابو داود : 1/ 230، حدیث : 873، نسائی، حدیث : 1131، احمد، حدیث : 23980، اس کی سند حسن ہے۔

صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 282، حدیث : 796۔

صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 284، حدیث : 796۔

صحیح مسلم: 1/ 346، حدیث نمبر: 477

اسے اصحابِ سنن اور امام احمد نے روایت کیا ہے، سنن ابو داود، حدیث : 870، جامع ترمذی، حدیث: 262، سنن نسائی، حدیث : 1007،سنن ابن ماجہ، حدیث : 897، مسند احمد، حدیث : 3514، دیکھیے: صحيح ترمذی: 1/83۔

صحیح بخاری‘ حدیث : 794، صحیح مسلم‘ حدیث : 484، دیکھیے: دعا نمبر :34۔

مسلم: 1/ 533، حدیث : 487، سنن ابو داود، حدیث : 872، دیکھیے: دعا نمبر :35۔

مسلم : 1/ 534، حدیث : 771 وغيره۔

سنن ابو داود : 1/ 230، حدیث : 873، سنن نسائی، حدیث : 1131، مسند احمد، حدیث: 23980، البانی نے صحيح ابی داود میں اس کو صحیح کہا ہے، 1/ 166، اس کی تخریج دعا نمبر :37 میں گزر چکی ہے۔

صحیح مسلم، 1/ 230، حدیث نمبر: 483

صحیح مسلم، 1/352، حدیث نمبر: 486

سنن ابو داود: 1/ 231، حدیث: 874، سنن ابن ماجہ، حدیث: 897، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 1/ 148۔

سنن نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے اس کو روایت کیا ہے، سنن ابو داود : 1/ 231، حدیث :850، جامع ترمذی، حدیث : 284، و285، سنن ابن ماجه، حدیث: 898، نیز دیکھیے: صحيح ترمذی: 1/90، اور صحيح ابن ماجہ : 1/148۔

جامع ترمذی: 2/ 474، حدیث: 3425، مسند احمد: 6/ 30، حدیث: 24022، حاكم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے 1/220 اور زائد الفاظ بھی حاکم کے ہیں۔

جامع ترمذی: 2/ 473، حدیث :579، حاکم نے اسے روایت کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، 1/219۔

صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 311، حدیث :831، صحیح مسلم : 1/ 301، حدیث : 402۔

صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 408، حدیث : 3370، صحیح مسلم، حدیث : 406۔

صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 407، حدیث : 3369، صحیح مسلم 1/ 306، حدیث : 407، الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔

صحیح بخاری: 2/ 102، حدیث : 1377، صحیح مسلم : 1/ 412، حدیث : 588، الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔

صحیح بخاری: 1/ 202، حدیث : 832، صحیح مسلم : 1/ 412، حدیث : 587۔

صحیح بخاری: 8/ 168، حدیث : 834، صحیح مسلم : 4/ 2078، حدیث : 2705۔

صحیح مسلم، 1/534، حدیث نمبر: 771

سنن ابو داود : 2/ 86، حدیث : 1522، نسائی: 3/ 53، حدیث : 2302، البانی نے اسے صحيح ابی داود میں صحیح کہا ہے، 1/284۔

صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 35، حدیث : 2822، 6390۔

سنن ابی داود، حدیث : 792، ابن ماجہ، حدیث: 910، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/328۔

نسائی: 3/ 54، 55، حدیث : 1304، احمد: 4/ 364، حدیث : 21666، اور البانی نے صحيح نسائی میں اسے صحیح کہا ہے: 1/281۔

ان الفاظ کے ساتھ اسے نسائی نے روایت کیا ہے: 3/ 52، حدیث : 1300، احمد: 4/ 338، حدیث : 18974، اور البانی نے صحيح نسائی میں اسے صحیح کہا ہے: 1/280۔

اصحابِ سنن : سنن ابی داود، حدیث : 1495، جامع ترمذی، حدیث : 3544، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3858، سنن نسائی، حدیث : 1299، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/329۔

سنن ابی داود : 2/ 62، حدیث : 1493، جامع ترمذی: 5/ 515، حدیث : 3475، سنن ابن ماجہ : 2/ 1267، حدیث : 3857، سنن نسائی، حدیث : 1300، مسند احمد، حدیث : 18974، لفظ سنن نسائی کے ہیں، البانی نے صحيح نسائی: 1/280میں اسے صحیح کہا ہے ، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/ 329، اور صحيح ترمذی: 3/ 163۔

مسلم : 1/ 414، حدیث :591۔

صحیح بخاری: 1/ 255، حدیث : 844، صحيح مسلم : 1/ 414، حدیث : 593، قوسین کے درمیان مذکور الفاظ بخاری کے ہیں، حدیث: 6473۔

صحیح مسلم، 1/415، حدیث نمبر: 594

صحيح مسلم ؛ 1/ 418، حدیث : 597، صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’جو شخص ہر نماز کے بعد یہ ذکر کرے، اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں تب بھی ان کى مغفرت ہو جاتی ہے۔‘‘

سنن ابو داود : 2/ 86، حدیث : 1523، جامع ترمذي، حدیث : 2903، سنن نسائی: 3/ 68، حدیث : 1335، دیکھیے: صحيح ترمذی: 2/8. تینوں سورتوں کو معوذات کہا جاتا ہے۔ دیکھیے : فتح الباری: 9/ 62۔

جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا کوئی چیز نہیں روکے گی۔ نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 100، ابن سنی‘ حدیث : 121، البانی نے صحيح الجامع 5/339، اور سلسلة الأحاديث الصحيحة: 2/697، حدیث : 972 میں اس کو صحیح کہا ہے۔

جامع ترمذی: 5/ 515، حدیث : 3474، احمد: 4/ 227، حدیث : 17990، تخریج کے لیے دیکھیے: زاد المعاد : 1/300۔

ابن ماجہ حدیث : 925، نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 102، دیکھیے: صحيح ابن ماجہ: 1/152، اور مجمع الزوائد : 10/111۔ اس کا ذکر آگے 95 نمبر کے تحت آئے گا-

صحیح بخاری، 7/ 162، حدیث نمبر: 1162

سورة آل عمران، آیت : 159۔

انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے جو نمازِ فجر سے طلوعِ آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اور مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا چار (غلام) آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے جو نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک اللہ تعالی کا ذکر کریں’’- سنن ابی داود، حدیث : 3667، امام البانی نے صحيح ابی داود میں اس حدیث کو حسن کہا ہے، 2/698۔

"جو شخص صبح کے وقت آیۃ الکرسی پڑھے وہ شام تک جنوں سے محفوظ رہتا ہے اور جو اسے شام کے وقت پڑھے وہ صبح تک ان سے محفوظ رہتا ہے، حاكم : 1/562، البانی نے صحيح الترغيب والترهيب میں اسے صحیح کہا ہے، 1/273، اور اسے نسائی اور طبرانی کی طرف منسوب کیا ہے اور کہا کہ اس کی سند جید ہے۔

"جو شخص انہیں تین دفعہ صبح اور تین دفعہ شام کے وقت پڑھے یہ اس کے لیے دنیا کی ہر چیز سے کافی ہوجاتی ہیں"۔ سنن ابو داود : 4/ 322، حدیث : 5082، جامع ترمذی: 5/ 567، حدیث : 3575، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/182۔

صحیح مسلم: 4/2088، حدیث نمبر: 2723۔

سابقہ حوالہ۔

جامع ترمذی: 5/ 466، حدیث :3391، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/142۔

سابقہ حوالہ۔

یہاں حدیث میں وارد لفظ (أَبُوءُ) کا معنى ہے: اقرار کرتا ہوں، اعتراف کرتا ہوں۔

"جو شخص یقین کی حالت میں شام کے وقت یہ دعا پڑھے اور اسی رات فوت ہوجائے تو وہ شخص جنت میں جائے گا اور اسی طرح (حالتِ یقین میں) جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھ لے اور شام تک فوت ہوجائے تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔‘‘ صحیح بخاري 7/ 150، حدیث : 6306۔

"جو شخص یہ دعا صبح یا شام چار مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالی اسے آگ سے آزاد کردے گا"۔ سنن ابو داود : 4/ 317، حدیث : 5071، الأدب المفرد، بخاری، حدیث : 1201، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 9، ابن سنی، حدیث : 70۔ شيخ ابن باز –رحمه الله- نے نسائی اور ابو داود کی سند کو حسن قرار دیا ہے، دیکھیے: تحفة الأخيار، ص23۔

سابقہ حوالہ۔

"جس نے یہ دعا صبح کے وقت پڑھی تو اس نے دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے یہ دعا شام کے وقت پڑھی تو اس نے رات کا شکر ادا کر دیا"۔ سنن ابو داود: 4/ 318، حدیث : 5075، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 7، ابن سنی، حدیث :41، ابن حبان، ((موارد)) حدیث : 2361۔ شیخ ابن باز –رحمه الله- نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: تحفة الأخيار، ص24۔

حوالہ سابق۔

سنن ابو داود : 4/ 324، حدیث : 5092، مسند احمد: 5/ 42، حدیث : 20430، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 22، ابن سنی، حدیث : 69، الأدب المفرد، بخاری، حدیث : 701، علامہ ابن باز –رحمه الله- نے اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے، دیکھیے: تحفة الأخيار، ص26۔

"جو شخص یہ دعا صبح اور شام سات مرتبہ پڑھے گا تو اس شخص کی دنیا وآخرت کے ہر غم کے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا"۔ اسے ابن سنی نے مرفوعا روایت کیا ہے، حدیث : 71، ابو داود نے موقوفاً روایت کیا ہے : 4/ 321، حدیث : 5081، شعيب اور عبد القادر أرناؤوط نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: زاد المعاد : 2/376۔

سنن ابو داود، حدیث : 5074، ابن ماجہ، حدیث : 3871، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/332۔

جامع ترمذی، حدیث : 3392، سنن ابی داود، حدیث : 5067،. اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/142۔

"جو شخص یہ دعا صبح اور شام تین تین مرتبہ پڑھے گا، اسے کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی"۔ ابو داود: 4/ 323، حدیث : 5088، جامع ترمذی: 5/ 465، حدیث : 3388، ابن ماجہ، حدیث : 3869، مسند احمد، حدیث :446. دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 2/332، اور علامہ ابن باز -رحمه الله- نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے : تحفة الأخيار، ص39۔

"جو شخص یہ دعا تین دفعہ صبح اور تین دفعہ شام کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ضرور خوش کرے گا"۔ احمد 4/ 337، حدیث : 18967، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 4، ابن سنی، حدیث : 68، ابو داود : 4/ 318، حدیث : 1531، جامع ترمذی: 5/ 465، حدیث : 3389، ابن باز -رحمه الله- نے اسے حسن کہا ہے، دیکھیے : تحفة الأخيار: ص39۔

حاکم نے روایت کر کے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی 1/545، اور دیکھیے : صحيح الترغيب والترهيب : 1/273۔

سنن ابو داود : 4/ 322، حدیث: 5084، شعيب وعبد القادر ارناؤوط نے اس کی سند کو حسن کہا ہے، دیکھیے: تحقیق زاد المعاد: 2/373۔

سابقہ حوالہ۔

احمد: 3/ 406، و407، حدیث : 15360، اور حدیث : 15563، عمل اليوم والليلة، ابن سنی، حدیث : 34، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/209۔

سابقہ حوالہ۔

"جو شخص یہ دعا سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو پڑھے گا، قیامت کے دن کوئی شخص اس کے عمل سے افضل عمل لے کر نہیں آئے گا۔ تاہم اگر کوئی شخص اس کے برابر یا اس سے زیادہ دفعہ کہے (تو وہ اس سے بہتر ہو سکتا ہے)" مسلم : 4/ 2071 حدیث : 2692۔

نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 24، دیکھیے: صحيح الترغيب والترهيب : 1/272، تحفة الأخيار لابن باز -رحمه الله- ، ص44، اور اس کی فضیلت دیکھیے: صفحہ : 146، حديث نمبر : 255۔

ابو داود : حدیث : 5077، ابن ماجہ، حدیث : 3798، احمد، حدیث : 8719، دیکھیے : صحيح الترغيب والترهيب : 1/270، صحيح ابی داود : 3/957، صحيح ابن ماجہ : 2/331، اور زاد المعاد : 2/377۔

"جو شخص سو مرتبہ ایک دن کے اندر یہ ذکر پڑھے گا، اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، ایک سو نیکیاں اس کے نام لکھی جائیں گی اور اس کے ایک سو گناہ مٹادیے جائیں گے اور ان الفاظ کی برکت سے اس دن شام تک وہ شیطان سے محفوظ رہے گا اور کوئی شخص اس سے افضل عمل لے کر نہیں آئے گا، تاہم اگر کوئی شخص زیادہ دفعہ کہے (تو وہ اس سے بہتر ہو سکتا ہے)"۔ صحیح بخاری: 4/ 95، حدیث : 3293، صحیح مسلم : 4/ 2071، حدیث : 2691۔

صحیح مسلم: 4/2090، حدیث نمبر: 2726

ابن سنی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 54، ابن ماجہ، حدیث : 925، عبد القادر اور شعيب أرناؤوط نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے : تحقيق زاد المعاد : 2/375۔ یہ پہلے بھی گزر چکا ہے‘ دیکھیے دعا نمبر: 73

صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 101، حدیث : 6307، صحیح مسلم: 4/2075، حدیث : 2702۔

"جو شخص شام کے وقت تین دفعہ یہ دعا پڑھے، اسے اس رات زہریلے جانور کا ڈسنا نقصان نہیں پہنچائے گا"۔ احمد، 2/ 290، حدیث : 7898، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 590، ابن سنی، حدیث : 68، اور دیکھیے : صحيح ترمذی، 3/187، صحيح ابن ماجہ : 2/266، اور تحفة الأخيار لابن باز، ص45۔

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص دس دفعہ صبح اور دس دفعہ شام کے وقت مجھ پر درود بھیجے گا اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی۔) اسے طبرانی نے دو سندوں سے ذکر کیا جن میں سے ایک جید ہے۔ دیکھیے : مجمع الزوائد، 10/120، اور صحيح الترغيب والترهيب، 1/273۔

صحیح بخاری مع الفتح : 9/ 62، حدیث : 5017، صحیح مسلم، حدیث : 2192۔

"جو شخص بستر پر پہنچے اور آیۃ الکرسی پڑھے تو اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہو جائے گا اور شیطان صبح تک اس کے قریب بھی نہ آسکے گا"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 4/ 487، حدیث : 2311۔

"جو شخص یہ دو آیات رات کے وقت پڑھتا ہے تو یہ اس کے لیے کافی ہوجاتی ہیں"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 9/ 94، حدیث : 4008، صحیح مسلم : 1/ 554، حدیث : 807۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 126، حدیث :6320، صحیح مسلم : 4/ 2084، حدیث : 2714۔

"جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر سے اٹھے اور پھر دوبارہ اس کی طرف آئے تو اسے اپنی چادر کے دامن سے تین مرتبہ جھاڑے اور بسم اللہ کہے، کیا معلوم اس کے بعد اس پر کیا چیز آگئی ہے، اور جب لیٹے تو یہ دعا پڑھے۔ ۔ الحدیث ۔ ۔ ۔ [حدیث میں وارد لفظ "بصَنِفة إزاره" کا معنی ہے : چادر کا دامن۔] النهاية في غريب الحديث والأثر۔

صحیح مسلم : 4/ 2083، حدیث : 2712، اور مسند احمد بالفاظ مذکور، 2/ 79، حدیث : 5502۔

"جب رسول اللہ ﷺ سونا چاہتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے ۔ ۔ ۔" الحديث۔

سنن ابو داود بالفاظ مذکور : 4/ 311، حدیث : 5045، جامع ترمذی، حدیث : 3398، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/143، اور صحيح ابی داود : 3/ 240۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 113، حدیث : 6324، صحیح مسلم : 4/ 2083، حدیث : 2711۔

"جو شخص بستر پر لیٹتے ہوئے یہ کلمات کہے، تو یہ اس کے لیے ایک نوکر سے بہتر ہیں"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 7/ 71، حدیث : 3705، صحیح مسلم : 4/ 2091، حدیث : 2726۔

صحیح مسلم، 4/2084، حدیث نمبر: 2713

صحیح مسلم، 4/2085، حدیث نمبر: 2715

سنن ابی داود : 4/ 317، حدیث :5067، جامع ترمذی، حدیث : 3629، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/142۔

جامع ترمذی، حدیث : 3404، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 707، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/255۔

"جب تم بستر پر جاؤ تو نماز والا وضو کرو پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ پھر کہو : ۔ ۔ ۔"(الحدیث)۔

رسول اللہ ﷺ نے اس دعا پڑھنے والے سے فرمایا : "اگر تو (یہ دعا پڑھنے کے بعد) فوت ہوجائے تو تیری موت فطرت پر ہوگی"۔ صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 113، حدیث : 6313، صحیح مسلم : 4، 2081، حدیث : 2710۔

آپ (ﷺ) جب رات میں پہلو بدلتے تو یہ کلمات کہتے۔ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے 1/540، عمل اليوم والليلة، نسائی، حدیث : 202، ابن سنی، حدیث : 757، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/213۔

سنن ابو داود : 4/ 12، حدیث :3893، جامع ترمذی‘ حدیث : 3528 اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/171۔

صحیح مسلم، 4/1772، حدیث نمبر: 2261

مسلم : 4/ 1772، 1773، حدیث : 2261، اور حدیث : 2262۔

مسلم : 4/ 1772، برقم، حدیث : 2261، اور حدیث : 2263۔

صحیح مسلم، 4/1773 حدیث نمبر: 2261

صحیح مسلم، 4/1773، حدیث نمبر: 2263

اصحاب سنن اربعہ، احمد، دارمی اور بیھقی نے اسے روایت کیا ہے : سنن ابو داود، حدیث : 1425، جامع ترمذی، حدیث : 464، سنن نسائی، حدیث : 1744، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1178، مسند احمد، حدیث : 1718، سنن دارمی، حدیث : 1592، مستدرک حاكم : 3/ 172، بیہقی: 2/ 209، قوسین کے درمیان کے الفاظ بيهقی کے ہیں، دیکھیے : صحيح ترمذی: 1/144، صحيح ابن ماجہ : 1/194، اور إرواء الغليل للالبانی: 2/172۔

اصحاب سنن اربعہ اور احمد نے اسے روایت کیا ہے : سنن ابو داود، حدیث : 1427، جامع ترمذی، حدیث : 3566، سنن نسائی، حدیث : 1746، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1179، مسند احمد، حدیث : 751 . دیکھیے :صحيح ترمذی: 3/180، صحيح ابن ماجہ : 1/194، اور ارواء الغلیل: 2/175۔

سنن کبری للبیھقی: 2/211 اور بیھقی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں فرمایا: "یہ سند صحیح ہے 2/170، اور یہ عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے"۔

نسائی: 3/ 244، حدیث : 1734، دارقطنی 2/ 31، وغيرهما، قوسین کے درمیان جو اضافی الفاظ ہیں‘ انہیں دارقطنی نے روایت کیا ہے:2/31، حدیث :2، اس کی سند صحيح ہے، دیکھیے : زاد المعاد‘ تحقيق شعيب ارناؤوط اور عبدالقادر ارناؤوط: 1/337ْ۔

احمد : 1/ 391، حدیث : 3712، اور امام البانی نے اسے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں صحیح کہا ہے، 1/ 337۔

صحیح بخاری: 7/ 158، حدیث : 2893، رسول -صلى الله عليه وسلم- یہ دعا کثرت سے کیا کرتے تھے۔ دیکھیے : صحیح بخاری مع الفتح : 11/173۔ اس کا ذکر (173) نمبر کے تحت آنے والا ہے۔

صحیح بخاری: 7/ 154، حدیث : 6345، صحیح مسلم : 4/ 2092، حدیث : 2730۔

سنن ابو داود : 4/ 324، حدیث : 5090، مسند احمد: 5/ 42، حدیث : 20430، اور البانی نے اسے صحيح ابي داود میں حسن کہا ہے، 3/959۔

جامع ترمذی: 5/ 529، حدیث : 3505، اور حاكم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/505، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/168۔

سنن ابی داود، حدیث : 2/ 87، حدیث : 1525، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3882، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ، 2/335۔

سنن ابو داود : 2/ 89، حدیث : 1537، حاكم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 2/142۔

سنن ابی داود : 3/ 42، حدیث : 2632، جامع ترمذی: 5/ 572، حدیث : 3584، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/183۔

صحیح بخاری، 5/172، حدیث نمبر: 4563

بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث : 707، اور البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کو صحیح کہا ہے، حدیث : 545۔

بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث : 708، اور البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کو صحیح کہا ہے، حدیث : 546۔

صحیح مسلم، 3/1362، حدیث نمبر: 1742

صحیح مسلم، 4/2300،  حدیث نمبر: 3005

صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 336، حدیث : 3276، صحیح مسلم : 1/ 120، حدیث : 134۔

صحیح بخاری مع الفتح : 6/ 336، حدیث : 3276، صحیح مسلم : 1/ 120، حدیث : 134۔

صحیح مسلم، 1 /119-120، حدیث نمبر: 134

سنن ابی داود : 4/ 329، حدیث : 5110، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے حسن کہا ہے، 3/962۔

جامع ترمذی: 5/ 560، حدیث : 3563، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/180۔

صحیح بخاری : 7/ 158، حدیث : 2893۔ اور یہ ص83 پر 121 کے تحت گزر چکا ہے۔

مسلم : 4/ 1729، حدیث : 2203، بروایت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ، اور اس روایت میں ہے کہ میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ تعالی نے اسے مجھ سے دور کردیا۔

صحيح ابن حبان، حدیث نمبر : 2427 (موارد)، ابن سنی، حدیث: 351، حافظ نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے، اور عبد القادر ارناؤوط نے بھی اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے : الأذكار للنووي، ص106۔

سنن ابی داود : 2/ 86، حدیث : 1521، جامع ترمذی: 2/ 257، حدیث : 406، ، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے: 1/283۔

سنن ابو داود : 1/ 203، حدیث : 775، سنن ابن ماجہ : 1/ 265، حدیث : 807، اس کی تخریج گزرچکی ہے : 31، اور دیکھیے : سورة المؤمنون، آیت : 97-98 ۔

صحیح مسلم : 1/ 291، حدیث : 389، صحیح بخاری: 1/ 151، حدیث : 608۔

صحیح مسلم (1/539)، حدیث نمبر : 780۔

صحیح بخاری: (4/126)، حدیث نمبر : 3293۔

’’اللہ تعالی کے نزدیک طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے جبکہ دونوں میں اچھائی موجود ہے، جو چیز تمھیں فائدہ پہنچا سکتی ہے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اللہ سے مدد مانگو، بے بس ہوکر نہ بیٹھو، اگر تمھیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ نہ کہو : ’’کاش! میں اس طرح کرلیتا تو اس طرح ہوجاتا۔‘‘ بلکہ یہ کہو کہ ’’اللہ تعالی نے مقدر فرمایا اور اس نے جو چاہا کیا۔‘‘ کیوں کہ ’’کاش‘‘ کا لفظ شیطان کو دخل اندازی کا موقع دیتا ہے۔‘‘ مسلم: 4/ 2052، حدیث: 2664۔

یہ حسن بصری کے کلام سے نقل کیا گیا ہے۔ دیکھیے : تحفة المودود لابن القيم، ص 20، ابن القیم نے اسے الاوسط لابن منذر کى طرف منسوب کیا ہے۔

الأذكار للنووی : ص349، دیکھیے : صحیح الأذكار، سلیم الہلالی : 2/713، اس کی مکمل تخریج مؤلف کی کتاب : الذكر والدعاء والعلاج بالرقى : 1/ 416 میں موجود ہے۔

صحیح بخاری: 4/ 119، حدیث : 3371، بروایت ابن عباس –رضي الله عنهما-۔

صحیح بخاری مع الفتح : 10/118، حدیث : 3616۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی مسلمان کسی ایسے مریض کی بیمار پرسی کرے جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو اور سات دفعہ یہ دعا پڑھے تو اسے عافیت مل جاتی ہے۔ ‘‘جامع ترمذی، حدیث : 2083، سنن ابی داود، حدیث : 3106، دیکھیے : صحيح ترمذی، 2/210، اور صحيح الجامع، 5/180۔

جامع ترمذی، حدیث : 969، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1442، مسند احمد، حدیث : 975، دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/244 اور صحيح ترمذی: 1/286، أحمد شاكر نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔

صحیح بخاری: 7/ 10، حدیث : 4435، صحیح مسلم : 4/ 1893، حدیث : 2444۔

صحیح بخاری مع الفتح : 8/ 144، حدیث : 4449، اس حدیث میں مسواک کا بھی ذکر ہے۔

جامع ترمذی، حدیث : 3430، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3794، البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/152، اور صحيح ابن ماجہ : 2/317۔

سنن ابو داود : 3/ 190، حدیث : 3116، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 5/432۔

صحیح مسلم: 2/632، حدیث نمبر: 918

صحیح مسلم، 2/634، حدیث نمبر: 920

صحیح مسلم، 2/663 حدیث نمبر: 963

سنن ابو داود، حدیث :3201، جامع ترمذی، حدیث : 1024، سنن نسائی، حدیث : 1985، سنن ابن ماجہ : 1/ 480، حدیث : 1498، مسند احمد : 2/ 368، حدیث : 8809، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/251۔

سنن ابن ماجہ، حدیث : 1499، دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/251، سنن ابی داود : 3/ 211، حدیث : 3202۔

حاكم نے اسے روایت کیا اور صحیح کہا ہے، اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/359، دیکھیے: احكام الجنائز للالبانی، ص125۔

(حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک ایسے بچے کی نمازِ جنازہ ادا کی جس نے کسى بھى غلطى کا ارتکاب نہیں کیا تھا، میں نے انھیں کہتے ہوئے سنا...) موطا امام مالک : 1/288، مصنف ابن ابی شيبۃ : 3/217، بيهقی: 4/9، اور شعيب ارناؤوط نے اس کی سند کو اپنی تحقیق شرح السنة للبغوی: 5/357۔ میں صحیح کہا ہے۔

دیکھیے : المغنی لابن قدامة : 3/416، الدروس المهمة لعامة الامة، للشيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز -رحمه الله- ، ص15۔

حسن (بصری) بچے پر سورۂ فاتحہ پڑھتے اور کہتے : ۔ ۔ ۔ الحدیث۔ شرح السنة للبغوی: 5/357، مصنف عبدالرزاق، حدیث : 6588، امام بخاری نے اسے تعلیقاً ذکر کیا ہے، كتاب الجنائز، 65، باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة : 2/ 113، حدیث نمبر: 1335 سے پہلے۔

صحیح بخاری: 2/ 80، حدیث : 1284، صحیح مسلم : 2/ 636، حدیث : 923۔

الأذكار للنووی، ص126۔

سنن ابو داود صحیح سند کے ساتھ : 3/ 314، حدیث : 3215، مسند احمد، حدیث : 5234، حدیث : 4812 مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں : ’’اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر۔‘‘ اور اس کی سند بھی صحيح ہے۔

نبی کریم ﷺ میت دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس ٹھہر کر فرماتے : ’’اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو کیوں کہ اب اس سے سوالات ہوں گے۔‘‘ ابو داود : 3/ 315، حدیث : 3223، حاكم نے اسے روایت کر کے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/370۔

مسلم : 2/ 671، حدیث : 975، ابن ماجہ : 1/ 494، حدیث : 1547، ابن ماجہ کی روایت بریدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور قوسین کے درمیان مذکور الفاظ مسلم (2/ 671، حدیث 975.) نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

سنن ابی داود، حدیث : 4/ 326، حدیث :5099، ابن ماجہ: 2/ 1228، حدیث: 3727، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/305۔

صحیح مسلم : 2/ 666، حدیث : 899، الفاظ مسلم کے ہیں، صحیح بخاری: 4/ 76، حدیث : 3206، حدیث : 4829۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر –رضي الله عنهما- جب بادل کی گرج سنتے تو باتیں چھوڑ دیتے اور یہ دعا پڑھتے ۔ ۔ ۔الحديث، موطأ : 2/992، الباني نے صحيح الكلم الطيب : 157میں فرمایا : صحابی تك اس کی سند صحیح ہے۔

سنن ابو داود : 1/ 303، حدیث : 1171، البانی نے صحيح ابی داود : 1/216 میں اسے صحیح کہا ہے۔

صحیح بخاری: 1/ 224، حدیث : 1014، اور صحیح مسلم : 2/ 613، حدیث :897۔

سنن ابی داود : 1/ 305، حدیث : 1178، البانی نے صحيح ابی داود : 1/218 میں اسے حسن کہا ہے۔

صحیح بخاری مع الفتح : 2/ 518، حدیث : 1032۔

صحیح بخاری: 1/ 205، حدیث :846، صحیح مسلم : 1/ 83، حدیث : 71۔

صحیح بخاری: 1/ 224، حدیث : 933، صحیح مسلم : 2/ 614 حدیث :897۔

جامع ترمذی: 5/ 504، حدیث :3451، دارمی: 1/336، الفاظ دارمی کے ہیں، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/157 ۔

سنن ابی داود : 2/ 306، حدیث : 2359، وغيرہ، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 4/209۔

ابن ماجہ : 1/ 557، حدیث : 1753 یہ دعا حضرت عبد الله بن عمرو –رضي الله عنهما- پڑھتے تھے، حافظ نے الأذكار کی تخريج میں اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے : شرح الأذكار : 4/342 ۔

سنن ابو داود : 3/ 347، حدیث : 3767، جامع ترمذی: 4/ 288، حدیث : 1858، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 2/167۔

جامع ترمذی: 5/ 506، حدیث : 3455، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/158۔

اسے اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے سوائے نسائی کے: سنن ابی داود : حدیث : 4025، جامع ترمذی، حدیث : 3458، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3285، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/159۔

صحیح بخاری: 6/ 214، حدیث : 5458، جامع ترمذی: 5/ 507، الفاظ ترمذی کے ہیں، حدیث : 3456۔

صحیح مسلم: 3/1615، حدیث نمبر: 2042

صحیح مسلم: 3/1626، حدیث نمبر: 2055

سنن ابی داود : 3/ 367، حدیث: 3856، سنن ابن ماجہ : 1/ 556، حدیث : 1747، سنن نسائی‘ عمل اليوم والليلة، حدیث: 296-298، اور بیان کیا کہ نبی ﷺ جب کسى کے ہاں افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے: 2/730 ۔

صحیح مسلم: 2/1054، حدیث نمبر: 1150

صحیح بخاری مع فتح الباری : 4/ 103، حدیث : 1894، صحیح مسلم : 2/ 806، حدیث : 1151۔

صحیح مسلم: 2/1000، حدیث نمبر: 1373

صحیح بخاری: 7/125، حدیث نمبر: 5870

جامع ترمذی: 5/ 82، حدیث : 2741، مسند احمد: 4/ 400، حدیث : 19586، سنن ابی داود : 4/ 308، حدیث : 5040، دیکھیے : صحيح ترمذی: 2/354۔

اسے اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے سوائے نسائی کے: سنن ابی داود، حدیث : 2130، سنن ترمذی، حدیث: 1091، سنن ابن ماجہ، حدیث : 1905، سنن نسائی، عمل اليوم والليلة، حدیث : 259۔ دیکھیے : صحيح ترمذی: 1/316۔

سنن ابی داود، حدیث : 2/ 248، حدیث : 2160، ابن ماجہ، حدیث : 1/ 617، حدیث : 1918، اور دیکھیے: صحيح ابن ماجہ : 1/324۔

صحیح بخاری: 6/ 141، حدیث : 141، صحیح مسلم : 2/ 1028، حدیث : 1434۔

صحیح بخاری: 7/ 99، حدیث : 3282، صحیح مسلم : 4/ 2015، حدیث : 2610۔

جامع ترمذی: 5/ 494، و5/ 493، حدیث : 3432، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/153 ۔

جامع ترمذی، حدیث : 3434، سنن ابن ماجہ، حدیث : 3814، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/153، صحيح ابن ماجہ : 2/321، الفاظ ترمذی کے ہیں۔

اصحابِ سنن نے اسے روایت کیا ہے: سنن ابو داود، حدیث : 4858، جامع ترمذی، حدیث : 3433، نسائی، حدیث : 1344، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/153۔ ’’ یہ ثابت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بیان کیا کہ: "رسول اللہ ﷺ کسی مجلس میں تشریف رکھتے یا قرآن کریم کی تلاوت فرماتے یا نماز پڑھتے تو اس کا اختتام ان الفاظ پر کرتے تھے...‘‘ حدیث، نسائی: عمل اليوم والليلة، حدیث : 308، مسند احمد : 6/ 77، حدیث : 24486، ڈاکٹر فاروق حمادہ نے عمل اليوم والليلة للنسائی کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے، ص273۔

مسند احمد، 5/82، حدیث : 20778، نسائی: عمل اليوم والليلة، ص218، حدیث : 421، تحقيق ڈاکٹر فاروق حمادة۔

جامع ترمذی، حدیث : 2035، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 6244 اور صحيح ترمذی: 2/200۔

دیکھیے اسی کتاب میں: حديث نمبر : 55 اور 56، صفحہ نمبر: 41۔

مسلم : 1/555، حدیث : 809، ایک دوسری روایت میں ہے: سورۂ كهف کی آخری دس آیتیں: 1/556، حدیث : 809۔

سنن ابو داود، : 4/ 333، حدیث : 5125، اور البانی نے صحيح ابی داود میں اسے حسن کہا ہے : 3/965۔

صحیح بخاری مع الفتح : 4/288، حدیث : 2049۔

نسائی: عمل اليوم والليلة، ص300، سنن ابن ماجہ : 2/ 809، حدیث : 2424، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/55۔

مسند احمد : 4/ 403، حدیث : 19606، الأدب المفرد : بخاری، حدیث : 716، اور دیکھیے : صحيح الجامع : 3/233، صحيح الترغيب والترهيب للالبانی: 1/19۔

ابن سنی، ص138، حدیث : 278، اور دیکھیے : الوابل الصيب لابن القيم، ص304، تحقيق بشير محمد عيون۔

مسند احمد: 2/ 220، حدیث : 7045، ابن سنی، حدیث : 292، البانی نے سلسلة الاحادیث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے : 3/54، حدیث :1065، نیک فال کو نبی ﷺ نے پسند فرمایا ہے، اسی لیے ایک موقع پر ایک شخص سے آپ نے اچھا کلمہ سنا تو آپ کو اچھا لگا اور فرمایا : ’’تیری فال ہم نے تیرے منہ ہی سے لی ہے۔‘‘ سنن ابو داود، حدیث : 3719، مسند احمد، حدیث: 9040، البانی نے سلسلة الأحاديث الصحيحة میں اسے صحیح کہا ہے : 2/363، أخلاق النبي -صلى الله عليه وسلم از ابو الشیخ، ص270۔

سنن ابو داود : 3/ 34، حدیث : 2602، جامع ترمذی: 5/ 501، حدیث : 3446، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/156، اور سورة الزخرف کی دو آیتیں : 13- 14۔

صحیح مسلم: 2/978، حدیث نمبر: 1342

حاكم نے اسے روایت کر کے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے 2/100، ابن سنی، حدیث : 524، حافظ نے الأذكار کی تخریج میں اسے حسن کہا ہے: 5/154، علامة ابن باز –رحمه الله- نے فرمایا کہ اسے نسائی نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ دیکھیے : تحفة الأخيار، ص37۔

جامع ترمذی، حدیث : 3428، ابن ماجہ : 5/ 291، حدیث : 3860، حاكم : 1/538، البانی نے صحيح ابن ماجہ: 2/21، اور صحيح ترمذی: 3/152 میں اسے حسن کہا ہے۔

سنن ابی داود : 4/ 296، حدیث : 4982، امام البانی نے صحيح ابی داود : 3/941 میں اسے صحیح کہا ہے۔

أحمد : 2/ 403، حدیث : 9230، ابن ماجہ : 2/ 943، حدیث : 2825، اور دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 2/133۔

احمد : 2/ 7، حدیث : 4524، جامع ترمذی: 5/ 499، حدیث : 3443، البانی نے صحيح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے : 3/ 419۔

جامع ترمذی، حدیث : 3444، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/155۔

صحیح بخاری مع الفتح : 6/135، حدیث : 2993۔

مسلم : 4/ 2086، حدیث : 2718، حدیث میں وارد لفظ "سَمِعَ سامِعٌ" کا معنی: اللہ کی نعمتوں پر جب ہم نے حمد وثنا کی تو گواہی دینے والے نے گواہی دی۔ اور "سمَّع سامِعٌ" کا معنی : سننے والے نے ہماری بات کو دوسروں تک پہنچایا، اس جيسى بات سحر کے وقت ذکر اور دعا کے اہتمام کرنے کے لئے بطور تنبیہ فرمائى۔ شرح النووی علی صحیح مسلم : 17/39۔

صحیح مسلم: 4/2080، حدیث نمبر: 2709

جب رسول اللہ ﷺ کسی جنگ یا حج سے واپس تشریف لاتے تو یہ کہتے۔ صحیح بخاری: 7/ 163، حدیث:1797، صحیح مسلم : 2/ 980، حدیث : 1344۔

عمل اليوم والليلة لابن سنی، حدیث : 377، حاكم نے اسے روایت کر کے صحیح کہا ہے : 1/499، البانی نے صحيح الجامع میں اسے صحیح کہا ہے : 4/201۔

مسلم : 1/ 288، حدیث : 384۔

سنن ابی داود : 2/ 218، حدیث : 2044، احمد : 2/ 367، حدیث : 8804، اور البانی نے صحيح ابی داود میں اسے صحیح کہا ہے: 2/383۔

جامع ترمذی: 5/ 551، حدیث : 3546، وغيره، نیز دیکھیے : صحيح الجامع : 3/25، اور صحيح ترمذی: 3/177۔

نسائی: 3/ 43، حدیث : 1282، حاكم : 2/421، البانی نے صحيح نسائی میں اسے صحیح کہا ہے : 1/274۔

سنن ابی داود، حدیث : 2041، البانی نے صحيح ابی داود میں اسے حسن کہا ہے : 1/383۔

مسلم : 1/ 74، حدیث : 54، أحمد، حدیث : 1430، الفاظ مسند احمد کے ہیں، اور صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں : (لا تدخلون...)۔

صحیح بخاری مع الفتح : 1/ 82، حدیث : 28، حضرت عمار -رضي الله عنه- کا قول ہے ( جو موقوف اور معلق ہے)۔

صحیح بخاری مع الفتح : 1/ 55، حدیث : 12، مسلم : 1/ 65، حدیث : 39۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 42، حدیث : 6258، صحیح مسلم : 4/ 1705، حدیث : 2163۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 6/ 350، حدیث : 3303، صحیح مسلم : 4/ 2092، حدیث : 2729۔

سنن ابو داود : 4/ 327، حدیث : 5105، احمد : 3/ 306، حدیث : 14283، اور امام الباني نے صحيح أبي داود میں اسے صحیح کہا ہے : 3/961۔

صحیح بخاری مع الفتح : 11/ 171، حدیث : 6361، مسلم، 4/ 2007، حدیث : 396، مسلم کے الفاظ یہ ہیں : ’’اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت کا ذریعہ بنادے۔‘‘

مسلم : 4/ 2296، حدیث : 3000۔

بخاری: الأدب المفرد، حدیث : 761، البانی نے صحيح الأدب المفرد میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حدیث : 585، اور قوسین والے الفاظ کو بیہقی نے شعب الإيمان 4/228 میں دوسری سند سے روایت کیا ہے۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 3/ 408، حدیث : 1549، صحیح مسلم : 2/ 841، حدیث : 1184۔

صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 476، حدیث : 1613، حدیث میں وارد لفظ "کسى چیز" سے مراد خم دار چھڑی ہے۔ دیکھیے : صحیح بخاری مع الفتح : 3/472۔

سنن ابی داود : 2/ 179، حدیث : 1894، احمد: 3/ 411، حدیث : 15398، شرح السنة للبغوی: 7/128، البانی نے صحيح ابي داود میں اسے حسن کہا ہے : 1/354، سورة البقرة: 201۔

مسلم : 2/ 888، حدیث : 1218، سورة البقرة، آیت: 158

جامع ترمذی، حدیث : 3585، البانی نے صحيح ترمذی: (3/184) اور سلسلة الاحادیث الصحيحة : 4/6 میں اسے حسن کہا ہے ۔

صحیح مسلم: 2/891، حدیث نمبر: 1218

صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 583، حدیث :1751، اس کے الفاظ وہیں ملاحظہ کیجیے۔ نیز دیکھیے: صحیح بخاری مع الفتح : 3/ 583، و3/ 584، و3/ 581، حدیث : 1753، مسلم نے بھی اسے روایت کیا ہے، حدیث : 1218۔

صحیح بخاری مع الفتح : 1/ 210، 390، 414، حدیث : 115، 3599، 6218، صحیح مسلم : 4/ 1857، حدیث : 1674۔

صحیح بخاری مع الفتح : 8/ 441، حدیث : 4741، 3062، جامع ترمذی، حدیث : 2180، نسائی في الكبرى، حدیث : 11185، اور دیکھیے : صحيح ترمذی: 2/103، و2/235، اور مسند احمد: 5/ 218، حدیث : 21900۔

اسے نسائی کے علاوہ تمام اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے : سنن ابی داود، حدیث :2774، جامع ترمذی، حدیث :1578، سنن ابن ماجہ، حدیث :1394، نیز دیکھیے : صحيح ابن ماجہ : 1/233، اور إرواء الغليل : 2/226۔

صحیح مسلم: 4/1728، حدیث نمبر: 2202

مسند احمد: 4/447، حدیث : 15700، ابن ماجہ، حدیث : 3508، مؤطا مالك : 3/ 118-119، البانی نے صحيح الجامع میں اسے صحیح کہا ہے : 1/212، نیز دیکھیے : تحقيق زاد المعاد للأرناؤوط : 4/170۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 6/ 381، حدیث : 3346، صحیح مسلم : 4/ 2208، حدیث : 2880۔

مسلم : 3/ 1557، حدیث : 1967، بيهقی: 9/287، قوسین والے الفاظ سنن بيهقی: 9/287 وغيره میں ہیں، آخری جملہ مسلم سے روایت بالمعنی ماخوذ ہے۔

احمد : 3/ 419، حدیث : 15461، بسندِ صحيح، ابن سنی، حدیث :637، ارناؤوط نے طحاوية کی تخریج ص133، میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے، نیز دیکھیے : مجمع الزوائد : 10/127۔

صحیح بخاری مع الفتح : (11/101)، حدیث : 6307۔

صحیح مسلم: 4/2076، حدیث نمبر: 2702

سنن ابی داود : 2/ 85، حدیث : 1517، جامع ترمذی: 5/ 569، حدیث : 3577، حاكم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے : 1/511، البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/182، اور جامع الأصول لأحاديث الرسول صلى الله عليه وسلم: 4/389-390 بتحقيق أرناؤوط ۔

جامع ترمذی، حدیث : 3579، نسائی: 1/ 279، حدیث : 572، حاكم : 1/ 309، نیز دیکھیے : صحيح ترمذی: 3/183، اور جامع الأصول بتحقيق أرناؤوط : 4/144۔

صحیح مسلم: 1/350 حدیث نمبر: 482

مسلم : 4/ 2075، حدیث : 2702، ابن الأثير نے فرمایا : ’’پردہ سا آنے‘‘ سے مراد سہو (بھول) ہے، کیوں کہ آپ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ ذکر، قربت اور مراقبے میں رہتے، جب بعض اوقات ان میں سے کسی عمل میں کچھ غفلت ہوجاتی یا آپ بھول جاتے تو اسے اپنا گناہ شمار کرتے اور فورََا استغفار شروع کردیتے۔ دیکھیے : جامع الأصول : 4/386۔

صحیح بخاری: 7/ 168، حدیث : 6405، مسلم : 4/ 2071، حدیث :2691، اور دیکھیے : اس کتاب کے ص 65 پر: اس شخص کی فضیلت جو اسے سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام کو پڑھے۔

صحیح بخاری: 67 / 7، حدیث : 6404، الفاظ مسلم کے ہیں : 2071/4 ، حدیث : 2693۔ نیز اس دعا کو سو دفعہ پڑھنے والے کی فضیلت کے بابت اس کتاب میں وارد دعا نمبر 93، ص 66 ملاحظہ کیجئے۔

صحیح بخاری: 7/ 168، حدیث :6404، مسلم : 4/ 2072، حدیث :2694۔

صحیح مسلم: 4/2072، حدیث نمبر: 2695

صحیح مسلم: 4/2073 حدیث نمبر: 2698

جامع ترمذی: 5/ 511، حدیث : 3464، حاكم : 1/501 نے اسے صحیح کہا اور ذهبی نے ان کی موافقت کی ہے، نیز دیکھیے : صحيح الجامع: 5/531، اور صحيح ترمذی: 3/160۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 11/ 213، حدیث : 4206، صحیح مسلم : 4/ 2076، حدیث : 2704۔

صحیح مسلم: 3/1685، حدیث نمبر: 2137

مسلم : 4/ 2072، حدیث : 2696، اور ابو داود : 1/ 220، حدیث : 832 نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ جب اعرابی واپس مڑا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقینََا اس آدمی نے اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا۔‘‘

مسلم : 4/ 2073، حدیث : 3697۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے: "یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا اور آخرت جمع کردیں گے"۔

جامع ترمذی: 5/ 462، حدیث : 3383، سنن ابن ماجہ : 2/ 1249، حدیث : 3800، حاكم : 1/503، حاکم نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، نیز دیکھیے : صحيح الجامع : 1/362۔

احمد، حدیث : 513، بہ ترتيب احمد شاكر، دیکھیے : مجمع الزوائد : 1/297، حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں اسے ابو سعيد کی روایت سے بحوالہ نسائی [السنن الكبرى] حدیث : 10617 کے تحت نقل کیا ہے اور فرمایا کہ اسے ابن حبان، [حدیث :840]، اور حاكم [حدیث : 1/ 541] نے صحیح کہا ہے۔

ان الفاظ کے ساتھ ابو داود نے روایت کیا ہے: 2/ 81، حدیث : 1502، جامع ترمذی: 5/ 521، حدیث : 3486، نیز دیکھیے : صحيح الجامع : 4/271، حدیث : 4865، البانی نے صحيح سنن ابي داود میں اسے صحیح کہا ہے : 1/ 411۔

صحیح بخاری مع فتح الباری : 10/ 88، حدیث : 5623، صحیح مسلم : 3/ 1595، حدیث : 2012۔

مذکورہ اصل کتاب اس میں درج احادیث کی تفصیلی تخریج کے ساتھ الحمد اللہ چار جلدوں میں چھپ چکی ہے، حصن المسلم (اذکار) پہلی اور دوسری جلد میں ہے۔