مَنْ خَلَقَ الكَونَ؟ وَمَنْ خَلَقَنِي؟ وَلِمَاذَا؟
کائنات کو کس نے بنایا؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ اور کیوں پیدا کیا؟
اللَّجْنَةُ العِلْمِيَّةُ
بِرِئَاسَةِ الشُّؤُونِ الدِّينِيَّةِ بِالمَسْجِدِ الحَرَامِ وَالمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ
مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کے سربراہ ادارہ کے ما تحت علمی کمیٹی
بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ
آسمان وزمین اور ان دونوں کے اندر جو نا قابل احاطہ عظیم مخلوقات ہیں، انہیں کس نے پیدا کیا؟
آسمان و زمین کا یہ باریک اور پختہ نظام کس نے بنایا ؟
انسان کو کس نے پیدا کیا ؟ کس نے اسے کان، آنکھ اور عقل عطا کی ؟ اور کس نے اسے چیزوں کو جاننے اور حقائق کو سمجھنے کے قابل بنایا ؟
آپ کے جسمانی اعضاء کے اندر انتہائی پیچیدہ نظام کو کس نے بنایا ؟ اور کس نے آپ کی یہ بہترین صورت بنائی ؟
کائنات کی مختلف اور متنوع زندہ مخلوقات پر غور کریں (اور بتائیں کہ) کس نے انہیں لا محدود مظاہر کے ساتھ پیدا کیا ؟
مدتوں سے یہ عظیم کائنات اپنے قوانین کے ساتھ کس طرح منظم اور مستحکم ہے؟
اس دنیا کو کنٹرول میں رکھنے والا نظام کس نے بنایا۔(جیسے: زندگی اور موت، افزائش نسل، رات ودن کی گردش اور موسموں کی تبدیلی وغیرہ)؟
کیا اس کائنات نے خود کو پیدا کیا؟ یا عدم سے وجود میں آگئی؟ یا اچانک وجود میں آگئی ؟ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿أَمۡ خُلِقُواْ مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ أَمۡ هُمُ ٱلۡخَٰلِقُونَ٣٥ أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ36﴾
" کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں"۔ [الطور: 35-36]۔
اگر ہم نے خود کو پیدا نہیں کیا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ہم عدم سے یا اچانک وجود میں آئے ہوں، تو حقیقت یہ ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اس کائنات کا کوئی نہ کوئی خالق ہے جو عظمت وقدرت والا ہے، کیوں کہ اس کائنات کا خود کو وجود میں لانا یا عدم سے وجود میں آنا یا اچانک وجود میں آنا ناممکن ہے!
ایک انسان ان چیزوں کے وجود پر کیوں یقین رکھتا ہے جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتا ہے؟ جیسے: (ادراک، عقل، روح، احساسات اور محبت) کیا یہ اس لیے نہیں کہ وہ ان کے اثرات کو دیکھتا ہے؟ تو کوئی انسان اس عظیم کائنات کے خالق کے وجود کا کیسے انکار کرسکتا ہے جب کہ وہ اس کی مخلوقات، اس کی کاریگرى اور اس کی رحمت کے اثرات کو دیکھتا ہے؟!
کوئی بھی عقل مند شخص اس بات کو قبول نہیں کرے گا کہ یہ مکان بغیر کسی کے بنائے ہوئے وجود میں آگیا! یا اسے کہا جائے کہ عدم نے اس منزل کو وجود میں لایا! تو بھلا کچھ لوگ کیسے اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ یہ عظیم کائنات کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی؟ ایک عقل مند شخص اس بات کو کیسے قبول کر سکتا ہے کہ کائنات کا یہ دقیق نظم وضبط اچانک وجود میں آگیا؟
یہ سب ہمیں ایک ہی نتیجہ پر پہنچاتے ہیں اور وہ یہ کہ اس کائنات کا ایک عظیم طاقتور رب ہے جو اس کا نظام چلاتا ہے اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے اور یہ کہ ہر وہ معبود جس کی اس کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے؛ اس کی عبادت باطل ہے اور وہ عبادت کے لائق نہیں۔
عظمت والا خالق رب
کائنات کا ایک خالق وپالنہار ہے۔ وہی مالک، مدبر اور رازق ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ وہی ہے جس نے زمین کو پیدا کیا اور اسے پست اور مطیع (نرم و آسان) کردیا اور اسے اپنی مخلوقات کے لیے موزوں بنایا۔ وہی ہے جس نے آسمانوں اور اس میں موجود عظیم مخلوقات کو پیدا کیا اور وہی ہے جس نے سورج، چاند، دن اور رات کو پیدا کیا، یہ دقیق اور پیچیدہ نظام اسى کا بنایا ہوا ہے جو اس کى عظمت پر واضح دلیل ہے۔
وہی ہے جس نے ہوا کو ہمارے تابع کر دیا جس کے بغیر ہماری زندگی نہیں، وہی ہے جس نے ہم پر بارش برسائی، سمندروں اور دریاؤں کو ہمارے تابع کر دیا، وہی ہے جس نے ہماری پرورش اور حفاظت کی جب ہم اپنی ماؤں کے شکم میں کمزور بچے تھے۔ وہی ہے جس نے پیدائش سے لے کر موت تک ہماری رگوں میں خون کو جاری رکھا۔
یہ رب؛ خالق اور رازق اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ54﴾
"بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے"۔ (الأعراف: 54)۔
اللہ ہی کائنات کی ہر چیز کا خالق اور رب ہے۔ ان چیزوں کا بھی جنھیں ہم دیکھتے ہیں اور ان کا بھی جنھیں ہم نہیں دیکھتے ہیں۔ اس کے سوا ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ وہ اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے، اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہیں کی جائے گی۔ اس کی بادشاہت، تخلیق، تدبیر اور عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بھی معبود ہیں تو کائنات کا نظام بگڑ جائے گا۔ کیوں کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ دو معبود ایک ہی وقت میں کائنات کے امور کو چلا سکیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَا...﴾
" اگر آسمان وزمین میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے..."۔ [الأنبیاء: ۲۲]
خالق رب کی صفات
رب سبحانہ کے بہت سے بے شمار اچھے اچھے نام ہیں، اور اس کی بہت سی عظیم اور اعلیٰ صفات ہیں جو اس کے کمال پر دلالت کرتی ہیں۔ رب کے ناموں میں سے ایک نام ’’خالق‘‘ ہے اور ایک نام ’’اللہ‘‘ ہے جس کا معنی ہے: وہ معبود جو تنہا عبادت کے لائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ رب سبحانہ وتعالى کے بعض نام یہ ہیں: الحیّ (ہمیشہ زندہ رہنے والا)، القَیُّوم (خود سے قائم رہنے والا اور دوسروں کو قائم رکھنے والا)، الرحیم (رحم کرنے والا)، الرزاق (رزق دینے والا)، اور الکریم (جُود و عطا والا)۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ255﴾
" اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے"۔ (البقرۃ: 255)۔
نیز اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ١ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ ٢ لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ ٣ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ4﴾
" آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے"۔ (الإخلاص: 1-4)۔
معبود برحق رب (اللہ) صفاتِ کمال سے متصف ہے۔
اس کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ معبود ہے اور اس کے سوا سب مخلوق ہیں جو حکم کو بجا لانے کے مکلف ہیں اور اللہ کے زیر نگیں ہیں۔
اس کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، خود سے قائم رہنے والا اور سب کو تھامنے والا ہے، اللہ ہی ہے جس نے ہر جاندار کو زندگی بخشی اور انہیں عدم سے پیدا کیا، وہی اسے اس کے وجود کے ساتھ برقرار رکھنے والا اور رزق دینے والا اور اس کی ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ اللہ ہمیشہ سے زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آتی اور اُس کا فنا ہونا ناممکن ہے، وہ قیوم ہے سوتا نہی ہے، بلکہ نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔
اس (اللہ) کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
اس کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے جو ہر چیز کو سنتا اور ہر مخلوق کو دیکھتا ہے، دل میں آنے والے خیالات اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو بھی وہ (خوب) جانتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالی سے زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
اس کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ قادرِ مطلق ہے، کوئی چیز اس کو نہ عاجز کر سکتی ہے اور نہ کوئی اس کے ارادہ کو ٹال سکتا ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے روکتا ہے، وہ جسے چاہے آگے کرتا ہے اور جسے چاہے پیچھے کرتا ہے، اور وہ بڑی حکمت والا ہے۔
اس کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خالق، رازق اور مدبر ہے کہ جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس کے تمام معاملات کا انتظام کیا، تمام مخلوقات اس کی گرفت اور غلبہ وکنٹرول میں ہیں۔
اس کی صفات میں سے یہ بھى ہے کہ وہ بے کس کی پکار کو سنتا ہے، مصیبت زدہ کى فریاد رسى کرتا ہے، پریشانیوں کو دور کرتا ہے اور ہر مخلوق جب کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تی ہے تو لازمی طور پر اسی سے گریہ وزاری کرتی ہے۔
عبادت صرف اللہ تعالی کے لیے ہے اور وہ اکیلا ہی اس کا مکمل مستحق ہے کوئى اور نہیں۔ اس کے علاوہ جس کی بھی عبادت کی جائے وہ معبود باطل، ناقص اور موت وفنا کا شکار ہونے والا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں ایسی عقلوں سے نوازا ہے جو اس کی عظمت کو سمجھتی ہیں، اُس نے ہمیں ایسی فطرت سے نوازا ہے جو نیکی کو پسند کرتی اور برائی سے نفرت کرتی ہے اور جب اللہ رب العالمین کی طرف رجوع کرتی ہے تو اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ فطرت اللہ کے کمال پر دلالت کرتی ہے اور اس بات کے نا ممکن ہونے پر کہ اللہ سبحانہ وتعالی کسی نقص سے متصف ہو۔
ایک عقلمند کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کامل کے سوا کسی اور کی عبادت کرے، تو بھلا وہ اپنی جیسی یا اپنے سے کمتر مخلوق کی پرستش کیسے کر سکتا ہے؟
معبود انسان یا بت یا درخت یا جانور نہیں ہو سکتا!
اللہ اپنے آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوى اپنی مخلوق سے الگ اور جدا ہے، رب کی ذات میں اس کى مخلوقات میں سے کوئی موجود نہیں اور نہ ہی اس کی مخلوقات کے اندر اس کى ذات میں سے کچھ موجود ہے، وہ نہ اپنی کسى مخلوق میں حلول کرتا ہے اور نہ ہى اپنى کسى مخلوق کا جسم اختیار کرتا ہے۔
(رب) جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ وہ اپنی مخلوق سے بے نیاز ہے، وہ نہ سوتا ہے اور نہ کھاتا ہے، وہ عظیم ہے۔ اس کی بیوی یا بچہ نہیں ہو سکتا۔ خالق عظمت کے صفات سے متصف ہے اور یہ مکمن نہیں کہ اسے کسى چیز کى حاجت لا حق ہو یا وہ نقص سے متصف ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٞ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخۡلُقُواْ ذُبَابٗا وَلَوِ ٱجۡتَمَعُواْ لَهُۥۖ وَإِن يَسۡلُبۡهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيۡـٔٗا لَّا يَسۡتَنقِذُوهُ مِنۡهُۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلۡمَطۡلُوبُ ٧٣ مَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ74﴾
" لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وه ایک مکھی بھی تو پیدا نہیں کر سکتے، گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں ، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بودا ہے طلب کرنے والا اور بڑا بودا ہے وه جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت والا اور غالب وزبردست ہے"۔ (الحج: 73-74) ۔
اس عظیم خالق نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟ اور وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟
کیا یہ معقول بات ہے کہ اللہ نے ان تمام مخلوقات کو بے مقصد اور بیکار پیدا کیا ہے، حالاں کہ وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے؟
کیا یہ معقول بات ہے کہ جس نے ہمیں اتنی درستگی اور مہارت کے ساتھ پیدا کیا اور زمین و آسمان کی ہر چیز کو ہمارے لئے کار آمد بنا دیا وہ ہمیں بغیر کسی مقصد کے پیدا کر دے یا ہمیں ان اہم ترین سوالوں کے جواب کے بغیر چھوڑ دے جو ہمیں پریشان کر رہے ہیں، جیسے: ہم یہاں کیوں ہیں؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟
کیا یہ معقول بات ہے کہ ظالم کے لیے سزا اور محسن کے لیے نیکی پر جزا نہ ہو؟اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿أَفَحَسِبۡتُمۡ أَنَّمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ عَبَثٗا وَأَنَّكُمۡ إِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُونَ115﴾
" کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے"۔ (المومنون : 115)۔
بلکہ اللہ تعالی نے رسول بھیجے تاکہ ہم اپنے وجود کا مقصد جانیں، اور ہماری رہنمائی کریں کہ ہم کس طرح اس کی عبادت کریں اور اس کا قرب حاصل کریں، وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ ہم اس کی رضامندی کیسے حاصل کر سکتے ہیں، اور موت کے بعد ہمارا کیا انجام ہوگا؟
اللہ تعالی نے رسولوں کو اس لیے بھیجا تاکہ وہ ہمیں یہ خبر دیں کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ ہمیں اس کی عبادت کرنے کا طریقہ سکھانے، اس کے اوامر و نواہی سے آگاہ کرنے اور ہمیں ایسے نیک اقدار سکھانے کے لیے انہیں بھیجا کہ اگر ہم ان پر عمل پیرا ہوں تو ہماری زندگی نیکیوں اور برکتوں سے بھر جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسول بھیجے، جیسے: (نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام) اور اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیوں اور معجزات سے ان کی تائید فرمائی جن سے ان کی سچائی کی تصدیق ہوتی ہے اور اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، ان کی آخری کڑی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
رسولوں نے ہمیں واضح طور پر یہ بتایا کہ یہ زندگی ایک امتحان ہے اور حقیقی زندگی تو موت کے بعد ہوگی۔
اور یہ کہ ان مومنوں کے لیے جنت ہے جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اور ایک آگ (جہنم) ہے جو اللہ نے ان کافروں کے لیے تیار کیا ہے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں یا اللہ کے رسولوں میں سے کسی کا انکار کرتے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٣٥ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ36﴾
" اے اوﻻد آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوں گے۔ اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وه لوگ دوزخ والے ہوں گے وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے"۔ (الاعراف: 35-36)۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ٢١ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فِرَٰشٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ فَلَا تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٢٢ وَإِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّن مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٣ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ وَلَن تَفۡعَلُواْ فَٱتَّقُواْ ٱلنَّارَ ٱلَّتِي وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُۖ أُعِدَّتۡ لِلۡكَٰفِرِينَ ٢٤ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ كُلَّمَا رُزِقُواْ مِنۡهَا مِن ثَمَرَةٖ رِّزۡقٗا قَالُواْ هَٰذَا ٱلَّذِي رُزِقۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَأُتُواْ بِهِۦ مُتَشَٰبِهٗاۖ وَلَهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ وَهُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ25﴾
" اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔ پس اگر تم نے نہ کیا اور تم ہرگز نہیں کرسکتے تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وه پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل لائے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیے گئے تھے اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف ستھری اور وه ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں"۔ (البقرۃ: 21-25)۔
متعدد رسول کیوں بھیجے گئے ؟
اللہ تعالیٰ نے تمام قوموں میں اپنے رسول بھیجے ہیں، کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں اللہ نے کوئی رسول نہ بھیجا ہو، تاکہ وہ انھیں اپنے رب کی عبادت کی دعوت دے، اس کے احکام و نواہی کو ان تک پہنچائے، تمام رسولوں کی دعوت کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کریں اور جب بھی کوئی قوم ایک اللہ کی وحدانیت کے سلسلے میں اس کے رسول کی لائی ہوئی باتوں کو ترک کرنا یا ان کی تحریف کرنا شروع کر دیتی تو اللہ کسی دوسرے رسول کو مبعوث کرتا تاکہ وہ درست رہنمائی کرے اور لوگوں کو توحید اور اللہ کی اطاعت کے ذریعہ فطرت سلیمہ کی طرف لوٹائے۔
یہاں تک کہ اللہ نے رسولوں کا یہ سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کیا، جو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے مکمل دین اور ابدی شریعت عامہ لے کر آئے، جو اس سے پہلے کی تمام شریعتوں کو مکمل اور منسوخ کرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس دین کی بقا اور تسلسل کی ضمانت دی ہے۔
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تمام رسولوں پر ایمان نہ لائے۔
اللہ ہی ہے جس نے تمام رسولوں کو بھیجا، اور اپنی تمام مخلوقات کو ان کی اطاعت کا حکم دیا۔ جس نے ان رسولوں میں سے کسی ایک رسول کی رسالت کا بھی انکار کیا گویا کہ اس نے سب کا انکار (کفر) کیا۔ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ ایک شخص اللہ کی وحی کو جھٹلائے۔ جنت میں داخل ہونے کے لیے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔
اس زمانے میں ہر شخص پر اللہ کے تمام رسولوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لانا واجب ہے۔ یہ صرف آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی پیروی کرنے سے ہو سکتا ہے۔ جن کی تائید ابدی معجزہ قرآن کریم سے کی گئی ہے، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہے جب تک کہ زمین اور اہل زمین باقی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جو شخص اس کے رسولوں میں سے کسی کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ اللہ کا اور اس کی وحی کا منکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٖ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضٖ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ١٥٠ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ حَقّٗاۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا151﴾
" جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں۔ یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے"۔ (النساء: 150-151)۔
لہذا، ہم مسلمان اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں- جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے - اور اسی طرح ہم تمام پچھلے رسولوں اور کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ285﴾
" رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے"۔ (البقرۃ: 285)۔
قرآن کریم کیا ہے؟
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام اور وحی ہے جو اس نے سب سے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اور یہ سب سے بڑا معجزہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سچائی پر دلالت کرتا ہے۔
قرآن کریم کے احکام میں حقانیت اور معلومات میں صداقت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو چیلنج کیا کہ وہ قرآن جیسی ایک سورت لے آئیں لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے کیونکہ مضمونِ قرآن عظمتوں سے بھرا ہے اور اس کے مشتملات انسان سے متعلق دنیاوى اور اخروى تمام امور کو شامل ہیں۔ قرآن مجید ایمان کے ان تمام حقائق کو شامل ہے جن پر ایمان لانا واجب ہے۔
اس میں وہ احکام ونواہی بھی شامل ہیں جن کی پاسداری کرنا انسان کے لیے واجب ہے اپنے اور اپنے رب کے درمیان، یا اپنے اور اپنے نفس کے درمیان، یا اپنے اور باقی مخلوقات کے درمیان، اور یہ سب فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ انداز واسلوب میں موجود ہے۔
اس میں بہت سارے عقلی شواہد اور سائنسی حقائق شامل ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کتاب انسانوں کی تخلیق نہیں، بلکہ یہ انسانوں کے رب کا کلام ہے۔
اسلام کیا ہے؟
اسلام کا مفہوم ہے: توحيد كو اپناتے ہوئے اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم کردینا، اس کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اس کی فرماں برداری کرنا، بخوشی اس کی شریعت پر عمل پیرا ہونا اور ہر اس چیز کا انکار کرنا جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو ایک پیغام کے ساتھ بھیجا، اور وہ ہے: صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دینا اور ہر اس چیز کا انکار کرنا جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے۔
اسلام تمام انبیاء کا دین ہے اس لیے ان کی دعوت ایک ہے اور ان کی شریعتیں الگ الگ ہیں۔ آج صرف مسلمان ہی اس سچے مذہب پر کاربند ہیں جسے تمام انبیاء لیکر آئے تھے۔ اس دور میں اسلام کا پیغام ہی حق ہے۔ یہ خالق کی طرف سے انسانیت کے لیے آخری پیغام ہے۔
جس رب نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو (رسول بنا کر) بھیجا، اسی نے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اور اسلامی شریعت اس سے پہلے کی تمام شریعتوں کو منسوخ کرتی ہے۔
تمام مذاہب جن کی لوگ آج پیروی کرتے ہیں -سوائے اسلام کے- وہ مذاہب انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں، یا وہ مذاہب الہی تھے لیکن پھر انسانوں نے ان میں چھیڑ چھاڑ کیا تو نسل در نسل منتقل ہونے والی اساطیری داستانوں اور انسانی اجتہادات کا مرکب بن گئے۔
جہاں تک مسلمانوں کے مذہب کا تعلق ہے تو وہ ایک واضح دین ہے جس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، اسی طرح ان کی عبادتیں بھی ایک ہیں جن کے ذریعہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، وہ سب پنجگانہ نمازیں ادا کرتے ہیں، اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ماہ رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔ ان کے دستور پر غور کریں جو کہ قرآن کریم ہے۔ یہ تمام ممالک میں ایک ہی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿...ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ﴾
" آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے"۔ (المائدۃ: 3)۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک دوسری جگہ فرمایا:
﴿قُلۡ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ٨٤ وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ85﴾
" آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے، ان سب پر ایمان لائے، ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ (آل عمران: 84-85)۔
دینِ اسلام زندگی گزارنے کا ایک جامع طریقہ ہے، جو فطرت اور عقل کے مطابق ہے، اسے صاف ستھرے نفوس ہی قبول کرتے ہیں، اسے عظیم خالق نے اپنی مخلوق کے لیے بنایا ہے، یہ دنیا وآخرت میں تمام لوگوں کے لیے بھلائی اور سعادت کا مذہب ہے۔ یہ ایک نسل کو دوسری نسل سے ممتاز نہیں کرتا ہے اور نہ کسی رنگ کو کسی رنگ پر فوقیت دیتا ہے، اس کی نظر میں تمام لوگ برابر ہیں، اور اسلام میں کسی کو بھی دوسرے پر امتیاز حاصل نہیں مگر اس کے اچھے اعمال کے بقدر۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
﴿مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَنُحۡيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةٗ طَيِّبَةٗۖ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ97﴾
" جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے ۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے"۔ [النحل: 97]
اسلام سعادت وخوش بختی کا راستہ ہے۔
اسلام تمام انبیاء کا دین ہے اور یہ تمام لوگوں کے لیے اللہ کا دین ہے، عربوں کے لیے مخصوص دین نہیں ہے۔
اسلام اس دنیا میں حقیقی خوشی اور آخرت میں ابدی سعادت کا راستہ ہے۔
اسلام وہ واحد مذہب ہے جو روح اور جسم کی ضروریات کو پورا کرتا اور تمام انسانی مسائل کو حل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قَالَ ٱهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيعَۢاۖ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ فَإِمَّا يَأۡتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدٗى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقَىٰ 123 وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا وَنَحۡشُرُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَعۡمَىٰ124﴾
" فرمایا، تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا۔ اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے"۔ (طہ: 123-124)۔
ایک مسلمان کو دنیا اور آخرت میں کیا فائدہ ہوگا؟
اسلام کے بہت سے فائدے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- اس دنیا میں کامیابی اور عزت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کا ہوجائے، ورنہ وہ شیطان اور خواہشات کا غلام ہوجاتا ہے۔
آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہوگا وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا، اس سے راضی ہوگا، اسے جنت میں داخل کرے گا، وہ دائمی نعمت اور اللہ کی رضامندی سے کامیاب ہوگا، اور عذاب جہنم سے بچ جائے گا۔
- مومن قیامت کے دن انبیاء، صادقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہو گا، یہ بہترین صحبت ہے اور جو ایمان نہیں لائے گا وہ ظالموں، بدکاروں، مجرموں اور مفسدین کے ساتھ ہو گا۔
- جن لوگوں کو اللہ جنت میں داخل کرے گا وہ موت، بیماری، درد، بڑھاپے اور غم کے بغیر دائمی خوشیوں میں رہیں گے، وہ ان کی خواہشات کے مطابق ہر وہ چیز دے گا جو وہ چاہیں گے، اور جو لوگ جہنم میں داخل ہوں گے وہ ابدی اور ہمیشگی کے عذاب میں ہوں گے۔
- جنت میں وہ لذتیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہے، نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی انسان نے سوچی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَنُحۡيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةٗ طَيِّبَةٗۖ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ97﴾
" جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے ۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے"۔ [سورۂ نحل: 97]۔
نیز ارشاد باری تعالی ہے:
﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ17﴾
" کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے"۔ [السجدۃ: 17]
غیر مسلم کو کیا نقصان ہوگا؟
انسان سب سے بڑے علم اور معرفت سے محروم ہو جائے گا، وہ ہے اللہ کا علم اور معرفت، ایسا کرکے وہ اللہ پر ایمان کھو دے گا، جو اس کو دنیا میں سلامتی وسکون اور آخرت میں ابدی خوشی دیتا ہے۔
انسان سب سے عظیم کتاب پر ایمان لانے سے محروم ہو جائے گا جسے اللہ نے لوگوں پر نازل کیا ہے، اور اس عظیم کتاب کی پیروی کرنے سے بھی محروم رہے گا۔
وہ انبیاء پر ایمان لانے سے محروم رہے گا، اسی طرح وہ قیامت کے دن جنت میں ان کی صحبت سے بھی محروم ہو جائے گا۔ وہ جہنم کی آگ میں شیطانوں، مجرموں اور ظالموں کا ساتھی ہو گا اور یہ بہت برا ٹھکانہ اور بہت بری صحبت ہوگی۔
اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
﴿قُلۡ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ 15 لَهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٞ مِّنَ ٱلنَّارِ وَمِن تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٞۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ ٱللَّهُ بِهِۦ عِبَادَهُۥۚ يَٰعِبَادِ فَٱتَّقُونِ16﴾
" کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے۔ انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے ۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو"۔ (الزمر: 15-16)۔
جو شخص آخرت میں نجات حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ مسلمان ہو، اللہ کا فرماں بردار ہو، اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے۔
تمام انبیاء ورسل علیہم السلام کے یہاں یہ ایک متفق علیہ حقیقت ہے کہ صرف وہی مسلمان آخرت میں نجات پائیں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتے اور تمام انبیاء اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ تمام رسولوں کے ماننے والے اور ان پر ایمان لانے والے جنت میں داخل ہوں گے اور جہنم سے نجات پائیں گے۔
جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھے، ان پر ایمان لائے اور ان کی تعلیمات پر عمل کیا وہ تو مسلمان اور مومن ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جب عیسیٰ کو مبعوث فرمایا تو موسیٰ کے پیروکاروں پر یہ واجب ہوگیا کہ وہ عیسی پر ایمان لائیں اور ان کی پیروی کریں۔
جو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے وہ نیک وصالح مسلمان ہیں اور جس نے عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کے دین پر قائم رہوں گا تو وہ مومن نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے اللہ کے بھیجے ہوئے نبی کو ماننے سے انکار کر دیا۔
پھر جب اللہ تعالی نے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو سب پر یہ واجب ہوگیا کہ ان پر ایمان لائیں۔ رب کریم ہی نے موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو بھیجا، اور وہی ہے جس نے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ چنانچہ جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو نہ مانے اور کہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام یا عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتا رہوں گا، تو وہ مومن نہیں ہے۔
کسی شخص کے لیے یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی اس کی آخرت کی نجات کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ صدقہ دے اور غریبوں کی مدد کرے۔ بلکہ اللہ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لانا واجب ہے، تاکہ اللہ اس کے اعمال قبول فرمائے! شرک، اللہ سے کفر، اللہ کی نازل کردہ وحی کو جھٹلانے یا اس کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلانے سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔
یہودی، عیسائی اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے بارے میں سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور دین اسلام میں داخل ہونے سے انکار کیا، تو وہ آگ میں (جہنم میں) ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے نہ کہ کسی انسان کا۔ اللہ نے فرمایا :
﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمۡ شَرُّ ٱلۡبَرِيَّةِ6﴾
" بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں"۔ (البینہ: 6)۔
چونکہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے آخری پیغام نازل ہو چکا ہے، اس لیے ہر وہ انسان جو اسلام کے بارے میں سنتا ہے اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سنتا ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے، آپ کی شریعت پر عمل کرے اور آپ کے اوامر ونواہی کی پیروی کرے۔ جو شخص اس آخری پیغام کے بارے میں سنتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو اللہ اس سے کچھ بھی قبول نہیں کرے گا اور اسے آخرت میں عذاب دے گا۔
اس کی ایک دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
﴿وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ85﴾
" جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔ (آل عمران: 85)۔
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۭ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡـٔٗا وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ64﴾
" آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں"۔ (آل عمران: 64)۔
مسلمان پر کونسی چیزیں ضروری ہیں؟
مسلمان کے لیے ان چھ ارکان پر ایمان لانا ضروری ہے:
اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور یہ ایمان رکھنا کہ وہ خالق، رازق، مدبر اور ہر چیز کا مالک ہے، اس کے مثل کوئی چیز نہیں، نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد، وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے، اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہیں کرنی چاہیے، اور یہ ایمان رکھنا کہ اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کرنا باطل ہے۔
فرشتوں پر ایمان لانا اور یہ کہ وہ اللہ تعالی کے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے نور سے پیدا کیا ہے اور انہیں اس بات کا مکلف کیا ہے کہ وہ انبیائے کرام پر وحی نازل کریں۔
ان تمام کتابوں پر ایمان رکھنا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کیا (جیسے تورات اور انجیل پر؛ ان میں تحریف واقع ہونے سے پہلے) اور آخری کتاب قرآن کریم پر۔
تمام رسولوں مثلاً نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور ان میں سے آخری رسول محمد -صلوات اللہ وسلامہ علیہم- پر ایمان لانا، جو کہ انسان تھے، اللہ تعالى نے وحی کے ذریعے ان کی تائید فرمائی اور انہیں نشانیاں اور معجزات دیے جو ان کے سچے ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
آخرت کے دن پر ایمان رکھنا جب اللہ اولین و آخرین کو زندہ کرے گا اور اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنوں کو جنت میں اور کافروں کو جہنم میں داخل کرے گا۔
تقدیر پر اور اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے، ماضی میں جو ہوا اس کو بھى اور مستقبل میں رونما ہونے والى چیزوں کو بھی، اور اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ کے پاس ہر چیز کا علم ہے اور اس نے سب کچھ لکھ رکھا ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقے سے کرے جسے اس نے مشروع فرمایا ہے: نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور روزے رکھے، اور اگر استطاعت ہو تو حج کرے، پھر اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنا دین سیکھے جو دنیا میں اس کی سعادت کا ذریعہ اور آخرت میں اس کی نجات کا سبب ہوگا۔
***
فہرست
یہ رب؛ خالق اور رازق اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔ ۵
خالق رب کی صفات ۶
معبود برحق رب (اللہ) صفاتِ کمال سے متصف ہے۔ ۸
اس عظیم خالق نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟ اور وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ ۱۲
متعدد رسول کیوں بھیجے گئے ؟ ۱۶
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تمام رسولوں پر ایمان نہ لائے۔ ۱۷
قرآن کریم کیا ہے؟ ۱۹
اسلام کیا ہے؟ ۲۰
اسلام سعادت وخوش بختی کا راستہ ہے۔ ۲۴
ایک مسلمان کو دنیا اور آخرت میں کیا فائدہ ہوگا؟ ۲۵
غیر مسلم کو کیا نقصان ہوگا؟ ۲۷
جو شخص آخرت میں نجات حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ مسلمان ہو، اللہ کا فرماں بردار ہو، اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے۔ ۲۸
مسلمان پر کونسی چیزیں ضروری ہیں؟ ۳۱