من أحكام الصيام
روزے کے بعض احکام
پہلا مبحث
صوم کا معنی، اور رمضان کے روزے رکھنے کی فرضیت
۱۔ صوم کا معنی:
صیام (روزہ): بطور عبادت طلوع فجر سے غروب آفتاب تک مفطرات (جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاۓ) سے باز رہنا۔
۲ ۔ رمضان کے روزے کی فرضیت:
رمضان کے روزرہ دین اسلام کا ایک رکن ہے جس کے بغیر مسلمان کا دین قائم نہیں ہوتا۔ روزہ تمام امتوں پر فرض رہا ہے اگرچہ اس کی کیفیت اور وقت مختلف رہا ہو؛ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
ﱩ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰﭱ ﱨ
" اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ"۔ (البقرۃ: ۱۸۳)
(کُتِبَ) کا معنى فرض کیا گیا۔
اس کے وجوب پر کتاب و سنت اور اجماع دلیل ہیں۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تواللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے:
ﱩﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳﭴ ... ﱨ
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ چند گنے ہوئے دن"۔ ( البقرۃ : ۱۸۳ - ۱۸۴)
جہاں تک حدیث کی بات ہے تواللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور خانہ کعبہ کا حج کرنا"۔(1)
اس کے وجوب پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور جو شخص اس کے وجوب کا انکار کرے وہ کافر ہے۔
دوسرا مبحث
ماہ رمضان کے فضائل
اس عظیم مہینے کی بہت ساری خصوصیات اور فضیلتیں ہیں جو اسے باقی مہینوں سے ممتاز کرتی ہیں، مثلا :
۱ ۔ اس میں قرآن کریم کا اتارا جانا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ﱩ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ... ﱨ
"رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا "۔ ( البقرۃ : ۱۸۵)
۲۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں؛ کیونکہ اس میں بکثرت نیک اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔
۳۔ اس مہینے میں گناہوں کی کمی کی وجہ سے جہنم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
اور یہ بات نبی ﷺ کے اس ارشادِ گرامی میں آئی ہے: "جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں"۔(2)
۴۔ اور اس کے فضائل میں سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے : "آدم کی اولاد کا کوئی بھی نیک عمل ایسا نہیں ہے جس پر اسے دس گنا سے سات سو گنا تک ثواب نہ ملے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے، کیونکہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ وہ اپنی خواہش اور کھانے کو میرے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ ایک ڈھال ہے، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے"۔(3) روزے کا اجر کسی تعداد میں محصور نہیں۔
۵۔ روزے میں اخلاص کی اہمیت زیادہ ہے؛ کیونکہ ارشاد ہے: ’’اس نے میری خاطر اپنی خواہشات، کھانا اور پینا چھوڑ دیا‘‘۔(4)
۶۔ اللہ تعالیٰ نے روزے داروں کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ خاص کیا ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، اس سے ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔
۷۔ روزہ دار کی ایک دعا قبول ہوتی ہے؛ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: "روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی"۔(5)
۸۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: "جو شخص ایمان اور اجر کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا"۔(6)
مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھے تاکہ اجر حاصل ہو اور گناہوں کی مغفرت ہو۔
تیسرا مبحث
ماہ رمضان کا آغاز جس سے ثابت ہوتا ہے
ماہ رمضان کا آغاز دو چیزوں سے ثابت ہوتا ہے:
۱) رؤیت ہلال؛ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کے مطابق: "جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگالو"۔(7) اور یہ بھی فرمایا: ''چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور چاند دیکھے بغیر روزہ نہ چھوڑو''۔ (8)
اگر چاند نظر نہ آئے تو شعبان کی تیس دن کی تعداد پوری کرو؛ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے، لہٰذا روزہ نہ رکھو جب تک کہ تم اسے (چاند کو) نہ دیکھ لو، اور اگر تم پر بادل چھا جائے تو تیس دن کی گنتی پوری کر لو"۔(9)
چوتھا مبحث
روزہ کی نیت
نیت ہر عمل کی صحت کے لیے شرط ہے، اور رمضان کے روزہ کی نیت رات میں کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی اس کا کوئی روزہ نہیں''۔(10)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص یہ جان لے کہ کل رمضان کا دن ہے اور وہ روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، تواس نے روزے کی نیت کرلی، چاہے اس نے نیت کو زبان سے ادا کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور یہی عام مسلمانوں کا عمل ہے، سب روزے کی نیت کرتے ہیں۔"(11)
پانچواں مبحث
کن لوگوں پر روزہ واجب ہے؟
ہر مسلمان، بالغ اور عاقل پر روزہ واجب ہے۔
اگر وہ صحت مند اور مقیم ہے: تو اس پر ادا کرنا واجب ہے۔ اور اگر وہ بیمار ہے: تو اس پر قضا واجب ہے۔
اگر کوئی شخص صحت مند ہو اور سفر میں ہو، تو اسے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے، اور روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
کافر پر روزہ واجب نہیں ہے اور نہ ہی اس کا روزہ درست ہوگا، اگر وہ ماہ رمضان کے دوران توبہ کرلے تو باقی دنوں کے روزے رکھے، اور کفر کی حالت میں جو روزے چھوڑے ہیں ان کی قضا لازم نہیں۔
چھوٹے بچے پر روزہ واجب نہیں ہے، لیکن ممیَّز بچہ کا روزہ درست ہے اور وہ اس کے حق میں نفل ہوگا۔
پاگل پر روزہ واجب نہیں ہے، اور اگر وہ اپنے جنون کی حالت میں روزہ رکھے تو اس کا روزہ درست نہیں ہوگا؛ کیونکہ وہ نیت نہیں کر سکتا۔
چھٹا مبحث
کن لوگوں کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے؟
ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی صورت میں معذور ہوگا:
۱) ایسا مریض جسے روزہ رکھنے میں مشقت ہو، اس کے لیے روزہ چھوڑنا مستحب ہے۔
۲) وہ مسافر جس پر رمضان کا مہینہ سفر میں آ گیا ہو یا جس نے ماہ رمضان کے دوران سفر شروع کیا ہو، جس کی مسافت ۸۰ کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہو۔
۳) حائضہ اور نفاس والی عورت پر حیض اور نفاس کی مدت میں روزہ رکھنا حرام ہے؛ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "ہمیں وہ حالت پیش آتی تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔"(12)
۴) ایسا مریض جس کی بیماری دائمی ہو اور اس کے شفایاب ہونے کی امید نہ ہو اور وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو، وہ روزہ نہيں رکھے گا اور ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو گیہوں یا کسی اور چیز سے نصف صاع کھانا کھلا دے گا، اور اس پر قضا لازم نہیں ہے۔
۵) عمر دراز شخص جو روزہ نہ رکھ سکے، وہ افطار کرے گا اور ہر دن کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، اور اس پر قضا نہیں ہے۔
۶) حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت جب اپنے لیے یا بچہ کے لیے روزہ رکھنے سے نقصان کا خطرہ محسوس کرے تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے اور بعد میں اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ اگر روزہ چھوڑنے کا سبب محض بچے کا نقصان ہو تو وہ چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گی اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گی۔
ساتواں مبحث
روزے کو فاسد کرنے والی چیزیں
۱۔ جنسی ملاپ:
جب بھی کسی نے رمضان کے دن میں جنسی ملاپ کیا تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، اور اس پر لازم ہے کہ دن کے باقی حصے میں کچھ نہ کھائے، اس پر توبہ اور استغفار کرنا واجب ہے، اس دن کی قضا کرے جس دن اس نے جماع کیا ہے، اور اس پر کفارہ بھی واجب ہے، جو کہ یہ ہے: ایک غلام آزاد کرنا، اگر غلام نہ ملے تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے، اگر دو ماہ کے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ملک کے کھانے کی چیزوں میں سے دے۔
۲۔ بوس و کنار، مباشرت، مشت زنی یا بار بار دیکھنے کی وجہ سے منی کا انزال۔
اگر روزہ دار ان اسباب کی وجہ سے منی خارج کرے تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، اور اس پر لازم ہے کہ روزہ پورا کرے اور اس دن کی قضا کرے، لیکن اس پر کفارہ نہیں ہے، البتہ توبہ، ندامت، استغفار اور ان شہوت انگیز چیزوں سے دوری اختیار کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ وہ ایک عظیم عبادت میں مشغول ہے۔
۳۔ جان بوجھ کر کھانا پینا۔
۴۔ روزے کی حالت میں سینگی یا فصد کے ذریعے یا عطیہ دینے کے لیے خون نکالنا۔
اور اس کی اصل نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے جو سینگی لگانے کے بارے میں ہے: "سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے" ۔ (13 )
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اور یہ کہنا کہ پچھنا لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اکثر فقہاء حدیث جیسے امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابن خزیمہ، ابن المنذر اور دیگر کا مذہب ہے"۔(14)
جہاں تک بلا قصد روزے دار کے جسم سے خون نکلنے کی بات ہے، جیسے نکسیر، زخم کا خون، یا دانت نکلوانے سے خون نکلنا، تو اس سے روزہ متاثر نہیں ہوگا۔
۵۔ قے کرنا:
یہ معدے میں موجود کھانے یا پانی کو جان بوجھ کر منہ کے راستے سے نکالنا ہے، لیکن اگر کسی کو بلا اختیار قے آ جاۓ تو اس سے اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جسے قے آجائے اس پر قضا نہیں ہے اور جو قے کرے اس پر قضا واجب ہے''۔(15)
حدیث میں وارد لفظ "ذَرَعَہ" کا معنی ہے: غلبَہ (غالب آجائے)۔
آٹھواں مبحث
روزے میں مستحب امور
۱۔ سحری؛ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: "سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔"۔ (16)
۲۔ سحری میں تاخیر؛ جب تک فجر کے طلوع ہونے کا خوف نہ ہو۔
۳۔ جب سورج غروب ہونے کا یقین ہوجائے تو افطار کرنے میں جلدی کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری امت بھلائی پر رہے گی جب تک وہ سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی کرتی رہے گی"۔(17)
۴۔ مستحب ہے کہ تر کھجور سے روزہ افطار کرے، اگر وہ نہ ملے تو خشک کھجور سے، اور اگر وہ بھی نہ ملے تو پانی سے؛ انس رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے"۔(18)
۵۔ روزے دار کے لیے مستحب ہے کہ وہ افطار کے وقت اپنی پسند کی دعا کرے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی۔"(19)
۶۔ کثرت سے مختلف قسم کی عبادتیں انجام دینا، جیسے قرآن پڑھنا، اللہ کا ذکر کرنا، قیام اللیل، تراویح کی نماز، سنتیں، صدقہ اور نیکی کے راستے میں خرچ کرنا؛ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
نواں مبحث
تنبیہات
روزے دار پر جھوٹ، غیبت اور گالی گلوج سے بچنا واجب ہے، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا برا بھلا کہے، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں۔
نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "روزہ ڈھال ہے، لہذا نہ دل لگی کی باتیں کرے اور نہ جہالت کا مظاہرہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی دے تو دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں"۔(20)
روزے دار کو ان چیزوں سے منع کیا گیا ہے: کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنے سے؛ کیونکہ پانی اس کے پیٹ میں جا سکتا ہے۔نبی ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، مگر یہ کہ تم روزے دار ہو۔"(21)۔مسواک کا روزے پر کوئی اثر نہیں ہوتا، بلکہ یہ روزہ دار اور غیر روزہ دار دونوں کے لیے مستحب اور پسندیدہ ہے، چاہے دن کے آغاز میں ہو یا اس کے آخر میں، صحیح قول کے مطابق۔
دسواں مبحث
رمضان کی قضا
جس نے رمضان میں کسی مباح سبب کی بنا پر روزہ توڑا، جیسے شرعی عذر جو افطار کی اجازت دیتے ہیں، یا کسی حرام سبب کی بنا پر جیسے ہمبستری یا دیگر وجوہات سے روزہ توڑا، تو اس پر قضا واجب ہے، اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے:
ﱩ ... ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ... ﱨ
"دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی ہے" (البقرۃ: ۱۸۴)
اس کے لیے مستحب ہے کہ جلدی قضا کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہو جائے، اور مستحب ہے کہ قضا مسلسل ہو کیونکہ قضا ادا کی طرح ہے، اور اس کے لیے تاخیر کرنا جائز ہے کیونکہ اس کا وقت وسیع ہے۔
اسی طرح وہ متفرق طور پر بھی قضا کر سکتا ہے، لیکن اگر شعبان میں اتنا ہی وقت باقی ہو جتنا اس پر واجب ہے تو وقت کی تنگی کی وجہ سے متواتر قضا کرنا اجماعی طور پر ضروری ہے؛ اور بغیر کسی عذر کے اسے دوسرے رمضان کے بعد تک مؤخر کرنا جائز نہیں ہے۔
جو اگلے رمضان تک بھی قضا نہ کرے اس کی دو حالتیں ہو سکتی ہیں:
کسی شرعی عذر کے تحت تاخیر کرے، مثلا دوسرے رمضان تک اسے شفا نہ ملے تو اس پر صرف قضا ہوگی۔
بلا کسی عذر کے تاخیر کرے، تو اسے قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے اپنے علاقہ کے مروج عام کھانوں میں سے آدھا صاع ایک مسکین کو کھلانا پڑے گا۔
جس پر قضا ہو اس کے نفلی روزہ رکھنے کا حکم: جس پر رمضان کی قضا ہو اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے قضا رکھے۔ لیکن اگر کوئی ایسا نفل ہو جس کا دن متعین ہو جیسے عرفہ اور عاشورا کے روزے تو قضا سے پہلے رکھے گا؛ کیوں کہ قضا کا وقت طویل ہے جبکہ عاشورا اور عرفہ کے روزے وقت پہ نہ رکھے جائیں تو فوت ہو جائیں گے۔ لیکن شوال کے چھ روزے قضا کے بعد ہی رکھے جائیں گے۔
اس کتاب میں اتنا ہی تحریر کرنا ممکن ہوا۔
بکثرت درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر۔
فہرست
دوسرا مبحث: ماہ رمضان کے فضائل ۴
تیسرا مبحث: ماہ رمضان کا آغاز جس سے ثابت ہوتا ہے ۶
چوتھا مبحث: روزہ کی نیت ۷
پانچواں مبحث: کن لوگوں پر روزہ واجب ہے؟ ۸
چھٹا مبحث: کن لوگوں کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے؟ ۹
ساتواں مبحث: روزے کو فاسد کرنے والی چیزیں ۱۰
آٹھواں مبحث: روزے میں مستحب امور ۱۳
نواں مبحث: تنبیہات ۱۴
دسواں مبحث: رمضان کی قضا ۱۶
( ۱) متفق علیہ، صحیح بخاری: ۱۸۹۸ (۳/۲۵)، صحیح مسلم: ۱۰۷۹ (۲/۷۵۸)
(1) سنن النسائی الکبری: ۲۵۳۶ (۳/۱۳۱)
( 2) دیکھیں:( سابقہ تخریج)
( 3) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر :۱۷۵۳ (۱/۷۷۵)
(1) متفق علیہ، صحیح بخاری: ۳۸ (۱/۱۶)، صحیح مسلم: ۷۶۰ (۱/۵۲۳)
( 2) مسند امام احمد: ۶۳۲۳ (۱۰/۴۰۲)، السنن الکبری للنسائی: ۲۴۴۶ (۳/۱۰۲)
(3) متفق علیہ: بخاری، حدیث نمبر ۱۹۰۶ (۳/۲۷) اور مسلم، حدیث نمبر ۱۰۸۰ (۲/۷۵۹)
(1) متفق علیہ، صحیح بخاری: ۱۹۰۷ (۳/۲۷)، صحیح مسلم: ۱۰۸۱ (۲/۷۶۲)
(2) السنن الکبری للنسائی: ۲۶۵۲ (۳/۱۷۰)
(۱) ( الفتاوی الکبری : ۲/ ۴۶۹)
(۱) (صحیح مسلم: ۳۳۵ (۱/۲۶۵))
(۱) صحیح بخاری: ۱۹۳۷، مسند احمد: ۲۶۲۱۷ (۴۳/۲۷۸)
(1) مجموع الفتاوى (۲۵/۲۵۲)
(2) مسند احمد: ۱۰۴۶۳ (۱۶/۲۸۳)، ترمذی کی الجامع الكبير: ۷۲۰ (۲/۹۱)
( ۱) متفق علیہ: صحیح بخاری حدیث نمبر ۱۹۲۳ (۳/۲۹) اور صحیح مسلم حدیث نمبر ۱۰۹۵ (۲/۷۷۰)
( ۲) مسند احمد (۱۲۵۰۷) (۳۵/۳۹۹)
(۱) سنن ابی داود: ۲۳۵۶،( ۲/۳۰۶)
(۲) سنن ابن ماجہ : ۱۷۵۳ (۱/۷۷۵)
(۱) صحیح بخاری: ۱۸۹۴ (۳/۲۴)
(۲) سنن ابی داود: ۲۳۶۶ (۲/۳۰۸)، الجامع الکبیر للترمذی: ۷۸۸ (۲/۱۴۷)
(۱) متفق علیہ، بخاری حدیث (۸) (۱/۱۱)، مسلم حدیث (۱۶) (۱/۳۴)