PHPWord

 

 

 

 

 

 

أخطاء يرتكبها بعض الحجاج

بعض حجاجِ کرام سے سرزد ہونے والی غلطیاں

 

تالیف:

فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن صالح العثیمین

 

 

شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے

تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور میں درود و سلام بھیجتا ہوں ہمارے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کی آل، آپ کے صحابہ کرام اور ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک آپ کے طریقہ پر چلنے والے ہیں۔ اما بعد :

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﱨ

’’یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔‘‘ [سورۃ الأحزاب : 21 ]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ﱩ ... ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﱨ

’’سو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر جو خود بھی اللہ اور اس کى تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘ [سورۃ الأعراف : 158]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ﱩ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﱨ

’’کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تم سے محبت کر ے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما د ے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ [سورۃ آل عمران : 31]

اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ﱩ ﭠ ﭡ ﭢﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﱨ

’’پس آپ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں، یقیناً آپ سچے اور کھلے دین پر ہیں۔‘‘ [سورۃ النمل : 79]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ﱩ ... ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﱨ

’’پھر حق کے بعد اور کیا ره گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھیرے جاتے ہو؟‘‘ [سورۃ یونس : 32]

چنانچہ جو بھی چیز نبی کریم ﷺ کی ہدایت اور طریقے کے خلاف ہو، وہ باطل اور گمراہی ہے، اور اس عمل کو اس کے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جائے گا؛ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس کا ہم نے حکم نہیں دیا ہے، تو وہ کام مردود ہے۔‘‘(1) یعنی : وہ عمل اس کے کرنے والے کے منہ پر دے مارا جائے گا اور اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔

اور بے شک بعض مسلمان -اللہ انھیں ہدایت دے اور راہِ راست پر چلائے- بہت سی عبادات میں ایسے کام کرتے ہیں جو نہ تو کتابِ اللہ پر مبنی ہوتے ہیں اور نہ ہی نبی ﷺ کی سنت پر،خاص طور پر حج کے معاملے میں، جہاں بغیر علم کے فتویٰ دینے والوں کی کثرت ہو گئی ہے، لوگ جلدبازی سے فتویٰ دے دیتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں کے لیے فتویٰ دینا شہرت اور دکھاوے کا ذریعہ بن گیا ہے،چنانچہ اس سے گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے بڑے نقصانات سامنے آئے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ بغیر پختہ علم کے فتویٰ دینے کی جسارت نہ کرے، بلکہ صرف وہی بات کہے جس کا اسے پورا یقین ہو اور وہ اللہ کے سامنے اس کا جوابدہ ہو سکے۔ کیونکہ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچانے والا ہوتا ہے لہٰذا جب بھی فتویٰ دے، اسے چاہیے کہ اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھے جو اس نے اپنے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا :

ﱩ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﱨ

’’اور اگر وہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا، تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے، پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی بھی اس سے روکنے واﻻ نہ ہوتا۔‘‘ [سورۃ الحاقۃ : 44-47]۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﱨ

’’آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے اُن تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اِس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔‘‘ [سورۃ الاعراف : 33]

اور حجاج کرام کی اکثر غلطیاں بغیر علم کے فتویٰ دینے سے ہوتی ہیں اور عوام الناس کا بغیر کسی دلیل کے ایک دوسرے کی اندھی تقلید کرنے سے بھی ہوتی ہیں ۔

اور ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان اعمال میں سنت نبویﷺ کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے جن میں عام طور پر غلطیاں کثرت سے ہوتی ہیں، ساتھ ہی ان غلطیوں پر تنبیہ بھی کریں گے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اس عمل سے ہمارے مسلمان بھائیوں کو نفع پہنچائے، بے شک وہ بڑا ہی مہربان، کرم والا ہے۔

احرام اور اس کی غلطیاں

صحیح بخاری و صحیح مسلم اور ان کے علاوہ حدیث کی دوسری کتابوں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہلِ مدینہ کے لیے "ذو الحُلیفہ"، اہلِ شام کے لیے "جُحفہ"، اہلِ نجد کے لیے "قرن المنازل" اور اہلِ یمن کے لیے "یَلَملَم" میقات مقرر فرمایا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ مواقیت ان کے اہالیان کے لیے ہیں اور ان کے علاوہ ان دیگر لوگوں کے لیے بھی جو حج اور عمرہ کی نیت سے یہاں سے گزریں۔‘‘(2)

اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’نبی کریم ﷺ نے اہلِ عراق کے لیے "ذاتِ عِرق" کو میقات مقرر فرمایا‘‘۔ (ابو داؤد و نسائی)۔ (3)

اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’مدینے والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے، شام والے جُحفہ سے احرام باندھیں گے، اور نجد والے قَرن (قرن المنازل) سے احرام باندھیں گے۔‘‘ پورى حدیث(4)۔

چنانچہ یہ تمام مواقیت، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا ہے یہ شرعی حدود ہیں جو توقیفی ہیں، اور شارع علیہ السلام سے منقول ہو کر چلی آ رہی ہیں۔ کسی شخص کے لیے ان کے اندر تبدیلی کرنا یا ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں، یا جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لیے بغیر احرام کے ان حدود سے آگے بڑھنا جائز نہیں، اس لیے کہ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ... ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﱨ

’’اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کر جائیں وہ ظالم ہیں۔‘‘ [سورۃ البقرۃ : 229]

اور اس لیے بھی کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے جس کا بیان حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’مدینہ والے احرام باندھیں گے... اور شام والے احرام باندھیں گے...اور نجد والے احرام باندھیں گے‘‘۔

یہاں خبر امر (حکم) کے معنی میں ہے، اھلال کا معنی ہے بلند آواز سے تلبیہ کہنا، اور یہ تلبیہ احرام کے بعد ہی ہوتا ہے۔

چنانچہ جس نے حج یا عمرہ کی نیت کی ہو، اور ان مواقیت سے گزرے یا ان کے برابر اور مقابل سے اس کا گزر ہو تو اس کے لیے وہاں سے احرام باندھنا واجب ہے، چاہے خشکی کے راستے سے آئے یا سمندری راستے سے یا ہوائی جہاز سے۔

اگر وہ خشکی کے راستے سے آرہا ہو اور میقات سے یا اس کے مقابل سے اس کا گزر ہو تو وہ وہاں اترے اور ان تمام چیزوں کو کرے جو احرام کے وقت کیا جاتا ہے، جیسے کہ غسل کرنا اور اپنے جسم پر خوشبو لگانا اور احرام کا کپڑا پہننا، پھر اس کے بعد وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے احرام کی نیت کرے۔

اور اگر بحری (سمندری) راستے سے آرہا ہو اور کشتی یا اسٹیمر میقات کے بالمقابل ٹھہرنے والی ہو تو غسل کر کے اور خوشبو و غیرہ لگا کر احرام کے کپڑے پہن لے اور کشتی کے روانہ ہونے سے پہلے احرام کی نیت کرے، اور اگر کشتی میقات کے بالمقابل ٹھہر نے والی نہ ہو تو پہلے غسل وغیرہ سے فارغ ہو کر خوشبو لگالے اور احرام کا کپڑا بھی پہن لے پھر جب کشتی میقات کے بالمقابل پہنچے تو اس وقت احرام کی نیت کرے۔

اور اگر فضائی (ہوائی جہاز کے) راستے سے آرہا ہو تو جہاز پر سوار ہوتے وقت ہی غسل وغیرہ سے فارغ ہو جائے اور خوشبو لگا کر احرام کے کپڑے بھی میقات کے بالمقابل پہنچنے سے پہلے پہن لے، پھر میقات کے بالمقابل پہنچنے سے تھوڑا پہلے احرام کی نیت کرلے، اور میقات کے ایک دم بالمقابل آنے کا انتظار نہ کرے کیونکہ جہاز بہت تیز رفتاری سے گذر جائے گا اور نیت کرنے کی فرصت نہیں ملے گی، اور اگر احتیاط کے طور پر میقات کے بالمقابل پہوںچنے سے پہلے ہی احرام کی نیت کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

اس موقع پر بعض لوگ اس غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ وہ ہوائی جہاز میں میقات کے اوپر سے یا اس کے بالمقابل سے گزرتے ہوئے احرام کی نیت نہیں کرتے بلکہ جب جدہ ایئر پورٹ پر پہنچتے ہیں تو وہاں سے احرام باندھ کر نیت کرتے ہیں، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی سراسر مخالفت اور اللہ کے حدود سے تجاوز کرنا ہے۔

صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ دونوں شہر فتح ہو گئے (اس سے ان کا مقصود بصرہ اور کوفہ کے شہر ہیں) تو کچھ لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ : اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کا میقات قرن المنازل مقرر کیا ہے اور وہ ہم لوگوں کے راستے سے ہٹ کر ہے اور قرن المنازل کے راستے سے ہو کر آنے میں ہم لوگوں کے لیے بڑی مشقت اور تکلیف ہے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ : ’’تم لوگ اپنے راستے میں اس میقات کے بالمقابل کو دیکھ کر وہیں سے احرام باندھو۔‘‘(5)

چنانچہ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو خلفاء راشدین میں سے ہیں انھوں نے اس شخص کے لیے جو میقات سے نہ گزرے, میقات کے بالمقابل کو میقات مقرر کیا اور اسی طرح جو فضائی راستے سے میقات کے بالمقابل سے گزرے تو وہ بھی اسى شخص کى طرح ہے جو خشکی کے راستے سے میقات کے بالمقابل سے سے گزرے اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

پس اگر کوئی شخص اس طرح کی غلطی میں پڑ جائے کہ وہ بغیر احرام باندھے جدہ چلا آئے تو اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ اسی میقات کو واپس لوٹے جس کے بالمقابل سے اس کا ہوائی جہاز گزرا تھا اور وہیں سے احرام باندھے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے اور جدہ ہی سے احرام باندھتا ہے تو اکثر علماء کے نزدیک اس کے اوپر ایک فدیہ ہے جس کو وہ مکہ میں ذبح کر کے پورا کا پورا وہاں کے فقراء و مساکین میں تقسیم کرے گا اور اس میں سے وہ خود نہ کھائے گا اور نہ ہی کسی مالدار شخص کو ہدیہ دے گا اس لیے کہ یہ کفارہ کی جگہ پر ہے۔

طواف اور اس کی عملی غلطیاں

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے طواف حجرِ اسود سے شروع کیا جو بیت اللہ کے رکن یمانی کے مشرقی کونہ میں ہے(6) اور آپ نے پورے بیت اللہ کا طواف کیا حطیم کو شامل کر کے(7)، اور آپ نے صرف طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا(8)، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے طواف کے دوران حجرِ اسود کا استلام کرتے ہوئے بوسہ دیتے تھے(9)، نیز آپ نے ہاتھ سے حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کو بوسہ دیا ہے(10)، اور آپ کے ساتھ ایک ٹیڑھے سر کا ڈ نڈا تھا آپ نے اس سے حجر اسود کو چھو کر اس ڈنڈے کو بوسہ دیا ہے، اس حال میں کہ آپ اونٹ پر سوار تھے(11)، اور آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر بھی طواف کیا جب بھی آپ حجرِ اسود سے گزرتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے تھے(12)، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ رکنِ یمانی کو چھوتے تھے(13)۔

حجرِ اسود کے چھونے کی یہ مختلف کیفیات - واللہ اعلم - صرف سہولت کے لیے تھیں، آپ کے لیے جو بھی طریقہ آسان ہوا آپ نے کیا اور اس سلسلے میں جو بھی طریقہ آپ نے اپنایا، چاہے وہ استلام ہو یا بوسہ دینا ہو یا اشارہ کرنا ہو، سب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی عظمت کے لیے تھا اور اس اعتقاد سے نہیں کیا کہ یہ پتھر نفع اور نقصان پہنچا سکتا ہے۔

صحیحین (بخاری اور مسلم) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے : ’’میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نفع، اگر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔‘‘(14)

وہ غلطیاں جو بعض حجاج کرام سے سرزد ہوتی ہیں :

1- حجرِ اسود سے پہلے طواف شروع کرنا، یعنی حجرِ اسود اور رکن یمانی کے درمیان سے، یہ دین کے اندر غلو ہے جس سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے(15)، اور یہ بعض وجوہ سے رمضان کو ایک دن یا دو دن آگے کر دینے کے مشابہ ہے اور اس سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت ثابت ہے(16)۔

بعض حاجیوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ احتیاطًا کیا جاتا ہے غیر مقبول ہے، کیونکہ حقیقی اور نفع بخش احتیاط شریعت کی اتباع کرنا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنا ہے۔

2- بھیڑ بھاڑ کے وقت حطیم کے اندر سے طواف کرنا، اس طرح سے کہ حطیم کے دروازہ سے داخل ہو کر سامنے والے دروازہ سے نکل جانا، اور باقی حصہ کو اپنے دائیں طرف سے چھوڑ دینا، یہ بہت بڑی غلطی ہے، جو ایسا کرے گا اس کا طواف صحیح نہیں ہو گا، اس لیے کہ حقیقت میں اس نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا بلکہ اس کے بعض حصے کا طواف کیا۔

3- پورے ساتوں چکروں میں رمل کرنا۔

4- حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے لیے سخت ازدحام پیدا کرنا یہاں تک کہ کبھی کبھی لڑائی جھگڑا اور گالی گلوج تک نوبت آجاتی ہے، اور آپس میں مار پیٹ اور بد کلامی ہو جاتی ہے جو اس عمل کے لیے اور مسجدِ حرام کے اندر اور بیت اللہ کے سایہ میں قطعاً مناسب نہیں۔ پس ایسا کرنے سے طواف کے اندر (اجر میں) کمی ہوتی ہے، بلکہ پورے حج کے مناسک میں کمی ہوتی ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ﭑ ﭒ ﭓﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠﭡ ... ﭲ ﱨ

’’حج کے مہینے مقرر ہیں، اس لیے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے۔‘‘ [سورۃ البقرۃ : 197]۔

یہ مزاحمت اور بھیڑ بھاڑ خشوع و خضوع کو ختم کر دیتی اور اللہ کے ذکر واذکار کو بھلا دیتی ہے، جبکہ طواف کے اندر یہی دونوں اصل مقصود ہوتے ہیں۔

5- بعض لوگوں کا یہ اعتقاد رکھنا کہ حجرِ اسود بذات خود نفع بخش ہے، اس لیے بہت سارے لوگوں کو آپ ایسا پائیں گے کہ جب وہ حجرِ اسود کو چھوتے ہیں تو اپنے ہاتھوں کو باقی جسم پر پھیرتے کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو ان کے بچے ہوتے ہیں ان کے جسم پر بھی پھیرتے ہیں، حالانکہ یہ سب جہالت اور گمراہی ہے، نفع و نقصان صرف اللہ وحدہ لاشریک کی جانب سے ہے، گزشتہ صفحات میں امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے جس میں آپ نے فرمایا : ’’میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نفع، اگر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔‘‘

6- بعض حجاج کعبہ کے چاروں کونوں کو چھوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی کعبہ کی تمام دیواروں کو بھی چھوتے ہیں اور پھر ہاتھ کو جسم پر پھیرتے ہیں، حالانکہ یہ جہالت اور گمراہی ہے اس لیے کہ استلام (چھونا) ایک عبادت اور اللہ عز وجل کی عظمت ہے، تو اس میں صرف انہی چیزوں کو کرنا واجب ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہوں، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت اللہ کے صرف دونوں یمنی کونوں ہی کو چھوا ہے یعنی حجرِ اسود کو (جو کعبہ کے جنوب مشرقی کونے میں ہے) اور رکن یمانی کو (جو جنوب مغربی کونہ ہے)۔

مسند امام احمد بن حنبل میں مجاہد سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، تو معاویہ رضی اللہ عنہ چاروں کونوں کو چھونے لگے، اس پر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ان دونوں کونوں کا (حجرِ اسود اور رکن یمانی کے علاوہ) کیوں استلام کرتے ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو نہیں چھوا ہے؟ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیت اللہ کی کوئی ایسی چیز نہیں جس کو چھوڑ دیا جائے، اس پر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ’’یقینًا تمھارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے‘‘۔ یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ نے سچ کہا(17)۔

طواف اور اس میں سرزد ہونے والى قولی غلطیاں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ جب بھی طواف کے دوران حجرِ اسود کے پاس پہنچتے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے(18) اور رکن یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ پڑھتے:

ﱩ ... ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﱨ

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے۔‘‘(19) [سورۃ البقرۃ : 201]۔

اور آپ نے فرمایا کہ : ’’بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنا اور جمرات کو کنکریاں مارنا اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔‘‘(20)

اس موقع پر بعض طواف کرنے والے جن غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں وہ یہ ہیں کہ : ہر چکر میں مخصوص دعائیں کرتے ہیں اور ان کے علاوہ اس چکر میں کوئی دوسری دعا نہیں کرتے، یہاں تک کہ اگر دعا کے ختم ہونے سے پہلے وہ چکر پورا ہو جائے تو اس دعا کو کاٹ دیتے ہیں، (دعا پڑھنا بند کر دیتے ہیں) گرچہ ایک ہی کلمہ باقی رہ گیا ہو، تاکہ دوسرے چکر کے لیے نئی دعا شروع کریں اور اگر چکر پورا ہونے سے پہلے اس چکر کی دعا پوری ہو گئی تو خاموش ہو جاتے ہیں، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے طواف کے ہر چکر کے لیے کوئی مخصوص دعا وارد نہیں ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ : ’’طواف میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مخصوص ذکر وارد نہیں ہے، نہ ہی آپ کے حکم سے اور نہ ہی قول سے اور نہ ہی آپ کی تعلیم سے، بلکہ آدمی اس موقع پر تمام شرعی دعائیں پڑھ سکتا ہے۔ بہت سارے لوگ جو پرنالہ کے نیچے اور اس کے علاوہ دوسری جگہوں پر مخصوص دعائیں کرتے ہیں اس کی بھی کوئی اصلیت نہیں ہے۔‘‘(21)

اس لیے طواف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ دنیا اور آخرت کی اپنی پسندیدہ چیز کے لیے دعا کرے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے چاہے وہ کوئی بھی مشروع ذکر ہو، جیسے تسبیح یا تحمید یا تہلیل یا تکبیر یا قرآن شریف کی تلاوت وغیرہ۔

ایک غلطی یہ بھی ہے جس کا ارتکاب بعض طواف کرنے والے کرتے ہیں کہ لکھی ہوئی دعاؤں کو اپنے ہاتھ میں لے کر پڑھتے ہیں اور ان کے معانی کو نہیں جانتے، بسا اوقات اس میں طباعت کی غلطی کی وجہ سے معنی بالکل بدل جاتا ہے اور طواف کرنے والا اپنے لیے ہی بد دعا کر بیٹھتا ہے اور اس کو اس کا شعور نہیں ہوتا، یہ تعجب خیز چیز بہت سننے میں آتی ہے۔

اگر طواف کرنے والا اپنے رب سے انہی چیزوں کے بارے میں دعا کرے جن کو وہ چاہتا ہے اور جانتا ہے کہ جس سے وہ اپنے مطلوب کى غایت کو پہونچ جائے تو یہ اس کے لیے نفع بخش اور بہتر ہوگا، اور اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتر طور پر اتباع اور اقتدا ہوجائے گى۔

ایک غلطی یہ بھی ہے جس کا ارتکاب بعض طواف کرنے والے کرتے ہیں کہ لوگ ایک جماعت کی شکل میں اکٹھا ہوتے ہیں اور ان کا ایک قائد ہوتا ہے جو ان کو بلند آواز سے دعائیں پڑھواتا اور طواف کراتا ہے اور اس کے پیچھے لوگ ایک آواز میں اس کی اتباع کرتے ہیں جس کی وجہ سے آواز بلند ہوتی ہے اور اس سے ایک ہنگامہ کی شکل پیدا ہوتی ہے، اور دوسرے طواف کرنے والوں کو کافی تشویش ہوتی ہے اور وہ لوگ کیا کہتے ہیں انھیں اس کا پتہ نہیں چلتا، جس کی وجہ سے ان کا خشوع و خضوع بھی جاتا رہتا ہے اور ایسی مقدس اور امن والی جگہ پر اللہ کے بندوں کو تکلیف پہنچتی ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار لوگوں کے پاس اس حال میں آئے کہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے اور آواز کے ساتھ قرأت کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں کا ہر شخص اپنے رب سے دعا ومناجات کرتا ہے اس لیے بعض بعض کے اوپر قرآن پڑھنے میں آواز بلند نہ کرے۔‘‘ ( اس کو امام مالک نے ’’موطا‘‘ میں روایت کیا ہے(22)، اور ابن عبد البر نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے)۔(23)

کتنی اچھی بات ہوتی کہ یہ رہنما لوگوں کے ساتھ کعبہ کے سامنے آکر ٹھہر کر ان سے کہتا کہ اس طرح کرو، اس طرح کہو، جو دعا تمھیں پسند ہو کرو، اور طواف میں ان کے ساتھ چلتا تاکہ ان میں کا کوئی غلطی نہ کرتا، لوگ اطمینان اور خشوع و خضوع کے ساتھ طواف کرتے اور اپنے رب کو خوف اور امید اور گریہ وزاری اور آہستہ سے پکارتے جو ان کو پسند ہوتا اس طرح کی دعا کرتے اور پکارتے، اور لوگ ان کی تکلیف سے محفوظ رہتے۔

طواف کے بعد کی دو رکعتیں اور ان میں کی جانی والى غلطیاں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے : جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور قرآن کی یہ آیت پڑھى : ’’وَٱتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبۡرَٰهِـۧمَ مُصَلّىۖ‘‘ (تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو)۔ [سورۃ البقرۃ : 125]، آپ نے دو رکعت نماز پڑھى، اس حال میں کہ مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے درمیان تھا(24)، پہلی رکعت میں آپ نے ’’سورہ فاتحہ‘‘ اور ’’قل یا أیھا الکافرون‘‘ پڑھى اور دوسری رکعت میں ’’سورہ فاتحہ‘‘ اور ’’قل ھو اللہ احد‘‘(25)۔

یہاں بعض لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ یہ دو رکعت نماز مقام ابراہیم ہی کے قریب پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے وہاں ازدحام پیدا کرتے ہیں اور طواف کرنے والوں کو حج اور عمرہ کے مواسم میں تکلیف دیتے ہیں اور ان کے طواف کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حالاں کہ ان کا یہ گمان غلط ہے۔

اس لیے کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں پورے حرم میں کسی بھی جگہ پڑھ لینا کافی ہے ، اور ممکن ہے کہ نماز پڑھنے والا مقام ابراہیم کو اپنے اور کعبہ کے سامنے کر لے، گرچہ وہ اس سے دور ہو،اور اس طور پر وہ صحن یا مسجدِ حرام کے برآمدہ میں نماز پڑھ لے گا، اور اذیت وتکلیف سے بچ جائے گا، نہ تو خود ہی تکلیف اٹھائے گا اور نہ ہی دوسروں کو تکلیف پہنچائے گا، اور اس کی نماز خشوع، خضوع اور اطمینان کے ساتھ ہوجائے گى۔

کتنی اچھی بات ہوتی اگر مسجدِ حرام کے پاس موجود نگراں ایسے لوگوں کو منع کرتے جو طواف کرنے والوں کو مقامِ ابراہیم کے پاس نماز پڑھ کر تکلیف پہنچاتے ہیں اور ان کے لیے یہ واضح کرتے کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں اسی جگہ پڑھنا شرط نہیں ہے۔

ایک غلطی یہ بھی ہے کہ بعض لوگ مقامِ ابراہیم کے پیچھے بغیر سبب کے بہت ساری رکعتیں پڑھتے ہیں، حالانکہ وہ دوسرے لوگ جو طواف سے فارغ ہوتے ہیں ان کو اس جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک غلطی یہ بھی ہے کہ بعض طواف کرنے والے جب دو رکعت نماز سے فارغ ہوتے ہیں تو ان کا راہبر ان کو کھڑا کردیتا ہے اور بلند آواز سے دعا کرتا ہے اور وہ لوگ بھی اس کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور ان کے اوپر ظلم کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﱨ

’’تم لوگ اپنے رب سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے بھی، واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔‘‘ [سورۃ الأعراف : 55]۔

صفا اور مروہ پر چڑھنے، ان دونوں کے اوپر دعا کرنے اور دونوں ہری نشانیوں کے درمیان دوڑنے کے وقت کى جانی والی غلطیاں

نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو آپ نے یہ آیت پڑھی :

ﱩ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊﮋ ...ﮟ ﱨ

’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ [سورۃ البقرۃ : 158]۔

پھر آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ جب آپ نے کعبہ کو دیکھا تو قبلے کی طرف رخ کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور اللہ کی تعریف کی اور جو چاہا آپ نے دعا کی اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا : «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ ٱلْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»’’اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے ہی نے (مخالف) گروہوں کو شکست دی۔‘‘ پھر اس کے بعد دعا کی، اور اسی طرح آپ نے تین مرتبہ دعا کی، پھر آپ صفا پہاڑی سے چل کر نیچے اترے، یہاں تک کہ جب آپ وادی میں پہنچ گئے جو دونوں ہری نشانیوں کے درمیان ہے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ جب آپ نے ان دونوں کو پار کر لیا تو معمول کی چال چلنے لگے، یہاں تک کہ آپ مروہ تک پہنچے تو آپ نے اسی طرح کیا جیسے آپ نے صفا پر کیا تھا(26)۔

یہاں وہ غلطی جس کو بعض سعی کرنے والے کرتے ہیں یہ ہے کہ جب لوگ صفا اور مروہ پر چڑھتے ہیں تو کعبہ کا استقبال کر کے تین تکبیر کہتے ہیں اور ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرتے ہیں جس طرح نماز میں کرتے ہیں، پھر اس کے بعد اترتے ہیں، حالانکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔ لہذا اگر ان کے لیے آسان ہو تو یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کریں، نہیں تو پھر اس کو چھوڑ ہی دیں اور کوئی دوسرا نیا طریقہ نہ اپنائیں جس کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔

انہی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ بھی ہے کہ بعض سعی کرنے والے صفا سے مروہ تک بہت تیزی سے چلتے ہیں، یعنی پورا سعی ان کا اسی طرح ہوتا ہے، حالانکہ یہ سنت کے خلاف ہے، کیونکہ تیزی سے چلنا صرف دونوں ہری نشانیوں کے درمیان ہے اور باقی سعی میں عام چال چلنا ہے، یہ غلطی زیادہ تر جہالت کی وجہ سے واقع ہوتی ہے یا اس وجہ سے کہ بہت سے لوگ سعی سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ واللہ المستعان۔

انہی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ بھی ہے کہ بعض عورتیں بھی دونوں ہری نشانیوں کے درمیان تیزی سے چلتی ہیں، یعنی دوڑتی ہیں، جیسے کہ مرد لوگ کرتے ہیں، حالانکہ یہاں عورت کو تیزی سے نہیں چلنا ہے بلکہ وہ اپنی عام چال چلے گی، اس لیے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’عورتوں کے لیے نہ ہی بیت اللہ کے طواف کے وقت تیز چلنا ہے اور نہ ہی صفا و مروہ کے درمیان۔‘‘(27)

بعض سعی کرنے والے یہ بھی غلطی کرتے ہیں کہ جب جب وہ صفا یا مروہ پر چڑھتے ہیں تو اللہ کا یہ فرمان پڑھتے ہیں :

ﱩ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊﮋ ...ﮟ ﱨ

’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ [سورۃ البقرۃ : 158]۔ جب کہ سنت یہ ہے کہ صرف صفا پر پہلے چکر کے وقت اس آیت کوپڑھا جائے۔

اور ایک غلطی یہ بھی ہے کہ بعض سعی کرنے والے ہر چکر کے لیے مخصوص دعائیں پڑھتے ہیں حالانکہ اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔

وقوفِ عرفہ کے وقت کى جانے والى غلطیاں

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ عرفہ کے دن سورج کے ڈھلنے تک نمرہ میں ٹھہرے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور وادی عرنہ کے بیچ میں اترے اور وہاں ظہر اور عصر کی نماز دو دور کعت جمع تقدیم کر کے ایک اذان اور دو اقامت سے پڑھی، پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آئے اور وہاں ٹھہرے اور کہا :’’میں اس جگہ ٹھہرا ہوں اور پورا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔‘‘ چنانچہ آپ قبلہ رخ ہو کر کے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر مسلسل کھڑے رہے اور اللہ کا ذکر اور اس سے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، اور اس کی گولائی نظر سے اوجھل ہو گئی، پھر آپ مزدلفہ کی طرف چلے۔(28)

وہ غلطیاں جو بعض حجاجِ کرام سے یہاں سرزد ہوتی ہیں :

1- پہلی غلطی یہ کہ لوگ عرفہ کے حدود کے باہر اترتے ہیں اور اپنی قیام گاہوں میں رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا ہے، پھر وہیں سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں، اور عرفہ میں ان کا وقوف نہیں ہو پاتا ہے، یہ بہت بڑی غلطی ہے جس سے حج فوت ہو جاتا ہے، (یعنی ان کا حج ہی نہیں ہوتا)، کیونکہ عرفہ کے اندر وقوف کرنا اور ٹہرنا حج کا ایک رکن ہے جس کے بغیر حج صحیح نہیں ہو گا، اور جو شخص عرفہ کے اندر اس میں میں ٹھہرنے کے وقت نہ ٹھہرے، اس کا حج نہیں ہوتا، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :’’عرفہ ہی حج ہے جو شخص مزدلفہ کی رات میں فجر کے طلوع ہونے سے پہلے عرفہ آگیا اس نے حج کو پالیا۔‘‘(29)

اور اس سنگین غلطی کا سبب یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اس لیے کہ ان میں سے بعض لوگ عرفہ پہنچنے سے پہلے اتر جاتے ہیں اور عرفہ کی نشانی اور حدود نہیں تلاش کرتے، اور اس طرح اپنا بھی حج ضائع کر دیتے ہیں اور دوسروں کے بھی دھوکہ میں متبلا ہونے کا سبب بنتے ہیں ہیں۔

کتنی اچھی بات ہوتی اگر حج کے مناسک کی طرف رہنمائی کرنے والے لوگ مختلف زبانوں کے ذریعہ کسی وسیلے سے تمام لوگوں کو ان کی غلطیوں کے بارے میں متنبہ کرتے اور مطوفین سے عہد لیتے کہ تمام حجاج کو اس سے بچنے کی تاکید کریں، تاکہ لوگوں کو بصیرت حاصل ہو اور وہ صحیح طور پر مناسکِ حج ادا کر سکیں۔

2- دوسری غلطی یہ ہے کہ لوگ سورج ڈوبنے سے پہلے عرفہ سے روانہ ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ حرام ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے، کیونکہ آپ سورج غروب ہونے تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج کی گولائی غائب ہو گئی، اور اس لئے بھی کہ سورج ڈوبنے سے پہلے عرفہ سے روانہ ہو نا زمانہ جاہلیت کی عادت اور عمل ہے۔

3- تیسری غلطی یہ ہے کہ لوگ دعاء کرتے وقت جبل عرفہ کی طرف رُخ کرتے ہیں، گرچہ قبلہ ان کی پیٹھ پیچھے ہو یا ان کے دائیں طرف ہو یا بائیں طرف ہو، یہ بھی سنت کے خلاف ہے، سنت یہ ہے کہ قبلہ کی طرف رُخ کر کے دعا کی جائے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔

رمی جمرات اور اس میں کی جانے والی غلطیاں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے دس ذی الحجہ (یوم النحر ) کو چاشت کے وقت جمرہ عقبہ (آخری جمرہ جو مکہ سے قریب ہے) کو سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری مارتے وقت آپ ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے تھے(30)، ان میں سے ہر کنکری چنے کے دانے سے معمولی سی بڑی تھی۔

اور سنن نسائی میں فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -اور وہ مزدلفہ سے منی تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے- کہ جب آپ وادی محسر میں پہنچے تو وہاں اترے اور فرمایا :’’تم لوگ یہاں سے جمرہ کو کنکری مار نے کے لیے چنے کے دانے سے معمولی بڑی کنکریاں چنو۔‘‘ فضل بن عباس کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ویسا ہی اشارہ کر رہے تھے جس طرح انسان اپنی انگلیوں سے کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔(31)

مسند امام احمد بن حنبل میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یحیی نے کہا : عوف نہیں جانتے، یعنی ان کو شک ہوا کہ عبد اللہ نے کہا یا فضل نے کہا کہ : مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی صبح کہا اس حال میں کہ آپ اپنی سواری پر تھے کہ :’’مجھے کنکریاں چن کر دو‘‘ راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے لیے چنے کے دانے سے معمولی بڑی کنکریاں چن کر دیں، تو آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں رکھا اور دو مرتبہ فرمایا: ’’اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں‘‘ اور اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، اور یحییٰ نے اشارہ کیا کہ آپ نے اس کو اٹھایا اور کہا : ’’تم لوگ غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کی قومیں دین میں غلو کے سبب ہلاک کر دی گئیں۔ “(32)

ام سلیمان بن عمرو بن الاحوص رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عید الاضحی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی کے نشیبی حصہ کی جانب سے جمرۃ العقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : ’’اے لوگو! تم میں کا بعض بعض کو قتل نہ کرے، اور جب تم جمرہ کو کنکریاں مارو تو چنے سے معمولی بڑی کنکریوں سے مارو۔‘‘ (اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے)۔(33)

صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ چھوٹے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے تھے اور ہر کنکری مارتے وقت ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے تھے، پھر تھوڑا آگے بڑھ کر نیچے اترتے اور قبلہ رُخ ہو کر کے دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر دیر تک کھڑے ہو کر دعا کرتے تھے، پھر اس کے بعد جمرہ وسطی کو کنکری مارتے تھے، اور بائیں طرف ہٹ کر نیچے اترتے اور قبلہ رُخ ہو کر کے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دیر تک دعا کرتے تھے، پھر بڑے جمرہ کو وادی کے بیچ سے کنکری مار کر نکل جاتے تھے اور وہاں کھڑے نہیں ہوتے تھے، اور کہتے تھے اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(34)

امام احمد اور ابو داود نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بلا شبہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنا اللہ کے ذکر کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔‘‘(35)

وہ غلطیاں جو بعض حجاجِ کرام سے سرزد ہوتی ہیں :

1- ان کا یہ اعتقاد کہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لینا ضروری ہے، اس لیے وہ رات ہی میں کنکریاں چننے میں اپنے آپ کو تھکاتے اور مشقت میں ڈالتے ہیں، اور منیٰ کے تمام دنوں کے لئے ان کو اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں، یہاں تک کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی اپنی ایک کنکری گم کر دیتا ہے تو وہ بہت غمگین ہوتا ہے اور اپنے ساتھیوں سے سوال کرتا ہے کہ وہ مزدلفہ میں چنی ہوئی کنکریوں میں سے بچی ہوئیں کو اسے عنایت کردیں۔

پہلے اس کی وضاحت ہو چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور آپ نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کو جب کنکریاں چننے کا حکم دیا تھا تو آپ اپنی سواری پر تھے اور ظاہر یہی ہے کہ آپ کا یہ ٹھہرنا جمرہ کے پاس تھا، کیونکہ آپ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپ مزدلفہ سے چلنے کے بعد اس سے پہلے ٹھہرے تھے اور چونکہ آپ کو اس وقت ان کنکریوں کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے آپ کو اس سے پہلے کنکریاں چننے کے لیے حکم دینے کی ضرورت بھی نہیں تھی، اور نہ اس کا کوئی فائدہ تھا۔

2- ان کا یہ اعتقاد کہ وہ شیطان کو کنکری مار رہے ہیں اور اسی لیے جمرہ کو شیطان سے موسوم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بڑے یا چھوٹے شیطان کو ہم نے مارا، یا یہ کہتے ہیں کہ میں نے شیطان کے باپ کو مارا اور اس سے ان کی مراد جمرہ عقبہ یعنی بڑا جمرہ ہوتا ہے، اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ بولتے ہیں جو ان مقدس جگہوں کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ وہ کنکریوں کو نہایت ہی سخت غصہ اور چیخ و پکار اور گالی و گلوج کے ساتھ پھینکتے ہیں اور ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان کو مار رہے ہیں، یہاں تک کہ ہم نے بھی اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ لوگ اس کے اوپر چڑھ کر اس کو پکڑ کر جوتے اور بڑے پتھر وغیرہ سے غصہ اور جذبات میں ہو کر مارتے ہیں، اس وقت ان کو لوگوں کی کنکریاں بھی لگتی ہیں۔ جس سے ان کا غصہ اور بڑھتا ہے اور لوگ ان کے اس فعل پر قہقہہ لگا کر ہنستے ہیں، گویا کہ وہ ایک مزاحیہ ڈرامہ ہے جس کا لوگ مشاہدہ کر رہے ہیں، یہ سب چیزیں ہم نے جمرات پر پل بنائے جانے اور جمرات کے ستون کو بلند کیے جانے سے پہلے دیکھا ہے۔

مذکورہ سارے امور اس عقیدہ پر مبنی ہوتے ہیں کہ حاجی لوگ شیطان کو مار رہے ہیں، جبکہ اس کی کوئی صحیح اور قابلِ اعتماد دلیل نہیں۔ آپ جان چکے ہیں کہ رمی جمرہ کی مشروعیت کی حکمت کیا ہے، اس کو اللہ کے ذکر واذکار کے لیے مشروع کیا گیا ہے اور اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پھینکتے وقت ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے تھے۔

3- بہت سے لوگ جمرات کو بڑی بڑی کنکریوں اور جوتوں و چپلوں اور لکڑیوں سے مارتے ہیں، حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے خلاف ہے، جس کو آپ نے اپنی امت کے لیے اپنے فعل و حکم کے ذریعہ مشروع کیا، اس طرح کہ آپ نے چنے سے معمولی بڑی کنکری سے رمی کی اور اپنی امت کو بھی اسی کا حکم دیا کہ وہ بھی اسی کے مثل کنکری سے رمی کریں اور آپ نے امت کو دین کے اندر غلو کرنے سے ڈرایا، لیکن اس بڑی غلطی کا سبب یہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شیطان کو کنکری مارتے ہیں۔

4- جمرات کی طرف لوگ سنگدلی اور سختی کے ساتھ آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کے بندوں پر رحم کرتے ہیں، ان کے اس فعل کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے اور لڑائی جھگڑے تک کی نوبت آجاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عبادت اور مقدس مقام لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جس کام کے لیے اس کو مشروع کیا گیا تھا اور جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اس سے وہ چیز نکل جاتی ہے۔ مسند امام احمد بن حنبل میں قدامہ بن عبد اللہ بن عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ : ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) دیکھا کہ آپ اپنی صہباء اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ عقبہ کو کنکری مار رہے تھے اور وہاں لڑائی جھگڑا، دھکم پیل اور ہٹو بچو کی کوئی بات نہیں تھی، (یعنی سکون سے سب لوگ کنکری مار رہے تھے)۔‘‘ (اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)۔(36)

5- ایام تشریق میں پہلے اور دوسرے جمرہ کی رمی کے بعد کھڑے ہو کر دعا کرنا لوگ چھوڑ دیتے ہیں، اور پہلے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان دونوں جمروں کو رمی کرنے کے بعد قبلہ رُخ ہو کر کے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھا کرکے لمبی دعائیں کرتے تھے۔

اور اس سنت کو چھوڑنے کا سبب یہ ہے کہ لوگ سنت سے ناواقف اور جاہل ہیں یا بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ جلدی سے اس عبادت سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔

کتنی اچھی بات ہوتی کہ حاجی حج سے پہلے حج کے احکام و مسائل کو سیکھ لیتا تاکہ وہ اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ اور طریقے سے کرتا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی متابعت اور سنت کو پالیتا۔ اگر کوئی شخص کسی شہر یا ملک کے سفر کا ارادہ کرے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ پہلے اس کے راستہ کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا تا کہ وہ منزل مقصود تک آسانی سے پہنچ سکے، تو وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ چلنا چاہے تو کیا اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ چلنے سے پہلے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرے تاکہ منزل مقصود تک بآسانی پہنچے۔

6- بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ ساری کنکریوں کو ایک ہی بار میں مٹھی بھر کر مار دیتے ہیں، یہ بہت ہی بڑی غلطی ہے، اہلِ علم نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ کنکریاں ایک ہی بار میں مار دے تو وہ ایک ہی کنکری شمار کی جائے گی، اس لیے ضروری ہے کہ ہر کنکری کو ایک ایک کر کے مارا جائے جس طرح سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔

7- بہت سے لوگ رمی کے وقت مخصوص دعائیں پڑھتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد نہیں ہیں، جیسے وہ کہتے ہیں : ’’الَّلهُمَّ اجْعَلْهَا رِضًا لِلرَّحمنِ، وغَضَبًا لِلشَّيطانِ‘‘ ( اے اللہ! اسے رحمن کی رضا اور شیطان کے لیے غصّہ و ناراضگی کا سبب بنا دے)۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس دعا کو پڑھتے وقت وہ تکبیر کہنا چھوڑ دیتے ہیں جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہے، اور بہتر یہ ہے کہ صرف اسی پر اکتفا کیا جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہے، اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی نہ کی جائے۔

8- بہت سے لوگ خود کنکری مارنے سے سستی برتتے ہیں اور طاقت رکھنے کے باوجود دوسروں کو وکیل بناتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو مشقت اور بھیڑ بھاڑ اور پریشانی سے محفوظ رکھیں، اللہ تعالیٰ نے حج پورا کرنے کے لیے جو حکم دیا ہے یہ اس کے مخالف ہے، جیسا کہ فرمایا :

ﱩ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔﯕ ... ﰢ ﱨ

’’اور حج و عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔‘‘ [سورۃ البقرۃ : 196]۔

اس لیے قدرت و طاقت رکھنے والے کے لیے واجب ہے کہ وہ بذات خود کنکریاں مارے اور مشقت وپریشانی اور تھکان پر صبر کرے، کیونکہ حج ایک قسم کا جہاد ہے اور اس کے اندر مشقت و پریشانی لاحق ہونا لازمی ہے، پس حاجیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں اور حتی المقدور اپنے مناسک کو پورا کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔

طوافِ وداع اور اس میں کى جانے والى غلطیاں

صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم) میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عہد (کام) بیت اللہ کے ساتھ ہو مگر اسے حائضہ عورتوں کے اوپر سے ساقط کردیا گیا۔“(37)

اور صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ : لوگ ہر طرف سے اپنے وطن کو واپس ہو رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کوئی بھی شخص اس وقت تک مکہ چھوڑ کر واپس نہ جائے جب تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کرلے۔‘‘(38)

اسے ابو داود نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے :’’یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو۔‘‘(39)

صحیحین (بخاری و مسلم ) میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: میں بیمار تھی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :’’تم لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لو۔“ ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے طواف کیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورۂ طور پڑھ رہے تھے۔‘‘(40)

سنن نسائی میں ام سلمہ ہی سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم میں نے مکہ سے نکلنے کا طواف (طوافِ وداع) نہیں کیا، تو آپ نے فرمایا :’’جب نماز شروع ہو جائے تو تم اپنے اونٹ پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔‘‘(41)۔

صحیح بخاری میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی، پھر وادی محصّب میں آپ نے تھوڑی دیر آرام کیا پھر اس کے بعد بیت اللہ کے لیے روانہ ہوئے اور اس کا طواف کیا۔(42)

صحیحین (بخاری و مسلم) میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ : ‌‌’’کیا وہ ہم لوگوں کو روک دیں گی؟ بعض بیویوں نے کہا کہ انھوں نے طواف افاضہ کر لیا ہے، آپ نے فرمایا کہ تب تو وہ کوچ کریں۔‘‘(43)

اور مؤطا میں عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : ’’حج سے کوئی بھی شخص اس وقت تک واپس نہ پھرے جب تک کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرلے، اس لیے کہ آخری کام بیت اللہ کا طواف کرنا ہے۔‘‘(44)

اور اسی مؤطا ہی میں یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو ’’مر الظہران‘‘ سے واپس کر دیا جس نے طوافِ وداع نہیں کیا تھا یہاں تک کہ اس نے واپس آکر طوافِ وداع کیا۔(45)

وہ غلطیاں جن کا بعض لوگ اس موقع پر ارتکاب کرتے ہیں :

1- حج سے واپس ہونے والے لوگ کنکریاں مارنے سے پہلے منی سے مکہ آکر طوافِ وداع کرتے ہیں اور پھر واپس جا کر کنکریاں مارتے ہیں پھر وہیں سے اپنے شہروں کو سفر کر جاتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہے، جس میں آپ نے یہ فرمایا کہ حاجیوں کا آخری کام بیت اللہ کا طواف کرنا ہے، پس جس نے طوافِ وداع کے بعد کنکری ماری اس کا آخری کام کنکری مارنا ہوا نہ کہ طوافِ وداع، اور اس لیے بھی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طوافِ وداع اس وقت کیا جب آپ نے اپنے تمام مناسک حج پورے کر لیے اور فرمایا :’’تم مجھ سے اپنے حج کے مسائل سیکھ لو۔‘‘(46) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اثر اس بات کی صریح دلیل ہے کہ بیت اللہ کا طواف حج کا آخری کام ہے۔

لہٰذا جس نے طواف کر لیا اور رمی بعد میں کی تو یہ کافی نہیں ہو گا کیونکہ یہ کام اپنى جگہ پر نہیں ہوا ہے، لہذا کنکری مارنے کے بعد پھر سے دوبارہ طواف کرنا واجب ہے، اگر طواف کو دوبارہ نہیں لوٹاتا ہے تو اس کا حکم بعینہ اسى شخص کا ہوگا جس نے طواف وداع کو چھوڑ دیا ہو۔

2- طوافِ وداع کے بعد مکہ میں قیام کرنا، ایسا کرنے سے ان کا ان کا آخرى کام بیت اللہ کا طواف نہیں ہو گا، اور یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور عمل کے خلاف ہے، آپ نے اپنی امت کو یہ حکم دیا ہے کہ حاجیوں کا آخری کام بیت اللہ کا طواف کرنا ہے، اور آپ نے طوافِ وداع مکہ سے نکلتے وقت کیا تھا اور اسی طرح آپ کے صحابہ نے بھی کیا تھا۔

لیکن بعض اہلِ علم نے طوافِ وداع کے بعد کسی ضرورت کے پیش آجانے کی وجہ سے کچھ دیر ٹھہرنے کی رخصت دی ہے، جیسے کہ طوافِ وداع کے بعد کسی فرض نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو اس کو پڑھ لے، یا کوئی جنازہ حاضر ہو جائے تو اس کی نماز پڑھ لے، یا اس کے سفر کے تعلق سے کوئی حاجت پیش آجائے جیسے کہ کچھ سامان خریدنا ہو یا کسی ساتھی کا انتظار کر رہا ہو، لیکن اگر کسی شخص نے طوافِ وداع کے بعد بغیر کسی عذر کے مکہ میں قیام کیا تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ طواف کا اعادہ کرے۔

3- طوافِ وداع کے بعد حرم شریف سے پیٹھ کے بل نکلنا، لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اس میں کعبہ کی تعظیم ہے، حالانکہ یہ سنت کے خلاف ہے، بلکہ ایسا کرنا ان بدعات میں سے ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ڈرایا ہے اور اس کے بارے میں آپ کا فرمان ہے :’’ہر بدعت گمراہی ہے‘‘۔(47)بدعت: ہر وہ عبادت یا عقیدہ ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے برخلاف ایجاد کر لیا گیا ہو، تو کیا اپنی ایڑی کے بل لوٹنے والا یہ گمان کرتا ہے کہ کعبہ کی تعظیم اسی میں ہے یا وہ اپنے گمان کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کعبہ کی تعظیم کرنے والا ہے یا پھر اس کا یہ گمان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس تعظیم کو نہیں جانتے تھے اور نہ ہی آپ کے خلفاء راشدین جانتے تھے؟!!

4- طوافِ وداع سے فارغ ہونے کے بعد حرمِ شریف کے دروازہ کے پاس کعبہ کی طرف متوجہ ہو کر دعا کرنا، جیسے کہ کعبہ کو الوداع کہہ رہے ہوں، یہ بھی بدعات میں سے ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا وارد نہیں ہے نہ ہی خلفاء راشدین سے، اور ہر وہ چیز جس کا قصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کیا گیا ہو اور شریعت میں وہ چیز وارد نہ ہو تو وہ باطل ہے اور اس کے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق : ’’جس نے ہمارے اس دین کے اندر کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘(48) یعنی اسے کرنے والے کے منہ پر اس کو ما ردیا دیا جائے گا۔

اس لیے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے واجب ہے کہ اس کی عبادتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق ہوں تاکہ وہ ان کے ذریعہ اللہ کی محبت و مغفرت پالے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﱨ

’’کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تم سے محبت کر ے گا اور تمھارے گناہ معاف فرما د ے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ [سورۃ آل عمران : 31]۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کیے ہوئے کام میں ہوتی ہے اسی طرح آپ کی چھوڑی ہوئی چیزوں میں بھی ہوتی ہے، لہٰذا جس کام کا مقتضى آپ کے زمانے میں پایا گیا اور آپ نے اس کو نہیں کیا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سنت وشریعت نے اس کو چھوڑ دیا ہے، تو یہ جائز نہیں کہ اللہ کے دین میں اس کو ایجاد کیا جائے، گرچہ انسان اس کو اپنی خواہش کے مطابق پسند کرتا ہو، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ﱩ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪﯫ ﯬ ﯭ ﯮ...ﯳ ﱨ

’’اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہوجائے تو زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے۔ حق تو یہ ہے کہ ہم نے انھیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے۔‘‘ [سورۃ المؤمنون : 71]۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم میں کا کوئی بھی شخص اس وقت تک (کامل)مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ بنالے۔‘‘(49)

ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دے، اور ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کرے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کرے، بیشک وہ بہترین عطا کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے،اور درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پراور ان کی آل اور تمام صحابہ پر۔

یہ رسالہ 19 شعبان 1398ھ کو تحریر کیا گیا۔

بقلم : اللہ تعالی کا محتاج

محمد بن صالح العثیمین

اللہ تعالیٰ ان کی، ان کے والدین اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے

فہرست

 

احرام اور اس کی غلطیاں 6

طواف اور اس کی عملی غلطیاں 11

وہ غلطیاں جو بعض حجاج کرام سے سرزد ہوتی ہیں 14

طواف اور اس میں سرزد ہونے والى قولی غلطیاں 18

طواف کے بعد کی دو رکعتیں اور ان میں کی جانی والى غلطیاں 22

صفا اور مروہ پر چڑھنے، ان دونوں کے اوپر دعا کرنے اور دونوں ہری نشانیوں کے درمیان دوڑنے کے وقت کى جانی والی غلطیاں 25

وقوفِ عرفہ کے وقت کى جانے والى غلطیاں 28

وہ غلطیاں جو بعض حجاجِ کرام سے یہاں سرزد ہوتی ہیں 29

رمی جمرات اور اس میں کی جانے والی غلطیاں 31

وہ غلطیاں جو بعض حجاجِ کرام سے سرزد ہوتی ہیں 34

طوافِ وداع اور اس میں کى جانے والى غلطیاں 40

وہ غلطیاں جن کا بعض لوگ اس موقع پر ارتکاب کرتے ہیں 43


() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب مهل أهل الشام، حدیث نمبر (1526)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب مواقيت الحج، حدیث نمبر (1181)۔

() سنن ابی داود، كتاب المناسك، باب في المواقيت، حدیث نمبر (1739)، وسنن نسائی، كتاب المناسك، باب ميقات أهل العراق، حدیث نمبر (2657)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب ميقات أهل المدينة، حدیث نمبر (1525)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب مواقيت الحج والعمرة، حدیث نمبر (1182/13)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب ذات عرق لأهل العراق، حدیث نمبر : (1531)۔

() صحیح بخاری، کتاب الحج، باب من ساق البدن معہ، حدیث نمبر: (1691) (1692)،اور صحیح مسلم، كتاب الحج، باب وجوب الدم على المتمتع، حدیث نمبر : (1227) (1228) میں حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ اسی طرح یہ حدیث صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر (1218) میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

() بیہقی، السنن الكبرى (جلد 5، صفحہ 90) حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح بخاري، كتاب الحج، باب استلام الحجر الأسود حين يقدم مکۃ، حدیث نمبر: (1603)، اور صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب الرمل في الطواف، حدیث نمبر : (1261) میں ابن عمر رضي الله عنہما سے حدیث مروی ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر : (1218) میں حضرت جابر رضي الله عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب تقبيل الحجر، حدیث نمبر: (1611) حديث ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب الرمل في الحج والعمرة، حدیث نمبر : (1606)، اور صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب استلام الركنين اليمانيين في الطواف، حدیث نمبر : (1268/ 246) میں ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب جواز الطواف على بعير، حدیث نمبر : (1275) حديث أبو الطفيل رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب من أشار إلى الركن إذا أتى عليه، حدیث نمبر : (1612) میں ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب من لم يستلم إلا الركنين اليمانيين، حدیث نمبر : (1609)، اور صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب استلام الركنين اليمانيين في الطواف، حدیث نمبر : (1267) میں ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب ما ذكر في الحجر الأسود، حدیث نمبر : (1597)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب تقبيل الحجر الأسود، حدیث نمبر : (1270)۔

() سنن نسائی، كتاب مناسك الحج، باب التقاط الحصى، حدیث نمبر : (3059)، سنن ابن ماجہ، كتاب المناسك، باب قدر حصى الرمي، حدیث نمبر : (3029)، اور مسند احمد : (1/ 347) ۔ حديث حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الصوم، باب لا يتقدم رمضان بصوم يوم ولا يومين، حدیث نمبر : (1914)، اور صحیح مسلم، كتاب الصيام، باب لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين، حدیث نمبر : (1082)۔ حديث ابو هريرة رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ترمذی، كتاب الحج، باب ما جاء في استلام الحجر، حدیث نمبر : (858)، اور مسنداحمد : (1/ 332)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب التكبير عند الركن، حدیث نمبر : (1613)۔ حديث حضرت ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے۔

() سنن ابو داود، كتاب المناسك، باب الدعاء في الطواف، حدیث نمبر : (1892)، اور مسند احمد: (3/ 411)۔ حديث عبد الله بن السائب رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() سنن ابو داود، كتاب المناسك، باب في الرمل، حدیث نمبر : (1888)، سنن ترمذی، كتاب الحج، باب ما جاء كيف ترمى الجمار؟، حدیث نمبر : (902)، مسند احمد (6/ 64) حديث عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے۔

() مجموع الفتاوى (26/ 122)۔

() موطا مالك، كتاب وقوت الصلاة، باب العمل في الصلاة، حدیث نمبر : (213) بروایت یحییٰ بن یحییٰ ۔ تحقیق : بشار عواد۔

() التمهيد (23/319)۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر : (1218) حديث جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر : (1218) مرسلاً روایت کیا ہے۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب حجۃ النبي ﷺ، حدیث نمبر : (1218) حديث جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() مصنف ابن أبي شيبہ (5/ 164) حدیث نمبر : (13097)۔ مکتبۃ الرشد کی طباعت۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، وباب ما جاء أن عرفة كلها موقف، حدیث نمبر : (1218) حديث جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() سنن أبو داود، كتاب المناسك، باب من لم يدرك عرفة، حدیث نمبر : (1949)، سنن ترمذی، كتاب الحج، باب ما جاء فيمن أدرك الإمام بجمع، حدیث نمبر : (889)، سنن نسائی، كتاب المناسك، باب فرض الوقوف بعرفة، حدیث نمبر : (3019)، سنن ابن ماجه، كتاب الحج، باب من أتى عرفة قبل الفجر ليلة جمع، حدیث نمبر : (3015)، اور مسندحمد (4/ 309)، حديث عبد الرحمن ابن يعمر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب إذا رمى الجمرتين يقوم ويسهل مستقبل القبلة، حدیث نمبر : (1751) حديث ابن عمر رضی الله عنهما سے مروی ہے، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر : (1218) حديث جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() سنن نسائی، كتاب مناسك الحج، باب من أين يلتقط الحصى؟، حدیث نمبر : (3060)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب ادامۃ الحاج التلبیۃ حتى يشرع في رمي جمرة العقبۃ، حدیث نمبر : (1282)۔

() مسند احمد، حدیث نمبر : (1/ 347)، سنن نسائي، كتاب مناسك الحج، باب التقاط الحصى، حدیث نمبر : (3059)، سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب قدر حصى الرمي، حدیث نمبر : (3029)۔

() مسند احمد (3/ 503)، سنن ابو داود، كتاب المناسك، باب في رمي الجمار، حدیث نمبر : (1966)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب إذا رمى الجمرتين يقوم ويسهل مستقبل القبلة، حدیث نمبر : (1751)۔

() سنن ابو داود، كتاب المناسك، باب في الرمل، حدیث نمبر : (1888)، سنن ترمذی، كتاب الحج، باب ما جاء كيف ترمى الجمار؟، حدیث نمبر : (902)، ومسند احمد (6/ 64)۔

() سنن ترمذی، كتاب الحج، باب ما جاء في كراهية طرد الناس عند رمي الجمار، حدیث نمبر : (903)، سنن نسائي، كتاب المناسك، باب الركوب إلى الجمار، حدیث نمبر : (3063)، سنن ابن ماجہ، كتاب المناسك، باب رمي الجمار راكبا، حدیث نمبر : (3035)، اورمسند امام احمد (3/ 413)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب طواف الوداع، حدیث نمبر : (1755)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع، حدیث نمبر : (1328/380)۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع، حدیث نمبر : (1327)۔

() سنن ابو داود، كتاب المناسك، باب الوداع، حدیث نمبر : (2002)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب المريض يطوف راكبًا، حدیث نمبر : (1633)، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب جواز الطواف على بعير وغيره، حدیث نمبر : (1276)۔

() سنن نسائی، كتاب مناسك الحج، باب طواف الرجال مع النساء، حدیث نمبر : (2929)۔

() صحیح بخاری، كتاب الحج، باب طواف الوداع، حدیث نمبر : (1756)۔

() صحیح بخاری، كتاب المغازي، باب حجة الوداع، حدیث نمبر : (4401)، اور صحیح مسلم، كتاب الحج، باب وجوب طواف الوداع، حدیث نمبر : (1211/382)۔

() مؤطا مالك، كتاب الحج، باب وداع البيت، حدیث نمبر : (1079) بروایت یحییٰ بن یحییٰ۔ تحقیق : بشار عواد۔

() مؤطا مالك، كتاب الحج، باب وداع البيت، حدیث نمبر : (1081) بروایت یحییٰ بن یحییٰ۔ تحقیق : بشار عواد۔

() صحیح مسلم، كتاب الحج، باب استحباب رمي جمرة العقبة يوم العيد راكبًا، حدیث نمبر : (1297) حديث جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة، حدیث نمبر : (867) حديث جابر رضی الله عنہ سے مروی ہے۔

() صحیح بخاری، كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور، حدیث نمبر : (2697)، صحیح مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة، حدیث نمبر : (1718/17) حديث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

() اسے ابن ابی عاصم نے اپنی کتاب "السنة" (صفحہ: 12) حدیث نمبر (15)، اور بغدادی نے "تاریخ بغداد" (جلد 6، صفحہ 21)، اور بغوی نے "شرح السنة" (جلد 1، صفحہ 212) حدیث نمبر (104) میں روایت کیا ہے۔ نیز اس حدیث کی شرح کے لیے ابن رجب رحمہ اللہ کی کتاب "جامع العلوم والحکم" میں "الأربعين النوویۃ" کی اکتالیسویں حدیث کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔

() صحیح مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة، حدیث نمبر : (1718/18)،اسی طرح امام بخاری نے کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، میں اس حدیث کو ہم معنى لفظ کے ساتھ روایت کیا ہے، حدیث نمبر (2697)۔ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔