PHPWord

 

 

 

أَحْكَامُ الهَدْيِ وَالأَضَاحِي وَالتَّذْكِيَةِ

 

ہدِی، قربانی اور ذبح کے احکام

 

 

اللَّجْنَةُ العِلْمِيَّةُ

بِرِئَاسَةِ الشُّؤُونِ الدِّينِيَّةِ بِالمَسْجِدِ الحَرَامِ وَالمَسْجِدِ النَّبَوِيِّ

 

مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کی سربراہی کے ما تحت علمی کمیٹی

 

 


بِسْمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِيمِ

ہدِی، قربانی اور ذبح کے احکام

مقدّمہ

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، وعلى آله وصحبه ومن استنَّ بسنته، واهتدى بهديه إلى يوم الدين، أما بعد:

یہ ایک مختصر رسالہ ہے جس میں ہدی، قربانی اور ذبح سے متعلق ان اہم امور کو شامل کیا گیا ہے جن کی ایک مسلمان کو ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے اسے زائرین حرمین شریفین کے لیے جمع کیا ہے تاکہ وہ اپنے دین کے امور سے آگاہی اور بصیرت حاصل کر سکیں۔ ہم کریم و منان اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سے نفع پہنچائے، اسے موزوں ومفید اور اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔ بے شک وہ بہترین سوال کیے جانے والا اور سب سے زیادہ کرم کرنے والا ہے۔

 

 

***

ہدی اور قربانی کے احکام

ہدی: ہر وہ جانور جسے حرم کے لیے بھیجا جائے اور وہاں ذبح کیا جائے، جیسے مویشی وغیرہ، اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہدیہ کیا جاتا ہے۔

والأضحية (قربانی) ہمزہ پر پیش اور کسرہ کے ساتھ: وہ جانور ہے جسے اللہ کے لیے عید کے دن اور ایام تشریق میں قربت الہی حاصل کرنے کے لیے ذبح کیا جاتا ہے۔

ان دونوں کی مشروعیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔

سب سے بہترین قربانی: اونٹ ہے، پھر گائے، بشرطیکہ مکمل دی جائے؛ کیونکہ اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، اور گوشت کی کثرت سے فقراء کو نفع پہنچتا ہے، پھر بکری۔

ہر جنس میں سب سے افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ فربہ ہو، پھر سب سے زیادہ قیمتی ہو؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ 32﴾

"یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے"۔ [سورۃ الحج: 32]

اگر بھیڑ ہو تو جذَع ہونا ضروری ہے، اور جذَع: وہ بھیڑ ہے جس نے چھ مہینے پورے کیے ہوں، اور دوسرے جانوروں میں ثنی (معتبر عمر کا) ہونا ضروری ہے جیسے اونٹ، گائے اور بکری۔ اونٹ کی شرعی اعتبار سے معتبر عمر پانچ سال پورا ہونا ہے، گائے کی شرعی اعتبار سے معتبر عمر دو سال پورا ہونا ہے، اور بکری کی شرعی اعتبار سے معتبر عمر ایک سال پورا ہونا ہے۔

ہدی میں ایک بکری ایک فرد کی طرف سے کافی ہے، اور قربانی میں ایک فرد اور اس کے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے، اونٹ اور گائے ہدی اور قربانی میں سات افراد کی طرف سے کافی ہیں؛ جیسا کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آیا ہے، وہ کہتے ہیں: «نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ». "ہم نے حدیبیہ کے سال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹ کی قربانی سات افراد کی طرف سے کی اور گائے کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے كى"۔ دوسری روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِّنَّا فِي بَدَنَةٍ». "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں شریک ہوں، ہر سات افراد ایک اونٹ میں"۔ ایک اور روایت ہے جس میں یہ الفاظ آئے ہیں: «حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ». "ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا اور اونٹ کی قربانی سات افراد کی طرف سے کی اور گائے کی قربانی بھی سات افراد کی طرف سے کی"۔1

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جب ان سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھیں، تو انہوں نے فرمایا: «كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالْشَاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ، وَيُطْعِمُونَ، حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَتْ كَمَا تَرَى». "آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے بکری کی قربانی کرتا تھا، وہ خود بھی کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے، یہاں تک کہ لوگوں نے فخر کرنا شروع کر دیا اور معاملہ ویسا ہو گیا جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں"۔2

بکری‘ اونٹ اور گائے کے ساتویں حصے سے افضل ہے۔

ہدی اور قربانی میں صرف وہی جانور کفایت کرے گا جو بیماری، اعضاء کی کمی اور کمزوری سے پاک ہو؛ چنانچہ کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، اندھا جانور، ایسا کمزور جانور جس میں گودا نہ ہو، ایسا لنگڑا جانور جو صحیح جانور کے ساتھ چلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، ایسا جانور جس کے سامنے کے دانت جڑ سے نکل گئے ہوں، ایسا جانور جس کا تھن کبر سنی کی وجہ سے خشک ہو گیا ہو، اور ایسا مریض جانور جس کا مرض واضح ہو، کفایت نہیں کرے گا؛ جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: «أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِي: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لا تُنْقِي». "چار قسم کے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے: کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو، بیمار جانور جس کا مرض واضح ہو، لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، اور ایسا کمزور جانور جس میں گودا ہی نہ ہو"۔3

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اہلِ علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے"4۔

صحیح قول کے مطابق ہدیِ تمتع اور قربانی کے جانور ذبح کرنے کا وقت عید کی نماز کے بعد سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن تک ہے۔

مستحب ہے کہ ہدی کے جانور میں سے کھائے اگر وہ ہدیِ تمتع یا قران ہو، اور اپنی قربانی کے جانور میں سے بھی کھانا مستحب ہے، اور تین حصے ہدیہ دے اور صدقہ کرے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿...فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡبَآئِسَ ٱلۡفَقِيرَ﴾

"تم خود بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ". [سورہ حج: ۲۸]

رہی بات ہدیِ جُبران کی، جو کہ کسی محظورِ احرام کے ارتکاب یا کسی واجب کے ترک کرنے پر قربان کیا جاتا ہے؛ تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کھا سکتا۔

جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے؛ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «إِذَا دَخَلَ الْعَشَرُ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ؛ فَلَا يَأْخُذُ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا، حَتَّى يُضَحِّيَ». "جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے"۔5

اگر اس نے ان میں سے کوئی کام کیا ہو تو اللہ سے مغفرت طلب کرے، اور اس پر کوئی فدیہ نہیں۔

قربانی اور ہدی وغیرہ کے جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ کار اس طرح ہے:

1- ذبح کرنے والا صرف مسلمان، عاقل اور بالغ ہونا چاہیے، یا اہل کتاب میں سے ہو، ذبح کرنے والا ذبح کی نیت رکھے، غیر اللہ کے لیے ذبح نہ کرے، نہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے، اور ذبح یا نحر کرتے وقت وقت اللہ کا نام لے، اور تیز دھار آلے سے ذبح کرے لیکن دانت اور ناخن سے نہ کرے، خون کو اس کی جگہ پر بہائے، اور ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا شرعی طور پر ذبح کرنے کی اجازت رکھتا ہو۔6.

2- قربانی کا جانور منتخب کرتے ہوئے کامل ترین جانور کا اہتمام کرے؛ کیونکہ: «ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى، وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا». "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ کہا، اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا"۔7

3- ذبیحے کے ساتھ احسان یہ ہے کہ ذبح کے وقت اسے آرام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، اور اس میں یہ شامل ہے کہ ذبح تیز آلہ سے کیا جائے، اور اسے ذبح کی جگہ پر قوت اور تیزی سے چلایا جائے؛ کیونکہ مطلوب یہ ہے کہ جان کو تکلیف پہنچائے بنا بہترین طریقے سے جلدی ختم کیا جائے؛ جیسا کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کیں، فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ». "بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، چنانچہ جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص (جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے"۔8.

یہ مکروہ ہے کہ جانور کے سامنے چھری تیز کی جائے؛ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِّ الشَّفَارِ، وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ، وَقَالَ: «إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ؛ فَلْيُجِهِزْ». نبی ﷺ نے چھری کو تیز کرنے اور جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا اور فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو جلدی سے ذبح کرے۔‘‘9

اگر قربانی کا جانور اونٹ ہو تو اسے کھڑا کر کے اور اس کے بائیں ہاتھ کو باندھ کر نحر کیا جائے؛ جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے: "وہ ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنا چاہ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے"۔10

5- اگر قربانی کا جانور اونٹ کے علاوہ ہو تو اسے بائیں پہلو پر لٹا کر ذبح کرے اور اس کی گردن کے دائیں حصے پر اپنا پاؤں رکھے تاکہ اس پر قابو پا سکے؛ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ، أَمْلَحَيْنِ، أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى، وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا». "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ کہا، اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا"۔11

6- ذبح اور نحر کے وقت بسم اللہ کہنا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤۡمِنِينَ118﴾

"جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو"۔ [سورۃ انعام: 118] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَأۡكُلُواْ مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسۡق وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِهِمۡ لِيُجَٰدِلُوكُمۡۖ وَإِنۡ أَطَعۡتُمُوهُمۡ إِنَّكُمۡ لَمُشۡرِكُونَ 121﴾

"اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے"۔ [سورۃ انعام: 121] نیز اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ؛ فَكُلُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا وَلَا ظُفُرًا». "جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ، جب تک کہ وہ دانت یا ناخن نہ ہو"۔12

بسم اللہ کے ساتھ ”اللّٰهُ أَكْبَر“ کہنا مستحب ہے؛ جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ کی نماز میں شرکت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ مکمل کیا تو منبر سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، اور فرمایا: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنْي وَعَنْ مَنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي». ’’(میں) اللہ تعالی کے نام سے (ذبح کرتا ہوں) اور اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت میں سے جس نے قربانی نہیں کی، اس کی طرف سے ہے۔‘‘13

7- حلق، کھانے کی نلی، اور شہ رگوں کو کاٹنا اور خون بہانا: امام ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا: (اونٹ، گائے اور بکری کے لیے شرعی طریقے سے ذبح کرنے کی تین حالتیں ہیں:

پہلی حالت: ذبح کرنے والا کھانے کی نلی، حلق اور دونوں شہ رگوں کو کاٹے، یہ ذبح کرنے کا سب سے مکمل اور بہترین طریقہ ہے، جب یہ چاروں کاٹ دی جائیں تو تمام علماء کے نزدیک ذبح حلال ہے۔

دوسری حالت: حلق، کھانے کی نلی اور ایک شہ رگ کو کاٹنا؛ یہ حلال، صحیح اور پاکیزہ ہے، اگرچہ پہلی حالت سے کم ہے۔

تیسری حالت: صرف حلق اور کھانے کی نلی کو کاٹا جائے اور رگوں کو نہ کاٹا جائے تو یہ بھی صحیح ہے، اور اس کے قائل اہل علم کی ایک جماعت ہے، ان کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفْرَ»، "جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہو"۔14 اور یہی اس مسئلہ میں مختار (اور راجح) قول ہے۔15

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہمارے علم سے نفع پہنچائے، اور ہمیں وہ علم عطا فرمائے جو ہمارے لئے نفع بخش ہو؛ یقینا وہ نہایت سخی اور کریم ہے، اور بے شمار درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد اور آپ کی آل واولاد پر۔

***


اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

اسے ابوداود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

سنن ترمذی۔

۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

احکام الاضحية للعلامہ محمد بن عثيمين، (ص 56 – 87)۔

اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح مسلم

اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

اسے بخاری مسلم نے روایت کیا ہے۔

اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔

اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

دیکھیں: مجموع فتاوى ابن باز (18/ 26)۔

۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔